Nadamat By Palwasha Safi Readelle50274 (Nadamat) Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
(Nadamat) Episode 16
اسی شام مہندی کی تقریب رکھی گئی۔ صدیف سفید قمیض شلوار پہنے شیو اور بالوں کو نفاست سے بنائے مہنگی پرفیوم لگائے ہشاش بشاش سا تیار ہو کر فیملی سمیت صدیقی ہاوس پہنچا۔
لان میں چھوٹا سا پھولوں سے سجا کر اسٹیج بنایا گیا تھا۔ راعنہ تقریب کی مناسبت سے مسٹرڈ کلر کے چوڑی دار فراک میں ملبوس لمبے بالوں کا جوڑا بنائے ہاتھوں میں گیندے کے پھولوں سے بنے گجرے پہنے مہندی کی تھال اٹھائے ممی کے ساتھ چل رہی تھی۔
نوریز عاطرہ بیگم سے ملنے آگے آیا اور پھر راعنہ سے مصافحہ کیا۔ ہوا سے اڑتی چند لٹوں کو اس کی آنکھوں پر سے ہٹایا۔ نوریز کی اس ادا پر راعنہ کی دھڑکن بڑھ گئی تھی۔ وہ بلش کرتے اس کے سائیڈ سے گزر کر اسٹیج پر آگئی جہاں آیت اور صدیف ساتھ ساتھ بیٹھے رسم کروا رہیں تھے۔
اُن سب سے دور دو آنکھیں نوریز پر جمی ہوئی تھی۔ وہ درخت کی آوٹ میں چھپے مسلسل نوریز کو دیکھ رہا تھا جب اس کے موبائل میں وائبریشن ہوئی۔
“سر۔۔۔۔ موبائل کی لاسٹ لوکیشن معلوم ہوگئی ہے۔۔۔۔ اور آپ یقین نہیں کریں گے کہاں ملی ہے۔۔۔۔” کال اٹھاتے ہی اس کا اسسٹینٹ گویا ہوا۔
“نوریز کے فارم ہاوس میں نا۔۔۔۔” اس نے سرگوشی کے انداز میں جواب دیا تھا۔
“نہیں سر۔۔۔۔۔۔ ہائی وے کے پاس۔۔۔۔۔” اسسٹینٹ کا جواب سن کر اس کی آنکھیں پھیل گئی تھی۔ اپنے اضطراب کو قابو رکھنے کی کوشش کرتے اس نے نچھلا لب دانتوں میں دبا لیا اور جھٹ سے کال کاٹ دی۔
“جتنی خوشیاں منانی ہے نوریز صدیقی۔۔۔۔ آج منا لو۔۔۔۔ میری جدوجہد۔۔۔۔ تمہیں جیل میں ڈلوا کر ہی تھمے گی۔۔۔۔”اس نے نفرت بھری نگاہوں سے نوریز کو دیکھتے ہوئے سوچا اور وہاں سے روانہ ہوگیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“مجھ سے مہندی لگواو گی۔۔۔۔” مہمانوں کے جانے کے بعد جب صرف گھر کے ہی افراد رہ گئے تو نوریز، راعنہ کے پیچھے گھر کے اندرونی عمارت میں آگیا تھا جو کہ کچن سے پانی لینے آئی تھی۔
“آپ کو آتی ہے مہندی لگانا۔۔۔۔” راعنہ نے سوالیہ انداز میں آبرو اچکائے۔
“ہممم ٹرائے کر سکتا ہوں۔۔۔” نوریز ہاتھ میں مہندی کا کون لیے قدم قدم اس کے قریب آیا۔
راعنہ اپنی جگہ جامد ہوگئی تھی۔ نوریز اس کا دائیاں ہاتھ اپنے آگے کر کے اس کی ہتھیلی پر مہندی سے R اور N بنانے لگا۔ راعنہ کی دھڑکن تیز ہونے لگی۔ اسے نوریز کی اس قدر اچانک چاہت سمجھ نہیں آرہی تھی۔
اپنے اور راعنہ کے نام کا پہلا حروف بنا کر اس نے پہلے سر دائیں اور بائیں کر کے کچن اور لاؤنج میں دیکھا اور پورا گھر خالی دیکھتے اچھا موقع جان کر ایک جھٹکے سے راعنہ کے لبوں سے اپنے لب ملا لیئے۔ راعنہ کے وہم و گمان میں بھی ایسا کچھ نہیں تھا اس لیے وہ نوریز کے اچانک عمل پر کرنٹ کھا کر اچھل پڑی۔
اس کے لبوں پر اپنا شدت بھرا لمس چھوڑ کر نوریز پیچھے ہوا اور اپنے بکھرے بالوں میں انگلیاں چلا کر درست کرتے لان میں نکل گیا۔ راعنہ وہی کھڑی اسے جاتے دیکھتے رہی۔ کچھ دیر قبل کا لمحہ یاد کرتے اس نے شرم سے آنکھیں بند کر لی اور پھر آہستہ آہستہ کھول کر اپنی ہتھیلی پر مہندی سے بنے حروف دیکھ کر خوشی سے چہک اٹھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
کالج میں آج، سب سے برائٹ اسٹوڈنٹ نین عبدالعزیز خان کی جلد دریافت ہونے کیلئے اجتماعی دعا کروائی جا رہی تھی۔ اسمبلی ہال میں پرنسپل صاحب اور سب ہی اساتذہ کرام کی موجودگی میں طلبہ و طالبات کی قطاریں بناوا کر دعا کے لیے قاری صاحب کو مائک پر مدعو کیا گیا۔
نوریز بہ ظاہر اسپاٹ تاثرات بنائے کھڑا تھا مگر اندر ہی اندر طوفان مچ چکا تھا۔ قاری صاحب مائک میں قرات کرنے لگے تو سب اسٹوڈنٹس اور ٹیچرز نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے۔ نوریز پرنسپل کی نظروں سے بچتے سب سے پیچھے چلا گیا۔
“نین تو کیا۔۔۔۔ اس کی باڈی بھی کبھی نہیں ملے گی۔۔۔۔” حقارت سے سوچتے اس نے معنی خیز نظروں سے سبھی قطاروں کو دیکھا تھا۔
تیسری قطار میں اپنی بقیہ ساتھیوں کے ساتھ لائن میں کھڑی تسکین عنایت کی اپنی بیسٹ فرینڈ کو یاد کرتے آنکھیں بھر آگئی۔ آنکھوں میں بھری نمی کی وجہ سے خیرہ ہوتے منظر میں بھی اس نے پروفیسر نوریز کو پیچھے جاتے دیکھ لیا تھا۔ اُن کی اِس حرکت پر اُسے کھٹک محسوس ہوئی پر سب سے زیادہ شاک ان کے ہاتھ دعا میں اٹھنے کے بجائے کمرے کے پیچھے باندھے ہوئے دیکھ کر ملا۔
“نوریز سر نین کے پیچھے پڑے تھے۔۔۔۔۔ وہ اکثر اُن کی بے تکلفی کی وجہ سے کافی پریشان رہتی تھی۔۔۔۔۔ کہی انہوں نے نین کے ساتھ تو کچھ نہیں کر دیا۔۔۔۔۔” آخری فقرہ سوچتے ہوئے تسکین کانپ اٹھی۔ اس کے پیر سست پڑنے لگے اور دعا میں اٹھے ہاتھوں میں لرزش طاری ہوگئی۔
دعا کروا کر پرنسپل صاحب مائک پر آئے اور نین کے حوالے سے بقیہ اسٹوڈنٹس میں موٹیویشنل خطاب کرنے لگے۔ نوریز بے زاری سے ان کی گفتگو سنتے سب ہی اسٹوڈنٹس کو دیکھ رہا تھا جب اس کی تسکین پر نظر پڑی۔ وہ وحشت زدہ سی کانپتے ہوئے نوریز کو ہی دیکھ رہی تھی۔ نوریز نے چند منٹ اسے بغور دیکھ کر حقیقت چانجی پر شک کے کوئی ایثار نہ ملے تو رخ پھیر کر اسٹیج پر کھڑے پرنسپل صاحب پر توجہ مرکوز کر دی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نوریز کالج کے بعد اپنے فارم ہاوس آگیا تھا۔ آس پاس نظریں گھما کر حالات مشاہدہ کرتے جب اس نے کمرے کے لکڑی کے بنے فرش کا دروازہ اٹھا کر تہہ خانے میں قدم رکھا تو اسے متلی ہونے لگی۔ ہر سوں تیز بد بو پھیلی ہوئی تھی۔ برق رفتاری سے ہاتھ چلا کر اس نے جیب سے رومال نکال کر چہرہ ڈھکا اور احتیاط سے ایک ایک سیڑھی اترتے نیچھے آیا۔ اندھیرے میں بھی نین کی ڈیڈ باڈی چمک رہی تھی۔ تین ماہ میں اب اس کی لا ش ہلکی ہلکی گلنے لگی تھی۔
“اس دن تو ہڑبڑاہٹ میں ایسی پھیک گیا تھا۔۔۔۔۔ پر اب اس کو باقاعدہ دفن کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔ یہ بد بو تو آہستہ آہستہ پورے احاطے میں پھیل جائے گی۔۔۔۔ اور وہ آفسر۔۔۔ کتے کی طرح سونگھتے ہوئے پہنچ جائے گا۔۔۔۔” نوریز نے نین کی باڈی کو دفن کرنے کا سوچا۔
اس کام میں اسے کافی مدد درکار تھی لیکن وہ کسی پر یقین نہیں کر سکتا تھا اس لیے اکیلے ہی جٹ گیا۔ اس کی خوش قسمتی تھی کہ فارم ہاوس کا تہہ خانہ کچا بنا تھا اور جنگلی علاقہ ہونے کے باعث وہاں کی مٹھی بھی پُر نم اور نرم تھی اس لیے اسے قبر کودنے میں زیادہ دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اپنی پوری طاقت کے استعمال سے اس نے دو سے ڈھائی گھنٹے کے اندر کافی گہرا گڈھا کود لیا اور نین کی باڈی اس میں دفنانے لگا۔
دوسری طرف نوریز پر نظر رکھیں حوالدار نے اسے کافی دیر سے فارم میں توڑ پھوڑ کرتے سن کر فوراً اپنے آفسر کو کال ملائی۔
“سر۔۔۔۔ دو گھنٹے سے اندر ہے۔۔۔۔ اور توڑ پھوڑ کی آوازیں بھی آرہی ہیں۔۔۔۔” اپنی مخبری پر وہ بھاری انعام کا سوچتا گردن اکھڑا کر بولا لیکن بدلے میں منہ کی کھانی پڑ گئی۔
“یو ایڈیٹ۔۔۔۔۔ دو گھنٹے سے اندر ہے۔۔۔۔ اور تم اب بتا رہیں ہو۔۔۔۔ اتنی دیر سے کہاں مر گئے تھے۔۔۔۔” ایس آئی خان نے غراتے ہوئے ڈپٹا اور پٹخ کر کال کاٹ دی۔
حوالدار نے موبائل فون کان پر سے ہٹا کر منہ بنایا۔
“بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا۔۔۔۔” وہ ہونہہ کرتے پھر سے درخت کے آوٹ میں چھپ کر نوریز کی نگرانی کرنے لگا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“حد ہے لاپرواہی کی۔۔۔۔۔ آج کے دن بھی کوئی کالج جاتا ہے کیا۔۔۔۔۔ اب کال کریں اور بلائیں اسے۔۔۔۔” وارث صاحب غصے سے بیوی پر خفہ ہوئے۔
آج شام راعنہ اور نوریز کی مہندی تھی اور وہ صبح سے گھر سے نکلا ہوا تھا۔ کل چونکہ راعنہ نے آکر آیت کو تیار کیا تھا اس لیے آج آیت کی باری تھی راعنہ کو تیار کروانے کی اس لیے وہ ناشتے کے ساتھ ہی بٹ ہاوس جا چکی تھی۔
“جی میں۔۔۔ ابھی کال کرتی ہوں۔۔۔۔” سنبل بیگم شوہر کے غصیلے تاثرات دیکھ کر گھبرا گئی اور فوراً موبائل پر نمبر ملانے لگی۔
وہیں نین کی باڈی دفنانے اور زمین کو واپس لیول کرنے میں اسے ایک گھنٹہ ڈیڑھ مزید لگ گیا۔ بیلچے سے زمین تھپتھپا کر وہ پسینے سے شرابور تہہ خانہ لاک کر کے واپس اوپر آیا اور کمرے میں بیڈ پر ڈھے کر لیٹ گیا۔ ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھ لگی کہ موبائل بجنے پر چونک کر اٹھ بیٹھا۔ اپنی جگہ جامد بیٹھے پھٹی نظروں سے وہ لکڑی کے بنے فرش کا وہ حصہ گھور رہا تھا جس کے نیچھے وہ حُسن کی پری مدفن تھی۔
“ہ۔ہ۔ ہیلو۔۔۔۔” سہمے ہوئے اس نے کال موصول کی۔
“نوریز۔۔۔۔ کہاں ہو بیٹا۔۔۔۔ جلدی گھر آو۔۔۔۔ تیرے پاپا غصہ ہورہیں ہیں۔۔۔۔ شام میں تیری مہندی کا فنکشن ہے نا۔۔۔۔” مما نے اس کی ہیلو سنتے ہی شکوہ کیا۔
“ہاں بس آرہا ہوں۔۔۔۔” مختصر جواب دے کر نوریز نے کال کاٹی اور اپنی حالت مشاہدہ کرنے لگا۔
اس کی شرٹ جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی۔ پینٹ مٹھی سے لتھڑے اور ہاتھوں پر چھوٹے بڑے زخموں کا بسیرا ہو چلا تھا۔ یہی حالت اس کے بالوں اور چہرے کی بھی ہورہی تھی۔ نوریز نے لب بھینجے سر جھٹکا اور الماری میں سے نئے کپڑے نکال کر نہانے چلا گیا۔
چونکہ اس حادثے سے قبل وہ ہفتے میں ایک دفعہ وہاں ضرور آیا کرتا تھا اس لیے ایک دو جوڑے کپڑے اور دیگر اشیاء ضرورت ہر وقت فارم ہاوس میں پڑی رہتی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“ہائے۔۔۔۔ کتنا روپ آیا ہے۔۔۔۔۔ ماشااللہ۔۔۔۔” آیت دل پر ہاتھ رکھے حسرت سے راعنہ کو دیکھ کر بولی۔
وہ ملٹی کلر کام والے گولڈن شرٹ اور غرارے میں ملبوس تازہ پھولوں کے بنے زیورات زیب تن کیے کام دار ڈوپٹہ سر پر ٹکائے بار بار اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر وہ حروف دیکھ کر واپس بند کر دیتی۔
آیت کی تعریف پر اس نے گھنی پلکیں اٹھا کر ایک نگاہ اسے دیکھا اور واپس سر جھکا کر بلش کرنے لگی۔ کل کے بعد اس کے دل میں نوریز کے لیے چاہت مزید بڑھ گئی۔ اسے مزید اس پر کوئی شک و شبہ نہیں رہا تھا۔
“چل۔۔۔۔ میں اب جاتی ہوں پھر مہندی لے کر آتی ہوں۔۔۔۔” آیت اس کے گال سے گال ٹکرا کر رخصت لیتی اٹھی اور روانہ ہوگئی۔ راعنہ اپنا ڈوپٹہ سیٹ کرتے آئینے میں اپنا عکس دیکھنے لگی۔
بٹ ہاوس میں مہندی کے تقریب کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھی۔ صدیف ڈیکوریشن والے کو ہدایت دے کر اسٹیج بنوا رہا تھا جب آیت لان میں آئی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنے جانب متوجہ کیا۔
“ہسبینڈ جی۔۔۔۔ زرا گھر تک چھوڑ آئیں۔۔۔۔۔ میں نے تیار ہونا ہے۔۔۔۔” آیت نے اپنے مہندی لگیں ہاتھ اس کے آگے لہرائے۔
“میں تو سوچ رہا تھا۔۔۔۔ کہ تم اب یہی رہ ہی جاو۔۔۔۔” صدیف نے اسے بازووں میں لینا چاہا۔
آیت نے آنکھیں بڑی کر کے اسے آس پاس موجود ملازمین کی موجودگی کا احساس دلایا۔ صدیف ہنس پڑا اور اس کے گال پر چٹکی کاٹی۔
“آہ۔ہ۔ہ۔۔۔۔ دیکھ لوں گی آپ کو۔۔۔۔” آیت اپنے گال سہلاتے پورچ میں کھڑی اس کے کار کے جانب بڑھ گئی۔
صدیف سر ہلاتے اس کے پیچھے جانے لگا تھا کہ حمدان سے ٹکرا گیا۔
“آرام سے بھئیاں۔۔۔۔۔ خود کی تو شادی ہورہی ہے۔۔۔۔۔ میرا کوئی عضو ٹوٹ پھوٹ گیا تو کوئی بیچاری نہیں پھنسے گی۔۔۔۔” حمدان نے معصوم سی شکل بنائی۔
“تو تم میرے راستے میں مت آیا کرو۔۔۔۔ اللہ نے آنکھیں راستہ دیکھنے کے لیے دی ہے۔۔۔۔۔” صدیف نے دانت دکھاتے ہوئے اسے کندھوں سے تھام کر ایک سائیڈ پر کر دیا۔
“دیکھ تو رہا تھا۔۔۔۔۔ پر موبائل اسکرین کو۔۔۔۔” حمدان نے جتاتے ہوئے منہ بھسورا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نوریز نہا کر اپنی حالت درست کر کے باتھ روم سے نکلا تھا کہ دروازہ دھڑا دھڑ بچنے لگا اور متواتر بچتا رہا۔ نوریز کے عصاب تن گئے وہ طیش میں آکر تیزی سے باہر آیا اور ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا کہ ٹھٹک گیا۔
ایس آئی آفسر خان با وردی تندی سے اسے گھورتے اندر داخل ہوا اور ملاتشی نظروں سے چاروں اطراف کا جائزہ لینے لگا۔
“آفسر خان۔۔۔۔ یہ کیا طریقہ ہے کسی کے پراپرٹی میں گھسنے کا۔۔۔۔” نوریز کا ضبط ٹوٹ گیا۔
“کیا کر رہیں ہیں آپ یہاں۔۔۔۔۔ شہر سے دور جنگل کے بیچ۔۔۔۔ سرکاری زمین پر یہ پراپرٹی کس سے اجازت لے کر بنائی ہے۔۔۔۔۔” آفسر تیز نظروں سے کمرے میں اور اوپن کچن میں جھانک رہا تھا۔
نوریز نے تھوک نگلتے اس کے قدموں کے نیچھے لکڑی کا بنے فرش کو دیکھا تھا۔
“سعید۔۔۔۔ اس علاقے کے تحصیلدار کو میرے آفس لے کر آو۔۔۔۔” اس نے ڈٹی آواز میں اپنے پیچھے کھڑے حوالدار کو مخاطب کیا پھر نوریز کے جانب مڑا۔
نوریز نے سپاٹ تاثرات بنائے نظروں کا رخ پھیر کر کھڑکی سے باہر مرکوز کر دیا۔
“یہ میری پراپرٹی ہے آفسر۔۔۔۔۔ یہاں آنے کے لیے مجھے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ ” نوریز نے با اعتماد انداز اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔
“بات تو آپ کی صحیح ہے۔۔۔۔ پر شاید آپ بھول رہیں ہیں۔۔۔۔ نین عبدالعزیز خان کے کیس میں پہلے سسپیکٹ آپ ہیں۔۔۔۔ اس لیے میری ہر وقت نظر آپ پر رہیں گی۔۔۔۔ ” آفسر خان، نوریز کے گرد گھوم کر اس کی چال مشاہدہ کرنے لگا۔
“آپ کا شک بے بنیاد ہے۔۔۔۔” نوریز نے اس کے کسی بات کو خاطر میں نا لاتے ہوئے مغرور انداز میں جواب دیا۔
“بہت ہوگئی یہ زبان بازی۔۔۔۔ مدعے پر آتے ہیں مسٹر نوریز۔۔۔۔۔ ” آفسر گھوم کر پھر سے اس کے رو بہ رو آیا اور جیبوں میں ہاتھ ڈالے تندی سے دیکھنے لگا۔
“نین کہاں ہے۔۔۔ ” اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
“مجھے کیا پتا۔۔۔۔۔ اکیلا میں ہی تو اس کا پروفیسر نہیں تھا۔۔۔۔ کالج میں 45 پروفیسرز ہیں۔۔۔۔ 15 ایڈمنسٹریشن کلرک ہیں۔۔۔۔ 8 کلینرز ہیں۔۔۔۔۔ آپ صرف میرے پیچھے ہی کیوں پڑ گئے ہیں۔۔۔۔ جائیں۔۔۔۔ دوسروں سے تفتیش کریں۔۔۔۔” نوریز نے بد مزاج ہوتے ہونہہ کیا۔
“تم کتنی بھی چالاکی کر لو۔۔۔۔ مجھ سے نہیں بچ سکتے۔۔۔۔ نین کو کئے تمہارے کالز اور میسجز ریکارڈ ہے میرے پاس۔۔۔۔۔ اور بہت جلد اس کے تحت تمہیں گرفتار کرنے آوں گا۔۔۔۔” آفسر نے دبے دبے غصے سے بات ختم کی اور روانہ ہوگیا۔
نوریز نے اففف کر کے لمبا سانس خارج کیا۔
“اس آفسر خان کا کچھ کرنا پڑے گا۔۔۔۔” اس نے بند دروازے کو دیکھا جس سے وہ ابھی ابھی باہر گیا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
بٹ ہاوس میں ڈھولکی کا آغاز ہوچکا تھا۔ ساری عورتیں راعنہ کے آگے دائرے میں بیٹھی ڈھولکی بجاتے گانے گا رہی تھیں جب گاڑی رکنے کی آواز آئی۔ شعیب صاحب اور عاطرہ بیگم ان کا استقبال کرنے گیٹ کے قریب گئے۔ وارث صاحب اور شعیب صاحب آغوش گیر ہوئے تو عاطرہ بیگم اور سنبل بیگم گال سے گال ٹکرا کر ملی۔
آیت اور اس کی دیگر کزنز ہاتھوں میں مہندی کی ٹرے لیئے راعنہ کے پاس آگئی۔
“انکل۔۔۔۔۔ نوریز کہاں ہے۔۔۔۔ ” صدیف نے اس کی غیر موجودگی سب سے پہلے محسوس کی۔
وارث صاحب کے گردن میں گٹلی ابھر کر معدوم ہوئی۔ آیت نے سر جھکا لیا تھا۔ شعیب صاحب نے بھی سب پر نظر گردانی کر کے اپنی توجہ وارث صاحب پر مرکوز کر لی۔ اسٹیج پر دلہن بنی راعنہ ان کے مابین ہوتی گفتگو تو نہیں سن پائی مگر سب کے تاثرات بدلتے دیکھ کر پریشان ہونے لگی۔ چند لمحے ماحول میں سناٹا چھا گیا۔ دولہے کی غیر موجودگی پر سب مہمانوں میں چی مگوئیاں ہونے لگی تھی۔
“جی۔۔۔۔ وہ کچھ کام سے۔۔۔۔۔۔ شہر سے باہر گیا ہوا تھا۔۔۔۔۔ اس لیے پہنچتے دیر ہوگئی۔۔۔۔ اُسی نے ہم سے کہا کہ ہم مہندی لے کر روانہ ہوجائے وہ سیدھے یہی آئے گا۔۔۔۔” سنبل بیگم نے معاملہ سنبھالنے کی کوشش کی۔
“کوئی بات نہیں۔۔۔۔ دیر سویر ہوجاتی ہے۔۔۔۔ آجائے گا۔۔۔۔ آپ سب آئے۔۔۔۔۔ راعنہ سے مل لیں۔۔۔۔” عاطرہ بیگم نے سنبل بیگم کے گرد بازو حمائل کر کے ایک نظر شعیب صاحب کو دیکھا اور لان میں چلی گئی۔
شعیب صاحب نے تاثرات خوشگوار بناتے وارث صاحب اور دیگر مرد حضرات کی رہنمائی کی۔ صدیف کے پیشانی پر شکن برقرار تھی۔ اس نے از خود موبائل نکال کر نوریز کا نمبر ڈائل کیا پر دوسری طرف سے نمبر بند آرہا تھا۔
“آیت۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہے نا۔۔۔۔ میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔۔۔” راعنہ نے ساتھ بیٹھی آیت کے کان میں سرگوشی کی۔
“سب ٹھیک ہے۔۔۔۔ تم ٹینشن مت لو۔۔۔۔۔ بھائی بس آتا ہی ہوگا۔۔۔۔” آیت نے اس کا بازو تھپتھپا کر دلاسہ دیتے دل میں نوریز کے جلد از جلد پہنچنے کی دعا کی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نوریز 120 کی اسپیڈ سے ڈرائیونگ کرتے ڈیڑھ گھنٹے بعد بٹ ہاوس پہنچا۔ اسے آتے دیکھ کر مما تیزی سے اس کے جانب بڑھ گئی وہیں وارث صاحب تند نظروں سے اسے دیکھ رہیں تھے۔ آیت نے راعنہ کے پاس میں سے اٹھ کر نوریز کی جگہ خالی کی۔ وہ باری باری سب سے ملتے راعنہ کے بغل میں آ بیٹھا۔
نوریز کے دماغ میں اب تک نین کی باڈی اور ایس آئی آفسر کی باتیں گردش کر رہی تھی اس لیے وہ پورے رسم میں غائب دماغی سے بیٹھا رہا۔ سب کو باتوں میں مشغول اور کزنز کو مہندی لگوانے میں مصروف پا کر راعنہ نے جھجکتے ہوئے نظریں گھما کر نوریز کو دیکھا تو سب سے پہلے زخمی بازووں پر نظر پڑی جسے نوریز بار بار چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔
“نوریز۔۔۔۔ کتنی چوٹیں آئیں ہیں آپ کو۔۔۔۔ ” راعنہ نے متفکر انداز میں اسے مخاطب کیا۔
“ٹھیک ہوں۔۔۔۔” اس نے پیشانی مسلتے ہوئے دو لفظی جواب دیا۔ اس کے سر میں شدید درد ہورہا تھا۔
“میں دوائی منگواتی ہوں۔۔۔۔” راعنہ، نوریز کے جواب کو نظر انداز کر کے آیت کی تلاش کرنے لگی۔
نوریز کے آبرو تن گئے۔ ایک جھٹکے سے اس نے راعنہ کا ہاتھ دبوچ کر اپنی سخت گرفت میں لیا۔
“کہا نا۔۔۔۔ ٹھیک ہوں۔۔۔۔ فضول کا تماشا مت بناو۔۔۔۔ یہ فرمانبردار بیوی کی اداکاری میرے ساتھ مت کرنا۔۔۔۔” دانت پر دانت جمائے ہوئے نوریز دبے دبے غصے میں غرایا۔
راعنہ اس کے ٹون اور بے لچک لہجے سے شاک ہوگئی۔ اس نے بے یقینی سے رخ پورا موڑ کر نوریز کو دیکھا تھا۔ راعنہ کی شکایتی نظریں خود پر محسوس کرتے نوریز نے ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑا اور اٹھ کر سنبل بیگم کے پاس آگیا۔
“مما آپ کی رسمیں ہوگئی ہو تو گھر چلیں۔۔۔۔ i need to rest۔۔۔۔ ” نوریز کے تاثرات سے تھکن صاف ظاہر تھی۔
“میں تیرے پاپا سے بات کرتی ہوں۔۔۔۔” سنبل بیگم اس کا کندھا تھپتھپا کر وارث صاحب سے بات کرنے چلی گئی جو مردوں کے گھیرے میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
سارا ماجرہ سن کر وارث صاحب طیش میں آگئے۔
“ایک تو اتنی دیر سے آئے ہو اور اب جلدی جانے کی بات کر رہے ہو۔۔۔۔ اپنا نہیں تو میری عزت کا خیال کر لو۔۔۔۔ لوگ کیا سوچیں گے۔۔۔۔ پہلے ہی اتنی باتیں سننی پڑ رہی ہیں۔۔۔” وارث صاحب نے ارد گرد نظر دوڑاتے نوریز کو ڈپٹا۔
“دیکھیں تو۔۔۔۔ کتنا تھکا ہوا ہے۔۔۔۔ طبیعت خراب ہوجائے گی۔۔۔۔ گھر جانے دیں اسے۔۔۔۔” سنبل بیگم نے شوہر کو منانے کی کوشش کی پر نوریز ان کے تاثرات دیکھ کر ان کا انکار سمجھ گیا اور سر جھٹک کر واپس اسٹیج پر آن بیٹھا۔
اس کے بیٹھتے راعنہ نے سر جھکا لیا۔ وہ اپنی ہی مہندی میں شوہر کے زبانی مزید ڈانٹ نہیں سننا چاہتی تھی۔ نوریز کے کہے کلمات یاد کرتے اس کی آنکھیں بھر آتی جسے وہ بہ مشکل چھلک جانے سے روک رہی تھیں۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
مہمانوں کے جانے کے بعد راعنہ کمرے میں آکر مضطرب سی دائیں سے بائیں چکر کاٹنے لگی۔
“ایسا بھی کیا غلط کہہ دیا تھا میں نے۔۔۔۔” راعنہ چاہ کر بھی وہ سب بھلا نہیں پا رہی تھی۔
“کیا نوریز۔۔۔۔ صحیح انتخاب ہے۔۔۔۔” راعنہ نے مایوسی سے اپنے ہاتھوں کی مہندی کو دیکھا تھا۔
اس کی خشک شدہ مہندی اس کے آنسوؤں سے پھر سے تر ہونے لگی۔ اضطراب میں اضافہ ہونے لگا تو وہ واشروم میں در آئی اور مہندی میک اپ سب دھو کر وضو کر کے کمرے میں واپس آئی۔ آنکھیں اب بھی متروم تھی۔
“یا اللہ۔۔۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔ تیرے در کے علاوہ کہاں جاوں گی۔۔۔۔ کس سے فریاد کروں گی۔۔۔۔ میری مدد فرما۔۔۔۔” وہ سجدے میں گر کر اپنے خالق سے فریاد کرنے لگی
ابھی تو اس کی آزمائش کی شروعات تھی۔ ابھی تو اس سے بڑے امتحان سے گزرنا باقی تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
بارات کا دن مصروفیت بھرا رہا۔ آیت اور راعنہ اپنی اپنی تیاری میں لگی رہیں۔
راعنہ نے بھئیاں کے بارات کے لیے بلیک ساڑھی زیب تن کر کے سلور چمکتے جھمکے پہنے اور بال ایک سائیڈ پر کھلے رکھیں۔ نوریز نے بلیک ہی شیروانی پہن رکھی تھی۔
آیت دولہن کے سرخ اور گولڈن جوڑے میں سب سے حسین لگ رہی تھی اور اس کے ساتھ میچنگ کرنے صدیف نے گولڈن شیروانی اور کھسے پہنے تھے۔
تقریب کے دوران راعنہ اور نوریز میں دوری برقرار رہی۔ آغاز جتنا دم دار ہوا تھا اختتام اداسی بھرا رہا۔
“راعنہ۔۔۔۔ میں کیا کروں۔۔۔۔ رونا نہیں آرہا۔۔۔۔ لگ ہی نہیں رہا میری رخصتی ہورہی ہے۔۔۔۔ ” آیت نے چادر کے اندر سے چہرا نکال کر راعنہ کے کان میں سرگوشی کی۔
“بس یہ سوچ لو۔۔۔۔ مجھ سے دور ہورہی ہو۔۔۔۔” راعنہ نے اسے چڑاتے ہوئے کہا۔
“ویسے ٹیکنیکلی ہم دور ہو تو رہیں ہیں۔۔۔۔۔ ہمارا رشتہ بدل رہا ہے۔۔۔۔ اب حالات بھی الگ ہوجائیں گے۔۔۔۔ اور۔۔۔۔” بات کرتے کرتے راعنہ نے آیت کے جانب دیکھا تو وہ سچ میں رو پڑی تھی۔
“ارے۔۔۔۔ میں تو مذاق کر رہی تھی۔۔۔۔” راعنہ نے اسے چپ کروانے خود سے لگا لیا۔
“آئیندہ ایسا مذاق مت کرنا۔۔۔۔” آیت نے رندھی ہوئی آواز میں اسے ڈپٹا تھا۔
سنبل بیگم اور وارث صاحب کی آنکھیں پر نم تھیں۔ وہ آیت کو گلے سے لگائے کار تک لائیں اور اس کا ہاتھ صدیف کے ہاتھوں میں دے کر اپنے لخت جگر کو رخصت کیا۔
اس کی رخصتی دیکھتے شعیب صاحب نے راعنہ کو اپنے حصار میں لے لیا تھا۔
“بابا۔۔۔۔ میری رخصتی میں ابھی ایک دن باقی ہے۔۔۔۔” راعنہ نے ان کے چہرے پر ہاتھ رکھے پیار کیا۔
“بیٹا یہ ایک دن۔۔۔۔ پلک جھپکتے گزر جائے گا۔۔۔۔” شعیب صاحب نے لمبا سانس لیں کر راعنہ کی پیشانی پر محبت بھرا بوسہ دیا۔
راعنہ نے ان کے گرد حصار مضبوط کر دیا۔ ان کی بات نے واقعی اسے اداس کر دیا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
آخرکار آیت صدیقی، آیت صدیف بٹ بن کر اس کے پھولوں سے سجے کمرے میں دولہن بنی بیٹھی تھی۔ ایک ہی پوز میں بیٹھے اسے تھکن ہونے لگی تو سستانے اپنا گھونگھٹ اٹھا کر پیر دراز کئے اسی لمحے صدیف اندر داخل ہورہا تھا۔
“نہیں رکو رکو۔۔۔۔” آیت یک دم چلائی۔
صدیف کے قدم دروازے پر جم گئے۔ آیت نے اس کے مڑنے سے پہلے اپنا گھونگھٹ واپس گرا دیا اور پیر اٹھا کر گھٹنوں کے گرد بازو حمائل کر کے نزاکت سے بیٹھ گئی۔
“ہاں اب آجائیں۔۔۔۔” اس نے کمر سیدھی کرتے صدا لگائی۔
صدیف اندر داخل ہو کر دروازہ لاک کرتے اس کے پہلو میں آن بیٹھا اور ہاتھ بڑھا کر اس کا گھونگھٹ اتھانے لگا لیکن آیت نے اپنا ہاتھ آگے کیا۔
“میری منہ دکھائی۔۔۔۔” اس نے اپنی ہتھیلی پھیلائی۔
“پہلے منہ دیکھنے تو دو۔۔۔۔۔ پھر دکھائی بھی دے دوں گا۔۔۔۔” صدیف نے اپنی ہنسی روکتے ہوئے کہا۔
آیت نے خجالتی انداز میں آنکھیں میچھ کر زبان دانتوں میں دبا لی۔ صدیف نے متبسم ہوتے اس کا گھونگھٹ اٹھایا تو آیت نے شرماتے ہوئے پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
صدیف نے ایک جیولری باکس الماری کے درز سے نکال کر اس کے ہاتھوں میں تھمایا۔ آیت اس باکس میں موجود گنگن دیکھ کر چہک اٹھی مگر اس کی مسکراہٹ برقرار نہ رہ سکی تھی۔ صدیف نے اسے بازووں میں لے اس کے لبوں پر اپنا قبضہ جما لیا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ فجر کے بعد اپنے گھر کو دیکھنے لگی جہاں اس کا بچپن اور ٹین ایج گزرا تھا۔ ایک ایک چیز کو دیکھتی وہ لاؤنج میں آئی تو شعیب صاحب پیچھے ہاتھ باندھے دائیں جانب دیوار پر لگے فریم شدہ تصویروں کے رو بہ رو کھڑے تھے۔ راعنہ ان کے ساتھ آکر کھڑی ہوئی اور ان کا بازو تھام کر ان کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
“پتا ہے۔۔۔۔ جب تم گیارہ سال کی تھی۔۔۔۔ مجھے بزنس ٹرپ پر ملک سے باہر جانا پڑا تھا۔۔۔۔ تب مجھ سے دور رہنے کی وجہ سے تمہیں تین دن تک بخار رہا تھا۔۔۔۔ ” شعیب صاحب اپنی فیملی فوٹو کو دیکھتے ہوئے گویا ہوئے۔
“اس کے بعد میں نے کبھی تمہیں خود سے دور نہیں رہنے دیا۔۔۔۔ جہاں بھی جاتا تمہیں اور عاطرہ کو ساتھ لے کر جاتا۔۔۔۔ صدیف کو بڑی پھوپھو کے پاس چھوڑ جاتے تھے۔۔۔ ہاہاہاہا۔۔۔۔” گزرا وقت کرتے شعیب صاحب خود ہی ہنس پڑے تھے۔
ان کے ساتھ ساتھ راعنہ بھی بھئیاں کی شکل یاد کر کے کھلکھلا اٹھی تھی
“اسی بات کا دکھ آج تک دل میں ہے۔۔۔۔” صدیف کی آواز پر شعیب صاحب اور راعنہ دونوں کی ہنسی رک گئی اور دونوں ساتھ میں پیچھے مڑے تھے۔
“بھئیاں۔۔۔۔ اتنی جلدی اٹھ گئے۔۔۔۔ ” راعنہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
“بہن کی شادی ہے۔۔۔۔۔ نیند کسے آئے گی۔۔۔۔” صدیف نے قریب آکر راعنہ کے گال پر پیار سے ہاتھ رکھا۔
شعیب صاحب نے اس کے گرد بازو حمائل کر دیا۔ ان کے دائیں جانب راعنہ تھی اور بائیں جانب صدیف۔
“مجھے تو کوئی پیار ہی نہیں کرتا۔۔۔۔ ” حمدان نے اپنی جمائی روکتے ہوئے منہ بھسورا۔
اس کی فریاد پر تینوں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
“میں کرتی ہوں نا۔۔۔۔ آجا میرے پاس۔۔۔۔” عاطرہ بیگم بھی لاونج میں آگئی تھی۔
حمدان خوشی سے چہکتا ان کے حصار سے آن لگا۔ شعیب صاحب اور عاطرہ بیگم نے مستحکم انداز میں ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔
“یا اللہ میرے بچوں میں اتفاق اتحاد اور پیار محبت یوں ہی بنا رہیں۔۔۔۔ آمین۔۔۔۔ ” شعیب صاحب نے اپنی فیملی کے خوشحالی کے لیے دعا کی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔
