Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Nadamat) Episode 2

ایسی ہی پر جوش صبح شاہ ولا میں ہوئی تھی۔ چار دفعہ الارم بند کر کے آخر کار پانچویں الارم پر یاشم آفان شاہ اٹھ گیا۔ گاڑیوں کے امپورٹ ایکسپورٹ کی دنیا کے جانے مانے نام آفان شاہ صاحب کا سب سے لاڈلا بیٹا یاشم جو جوانی اور کامیابی کی اونچائی کو چھو رہا تھا۔ تین بہنوں کا اکلوتا بھائی اور شاہ ولا کا چشم و چراغ تھا۔
جتنا وہ دادا جان اور بابا جان کا نور جگر تھا اتنا ہی دادی جان مما اور تینوں بہنوں کے آنکھوں کا تارا۔
ستائیس سال کا یاشم حال ہی میں لندن کے مشہور یونیورسٹی سے آٹو موبائل انجینئرنگ کر کے لوٹا تھا اور اب بابا جان کے ساتھ ان کے گاڑیوں کے بزنس کو نئی بلندی پر لیں کر جا رہا تھا۔
آج بطور ایم ڈی آفس جوائن کرنے کا پہلا دن تھا اس لیے وہ لیٹ نہیں ہونا چاہتا تھا۔ بند آنکھوں سے ہی وہ واشروم میں در آیا اور شاور لینے لگا۔
آفان شاہ صاحب اپنے بابا کے ساتھ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ نوش فرما رہیں تھے۔ ان کی بیگم فریحہ اور چھوٹی بیٹی آفروزہ بھی ٹیبل پر موجود تھیں۔ جبکہ باقی دونوں بڑی بیٹیاں شادی شدہ تھیں۔
“گڈ مارننگ ایوری ون۔۔۔۔ السلام و علیکم دادا جان۔۔۔۔” یاشم جینز پر بلیک شرٹ اور میرون کلر کا کوٹ پہنے گیلے بال پیچھے ٹکائے ٹیبل پر آن بیٹھا۔
آفان صاحب جوان بیٹے کی فرمانبرداری دیکھ کر محظوظ ہوئے تھے۔ دادا جان نے سلام کا جواب دیا اور اسے اپنے بائیں جانب سیٹ پر بیٹھنے کا کہا۔ یاشم نے ہیوی ناشتہ کرنے کے بجائے صرف فروٹس کھانے پر اکتفا کیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
بٹ ہاوس کی صبح عجلت بھری تھی۔ حمدان آفس کے لیے تیار کھڑا بار بار ہاتھ میں پہنی گھڑی دیکھ رہا تھا۔
“راعنہ آپی۔۔۔۔ جلدی کرو بھئی۔۔۔۔ اسکول کا گیٹ بند ہوجائے گا۔۔۔۔” اس نے سیڑھیوں کے سمت رخ اوپر کر کے صدا لگائی تھی۔ دیر اسے ہورہی تھی پر اس نے بلواسطہ ایلزینا کے اسکول گیٹ کا بہانہ کیا۔
“سوری سوری۔۔۔۔۔ یہ بد معاش آج اٹھ کر ہی نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔ ” راعنہ اسکول بیگ میں پانی کی بوتل اڑھستے مصروف انداز میں گویا ہوئی۔
ایلزینا نے ممی کے ہاتھ سے بیگ جھپٹا اور بھاگ کر پورچ میں آگئی۔
“زینی۔۔۔۔ کبھی تو جلدی اٹھ جایا کرو۔۔۔۔” حمدان نے نرمی سے پر چہرے پر سختی برقرار رکھتے ٹوکا تھا۔
“سوری ماموں۔۔۔۔ اب چلیں۔۔۔۔” ایلزینا نے کان پکڑ لیئے اور حمدان سر جھٹک کر کار میں سوار ہو گیا۔
بیٹی کو اسکول بھیج کر راعنہ خود تیز تیز تیار ہونے لگی۔ پانچ سال بعد اس نے زندگی کو نئے سرے سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
راعنہ شعیب بٹ، اپنے کالج کی سب سے ذہین طالب علما تھی۔ لمبا قد گول چہرہ بڑی سیاہ آنکھیں ستواں ناک اور گلابی ہونٹ۔ معصومیت سے سرشار، وہ زندگی سے بھر پور لڑکی ہوا کرتی تھی۔ اس کی حاضر جوابی اور ذہانت کی مثال ہر ایک کے زبان پر ہوا کرتی تھی پر وقت نے اس سے سارے خصوصیات چھین لیئے تھے۔ اسے دوبارہ اپنا آپ بنانے میں پانچ سال لگے اور بلاآخر وہ زندگی کے جانب لوٹ آئی۔
جامنی کلر کے کرتے اور پاجامے کے ساتھ شیفون کا میچنگ ڈوپٹہ اسکارف کی صورت سر پر لپیٹ کر اس نے ہینڈ بیگ کی اسٹرپ کندھے پر ڈالی اور اپنے سرٹیفکیٹس کی فائل ہاتھ میں اٹھائے کمرے سے باہر آئی۔ صوفے پہ بیٹھے شعیب صاحب کے آگے جھک کر ان سے دعائیں لی اور کچن میں کھڑی ممی کے پاس آگئی۔
“راعنہ ناشتہ تو کر لو۔۔۔۔” عاطرہ بیگم نے متفکر آواز میں اسے مخاطب کیا۔
“ممی الریڈی لیٹ ہوگئی ہوں۔۔۔۔ آفس کے بریک ٹائم میں کچھ نا کچھ کھا لوں گی۔۔۔۔ ابھی بائے۔۔۔۔۔۔ بائے بھابھی۔۔۔۔ بائے شونا بیٹا۔۔۔۔” عاطرہ بیگم سے دعا لیں کر وہ مڑی تو اریبہ بھابھی سے سامنا ہوا۔ لگے ہاتھوں بھابھی سے رخصت لے کر وہ بھتیجے کو پیار کرتی گیٹ کے جانب بڑھ گئی۔
شعیب صاحب گیٹ کے باہر ٹیکسی رکوائے اس کے منتظر تھے۔ راعنہ کے باہر آتے ہی وہ باپ بیٹی ٹیکسی میں سوار ہوگئے۔ آفس سے چند کلومیٹر قبل تک مکمل خاموشی رہی۔ جب آفس کی عمارت نظر آنے لگی تو شعیب صاحب نے راعنہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے جانب متوجہ کیا۔
“راعنہ۔۔۔۔ میں جانتا ہوں۔۔۔۔ تم بہت مضبوط ہو۔۔۔۔۔ تم زندگی کے پچھلے امتحانات کی طرح اس امتحان کو بھی اچھے سے پاس کر لو گی۔۔۔۔ پھر بھی کسی موڑ پر تمہیں اپنے قدم ڈگمگاتے محسوس ہوں۔۔۔۔ تو یاد رکھنا۔۔۔۔ تمہارا یہ بوڑھا باپ۔۔۔۔ تمہارے ساتھ ہے۔۔۔۔” شعیب صاحب نے بیٹی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے راعنہ کا سر اپنے کندھے سے لگایا۔
“تھینکیو بابا۔۔۔۔” راعنہ نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر ان کے کندھے پر سر رکھے شکریہ ادا کیا۔ بابا کے کہے الفاظ اس میں نئی امید بھر گئے تھے۔ وہ پہلے سے زیادہ مطمئن اور با اعتماد ہوگئی۔
آفس کے سامنے راعنہ کو ڈراپ کر کے شعیب صاحب نے اسی ٹیکسی میں سینٹرل لائبریری کا رخ کیا۔ راعنہ نے سر اوپر اٹھا کر اس لمبے اور چوڑے عمارت کا جائزہ لیا۔ شاہ امپورٹ ایکسپورٹ پرائویٹ لمیٹڈ کا وہ مین آفس نظروں کو خیرہ کر دینے کے حد تک بڑا اور عالیشان تھا۔ خالص ماربل اور شیشے کے بنے اس عمارت کو دیکھ کر بندے کی آنکھیں چندیا جاتیں۔ راعنہ نے دل میں کامیابی کی دعا پڑھتے عمارت کے اندر قدم رکھا۔
سفید ماربل کے فرش پر چلتی وہ ریسپشن پر آئی اور اپنا تعارف بتاتے ہوئے اپائنٹمنٹ لیٹر آگے کیا۔
“آپ وہاں بیٹھ جائیں۔۔۔۔ باس آئیں گے تو میں آپ کو بلوا لوں گی۔۔۔۔” ریسپشن پر موجود لڑکی نے پروفیشنل انداز وضاحت دی۔
راعنہ سر کو خم دے کر ویٹنگ ایریا میں آگئی۔ یہاں سے مین انٹرینس صاف دکھائی دے رہا تھا۔ لابی کا جائزہ لے کر راعنہ دوسری منزل پر کام کرتے ایمپلائیز کے جانب متوجہ ہوئی۔ ایک سے بڑھ کر ایک ویل مینرڈ اور اچھے پوشاک میں ملبوس ورکرز اپنے اپنے کام سر انجام دیتے نظر آئے۔ گیٹ پر ایک کے بعد دوسری مہنگی اور جدید ماڈل گاڑیوں کے رکنے پر راعنہ نے رخ انٹرینس کے سمت کر لیا۔ سیکیورٹی گارڈز موودب انداز شیشے کا بنا گیٹ کھولے کھڑے تھے جن میں سے ایک اڈھیر عمر رعب و دبدبہ کے حامل سفید داڑھی مونچھ نفاست سے بنائے خاکی پڑتے بالوں کو پیچھے ٹکائے سوٹڈ بوٹڈ ایمپلائیز کے سلام کا جواب دیتے شخص اندر داخل ہوئے۔ ان کے پیچھے جوان اور چارمنگ وجہیہ شخص جو ایک قدم پیچھے باس کے انداز کو کاپی کرتا رہا۔
آفان شاہ صاحب اور یاشم آگے پیچھے چلتے دائیں کوریڈور کے کیبن میں چلے گئے۔ ان کی آمد سے آفس سٹاف میں مچی ایک پل کی کھلبلی تھم گئی اور سب اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوگئے۔ تھوڑی دیر مزید انتظار کر کے ریسپشنٹ نے راعنہ کو باس کے آفس میں جانے کی اطلاع دی۔ ایک لمحے کے لیے راعنہ کا دل دھڑکا تھا لیکن پھر اسے اپنے بابا کی نصیحت یاد آئی اور وہ خود کو کمپوز کرتے ہوئے کیبن کے جانب بڑھ گئی۔ دروازے پر دستک دے کر وہ اندر داخل ہوئی تو سامنے بڑے سے ٹیبل کے پار یاشم اکیلے بیٹھا تھا۔ آفان صاحب کیبن سے منسلک ریسٹ روم میں کال پر بات کر رہے تھے۔
“یس کم ان۔۔۔۔ ” یاشم نے دروازے پر دستک سن کر فائل پر نظریں جمائے ہوئے ہی آواز لگائی۔
راعنہ مبہم سی ہو کر اندر داخل ہوئی اور ٹیبل کے پاس کھڑی رہی۔ آفس اخلاقیات کے مطابق وہ یاشم کے متوجہ ہونے تک خاموش ہی رہی۔
“اوو پلیز سٹ ڈاون۔۔۔۔” سر اوپر اٹھاتے ہوئے یاشم نے راعنہ کو بیٹھنے کا کہا۔
“تھینکیو سر۔۔۔۔” راعنہ شکریہ ادا کرتے ایک سیٹ پیچھے کر کے تشریف فرما ہوگئی۔
یاشم نے ایک نظر راعنہ کو دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا۔ راعنہ کی سمندر جیسی گہری آنکھوں میں وہ مانو ڈوب گیا تھا۔ یاشم کی نظریں خود پر محسوس کرتے راعنہ نے اپنی پلکیں گرا دی اور اس لمحے یاشم کو لگا جیسے اس کی دھڑکن رک گئی ہو۔ کیبن کے فضا میں چھائی خاموشی وال کلاک کی ٹک ٹک سے ٹوٹتی اور اگلے پل مکمل خاموشی چھا جاتی۔ یاشم میز کے پار سیٹ پر براجمان سراپے کے سحر میں اس قدر کھو گیا کہ اسے اپنے آس پاس دیگر چیزوں کا ہوش ہی نا رہا تھا۔
“یس۔۔۔ اوکے۔۔۔۔ جی میں آپ کو نیو ڈیزائن فارورڈ کر دوں گا۔۔۔ اوکے تھینکیو۔۔۔۔ بائے۔۔۔۔” آفان صاحب کال پر آخری گفگتو کرتے ریسٹ روم سے باہر آئے تو یاشم حال میں لوٹا اور خود کو کمپوز کرتے ہوئے رخ پھیر لیا۔
اس کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی تھی۔ اگر وہ کچھ دیر اور اس لڑکی کو دیکھتا رہا تو یقیناً اسے پیار ہوجائے گا؛ دل ہی دل میں ایسا سوچ کر یاشم خود کو ڈپٹنے لگا۔
“گڈ مارننگ سر۔۔۔۔ میرا نام راعنہ شعیب ہے۔۔۔۔ میں یہاں ایڈیٹر کی جاب کے لیے سیلیکٹ ہوئی ہوں۔۔۔۔” راعنہ نے ہاتھ میں پکڑے فائل میں سے اپنا سلیکشن لیٹر آفان صاحب کے آگے کیا۔
آفان صاحب نے خوش دلی سے لیٹر لیا اور عینک لگا کر دیکھنے لگے۔ وہیں یاشم کی سماعتوں میں راعنہ کی نرم آواز پڑی تو وہ خود کو مزید روک نہیں پایا اور پھر سے اس کو دیکھنے لگا۔ راعنہ بظاہر تو کمپوز تھی لیکن یاشم کی نظروں سے اسے الجھن ہونے لگی وہ اضطرابی کیفیت میں بار بار سر جھکا لیتی۔
لیٹر میں سے سیریل نمبر اپنے سامنے پڑھے لیپ ٹاپ میں ڈال کر آفان صاحب نے جب راعنہ کی ٹیسٹ کی کارگردگی دیکھی تو کافی محظوظ ہوئے۔
“مس راعنہ ویلکم ٹو شاہ آٹوموبائل پرائویٹ لمیٹڈ۔۔۔۔” آفان صاحب نے اس کے لیٹر پر سائن کر کے اس کی جاب یقینی بنائی۔
“تھینکیو سر۔۔۔۔۔” راعنہ متبسم ہوئی۔
راعنہ کی مسکان دیکھ کر یاشم اس پر فریفتہ ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ اس جذبے سے وہ پہلی مرتبہ متعارف ہورہا تھا۔ یاشم اس کیفیت کو کیا نام دے اسے سمجھ نہ آیا۔
آفان صاحب نے اپنے سیکریٹری کو بلا کر راعنہ کو اس کے ٹیبل پر لے جانے کی ہدایت دی۔ راعنہ یاشم کو نظر انداز کر کے آفان صاحب کا شکریہ ادا کرتی کیبن سے باہر آگئی۔ بیٹے کی دلی کیفیت سے انجان آفان صاحب اپنے کام کے جانب متوجہ ہوگئے جبکہ یاشم کافی دیر تک راعنہ کے سحر میں مبتلا رہا۔ وہ لندن سے ڈگری ہولڈر تھا۔ کئی ساری لڑکیاں اس کی دوست بھی رہیں تھیں پر جو کیفیت راعنہ سے مل کر ہوئی تھی وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ ایک گھنٹے تک اپنے جذبات کو نام دینے کے جتن کر کے آخر یاشم کا دل دھڑکنے لگا۔ اسے پھر سے راعنہ کو دیکھنے کی خواہش ہوئی۔
“بابا میں ایک راونڈ لگا کر آتا ہوں۔۔۔۔” اس نے آفان صاحب کو مخاطب کیا اور سیٹ سے اٹھ کر کیبن سے باہر آگیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
آفان صاحب کی سیکریٹری راعنہ کو دوسری منزل کے ورکرز ہال میں لکڑی کے پارٹیشن سے بنائے چھوٹے چھوٹے خانوں میں سے ایک خانے میں لے آئی۔ وہ راعنہ کے کام کرنے کی جگہ تھی۔
وہاں پہلے سے موجود ایمپلائیز اپنے اپنے خانوں میں سے جھانک کر نئی کارکن کو مشاہدہ کرنے لگے۔ چند ایک خواتین میں راعنہ کے بابت چی مگوئیاں بھی ہوئیں۔ راعنہ نے رولنگ سیٹ پر بیٹھ کر سامنے چھوٹے ٹیبل اور اس پر موجود کمپیوٹر کا جائزہ لیا۔ کمپیوٹر کے پیچھے ٹیبل کے اندر کئی چھوٹے شیلف بنے تھے جہاں وہ ضروری دستاویزات رکھ سکتی تھی اور ٹیبل کے نیچھے سیف لاک بھی موجود تھا۔ راعنہ کو وہ سب سیٹ اپ بہت پسند آیا۔
“مس راعنہ۔۔۔۔ یہ چند خطوط ٹائپ کر کے اس ایڈریس پر ای میل کر دیں۔۔۔۔ یہ آپ کا آج کا کام ہے۔۔۔۔” آفان صاحب کی سیکریٹری کاغذات اس کے سامنے رکھ کر گویا ہوئی۔
راعنہ نے متبسم ہو کر ہامی بھری اور کمپیوٹر آن کیا۔ اس نے پہلا ہی خط ٹائپ کیا تھا کہ ہال میں ہلچل مچ گئی۔ کچھ کارکن اپنی سیٹ سنبھالے کام کرنے کی اداکاری کرنے لگے تو کچھ نے فائلز منہ کے آگے کر لیئے۔ لڑکیاں شریر نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ یاشم ہال کے سرے پر کھڑے اندر جھانک رہے تھے۔
“کیسے ہو عدنان۔۔۔۔ کام صحیح چل رہا ہے۔۔۔۔ زرا مجھے باقی اسٹاف سے متعارف کرواو۔۔۔۔۔” اپنے پہچان کے ایمپلائی کو مخاطب کر کے یاشم نے آخری خانے سے جھلکتے سراپے کو دیکھا تھا۔
راعنہ نے ایک نظر یاشم کو دیکھا اور پھر سے سر جھکا کر ٹائپنگ کرنے لگی۔ وہیں دوسری جانب یاشم کے دل کی دنیا راعنہ کے اس ادا پر تہہ و بالا ہوچکی تھی۔ وہ ماحول سے گم ہو کر راعنہ کے سحر میں کھو چکا تھا۔ عدنان اپنی سیٹ سے اٹھ کر اسے ایک ایک کارکن سے متعارف کروانے لگا۔ کارکان سے حال احوال دریافت کرتے وہ قدم قدم آگے آتا گیا۔ کئی لڑکیاں تو اس کی پرسنیلٹی کی تعریف باندھنے لگیں۔ یاشم ان سب سے سرسری مل کر راعنہ کے ٹیبل پر آیا تو احتراماً وہ کھڑی ہوگئی۔
“یہ آج ہی اپائنٹ ہوئی ہیں۔۔۔ مس راعنہ۔۔۔۔ ” عدنان نے اس کا تعارف بتایا۔
“تھینکیو عدنان۔۔۔۔۔ آپ جا سکتے ہیں۔۔۔۔” یاشم نے راعنہ کو دیکھتے ہوئے اسے جانے کی ہدایت دی۔ عدنان سر کو خم دے کر وہاں سے چلا گیا۔
“کوئی پریشانی تو نہیں ہے۔۔۔۔ کسی بھی ہیلپ کی ضرورت ہو تو مجھ سے پوچھ سکتی ہو۔۔۔۔” یاشم نے اپنائیت سے پوچھا تھا۔
“نو سر۔۔۔۔ کوئی پریشانی نہیں ہے۔۔۔۔” راعنہ نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔
“سر نہیں۔۔۔۔ میرا نام یاشم ہے۔۔۔۔ سر جیسے لقب سے مجھے اپنا آپ بہت بڑا لگتا ہے۔۔۔۔ اور میں نہ عمر میں اتنا بڑا ہوں نہ رتبے میں۔۔۔۔ اس لیے صرف یاشم۔۔۔۔” ہر گزرتے پل کے ساتھ یاشم کا مزاج دوستانہ ہورہا تھا۔ اس نے آخری فقرہ کہتے ہوئے مصاحفہ کرنے ہاتھ آگے کیا۔
راعنہ کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کریں۔ اس نے مضطرب ہو کر پہلے یاشم کو دیکھا اور پھر اپنے جانب بڑھے اس کے ہاتھ کو۔
“تھینکیو یاشم۔۔۔۔۔ ایسے ٹھیک ہے۔۔۔۔ ” راعنہ نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی تھی۔
“بالکل۔۔۔۔” یاشم نے غیر محسوس انداز میں اپنا ہاتھ پیچھے کر کے پینٹ کی جیب میں ڈال لیا۔
“اوکے یاشم۔۔۔ مجھے یہ سب کام پورا کرنا ہے۔۔۔۔” راعنہ معذرت کر کے اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی اور ٹائپنگ میں مصروف ہوگئی۔
یاشم کو تو اس کے زبانی اپنا نام اور بھی پیارا لگ رہا تھا۔ کافی دیر تک وہ راعنہ کے ٹیبل کے پاس کھڑے اس کے میٹھے لہجے اور محسور کن آواز کے سحر سے نکلنے کی کوشش کرتا رہا۔ راعنہ اس کی موجودگی میں ٹائپ نہیں کر پائی بار بار اس سے سپیلنگ میں غلطی ہوجایا کرتی۔ یاشم دل ہی دل خود کو ڈپٹ کر پلٹ گیا۔ سیڑھیوں کے سرے پر پہنچ کر وہ کسی کی پکار پر رکا۔
“یاشم۔۔۔۔ یاشم یہ ڈیزائن دیکھ کر بتاو کیسا ہے۔۔۔۔” مہر بھاگتے ہوئے اس کے رو بہ رو آئی۔
یاشم نے تند نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
“کیا میں نے آپ کو پرمیشن دی ہے مجھے نام سے بلانے کی۔۔۔ کال می سر۔۔۔۔ ایم ڈی ہوں میں یہاں کا۔۔۔۔ ڈونٹ فارگیٹ۔۔۔۔۔” اس کے تاثرات کے جیسے آواز بھی سخت ہوگئی تھی۔
“وہ آپ نے راعنہ سے کہا کہ آپ کو نام سے بلائے تو۔۔۔۔” مہر کی ہوائیاں اڑ گئی تھی۔ اپنے رویئے کی وضاحت دیتے اس کی زبان لڑکھڑا گئی۔
“تو کیا آپ راعنہ ہے۔۔۔۔ مجھے کون کس نام سے بلائے گا۔۔۔ کون کس طرح پیش آئے گا یہ میں خود طے کروں گا۔۔۔۔” سرد مہری سے کہتے یاشم نے اس کے ہاتھ میں پکڑی فائل لے کر ڈیزائن دیکھے۔
“اچھا ہے۔۔۔ پر موڈیفیکیشن کی ضرورت ہے۔۔۔۔ آپ عدنان سے پوچھے وہ آپ کو بتا دے گا۔۔۔۔” یاشم نے مزاج خوشگوار بنا کر مہر کے بنائے ڈیزائن کو سراہا۔
“ایسا کیا ہے اس راعنہ میں۔۔۔۔ جو آتے ہی یاشم اس پر فدا ہوگیا ہے۔۔۔۔” مہر نے ہونہہ کیا اور پیر پٹختی اپنے ٹیبل پر جا بیٹھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
صدیف کا دن معمول کے مطابق مصروف رہا تھا۔ جبکہ آیت دن بھر نوریز کے بارے میں سوچ کر مضطرب رہی تھی۔ شام کے وقت صدیف صوفے پر چت لیٹا ہوا تھا اور مشائم اس کے سینے پر لیٹی ایل ای ڈی اسکرین پر کارٹون دیکھنے میں مگن تھی۔ صدیف ایک ہاتھ سے مشائم کی پیٹھ ہلکے ہلکے تھپتھپا رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سے موبائل یوز کر رہا تھا۔ کارٹون کے ایک سین میں لڑکی جب دروازہ کھولتی ہے تو سامنے بڑا سا پھرتیلا لمبی ناک والا ولن اس پر جملے کستا ہنس رہا ہوتا ہے۔ وہ سین دیکھ کر مشائم کو صبح کا واقعہ یاد آیا۔
“پاپا آپ کو پتا ہے۔۔۔ آج صبح ایک بیڈ انکل آئے تھے۔۔۔۔” مشائم سر اٹھا کر تجسس بھرے انداز میں گویا ہوئی۔
“بیڈ انکل۔۔۔”صدیف نے یہ الفاظ دہرا کر تصدیق چاہی۔
“ہاں پاپا۔۔۔۔ بہت برا انکل تھا۔۔۔۔ وہ ممی سے لڑھ رہا تھا۔۔۔۔ میں بہت ڈر گئی تھی۔۔۔۔ بہت روئی بھی۔۔۔۔” مشائم نے معصومیت سے سر جھٹکا اور پھر صدیف کے سینے پر سر رکھ کر کارٹون دیکھنے لگی۔
“آیت نے تو مجھ سے کسی کے آنے کا ذکر نہیں کیا۔۔۔۔” صدیف گہری سوچ میں پڑ گیا۔
“کون آیا تھا۔۔۔۔” اس نے ذہن پر زور دیا پر ایسا کوئی عکس نہیں ابھرا جس پر اسے شک ہوتا۔
اسی اثنا گیٹ کھلا اور آیت ذیال اور ثمر کے تکرار کو روکنے کی کوشش کرتی لاونج کے اندر داخل ہوئی۔
“ذیال۔۔۔ ثمر۔۔۔ نو۔۔۔ پہلے ڈنر۔۔۔ پھر آئس کریم۔۔۔۔” آیت انہیں جھڑکتی کچن میں چلی گئی۔
آئس کریم کا نام سن کر مشائم صدیف کے سینے پر سے اتر کر ممی کے پیچھے کچن میں چلی گئی تھی۔ صدیف اٹھ بیٹھا اور پُر سوچ انداز میں کچن کے جانب رخ کر کے آیت کو دیکھنے لگا۔
“ممی مجھے بھی آئس کریم چاہیئے۔۔۔۔” مشائم اچھل اچھل کر آیت کے ہاتھ سے پیکٹ لینے کی کوشش کرنے لگی۔
“مشی۔۔۔۔ چاکلیٹ فلیور ہیں۔۔۔۔” ثمر نے اسے مزید لالچ دیا تو وہ رو دینے کو ہوگئی۔
“مشی۔۔۔ ڈنر کے بعد۔۔۔ صدیف۔۔۔۔ کچھ کہو نا۔۔۔۔” بیٹی کو ڈپٹ کر بھی جب بچے اس سے قابو نہ ہوئے تو اس نے لاونج کے طرف چہرا کر کے شوہر کو آواز دی۔
“ذیال۔۔۔ ثمر۔۔۔ ممی کہہ رہی ہیں نا ڈنر کے بعد۔۔۔۔ چلو جاوں ہاتھ دھو کر آو۔۔۔۔” صدیف نے درشتی سے بیٹوں کو جھڑکا تو وہ دونوں منہ لٹکائے کچن سے نکل گئے۔
بھائیوں کو ڈانٹ پڑتے دیکھ کر مشائم پتلی گلی سے نکلنے کے مانند نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ آیت، صدیف کو اس قدر غصے میں دیکھ کر چونک گئی تھی۔ صدیف ایک نظر آیت کو دیکھ کر وہاں سے چلا گیا۔ آیت کا اسے بے خبر رکھنے پر صدیف کو شدید غصہ تھا پر وہ فلحال اس موضوع پر بات کرنے سے گریزاں رہا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
بٹ ہاوس میں شام کی چائے پر سب ساتھ بیٹھے تھے۔ راعنہ سے اس کے آفس میں پہلے دن کے بابت پوچھا گیا تو حمدان نے چاپانی کلائنٹ کے ساتھ میٹنگ کی تفصیلات بتائی۔ عاطرہ بیگم اور اریبہ اپنی اپنی مصروفیات سناتی رہی۔ بابا نے ملک کے حالات پر تبصرہ کیا۔
ایلزینا ان اب سے قدرے فاصلے پر دبیز قالین پر بیٹھی ڈرائنگ میں مگن تھی۔ اپنی ڈرائنگ مکمل کر کے وہ شعیب صاحب کے پاس صوفے پر آکر ٹک گئی۔
“نانا ابو یہ دیکھو۔۔۔ میں نے ہماری فیملی بنائی ہے۔۔۔۔ ” زینی خوشی سے نوٹ بک ان کے آگے کر کے دکھانے لگی۔
چوکور اور دائرے کے اشکال بنا کر اس میں نقطہ لگا کر آنکھ ناک اور منہ کی نشان دہی کر کے پتلی لکیروں سے ہاتھ اور پیر بنائے گئے تھے۔ مردوں کے بال چھوٹے اور عورتوں کے لمبے رکھے ہوئے تھے۔
عمر کے حساب سے نانا اور نانو کے بال خاکی جبکہ بقیہ کرداروں کے سیاہ رنگے ہوئے تھے۔ ایک چھوٹا گنجہ بچہ بھی بنایا گیا تھا جو یقیناً حمدان کے بیٹے مصور کا خاکہ تھا۔ ان سب خاکوں کو قریب قریب بنایا گیا تھا جبکہ ایک عکس ایسا تھا جسے زینی نے سب سے الگ بنا کر مکمل سیاہ رنگ دیا تھا۔
“یہ میں ہوں۔۔۔ یہ مما ہے۔۔۔۔ یہ آپ اور نانو۔۔۔۔ یہ مامو اور مامی۔۔۔۔ اور یہ مصور۔۔۔ میری ڈرائنگ میں بھی یہ سو رہا ہے۔۔۔ ہہہہہ۔۔۔۔” ایک ایک خاکے کا تعارف بتا کر زینی خود ہی ہنس پڑی۔
“بہت اچھا بنایا ہے۔۔۔۔ ہماری گڑیا بڑی ہو کر پینٹر بنے گی ہممم۔۔۔۔” شعیب صاحب نے اسے اچھے سے سراہا اور اس کی حوصلہ افزائی کی۔
“پر یہ کون ہے۔۔۔۔” شیعب صاحب نے اچھنبے سے اس کالے خاکے کے متعلق استفسار کیا تھا۔
زینی کے چہرے پر اداسی کی لہر چھا گئی۔
“یہ میرے پاپا ہے۔۔۔۔ مجھے نہیں یاد وہ کیسے دکھتے ہیں۔۔۔ اس لیے پورا بلیک کلر کر دیا۔۔۔۔” زینی نے راعنہ کے جانب دیکھتے ہوئے جھجک کر بتایا۔
ماحول میں ایک پل کے لیے خاموشی چھا گئی۔ سب میں بے یقینی سے نظروں کا تبادلہ ہوا۔ عاطرہ بیگم اور حمدان کے چہرے پر ناگواری چھا گئی اور راعنہ نے پہلو بدل دیا۔اریبہ انجان رہنے کی کوشش کرتے چائے کے کپ کو دیکھنے لگی۔
“وہ بھی ہماری طرح انسان ہے گڑیا۔۔۔۔” شعیب صاحب نے خاموشی توڑی اور ایلزینا کے ہاتھ سے پینسل لے کر دوسرا خاکہ بنانے لگے۔
“حیوان کہو۔۔۔۔ ” عاطرہ بیگم منہ میں بڑبڑائی۔ شعیب صاحب نے تندی سے انہیں گھورا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایلزینا کے دل و دماغ میں اس کے پاپا کو لے کر منفی خیالات پیدا ہو۔
حمدان والد کے احترام میں خاموش رہا پر غصہ ضبط کرنے کے باعث چہرے پر سرخی مائل ہوگئی تھی۔
“لمبا قد۔۔۔۔ چوڑے شانے۔۔۔۔ مضبوط ہاتھ۔۔۔۔ بڑی بڑی آنکھیں۔۔۔۔ لمبی برابر ناک۔۔۔۔ گلابی ہونٹ۔۔۔۔۔ بڑی سی مسکان۔۔۔۔ کالے گھنے بال۔۔۔۔ دلکش توانا مرد۔۔۔۔” بابا جیسے جیسے اس کے نقوش بیان کرتے ڈرائنگ بنا رہے تھے ویسے ویسے راعنہ کے ذہن میں وہ خاکہ حقیقی روپ اختیار کرتا گیا۔
جتنا وہ سحر انگیز تھا اتنا ہی راعنہ اس کی سایے سے بھی وحشت زدہ ہوگئی تھی۔ مضطرب ہو کر وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
“کیا ضرورت تھی راعنہ کے سامنے اس منحوس کا ذکر کرنے کی۔۔۔” عاطرہ بیگم اپنے شوہر پر خفہ ہوئی۔
حمدان سرد سانس خارج کر کے اٹھ گیا تو اریبہ بھی اس کے پیچھے کمرے میں چلی گئی۔ ایلزینا نے ایک ایک کر کے سب کو اٹھتے دیکھا تو مایوسی نے نانا ابو کے جانب دیکھا۔ وہ آنکھوں آنکھوں میں اپنی بیوی سے بچی کے سامنے ایسے الفاظ استعمال کرنے پر شکایت کرنے لگے۔ ایزینا نوٹ بک اٹھا کر لان میں نکل آئی۔
“سب آپ سے ناراض ہیں۔۔۔۔ آپ نے کیوں چھوڑا مما کو۔۔۔۔” ایلزینا نے نانا ابو کے بنائے خاکے کو دیکھ کر شکایت کی تھی۔ وہ انسان ڈرائنگ میں اتنے پر کشش تھے تو اصل میں کتنے ہینڈسم ہونگے، ایلزینا نے دل میں سوچا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نوریز صدیقی اپنے کنگ سائز بیڈ پر بازو پھیلائے اوندھے منہ سونے کی کوشش کر رہا تھا۔ انسان جب گلے تک ندامت کے سمندر میں ڈوبا ہوا ہو اسے سکون کی نیند بہت کم نصیب ہوتی ہے۔
کروٹ بدل بدل کر بھی جب اسے سکون نصیب نہ ہوا تو جھنجھلا کر اٹھ بیٹھا۔ اس نے سائیڈ بورڈ سے تاریک کمرے کے سارے بلب لگا دیئے۔ اچانک اسے اندھیرے سے خوف آنے لگا تھا۔ جس انسان نے خود دوسروں کی زندگی اندھیروں میں دھکیل دی ہو اسے آج اس تاریکی سے وحشت محسوس ہوتی تھی۔ ایک موہوم سی امید کے ساتھ اس نے موبائل فون اٹھایا اور آیت کا نمبر ڈائل کیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
آیت صدیف کے کندھے پر سر رکھے سورہی تھی جب سائیڈ ٹیبل پر پڑا اس کا موبائل تھرتھرایا۔ آیت نے آنکھیں کھولتے بند کرتے ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھایا جس پہ رات کے ڈیڑھ بجے نوریز کی کال آرہی تھی۔ آیت نے موبائل کی وائبریشن ہلکی کی اور تیزی سے رخ موڑ کر صدیف کے جانب دیکھا تھا۔ وہ بے خبر سورہا تھا۔ اسے سوتا پا کر آیت بنا آواز کئے بیڈ سے اتری اور دبے پاؤں چلتے کمرے سے باہر نکل گئی۔ صدیف نے دروازہ بند ہونے کے کچھ دیر بعد اپنے آنکھیں کھول لی۔ اس کے ماتھے پر شکن نمودار ہوئے تھے۔
“مسئلہ کیا ہیں آپ کو۔۔۔۔۔ منع کیا تھا نا میں نے۔۔۔۔ پھر کیوں کال کر رہے ہیں آپ۔۔۔۔” آیت نے کال اٹھاتے ہی سختی سے کہا۔
“آیت مجھے ایک موقع تو دو۔۔۔۔” نوریز نے التجا کی۔
“میں آپ سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔ جب موقع تھا تب تو آپ نے ہم سب کی زندگیاں جہنم بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔۔ اور اب پھر سے سکون برباد کرنے آئے ہیں۔۔۔۔ پلیززز اب تو ہمیں بخش دیں۔۔۔۔” آیت نے کرب سے لب دانتوں میں دبائے ہوئے کال کاٹ دی اور تیز تیز سانس لیتے خود کو کمپوز کرنے لگی۔
اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی وہ لمبا سانس لیتے مڑی تھی کہ ٹھٹک گئی۔ صدیف سپاٹ تاثرات بنائے آیت کے عقب میں کھڑا تھا۔ آیت گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹ گئی۔ اس نے موبائل اپنے پیچھے چھپانے کی کوشش کی جو صدیف دیکھ چکا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔