Nadamat By Palwasha Safi Readelle50274 (Nadamat) Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
(Nadamat) Last Episode
رات ڈھائی بجے کے قریب آیت کا موبائل بجا چونکہ آیت بچوں کے کمرے میں سو رہی تھی اور اس کا موبائل بیڈروم میں تھا تو صدیف نے کال اٹھائی۔
“السلام علیکم پاپا۔۔۔۔”اس نے عنودگی میں سلام کیا مگر وارث صاحب کی رندھی ہوئی آواز پر وہ پورا چونک گیا۔
وارث صاحب کو تھوڑی دیر قبل نوریز کے ایکسیڈنٹ کی اطلاع ملی تو انہوں نے سب سے پہلے آیت کو کال ملائی۔
“میں آتا ہوں پاپا۔۔۔۔” صدیف کو نوریز کے ایکسیڈنٹ کا غم تھا یا نہیں وہ سمجھ نا سکا مگر اس حالت میں اس نے انسانیت کے ناتے وارث صاحب کا سہارا بننے کا فیصلہ کیا۔
ایک گھنٹے بعد صدیف ہاسپٹل میں وارث صاحب کے ہمراہ موجود تھا۔ آئی سی یو کے شیشے سے وہ خو ن میں لت پت نوریز کی باڈی دیکھ کر اداس ہوگیا۔
“حالت بہت نازک ہے۔۔۔۔ ہم کوشش کر رہیں ہیں۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔ ہم جھوٹی امید نہیں دلا سکتے۔۔۔۔ آپ مضبوط رہیں سر۔۔۔۔” ڈاکٹر صاحب اپنے تعلیمی دور میں پروفیسر وارث صدیقی کا سٹوڈنٹ رہ چکا تھا اس لیے وہ ذاتی طور پر ان کا خاص خیال رکھ رہا تھا۔
وارث صاحب بہ مشکل خود کو سنبھالے ہوئے تھے۔ صدیف ان کے پہلو میں بیٹھ کر دلاسہ دینے لگا۔
“سنبل بیگم کو کیسے بتاوں گا۔۔۔۔ آیت کو کیا کہوں گا۔۔۔۔۔ ” وہ مجبور باپ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
صدیف انہیں خود سے لگا کر خاموش کروانے لگا۔
آج کل کی اولاد اپنے خواہشات کی اڑ میں بوڑھے ماں باپ کی تکالیف کیوں بھول جاتے ہیں؛ صدیف دل ہی دل سوچتے مایوس ہونے لگا۔
فجر کے قریب ڈاکٹر صاحب دوبارہ ان کے رو بہ رو آئے۔
“کیا مسٹر نوریز کو پہلے بھی ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔۔۔۔” ان کے سوال پر وارث صاحب اور صدیف شاک ہوگئے۔
“دراصل۔۔۔۔ ایکسیڈنٹ سے پہلے انہیں ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔۔۔۔ اور ہمارے رپورٹس کے مطابق یہ ان کا دوسرا میجر اٹیک ہے۔۔۔۔ ان کی باڈی کا بایاں حصہ تو ایکسیڈنٹ کے پہلے سے d e a d ہوچکا تھا۔۔۔۔” اس اہم انکشاف پر صدیف نے وارث صاحب کے جانب دیکھا مگر وہ بھی اتنے ہی صدمے میں تھے۔
“اس نے کبھی نہیں بتایا۔۔۔۔” وارث صاحب اٹک اٹک کر بولے۔
ابھی ڈاکٹر انہیں نوریز کے مسائل سے آگاہ کر رہا تھا کہ نرس ہڑبڑاتے ہوئے آئی اور ڈاکٹر صاحب کے کان میں سرگوشی کی جس سے ان کا رنگ زرد پڑ گیا۔ چہرے پر کالے سایے لہرا گئے۔
“ایسا کوئی قانون نہیں جو نوریز صدیقی کو سزا دلوا سکے” کہنے والے کو نظام کائنات چلانے والے خالق سے سزا مل چکی تھی۔ اس سے بہتر انصاف کرنے والا کوئی نہیں۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
آسمان کی نیلاہٹ زردی میں تبدیل ہونے لگی۔ بٹ ہاوس میں سب صدیف کی غیر موجودگی پر پریشان تھے حمدان اسی لیے آفس بھی نا جا سکا۔ وہ صدیف کے دوستوں سے پوچھ رہا تھا جب صدیف چپل اور شب خوابی کے شرٹ اور ٹراؤزر میں ستا ہوا چہرا لیئے گھر میں داخل ہوا۔
“صدیف کہاں چلے گئے تھے۔۔۔ “ممی نے سوال و جواب کا آغاز کیا۔
“فون بھی گھر چھوڑ کر گئے تھے۔۔۔۔ ہم سب کتنا پریشان تھے۔۔۔۔” دوسرا سوال آیت کے جانب سے ہوا۔
“بھئیاں۔۔۔۔ کوئی کام تھا تو مجھے جگا دیا ہوتا۔۔۔۔” حمدان نے اپنے جانب سے اضافہ کیا۔
صدیف ان سب کے سوالوں کو نظر انداز کر کے صوفے پر بیٹھا اور سر ہاتھوں میں گرا دیا۔ اسے سمجھ نا آیا اس خبر سے کیسے آگاہ کرے۔
“صدیف۔۔۔۔ سب خیریت تو ہے۔۔۔۔” بابا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“بابا۔۔۔۔۔ ہمیں صدیقی ہاوس جانا ہے۔۔۔۔۔ نوریز۔۔۔۔” اس نے بولنا شروع کیا مگر بات مکمل نہیں کر سکا۔
سب یک ٹک اسے دیکھ رہیں تھے۔
Noraiz is no more….
“وارث انکل اکیلے ہیں بہت۔۔۔۔ he needs us۔۔۔۔”
اس کے الفاظ سب کے پیروں تلے زمین نکال گئے۔ آیت سانس لینا بھول گئی۔ عاطرہ بیگم نے سینے پر ہاتھ رکھ لیئے۔ حمدان اور بابا دم سادھے صدمے میں کھڑے رہیں۔
صدیف اپنے کمرے میں جاتے ہوئے آیت کو سہارا دیتے ساتھ اندر لے گیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
یاشم جینز اور وائٹ شرٹ پہنے اس پر مرون رنگ کا کوٹ زیب تن کرتے ہشاش بشاش سا تیار ہوا۔ آئینے میں وہ راعنہ کا عکس دیکھ کر مسکرا دیا۔ آج اس کے چہرے پر الگ ہی سکون تھا۔ خوشی تھی۔ اطمینان تھا۔ ایلزینا کے مستقبل کے لیے نئے خواب تھے۔ امید تھی۔
راعنہ کے چہرے پر یہ جذبات دیکھ کر یاشم دل ہی دل بہت سکون محسوس کر رہا تھا جب اس کا موبائل بجنے لگا۔
“ہائے حمدان۔۔۔۔” اس نے اتنے جوش میں کہا کہ زینی اور راعنہ بھی اس کے جانب متوجہ ہوگئے مگر اگلے ہی پل اس کے بدلتے تاثرات دیکھ کر راعنہ پریشان ہوگئی۔
“یاشم۔۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔۔۔ کیا کہا حمدان نے۔۔۔۔” راعنہ نے پاس آکر استفسار کیا۔
یاشم نے کال کاٹتے ہوئے ایک نظر اسے دیکھا اور دوسری نظر زینی کو۔ اس وقت وہ ان دونوں سے کچھ کہنے کی ہمت نہیں کر پایا اور بنا کچھ کہے کمرے سے باہر نکل گیا۔
راعنہ نے عجلت میں حمدان کو کال ملائی تو نوریز کے بابت معلوم ہوا۔ یہ خبر سن کر وہ وہی فرش پر بیٹھتی چلی گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
یاشم جب صدیقی ہاوس پہنچا تو ماتم کا سما چھایا ہوا تھا۔ سب بڑے بزرگ وارث صاحب کے گرد بیٹھے ان کی ہمت باندھنے کی کوشش کر رہیں تھے۔ صدیف اور حمدان تدفین کی تیاریوں میں مشغول تھے۔
سنبل بیگم جوان بیٹے کے ڈیڈ باڈی پر بین کرتے دوسری مرتبہ بے ہوش ہوئی تھی۔ اب کوئی روئے یا سینہ کوبی کرے نوریز اس دنیا فانی سے جا چکا تھا۔
سب ہی شرعی احکامات کے مطابق نوریز صدیقی کو سپرد خاک کیا گیا۔ وارث صاحب اور سنبل بیگم اکیلے تھے اکیلے ہی رہ گئے۔ خاص کر وہ بے بس ماں جس نے بیٹے کے گناہوں کی پردہ پوشی کی مگر در حقیقت وہ اس کی دنیا و آخرت دونوں بگاڑ گئی تھی۔
شام کو یاشم تھکا ماندہ گھر لوٹا تو راعنہ بالکونی میں اداس سی کھڑی تھی۔ یاشم کے آنے پر بھی وہ اپنی جگہ پر ساکت رہی۔ یاشم یوں ہی خاموشی سے اس کے سائیڈ میں آکر کھڑا ہوگیا۔
“تھوڑی سی طاقت مل جانے پر ہم اپنا اصل کیوں بھول جاتے ہیں۔۔۔۔ جب وقت ہوتا ہے تب احساس نہیں ہوتا اور جب احساس ہوجائے تو وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔۔۔۔” راعنہ نے مدھم آواز میں کہتے یاشم کے کندھے پر سر ٹکا دیا۔
یاشم نے اس کے گرد بازو حمائل کر کے شانہ تھپتھپایا۔ اس وقت خاموشی بہتر علاج تھا
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
(پانچ سال بعد)
ایلزینا نوریز صدیقی۔ وہ انٹری پاس پر اپنا نام دیکھ رہی تھی۔ یاشم نے اس کے والد کا نام اور سر نیم وہی رہنے دیا جو ابد سے دیا گیا تھا۔ پندرہ سال کی ایلزینا جامنی رنگ کے قمیض شلوار پہنے بازو تک آتے بالوں کی ہائی پونی ٹیل بنائے۔ شاہ پیلس کے پورچ میں کھڑی بار بار ہاتھ پر بندھی اسمارٹ واچ میں ٹائم دیکھ کر پیر پٹختی۔
“مما۔۔۔۔ جلدی کریں۔۔۔۔” آخر اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا۔
یاشم ہمیشہ کی طرح بلیک سوٹ بوٹ میں ہشاش بشاش سا تیار سیڑھیاں اتر کر نیچے آنے لگا۔ ہوا سے اس کے کالے گھنے بال اوپر کو اٹھتے اور پھر سیٹ ہوجاتے۔ اس کے پیچھے راعنہ تین سالہ بیٹے کو گود میں اٹھائے عجلت میں باہر آئی۔ پورچ میں نکل کر عباد شاہ بھاگتے ہوئے اپنے پاپا کے کار کے فرنٹ سیٹ کا دروازہ پکڑے اچھلنے لگا۔
زینی نے محبت سے اس کے گال پر شدت بھرا بوسہ دیا اور دروازہ کھول اس اسے بیٹھنے میں مدد دی۔
ننھا عباد شاہ اپنے گال پر پاتھ پھیر کر مانو زینی کا بوسہ صاف کرنے لگا۔ فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے وہ سیٹ پر کھڑا ہوگیا اور ڈیش بورڈ پر ہاتھ مارنے لگا۔
“عباد۔۔۔ ٹھیک سے بیٹھو۔۔۔۔ ورنہ میں پیچھے بیٹھا لوں گی۔۔۔۔” راعنہ نے سختی سے تنبیہہ کیا۔
عباد مما کی بات ماننے کے بجائے سر پورا گھما کر پاپا کو دیکھنے لگا جو اب کار اسٹارٹ کرنے لگے تھے۔
یاشم نے پہلے بیٹے کی معصوم شکل دیکھی اور پھر نظریں اٹھا کر راعنہ کو دیکھا۔ راعنہ نے دیسی بیوی کی طرح آبرو اٹھا کر یاشم کو گھورا تو وہ چھنپ سا گیا اور عباد کو ٹھیک سے بیٹھا کر سیٹ بیلٹ لگا دی۔
زندگی کا کارواں پر سکون ہوگیا تھا۔ یاشم کی زندگی میں حسین اضافہ ہوا تھا۔ اس کے بیٹے عباد شاہ نے شاہ پیلس کے مکینوں کے دل میں الگ ہی مقام حاصل کر لیا۔ ایلزینا سب کی لاڈلی تو تھی ہی مگر اپنا خون اور اپنا وارث ہونے کی وجہ سے عباد شاہ کا لاڈ کچھ زیادہ ہی تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
ایگزبیشن ہال میں اپنا انٹری پاس دکھا کر داخل ہوتے ایلزینا بہت مسرور ہوئی۔
ایکسپو سینٹر کے سب سے بڑے اور وسیع ہال میں کتابوں کی ایگزیبیشن رکھی گئی تھی۔ الگ الگ لکھاری اور شاعر بھی مدعو تھے۔ اس پروگرام کا مقصد نئی نسل کو کتابوں کی اہمیت بتانا تھا۔ ان میں کتابیں پڑھنے کا شوق اجاگر کرنا تھا تاکہ نئے نسل کے نوجوان موبائل لیپ ٹاپ ٹیب کے گھیرے سے نکل کر کاغذی شکل میں موجود اثاثوں سے لطف اٹھائیں۔
شہر کے کئی چھوٹے بڑے اسکولز اور کالجز کے طلبا و طالبات نے اپنے والدین سمیت اس کار خیر میں شرکت کی۔ سب نے اس مہم کو چار چاند لگا دیتے تھے۔ یاشم اور راعنہ رش میں ایلزینا کے قدرے پیچھے چل رہیں تھے۔ یاشم نے عباد کو گود میں اٹھا لیا۔ وہ حیران پریشان لوگوں کے شور و غل میں سہم سا گیا۔
زینی آس پاس کی ڈیکوریشن دیکھتے ایک تاریخی کتابوں کے اسٹال پر آن رکھی اور محظوظ ہوتے کتابوں کا جائزہ لینے لگی۔
“ہائے زینی۔۔۔۔” ایک جانے پہچانے جوان آواز نے اسے پکارا۔
پیچھے مڑنے پر اس کی ہائی پونی ٹیل لہرا گئی۔ سامنے کھڑے اس سراپے کو دیکھ کر اس کی آنکھیں چمک اٹھی مگر اگلے ہی پل مسکراہٹ سمٹ گئی۔
“ہائے۔۔۔” ایلزینا نے سفاک سے جواب دے کر لوگوں کی بھیڑ میں کھڑے مما اور پاپا کے جانب دیکھا اور سر جھکا کر دوسرے سمت بڑھ گئی۔
اٹھارہ سال کا ذیال جو جوانی کے دہلیز پر کھڑے اپنے پاپا صدیف کے جیسے لمبا چوڑا پر کشش ٹین ایج لڑکا بن گیا تھا۔ ہلکی اگتی شیو اور مونچھیں اس کے نکھرے نین نقش اور چہرے کی زینت بڑھا رہیں تھے۔
زینی کے اس اندازِ گفتگو پر ذیال نے مشکوک انداز میں ایلزینا کے رخ کے سمت دیکھا تو وہاں راعنہ کو کھڑے پایا۔ سر کے خم سے سلام کرتے وہ سر جھکائے مخالف سمت میں بڑھ گیا۔
یہ منظر یاشم دیکھ چکا تھا۔
“آپ زینی کو صدیف بھئیاں کے بچوں سے دور کیوں کر رہی ہیں۔۔۔۔ ذیال تو خیر۔۔۔۔ پر ثمر اور مشائم تو اسی کے اسکول میں ہیں۔۔۔۔ زینی کتنا برا فیل کرتی ہوگی۔۔۔۔” یاشم کی نظریں کیمسٹری بک اسٹال پر کسی سائنسدان کی ڈوکومینٹری دیکھتی ایلزینا پر مرکوز تھی۔
“کیونکہ بچے اب بڑھے ہورہیں ہیں۔۔۔۔ اور میں نہیں چاہتی جو میرے ساتھ ہوا۔۔۔۔ آیت وہی میری بیٹی کے ساتھ بھی کرے۔۔۔” راعنہ کے نظریں ذیال کو فالو کر رہی تھی جو دس سالہ مشائم کو کسی انگلش ناول کی مختصر کہانی سنا رہا تھا۔
اس کے تاسف بھرے جواب پر یاشم نے گردن گھما کر اسے دیکھا تھا۔
“راعنہ۔۔۔۔ وہ صدیف بھئیاں کے بھی بچے ہیں صرف آیت کے نہیں۔۔۔۔ ان کا خون آپ سے بھی مشترکہ ہے۔۔۔۔۔” یاشم واقعی اس کا منطق سمجھ نہیں پایا۔
“کچھ دیواریں کبھی نہیں ٹوٹ سکتی یاشم۔۔۔۔ آیت کے لیے میرے دل میں بنی دیوار۔۔۔۔ اس کے بچے نہیں پھلانگ سکتے۔۔۔۔ پھر چاہیں ان کا خون مجھ سے مشترکہ ہی کیوں نا ہو۔۔۔۔” راعنہ نے اسی انداز یاشم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
ان دونوں کے مابین خاموشی مائل ہوگئی۔ پاس ہی کسی اسٹال پر جھڑپ کی وجہ سے زور دار شور بلند ہوا تو راعنہ کو عباد کا خیال آیا۔ یاشم نے بھی گھبراتے ہوئے تیزی سے ہجوم میں نظر دوڑائی۔
“پھوپھو۔۔۔۔ عباد میرے پاس ہے۔۔۔۔” اپنے عقب سے آتی اس آواز پر یاشم اور راعنہ تیزی سے پلٹے۔
چودہ سال کا ثمر، عباد کو گود میں اٹھائے ان کے پیچھے کھڑا تھا۔ عباد کے ہاتھ میں بڑا سا لالی پاپ تھا جو یقیناً ثمر نے دیا تھا۔ وہ ماحول سے یکسر بے خبر ہاتھوں میں پکڑا لالی پاپ کھانے میں مگن رہا۔
یاشم نے خوش مزاجی سے اس کا شکریہ ادا کیا اور عباد کو اپنے بازووں میں اٹھا لیا۔ راعنہ نے سب سے شوخ و شرارتی ثمر کو خود سے لگا کر پیار کیا۔ راعنہ زبان سے جتنا بھی انکار کرتی مگر اسے صدیف بھئیاں کے تینوں بچے اتنے ہی عزیز تھے جتنے اپنے۔
بھیڑ میں بھی ذیال کی نظریں ایلزینا پر آکر ٹک جاتی۔ یہ احساس اسے پہلی مرتبہ ہوا تھا یا ذیال نے پہلی مرتبہ اس نئے احساس کو نام دینے کی کوشش کی مگر کوئی مناسب نام دے نا سکا۔
اس کے بر عکس ایلزینا کسی بھی احساس سے عاری ایگزیبیشن میں مشغول رہی۔ ایک آدھ مرتبہ ذیال سے نظریں ملی مگر جو احساس ذیال کے دل میں جنم لے رہا تھا اس سے ایلزینا ناواقف تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
یہ منظر ایک پر تعیش ہوٹل کے کمرے کا ہے۔ راعنہ شب خوابی کا گاون پہن کر سستاتے ہوئے کھڑکی میں آن کھڑی ہوگئی۔ صبح سویرے کی ٹھنڈی ہوائیں اس کے چہرے پر پڑتی اسے پر جوش کر رہی تھی۔
“گڈ مارننگ مائی لو۔۔۔۔” یاشم نے نیند سے بھاری آواز میں اسے مخاطب کرتے اپنے حصار میں لیا۔
راعنہ نے اس کے بازووں پر ہاتھ رکھ کر سکون کا سانس لیا۔ اچھا شریک حیات زندگی کا بہترین دوست ہوتا ہے۔ اگر اپنے ہمسفر کے ساتھ زندگی خوبصورت اور با مقصد ہوگئی ہے۔ اچھے برے وقت میں ساتھ دیتا ہے تو وہ انسان بہت خوش نصیب ہے۔ اس وقت راعنہ اپنے خوش قسمتی پر مشکور ہوئی۔
سوات کے خوبصورت وادی میں ہلکی برف سے ڈھکے پہاڑوں کے مابین بہتی نہر کے کنارے ہوٹل کے اس کمرے سے پورا سوات نظر آرہا تھا۔ یاشم اور راعنہ شادی کے پانچ سال بعد بھی محبت سے لوث رشتے پر قائم تھے۔
ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا تو یاشم اور راعنہ ہڑبڑا کر ایک دوسرے کے حصار سے الگ ہوگئے۔ عباد کھلکھلا کر ہنستا ہوا ان کے کمرے میں آیا اور بیڈ پر چڑھ کر اچھلنے لگا۔
“عباد۔۔۔۔ کپڑے پہنو۔۔۔۔ باہر بہت ٹھنڈ ہے۔۔۔۔” ایلزینا اس کی شرٹ اور جرسی ہاتھ میں پکڑے اس کے پیچھے بھاگ آئی۔
“مما دیکھو نا یہ میرے ہاتھوں سے کپڑے نہیں پہن رہا۔۔۔۔” راعنہ کو اس کی شرارتوں پر مسکراتے دیکھ کر فورا شکایت کر دی۔
عباد کو یاشم نے جکڑ لیا تھا۔ اس کا قہقہہ مزید بلند ہوگیا۔ راعنہ نے زینی کے ہاتھ سے کپڑے لیے اور کھیل کھیل میں پہنانے لگی۔ یوں وہ فیملی سوات کے ٹھنڈے موسم میں تعطیلات انجوائے کرنے لگے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
تیار ہو کر وہ سب ہوٹل سے باہر آئے تو ایک بڑی جیپ اور با وردی ڈرائیور کو اپنے سامنے پایا۔
“سوات آئے اور ہم سے نا ملے۔۔۔۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔” اس با رعب آواز سے راعنہ خوب واقف تھی۔
احیان خان سفید قمیض شلوار پہنے کندھے پر شال ڈالے ان کے رو بہ رو آیا۔ یاشم سے متعارف ہوتے وہ گلے ملے اور پھر بچوں کو پیار کیا۔
عباد پہلی دفعہ جیپ میں سفر کرنے بے تاب ہورہا تھا۔ ایلزینا اسے ہاتھ سے پکڑے ٹوکنے لگی۔
“آرام سے۔۔۔۔ رکو۔۔۔۔ یہ پولیس والے ہیں۔۔۔۔ تمہیں لے جائیں گے۔۔۔۔” دبی دبی آواز میں اسے سمجھا کر اپنے پاس کھڑا کیا مگر وہ شاہ خاندان کا چراغ اپنے ہی دھن میں مگن رہا۔
یاشم اور احیان کی اچھی دوستی ہوگئی۔ وہ پورا راستہ اپنے اپنے پروفیشن کے متعلق گفتگو کرتے رہیں۔ راعنہ حیرت سے احیان خان کو دیکھ رہی تھی وہ پہلے سے کافی بہتر لگ رہا تھا۔ یقینا وقت ہر زخم پر مرہم لگا دیتا ہے۔
سوات سے پیشاور تقریبا دو سے ڈھائی گھنٹے کا سفر تھا۔ ایک خوشگوار اور یادگار سفر جس میں راعنہ اور یاشم نئی خوشیوں کے ساتھ چل رہیں تھے۔
کہا جاتا ہے کہ شوہر اپنی بیوی کا محافظ ہوتا ہے۔ فیملی کا سربراہ۔ وہ اپنے بیوی اور بچوں کی حفاظت کرتا ہے۔ مگر ایک مخلص بیوی اپنے بچوں کی خوشیوں کی؛ معصومیت کی؛ اور عاجزی کی حفاظت کرتی ہیں۔ انہیں صحیح تربیت دیتی ہیں۔ ان کا مضبوط سہارا بنتی ہیں۔ ساتھ ساتھ وہ اپنے شوہر کی رازدار ہوتی ہیں۔ اس کے عزت کا مان رکھتی ہیں اور دل کو آباد کرتی ہیں۔
کوشش کریں کہ جس سے جتنا بھی تعلق ہو اس میں مخلص رہیں منافقت نہ کریں۔ ہوسکتا ہے بعض اوقات آپ کو تکلیف پہنچے مگر آپ کا ضمیر مطمئن رہے گا کہ آپ مخلص تھے۔ خاص کر میاں بیوی کے رشتے میں خلوص اور عزت بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
ختم شد۔۔۔
