Pehla Pana (Shehr-e-Sahar Season 2) by Bint-e-Aslam NovelR50473 Pehla Pana Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Pehla Pana Episode 19
Pehla Pana by Bint-e-Aslam
سارا دن وہ لوگ اپنے ہی شہر میں انجانوں کی طرح گھوم رہے تھے ضامن نمزا کو الگ الگ باتیں بتا رہا تھا ” یہ جگہ پہلے ایسی تھی اب ایسی ہوگئی ہے یہ مینار یہاں نہیں تھا مگر وہ افسردہ سی زمین کو گھورے جارہی تھی رات کی سیاہی نے پر پھیلائے تو سرد لہر دوڑ گئی ٹھنڈ لگنے لگی تھی شفون کے گاونز میں بدن ٹھرٹھرانے لگے تھے ضامن نے حسبِ عادت لکڑیاں ڈھونڈی اور آگ جلا لی پتھر سے ہاتھ رگڑ رگڑ کر دُکھنے لگے تھے ورنہ پہلے ایک چٹکی بجانے کی دیر تھی لکڑی کے بڑے بڑے لاگ ڈھونڈے اور ان پر بیٹھ گئے زرمیش ٹھنڈ سے کانپ رہی تھی ہاتھ رگڑ رہی تھی ضامن نے آگ سے ہاتھ گرم کرکے آسکے گالوں پر لگائے اسنے باہیں پھیلائے تو وہ اس میں سما گئی ۔نمزا آگ کے شعلوں پر نظریں مرکوز بیٹھی تھی جب زمر نے اسکے سامنے ایک رول نرم روٹی میں کچھ رول کیا گیا تھا اسنے ایک نظر اسے دیکھا جو کھانے میں مصروف تھا اور وہ دونوں بھی یہی کر رہے تھے ” مجھے نہیں کھانا !!!”
“ رزق جب خود چل کر پاس آئے تو انکار نہیں کرتے کچھ لوگ رات گئے تھے اسکے لیے محنت کرتے ہیں !!” اسنے عقب میں اشارہ کیا جہاں ایک حلوائی ٹھرٹھراتی چادر لیے یہ بنانے میں مصروف تھا ” دیا کیسے سکے تو تھے نہیں پاس !!!!” ۔۔۔۔۔۔۔” پاس بلا کر کہتا آپ کون ہو ؟” کہا مسافر ہوں راستا بھٹک گیا ہوں تو کہتا سارے دن سے دیکھ رہا ہوں مارے مارے پھر رہے ہیں بھوکے ہوں گے یہ لے لیں میں نے میرے پاس سکے نہیں تو کہتا میں نے مانگے بھی نہیں !!!” نمزا نے مسکرا کر اس حلوائی کو دیکھا ” اب پکڑ لو !!!” وہ یک ٹک اسے دیکھنے لگی کیسا ہے یہ پل میں تولہ پل میں ماشہ پہلے کیسے اس ناراض ہورہا تھا اور اب ۔۔۔۔۔۔چپ چاپ پکڑ کر کھا لیا تھا ۔” مگر آپ نے پھر اسے اپنی موتیوں کی مالا دے دی !!” اسنے جھُک کر اپنے گلے میں دیکھا” وہ اسکی ہمدردی سے زیادہ قیمتی نہیں تھی ۔”
آہستہ آہستہ سرکتی رات میں ہر طرف ٹھنڈ کے ساتھ خاموشی بھی بڑھتی جارہی تھی زرمیش ضامن کی گود میں سر رکھے سو رہی تھی اور ضامن کا سر اسکے کندھے پر تھا نمزا کی انکھ بھی بند ہورہی تھی مگر سہارا نہ ہونے کی وجہ وہ جھٹکا کھا کر اُٹھ جاتی صرف ایک زمر تھا جسے کچھ نہیں ہورہا تھا وہ لکڑیاں پر لکڑیاں رکھی جارہے تھا تاکہ آگ نہ بجھے کہ اچانک نمزا کا سر اسکے کندھے پر ٹِک گیااسکے بازو کو مضبوطی سے پکڑے وہ سو رہی تھی اسنے کوئی ردِ عمل نہیں دیا آہستہ آہستہ سر ڈھلک کر گود میں آگیا تھا ۔وہ اپنے پورے ہوش و حواس میں ہر طرف دیکھ رہا تھا جب اندھیرے میں ہیولہ سا نظر کالا چوغہ پہنے ہاتھوں میں چھوٹا سا صندوق پکڑے کوئی چوری چھپے جارہا تھا دیکھنے میں تو چور معلوم ہوتا تھا ” نمزا ! نمزا !! اسکی گالوں کو تھپتھپا کر وہ اسے ہوش میں لایا ” جی !! ” نندھیا سی آواز میں آنکھیں ملتی وہ اسے دیکھ رہی تھی ۔” میری بات سنو تم یہی رہو انکے پاس میں ابھی آیا !!”وہ اٹھنے لگا تو اسنے ہاتھ پکڑ لیا ” پر آپ کہاں جارہے ہیں !!”
” مجھے لگتا کوئی چور کسی کا کچھ چُرا کر بھاگ رہا ہے میں دیکھ کر آتا ہوں!!”
“ نن۔۔۔۔نہیں زمر ایسے مت جائیں وہ خطرناک ہوا تو ہم بھی چلتے ہیں !!” اسنے غُصے سے اسکا ہاتھ جھٹکا ” کہا نہ یہاں بیٹھو !!اسے مصنوعی ڈانٹ کر آخر چلا گیا وہ اس ہیولے کا پیچھا کر رہا تھا جو ایک گھر کے اندر سے اُتر گیا جہاں ایک باپ اور بیٹی سو رہے تھے نامعلوم انداز سے دروازہ کھولا اور اندر آگیا زمر اسے پکڑتا اسے پہلے اگلا منظر اسے خود حیران کر گیا وہ چوغہ پوش اس چھوٹے سے صندوق میں سے ایک پوٹلی نکال کر اس آدمی کے تکیے نیچے چھپا رہا تھا اس صندوق میں سے چند زیور نکال کر اسکے صندوق میں رکھ دیے دبے پاؤں جانے لگا تو سترا اٹھارہ سال کی لڑکی پر نظر پڑی اسکے سر پر ہاتھ رکھا ” نصیب اچھا ہو !!! ” زمر کو ایک لمحہ لگا تھا ماجرا سمجھنے میں وہ چوغہ پوش باہر نکلا تو زمر نے اسکا ہاتھ پکڑ روک لیا اسکے نہایت قریب جاکر سرگوشی کے انداز میں بولا ” تو شہر سحر کا سپہ سالار رات کو خلیفہ عمر کی طرح گشت بھی کرتا ہے اورمدد بھی ۔۔۔۔” زمر نے پاس پڑی مشال اسکے چہرے کی جانب کی تو چوغے کی ٹوپی میں آدم کا چہرا دکھائی دیر رہا تھا وہی آدم جو اس اسیر کا باپ تھا جو اسیروں کا نجات دہندہ تھا ۔” وہ۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔تم لوگ گئے نہیں ابھی تک !!”
“ جب رات اندھیرے میں ایسے ہی سب کی مدد کرنی ہے تو دن کے اُجلا انکے خلاف فیصلے کو دیتے ہیں ؟”
“ منصف ہونا کوئی عام بات نہیں بہت مشکل فیصلے لینے پڑتے ہیں ہر پہلو کو دیکھنا پڑتا پھر کہیں جاکر کسی ایک کے حق میں فیصلہ آتا ہے ضروری نہیں کہ جسکے خلاف فیصلہ ہوا ہو وہ بُرا ہو مگر حالات مطابق ہمیں حقدار کو چُنا پڑتا ہے ہم نے بھی وہی کیا مگر ہم یہ نہیں چاہتے تھے کہ اسکی بیٹی کا نکاح رُک جائے اسلیے !!!!”
“ تو دربار میں یہ فیصلہ کیوں نہیں کیا تب کیوں نہیں کہا کہ اسکی مدد آپ کریں گے ۔”
“ میں کسی پر احسان نہیں کرنا چاہتا تھا یہ جتلانا نہیں چاہتا تھا کہ میں بہت سخی ہو اسکی مدد کررہا ہوں . پر ہم نے آپ سے پوچھا گئے نہیں آپ ؟؟”
“بتایا تو ہے وقت کے مسافر ہی آپکی مدد کے بغیر واپس نہیں جاسکتے !!” آدم نے ایک ناگوار سی نظر اس پر ڈالی “پھر سے وہی سب کچھ !!
“ تو آپکو میری بات پر یقین نہیں چلیں میں آپکو کچھ حقائق بتاتا آپ اور ذولفشان مسلمان ہیں ! آدم نے حیرت انگیز نظروں سے اسے دیکھا شہر سحر کی عجیب و غریب مخلوق یہ بلکل نہیں جانتی تھی یہ!! اور آپ نےاپنی کچھ طاقتوں کے زریعے چاند کے پار یہ جگہ اور شہر سحر کو بنایا سب کو یہ پتا ہے اس جادوئی شہر کی بنیاد ایک ہیرا جو آپکا ہے اصل میں وہ ہیرا شیروں کا ہے جسکا آخری وارث ایک چھوٹا سا شیر جو محل میں سوارنچھ کے نام سے پرورش پا رہا ہے ۔ادم کی آنکھیں حیرت سے کھُلتی جارہی تھیں ” صیاد یعنی وزیر آپ سے اس قدر کھندک رکھتے ہیں کہ آپکی جان کے در پے ہیں !!!”
صیاد زبیر اور شہباز تینوں ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے تھے شراب خانے میں ہاتھوں میں شراب پکڑے شباب کا لُطف بھی لے رہے تھے یہ دونوں صرف صیاد کے خزانے کے مطلبی تھی چھوٹے سے بند کمرے کی سُنہری دیواروں پر مصری طرز کے نقش و نگار کینڈل سٹینڈ پر آدھی رات کی پگھلتی موم بتیاں نیچے لگےبستر پر بیٹھے وہ تینوں اور ان سب کے درمیان نیم برہنہ لباس میں رقص کرتی برکھا کے محل سے آئی رقاصہ وہ اپنی ادائیوں سے انھیں لبھا رہی تھی مگر صیاد اسے دیکھ بھی نہیں رہا تھا جوان تھا مگر سوچ شیطانی عورت کے معاملے میں نہیں تھی عورت اسکی کمزوری نہیں تھی محبت سے پیش تو صرف اپنی بیوی سے بھی کبھی کبھار ہی آیا تھا جسکا نتیجہ اسکا اکلوتا بیٹا سناش تھا ۔” وہ آدم کیا سمجھتا ہے خود کو وزیر میں ہوں اور وزارت اسکی چلتی ہے اور بھائی جان وہ ۔۔۔۔وہ کیسے ہمارے فیصلے کو رد کر سکتے ہیں !!” شہباز اور زبیر نے ایک ساتھ اسے دیکھا “سہی کہہ رہے ہو صیاد وہ آدم کچھ زیادہ ہی اپنی چلاتا ہے سپہ سالار ہے مگر لشکر سے زیادہ محل کے معاملات میں اسکی زیادہ پیش رفت رہتی ہے۔مگر آپ فکر مت کریں ہم ہیں نہ اپکے ساتھ آپکو آپکا مقام دینے کے لیے !!شہباز نے جام بھر کر اس رقاصہ کو دیا جو اسے پکڑے صیاد پر جھکتی جارہی تھی اور وہ اسکی جانب مائل ہوتا جارہا تھا اس سے پہلے وہ چھوتا کسی کی آواز اسے ساکن کرگئی “ابا جان !!”دروازے میں سناش کھڑا تھا پانچ سال کا بچہ گول چہرا معصوم آنکھیں جو حیرت سے اس طرح اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا ۔صیاد نے جام وہیں پھینک دیا اور اسکے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا جو رو رہا تھا اسکے سفید گالوں پر مٹے مٹے آنسوں کے داغ تھے جو صیاد کو بے چین کرگئے تھے ۔ ” اب۔۔۔ابا جان امی جان کے منہ سے خون نکل رہا ہے !!” نعیمہ رانی کی بات سن کر اسکے چہرے پر ناگواری آگئی تھی ” کیا ہوا انھیں !”
“ پپ ۔۔۔پتا نہیں ابا ہمارے ساتھ چلیں !!!!” وہ اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اپنے گال رگڑ رہا تھا ۔صیاد نے اسے اٹھایا جب اسنے اپنے ہاتھوں میں صیاد کا چہرا پکڑا ” ابا ہمیں یہ اچھی نہیں لگتی اس کے پاس نہ جایا کریں !!” صیاد نے ایک لعنت آمیز نظر سے اس رقاصہ کو دیکھا جو لاوابالی انداز سے کندھے آچکا دیے ۔وہ کمرے میں پہنچا تھا نعیمہ کنیزوں سے گھِری اُلٹیاں کرنے میں مصروف تھی ۔لاغر جسم آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے خُشک ہونٹ سناش بھاگ کر اسکے پاس گیا ” امی ۔۔۔امی ابا آئے ہیں !!اسنے التجایا نظر اٹھا کر صیاد کو دیکھا ” امی ابا آپکو جادو سے ٹھیک کردیں گے !!”وہ اپنے بچے کی معصومیت پر مسکرا سکی تھی کیا بتاتی اسے اس حالت میں بھی صیاد نے پہنچایا ہے۔” ابا کردیں !! صیاد کو انگلی سے کھینچتا وہ نعیمہ کی طرف لایا سناش کو دیکھتا اسنے اسکے سر پر ہاتھ رکھا جسکی وجہ سے اسکی حالت کافی سُدھر گئی تھی وہ تھوڑا سا اسکی جانب جھکا ” کیوں دیتے ہیں ہر روز یہ تکلیف مجھے مجھے زندہ رہنے اپنے بیٹے کے لیے !!” اسنے سناش کی موجودگی کی وجہ سے اسکی گال پر ہاتھ رکھا مگر پکڑ سخت تھی ” یہی میں نہیں چاہتا کہ میرے بیٹے کی زندگی پر میرے علاؤہ کسی اور کا بھی حق ہو وہ میرا غرور ہے میں اسے تمہارے جیسا بننے نہیں دوں گا ۔!” اسکی بات پر وہ مسکرا دی ” آپ دیکھ لینا آپکی پرورش ہار جائے گی اور میں مر کر بھی اس میں زندہ رہ جاؤں گی وہ رحم دل ہوگا اتنا کہ آپ ہار جائیں گے !!!” اس سے پہلے صیاد نعیمہ کو تکلیف دیتا سناش اپنی ماں کی گود میں آگیا تھا ” میری پیاری امی !” معصومیت سے اسکے چہرے کو جگہ جگہ سے چوم رہا تھا ۔ پھر صیاد کو چومنے لگا ” میرے سب سے اچھے ابا !!” صیاد نے سناش کو پیار کیا وہ باہر چلا گیا وہ اپنی ماں کی گود میں سر رکھے مسکرا رہا تھا ” ابا اچھے ہے نہ !!”
“ نہیں !!!نعیمہ نے فوراً جواب دیا جس پر وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا امی کیوں ؟ نعیمہ کو ہوش تو اب آیا ۔
“ سناش آپ نہ بہت اچھے بنا ہےاور ہاں طلسم آپ کو اچھی لگتی ہے نہ !! طلسم کے نام پر اسکے چہرے پر ایک الگ ہی لالی آگئی تھی ” بہت !!”
“ آپ اسے کبھی کچھ مت ہونے دینا کبھی اکیلا مت چھوڑنا اسے بہت سارا پیار کرنا اسے کھروچ بھی آئی تو آپکی امی جان آپ سے ناراض ہوجائے گی وعدہ کرو آپ طلسم کو کبھی کچھ نہیں ہونے دوں گے اس بہت محبت کرو گے !!! کتنا خوبصورت منظر تھا جب اسکی ماں اس سے وہ وعدہ مانگ رہی تھی جو اسنے مستقبل میں بھرپور نبھایا تھا ۔اسنے ان ہاتھوں کو چوما اور اقرار کردیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بتائیں دادا جان کیا آپکی زوجہ نفیسہ بیگم امید سے نہیں ہیں اور آپ نے اپنی آنے والی اولاد کو راجہ ذولفشان کی بیٹی شہزادی طلسم کی اسیری میں نہیں دیا !!!”زمر اب بھی اسے حقائق سے سمجھا رہا تھا ۔
“ تم یہ سب کیسے جانتے ہو؟”زمر نے گہرا سانس لیا ” بتایا تو ہے مستقبل سے آئیں ہیں اور شہر سحر کے مستقبل میں یہ تمام راز کھُل چکے ہیں اور کھولے بھی اپکے بیٹے اسیر ابنِ آدم یعنی میرے بابا جان نے ہے !!!” آدم کے لیے لازم ہوگیا تھا کہ وہ اسکی بات پر ایمان لے آئے وہ چند لمحے تو اسے دیکھتے رہا پھر مسکرا دیا ” تمہارے باقی ساتھی کہاں ہیں؟” زمر چپ چاپ مشال پکڑے آگے چل دیا اور آدم اسکے پیچھے کچھ دیر بعد وہ دونوں اس جگہ پہنچ گئے تھے جہاں نمزا پریشانی سے اسکی راہ تکتی ٹہل رہی تھی جنابِ زمر ! ان دونوں کو دیکھتے ہی وہ انکی جانب لپکی کہ پھر سے خود کو تکلیف دے بیٹھی پیر لکڑی سے جا ٹکرایا مگر اس بار زمر نے اسے نرمی سے پکڑا تھا ” نمزا ! اسنے شکوا کُنا نظروں سے اسے گھورا تو سختی سے اسکے گلے لگ گئی ہاتھ سختی سے اسکی پُشت پر باندھے وہ رو رہی تھی ” اتنی دیر کردی ہم اتنا ڈر گئے تھے شکر ہے آپ اگئے !! شور سُن کر ضامن اور زرمیش بھی اُٹھ گئے تھے .سامنے ادم اور نمزا زمر کو ایسے دیکھ کر وہ کچھ الجھ گئے تھے .زمر نے نرمی سے اسے الگ کیا ” میں ٹھیک ہوں !” ” کیاہوا بھائی ؟ ان دونوں نے ایکساتھ ان دونوں لو دیکھا ” میں نے جنابِ ادم کو اپنی بات کا یقین دلا لیا ہے کہ ہم وقت کے قیدی ہیں اور وہ ہماری مدد کرنے کے لیے تیار ہیں !!سب نے سوالیہ نگاہوں سے آدم کو دیکھا جو اس وقت ان سے چند سال ہی بڑا تھا جسکی پہلی اولاد آنے والی تھی ” اگر کر سکا تو فلحال ٹھنڈ بہت ہے چلو ! وہ آگے بڑھ گیا مگر وہ کھڑے رہے ” کہاں جانا ہے ؟” ” ہمارے گھر !! وہ اگے بڑھ گیا تو وہ بھی پیچھے چل دیے کچھ وقت بعد وہ آدم کے گھر میں موجود تھے .جسے انھوں نے ہمیشہ جلا ہوا ہی دیکھا تھا تین کمرے سُنہری دیواروں پر بنے نقش و نگار قدیم طرز کے برتن اور دیگر چیزیں ایک بڑا سا ڈرائنگ روم جسکے وسط میں لکڑی کا فرنیچر اور صفائی اور ترتیب کی مثال وہ اپنے آپ تھا وہ سب اسی لکڑی کے بنے فرنیچر پر بیٹھے تھے آدم خود ناجانے کہاں چلا گیا تھا نفیسہ بھی نہیں دکھائی دے رہی تھی وہ چاروں حیرانی سے ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے جب وہ ہاتھوں میں قہوے کی گرم پیالیاں لاتا دکھائی دیا ” تو آپ سب سچ میں وقت سے آیے ہیںھر جس کتاب کا آپ سب زکر کر رہے ہیں وہ کتاب تو میں نے لکھی نہیں اور نہ ہی لکھنے کا سوچا ہے تو میں کیسے آپکو وہ کتاب دے سکتا ہوں ؟” ” تو آپ نے وہ کتاب ابھی نہیں لکھی تو لکھیں ابھی لکھیں ساری !! زرمیش نے جلدی سے کہا سب نے حیرت سے اسے دیکھا ” اتنی جلدی سب نہیں ہوتا اور نہ میرے پاس اس کتاب میں لکھنے کے لیے کچھ ہے تو بہتر یہ ہے کہ آپ سب کچھ یہی رہیں جب تک اس مسئلے کا حل نہیں مل جاتا آپ آرام کریں اور آپکے پیر کو جلے کتنا وقت ہوگیا ہے ؟اسنے سیدھا سوال نمزا سے کیا تھا جو کب سے اپنے پیر کو گھور رہی تھی.” کک….کچھ دن پہلے !! وہ کچھ دیر تو اسکے نشانات کو دیکھتا رہا پھر اسنے آہستہ سے اپنا ہاتھ اسکے پیر پر پھیرا تو نشان بلکل غائب ہو گیا.” حیرت ہے آپ خود شہر ِ سحر کے باشندے بتاتے ہیں اور اپنے زخم کو ٹھیک نہیں کر سکے !! زمر حیرت سے کبھی نمزا کو دیکھ رہاتھا کبھی اسکے پیر.کو یہ خیال اسے کیوں نہیں آیا یہ بھی تو جادوگر تھی یہ بھی تو یہ کر سکتی تھی ” ویسے رات بہت ہوگئی ہے تو آپ لوگوں کو آرام کرنا چاہیے وہ ایک کمرا خالی ہے دوسرا کمرا میرے بھائی کا غفران کا مگر وہ کچھ وقت سے ریاست سے باہر.ہے وہ بھی خالی ہے اسلیے آپ سب آرام کریں زمر تو پہلے ہی غُصے سے بھرا بیٹھا تھا فوراً اُٹھ کر چلا گیا نمزا اسکے پیچھے چلی گئی ضامن اور زرمیش دوسرے کمرے میں چلے گئے تھے. آدم کپڑے تبدیل کرتا بستر کی جانب آیا جہاں اسکی نفیسہ پرُسکون نیند سو رہی تھی اسنے اسکے پیٹ پر ہاتھ رکھا جہاں اسکی آنے والی اولاد پل رہی تھی .” وہ زمر ہاہاہا کہتا ہے وہ تمہارا بیٹا ہے یعنی میرا پوتا مجھے ہنسی آتی ہے تم تو ابھی آئے بھی نہیں اور تمہارا بیٹا ہمارے ساتھ گھوم رہا ہے یقین سا نہیں آتا مگر وہ تمام باتیں جو ہمارے اور راجہ ذولفشان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا وہ اسے معلوم ہیں تو کیا وہ سچ کہہ رہا ہے !”
