Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Nadamat) Episode 15

ایک مہینہ کب گزرا پتا ہی نا چلا۔ شادی کے دن جتنے پاس آرہیں تھے نوریز کی بد مزاجی بڑھتی جا رہی تھی۔ نین کی موت بھولنا اس کے لیے آسان نہ تھا۔ مگر وہ جلد ہی ایک حادثہ سمجھ کر اسے بھول گیا۔
ہر وقت وہ کالج اور نیوز وغیرہ میں دیکھتا رہتا پر فلحال تک نین عبدالعزیز کو ڈھونڈنے کے متعلق کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔
اس دن آسمان پر ہلکے بادلوں کا راج تھا۔ صدیقی ہاوس چھوٹے بڑے سفید اور سرخ پھولوں سے سجایا گیا تھا۔ ڈھولکی بجاتی عورتیں اور کھیل کود میں مصروف بچے گھر میں خوشیوں کی آمد کا عکس پیش کر رہیں تھے۔ نوریز چکن کاری کے کرتے پجامے میں ملبوس بڑے بھائی کا کردار نبھاتے ساری تیاریوں کی دیکھ ریکھ کر رہا تھا جب گیٹ پر دستک ہوئی۔
اس نے بٹ فیملی کی آمد کا سوچ کر مسکراتے ہوئے دروازہ کھولا مگر سامنے پولیس کی نفری دیکھ کر اس کے عصاب ڈھیلے پڑ گئے۔
“پروفیسر نوریز صدیقی۔۔۔۔” با وردی جوان آفسر نے گویا تائید چاہی۔
“جی۔۔۔۔ میں ہی ہوں۔۔۔۔ نوریز۔۔۔۔ کہیے کیا بات ہے۔۔۔۔۔” نوریز نے اپنے آپ کو پوری طرح انجان رکھے ہوئے آبرو اٹھائے سوال پوچھا۔
وارث صاحب، سنبل بیگم اور دیگر رشتہ دار بھی گھر پر پولیس نفری دیکھ کر پریشان ہوگئے تھے۔
“ہمیں آپ کی اسٹوڈنٹ مس نین عبدالعزیز کے بارے میں آپ سے کچھ تفتیش کرنی ہے۔۔۔۔ نین کے لاپتہ ہونے کا تو معلوم ہوگا۔۔۔۔” آفسر خان نے تیز نظروں سے نوریز کو مشاہدہ کرتے ہوئے استفسار کیا۔
“جی۔۔۔۔ کالج میں اڑتی اڑتی خبر سنی تھی۔۔۔۔ بہت افسوس ہوا تھا۔۔۔۔” نوریز نے گیٹ پر ہی سوال و جواب کا سلسلہ جاری کیا۔
وارث صاحب پریشان کن تاثرات بنائے نوریز کے ساتھ آ کھڑے ہوئے۔
“آفسر۔۔۔۔ سب خیریت۔۔۔۔۔ ” وارث صاحب نے رعب دار انداز میں پوچھا۔
“پاپا۔۔۔۔ روٹین کی تفتیش ہے۔۔۔۔ آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔۔ میں سنبھال لوں گا۔۔۔۔” نوریز نے تسلی دیتے پاپا کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“مسٹر نوریز۔۔۔۔۔ پچھلے پچیس دنوں سے آپ کے کالج کی اسٹوڈنٹ نین عبدالعزیز خان لاپتہ ہے۔۔۔۔ ہمارے انویسٹیگیشن کے مطابق۔۔۔۔ ان کے غائب ہونے سے کچھ دیر قبل۔۔۔۔ ان کے نمبر پر آخری کال آپ کی موصول ہوئی تھی۔۔۔۔ اس لیے شک کی پہلی نگاہ آپ پر جاتی ہے۔۔۔۔” پولیس آفسر نے پروفیشنل انداز میں مدعا بیان کیا۔
“ہممم۔۔۔ ان دنوں میں پریکٹیکل کروا رہا تھا۔۔۔۔ ہوسکتا ہے۔۔۔۔ اسی بابت بات کرنے کال کی ہو۔۔۔ لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ میں نے نین کو غائب کیا ہے۔۔۔۔” نوریز نے بے باکی سے شانے اچکائے۔
“ثابت تو میں کر لوں گا۔۔۔۔۔ بس ایک ٹھوس ثبوت میرے ہاتھ لگ جائے۔۔۔۔ ” آفسر کے آبرو تن گئے۔
“اینی ویز۔۔۔۔ آپ کو کسی پر شک۔۔۔۔ کون کر سکتا ہے ایسا۔۔۔۔” اس نے دوستانہ مزاج سے بات بڑھائی۔
“آئی ایم سوری آفسر۔۔۔۔ میں کالج پڑھانے جاتا ہوں۔۔۔۔ اسٹوڈنٹس کی ذاتی زندگی پر نظر رکھنے نہیں۔۔۔۔ کالج کے بعد کون کہاں جاتا ہے۔۔۔۔ کس سے ملتا ہے۔۔۔۔ کیسے دوست ہیں۔۔۔۔ اس سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔۔۔۔” نوریز نے ہاتھ اٹھا کر اپنے آپ کو مسئلے سے غافل قرار دیا۔
“ہماری انویسٹیگیشن جاری ہے۔۔۔۔ جب بھی شک کی سوئی آپ کے جانب اشارہ کرے گی۔۔۔۔ ہم تفتیش کرنے ضرور آئیں گے۔۔۔۔” آفسر نے اپنی کیپ صحیح کرتے ہوئے آگاہ کیا۔
“آفسر۔۔۔۔ آپ دیکھ سکتے ہیں۔۔۔۔ میرے گھر میں دو دو شادیاں چل رہی ہیں۔۔۔۔ بہتر ہیں آپ دوبارہ شادی والے ماحول میں تناو ڈالنے سے پہلے اچھی طرح انویسٹیگیشن کر لیں۔۔۔۔” نوریز نے اسی انداز میں تندی سے جواب دیا اور گیٹ بند کر کے اپنے کمرے میں چلا گیا۔
آفسر اپنے غصے کو قابو رکھنے کا پابند ہوگیا تھا۔ اس کے اسسٹینت نے چلنے کے لیے کہا تو وہ درشتی کے پلٹا۔
“اس پروفیسر کے حرکات و سکنات مجھے مشکوک لگ رہیں ہیں۔۔۔۔ اس پر کڑی نظر رکھو۔۔۔۔ کوئی بھی الٹا قدم اٹھائے فوراً مجھے اطلاع دینا۔۔۔۔” اپنے ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا دکھا کر اس نے اسسٹینٹ کو سخت ہدایات دی اور لمبے ڈگ بھرتا اپنے جیپ کے جانب روانہ ہوگیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
صدیف سینہ تان کر کھڑا آئینے میں اپنا عکس دیکھ رہا تھا۔ راعنہ نے نظر بد سے بچاو کی دعا پڑھ کر اس پر پھونک ماری۔
“کسی کی بری نظر نا لگے میرے بھائی کو۔۔۔۔” راعنہ نے اس کی نظر اتاری اور پھر اس کے وائٹ اینڈ گولڈن شیروانی کے فرنٹ جیب میں رکھا رومال سیٹ کیا۔
“تمہاری دعائیں ہے نا میری حفاظت کے لیے۔۔۔۔” صدیف نے راعنہ کا چہرا اپنے ہاتھوں کے پیالے میں تھام کر زور سے دبایا۔
راعنہ نے اس کے پرے ہٹا کر اپنے گال سہلائے۔ تب ہی اس کا موبائل بجنے لگا کال آیت کی آرہی تھی۔
“میڈم فرصت مل گئی ہو تو آجاو۔۔۔۔ میں کب سے ویٹ کر رہی ہوں۔۔۔۔ بیسٹ فرینڈ کے خاص دن پر اس کا ساتھ نہیں دو گی۔۔۔ ” آیت نے جذباتی ہوتے ہونہہ کیا۔
“زیادہ بلیک میل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ آپ کے دولہے کی ہی نظر اتار رہی تھی۔۔۔۔۔ بس نکل رہی ہوں۔۔۔۔ ” راعنہ نے موبائل کندھے اور سر کے درمیان پھنسا کر جلدی جلدی سینڈل کی اسٹرپ بند کی اور دروازے سے باہر نکل گئی۔
بھائی کے نکاح کے مناسبت سے اس نے وائٹ کام دار لہنگا اور اس پر پنک کلر کا بلاوز پہن رکھا تھا۔ گلے میں کام سے میچنگ وائٹ ڈوپٹہ اور چاندی کے بڑے جھمکے اپنی زینت بنائے تھے، لمبے بال پشت پر کھلے چھوڑے اور ہاتھوں میں سفید اور گلابی رنگ کی چوڑیاں پہنی تھی۔ لمبی ہیل میں وہ لہنگے کا پلو اٹھائے نت ست تیار ہوئے پالر پہنچی جہاں آیت سلور اور وائٹ کے منتشر رنگوں کے بڑے گھیر والے برائڈل فراک پہنے تیار ہورہی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نوریز کمرے میں آیا تو سنبل بیگم فورا سے اس کے پیچھے کمرے کے اندر داخل ہوئی اور دروازے کو لاک لگا کر نوریز پر برس پڑی۔
“یہ سب کیا ہے نوریز۔۔۔۔ کیا کیا ہے تم نے۔۔۔۔”انہوں نے سختی سے نوریز کو مخاطب کیا۔
نوریز مضطرب ہوتا پہلو بدل گیا۔
“اس دن تمہارے شرٹ پر خون لگا تھا۔۔۔۔ اور آج گھر پر پولیس آئی تھی۔۔۔۔ سچ سچ بتاو۔۔۔۔ کیا چھپا رہیں ہو۔۔۔۔” سنبل بیگم نے آواز مدھم رکھنے کی کوشش کی مگر پھر بھی ان کا لہجہ سخت ہونے لگا۔
نوریز ان کت سوالات نظر انداز کر کے رخ پھیرنے لگا مگر مما نے اس کا بازو دبوچ کر اسے اپنے رو بہ رو کیا۔
“میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں۔۔۔۔۔ ادھر دیکھو۔۔۔” مما نے تندی سے پوچھا تو نوریز زچ ہوگیا۔
“میں نے کچھ نہیں کیا مما۔۔۔۔ وہ بس ایک حادثہ تھا۔۔۔۔۔ ناگہانی میں مو ت ہوگئی اس کی۔۔۔۔ ” نوریز ایک قدم آگے ہوا اور تپے ہوئے انداز میں جواب دیا۔
سنبل بیگم تو مو ت جیسے لفظ پر ہی سکتے میں چلی گئی۔ وہ سانس لینا ہی بھول گئی بس یک ٹک اپنے جوان وجہیہ بیٹے کو دیکھنے لگی۔
“یا اللہ۔۔۔۔۔ مجھے ٹھیک سے بتاو۔۔۔۔۔ کیسا حادثہ۔۔۔۔ تم نے کسے مارا ہے۔۔۔۔” مما کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی۔ وہ بہ مشکل اپنی لرزش قابو کرنے لگی۔
“مما میں نے اسے نہیں مارا۔۔۔۔ وہ بس مجھ سے بھاگتے ہوئے گر گئی۔۔۔۔ اس کا سر پتھر پر جا لگا اور۔۔۔۔ اس کی موت واقع ہوگئی۔۔۔۔” نوریز نے عام سے انداز میں سر جھٹکا۔
مما منہ پر ہاتھ رکھے نوریز کو تک رہی تھی۔
“خود مری ہو۔۔۔۔ یا تم نے مارا ہو۔۔۔۔ وجہ تو تم ہی ہو نا۔۔۔۔ یہ کیا کر دیا نوریز۔۔۔۔ اگر تیرے پاپا کو پتا چلا۔۔۔۔۔ قیامت آجائے گی۔۔۔۔” مما نوریز کے بیڈ پر بیٹھ کر سینہ کوبی کرنے لگی۔
وارث صاحب کا رد عمل سوچ کر بھی انہیں ڈر لگ رہا تھا۔
“مما۔۔۔۔ جسٹ ریلکس۔۔۔۔۔ آپ پینک مت کرو۔۔۔۔ کسی کو کچھ پتا نہیں چلے گا۔۔۔۔ بس آپ اپنا منہ بند رکھو۔۔۔۔ پاپا کو کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ میں سب سنبھال لوں گا۔۔۔۔” نوریز مما کے آگے دو زانو ہو کر انہیں دلاسہ دینے لگا۔
مما کے ہاتھ پیر کانپ رہے تھے۔ انہیں نوریز کی کسی بات سے تسلی نہیں مل پا رہی تھی۔
“مما۔۔۔۔ میری بات سنو۔۔۔۔ یہ راز۔۔۔۔ میرے اور آپ کے درمیان اسی چار دیواری میں رہے گا۔۔۔۔ انڈرسٹینڈ۔۔۔۔ مجھے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔” نوریز نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے تھپتھپایا اور آنکھوں میں جنون بھر کر کھڑا ہوا۔
“ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو نوریز صدیقی کو سزا دلوا سکیں۔۔۔۔ مجھے کوئی مجرم نہیں ٹھہرا سکتا۔۔۔۔” نوریز نے مغرور انداز میں سر اٹھایا اور پھر مما کا بھیگا چہرا اوپر کو اٹھا کر ان کی آنکھوں میں دیکھا۔
“آپ صرف اپنی بیٹی کی شادی پر فوکس کرو۔۔۔۔ باقی سب مجھ پر چھوڑ دو۔۔۔۔ ٹرسٹ می۔۔۔۔” نوریز نے اب کی بار سمجھایا تو سنبل بیگم آنسو صاف کرتے کھڑی ہوئی اور نوریز سے لپٹ گئی۔
نوریز انہیں اپنے حصار میں لیئے ہوئے آگے کا لائحہ عمل سوچنے لگا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نکاح کے فنکشن کا آغاز ہوچکا تھا۔ سب مہمان دلہن کے لئے چشم بہ راہ تھے۔ آیت ممی اور راعنہ کے ساتھ چلتی اسٹیج پر آئی اور صدیف کے ساتھ نشست سنبھال لی۔ نوریز ہمیشہ کی طرح بلیک شیروانی میں سب سے پر کشش لگ رہا تھا۔ راعنہ نے ایک نظر اسے دیکھا پھر نگاہیں چرا لی۔ محبت کا پہلا احساس اس کے دل میں نوریز کے لیے جذبات اجاگر کرنے لگا۔ اس کے بر عکس نوریز کے دل میں راعنہ کے لیے اب تک جگہ نہیں بن سکی تھی۔
قاری صاحب نے باری باری آیت اور صدیف سے منظوری لی۔ دونوں نے پورے دل سے قبول و منظور کا جواب دیا۔ ماحول میں پٹاخوں کا شور بلند ہوا۔
نوریز اپنے پاپا سے مل کر مبارک باد پیش کرتے شعیب صاحب کے گلے لگا اور پھر حمدان سے بغل گیر ہو کر راعنہ کے رو بہ رو آیا۔ سب کی موجودگی میں راعنہ ایک قدم پیچھے ہوگئی کہ کہی نوریز اس سے بھی نہ لپٹ جائے۔ وہیں نوریز نے بھی اپنے قدم جما لیئے۔
“مبارک ہو۔۔۔۔” سر کجاتے ہوئے نوریز نے زبانی کلامی شروع کی۔
“آپ کو بھی مبارک ہو۔۔۔۔” راعنہ نے جھجکتے ہوئے جواب دیا۔
“اچھی لگ رہی ہو۔۔۔۔” نوریز نے سر تا پیر اس کی تیاری سے محظوظ ہوتے ہوئے سراہا۔
“تھ۔۔ تھینکس۔۔۔۔” راعنہ نے شرماتے ہوئے چہرے پر آتے بال پیچھے کئے۔
نوریز سر کو خم دے کر مسکرایا اور اپنی فیملی کے پاس جا کھڑا ہوا۔ راعنہ اس کی شخصیت کے سحر میں کھو گئی تھی۔
ہمسفر کا انتخاب ایسی چیز ہے جسے محبت کی بنا پر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ محبت اختیار میں نہیں ہوتی۔ یہ اچھا برا نہیں دیکھ سکتی لیکن زندگی بھر کا ساتھ گزارنے اخلاقیات کا پیمانہ دیکھنا ضروری ہے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
صدیف اور آیت ہال سے ایک ساتھ لوٹے۔ اسے رخصت کرنے وہ گھر کے اندر تک ساتھ آیا۔ لاؤنج کے بیچ تک دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے۔ سیڑھیوں کے سرے تک آکر صدیف تک گیا۔
“چلو بیگم۔۔۔ آج کا سفر یہی تک تھا۔۔۔۔” صدیف نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا۔
آیت متبسم ہوئی اور اس کے حصار سے جا لگی۔ صدیف نے اس کے گرد بازو حمائل کر کے اس خود میں بھیج لیا اور اس کی پیشانی پر محبت بھرا بوسہ دیتے اپنائیت کا احساس کرایا۔ آیت اپنے محرم کے سینے سے لگی مزید معتبر ہوگئی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
اگلی صبح راعنہ فجر کے وقت اٹھی اور نہا کر وضو کر کے جائے نماز بچھا کر نماز ادا کرنے لگی۔ آج کا دن اس کے لیے بہت خاص تھا۔ وہ آج راعنہ شعیب بٹ سے راعنہ نوریز صدیقی بننے جا رہی تھی۔ اس نے اللہ سے اپنے آنے والی زندگی کے لیے ڈھیر ساری دعائیں کی۔
پریشانیاں تو ہر ایک کی زندگی میں ہیں۔ اس دنیا میں انسان آزمانے کے لیے ہی بھیجا گیا ہے۔ یہاں کوئی بندہ مکمل پرفیکٹ زندگی نہیں گزار رہا۔ بس فرق وہاں آتا ہے جب انسان اپنے معاملات صرف اللہ کے حوالے چھوڑ دیتا ہے اور اس کے فیصلے سے مطمئن ہوجاتے ہے۔
دوسری طرف نوریز بے پرواہی سے دن چڑھنے تک سویا ہوا تھا۔
“یہ لو۔۔۔۔ یہ جناب تو اب تک سو رہیں ہیں۔۔۔۔” آیت کمر پر ہاتھ رکھے نوریز کے سر پر کھڑی بڑبڑائی۔
نوریز چونکہ شر ا ب پی کر سویا تھا اس لیے اسے آیت کا بڑبڑانا سنائی نہ دیا۔
“اووو۔۔۔ بھائی۔۔۔۔ اٹھ جاو۔۔۔۔ نکاح ہے آج آپ کا۔۔۔۔” آیت نے نوریز کو کندھوں سے پکڑ کر جھنجوڑا۔
نوریز نے زبردستی آنکھیں مسلتے ہوئے کھولی۔ عنودگی میں آیت کو اپنے سرہانے بیٹھے دیکھا اور کروٹ بدل کر پھر سے آنکھیں موندھ لی۔
“آنے دو راعنہ کو اس گھر میں آپ کو تو وہ ہی ٹھیک کر سکتی ہے۔۔۔۔ ” آیت نے مستقبل کا سوچتے ہوئے نوریز کے اوپر سے کمفرٹر کھینچ لیا۔
“آیت۔۔۔ سونے دے۔۔۔۔” نوریز نے بھاری آواز میں جھنجھلا کر اسے ڈپٹا۔
“تھیک ہے پڑے ہو۔۔۔۔ اب تو مما ہی اٹھائے گی آپ کو۔۔۔۔” آیت ہونہہ کرتے کمفرٹر واپس اس پر پھیکتی روانہ ہوگئی۔
نوریز نے لمبا سانس خارج کیا اور واپس منہ چھپا کر سوگیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نکاح کے رسومات کی ساری تیاریاں ہوگئی تھی۔ صدیف اور آیت ہال کے انٹرنس پر کھڑے مہمانوں کا استقبال کر رہیں تھے۔
“لگتا ہے کسی کی نظر نہیں ہٹ رہی۔۔۔۔” آیت نے ہیئر اسٹائل سے نکلتی لٹوں کو سنوارتے ہوئے جملہ کسا۔
“اب کوئی اتنا خوبصورت لگے گا تو۔۔۔۔۔ اس نا چیز دل کا کیا قصور۔۔۔۔” صدیف نے حسرت سے آہ بھرتے جواب دیا۔
آیت بلش کرنے لگی اس نے صدیف کے گال پر ہلکی تھپکی دے کر اس کا رخ دوسری جانب کیا۔ دوسرے دروازے سے حمدان اور عاطرہ بیگم کاسنی کلر کے غرارہ لہنگے میں دلہن بنی راعنہ کو برائڈل روم لے جارہیں تھے۔
“راعنہ آگئی۔۔۔۔۔” صدیف کی نظروں کے سمت میں دیکھتے ہوئے آیت چہک اٹھی اور تیزی سے اپنے بلیو کلر گاون کا دامن اٹھائے اس جانب بڑھ گئی۔
“ماشااللہ۔۔۔۔ کتنا نور آیا ہے۔۔۔۔ آج تو پکا بھائی گھائل ہوجائے گا۔۔۔۔” برائڈل روم میں در آتے ہی اس نے راعنہ کی تعریف کرتے ہوئے سر تا پیر دیکھا۔
راعنہ نے گھنی پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر سر جھٹک کر اپنی جیولری سیٹ کرنے لگی۔ عاطرہ بیگم اور حمدان بقیہ تیاری دیکھنے ہال میں چلے گئے تھے۔
“میں دیکھ کر آتی ہوں مما اور بھائی کہاں رہ گئے ہیں۔۔۔۔ ” آیت اسے وہی بیٹھا کر نوریز کو تلاش کرنے باہر نکل گئی۔
اس کے جاتے راعنہ موبائل میں تصاویر بنانے لگی۔ تھوڑی دیر بعد پھر سے دروازہ کھلا۔ راعنہ کو لگا فیملی کا کوئی ہوگا اس لیے اپنا کام جاری رکھا۔
“راعنہ۔۔۔۔” ایک انجان مردانہ آواز نے اسے پکارا۔
اس آواز کو پہچاننے میں مشکل ہورہی تھی اس لیے راعنہ نے سر اٹھا کر دروازے کے پاس کھڑے سراپے کو دیکھا اور دیکھتی رہ گئی۔ اس شخص کو دیکھتے ہوئے راعنہ کھڑی ہوگئی تھی۔
“امتثال۔۔۔۔ ” راعنہ نے زیر لب وہ نام دہرایا۔
امتثال قدم قدم آگے آیا اور راعنہ کے رو بہ رو کھڑا ہوا۔ راعنہ کے دل میں کچھ مہینے قبل کی کیفیت اجاگر ہونے لگی۔ حالانکہ اس نے کبھی اپنی پسندیدگی ظاہر نہیں کی تھی اور نا ہی امتثال نے اس پر اپنی دلچسپی جتائی تھی پر نا جانے کیوں اس وقت راعنہ کو اپنا آپ مجرم لگ رہا تھا۔
“مبارک ہو۔۔۔۔” امتثال نے پھیکا مسکراتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا چھوٹا بوقے اس کے آگے کیا۔
“تھینکیو۔۔۔۔” راعنہ نے دوبارہ اس سے نظریں ملانے کی کوشش نہیں کی اور یوں ہی سر جھکائے ہوئے بوقے تھاما۔
“میری دعا ہے۔۔۔۔ تم جس کے ساتھ بھی رہو۔۔۔۔ ہمیشہ خوش رہو۔۔۔۔” امتثال کا اتنا کہنا تھا کہ راعنہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا لیکن ان کی نظریں ٹکرانے سے پہلے امتثال واپس مڑ کر جانے لگا۔
“امتثال۔۔۔۔” راعنہ نے اسے پکار کر لب بھینج لیئے۔ اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئی۔
“نہیں راعنہ۔۔۔۔ اب کچھ کہنے کا فائدہ نہیں ہے۔۔۔۔ مجھے کل آیت نے کارڈ دیتے ہوئے بتایا۔۔۔۔۔ پہلے پتا چلتا تو۔۔۔۔۔” وہ ایک پل کے لیے رکا۔
“تو میں کچھ نا کچھ کر پاتا۔۔۔۔ مگر میں جانتا ہوں۔۔۔۔۔ تم اب اپنی فیملی کی خوشیوں کے خلاف کبھی نہیں جاو گی۔۔۔۔ شاید۔۔۔۔ ہماری قسمت میں ایک دوسرے کا ساتھ نہیں تھا۔۔۔۔۔” امتثال نے مڑے بغیر کہا اور لمبا سانس لیں کر سر جھٹکتے روانہ ہوگیا۔
راعنہ نے پھر سے سر جھکا لیا تھا۔ دو آنسو ٹوٹ کر بوقے کے پھول پر جا گرے تھے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“دولہن تیار ہو کر آگئی ہے۔۔۔۔ مگر دولہے میاں اب تک تیار نہیں ہوئے۔۔۔۔۔ دیر سے اٹھنے کا یہی نتیجہ ہے۔۔۔۔” آیت ہال کے دوسرے کونے میں آتے نوریز کی نا مکمل تیاری دیکھ خفہ ہونے لگی۔
“مما۔۔۔۔ اپنی بیٹی کو سمجھائیں۔۔۔۔ زیادہ میرا دماغ خراب نا کرے۔۔۔۔۔ بڑا بھائی میں ہوں۔۔۔۔ پر ہر وقت ڈانٹتی یہ رہتی ہے۔۔۔۔” نوریز نے بلیک چمکدار شیروانی کے بٹن بند کرتے ہوئے منہ بنایا۔
“مما۔۔۔۔ باہر سب مہمان آگئے ہیں۔۔۔۔ قاری صاحب بھی منتظر ہیں۔۔۔۔” آیت نے سنبل بیگم کو مخاطب کیا۔
“ہاں تو آرہا ہوں نا۔۔۔۔ ہوجائے گا نکاح۔۔۔۔ کونسا بھاگ رہا ہوں میں۔۔۔۔” نوریز نے تپے ہوئے لہجے میں ٹوکا تھا۔
“آیت۔۔۔۔” صدیف کی آواز پر آیت اچھل پڑی۔ اس کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی۔ اسے ڈر لگ رہا تھا کہ کہی صدیف نے نوریز کی بات سن نہ لی ہو۔
وہیں سنبل بیگم بھی گڑبڑا گئی۔
“ہہ ہاں بیٹا بس آرہیں ہیں۔۔۔۔ وہ نوریز کو آج اٹھنے میں دیر ہوگئی تھی۔۔۔۔ اس لیے۔۔۔۔ ” سنبل بیگم نے گھبرائے ہوئے معاملہ سنبھالنے کی کوشش کی۔
“اٹس اوکے آنٹی۔۔۔۔ جانتا ہوں۔۔۔۔ شادی بہت بڑی زمہ داری ہوتی ہیں۔۔۔۔ بندہ کنفیوژن کا شکار ہوجاتا ہے۔۔۔۔ ہیں نا نوریز۔۔۔۔ میری بھی کل یہی حالت تھی۔۔۔۔۔” صدیف نے خوش مزاجی سے سنبل بیگم کو دلاسہ دیا اور شرارتی انداز میں نوریز نے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
نوریز نے ایک نظر اسے دیکھ کر سر اثابت میں ہلایا۔
“ایکچیولی۔۔۔۔ میں آیت کو بلانے آیا تھا۔۔۔۔ میری بڑی پھوپھو لاہور سے آج پہنچی ہے۔۔۔۔ تو انہیں میری بیوی۔۔۔۔ مطلب آیت سے ملنا ہے۔۔۔۔” صدیف نے اپنے آنے کی وجہ بتائی۔
“مما۔۔۔۔ آپ اور بھائی آجانا۔۔۔۔۔” آیت نے سکون کا سانس لیا اور خود کو کمپوز کرتے ہوئے صدیف کے ساتھ ہال میں آگئی۔
اسٹیج کے پاس شعیب صاحب اپنی آپا کے پاس بیٹھے تھے۔ وارث صاحب بھی ان کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ صدیف اور آیت ان کے قریب آئے تو آیت نے سلام کرتے ہوئے احتراماً بڑی پھوپھو کے ہاتھ کے پشت پر بوسہ دیا۔
“وعلیکم السلام۔۔۔۔۔ خوش رہو۔۔۔۔ جیتی رہو۔۔۔۔ ماشااللہ۔۔۔۔ بہت پیاری ہے۔۔۔۔” بڑی پھوپھو نے سلام کا جواب دیتے آیت کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
وارث صاحب اپنی بیٹی کی تربیت پر مسکرا دیئے۔ شعیب صاحب بھی محبت پاش نظروں سے آیت کو دیکھ رہیں تھے۔ ان کا دل مطمئن تھا کہ انہوں نے بہو کا انتخاب بہت اچھا کیا ہے لیکن داماد کا انتخاب انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دے گا یہ وقت بتانے والا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“راعنہ بنت شعیب بٹ۔۔۔۔ آپ کا نکاح۔۔۔۔ پندرہ لاکھ سکہ رائج الوقت حق مہر کے عوض۔۔۔۔ نوریز ولد وارث صدیقی سے کیا جا رہا ہے۔۔۔۔ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔” قاری صاحب نے مائک راعنہ کے آگے کیا۔
راعنہ نے پھولوں کی لڑیوں سے بنے پردے کے پار سپاٹ انداز میں بیٹھے نوریز کو دیکھا اور پھر نظریں نیچی کی۔
“قبول ہے۔۔۔۔” مائک میں معصوم سی آواز ابھری تھی۔ فضا میں فیملی کی کھلکھلاہٹ پھیل گئی۔
قاری صاحب نے دو مرتبہ پھر اپنا فقرہ دہرایا اور راعنہ کی رضامندی سن کر نوریز کے جانب رخ کیا۔
“نوریز ولد وارث صدیقی۔۔۔۔ آپ کا نکاح۔۔۔۔ راعنہ بنت شعیب بٹ سے۔۔۔۔ پندرہ لاکھ سکہ رائج الوقت حق مہر۔۔۔۔ کیا جا رہا ہے۔۔۔۔ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔۔” نوریز نے چہرہ مائک کے قریب کیا۔
“قبول ہے۔۔۔۔” نوریز نے اپنے دم دار آواز میں راعنہ کو قبول کیا۔
ماحول میں مبارکبادیں بلند ہوگئی۔ وارث صاحب اور شعیب صاحب آغوش گھیر ہوگئے۔ آیت نے راعنہ کو خود سے لگا لیا تھا۔ عاطرہ بیگم نے نوریز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس کا شانہ تھپتھپایا۔
“تو کیسا لگ رہا ہے۔۔۔۔ مسز نوریز بن کر۔۔۔۔” آیت نے راعنہ کے کان میں سرگوشی کی۔
“ابھی تو پیٹ میں تتلیاں اڑ رہیں ہیں۔۔۔۔” راعنہ نے منہ کے ہاتھ رکھ کر جواب دیا۔
“میرے اور صدیف کے پرفارمنس کے بعد تتلیاں چوہے مینڈق۔۔۔۔ سب اڑ جائے گے۔۔۔۔” آیت نے آنکھ ماری اور اسٹیج سے اتر گئی۔
راعنہ چمکتی آنکھوں اسے دیکھنے لگی۔ وہ صدیف کے پرفارمنس کا سن کر ہی شاک ہوگئی تھی۔
“ریڈی۔۔۔۔۔ here we come۔۔۔۔” آغاز حمدان نے کیا۔
سب سے پہلے وہ کھڑا تھا۔ اس کے آوٹ میں آیت اور سب سے پیچھے صدیف جس کے چہرے سے گھبراہٹ صاف واضح تھی۔
Dil da mamla hai dilber
Hun na zor hai is dil par
Khalbali hai dil k andar
O mast mast qalandar
Mast mast mast qalandar
Mast mast mast mast
Qalandar
آیت اور حمدان آگے پیچھے ہوتے ڈانس کر رہیں تھے۔ صدیف ان کے اسٹیپ سے اپنے قدم ملانے کی جتن میں پیچھے ہی رہ گیا تھا۔ راعنہ اپنی ہنسی روکنے منہ پر ہاتھ رکھ گئی۔ اگلے اسٹیپ میں صدیف نے بازو چڑھا کر حمدان کو پیچھے کیا اور خود آیت کی کلائی پکڑ لی۔
Meri nazar jo
Tum pe pari to
Ban betha tera saidayii
Betabio ko rahat mili to
Door huwi meri ki tanhai.
آیت ادائیں دکھاتی اس کے گرد گھومنے لگی۔ حمدان مصنوعی خفگی سے ان دونوں کے بیچ سے گزر کر راعنہ کے سامنے آیا۔
Tere rang ka
Tere roop ka
Hai asar tere hi
suroor ka
Mere hal se
Mere dard se
Tu hai be khabar
Dil da mamlaaaa
Dilda mamla hai dilber
Hun na zor hai is dil par
Khalbali hai dil k andar
O mast mast qalandar
Mast mast mast mast qalandar
Mast mast mast mast qalandar
حمدان صدیف اور آیت تینوں کے ڈانس سے لطف اندوز ہوتے مہمانوں میں تالیاں گونج اٹھی تھی۔ راعنہ محبت پاش نظروں سے باری باری ان تینوں کو دیکھ رہی تھی۔ آخر میں آیت نے اسٹیج پر آکر نوریز اور راعنہ کے ہاتھ تھام لیئے اور ان کو ساتھ ڈانس فلور پر لے آئی۔
“میں نے کبھی ڈانس کیا ہے۔۔۔۔” نوریز زبردستی مسکراتے ہوئے گویا ہوا۔
” آج کر لو۔۔۔۔ ” آیت نے اس کے ہاتھ بلند کر کے گھمائے۔
راعنہ اپنی فیملی کو خوش دیکھ کر بہت اچھا محسوس کر رہی تھی۔ نکاح تو وہ بندھن ہے جس میں اللہ کی مرضی شامل ہوتی ہے اور وہ نکاح میں بندھنے والوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت ڈال دیتا ہے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
اگلے دن آیت کی مہندی تھی جو کہ صدیقی ہاوس میں فیملی ممبرز کے مابین ہی رکھی گئی تھی۔ آیت نے اسے تیار کروانے کی زمہ داری راعنہ پر ڈال رکھی تھی۔ راعنہ ظہر کے ساتھ ہی صدیقی ہاوس آگئی۔ پہلی مرتبہ اسےے صدیقی ہاوس میں بطور بہو قدم رکھنے پر عجیب سا محسوس ہورہا تھا۔
وہ کاموں میں مصروف وارث صاحب اور سنبل بیگم سے مل کر آیت کے کمرے میں آگئی۔
“یہ لو۔۔۔۔ مجھے صبح صبح آنے کا کہہ رہی تھی اور میڈم خود اب تک سو رہی ہے۔۔۔” راعنہ نے دست بہ کمر کھڑے ہونہہ کیا۔
آیت نے اس کی آواز پر آنکھیں کھولی اور مسکراتے ہوئے بانہیں پھیلائی۔ راعنہ سر جھٹک کر اس کے ساتھ آکر لیٹ گئی۔
“اٹھ جا ماہ رانی۔۔۔۔۔ پھر مت کہنا اچھے سے تیار نہیں کروایا۔۔۔۔” راعنہ اس کے گلے میں بازووں کا حلقہ بنائے کنکاری۔
“ابھی سے نند بن گئی ہو۔۔۔۔” آیت نے منہ بھسورتے ہوئے اسے اپنے حصار سے الگ کیا۔
“نند بناو۔۔۔۔ یا بھابھی بناو۔۔۔۔ راعنہ تو ہمیشہ آیت کی بیسٹ فرینڈ ہی رہیں گی۔۔۔۔۔” اس کے با اعتماد جواب پر آیت کھلکھلا اٹھی اور پھر سے اس کے آغوش گیر ہوگئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
آیت کو تیار کر کے راعنہ کو واپس گھر جانا تھا اور پھر اپنی فیملی کے ساتھ مہندی لیں کر آنا تھا۔ اس کو گھر ڈراپ کروانے کا فریضہ نوریز کو سونپا گیا۔
راعنہ کے گالوں میں سرخی مائل ہوگئی تھی۔ وہ پورچ میں کھڑی نوریز کے اسپورٹس بائک کو دیکھ کر اس کے ساتھ پہلا سفر یاد کرنے لگی۔ آج بھی اسے لگا نوریز بائک پر اسے ڈراپ کرنے آئے گا لیکن اس کی توقعات کے بر عکس وہ کار کی چابی لیے لاؤنج سے باہر آیا۔
راعنہ کو اپنی بائک کے پاس کھڑے دیکھ کر نوریز بے اختیار مسکرایا۔
“ہم کار میں جا رہیں ہیں۔۔۔۔” اس نے کار کی چابی اس کے آنکھوں کے سامنے لہرائی۔
راعنہ پیشانی مسل کر اپنے خیالات محو کرتے کار کے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی۔ آدھا راستہ خاموشی سے گزرا۔ راعنہ نے ایک آدھ بار نوریز کے گویا ہونے کا انتظار کیا پر وہ مین روڈ پر نظریں جمائے ڈرائیونگ کرتا رہا۔
آیت اور راعنہ کا کالج ان دونوں کے گھروں کے درمیان میں تھا۔ کالج کے روڈ سے گزرتے ہوئے ایک چنہ چارٹ اور گول گپوں کا کارٹ دیکھ کر راعنہ کو شدت سے کھانے کی چاہ ہوئی۔
“نوریز۔۔۔ گول گپے کھاتے ہیں۔۔۔۔۔ اس انکل کے گول گپے بہت مزے کے ہیں۔۔۔۔ میں اور آیت روز کھاتے تھے۔۔۔۔ پلیز کار روکے۔۔۔۔” راعنہ نے عجلت میں نوریز کے بازو پر ہاتھ رکھا۔
نوریز نے آبرو اٹھائے پہلے راعنہ کے ہاتھ کو دیکھا پھر اس لی نظروں کے سمت میں کارٹ والے کو۔ راعنہ بچوں کی طرح گول گپے کھانے کی ضد کر رہی تھی۔ نوریز نے اس کی معصومیت پر دلفریب نظر سے اسے دیکھا اور کار ایک سائیڈ پر کر کے روک لی۔
راعنہ تیزی سے اتری اور گول گپوں کا آرڈر دینے لگی۔ نوریز کار میں بیٹھے۔ تھیوڑی اٹھائے سر تا پیر اپنی منکوحہ کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے دل میں راعنہ کے لیے نرم گوشہ بننے لگا پر یہ مقام کب تک قائم رہتا یہ قسمت طے کر چکا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔