Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Nadamat) Episode 9

وہ اتوار کا دن تھا حسب معمول ذیال ثمر اور مشائم اپنی مقررہ وقت پر دادو سے بات کر رہیں تھے۔ حال احوال دریافت کرنے کے بعد ذیال کنکارا۔
“دادو۔۔۔۔ نوریز صدیقی کون ہے۔۔۔۔ ہم سب سے کیا تعلق ہے ان کا۔۔۔۔” ذیال نے ہلکی آواز میں کہا کہ کہیں آیت نہ سن لے۔ ثمر اور مشائم دروازے پر پیرا دیتے مخالف سمت میں دائیں سے بائیں چکر لگا رہے تھے۔
عاطرہ بیگم اس کے زبانی یہ سوال سن کر شاک ہوگئی۔ ذیال کی دھیمی آواز بھی ان پر بم دھماکے کی گونج کی طرح لگی تھی۔
“کیوں کیا ہوا۔۔۔۔ سب خیریت ہے۔۔۔۔” عاطرہ بیگم نے اپنے تاثرات نارمل رکھنے کی کوشش کی۔
“ہاں وہ۔۔۔ بس نیوز میں دیکھا تھا۔۔۔۔” ذیال نے بات بدلنے کی کوشش کی پر ثمر نے اس کی کوشش ناکام بنا دی۔
“پتا ہے دادو۔۔۔۔ جب بھی نیوز میں ان کا ذکر آتا ہے ممی اور پاپا بہت ڈسٹرب ہوجاتے ہیں۔۔۔۔ خود بھی لڑتے ہیں اور ہمیں بھی بہت ڈانٹتے ہیں۔۔۔۔” ثمر نے منہ بھسورتے ہوئے دادی سے والدین کی شکایت کی۔
عاطرہ بیگم بچوں کے زبانی صدیف کی گھریلو حالت سن کر خفا ہوگئی تھی۔
“پتا نہیں کونسی منحوس گھڑی تھی جو ہم نے اس گھر میں رشتہ جوڑ لیا۔۔۔۔ یہ کم بخت کب میرے بچوں کا پیچھا چھوڑے گا۔۔۔۔۔ پہلے راعنہ کی خوشیاں تباہ کی۔۔۔۔ اب صدیف کے گھر میں آگ لگا رہا ہے۔۔۔۔” عاطرہ بیگم دل ہی دل نوریز کو بد دعائیں دیتے رہی۔
“دادو بتاو نا۔۔۔۔۔ ” ثمر نے انہیں مخاطب کیا۔
“بچوں۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔ نوریز۔۔۔۔ صدیف کا دوست تھا۔۔۔۔ پر ان میں جھگڑا ہوگیا۔۔۔۔۔ آپ لوگ نا۔۔۔۔ ایسی خبروں پر دھیان مت دو۔۔۔۔ ابھی صرف پڑھائی پر دھیان دو۔۔۔۔۔ اچھے مارکس لانے ہیں نا امتحانات میں۔۔۔۔” عاطرہ بیگم بات بدل کر ان سے اسکول اور پڑھائی کے متعلق پوچھنے لگی۔ انہوں نے بچوں کو نوریز کے بارے میں دوبارہ سوال کرنے کا موقع نہیں دیا اور تھوڑی دیر مزید بات کر کے کال کاٹ دی۔ بچوں کے پلے تو کچھ نہ پڑا پر وہ عاطرہ بیگم کے جواب سے مطمئن نہ ہوسکے تھے۔
اسی شام صدیف نے آیت اور بچوں کو گھمانے کا پلان بنایا۔
بچے تو باہر جانے پر بہت خوش ہوئے اور آیت کا موڈ بھی اچھا ہوگیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
وہیں دوسری طرف یاشم چھٹی کا دن گزارنے بٹ ہاوس پہنچا جہاں اس کی ملاقات حمدان سے ہوئی۔
“جس دن ایلزینا کے ساتھ وہ ایکسیڈنٹ ہوا میں آوٹ آف سٹی تھا۔۔۔۔ بابا نے بتایا آپ نے ان کی بہت ہیلپ کی تھی۔۔۔۔تھینکیو سو مچ۔۔۔ اس دن آپ نے میری فیملی کی بہت مدد کی۔۔۔۔ ” حمدان نے مصافحہ کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔
“پلیز اس طرح بار بار تھینکس کر کے شرمندہ مت کیجیئے۔۔۔۔ میں نے وہی کیا جو اس وقت مجھے کرنا چاہیئے تھا۔۔۔۔” یاشم خوش مزاجی سے جواب دیتے اس کے ساتھ لاونج میں داخل ہوا۔
سب سے پہلے اس کی ملاقات کراولنگ کرتے مصور سے ہوئی۔ یاشم نے اسے گود میں اٹھا لیا لیکن مصور نے انجان لمس اور انجان چہرہ دیکھ کر منہ بنایا اور رونے والے تاثرات بنا کر اپنے پاپا کے جانب ہاتھ پھیلائے۔ حمدان نے اس کے رو دینے سے پہلے اسے لے لیا تھا۔
لاؤنج میں بیٹھ کر عاطرہ بیگم اس سے ملنے آئی اور پھر شعیب صاحب بھی وہی آگئے تھے۔ ان سے باتیں کرتے یاشم بار بار دوسری منزل کے جانب دیکھتا۔ اس کی نظریں راعنہ کی دیدار کو ترس رہی تھی۔
“زینی۔۔۔۔ آرام سے۔۔۔۔ پھر سے گر جاو گی۔۔۔۔۔ ” ایلزینا سیڑھیوں کے سمت بھاگی آئی تو راعنہ اس کے پیچھے لپکی۔
پستہ کلر کا قمیض شلوار پہنے میچنگ ڈوپٹہ گلے میں ڈالے بغیر کوئی میک اپ کئے وہ زینی کا ہاتھ تھامے نیچھے آنے لگی۔ سیڑھیاں اترتے راعنہ کے کمر تک آتے لمبے بالوں میں پانی کی سی لہریں بن رہی تھی۔
اس کے ہر قدم کے ساتھ یاشم ماحول سے گم ہوتا گیا۔ اسے یہ تک خیال نہ رہا کہ وہ راعنہ کے والدین کے سامنے بیٹھا ہے۔ اس کی آنکھیں یک ٹک سامنے سے آتی اپنے خوابوں کی رانی کو دیکھ رہی تھیں۔ راعنہ کے لہراتے بال یاشم کے دل میں کہر مچھا چکے تھے۔
آخری سیڑھی اتر کر ایلزینا بڑے صوفے پر بیٹھے یاشم کو دیکھ کر چہک اٹھی۔
“ہائے فرینڈ۔۔۔۔” اسے مخاطب کرتی وہ راعنہ سے اپنا ہاتھ چھڑا کر یاشم کے پاس آگئی۔
راعنہ، یاشم کی آمد سے انجان تھی۔ اسے وہاں دیکھ کر حیران ہوگئی اور پھر تیزی سے ڈوپٹہ سر پر لے لیا۔
“کیسی ہو زینی۔۔۔۔ دکھاو چوٹ کیسی ہے۔۔۔۔” یاشم نے راعنہ پر سے نظریں ہٹا کر زینی کی عیادت کی اور اس کے پیشانی پر سے بھورے بال پیچھے کر کے بینڈیج دیکھا۔
“اب ٹھیک ہوں فرینڈ۔۔۔۔ ہم کہیں گھومنے جا رہیں ہیں کیا۔۔۔” ایلزینا نے پورچ میں حمدان کی گاڑی کے پیچھے یاشم کی جدید ماڈل چمکتی کار دیکھ کر پوچھا تھا۔
“ہممم بالکل جا رہیں ہیں۔۔۔۔ آپ ریڈی ہو کیا۔۔۔۔” یاشم نے ایلزینا کا دل رکھنے بیٹھے بیٹھے اسے گھما کر لانے کا پلان بنایا۔
“بالکل ریڈی ہوں۔۔۔۔” زینی صوفے پر سے اٹھی اور اپنا ڈریس لہراتے اپنی تیاری کی تصدیق دی۔
“زینی۔۔۔ میں آپ کو کسی اور دن لے جاوں گا۔۔۔۔” حمدان نے اس کی یاشم سے بے تکلفی مناسب نہیں سمجھی اور فوراً ٹوک دیا۔ زینی کا منہ بن گیا اس نے منہ لٹکائے یاشم کو دیکھا۔
“اٹس اوکے حمدان۔۔۔۔ بچی ہے۔۔۔۔ اس کا دل کر رہا ہے تو ایک چھوٹی سی آوٹنگ کر لیتے ہیں۔۔۔۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں آپ سب بھی ریڈی ہوجائیں۔۔۔۔ سب بحریہ ٹاؤن جا کر چھوٹی سی پکنک مناتے ہیں۔۔۔۔” یاشم نے جھٹ سے ساری پلاننگ بتائی۔
“وہاں پارک بھی ہے نا۔۔۔۔ نانو چلیں نا۔۔۔۔” زینی کی خوشی دیدنی تھی۔ وہ عاطرہ بیگم کو منانے لگی۔
راعنہ اس دوران خاموش تماشائی بنی رہی۔ عاطرہ بیگم ایلزینا کو سمجھانے لگی۔ یاشم کی نظریں بار بار راعنہ کے جانب بھٹک جاتی پر وہ موقع کی مناسبت سے واپس سر جھکا لیتا۔ وہیں راعنہ بھی اسے مکمل نظر انداز کئے ہوئے تھی۔
آخر کار یاشم کے بضد ہونے پر عاطرہ بیگم حمدان اریبہ اور راعنہ نے ساتھ چلنے کی ہامی بھری۔ شعیب صاحب نے گھر پر رہنا مناسب سمجھا اور باقیوں کو یاشم کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ ایلزینا اور عاطرہ بیگم، یاشم کے ساتھ تھیں جبکہ حمدان اریبہ اور مصور اپنی کار میں ان کے پیچھے پیچھے تھے۔ بحریہ ٹاؤن پہنچتے پہنچتے ان سب کو شام ہوگئی تھی۔ امیوزمینٹ پارک کے پلے ایریا میں ایلزینا نے کمپیوٹر پر ریسنگ بائک چلانے کی ضد کی۔ یاشم اسے بائک پر بیٹھا کر کھیلانے لگا۔ حمدان اور اریبہ مصور کو بچوں والے گاڑی میں بیٹھا کر چلا رہیں تھے۔
اتفاقاً صدیف اور اس کی فیملی بھی بحریہ ٹاؤن ہی گئی ہوئیں تھیں۔ ذیال ثمر اور مشائم سب جھولوں پر بیٹھے، مزے کے کھانے کھائیں اور کارٹون کے پوشاک پہنے لوگوں کے ساتھ تصاویر بنوائے۔ واپسی آتے ہوئے مشائم نے پلے ایریا میں جانے کی ضد پکڑ لی۔
“مشی۔۔۔۔ بہت ہوگیا۔۔۔۔ اتنے رائڈز تو لیئے تم نے۔۔۔ طبیعت خراب ہوجائے گی۔۔۔۔” آیت نے اسے سمجھانے کی کوشش کی پر وہ کسی کی سنے بغیر صدیف کا ہاتھ کھینچ کر پلے ایریا کے اندر لے آئی۔
مشی سب سے پہلے کمپیوٹرایزڈ بائک کی طرف بھاگی پر بائک کے قریب پہنچ کر وہ رک گئی۔ آیت اور صدیف بھی اسی جانب آئے۔
“مشی جلدی کرو۔۔۔۔ گھر واپس بھی جانا ہے نا۔۔۔۔” صدیف نے ہاتھ پر بندھی رولیکس کی گھڑی میں وقت دیکھا تھا۔
مشی اپنے والدین سے غافل پلر کے پار کھڑی شخصیت کو بغور دیکھ کر دنگ رہ گئی تھی۔ اس شخصیت کو پہچانتے ہی مشائم بائک کے سائیڈ سے گزر کر ان کے جانب بھاگی۔
“دادو۔۔۔۔۔ دادو۔۔۔۔” وہ خوشی سے چہک اٹھی تھی۔ اس کے زبان سے نکلنے والے لفظ پر ثمر اور ذیال میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وہ دونوں مشائم کے پیچھے لپکے۔
آیت اور صدیف اپنی جگہ جامد کھڑے عاطرہ بیگم کو دیکھ رہے تھے۔ وہیں عاطرہ بیگم خود سے لپٹتے بچوں کو دیکھ کر شاک ہوگئی تھی۔
“ارے بچوں۔۔۔۔ تم تینوں یہاں۔۔۔۔۔” انہوں نے جھک کر ان تینوں کو پیار کیا اور اپنے بازووں میں بھر لیا تھا۔
راعنہ ان سے دور ایلزینا کے پاس کھڑی تھی جبکہ حمدان نے صدیف اور آیت کو دیکھ لیا تھا۔ وہ جان بوجھ کر راعنہ کے پیچھے اس انداز میں کھڑا ہوگیا کہ آیت کا عکس اس کے اوٹ میں چھپ گیا۔
“کس کے ساتھ آئے ہو بچوں۔۔۔۔” دادو نے باری باری سب کو پیار کر کے پوچھا تھا۔
“پاپا اور ممی کے ساتھ۔۔۔۔ وہ دیکھیں۔۔۔۔” ثمر نے بتاتے ہوئے اپنے عقب میں اشارہ کیا۔
عاطرہ بیگم نے سیدھے ہوتے امید بھری نظروں سے صدیف اور آیت کو دیکھا تھا۔ اپنے لخت جگر کو پانچ سال بعد نظروں کے سامنے دیکھ کر ان کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ وہیں صدیف ہاتھوں کی مٹھی بنائے لب بھینجے مضطرب کھڑا رہا۔ آیت نے ساس کو اپنی جانب متوجہ ہوتے دیکھا تو آگے آکر سلام کیا۔
“السلام علیکم ممی جان۔۔۔۔” آیت خوش مزاجی سے سلام کر کے ساس کے گلے لگی۔
“وعلیکم السلام۔۔۔۔” عاطرہ بیگم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیا۔
ان کی متروم آنکھیں صدیف پر مرکوز تھی۔ صدیف ان سے نظریں ملانے سے کتراتے ہوئے رخ پھیرے کھڑا رہا۔ آیت سے مل کر عاطرہ بیگم خود قدم قدم آگے آئی اور صدیف کے کندھے اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر اپنے جوان خوب رو اور وجیہہ بیٹے کو محسوس کرنے لگی۔
ان کا لمس محسوس کرتے صدیف کا دل موم ہونے لگا اس نے تیزی سے ممی کا لرزتا ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگایا۔
“کیسا ہے میرا بچہ۔۔۔۔”عاطرہ بیگم کی آواز بھیگ چکی تھی۔ دو آنسو ٹوٹ کر ان کے گال پر لڑکھے۔
“ایک ماں سے دور اس کا بچہ کیسا ہوسکتا ہے۔۔۔۔” صدیف نے پلکیں جھپکاتے ہوئے اپنے آنکھوں کی نمی باہر آنے روکنے کی کوشش کی۔
عاطرہ بیگم نے صدیف کے سینے پر سر رکھ دیا تو صدیف نے ان کے گرد بازو حمائل کر کے خود سے لگا لیا تھا۔ دوسری جانب راعنہ نے پیچھے دیکھنے کی کوشش کی تو حمدان فوراً سے اس کے آگے آگیا۔ پلے ایریا کے شور اور بچوں کے رش کش میں راعنہ کو ممی کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔
“ممی کہاں ہے۔۔۔۔” راعنہ نے حمدان کے لمبے قد سے جھانکنے کی کوشش کی۔
“وہ اریبہ کے ساتھ ہے۔۔۔۔ “حمدان نے اس کا رخ آگے کرتے ہوئے خود کنکھیوں سے ممی کو صدیف سے لپٹے ہوئے دیکھا۔
“صدیف تم اپنے بابا سے پھر سے بات کرو۔۔۔۔ پانچ سال ہوگئے ہیں بیٹا۔۔۔۔ گھر واپس آجاو۔۔۔۔ تمہارے بغیر اب رہا نہیں جاتا۔۔۔ بہت یاد آتے ہو۔۔۔۔” عاطرہ بیگم نے التجائی انداز میں کہا۔
“ممی۔۔۔۔ زندگی نے ہماری راہیں الگ کر دی ہیں۔۔۔۔ مجھے تو اب عادت ہوگئی ہے ایسے جینے کی۔۔۔۔۔ آپ بھی عادت ڈال لو۔۔۔۔” صدیف نے سمجھانے کی کوشش کی۔
آیت ماں اور بیٹے کو جذباتی کیفیت سے جونجتے دیکھ کر آبدیدہ ہونے لگی۔ اس کے پاس کھڑے تینوں بچوں میں سوالیہ نظروں کا تبادلہ ہوا۔ ثمر کھسک کر ذیال کے سائیڈ آیا۔
“بھائی۔۔۔ یہ دادو اور پاپا رو کیوں رہیں ہیں۔۔۔۔ اور ممی بھی ایموشنل ہورہی ہیں۔۔۔۔” ثمر نے ذیال کے کان کے پاس ہاتھ رکھ کر ہلکی آواز میں سرگوشی کی۔
“کیونکہ وہ بہت ٹائم بعد مل رہیں ہیں۔۔۔۔ ” ذیال نے اسی انداز میں کان میں سرگوشی کی۔
“تو یہ لوگ الگ کیوں ہوئے۔۔۔۔ جو اب اتنے عرصہ بعد ملنے پر رو رہیں ہیں۔۔۔۔” ثمر کا دوسرا سوال تیار ملا۔
“یہ تو میں بھی جاننا چاہتا ہوں۔۔۔۔” ذیال نے کھوئے ہوئے انداز میں سر جھٹکا تھا۔
“اوکے ممی۔۔۔۔ میں چلتا ہوں۔۔۔۔ آپ اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔” صدیف نے عاطرہ بیگم کو خود سے الگ کرتے ہوئے کہا۔
عاطرہ بیگم اسے روکنا چاہتی تھی پر روک نہ سکی۔ صدیف ان کے ہاتھوں کو چوم کر مڑ گیا۔ آیت نے پھیکا مسکرا کر سر کے خم سے رخصت لیا اور بچوں کو چلنے کی ہدایت دی۔ عاطرہ بیگم نے بچوں کو ہاتھ لہرا کر بائے کرتے اپنے آنسو صاف کئے اور حمدان کے ساتھ آکر کھڑی ہوگئی۔
“ممی۔۔۔۔ آپ ٹھیک ہو۔۔۔۔” حمدان نے مڑے بغیر پوچھا تھا۔
عاطرہ بیگم پر نم آنکھوں سے مسکرا دی۔ ان کے دونوں بیٹے ہی ان پر جان نثار کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔
“ہاں بیٹا۔۔۔۔ ٹھیک ہوں۔۔۔۔” انہوں نے حمدان کا بازو تھپتھپا کر تسلی دی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
سنبل بیگم کب سے نوریز کے بیڈروم کے دروازے کو دیکھ رہی تھی جو صبح سے بند تھا۔ وارث صاحب شام کی چائے پی کر سیر کے لیے نکل گئے تو سنبل بیگم سے مزید رہا نہیں گیا وہ تیزی سے کمرے کا دروازہ بجاتی نوریز کو مخاطب کرنے لگی۔ دروازے کے در سے انہیں ہکلے دھویں اور تیز بد بو کا احساس ہوا تو گھبرا گئی اور ملازم کو اضافی چابی لانے بھیجا۔
چابی سے ہینڈل کا لاک کھول کر جب وہ دروازہ کھولتے اندر داخل ہوئی تو ٹھٹک کر رک گئی۔ نوریز بیڈ کے کنارے بیٹھا سامنے رکھے ڈسٹ بن میں آگ لگائے چند تصاویر اور کچھ کاغذات جلا رہا تھا۔ ہر کاغذ کے ڈسٹ بن جاتے ہی آگ کا شعلہ پہلے سے بھی بڑا بھڑک جاتا۔
“نوریز یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔ اور یہ کمرے کی کیا حالت کر دی ہے۔۔۔۔۔ دور ہٹو جل جاو گے۔۔۔۔۔” سنبل بیگم آگ سے بجتی ہوئی نوریز کے سر پر پہنچی اور اسے جھنجوڑ کر متوجہ کیا۔
“جل تو پہلے سے رہا ہوں مما۔۔۔۔ اپنے اندرونی آگ میں۔۔۔۔ اب یہ آگ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔۔۔۔” نوریز نے فوٹو البم سے ایک اور فوٹو نکال کر نذر آتش کر دی۔
سنبل بیگم وہ تصاویر دیکھ کر غمگین ہوگئی۔
“نوریز۔۔۔۔ پاگل پن مت کرو۔۔۔۔ دیکھ میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔۔۔ چھوڑ دو یہ سب۔۔۔۔” مما نے اس کے ہاتھ سے البم لینا چاہا پر نوریز نے طیش میں آکر اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔
“مما آپ جاو یہاں سے۔۔۔۔ اکیلا چھوڑ دو مجھے۔۔۔۔۔” نوریز نے البم بیڈ پر پھینکا اور سنبل بیگم کو کمرے سے باہر نکالنے لگا۔
“نوریز۔۔۔۔ اپنی ماں پر ایسا ظلم مت کر بیٹا۔۔۔۔ میں تجھے اس طرح نہیں دیکھ سکتی۔۔۔۔۔” مما نے دہائیاں دیتے اسے روکنے کی کوشش کی پر نوریز سفاکی کا مظاہرہ کرتے انہیں کمرے سے باہر لیں گیا اور خود واپس کمرے میں آکر دروازے کی کنڈی چڑھا دی۔
مما اسے دروازے کے پار پکارتی رہی پر وہ ان کی صدائیں نظر انداز کر کے کمرے کی ساری چیزوں کو اپنے عتاب کا نشانہ بنا کر تہس نہس کرنے لگا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
امیوزمینٹ پارک سے نکل کر ان سب نے ڈنر باہر سے ہی کرنے کا فیصلہ کیا اور یاشم کے بتائے ریسٹورنٹ جا پہنچے۔ کار پارک کر کے حمدان مصور کو گود میں اٹھائے اریبہ کے ساتھ چل رہا تھا اور راعنہ ممی کے ساتھ۔ ایلزینا ان سب سے پیچھے یاشم کا ہاتھ تھامے اس سے باتیں کرتی چلی آرہی تھی۔
“تھینکیو فرینڈ۔۔۔۔ آپ بہت اچھے ہو۔۔۔۔ میرے لیے آپ ہم سب کو گھمانے لے آئے۔۔۔۔ مجھے بہت اچھا لگا۔۔۔۔” ایلزینا، یاشم کا ہاتھ پکڑے آگے پیچھے کرتی مشکور ہوئی۔
یاشم اس کے آگے دو زانو ہو کر بیٹھا۔
“یو آر ویلکم۔۔۔۔ جب بھی باہر گھومنے کا دل کرے مجھے بتا دینا۔۔۔۔” یاشم نے اس کے گال کو کھینچ کر آفر دی۔
“نہیں۔۔۔۔ میں روز روز آپ کو تکلف نہیں دوں گی۔۔۔۔” ایلزینا نے موودبانہ لہجے میں جواب دیا۔
“بہت بڑی بڑی باتیں کرتی ہو۔۔۔۔۔ کس سے سیکھی ہے۔۔۔۔” یاشم نے دوستانہ مزاج قائم رکھا۔
“مما سے۔۔۔۔” زینی نے راعنہ کا ذکر کرتے فخریہ انداز میں شانے اچکائے۔
“اچھا۔۔۔۔ اور اپنے پاپا سے کیا سیکھا ہے۔۔۔۔” یاشم نے ایک آبرو اٹھائے سوال کیا۔
یاشم کے سوال پر ایلزینا کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
“پاپا۔۔۔۔” ایلزینا نے سر جھکائے وہ لفظ دہرایا۔
“ہممم آپ کے پاپا حمدان۔۔۔۔ کیا وہ صرف مصور کے ساتھ ہی لگے رہتے ہیں۔۔۔۔” یاشم نے سوچا زینی کو اس کا سوال سمجھ نہیں آیا اس لیے واضح طور پر حمدان کا نام لے کر پوچھا۔
“پر۔۔۔۔ حمدان میرے پاپا نہیں ہیں۔۔۔۔ وہ تو میرے ماموں ہیں۔۔۔” زینی نے یاشم کی تصحیح کراتے ہوئے بغور یاشم کو دیکھا۔
ایلزینا کے جواب پر مانو یاشم کے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا تھا۔ وہ سانس تک لینا بھول گیا۔
“حمدان اور اریبہ آپ کے پیرنٹس نہیں ہیں۔۔۔۔” یاشم نے بے یقینی سے پوچھا۔ اسے لگا شاید وہ زینی کی بات ٹھیک سے سمجھ نہیں پایا ہے۔
“نہیں فرینڈ۔۔۔۔ وہ میرے ماموں اور مامی ہیں۔۔۔۔ مصور کے ممی پاپا ہیں۔۔۔۔” زینی نے اپنی پیشانی پر تھپکی ماری۔
یاشم کا دل ڈوبتا جا رہا تھا۔
“تو۔۔۔۔ تو آپ کی مما کون ہے۔۔۔۔ ” یاشم شاید کسی اور جواب کی توقع کر رہا تھا۔ دل ہی دل وہ چاہتا تھا کہ راعنہ کی کوئی اور بہن نکل آئے اور ایلزینا راعنہ کی بیٹی نہ ہو پر اس کے توقعات کے بر عکس جواب وہی ملا جس کا اسے ڈر تھا۔
“ارے۔۔۔ میری مما تو وہ ہے جو آپ کے آفس میں کام کرتی ہیں۔۔۔۔ راعنہ۔۔۔۔” ایلزینا باقاعدہ تپ گئی تھی۔ اس نے ایک ایک لفظ ٹھہر کر ادا کیا تاکہ یاشم ٹھیک سے سمجھ جائے۔
یاشم اس سارے معاملے کو سمجھنے کے لیے شروع سے سارے واقعات جوڑنے لگا۔
جب ایلزینا کے اسکول سے کال آئی تھی تو راعنہ کی حالت بالکل ویسی تھی جیسے ایک زخمی بچے کی ماں کی ہوتی ہے۔ ہسپتال میں بھی سب سے زیادہ وہ حواس باختہ تھی۔ حمدان اور اریبہ نے بھلے ہی زینی سے جذباتی وابستگی دکھائی ہو پر اپنی بیٹی تو کبھی نہیں کہا۔
ساری کڑیاں جڑ چکی تھی۔ وہیں یاشم کا دل ریزہ ریزہ ہوگیا تھا۔
“زینی۔۔۔۔ کم ہیئر۔۔۔۔ کب سے ویٹ کر رہی ہوں۔۔۔۔” راعنہ نے ریسٹورنٹ کے انٹرنس سے اسے آواز لگائی۔
اس کی آواز پر یاشم نے بے یقینی سے راعنہ کے جانب دیکھا تھا پر وہ اس کے جانب متوجہ نہیں تھی۔
“کمنگ مما۔۔۔۔” زینی یاشم کے ہاتھ ہٹا کر ریسٹورنٹ کے سمت بھاگ گئی۔
یاشم بے دم سا اٹھ کھڑا ہوا۔ اچانک اس کا سر بہت بھاری لگ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں درد ہونے لگا۔ دماغ میں بار بار زینی کا انکشاف گردش کرنے لگا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
ایلزینا کو ٹیبل پر بیٹھا کر راعنہ نے ریسٹورنٹ کے قد آور کھڑکی سے باہر دیکھا تو یاشم اسی جگہ جامد کھڑا تھا۔ اس کے تاثرات دیکھ کر راعنہ کو کھٹک محسوس ہوئی اور اسے بلانے باہر آگئی۔
“کیا ہوا یاشم۔۔۔ آپ اندر کیوں نہیں آرہیں۔۔۔۔ چلیئے سب کھانے پر آپ کا ویٹ کر رہیں ہیں۔۔۔۔” راعنہ نے یاشم کو مخاطب کیا تو اس نے گلہ آمیز نظروں سے اسے دیکھا۔
“اتنا بڑا دھوکہ دیا ہے آپ نے مجھے۔۔۔۔۔ کیوں کیا ایسا۔۔۔۔” یاشم کی آواز میں دنیا جہاں کی تکلیف سمٹ آئی تھی۔
“کیا کیا ہے میں نے۔۔۔۔ کونسا دھوکہ۔۔۔۔۔” راعنہ شاک ہوگئی تھی۔
“یہی کہ ایلزینا آپ کی بیٹی ہیں ۔۔۔۔ آپ شادی شدہ ہیں۔۔۔۔ کیوں نہیں بتایا مجھے۔۔۔۔” یاشم کو اپنا آپ گہرے کھائی میں گرتے محسوس ہوا تھا۔
وہیں راعنہ اس کے زبان سے نکلنے والے الفاظ سن کر ساکت ہوگئی تھی۔
“شادی شدہ ہو کر۔۔۔۔ ایک بچی کی ماں ہو کر آپ نے میرے جذبات سے کھلواڑ کیا ہے۔۔۔۔ مجھے آپ سے ایسی امید نہیں تھی راعنہ۔۔۔۔۔” یاشم کے چہرے پر مایوسی چھا گئی وہ یک دم بہت ٹوٹا ہوا لگ رہا تھا۔
“میں نے آپ کو کوئی دھوکہ نہیں دیا۔۔۔۔” راعنہ نے وضاحت دینا چاہی پر یاشم نے اس کی بات بیچ میں کاٹ دی۔
“جھوٹ۔۔۔۔ آپ کوئی بچی تھوڑی ہو جو میرے فیلنگز سمجھ نہ سکو۔۔۔۔ ” یاشم کی آواز بلند ہونے لگی۔ راعنہ سہم کر ایک قدم پیچھے ہوگئی۔
“میں آپ سے پیار کرنے لگا ہوں یار۔۔۔۔۔ آئی لو یو۔۔۔۔ کیا آپ اتنا نہیں سمجھ پائی۔۔۔۔ ” تکلیف کی شدت سے یاشم کو غصہ آنے لگا۔
اس کے زبانی محبت کا اعتراف سن کر راعنہ کی آنکھیں بھیگ گئی۔
“میں باربی کیو پارٹی والی رات ہی سمجھ گئی تھی۔۔۔۔ اسی لیے آپ کو اگنور کر رہی تھی۔۔۔۔ آپ سے دور رہنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔ پر آپ میری ہر کوشش کو ناکام بنانے پر تلے ہوئے تھے۔۔۔۔” راعنہ نے خود کو کمپوز کرتے ہوئے جواب دیا۔
یاشم بے یقینی سے اس کا جھکا سر دیکھنے لگا۔
“جو ہوا۔۔۔۔ سب ایک غلط فہمی کی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔۔ آپ مجھے بھول جاو۔۔۔۔۔” راعنہ کے بے تاثر الفاظ نے یاشم کو منوں مٹی تلے دفنا دیا تھا۔
“کتنا آسان ہے آپ کے لیے یہ سب کہنا۔۔۔۔۔ پر میرے لیے آپ کو بھلانا اپنے آپ کو بھلانے جیسا ہے۔۔۔۔ میں نے کہا تھا نا۔۔۔۔ جو میرے لیے خاص ہو میں اس کے لیے بہت پوسیسیو ہوجاتا ہوں۔۔۔۔ پھر آپ سے تو محبت کی ہے۔۔۔۔۔ جنون کی حد تک چاہا ہے آپ کو۔۔۔۔ ” یاشم نے اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے راعنہ کو کندھوں سے تھام کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
راعنہ اس کے مضبوط لمس پر کانپ اٹھی وہیں اس کی ہیزل گرین آنکھوں میں جنون اتر آتے دیکھ کر پریشان بھی ہوگئی۔
“ان سب کا کوئی فائدہ نہیں ہے یاشم۔۔۔۔ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی اپنے آپ کو سنبھال لو۔۔۔۔” راعنہ کا دل بہت تیز دھڑک رہا تھا۔ یاشم کے سینے پر ٹکائے اس کی ہتھیلیاں پسینہ پسینہ ہوگئی تھی۔
“آپ نے میرے دل کو بہت ٹھیس پہنچائی ہے۔۔۔۔۔ آپ کو مجھے سب کچھ پہلے بتا دینا چاہیئے تھا۔۔۔۔ کیوں اتنا بڑا دھوکہ دیا۔۔۔۔ شادی شدہ ہو کر کیوں میری محبت کو بڑھاوا دیا آپ نے۔۔۔۔ ” یاشم کا گلہ اپنی جگہ قائم رہا۔
راعنہ نے اس کے سینے پر زور دے کر خود کو اس کے بازووں سے آزاد کرایا۔
“میں نے کوئی دھوکہ نہیں دیا آپ کو۔۔۔۔۔ بلکہ میں نے تو آپ سے اپنی ذاتی زندگی کے متعلق کبھی کچھ شئیر ہی نہیں کیا تو دھوکہ کیسا۔۔۔۔” راعنہ کو بار بار الزام تراشی سے دکھ ہونے لگا۔ اس کے لیے مزید وہاں رکنا دوبھر ہو گیا تو جانے کے لیے پلٹی۔
“اور ہاں۔۔۔۔ ایلزینا میری بیٹی ہے۔۔۔۔ پر میں شادی شدہ ہوں نہیں۔۔۔۔۔ شادی شدہ تھی۔۔۔۔ میرا ڈائوورس ہوچکا ہے۔۔۔۔۔” اس نے رخ موڑ کر سرد مہری سے کہا۔
یاشم کے تاثرات ڈھیلے پڑ گئے۔
“پر ہمارے سوسائٹی میں ایک طلاق یافتہ۔۔۔۔ بیوہ۔۔۔۔۔ اور بڑی عمر کی سنگل لڑکی کے نصیب میں صرف در در کی ٹھوکریں کھانا لکھا ہے۔۔۔۔ یہاں مجھ جیسی لڑکیوں کو سر اٹھا کر جینے نہیں دیا جاتا۔۔۔۔ ہر کوئی جھوٹی ہمدردی جتا کر پیروں تلے روند دیتا ہے۔۔۔۔۔ اور افسوس کر کے چلا جاتا ہے۔۔۔” راعنہ کی گہری سیاہ آنکھیں ڈبڈبا گئی اور تیزی سے ریسٹورنٹ کے جانب بڑھ گئی۔
یاشم وہی کھڑے اسے جاتے دیکھتا رہا۔
راعنہ اپنے آپ کو کمپوز کرتے ٹیبل پر آئی تو بقیہ فیملی کھانا شروع کر چکے تھے۔
“کہاں رہ گئی تم۔۔۔۔ اور یاشم کہاں ہے۔۔۔۔ کھانا ٹھنڈا ہورہا ہے۔۔۔۔” عاطرہ بیگم نے شکایتی انداز میں گھورا۔
“وہ۔۔۔۔ انہیں کوئی ضروری کام آگیا تھا تو چلے گئے۔۔۔۔ آپ سب کھا لیں۔۔۔۔” راعنہ نے زبردستی مسکرا کر خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کی۔
یاشم کچھ دیر وہی کھڑے ریسٹورنٹ کے دروازے کو دیکھتا رہا جہاں سے راعنہ ابھی ابھی اندر گئی تھی۔ افق سے ٹکرا ٹکرا کر اس کی باتیں یاشم کے سماعتوں میں پڑنے لگیں۔ لمبا سانس خارج کر کے اس نے کار پارکنگ کے جانب قدم اٹھائے اور وہاں سے روانہ ہوگیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
بچوں کو سلا کر آیت کمرے میں آئی تو صدیف بیڈ پر نیم دراز بیٹھا ہاتھ سینے پر باندھے گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ آیت اس کے ساتھ بیڈ پر آکر بیٹھی تب بھی صدیف کو کسی کا آنا محسوس نہیں ہوا۔ آیت نے اپنا ہاتھ اس کے بازو پر رکھا تو وہ چونک کر حقیقت میں لوٹ آیا۔
“کیا سوچ رہیں ہیں صدیف۔۔۔۔” آیت نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔
“ممی نے کہا میں بابا سے بات کر کے گھر واپس آجاوں۔۔۔۔ پانچ سال ہوگئے ہیں۔۔۔۔ وہ مان جائیں گے۔۔۔” صدیف نے عاطرہ بیگم کے الفاظ دہرائے۔
“بابا نے ہمیں کبھی گھر سے نہیں نکالا۔۔۔۔ وہ تو ہم سے ناراض بھی نہیں ہیں۔۔۔۔ ہم جائیں گے تو وہ خوشی خوشی گھر میں اجازت دے دیں گے۔۔۔۔ پر۔۔۔۔ ” آیت ایک پل کے لیے خاموش ہوگئی۔ صدیف جانتا تھا وہ کس کا نام لیتے ہوئے رک گئی ہے۔
“بات راعنہ کی ہے۔۔۔۔ وہ مجھے اپنی نظروں کے سامنے بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔۔۔ اور بابا۔۔۔۔ اپنی بیٹی کے خاطر مجبور ہیں۔۔۔۔۔” آیت کی آواز بھیگ گئی۔
صدیف نے اسے دلاسہ دینے خود سے لگا لیا تھا۔
“حمدان بھی مجھ سے نفرت کرتا ہے۔۔۔۔ آج اس نے مجھے راعنہ کو ایک نظر دیکھنے بھی نہیں دیا۔۔۔۔ ممی بھی سرسری ملی تھی۔۔۔۔ ” آیت کے آنسو تھیوڑی پر لڑکھ کر صدیف کی شرٹ میں جذب ہوگئے۔
“میں اتنی بری ہوں کیا۔۔۔۔ میں نے آپ کی فیملی کے خاطر اپنے والدین تک سے رشتہ توڑ دیا۔۔۔۔ پر پھر بھی ان کا دل مجھ سے صاف نہیں ہوا۔۔۔۔۔” اس نے روتے ہوئے چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا لیا۔
“نہیں آیت۔۔۔۔ تم بالکل بری نہیں ہو۔۔۔۔۔ اور میرا یقین ہے۔۔۔۔ ایک دن سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔۔ ” صدیف نے اس کا شانہ تھپتھپا کر دلاسہ دیا تھا۔