Nadamat By Palwasha Safi Readelle50274 (Nadamat) Episode 25
No Download Link
Rate this Novel
(Nadamat) Episode 25
زندگی نے بھر پور انداز میں خوشیوں کا استقبال کیا تھا۔ راعنہ، شاہ فیملی کے بہو ہونے کے سارے خصوصیات پر پورا اتری تھی۔ وہ آفس اور گھر دونوں اچھے سے سنبھال رہی تھی۔ آفان صاحب اور فریحہ بیگم اس سے بہت خوش تھے۔ یاشم کو تو اپنے قسمت پر رشک ہوا کرتا تھا۔
ایلزینا بڑوں کے مابین اکلوتی بچی رہ گئی۔ آفروز اپنے فارغ وقت میں اس کے ساتھ لگی رہتی اور فریحہ بیگم کا بھی اس کے ساتھ اچھا وقت گزرتا تھا جبکہ آفان صاحب زیادہ تر بے تاثر رہتے۔
اس دن وہ عجلت میں آس پاس نظریں دوڑا رہیں تھے۔
“بیگم جلدی کرو۔۔۔۔ ایک چشمہ ڈھونڈنے میں اتنا وقت لگتا ہے کیا۔۔۔۔۔” کمر پر ہاتھ رکھے وہ صوفوں کے نیچھے جھانک رہیں تھے۔
ایلزینا اسکول کا بیگ کندھوں پر ڈالے دو پونیاں ہلاتی لاؤنج میں آئی اور آنکھیں چھوٹی کر کے انہیں دیکھا۔
“دادا جان۔۔۔۔ کچھ ڈھونڈ رہیں ہیں۔۔۔۔” اس نے معصومیت سے سوال کیا۔
“میرے گلاسس نہیں مل رہیں۔۔۔۔ فریحہ۔۔۔۔ ملے کیا۔۔۔۔۔” سرسری سا جواب دے کر انہوں نے رخ اوپر کر کے صدا لگائی۔
ایلزینا آبرو اٹھائے نچھلا لب دانتوں میں دبائے آفان صاحب کے خاکی مگر گھنے بالوں میں لگے گلاسس کو دیکھ کر بمشکل اپنی ہنسی روک پائی۔
“کونسے گلاسس۔۔۔۔ سن گلاسس یا نمبر والے گلاسس۔۔۔۔” اس نے تصدیق کرنا چاہی۔
“نمبر والے۔۔۔۔” دو لفظی جواب دے کر انہوں نے لمبی سانس خارج کی۔
ایلزینا کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی مگر احتراما خود کو کمپوز کرتے سیریس ہوگئی۔
“دادا جان۔۔۔۔” ایک معصوم سی پکار کے ساتھ اس نے آفان صاحب کو ہاتھ کے اشارے سے قریب بلایا۔
آفان صاحب، اس کی میٹھی پکار پر بے ساختہ آگے ہو کر اس کے سامنے جھکے۔ ایلزینا نے ان کے بالوں میں پھنسے گلاسس نکال کر ان کی آنکھوں کے سامنے لہرائے۔ آفان صاحب کا بے اختیار اپنے بالوں کے جانب ہاتھ اٹھا تھا۔ ایلزینا کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ آفان صاحب نے اس کے ہاتھوں سے گلاسس لے کر آنکھوں پر لگائے اور اس کا ساتھ دینے قہقہہ لگا دیا۔
یہ منظر دیکھتے راعنہ فخریہ مسکرا دی۔ یاشم کے قدموں کی چھاپ پر ان کی ہنسی تھمی۔
“یہ لیں۔۔۔۔ چشمہ تو آنکھوں پر لگا ہے اور میں پورے گھر میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر پاگل ہورہی ہوں۔۔۔۔” فریحہ بیگم نے لاونج میں آتے آفان صاحب کی آنکھوں پر گلاسس لگے دیکھ کر اپنی دہائی سنائی۔
آفان صاحب نے سر گھما کر ایلزینا کو دیکھا اور ایلزینا نے سر اٹھا کر، دونوں کی نظر ملی تو پھر سے بے ساختہ ہنس پڑے۔ فریحہ بیگم غصے سے سرخ چہرہ لیئے شوہر کو یوں ہنستا دیکھ رہیں تھی۔
“زینی۔۔۔۔ چلیں۔۔۔۔۔” یاشم کو لگا یہ زینی کی شرارت ہوگی اس لیے اسے مما کے ڈانٹ سے بچانے تیزی سے آگے آیا۔
“یاشم۔۔۔۔ زینی کو ہم اسکول ڈراپ کر دینگے۔۔۔۔۔” آفان صاحب نے خوش مزاجی سے ہدایت دی اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔
ایلزینا نے جھٹ سے ان کا ہاتھ تھام لیا اور دوسرے ہاتھ سے راعنہ اور یاشم کو بائے کرتی دادا جان کے ساتھ چلنے لگی۔
فریحہ بیگم، راعنہ اور یاشم میں حیرت بھری نظروں کا تبادلہ ہوا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
(دس دن بعد)
وہ ایک ٹھنڈی اور پر تعیش صبح تھی۔ راعنہ نے کھڑکی کے پردے ہٹا کر تازہ سانس اندر کھینچی اور آنکھیں کھولی تو سامنے وہ برفیلا منظر روشن ہوا۔ سفید بادلوں سے ڈھکے آسمان سے برف برستے دیکھ کر راعنہ خوشی سے سرشار ہوتے بیڈ پر چڑھی اور زور سے یاشم کو جھنجوڑا۔
“یاشم اٹھیں۔۔۔۔۔ برفباری ہورہی ہے۔۔۔۔۔” راعنہ اسے کندھے سے پکڑے پورا ہلاتے جگانے لگی۔
“میں کیا کروں۔۔۔۔۔” یاشم عنودگی میں بڑبڑایا۔
“اٹھیں نا۔۔۔۔۔ مجھے باہر جانا ہے۔۔۔۔۔ جلدی۔۔۔۔ اس سے پہلے برفباری رک جائیں۔۔۔۔” راعنہ منہ بھسورتے ہوئے اس کے بازو پر چھوٹے چھوٹے مکے برسانے لگی۔
“آپ نا۔۔۔۔۔ کبھی کبھی بالکل بچی بن جاتی ہیں۔۔۔۔ ” یاشم اپنا بازو سہلاتے ہوئے کھسک کر دوسری سائیڈ سے اترا۔
“کبھی کبھی بچہ بن کر قدرت کی خوبصورتی کو انجوائے کرنا چاہیئے۔۔۔۔ ” راعنہ اٹھ کر بیڈ بنانے لگی۔
یاشم واشروم جانے کے بجائے اس کے سائیڈ آیا اور پیچھے سے اس کے گرد بازو حمائل کر کے خود سے لگایا۔
“اور اس بچی پر مجھے پہلے سے زیادہ پیار آتا ہے۔۔۔۔۔” عقیدت اور محبت پیش کرتے اس نے راعنہ کے گردن پر لب رکھے۔
راعنہ اس کے انداز پر بلش کرتے اس کے گال کے نیچھے ہاتھ رکھ گئی۔
سوئزر لینڈ کے اس ہنی مون روم میں راعنہ اور یاشم دنیا کے داو پیچ سے دور اپنے محبت کا آشیانہ بسانے چلیں تھے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
ہوٹل کے لابی سے باہر نکلتے راعنہ ہاتھ ہوا میں پھیلائے سر اوپر کو اٹھا کر ٹھنڈی برف اپنے چہرے پر گرتی محسوس کرنے لگی۔
بلیک پینٹ پر اونی سویٹر اور اس پر لانگ کوٹ زیب تن کئے۔ گلے کے گرد مفلر لپیٹے۔ ہاتھوں میں گلوز اور پیروں میں لمبے بوٹس پہنے وہ سوئزر لینڈ کے وسیع سڑکوں پر بے باک گھوم رہی تھی۔ اتنی صبح ٹریفیک اور شہری نا ہونے کے برابر تھے۔
یاشم جینز اور شرٹ پر ڈینم کی جیکٹ اور خاکی لانگ کوٹ میں ملبوس۔ سر پر اونی ٹوپی پہنے گلوز اور پیروں میں لمبے بوٹس کے ساتھ منہ پر مفلر ڈالے محبت پاش نظروں سے راعنہ کو دیکھتے قدم قدم اس کے پیچھے چل رہا تھا۔
پوری سڑک پار کر کے ایک ریسٹورنٹ کے انٹرنس پر بنے لکڑی کے چھت تلے آکر راعنہ اپنے آپ پر سے برف جھاڑنے لگی۔ ٹھنڈ سے اس کی چھوٹی ناک سرخ ہورہی تھی۔ وہ جھرجھری لیتے اپنے عقب میں کھڑے یاشم کے جانب مڑی۔
یاشم نے اپنی بانہیں پھیلائی تو وہ متبسم ہوتے اس کے حصار سے جا لگی۔
انسان بہت جلد باز ہوتا ہے۔ اگر ایک وقت زندگی میں کچھ آزمائشیں ہوں تو فورا یہ فتوی تیار ہوتا ہے کہ اللہ ہمیں پسند نہیں کرتا۔ اس نے سارے راستے بند کر دیئے ہیں۔ ہر سمت سے آزمائش ہی ہے۔ مگر وہ تو تواب و رحیم ہے۔ اس کے ہاں دیر ہے مگر اندھیر نہیں۔ صحیح وقت پر وہ بہترین سے نوازتا ہے۔ بس انسان کو صبر شکر اور توکل کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیئے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
دوسری طرف بٹ ہاوس میں ہر سوں بچوں کی کلکاری سننے کو ملتی۔ جب سے راعنہ اور یاشم ہنی مون پر گئی تھے۔ ایلزینا ننہیال میں رہنے آئی تھی۔ جہاں اسے پہلے مصور اچھا نہیں لگتا تھا وہیں اب وہ ہر وقت اس کے ساتھ رہتی۔
“ہاں ہاں۔۔۔۔ میں نے بھی تمہیں بہت مس کیا۔۔۔۔” جب مصور اچھل اچھل کر اس سے گلے ملنے کی کوشش کرنے لگا تو ایلزینا نے جھک کر اسے خود سے لگا لیا۔
وہ دو زانو بیٹھی اس سے باتیں کر رہی تھی جب ذیال ثمر اور مشائم تیار ہو کر کمرے سے باہر آئے۔
“کہاں جا رہیں ہو۔۔۔۔” ایلزینا نے محظوظ ہوتے ہوئے پوچھا۔
“نانا سے ملنے۔۔۔۔۔” ذیال نے ہلکی آواز میں جواب دیا۔
“ہم تو پہلی مرتبہ مل رہیں ہیں۔۔۔۔ ” مشائم اور ثمر بہ یک آواز بولے۔
“زینی۔۔۔۔ تم بھی چلو گی۔۔۔۔ بھئیاں۔۔۔۔ ہمارے نانا زینی کے اصلی والے دادا ہے نا۔۔۔۔” مشی نے نادانی میں تبصرہ کیا مگر الزینا کے تاثرات بدلنے لگے۔
ذیال اس کا اداس چہرہ دیکھتے مشی کو آنکھیں دکھا کر چپ کروانے لگا۔ ایلزینا پھیکا مسکرائی اور خاموشی سے مصور کو چلاتے حمدان ماموں کے کمرے میں چلی گئی۔
“کیا ضرورت تھی۔۔۔۔۔ اداس کر دیا نا اسے۔۔۔۔۔ ہاں ہمارے نانا اس کے دادا ہیں۔۔۔۔ پر اب اس کی فیملی الگ ہوگئی ہے۔۔۔۔” ذیال نے مشائم کے جانب چہرہ کر کے قدرے سختی سے کہا۔
“تو کیا فیملی الگ ہونے سے۔۔۔ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔۔۔۔ ” ایک اور سوال تیار ملا۔
“خون مشترکہ ہو تب بھی۔۔۔۔۔ کچھ رشتے ایک مرتبہ ٹوٹ جانے پر دوبارہ نہیں جڑتے۔۔۔۔۔” ذیال نے سمجھداری سے معاملہ سنبھالا۔
اس اثنا آیت اپنا ہینڈ بیگ کندھے پر ڈالے باہر آئی۔
“ممی۔۔۔۔ پاپا نہیں چل رہیں۔۔۔۔” ثمر نے انہیں اکیلے آتے دیکھ کر پوچھا۔
“نہیں۔۔۔۔ ہم ڈرائیور کے ساتھ جا رہیں ہیں۔۔۔۔ چلو۔۔۔۔” آیت نے سپاٹ انداز میں جواب دیا اور آگے بڑھ گئی۔
ڈرائیور کو کسی ریسٹ ہاوس کا ایڈریس کا بتا کر آیت کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ پچھلی سیٹ پر بیٹھے تینوں بچوں میں خاموش نظروں کا تبادلہ ہوا۔
کچھ دراڑیں انسان چاہ کر بھی نہیں مٹا سکتا۔ وہ تا عمر باقی رہتی ہیں۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
دن چڑھنے تک برفباری میں خاصی کمی آچکی تھی۔ سڑک کے دونوں کنارے سفید چادر کی سطح بن گئی اور ہلکی دھوپ سے سیاحوں کی آمد و رفت کا سلسلہ بندھ گیا۔
یاشم اور راعنہ نے دونوں گھروں کے مکینوں کے لیے شاپنگ کی۔ ایلزینا نے تو باقاعدہ اپنی چھوٹی چھوٹی کی لسٹ بنا کر دی تھی۔ دوپہر کا لنچ ایک پر تعیش گولڈن ساز و سامان سے آراستہ سیون اسٹار ریسٹورنٹ میں ہوا۔ کھانے کے دوران راعنہ ہر چیز کو ایک ایک کر کے دیکھنے لگی پر یاشم کی نظریں محض اسی پر ٹکی ہوئی تھی۔
“یہاں مجھ سے زیادہ خوبصورت لڑکیاں ہیں۔۔۔۔۔” راعنہ نے جتاتے ہوئے کہا۔
“پر محرم صرف آپ ہو۔۔۔۔” یاشم نے جھٹ سے جواب دیا۔
اس کا جواب کچھ لمحوں کے لیے راعنہ کو لا جواب کر گیا۔ وہ گنگ بیٹھی اسے دیکھے گئی۔
“کبھی کبھی ڈر لگتا ہے۔۔۔۔ آپ کی محبت کو میری ہی نظر نہ لگ جائیں۔۔۔۔” راعنہ نے جھجکتے ہوئے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
“اگر ایسا ہوتا تو دنیا میں محبت کرنے والوں کی اتنی کہانیاں نہ ہوتیں۔۔۔۔ ہمارے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت میں تو بیوی کو پیار سے دیکھنے سے بھی ثواب ملتا ہے۔۔۔۔۔ ” یاشم کا لہجہ نرم اور انداز پختہ تھا۔
راعنہ نے سر کو جنبش دیتے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔
کامیابی انسان کی سوچ سے شروع ہوتی ہے۔ جب ہم کامیابی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں۔ دل میں ٹھان لیں وہ دن ہماری کامیابی کا پہلا دن ہوتا ہے۔
راعنہ نے اس رشتے کو کامیاب کرنے کی ٹھان لی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“تو اب کہاں جا رہیں ہیں۔۔۔۔” پرسنل کیب کروانے پر راعنہ نے استفسار کیا۔
“ایک اسپیشل جگہ۔۔۔۔” یاشم نے خمار آلود انداز میں اس کے کان میں سرگوشی کی۔
راعنہ کے رخسار سرخ ہونے لگے اس نے ڈرائیور کے جانب اشارہ کرتے ہوئے یاشم کو دور کیا۔ وہ ہنستا ہوا سیدھا ہو کر بیٹھا اور دونوں سوئزر لینڈ کے شام سے لطف اندوز ہونے لگے۔
کچھ مسافت طے کر کے شہر سے دور ایک پہاڑی علاقے میں کیب آن رکی۔ اس برف سے ڈھکے پہاڑی پر ٹھنڈ زیادہ محسوس ہورہی تھی۔ راعنہ لکڑی کے بنے اس چھوٹے سے جھونپڑی نما جگہ کو دیکھ کر بے حد سرپرائز ہوگئی۔
لکڑی کے بنے جھونپڑی تک ایک پختہ راستہ تھا اور اس کے دونوں اطراف کو چھوٹے بڑے چمکیلے پتھروں سے سجایا گیا تھا جس پر برف کی تہہ پڑی تھی۔ اندر داخل ہوتے ایک بڑا کمرا تھا جس کے دائیں سمت بیڈ اور ایک عدد الماری تھی بیچ میں دو نفری ڈائننگ ٹیبل اور بائیں سائیڈ پر آتش دان جہاں پہلے سے آگ لگا کر کمرے کو گرم کیا گیا تھا۔ شام ڈھلنے تک ہلکی برفباری کا آغاز ہوگیا۔ یاشم کیب ڈرائیور کو صبح آنے کی ہدایت دے کر رخصت کرتا اندر آیا۔
راعنہ اس پر کشش جگہ کے سحر میں کھوئی کھڑکی سے باہر پہاڑ پر گرتی برف دیکھ رہی تھی۔ یاشم نے اپنا کوٹ اور جیکٹ اتار کر چئیر پر ڈال دیئے۔ آگ کو تیز کرنے چند لکڑیاں مزید آتش دان میں پھینکی۔
“کیسی ہیں یہ اسپیشل جگہ۔۔۔۔” اب ایک ایک کر کے وہ شرٹ کے بٹن کھولتا راعنہ کے عقب میں آیا۔
“بہت خوبصورت۔۔۔۔۔ اللہ کے قدرت کی جتنی تعریف بیان کی جائے کم ہے۔۔۔۔” راعنہ کمرے کی گرم حرارت سے سکون محسوس کرتے مڑی۔
اس کی نظریں یاشم کے دل فریب سراپے پر پڑی تو دھڑکن تیز ہونے لگی۔ سانسوں کی رفتار بڑھ گئی۔ یاشم ایک قدم آگے آیا تو راعنہ ایک قدم پیچھے ہوگئی۔ یوں اس کی کمر دیوار سے لگ گئی۔ یاشم نے اپنے ہاتھ اس کے دائیں اور بائیں ٹکا کر راہ فرار مسدود کر دیئے۔
راعنہ کی جھکی پلکیں اور تیز سانسیں یاشم کے دل کی دنیا میں ہلچل مچا گئی۔ اس نے اپنا ایک ہاتھ بڑھا کر راعنہ کی تھیوڑی اوپر کو اٹھائی اور اس کے آدھ کھلے ہونٹوں پر جھک گیا۔
اس کے لمس کی شدت سے کرنٹ سا راعنہ کے رگ و پے میں سرایت کر گیا۔ اس نے دل تھامے سانس روکے مضبوطی سے اس کے بازووں کو دبوچ لیا۔ یاشم محبت کی گہرائیوں میں جاتے اس کے کمر کے گرد مضبوط حصار بنا گیا۔ راعنہ آنکھیں میچھے اس کی شدت پر جان نثار ہوئی۔
لبوں سے ہوتا یہ سفر گردن کے حدود پار کرنے لگا۔ اس کا ساتھ دیتی راعنہ نے خود کو یاشم کی بانہوں میں بے دم سا چھوڑ دیا تو یاشم اسے اٹھا کر بیڈ کے جانب بڑھا۔ آسمان سے گرتے سفید موتی پہاڑی ٹھنڈ میں آگ کی تپش اور محبت کے سمندر میں ڈوبے دو وجود ایک جان ہوگئے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
صبح راعنہ کی آنکھ کھلی تو یاشم آتش دان کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھا آگ سلگا رہا تھا۔ اس کے گیلے بال ماتھے پر بکھرے پڑے تھے۔ کمرے کی فضا اشتہا انگیز ناشتے کی خوشبو سے معطر تھی۔ وہ انگڑائی لیتی اٹھ بیٹھی۔
یاشم نے آہٹ پر گردن گھما کر پیچھے دیکھا۔
“گڈ مارننگ جانِ من۔۔۔۔” یاشم نے شریر انداز میں اس کے گال پر چٹکی کاٹی۔
راعنہ نے منہ بھسورتے ہوئے اپنا گال سہلایا اور پھر یاشم کے حصار سے جا لگی۔
“تھینکیو۔۔۔۔ میری زندگی میں آنے کے لیے۔۔۔۔۔ میرے لیے اتنا سب کرنے کے لیے۔۔۔ ” اس کی آواز بھیگ گئی تھی۔
“میڈم آنا تو مجھے تھا ہی۔۔۔۔ اور اپنی بیوی کے لیے یہ سب کرنا میرا فرض ہے۔۔۔۔۔ یہ ضروری تو نہیں کہ پیار میں تاج محل بنایا جائے۔۔۔۔ بیوی کو سامنے بیٹھا کر اس سے محبت بھری باتیں کرنا بھی محبت ہے۔۔۔۔” اسے تحفظ فراہم کرتے یاشم نے مدھم آواز میں سمجھایا۔
راعنہ بے حد سکون محسوس کر رہی تھی۔
“چلو بیگم۔۔۔۔۔۔ ناشتہ ٹھنڈا ہورہا ہے۔۔۔۔ جاو فریش ہو کر آو۔۔۔۔” یاشم، راعنہ کو آبدیدہ ہوتے دیکھ کر دوستانہ مزاج بنائے اسے واشروم کے جانب لے گیا۔
راعنہ بھیگی آنکھوں سے مسکرا دی اور واشروم کے اندر داخل ہوئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
ایلزینا اسکول کے گیٹ کے آگے کھڑی تھی جب اس نے آفان صاحب کو اپنے جانب آتے دیکھا۔ وہ بھاگ کر ان سے لپٹ گئی۔
“دادا جان۔۔۔۔۔ آپ یہاں کیسے۔۔۔۔۔” ایلزینا نے الگ ہوتے ہوئے پوچھا۔
“میں آپ کو لینے آیا ہوں۔۔۔۔ حمدان کو کال کر کے بتا دیا ہے کہ آپ میرے ساتھ جا رہی ہو۔۔۔۔” آفان صاحب اسے آگاہ کرتے ہوئے اپنی کار کے جانب بڑھ گئے۔
ایلزینا نے خوشی خوشی گھر آکر دادی جان اور آفروز سے مل کر چینج کیا اور آفان صاحب کو اپنی مصروفیات کی تفصیلات بتانے لگی۔ اسی دوران آفان صاحب کے نمبر پر راعنہ کی کال آنے لگی جو ایلزینا نے اٹھا لی اور ویڈیو آن کر دی۔ راعنہ اسے وہاں دیکھ کر حیران رہ گئی۔
“زینی۔۔۔۔ آپ نانو کے پاس رکی تھی نا۔۔۔۔ گھر کیسے آگئی۔۔۔۔ ” راعنہ حیرت زدہ تھی۔
“دادا جان لیں کر آئے ہیں۔۔۔۔” زینی نے آنکھیں بڑی کر کے بتایا۔
“وہ خود لائیں ہیں یا آپ ضد کر کے آئی ہو۔۔۔۔” راعنہ نے ڈٹی آواز میں پوچھا۔
“مما۔۔۔۔ آپ کو اپنی بیٹی پر بالکل اعتبار نہیں ہے نا۔۔۔۔” ایلزینا کا منہ بن گیا تھا۔
“ہاہاہا۔۔۔۔ صحیح کہہ رہی ہے۔۔۔۔ میں خود لے کر آیا ہوں۔۔۔۔ در اصل گھر بہت خالی خالی لگ رہا تھا۔۔۔۔۔” آفان صاحب آگے ہوئے تو راعنہ نے متذبذب ہوتے سر جھکا لیا۔
“کیا باتیں ہورہی ہیں۔۔۔۔ السلام و علیکم بابا۔۔۔۔” یاشم اسی وقت آکر راعنہ کے بغل میں بیٹھا۔ زینی کو دیکھ کر وہ بھی سرپرائز ہوگیا۔
دونوں جانب اپنے اپنے روزمرہ کی باتیں شئیر کی گئی۔ ایک ہفتہ مزید گزار کر راعنہ اور یاشم واپس لوٹ آئیں۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
آٹھ مارچ جہانی طور پر اس روز کو وومن ڈے کے نام سے جانا جاتا ہے پر اس دن نوریز کی زندگی میں ایک اور اضافہ ہوا تھا جب ایلزینا نوریز کا جنم ہوا تھا۔ نوریز جیسے تند مزاج انسان کے ہاتھوں میں ایک ننھی پری تھما دی گئی تھی۔ وہ اتنی چھوٹی سی بچی کو ہاتھوں میں لیے یک ٹک دیکھ رہا تھا۔ کچھ بوسیدہ یادوں سے اس تاریک کمرے میں بیٹھے نوریز کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ سر اٹھا کر آس پاس دیکھا تو کمرے کی طرح زندگی بھی خالی اور تاریک بن گئی تھی۔ آخر کیا دیا انا اور غرور نے؟ اس نے اپنے آپ سے سوال کیا اور جواب صرف ایک ملا ‘کچھ نہیں’ نا نین مل سکی نا راعنہ کی قدر کر سکا اور نا ارم کے ساتھ رہ سکا۔ حتہ کے والدین نے منہ پھیر لیا۔ بہن نے ناتا توڑ دیا۔ بیٹی بیگانی ہوگئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
دوسری طرف ایلزینا صبح صادق سے ہی سب کو تاریخ یاد کروا رہی تھی۔ نانا اور نانو سے بھی پوچھا پر سب انجان بننے کی اداکاری کرتے رہیں۔ یہاں تک کہ راعنہ بھی انجان بنی آفس چلی گئی تھی۔
“کسی کو میری برتھ ڈے یاد نہیں۔۔۔۔ مما کو بھی نہیں۔۔۔” رات تک ایلزینا کا خاصا منہ بن گیا تھا۔
اچانک گھر کی ساری لائٹس آف ہوگئی۔ ایلزینا اندھیرے میں آنکھیں بڑی کر کے راستہ ڈھونڈتی لاونج میں آئی۔ باری باری دادا جان دادی پاپا مما سب کو پکارتے نظر دوڑائی پر پورا گھر خالی ملا۔ ایک خوف سا اسے گھیرے میں لے چکا تھا۔ ڈر کر بھاگتے وہ لان میں نکلی تو یک دم چراغاں روشن ہوئے۔
“ہیپی برتھ ڈے ایلزینا۔۔۔۔۔۔” بہ یک آواز دونوں فیملیز نے اسے سرپرائز دیا۔
ایلزینا کی آنکھوں سمت منہ بھی پورا کھل گیا۔ وہ سجاوٹ اور بڑا سا کیک دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سماء رہی تھی۔ ذیال ثمر مشائم حتہ کے مصور بھی بھاگتا ہوا اس کے گرد آگئے۔ زینی شاکی انداز میں مبارک باد وصول کرتے یاشم اور راعنہ کے پاس آئی۔
“میری پرنسس اتنی جلدی بڑی ہوگئی۔۔۔۔ دسویں سالگرہ مبارک ہو۔۔۔۔۔” راعنہ نے مضبوطی سے اپنے حصار میں لیئے ہوئے بوسہ۔
“تھینکیو مما۔۔۔۔۔ یہ سب آپ نے کیا۔۔۔۔ ” ایلزینا کو اب تک یقین نہیں آرہا تھا۔
“آئیڈیا یاشم کا تھا۔۔۔۔ سجاوٹ میں آفروز نے مدد کی۔۔۔۔ اور سب کو دادا جان نے انوائٹ کیا ہے۔۔۔۔” راعنہ نے سر ہلاتے تفصیلات بتائی۔
ایلزینا، یاشم کے گلے لگی۔
“تھینکیو۔۔۔۔ پاپا۔۔۔۔۔” زینی یاشم کو کم ہی مخاطب کیا کرتی تھی۔ آج یاشم اس کے دل میں مزید گھر کر گیا۔
“ہمیشہ خوش رہو۔۔۔۔۔” دعا دیتے یاشم نے اسے اسٹول پر کھڑا کیا اور چھری کی مدد سے کیک کٹ کروایا۔
رشتہ تو دل سے جڑتا ہے۔ نیک نیت اور پیار سے اپنایا جائے تو بچوں کے موم جیسے دلوں میں فورا جگہ بنا سکتے ہیں۔ یہ بات یاشم نے ثابت کر دی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
زندگی کا سفر اپنے رفتار سے بڑھ رہا تھا۔ راعنہ کی تلخ یادوں پر یاشم کا پیار مرہم کا کام کر رہا تھا۔
اس صبح کا آغاز نئی امیدوں بھرا ہوا۔ یاشم بلیک پینٹ اور شرٹ پہنے بالوں کو نفاست سے بنائے آفس کے لیے تیار تھا۔ راعنہ سر پر ڈوپٹہ سیٹ کر کے اس کے جانب مڑی۔ یاشم نے متبسم ہوتے اس کے پیشانی پر لب رکھے۔ چند لمحے دونوں ایک دوسرے کے حصار میں رہیں۔
کسی انسان کو گرانے یا توڑنے کے ہزار طریقے ہوتے ہیں مگر جوڑنے اور سنوارنے کا ایک ہی طریقہ ہوتا ہے اور وہ محبت ہوتا ہے۔ نرمی پیار اور محبت سے کسی کو بھی اپنایا جا سکتا ہے۔
ہاتھوں میں ہاتھ تھامے چند لمحے محبت کے نذر کر کے وہ الگ ہوئے اور دروازے کے جانب بڑھے تھے کہ اس سے پہلے دروازے پر پریشان کن انداز میں دستک ہوئی۔
آفروز لاونج میں دیکھتے تیز تیز دروازہ بجا رہی تھی۔ اس کی دوسری دستک سے پہلے یاشم نے دروازہ کھولا۔ راعنہ اس کے تاثرات دیکھ کر کافی ہیبت زدہ ہوگئی۔
“بھائی۔۔۔۔ پولیس آئی ہیں۔۔۔۔۔” آفروز نے دھیمی آواز میں خبر دی۔ یاشم سنجیدہ ہوتے اس کے نظروں کے سمت میں لاونج میں جھانکا۔
راعنہ نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھ دیا۔ یاشم نے سر کے خم سے اسے تسلی دی اور سیڑھیوں کے سمت بڑھ گیا۔ لاونج میں آفان صاحب اور پولیس آفسر آمنے سامنے بیٹھے تھے یاشم کو آتے دیکھ کر کھڑے ہوگئے۔
“کہے انسپیکٹر۔۔۔۔ کیسے آنا ہوا۔۔۔۔” مصافحہ کرتے ہوئے یاشم کی نظریں ٹیبل پر پڑی قانونی کاغذات پر پڑی۔
“کورٹ کے آرڈرز ہیں مسٹر یاشم۔۔۔۔۔ اس میں صاف صاف لکھا ہے کہ ایلزینا نوریز۔۔۔۔ دس سال کا ہونے پر کورٹ میں حاضر ہونگی۔۔۔۔۔ اور دو ماہ پہلے 8 مارچ کو وہ اپنی دسویں سالگرہ منا چکی ہیں۔۔۔۔ تو یہ تاریخ ملی ہے آپ کو اسے کورٹ لانے کے لیے۔۔۔۔” کاغذات تھماتے ہوئے انسپیکٹر گویا ہوا۔
یاشم نے فائل لیتے ہوئے سیڑھیوں کے سرے پر دیکھا تھا جہاں راعنہ دم بہ خود کھڑی یہ سب رو داد سن رہی تھی۔
“ہمیں امید ہے کہ آپ تعاون کریں گے۔۔۔۔ اور ہاں۔۔۔۔ ایک ضروری ہدایت۔۔۔۔۔ ایلزینا نوریز کو اپنے پاس روکنے کی کوئی چال نہیں چلیں گے آپ۔۔۔۔ خاص کر اس کی مما۔۔۔۔ یہ مسٹر نوریز کے جانب سے سخت پابندی ہے۔۔۔۔۔ ہمارا ایک بندہ آپ کے گھر کے باہر تعینات کر کے جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ تا کہ آپ ایلزینا کو کہی غائب نا کر دیں۔۔۔۔” انسپیکٹر نے خاص ہدایت گوش گزار کئے۔
“تھینکیو انسپیکٹر۔۔۔۔۔” یاشم نے زبردستی مسکرا کر شکریہ ادا کیا۔ یہ انسپیکٹر کے لیے اجازت کا اشارہ تھا وہ ایک نظر راعنہ پر ڈال کر لمبے ڈگ بھرتا روانہ ہوگیا۔
راعنہ واپس اپنے کمرے میں آگئی۔ یاشم اس کے پیچھے آیا اور دلاسہ دینے لگا۔
“آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔۔۔۔ میں ہوں نا۔۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔ ” یاشم نے اسے کندھوں سے تھام کر اپنے سامنے کیا۔
“اسی کا ڈر تھا۔۔۔۔۔ یاشم میں زینی نہیں دوں گی اسے۔۔۔۔” راعنہ نے طیش اور غم کے ملے جلے تاثرات بنائے التجا کی۔
“آپ فکر نا کریں۔۔۔۔ میں ایک بہت اچھے وکیل کو جانتا ہوں۔۔۔۔ آج ہی ان سے مل کر ڈسکس کرتا ہوں۔۔۔۔۔” یاشم نے دوبارہ یقین دہانی کروائی تو راعنہ قدرے پر سکون ہوگئی۔
اس نے یاشم سے لگ کر سر اثابت میں ہلاتے خود کو کمپوز کیا۔ اسے دلاسہ دے کر یاشم نے گھر پر ہی رکنے کی تجویز دی اور خود وکیل سے ملنے کے لیے نکل گیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
یاشم کے جاتے راعنہ کے موبائل پر ایک انجان نمبر سے کال آنے لگی۔ راعنہ نے دماغ پر زور ڈال کر وہ نمبر یاد کرنے کی کوشش کی پر ناکام رہی۔ اس نے محتاط انداز میں کال اٹھایا۔
“مسز راعنہ یاشم کیسی ہیں آپ۔۔۔۔” اس کی معتبر اور پر جوش آواز پر راعنہ چونک گئی۔
“نوریز۔۔۔۔۔” بے اختیار اس کے لبوں سے یہ نام پھسلا تھا۔
“چلو۔۔۔۔ میرا نام تو یاد ہے۔۔۔۔۔” نوریز اپنے اپارٹمنٹ کے بیڈروم میں راکنگ چئیر پر بیٹھے استحزیہ ہنسا۔
“کس لیے کال کی ہے۔۔۔۔” راعنہ کا لہجہ سخت ہونے لگا۔
“کورٹ نوٹس تو مل گیا ہوگا۔۔۔۔ ” نوریز نے مانو اہم بات یاد کروائی۔
دوسری طرف خاموشی رہی۔
“میں تم سے سیٹلمنٹ کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ اب کون کورٹ کچہری کے جھنجٹ دیکھیں۔۔۔۔۔ آپس میں معاہدہ کر لیتے ہیں۔۔۔۔” اس نے بے پرواہی سے آفر دی۔
“کیسی سیٹلمنٹ۔۔۔۔ ” راعنہ کو سمجھ نہیں آئی۔
“وہ کال پر نہیں بتا سکتا۔۔۔۔ ایک ایڈریس میسج کرتا ہوں۔۔۔۔ وہاں آجاو۔۔۔۔” نوریز کی بے پرواہی اب سنجیدگی میں بدل گئی۔
“میں تم سے ملنے نہیں آوں گی۔۔۔۔” راعنہ دانت پر دانت جمائے ہوئے غرائی۔
“سوچ لو راعنہ۔۔۔۔۔ ایلزینا کا معاملہ ہے۔۔۔۔۔ اور تم جانتی ہو۔۔۔۔ میں جج کو خرید کر فیصلہ اپنے حق میں کروا سکتا ہوں۔۔۔۔” نوریز کی آنکھوں میں فخریہ چمک در آئی تھی۔
راعنہ واقعی گہری سوچ میں پڑ گئی۔ وہ قطعی نوریز کے رو بہ رو نہیں جانا چاہتا تھی مگر زینی کی خاطر مان گئی۔
نوریز نے مشکور ہوتے اپنے اپارٹمنٹ کا ایڈریس نوٹ کروایا اور کال منقطع کر کے آگے کی پلاننگ کرنے اٹھا۔
وہیں دوسری طرف راعنہ دل و نا دل تھی۔
“اسی طرح نین کو بھی اپنے جھانسے میں پھنسایا تھا نوریز نے۔۔۔۔ اور اب مجھے۔۔۔۔ کہی ماضی خود کو دہرا تو نہیں رہا۔۔۔۔” راعنہ نے کمرے میں دائیں سے بائیں چکر کاٹتے سوچا۔
“پر میں کمزور نہیں ہوں۔۔۔۔ میں جاوں گی۔۔۔۔ ” اگلے ہی پل ارادہ پختہ کرتے وہ ہینڈ بیگ کندھے پر ڈالے باہر نکل گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نوریز کے بتائے ایڈریس پر وہ پہنچی تو اپارٹمنٹ پورا تاریک پڑا تھا۔ ہر سوں دھواں پھیلا ہوا تھا اور سیگریٹ کی بد بو نے فضا کو غلیظ بنا رکھا تھا۔ راعنہ کو اندر داخل ہوتے کھانسی ہونے لگی۔ اس نے منہ اور ناک پر ڈوپٹے کا پلو پکڑ کر سانس بحال کیا۔
“آیئے مسز یاشم۔۔۔۔۔” نوریز آخری کش بھر کر سیگریٹ ایش ٹرے میں رگڑتا کھڑا ہو گیا۔
راعنہ کی دھڑکن اس کی رعب دار آواز سے ہی بڑھ گئی۔ ایک پل کے لیے اسے اپنے آنے پر پچھتاوا ہوا تھا۔ نوریز قدم قدم چلتا بالکل اس کے سامنے آیا اور سر تا پیر جائزہ لیا۔
“کام کی بات کریں۔۔۔۔” راعنہ کو نوریز کی اندر تک اترنے والی نظروں سے الجھن ہونے لگی۔
“اتنا برا لگتا ہوں میں۔۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔۔ ” نوریز آبرو اچکا کر استحزیہ ہنسا۔
راعنہ اپنے اضطراب کو قابو رکھنے کی کوشش کرتی رہی۔
“خیر میں تو چاہتا ہوں۔۔۔ ایلزینا کے ساتھ۔۔۔۔۔ تم بھی واپس میرے پاس آجاو۔۔۔۔” سنجیدہ ہوتے اس کے الفاظ نے راعنہ کے پیروں تلے زمین کھینچ لی تھی۔
بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔
“ایلزینا تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔۔۔ اور تم اس کے۔۔۔۔۔ تو۔۔۔ میں دونوں کو اپنانے تیار ہوں۔۔۔۔۔” نوریز کا انداز بے باک تھا۔
راعنہ کو نوریز کی باتیں اپنے کانوں میں پگلا سیسہ انڈیلنے کے مانند محسوس ہوئیں۔
“ہوش میں تو ہو۔۔۔۔۔ میری شادی ہو چکی ہے۔۔۔۔۔” راعنہ کا ضبط ٹوٹ گیا۔ وہ دانت پر دانت جمائے ہوئے غرائی۔
“یہی تو راعنہ۔۔۔۔ تمہاری شادی ہوچکی۔۔۔۔ حلالہ ہوگیا تمہارا۔۔۔۔۔” نوریز کی معنی خیز مسکان سے راعنہ سہم گئی۔
راعنہ کے تنے آبرو ڈھیلے پڑ گئے۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ نوریز ایسا بھی سوچ سکتا ہے۔
“تم جیسے گھٹیا انسان سے ایسی سوچ کی توقع کی جاسکتی ہے۔۔۔۔۔ مجھے یہاں آنا ہی نہیں چاہیئے تھا۔۔۔۔” راعنہ سینے پر ہاتھ باندھے پیر پٹخ کر مڑی مگر نوریز نے اس کے آگے آکر راستہ روک لیا۔
“میرے چنگل میں لوگ آتے اپنی مرضی سے ہیں۔۔۔۔ مگر جاتے میری مرضی سے۔۔۔۔۔” اس کے چہرے پر جنون در آتے دیکھ کر راعنہ نے تھوک نگل کر حلق تر کیا۔
اس کے تاثرات بدلتے دیکھ کر نوریز کی مسکان مزید بڑی ہوگئی۔
“سوچو۔۔۔۔۔ یاشم اپنی بیوی کو پیار کرنے کے لیے بے چین۔۔۔۔ جلدی گھر جائے گا۔۔۔۔۔ لیکن بیوی گھر پر نہیں ملے گی۔۔۔۔۔” وہ راعنہ کے گرد گول گول گھومنے لگا۔
راعنہ نے مٹھیاں سختی سے بھینج لی۔
“اس کی بیوی۔۔۔۔۔ اپنے ایکس ہسبینڈ کے پاس ہوگی۔۔۔۔۔ کیا گزرے گی بیچارے پر۔۔۔۔۔ ” نوریز کی باتوں پر سرد سانس خارج کر کے لب بھینجے۔
“ہمارا رشتہ اتنا کچا نہیں ہے مسٹر نوریز۔۔۔۔۔ تم مجھے یاشم سے۔۔۔۔ اور یاشم کو مجھ سے بدگمان نہیں کر سکتے۔۔۔۔” راعنہ کی آواز میں سختی اور آنکھوں میں اعتماد دیکھ کر نوریز کے آبرو تن گئے۔
“اتنا پیار کرتی ہو اس سے۔۔۔۔” یہ سوال طنزیہ تھا۔
“پیار کا تو نہیں پتا۔۔۔۔۔ پر ہم ایک دوسرے پر یقین کرتے ہیں۔۔۔۔ ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں۔۔۔۔ اور یہی صفات مضبوط رشتے کی بنیاد ہوتے ہیں۔۔۔۔ تم جو چاہتے ہو وہ قطعی ممکن نہیں ہے۔۔۔۔” راعنہ جتاتے ہوئے ہونہہ کرتے جانے لگی۔
“یاشم زندہ ہی نہ رہے۔۔۔۔ تب بھی نہیں۔۔۔۔۔” بنا پلٹے نوریز نے بہت بڑا جھٹکا دیا۔
راعنہ کے قدم اپنے جگہ جامد ہوگئے۔ سانس گلے میں اٹک گئی۔ آنکھیں کھلی رہ گئیں۔ یاشم کو کھو دینے کے خوف سے ہی وہ کانپ اٹھی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔۔
