315.7K
30

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pehla Pana Episode 25

Pehla Pana by Bint-e-Aslam

آدم اور زمر گھر واپس آئے تو سامنے کوئی بیٹھا تھا جوان کالی داڑھی والا دبلا پتلا حسین اسے دیکھ کر آدم اسکے گلے لگ گیا تھا ” غفران میرے بھائی ! زمر اور نمزا اسے پہچان نہیں پایے تھے وہ پہلے کتنا الگ تھا ” کیسے ہیں بھائی جان اور بھابھی کہاں ہے !”

“ وہ تو اپنے امی کے گھر گئی ہیں تم بتاؤ تم کب واپس آئے ؟”

“ بس آج ہی پار ریاست میں کام ختم ہوگیا تھا واپس آگیا ویسے بھائی جان یہ دونوں کون ہے ؟ اسنے زمر اور نمزا کی طرف اشارہ کیا “یہ۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔۔۔دوسری ریاست سے کسی کام کے سلسلے میں یہاں آئیں ہیں تو یہاں رُکیں ہیں کچھ دن تک بتاؤ اب واپس تو نہیں جاؤ گے !غفران کو دیکھ کر نمزا کو کچھ یاد آیا تھا گر وہ بول نہیں سکتی تھی اسلیے اسے کرنا پڑا سنے ٹیبل سے گلدان اٹھایا اور آگے بڑھی جان بوجھ کر گِرنے کا بہانہ کرتے ہوئے اسنے وہ گلدان غفران سے طرف اچھال دیا جو اسنے اپنے گرد حفاظتی تہ بنا کر توڑ دیا ۔

“ تم ٹھیک ہو نمزا ! زمر اسے سنبھال رہا تھا اور وہ اسکے کان میں سر گوشی کررہی تھی ” دیکھا غفران کی طاقت وہ ہر چیز کے خلاف خفاظتی تہ بنا سکتا ہے چاہے وہ ہتھیار ہو یا کوئی جادو !”

آدم سے مل کر غفران اپنے کمرے کی جاب بڑھ گیا تھا ۔” زمر ہماری بات سنیں !زمر جو تب سے نمزا کا ہاتھ پکڑے کھڑا تھا ایکدم چھوڑ دیا وہ آدم کے پیچھے آیا جسنے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ اسے کہا ” کل کے لیے تیار رہنا!

“ کل۔۔۔کل کیا ہے اور میں تیار کیوں ہوں ! …..” کل تمہارا جاودات کے ساتھ تلوار بازی کا مقابلہ ہے!زمر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا ۔” نہیں آپ مذاق کر رہے ہیں میں اور جاودات کے ساتھ !

“ ہاں تم جاودات کے ساتھ مقابلہ کرو گے !”….

۔” نہیں دادا جان میں نہیں کرسکتا میں نے ابھی ابھی تو تلوار بازی سیکھی ہے اور اتر جاؤ ایک ماہر کے مقابل یہ میں ہوگا !!

“ جانتے ہو زمر جب میرا اور صیاد کا تلوار بازی کا مقابلہ ہوا تھا تو صیاد نے دھوکہ کیا تھا جادو استعمال کیا تھا مگر وہ پھر بھی میری تلوار میرے ہاتھ سے گرا نہیں سکا تھا چکے میں نے اسی تلوار ہی توڑ ڈالی تب لوگوں نے کہا تھا آدم کے سامنے کوئی نہیں ٹکِ پائے گا مگر پرسوں تم نے میرے ہاتھوں تلوار گرا دی زمر میں تب جان گیا تھا تم طاقت تو ہے اور تم خود کو میرے پوتے کہتے ہو اور مقابلے سے ڈرتے ہو !”

“ میں ڈرتا اسلیے نہیں ہوں کہ مجھے لڑنا ہے ڈرتا اسلیے ہوں کہ اپنے کے ساتھ لڑنا ہے امبر پارہ میری بہن میری زرمیش ہے اور جاودات ضامن نمزا کا بھائی وہ ایک مخلوق میں تبدیل ہوگئے یہ ہم نہیں جانتے کیوں مگر وہ پھر بھی اپنے ہیں انھیں کچھ ہوگیا تو اور بابا نے بتایا تھا کہ شہر سحر کا قانون تھا جو تلوار بازی کے مقابلے ہارتا ہے اسے مار دیا جاتا ہے !

“ وہ مقابلے کی شرط ہوتی ہے اور یہاں مقابلہ ہو ہی شرط کی وجہ سے رہا ہے کہ وہ شہر سحر کو پرسکون رکنے دیں اور جہاں تک رہی بات اپنوں سے لڑنے کی تو جنگ اپنوں سے ہی ہوتی ہے غیروں سے میں کوئی غلط روش اختیار کرلے تو اسے سمجھانا پڑتا ہے اور نہ سمجھے تو اسکے خلاف میدان اترنا پڑتا ہے یہی تم نے کرنا ہے اسلیے کل تیار رہنا !!! اسنے پریشان چھوڑ کر وہ آگے بڑھ گیا جب وہ پیچھے سے چیخا ” نمزا بیوا ہوجائے گی !”

“ نہیں ہوگی ! آدم نے ہنس کر جواب دیا اور چلا گیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹھنڈ ی ہوا اسکے جسم کو چھو کر گزرتی جارہی تھی سکا پرونور چہرا چاند کی روشنی سے اور بھی پرنور لگ رہا تھا ایک ہاتھ سینے پر باندھے دوسرا منہ پر رکھے وہ گہری سوچ میں مبتلا تھا جب پیچھے سے کسی نے حصار باندھا سر اسکی پشت پر ٹکا لیا ” کیا سوچ رہے ہیں ؟”

اسنے نمزا کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھا ” نمزا اگر کل مجھے کچھ ہوگیا تو تم رہ لو گی نہ میرے بغیر ! نمزا نے ایکدم اسکا رُخ اپنی جانب کیا ” زمر یہ۔۔۔یہ کیا کہہ رہے آپ کل کیا ہے !”

“ کل میرا اور جاودات یعنی ضامن کا تلوار بازی کا مقابلہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو !!! وہ روتے ہوئے اسکے سینے سے لگ گئی تھی ” تو ہم بھی وہیں جان دے دیں گے ہمیں نہیں رہنا آپکے بغیر ! اسنے اسکا چہرا اپنی جانب اٹھا جو لال ہوگیا تھا ” مجھے کچھ نہیں ہوگا جانتی ہو کیوں کیونکہ کل میں یہ سوچ کر نہیں لڑوں گا کہ مجھے شرط جیتنی ہے بلکہ یہ سوچ کر لڑو گا کہ مجھے نمزا کی جان جیتنی ہے ! وہ اسکے ہونٹوں کی جانب جھکتا جارہا تھا جب نمزا نے اسکے لبوں پر انگلی رکھ دی ” وہ ۔۔۔دیکھ رہا ہے !

“ کون ! اسنے کھڑکی کی جانب اشارہ کیا جہاں چاند پورے آب و تاب سے چمک رہا تھا ۔” آؤ ہو اب کیا کریں ایک کام کرتے ہیں اسے چھپا دیتے ہیں ! اسنے کھڑکی بند کی پردے گرائے اور اسے لیے بیڈ پر گر گیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آگہی صبح شہرِ سحر کے لیے بہت اہم تھی آج یا تو امبر پارہ اور جاودات شہر کا حصہ بنے گا یا ہمیشہ کے لیے چلے جائیں گے میدان سج چکا تھا جاودات میدان میں تلوار لیے کھڑا تھا وہ تلوار صرف تلوار نہیں تھی وہ جاودات کی ساری طاقت اسکا غرور اسکا سب کچھ تھی راجہ وزیر سپہ سالار سب اپنی جگہ براجمان تھے انتظار تھا تو بس اس انسان کا جسنے جاودات سے مقابلے کی ہمت دکھائی تھی وہ ابھی بھی چھپ کر زرمیش کو دیکھ رہا تھا ” باربی ! اسنے چہرے پر رومال باندھا تلوار اٹھائی اور میدان میں آگیا ” یہ کون ہے !

اسے پہلے تو کبھی نہیں دیکھا !!….اسکی آنکھیں تو دیکھو !ایسی آنکھیں تو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ! اسکا چہرا بلکل چھپا ہوا تھا ناگڑا بجا تو دونوں نے اپنی اپنی پوزیشنز لے لیں نمزا ایسی جگہ کھڑی تھی جہاں سے آدم اسے باآسانی دیکھ سکتا تھا اب زمر وہاں تھا تو وہ۔اسکی زمہ داری تھی ۔

زمر کو ڈر بھی لگ رہا تھا کہ شخص کو سامنے کھڑا ہے وہ ضامن نے جاودات ہے جو کسی کو بھی موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے اوپر سے اسکی طاقتور تلوار جو الگ ہی چمک رہی تھی وہ اسے دیکھ ہی رہا تھا جب اسنے اچانک حملہ کردیا مگر زمر تیار تھا اسلیے اسنے تلوار پر تلوار کی ضرب لگا دی لوہے سے لوہا ٹکرانے سے چنگھاڑے نکلے تھے کبھی زمر تلوار چلاتا آگے جاتا تو کبھی جاودات اسے پیچھے دھکیل دیتا کافی دیر اسی جدوجہد کے بعد زمر تھکنے لگا تھا اسے سانس چڑھ رہا تھا بس اسے لمحے کا انتظار تھا آدم کو وہ جانتا تھا جب کھیل ختم نہ ہورہا ہو اور زمر تھک جائے وہ کھیل کو ختم کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دیتا ہے اور یہی ہوا تھا اسے غصہ آنے لگا تھا وہ پورے زور سے گھوما زمین سے اوپر اٹھا اور اس پر حملہ کردیا جاودات نے بروقت بچاؤ تو کرلیاں مگر ڈیفنس کرتے اسکی کلائی زیادہ دب گئی تھی اسلیے تلوار پر گرفت کم ہوگئی تھی پر وہ گِری نہیں ! اس بار آدم کے ماتھے پر سلوٹیں آئیں تھیں زمر تھک رہا تھا لیکن جاودات تو ناجانے کس مٹی کا بنا تھا اسنے دوبارہ حملہ کیا اس بار زمر دفاع کرنے میں چوک گیا تھا پھر وہ پیچھے نہ ہٹتا تو تلوار اسکی گردن اُڑا دیتی ابھی تو فلحال سینے پر زخم دیا تھا ۔” زُمر! چھاتی سے نکلتا خون وہاں موجود کئی لوگوں کو پریشان کرگیا تھا لوگوں کی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھی ” اب تو جاودات اسکے ٹکڑے کرے گا !

“ اگر آج جاودات جیت گیا تو اسکا ظلم اور بڑھ جائے گا کیا راجہ جاودات کے غلام ہوجائیں گے ! ” سب صرف جاودات کی بات کررہے تھے کوئی یہ نہیں سوچ رہا تھا زمر کی کیا حالت ہوگی اسنے اتنی جسمانی تکلیف پہلے کبھی برداشت کی بھی ہوگی یا نہیں اسکے سر چکرانے لگا اسے نظر آرہا تھا جاودات اسکی جانب بڑھ رہا اسنے تلوار اٹھائی زمر بچاؤ کرتا گھوما تو دوسرا زخم بازو پر آگیا تھا نمزا نے وہیں رونا شروع کردیا تھا” نہیں زمر آپکو میری جان جیتنی ہے !

“ آدم خود پریشان تھا کہیں اس نے زمر پر ظلم تو نہیں کردیا وہ ایک عام انسان ہے جسکے پاس کوئی طاقت نہیں اور اسنے اسے کے مقابل کھڑا کردیا جو خود ایک طاقت ہے ! زمر کی بس ہوتی جارہی تھی وہ گُھٹنوں کے بل زمین پر گِرا اسکی آنکھیں ہوا میں منظر دیکھ رہی تھیں جہاں جاودات ہوا میں اُڑتا تلوار تانے کھڑا تھا اسکے پروں کی پھڑپھڑاہٹ موت کا صور لگ رہے تھے اسکے سامنے جو چہرا گھوم رہا تھا وہ نمزا کا تھا ابھی کچھ دن پہلے تو اسکی محبت ملی تھی اور آج وہ اپنی جان کھونے جا رہا تھا جاودات نے آخری وار اسکی جان پر کیا تھا پشت میں تلوار گھسا کر نکالی تھی زمر کے منہ سے خون نکلنا شروع ہوگیا تھا سانس چل رہی تھی مگر جیسے الوادعی ہو نمزا وہیں گِر گئی تھی ” میں یہ سوچ کر لڑوں گا مجھے میری نمزا کی جان جیتنی ہے ! میں ہار رہا ہوں ! میں ہار رہا ہوں ! نہیں میں نمزا کی جان نہیں ہار سکتا کبھی نہیں ! جاودات کی خوشیاں دیکھ کر اسکے روم روم میں آلاو جلنے لگے تھے وہ اشتعال میں آگیا تھا اسنے بغور ایک نظر جاودات پر ڈالی ہمت کی اور اُٹھ گیا تلوار سیدھی کرلی پر طرف شور شروع ہوگیا تھا ” تم نے دیکھا وہ مرا نہیں ہے !

“ وہ لڑنا چاہتا ہے ! کیا اس میں ابھی ہمت باقی ہے ! لوگوں کے الفاظ اسے صاف سنائی دے رہے تھے آخری الفاظ آدم کے تھا جو افسردہ تھا اور پریشان بھی ” زمر نہیں تمہاری جان سے زیادہ کچھ اہم نہیں ہمیں نہیں لڑنا!”

“ پپ۔۔۔پر مم۔۔مجھے لڑنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔مجھے نمزا کے لیے لڑنا ہے ۔۔۔مجھے شہرِ سحر لڑنا ہے ! جاودات کو اسکی ڈھٹائی پر غصہ آرہا تھا اسنے دوبارہ حملہ کیا مگر زمر نے بچاؤ کرلیا اسکا روم روم غصے میں جل رہا تھا وہ جاودات کو گھورے جارہا تھا بس یہی وہ وقت تھا جب خون گردش میں آگیا اسکی آنکھوں سے سبز روشنی نکلی جاودات کی تلوار کو توڑتی اسے تین چار فُٹ دور پھینک چکی تھی ! یہ منظر دیکھ کر آدم اور زولفشان نے اپنی کرسی چھوڑ دی تھی ” زمر اپنی تلوار اٹھائی اسکی جانب بڑھ رہا تھا مگر وہ اپنے پروں کا فایدہ اٹھاتا ہوا میں اُڑ گیا اسکی تلوار اسے طاقت کا خسارے دے گئی تھی وہ اب صرف جادو کرسکتا تھا وہ ہوا میں تھا مگر زمر ایک جست سے وہ بھی اسکے ساتھ ہوا میں چلا گیا تھا حکمران سمیت تماشائیوں کے ہاتھ منہ کو آگئے تھے آدم حیران پر حیران ہوتا جارہا تھا جاودات اس پر آگ برسا رہا تھا اسے دھکیل رہا تھا مگر وہ ہر مشکل سے بچتا اس تک پہنچ رہا تھا وہ غصے میں تھا اتنا کہ اسے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا اسنے توار زور سے گھمائی جاودات کی گردن کا نشانہ لیکر مگر اس سے پہلے ہی آدم ہوا میں اُڑتا بیچ میں آگیا زم کی تلوار وہیں رُک گئی ” بس کھیل ختم ہوا ! زمر اب بھی غصے میں اسے دیکھے جارہا تھا آخر آدم نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا اسکا غصہ ختم کیا تو اسے ہوش آیا انھیں لیے وہ نیچے آگیا تھا ہوش آیا تو جسم درد سے کراہ اُٹھا وہ مٹی پر ہی گر گیا تھا آدم کو سمجھ نہیں آرہی تھی یہ ہوا کیا ہے وہ بے ہوش ہورہا تھا نمزا اسکا سر گود میں لیے بیٹھی ” زمر ہم جیت گئے زمر آنکھیں کھولیں خدا کے لیے آنکھیں کھولیں ! آدم کچھ کریں انھیں ٹھیک کریں ! آدم نے اسے حوصلہ دیا ” اسے کچھ نہیں ہوگا شیر ہے یہ ! آدم نے التجایا نظروں سے زولفشان کی طرف دیکھا جسنے زمر کے بے سدھ وجود کو ہوا میں معلق کی اور اسکے چارو اور ایک روشنی لا غلاف بنا دیا اس روشنی سے اسکے زخم بھرتے جارہے تھے نشان مٹتے جارہے تھے اسکا لباس ٹھیک ہوتا جارہا تھا آخر اس روشنی نے اسے زندہ و سالم زمین پر اتار دیا وہ ہوش میں آگیا تھا اسے سب یاد تھا اسلیے وہ گردن جھکائے کھڑا تھا وہ جانتا تھا ابھی آدم کو بہت سے ایسے سوالوں کے جواب دینے ہیں جن کے جواب میں خود نہیں جانتا !