Pehla Pana (Shehr-e-Sahar Season 2) by Bint-e-Aslam NovelR50473 Pehla Pana Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Pehla Pana Episode 2
Pehla Pana by Bint-e-Aslam
خبیس کی اولاد جاہل انسان دفع ہو جاؤ یہاں سے !” سناش غفران سے کوئی بات کررہا تھا جب اسکے کانوں میں یہ آواز آئی جس پر وہ دونوں کھلکھلا کر ہنس دیے ” جائیں راجہ آپکی لاڈلی کو آپ کے سوا کوئی نہیں پُرسکون کرسکتا وہ تلوار میان میں رکھ کر غفران کو پکڑاتا شہزادی کے کمرے کی طرف چلا گیا ۔” یہ پھول لانے کو کہا تھا یہ تمہیں نارنجی لگ رہا ہے یہ پیلا ہے اندھے ہو تم “اسنے گلدان غلام کی طرف اچھالا جو اسے لگنے سے پہلے سناش نے پکڑ لیا اور غلام کو جانے کا کہہ دیا اسنے حیرت سے اپنی باپ کو دیکھا غزال آنکھوں میں غُصہ بھرا پڑا تھا گلابی ہونٹ زور سے بھینچے ماتھے پر بے بی کٹ پھیلائے وہ طلسم کی کاربن کاپی تھی ایسا نہیں تھا کہ وہ طلسم جیسی دِکھتی تھی وہ اس کے جیسی بن کر رہتی تھی کیونکہ شاید ایک طلسم ہی تھا جسے مصوری میں دیکھ اسے اس سے حسین دکھنے کی چاہ ہوئی تھی اور وہ کچھ حد تک کامیاب بھی ہوگئی تھی مگر گُن گان شہرِ سحر آج بھی طلسم کاہی کرتا تھا۔ ” نِمزا ! اب کیا ہوا ہے ؟
“ ابا جان اسے میں نے نارنجی رنگ کا پھول کہا تھا اور یہ پیلا لے آیا ہے ۔”
“ راجہ شہزادی نے پیلا ہی کہا تھا پہلے !” سناش نے حیرت سے غلام کو دیکھا ” تم گئے نہیں ابھی تک ! وہ ڈرتا ہوا وہاں سے چلا گیا ” اسکو تو میں ! وہ اسکی طرف بھاگی جب سناش نے اسے کھینچا ” نِمزا اتنا غصہ اپنے بھائی دیکھو وہ کتنا پُرسکون رہتا ہے ۔” اسنے طنز سے اپنے باپ کو دیکھا ” بھائی کو دیکھو جو پُرسکون رہتا ہے .” ایک حقارت اور نفرت آمیز ہنسی تھی ” وہ جو غصہ آنے پر ایک درندہ بن جاتا ہے وہ پُرسکون رہتا ہے کیونکہ اس کی بات کو نظر انداز نہیں کرتا اسکے کاموں کو بیک وقت بہت سارے لوگ کرتے ہیں تاکہ غلطی کی گنجائش نہ رہے اور ہاں وہ میرا بھائی نہیں ہے آپ کو کیا لگتا ہے میں سمجھتی نہیں جانتی نہیں کے امی جان کی کوکھ میں کیسے آیا تھا انسان نہیں ہے وہ درندہ ہے جاودات ہے وہ ۔۔۔۔۔” اس سے آگے وہ کچھ کہتی اسکی نظر ضامن پر پڑی گئی تھی ” جاودات یہ جاودات کون ہے ؟” وہ صرف اتنا ہی سُن پایا تھا گولڈن کلر کے شاہانہ لباس میں ہاتھوں میں تیر کمان پکڑے وہ دروازے میں کھڑا تھا ۔مسکراتا ہوا سناش اور نِمزا کے رنگ ایک ساتھ اُڑ گیا تھا ” وہ۔۔۔۔وہ بھائی جان ۔۔۔۔جاودات ایک قصے کا کردار تھا جس بارے میں کوئی نہیں جانتا تو ہم ابا سے پوچھ رہے تھے انھیں بھی نہیں پتا شہرِ سحر کی تاریخ کا ” پیلا پنّہ ” گُم گیا ہے نہ مورخ سے اسلیے آپ کہا جارہے ہیں .” رکھتی تو وہ اس سے عداوت تھی مگر اسکے غصے سے ڈرتی وہ کچھ کر نہیں پاتی تھی ” ہم شکار کرنے کال جنگل میں جنگلی بھیڑیے بہت ہوگئے ہیں جانور کھا رہے ہیں میں رومی ہو بلانے جارہا تھا وہ آگے بڑھ گیا جب سناش ہنس کر بولا ” اس مینڈک کو مت لے جانا کوئی بھیڑیا کھا لے گا ! سناش کے یاد دلانے پر ضامن نے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھا ” ہم تو بھول ہی گئے تھے ابھی ٹھیک کرتا ہوں اسے ۔۔۔”وہ چلا گیا تھا جب سناش نِمزا کی طرف مُڑا ” میری جان یہ غلطی دوبارہ نہ ہو !” اس جملے میں محبت بھی تھی غصہ بھی اور تنبیہ بھی وہ چلا گیا تھا ” پہلا پنّہ میں دوبارہ لِکھو گی ابا جان اُسکے ساتھ مل کر جو جاودات کو مات دینا جانتا ہو .”
ناشتے کے بعد زُمر اسیر سے کوئی بات کر رہا تھا زرمیش طلسم کی ہیلپ کروا رہی تھی برتن اٹھاوانے کے بعد وہ کچن کے کاؤنٹر پر بیٹھی آئیس کیوب اپنے ہونٹوں پر رگڑ رہی تھی جسے طلسم حیرت سے دیکھ رہی تھی ” زرمیش یہ کیا کر رہی ہو ؟”
“ مام مائی لِپس اِس برننگ ! بہت جلن ہورہی ہے !” آئیس کیوبز رگڑتے ہوئے وہ رو دینے والی تھی ۔” کیوں ؟”
“ پتہ نہیں صبح سب ٹھیک تھا جب بابا جان نے ناشتے کے لیے بلایا تب میں آنے لگی تو فار فیو مومنٹس میرا مائنڈ بلکل بلینک ہوگیا پھر یاد آیا میں تو یہاں آرہی تھی تب سے برن سے کر رہے ہیں ۔”
“ کوئی گلوز ریکشن کر گیا ہوگا ۔” فریج میں سے سبزیاں نکالتی وہ اسکی بات بھی توجہ سے سن رہی تھی ۔” نو مام میں تو کچھ لگاتی نہیں ہوں سی ! اپنے ہونٹوں پر انگھوٹھا پھیر کر طلسم کو دیکھایا جو بلکل صاف تھا اس بار وہ پریشان ہوگئی تھی ” دیکھاؤ ! یہ تو کافی ریڈ مجھے لگا شاید ۔۔۔۔اچھا کوئی اچھا سا لِپ بام لگا لو اور جاؤ تیار ہوجاو یونی ورسٹی نہیں جانا زُمر ہوسپیٹل جاتا ہوا تمہیں چھوڑ دے گا ۔”طلسم کی بات سن کر وہ کاوئنٹر سے اچھلی اور کمرے کی طرف بھاگ گئی ۔
نوکیلے پنجوں والا چوپایہ جنگل میں درخت کی اوٹ سے چھپ رہا تھا مگر خشک پتوں کی سرسراہٹ نہ ضامن کے کان متوجہ کردیے تھے وہ جنگل کے بیچ تھا جہاں کچھ فاصلے پر ایک بھیڑیا گھات لگائے بیٹھا تھا تیر کمان میں لگائے وہ کان آنکھیں سب کھولے دبے قدموں چل رہا تھا چار کا خاتمہ وہ کر چُکا تھا یہ پانچواں تھا اسکی آنکھوں میں اگر وحشت تھی تو بھیڑیے کی آنکھوں میں بھوک وہ آگے بڑھتا جارہا تھا جب اس بھیڑیے نے پیچھے سے حملہ کردیا بھیڑیے کی چھلانگ ابھی ہوا میں تھی جب وہ ہوا کی تیزی سے مُڑا اور دو تیر ایک ساتھ اسکے سینے میں مار دیا وہ چنگھاڑتا وہیں گِر پڑا خون میں لے پت وجود لیے وحشت زدہ آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا جب اسنے اپنے پاس سے ایک مرہم نکالا اور تیر نکال کر اسکے زخموں پر لگا دیا ” رومی ! رومی پنجرا لاؤ!” بلند آواز سُنتے ہی رومی گھوڑے کے پیچھے باندھا پہیوں والا پنجرا لے آیا جس میں چھے زخمی بھیڑیے سانسیں لے رہے تھے ” شہزادے انھیں مرنے کیوں نہیں دیا بچا کر قید کر رہے ہیں ۔”
“ رومی کبھی تو اپنی دانشمندی دکھاؤ یہ بھی ایک مخلوق ہے جو اپنی بھوک مٹانے کے لیے یہ سب کرتی ہیں ہمیں کال جنگل کے باقی جانوروں کو بچانا ہے اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہم انھیں مار دیں انھیں محل میں رکھے گے پالے گے اپنے وفادار بنائے گے اور وقت آنے پر ان سے کام لیں گے ۔”
“ صدیوں پہلے بھی ایک مخلوق کے ساتھ دھوکہ کیا تھا ذولفشان اور آدم نے کیا یہ اسی کی نسل کا نوجوان ہے جو درندے بچانے کی بات کر رہا ہے ۔۔۔” پنجرے سے آتی اس آواز نے رومی اور ضامن دونوں کو اپنی جانب متوجہ کیا وہ لوگ پنجرے تک آئے وہ زخمی سب سے بڑا سفید بھیڑیا تھا جو انسانی آواز میں بات کر رہا تھا ۔
“کیا کہا تم نے دھوکا کیسا دھوکا …..” وہ بھیڑیا کچھ بولنے والا تھا کہ سورانچھ آگیا ” اگر ابھی بتا دوں تو سورانچھ تمہیں چیر پھاڑ ڈالے گا تمہاری سزا یہی ہے پہلا پنّہ ڈھونڈو خودبخود جان جاؤ گے ۔
” تمہیں یہاں پناہ دی تھی شاج تم پناہ گاہ کی جڑیں ہی کھوکھلیں کرنی شروع کردیں ۔”اس بات پر شاج ( سفید بوڑھا بھیڑیا ) خاموش ہوگیا تھا ۔
“ سورانچھ تقریباً انکی ساری نسل میرے پاس ہے جنگل محفوظ اب !” ضامن نے سورانچھ ہو یقین دِلایا جس پر وہ مطمئین ہوکر وہاں سے چلا گیا ۔ضامن اور رومی دونوں ہی گھوڑے پر بیٹھ گئے تھے رومی ضامن کا خاص غلام تھا غلام کم دوست تھا اور غفران سے بھی اسکی اچھی خاصی جان پہچان تھی عمر میں ضامن سے بڑا ہی تھی ۔ ضامن کے ذہن میں ایک ہی لفظ گونج رہا تھا “پہلا پنّہ”
“ رومی یہ پہلے پنّے کا کیا راز ہے ” اسکے سوال پر رومی کچھ دیر تو چونک گیا ” شہزادے آپکو تو تاریخ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔”
“ جِتنا پوچھا ہے اُتنا بتاؤ !” ۔۔۔۔۔۔۔۔” جو حُکم شہزادے ! ۔۔۔۔بزرگوں سے سُنا اور کچھ غفران سے پتا چلا کہ جب صیاد نے خودکشی کی اور راجہ سناش نے تخت سنبھالا تب ان پر یہ انکشاف ہوا کہ آدم کی موت ایک پرُراسرار معمہ ہے اسیر اور طلسم کے جانے کے بعد سناش نے غفران سے کہہ آدم کے جلے ہوئے گھر کی تلاشی لی وہاں انھیں ایک کتاب ملی جسے کھولا گیا تھا باب نمبر ایک کی جگہ پہلا پنّہ لکھا گیا تھا وہاں صرف شہرِ سحر کی بنیاد ارتقا سے لیکر جادو اکٹھا ہونے تک لکھا تھا اسکے بعد جادو کیسے اکٹھا ہوا اس رات کیا آدم کہاں چلا گیا کچھ پتہ نہیں کافی سارے خالی صفحوں کے بعد باب نمبر دو یعنی دوسرا پنّہ کھُلا جس میں شہزادی طلسم کے لاپتہ ہونا لوٹ کر آنا اسیر کا شہرِ سحر آنا صیاد کے خلاف جنگ لڑنا صیاد کا مرنا اور اسیر طلسم کا واپس چلے جانا لکھا تھا کہتے ہیں اس جلے گھر میں آج بھی آدم کی روح ہے اور وہ کتاب آدم ہی لکھ رہا تھا لیکن شہرِ سحر کے مورخین اس کتاب کو اپنا بنانا چاہتے اسلیے ایک مورخ نوش نے وہ کتاب چُرا لی اور پہلے پنّے کو خود مکمل کرنے لگا مگر جیسے ہی اسنے کتاب کھولی پہلا پنّہ غائب تھا صرف دوسرا پنّہ تھا آدم کی لکھی وہ پہلے پنّے کی تحریر غائب تھا نوش کے ہاتھ پیر پھولنے لگے تھے کہ اسنے تاریخ کو چھیڑنے کی کوشش کی تو آدم نے پہلا پنّہ غائب کردیا اسنے یہ بات راجہ کو بتائی تو راجہ نے اسے قید خانے میں ڈال دیا اور شہرِ سحر کی تاریخ کی وہ کتاب دوبارہ آدم کے گھر میں رکھ دی گئی غفران نے اس گھر کی حفاظت کے لیے اس کے گرد ایک حفاظتی تہ بنا دی جس سے صرف وہ جا سکتا اسکے بعد غفران روز اس کتاب کو دیکھنے جاتے ہے مگر وہاں پہلا پنّہ موجود نہیں کہتے ہیں یہ وہی پنہ تھا جسے پڑھ کر اسیر نے شہرِ سحر کی تاریخ کے مطابق وہ پھول ڈھونڈا تھا مگر اب وہ پنّہ گم ہوچکا ہے اب یا تو وہ مِلے گا یا شاید وہ دوبارہ لکھا جائے گا راجہ کو امید ہے کہ اسیر واپس آئے گا مگر غفران کے مطابق اسیر کبھی واپس نہ آنے کی قسم کھا کر گیا ہے ۔”
وہ لوگ محل واپس آگئے تھے ” رومی ان بھیڑوں کے پنجروں میں ڈالو اور طبیب سے کہہ کر ان کی مرہم پٹی کروا “
“ شہزادے آپ لینگے راجہ سے اجازت ؟” رومی کی بات پر وہ حیرت سے مُڑا ” کیسی اجازت ؟”
“ آدم کے گھر جانے کی پہلا پنّہ تلاشنے کی ؟” رومی آنکھوں میں چمک لیے اسے دیکھ رہا تھا ۔
“ ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہے !” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” دلچسپی لینی پڑے گی آدم کی موت کا جاودات سے گہرا تعلق ہے ۔” وہ اندر کی جانب بڑھ رہا تھا جب شاج کے منہ سے نکلنے والے ان الفاظ نے اسکے پیر زنجیر کردیے ” کیا !”
شاج فطرت کے مطابق پھر خاموش ہوگیا جب ضامن کا دماغ گھوم گیا وہ غصے میں آنے لگا تو رومی ڈر گیا ” میں بتاتا ہوں میں بتاتا ہوں شہزادے آئیں میرے ساتھ ! رومی اسے لیکر شاج سے کچھ دور چلا گیا ” کہتے ہیں جاودات ایک سفید پروں والی ایک مخلوق تھی آدم و ذولفشان کے دور کی مگر پہلے پنّے میں انکا کوئی ذکر نہیں تھا ۔”
“ کیونکہ پہلا پنّہ مکمل ہے ہی نہیں شہرِ سحر کی تاریخ کا پہلا باب کیسے ختم ہوسکتا ہے نہ آدم کی موت کا راز پتا چلا نہ بڑے دادا جان کی حکومت میں کیا ہوا وہ پتہ چلا نہ کوئی واقع جاودات کا نام ہم دوسری بار سن رہے ہیں مگر تمہارے اور سب کے مطابق پہلے پنّے میں جاودات کا کوئی ذکر نہیں تو پہلا پنّہ مکمل کیسے ہوا وہ ابھی نامکمل ہی ہے اسلیے اس پر بحث کرنے سے کوئی فائدہ نہیں یہ جاودات جو کوئی بھی تھا دوبارہ اسکا نام مت لینا مجھے وحشت ہونے لگی ہے اس نام سے ۔۔۔۔۔” رومی کو تنبیہ کرکے وہ اندرچلا گیا جب شاج پھر غرا کر بولا ” اسکی ہمسر امبر پارہ تھی ۔” یہ دوسرا بار تھا جب سن کر بھی وہ نظر انداز نہیں کر سکا ۔ وہ حیرت سے پیچھے مُڑا جہاں رومی پنجرا گھسیٹتا ہوا اندر لے جارہا تھا ” امبر پارہ !”
