315.8K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehla Pana Episode 29

Pehla Pana by Bint-e-Aslam

ذولفشان کو صیاد نے رات کی سیاہی میں تلوار کے پے در پے وار کرنے کے بعد مارا تھا ایسے کے آواز بھی نہیں آئی تھی زرینہ بیگم کو اسنے گہری نیند سلا دیا تھا جس کا اثر بھی اسیر کے دور میں ٹوٹا تھا اپنی بیوی کو بھی وہ مار چکا تھا اب اسکے قدم طلسم کے کمرے کی جانب تھے جہاں دائی ماں اسے لیے سو رہی تھیں مگر وہاں طلسم.کے ساتھ بسترپر سناش سو رہا تھا طلسم کے اوپر اسکا ہاتھ تھا جو اسنے اُٹھانا چاہا تو سناش کی آنکھ کھل گئی ” بابا آپ طلسم کو کہاں لے جارہے ہیں ! ” وہ ہم انھیں !!! وہ کچھ شرمندہ ہوگیا تھا کیا بتاتا کہ مارنے ” بابا انھیں تنگ مت کریں اتنا رو رو کر اب سوئیں ہیں یہ روتی ہین تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے اسلیے ہم انکے ساتھ سوئے ہیں تاکہ یہ اُٹھیں تو انھیں سنبھالنے کے لیے ہم ہوں !صیاد نے ایک نظر سناش کو دیکھا اور پھر نیند میں کسمساتی طلسم کو ” یہ میرا کیا بگاڑ لے گی رہے گی ہمارے سناش کا کھلونا بن کر !! ان دونوں کو وہیں چھوڑ کر محل سے باہر آگیا تھا تمام شہر سو رہا تھا وہ باہرآیاہی تھا غفران اس پر نظر رکھے ہوئے تھا صیاد سے ڈائریکٹ پنگا اب کوئی بے وقوف ہی لیتا ” اب اگلا غفران !! اپنا نام سن کر غفران کے قدم ڈگمگا گئے تھے اور گلدان گر گیا صیاد کی نظر غفران پر پڑ گئی وہ بھاگ نکلا صیاد کے چہرے پر مسکراہٹ اگئی تھی اسنے اپنے دونوں ہاتھ ہوا میں اُٹھائے تو اسکے پیچھے سے دو بھیڑیے نکل کر غفران کے پیچھے لگ گئے وہ سر پٹ دوڑ رہا تھا بھیڑیے بھی اسکی جان کے درپے ہوگئے تھے .صیاد وہیں کھڑا تھا جب شہباز اسکے پاس آیا ” صیاد مبارک ہو آدم ذولفشان غفران اور شہوار سب ختم! اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” آدم کیسے ! ” میں نے آدم اسکے بیٹے اور اسکی بیوی کو زندہ انھیں کے گھر میں جلا دیا ہے میں نے اسکے گھر میں آگ لگا دی ہے ” ہاہاہا واہ کیا بات ہے اب چِت بھی میری پٹ بھی میری چلو آو دیکھیں کہیں زندہ نہ بچ جائے …وہ دونوں آدم.کے گھر کو جلتاہوا دیکھنے گئے تھے …………….✨………….. زمر کب سے کال.جنگل.میں زرمیش ضامن تو کبھی امبر پارہ جاودات پکار رہا تھا نمزا بھی اسکا ساتھ دے رہی تھی مگر جواب ندارد آخر وہ گھٹنوں کے بل گِر گیا نمزا کے لیے اسے سنبھلنا اور بھی مشکل.ہورہا تھا وہ اسکے ساتھ نیچے بیٹھ گئی وہ اسکے گلے سے لگا بچوں کی طرح رو رہا تھا .”یہ کیا ہوگیا نمزا باربی …باربی چلی گئی ہمیشہ کے لیے میں بابا کو کیا جواب دوں گا وہ کہتے تھے ضامن اور زرمیش کا ایک ہونا خطرا ہے مگر میں نے نہیں مانا ان دونوں کاساتھ ہونا انکی موت بن گیا . ” زرمیش کو کچھ نہیں ہوا امبر پارہ کو ہوا ہے ! اسنے سوالیہ نگاہوں سے نمزاکو دیکھا ” کیا مطلب ؟ ” امبر پارہ اور جاودات تاریخ کے کردار تھےجن کا مرنا طے تھا وہ مر گئے مگر ضامن اور زرمیش واپس آئیں گے اسیر طلسم سے ابھی وہ دونوں نہیں آیے ابھی تو زرمیش اور ضامن کیسے آئے گے یہ امبر پارہ اور جاودات گئے ہیں زرمیش اور ضامن نہیں یہ تو ماضی ہے اسیر کے ماضی سے بھی پہلے کا یاد ہے بابا نے کیا بتایا تھا اسیر اور طلسم واپس جارہے تھے تو امبر پارہ کی روح خوشبو صورت طلسم میں گئی تھی اور جاودات موت کوگلے لگا کر واپس آیا تھا وہ دونوں واپس آئیں گے !!آپ فکر مت کریں ! زمر نے پرنم آنکھوں سے اسے دیکھا اور چہرا اسکی گردن میں گم کرلیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زبیر شہباز زبیر آدم کے جلے گھر کے اندر موجود تھے آگ انھیں کچھ بھی نہیں کرپارہی تھی نفیسہ اور بچہ جل چکے تھے مگر انکی لاشیں دیکھ کر بھی انھیں کوئی فرق نہیں پڑا تھا وہ آدم کی لاش تلاش کررہے تھے مگر وہ مل ہی نہیں رہی تھی صیاد نے شہباز کی گردن دبوچ لی ” جب تم نے آگ لگائی تھی تو دیکھا بھی تھا کہ آدم گھر پر ہے یا نہیں !

اسنے شرمندگی سے سر جھکا لیا ” جب محل میں راجہ کو مارنے جارہے تھے تب تک آدم اور غفران دونوں گھر پر ہی تھے راجہ کو مارنے کے بعد ہم سب سے پہلے آدم کے گھر کو ہی جلانے تھے پچھلے حصے سے آگ لگانی شروع کی تھی تب بھی آدم کی آواز آرہی تھی مگر اب وہ کہاں گیا نہیں پتا ؟ یہ بات تب کی ہے جب آدم بیج اور اسیر کو لیکر جارہا تھا اسکے بعد غفران زمر اور نمزا تو آگ پھیلنے سے پہلے ہی چلے گئے ۔” تو یعنی آدم زندہ ڈھونڈو اسے ! تلوار نکالتا وہ آگ کی لپٹوں کے اندر سے باہر نکل گئے آدم کی تلاش میں انھوں نے تلاشی محل سے شروع کی تھی ۔غفران بھاگ رہا تھا کہ آگے کھائی آگئی آگے پیچھے اسکے لیے دونوں طرف موت تھی مگر کھائی کی موت بھیڑیے کی چیر پھاڑ سے زیادہ آسان تھی اسلیے وہ کھائی کی جانب بھگا اور کھائی میں چھلانگ لگا دی بھیڑیے بھی پیچھے ہی کود گئے تھے شکار کے لیے مگر وقت غفران پر مہربان تھا اسے وہاں چٹان میں نکلا درخت مل گی ایسے پکڑ کر وہ لٹک گیا مگر بھیڑیے نیچے گر گئے تھے کہیں دور سے انھیں چوکنے کی آواز آئی یعنی وہ موت کی نیند سو چکے تھے اسنے پوری طاقت لگا کر اوپر اُٹھنا چاہا جس میں وہ کامیاب ہو بھی گیا سانس بحال کرنے کے بعد وہ دوبارہ گھر کی جانب بھاگا .

———–✨———–

آدم تختی پکڑے اُطم سے باہر آیا وہ اطم کو افسردہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اسکا بیٹا اسکی طاقت سب ایک ساتھ چلے گئے وہ آدم جو کبھی ہر مسئلے کا حل چٹکیوں میں نکال لیتا تھا کیسے بھگتا پھر رہا تھا مگر اب اسے کسی بات کی فکر نہیں تھی سب محفوظ تھے اسیر بھی بیج بھی او گھر پر نمزا اور زمر ہیں !! اُطم زمین میں جارہا تھا اسکا دروازہ بند کورہا تھا اطم کا جن آدم کو ہی دیکھ رہا تھا اچانک آدم کی گردن پر کسی نے بھری رکھ دی بجلی کڑکی تو چہرا سامنے آگیا وہ شمس تھا اس سے پہلے وہ جن کچھ کرتا اطم کا دروازہ بند ہوا اور وہ منو مٹی میں چلا گیا ۔” وہ بیج مجھے دے دو آدم !آدم اسکا بھری والا ہاتھ اپنی گردن سے دور رکھنے کی کوشش کر رہا تھا اسنے کلائی پر گرفت اتنی مضبوط کردی کہ چھری شمس کے ہاتھوں سے گر گئی آدم اسے دیکھ کر حیران رہ گیا اسنے آدم سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور بھاگ نکلا وہ جنگل میں آگے پیچے بھاگ رہے تھے صیاد اور وہ دونوں بھی آدم کو یہیں تلاش کررہے تھے شمس صیاد سے ٹکرایا تو آدم وہیں رُک گیا ” آہ آدم آخر مل۔ہی گئے تم ! آدم نے آگے بڑھ کر اسکا گریبان پکڑا ” نکلے کُتے کے کُتے بے وقوف تھا کہ کُتے کی دل سیدھی ہوسکتی ہے مگر صیاد نہیں !اسکی اتنی صاف زبان پر صیاد کو غصہ آگیا تھا اسنے اسے ایک بجلی کا جھٹکا دی جو آدم کو کمزور کرگیا مگر اسکے غصے کو ٹھنڈا نہیں ” چپ کیا اوقات ہے تیری میرے سامنے میں ہیرے کا مالک شہر سحر کا آنے والا راجہ بے شمار طاقتوں کا مالک اور تو ایک عام انسان تیرا اور میرا کوئی مقابلہ نہیں اب ! وہ اسے پے در پے بجلے کے جھٹکے دے رہا تھا مگر ایک بار بھی اسے گرا میں پایا تھا کیوں کہ آدم اپنے ہنر سے ان سے بچتا جارہا تھا ” تو مجھے کچھ نہیں کر سکتا تیری موت میرے ہاتھوں طے میرا کچھ بگاڑ سکتا تو میں نے بیج بھی محفوظ کرلیا اور میرا بیٹا بھی زمرہ صرف وہی اس بیج کو پھول بنا سکتا ہے اور کوئی نہیں اور جب تک میں زندہ ہو تو میرے بیٹے تک اور اس بیج تک کبھی نہیں پہنچ سکتا ! آدم نے تختی کُرتے کے اندر چھپا لی تھی جسے صیاد نہیں دیکھ پا رہا تھا ۔” کیا وہ بیج صرف تیرا بیٹا پھول بنا سکتا تھا صیاد نے غصے سے شہباز کو دیکھا ” یہ کیا کیا تم نے شہباز جلدبازی میں تم نے حریف نہیں سونے کی چابی گُما دی !! شہباز اور زبیر کے ہاتھ چہروں پر آگئے تھے آدم نے حیرت سے انھیں دیکھنے لگا تھا ” کیا مطلب ؟

“ مطلب یہ کہ تیرے بیوی بچے کو ہم زندہ جلا آئے ہیں ! آدم لڑکھڑا گیا تھا ” کیا !!! نفیسہ نعمت جل گئے !”

“ چلو کوئی بات نہیں مجھے وہ پھول چاہیے بھی نہیں چاہیے مظلوم بے کار عوام کا طاقتور راجہ ہی کافی ہے ! اسنے آدم کی گردن پر تلوار رکھی وہ بے حواس ہوگیا تھا اسے غصہ آرہا تھا صیاد نے تلوار گھمائی جو اسنے منہ سے پکڑ لی ! اسکی پکڑ اتنی مضبوط تھی کہ صیاد سے چھوٹ ہی نہیں رہی تھی آخر وہ تلوار غائب ہی ہوگئی صیاد کوئی طاقت استمعال کرتا اس سے پہلے ہی آدم نے اسکا گلہ پکڑ لیا تھا ” ہم تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے تم نے ہماری محبت ہماری اولاد کو مار دیا کبھی نہیں ہم مار دیں گے تمہیں ! صیاد نے اسے بجلی کا جھٹکا بھی دیا مگر اسکی گرفت میں چھوڑی آخر زبیر ہی بولا ” جاؤ آدم دیکھو ہوسکتا ہے وہ دونوں زندہ ہوں ! زبیر کی بات آدم کو سوچ میں ڈال گئی تھی اسنے صیاد کو وہیں پھینکا اور گھر کی جانب بھاگ گیا صیاد نے غصے سے زبیر کو دیکھا ” جانے کیوں دیا اسے !!

“ وہ آپکو مار دیتا ! صیاد نے ماتھا پیٹ لیا تھا تمیں لگتا ہے وہ ہمیں مار سکتا تھا تبھی شہباز کا خاص آدمی اسکے پاس آیا ” محل میں کہرام مچل گیا ہے سناش نے رو رو کر محل سر پر اٹھا لیا ہے وہ سیڑھیوں سے گرے ہیں اور انکے سر چوٹ لگ گئی ! صیاد کے ہوش اُڑ گئے تھے اسکا جان سے پیارا بیٹا تکلیف میں تھا اور وہ خود یہاں وہ محل کی جانب بھاگ نکلا آدم کا سوچے بغیر ۔۔۔۔۔

آدم واپس آیا تو آگ سب تباہ کرچکی تھی غفران گھر کے باہر کھڑا حیرت سے دیکھ رہے تھے جب اسکی نظر آدم پر پڑی وہ بھاگ کر اسکے گلے لگ گیا ” بھائی جان یہ کیا ہوگیا !

“ یہ صیاد نے سب کو مار دیا وہ آفت بنا گھوم رہا ہے سب کو مار دینا چاہتا ہے ! آدم نے غفران کو دیکھا وہ زمرہ تھا ٹھیک تھا اسنے تختی نکالی ” غفران یہ تختی لو اور بھاگ جاؤ شہر سحر سے دور بہت دور جہاں صیاد تم تک نہ پہنچ پائے

عفران نے اسکے ہاتھوں سے تختی لی ” یہ…یہ کیا ہے ! ” یہ آزادی ہے میں نے اسیر اور پھول دونوں کو چھپا دیا ہے اور اسکی معلومات اس پہیلی میں ہے جب کبھی تمہیں لگے وقت آگیا ہے پہیلی حل کرنا اعر اسیر کو واپس لے آنا چھپ جاو غفران ناجانے صیاد تمہارے کیا سلوک کرے ! ” لیکن بھائی جان آپ اگر اسنے آپکو کچھ کردیا تو !!! مجھے کچھ نہیں ہوگا جاؤ یہاں سے !! اسنے آگے کی طرف دھکیلا اور خود جلتے ہوئے گھر میں گھس گیا غفران بھی اسکے پیچھے جانے لگا تو خشک پتوں کی آواز کسی کے قدموں کی چاپ اسے ڈرا گئی اسے لگا صیاد واپس آگیا اسلیے تختی کو مضبوطی سے تھامے وہ بھاگ گیا۔

“ سارا گھر درودیوار جل چکے تھے سامنے نفیسہ کی جلی ہوئی لاش پڑی تھی وہ دیکھنے کے قابل بھی میں تھی جھولے میں بھی لاش پڑی تھی وہ گھٹنوں کے بل زمین پر گر گیا اسکے سامنے خوشیوں کے منظر چل رہے تھے اسکی محبت اور اولاد ایک ساتھ چلے گئے تھے سنیار کی سزا اسکے کانوں میں گونجنے لگی تھی ۔

تمہاری سزا یہ ہے جیسے تم نے ہمیں مار کر ہیرا چھینا تھا یہ جگہ چھینی تھی اسی طرح تم سے بھی سب چھین لیا جائے گا تمہارے اپنے بھی تم سے دور ہوجائیں گے سب اکیلے رہ جاؤ گے !”وہ چہرا ہاتھوں میں چھپائے رو دیا تھا زارو قطار بچوں کی طرح رہ رہا تھا جب زمر اور نمزا اندر آئے سامنے کا منظر انکے لیے بھی قیامت سے کم نہیں تھا نمزا گرم دیوار سے جالگی تھی ” یہ کیا ہوگیا ! زمر آدم کو سنبھالنے گیا ” دادا جان ! آدم نے لال آنکھیں اسکی جانب اٹھائیں اور اسکا گریبان پکڑ لیا ” تمہیں سب پتا تھا سب پتا تھا نہ کہ کیا ہونے والا تم نے پھر بھی ہونے دیا کیوں !! اسکے گلے کو دباتا وہ زمر سے گلہ کر رہا تھا نمزا نے آگے بڑھ کر چھڑانے کی کوشش کی مگر کوئی فایدہ نہیں ” تم دونوں نے سب ہونے دیا تمہں پتا تھا صیاد دھوکہ کرے گا تمہں پتا نفیسہ اور نعمت مر جائیں گے پھر تم ان دونوں کو اکیلا چھوڑ کر گئے !” زمر نے پر نم آنکھیں اسکی طرف اٹھائیں

“ صی۔۔۔صیاد نے میری بہن کو مار دیا !” وہ کھر رونے لگا تھا

“ تم بچا سکتے تھے اپنی بہن کو بھی ان دونوں کو بھی مگر تم دونوں نے زبان کھولی !

“ ہم زبان میں کھول سکتے تھے ہم مستقبل سے آئے تھے وہ بھی غلطی سے آپکی تیسری نسل سے اگر ہم زبان کھول دیتے تو مستقبل بدل جاتا ہمیں نہیں پتا پھر کیا ہوتا مگر کم مستقبل بدلنے نہیں آتے اگر ہم ماضی بدل دیتے تو مستقبل ختم ہو جاتا اسیر طلسم کی کہانی ختم ہو جاتی !”

“ اور مستقبل محفوظ کرنےکے لیے ماضی کو بدلنے کی کوشش نہیں کی اور مروا دیا سب کو تم دونوں بھی صیاد جتنے زمہ دار ہو اس کے ! زمر نے حیرت سے اسے دیکھا ” نہیں ہم کیسے اگر ہم بتا بھی دیتے تو کیا ہماری بات پر کوئی یقین کرتا کوئی نہیں کرتا اور یہ سب ہماری وجہ سے نہیں آپکی وجہ سے ہوا ! نمزا کی بات پر آدم اور زمر دونوں نے اسے دیکھا ” ہاں جنابِ آدم آپ نے ہیرا چھینا تھا نہ شیروں سے سورامچھ حکمران ہے نہ ہیرے کا کیونکہ ہیرا غلط ہاتھوں میں چلا گیا تھا وہ ہیرے کیسے گیا کیونکہ آپکی حفاظت میں کمی تھی آپ نے ہیرے کو حاصل کرنے کے لیے سنیار اور اسکے خاندان کو مار دیا اور بدلے میں سنیار نے آپکو بدعا دی کہ جیسے آپ نے اسکے خاندان مارا آپ کے اپنے بھی دور ہو جائیں گے !!! آدم نے حیرت سے اسے دیکھا ” تت۔۔۔تمہیں کیسے پتا ! اسکی بات سن کر وہ کتب خانے کی طرف گئی تمام کتابیں جل چکی تھیں سوائے شہر سحر کی تاریخی کتاب کے جو نمزا نے دیوارمیں بنے ایک باکس میں رکھی تھی دیوار کی وجہ سے محفوظ ہوگئی اس کتاب کی دوسری کاپی تو جل چکی تھی وہ آدم سے چوری وہ کتاب کی دو کاپیاں لکھ رہی تھی ۔ اور ساتھ پنے بھی تھے جو آدم کے لکھے تھے اسنے ایک پنہ آدم کے سامنے کیا ” ہم نے سنیار کو مار کر وہ ہیرا شہر سحر کے لیے چھین لیا میں جانتا ہوں یہ ہمارا گناہ ہے مگر عام دنیا میں ہم جیسی طاقتیں رکھنے والوں کے لیے صرف ذلت ہے اجنبیت ہے اسلیے ہم نے یہ کیا۔” اسنے دوسرا پنہ کھولا ” آج اس ہیرے میں مجھے سنیار کی روح دکھائی دی جو بات کررہا تھا اسنے مجھے وہ اطم زمین سے باہر نکالنے کے لیے کہا اسنے مجھے معاف کردیا اور میری ہمیشہ مدد کرنے کو تیار ہوگیا وہ چاہتا تھا میں یہ بات کسی کو کہ بتاو اس نے مجھ سے کہا جب کبھی میں مصیبت میں پھنسو گا وہ میری مدد کرے گا ” تیسرا پنہ کھولا گیا ” آج ہیرا چوری ہوگیا سنیار مجھ سے ناراض ہوگیا کہ میں زمہ دار نہیں ہوں ہیرا غلط ہاتھوں میں چلا گیا اسلیے اسنے مجھے موت کی سزا دے دی اسنے مجھے بد دعا دے دی کہ جیسے میں نے اسے مارا میرے اپنے بھی ماریں جائیں گے ” چوتھا پنہ ” سنیار نے آج پھر میری مدد کی اسکا جادو اکٹھا کرنے کا مشورہ سب سے بہتر تھا ! آدم نے اسکے ہاتھ سے پنے لے لیے ” یہ تمہیں کہاں سے ملے ؟”

“ معذرت مگر یہ آپکے کتب خانے آپکی میز کے دراز سے نکالے بات یہ نہیں جنابِ آدم آپ کے ساتھ دھوکا صیاد نے نہیں سنیار نے کیا ہے ! آدم نے حیرت سے اسے دیکھا زمر بھی حیران رہ گیا تھا ۔ ” ہاں ہماری بات سنیں آپ نے سنیار سے ہیرا دھوکا کرکے لیا پھر وہ آپکی مدد کیوں کرتا اسنے آپکی مدد نہیں کی بلکہ آپ سے بدلہ لیا ہے آپکی موت کا ..!

“ کیا مطلب ہے تمہارا ؟

“ مطلب ہیرے چوری ہونے کے بعد اپنجھ سنیار کو سب بتایا تو اسنے غصے میں آپکو بددعا دے دی سزا دے دی اگر وہ آپکو معاف کرچکا تھا تو اسے آپکو سزا دینے کی کیا ضرورت بلکہ آپکی ہیرا ڈھونڈنے میں مدد کرتا مگر اسنے آپکو سزا دی اور سب سے بڑی بات ہیرا حکمران واپس آگیا سورانچھ یعنی سنیار کو کہیں امید نظر آئی تھی کہ اب ہیرا اسے واپس مل جائے گا اور آدم ختم ہو جائے گا وہ جانتا تھا ہیرا صیاد کے پاس ہے وہ اس سے طاقت حاصل کرسکتا مگر پھر بھی اسنے آپکو جادو اکٹھا کرنے کا مشورہ دیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ اسکے بعد سب کمزور ہوجائیں گے اسنے آپکو جزباتی کیا کہ جادو برا ہے عوام خوش ہوجائگ گی آپ نے عوام کا سوچا مگر یہ نہیں سوچا کہ اسکے بعد اگر کوئی مسئلہ ہوگیا تو کیا ہوگا !!! آدم کی آنکھیں کھلتی جارہی تھیں ۔” لیکن اگر ایسا تھا تو آج اسنے میری اسیر کو چھپانے میں بیج چھپانے میں مدد کیوں کی ؟

“ اس میں بھی اسے اپنا فایدہ نظر ہوگا ہوسکتا ہے اسنے یہ سوچا ہو کہ اگر آدم کے دونوں بچے مر گئے تو بیج لینے کون آئے گا ہیرا صیاد سے واپس کون لے گا شاہد اسلیے اسنے اسیر کو محفوظ مناسب سمجھا !” آدم حد تک شرمندہ ہوگیا تھا سنیار ہمدرد بن کر یہ سب کر رہا تھا وہ غصے سے باہر کی جانب چلا گیا کتاب تھامے زمر اور نمزا بھی اسکے پیچھے چلے گئے ” دادا جان ! آدم ! وہ اسے آوازیں دے رہا تھا ” وہ جنگل کے بیچ و بیچ گیا ” زلال اُطم باہر نکالو! اسنے زمین پر پہر مار کر اپنے جن کو آواز دی جو اُطم کا نگہبان تھا دروازہ کھُلا اور آدم اندر چلا گیا۔ نمزا اور زمر بھی اسکے پیچھے جانے لگے مگر وہ ایک قدم بھی چل نہیں پارہے تھے نمزا کے ہاتھوں میں موجود کتاب روشن ہوگئی تھی پھڑپھڑانے لگی تھی اور نمزا کے ہاتھوں گر گئی زمین پر گرنے سے شہرِ سحر کی تاریخ کی کتاب کا پہلا پنہ کھُلا اور نمزا زمر کو اپنے اندر کھینچ لیا کتاب بند ہوئی اور واپس آدم کے جلے ہوئے گھر میں چلی گئی آدم اطم کے اندر جا چکا تھا اور زمر نمزا واپس کتاب میں ۔۔۔۔۔۔۔۔انکی آنکھ کھُلی تو وہ دونوں اپنے کمرے میں موجود تھے اپنے بیڈ پر کتاب بھی وہاں موجود نہیں تھی اور نہ ہی زرمیش اور ضامن وہ حیران تھے وہ لوگ واپس آگئے آدم کی موت کا راز تو کھُلا ہی نہیں انھوں نے کھڑکی کی جانب دیکھا صبح کا سورج نکل چکا تھا نمزا نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔یہ تو موجودہ شہرِ سحر تھا “ہہ۔۔۔یہ تو ہمارا کمرا ہے ہم یہاں کیسے واپس آگئے اور آدم آدم کا کیا ہوا ؟” زمر پریشانی سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا پھر اچانک وہ باہر کی جانب بھاگا ” بابا !! مام !!! سناش انکل !!! نمزا بھی اسکے پیچھے بھاگی

وہ دونوں ہڑبڑی میں سیڑھیاں نیچے اترنے لگے کہ فاریہ سے ٹکرا گئے ” آنٹی !

“ امی جان !!! وہ بھاگ کر فاریہ کے گلے لگی ” امی جان ہم نے آپکو بہت یاد کیا !!

“ یاد کیا ہر رات آپ اپنے کمرے میں ہی سوتی ہیں کل رات ایسا ہوگیا جو ہمیں یاد کیا .” نمزا اور زمر دونوں نے اسے ایک ساتھ دیکھ ” ہم بہت وقت سے یہاں نہیں تھے !

“ نہیں تھے کیا مطلب کل رات تم دونوں ہمارے ساتھ کھانہ کھا سونے گئے ہو اور تمہارا پیر وہ ٹھیک ہوگیا ۔۔۔”

“ کیا مطلب ہم یہاں تھے نہیں اور آپ لوگوں کو پتہ ہی نہیں کے ہم کئے ماہ سے غائب ہیں! وہ فاریہ سے بات کر رہی تھی اس اور وہ آگے بڑھ گیا مام!! آخر اسے طلسم دکھائی دے ہی گئی وہ بھاگ کر اسکے گلے لگ گیا ۔