Nadamat By Palwasha Safi Readelle50274 (Nadamat) Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
(Nadamat) Episode 5
گھر آکر یاشم سیدھے بابا کے اسٹڈی روم میں گیا۔
“بابا۔۔۔ ڈیزائن مہر نے سیل کئے ہیں۔۔۔۔ راعنہ نے نہیں۔۔۔۔” اس کے انکشاف کر آفان صاحب حیرت زدہ ہوگئے۔
“لیکن وہ ای میل ڈیٹیل راعنہ کے کمپیوٹر کی ہیں یاشم۔۔۔” بابا نے الگ دلائل پیش کئے۔
“جی بابا۔۔۔۔ ای میل راعنہ کے کمپیوٹر سے ہی بھیجا گیا ہے۔۔۔۔ پر میں نے خصوصی طور پر بینک کی تفصیلات چیک کی ہے۔۔۔ فیصل چشتی کے اکاونٹ سے رقم مہر کے اکاونٹ میں جمع ہوئی ہے اور جو ڈیزائن لیک ہوا ہے اس کی ہیڈ بھی مہر تھی۔۔۔۔” یاشم نے ایک ایک کر کے ساری تفصیلات بابا کے گوش گزار کی۔
بابا افسوس کرتے سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔
“میں نے بیکار میں راعنہ کو اتنا ڈانٹ دیا۔۔۔۔ وہ کیا سوچ رہی ہوگی۔۔۔۔ اور اس مہر کو تو پولیس کے حوالے کرنا چاہیئے۔۔۔۔” آفان صاحب طیش میں آگئے تھے۔
“ایسا ہی ہوگا بابا۔۔۔۔ آپ فکر نا کریں۔۔۔ راعنہ سے بھی میں خود معذرت کروں گا۔۔۔۔ میں سب سنبھال لوں گا۔۔۔۔” یاشم نے بابا کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے تھپتھپا کر تسلی دی تھی۔
آفان صاحب اس پر ناز کرتے سر کو جنبش دیتے مشکور ہوئے تھے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
اگلے دن صبح ہی صبح فاروقی ہاوس کے گیٹ پر دستک ہوئی۔ یاشم پولیس نفری لیئے مہر کے گھر میں داخل ہوا۔
“مس مہرالنساء فاروقی۔۔۔ شاہ آٹوموبائل پرائویٹ لمیٹڈ کا ڈیزائن سیل کرنے اور ان کی کمپنی کی ایمپلائی مس راعنہ کا کمپیوٹر مس یوز کرنے، ان پر جھوٹا الزام لگانے کے جرم میں آپ کو گرفتار کیا جاتا ہے۔۔۔۔” لیڈی پولیس نے آگے آکر مہر کے ہاتھوں میں ہتھکڑی پہنائی۔
“یہ جھوٹ ہے۔۔۔ یہ سب راعنہ نے کیا ہے۔۔۔۔ وہ کمینی مجھے پھنسا رہی ہے۔۔۔۔” مہر نے اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے راعنہ کو گالی دی۔
“تمیز سے نام لو ان کا۔۔۔۔ جو کھڈا تم نے راعنہ کے لیے کھودا تھا۔۔۔ خود اسی میں گر گئی ہو مہر۔۔۔۔ میں نے خود سارے ثبوت اکھٹا کئے ہیں۔۔۔۔ حتہ کہ وہ ویڈیو کلپ بھی ری کور کروا لی ہے جو تم نے عبدلمجید کو پیسے دے کر ڈیلیٹ کروائی تھی۔۔۔۔ تمہارا پلان فیل ہوچکا۔۔۔۔” یاشم کا پارہ آسمان کو چھونے لگا۔ اسے راعنہ کے لیے بولے جانے والے نا زیبا کلمات قطعی برداشت نہیں ہوئے۔
مہر اس کے زبانی اپنے کرتوت افشاں ہوتے سن کر مزید پریشان ہوگئی اور گھر کے اندرونی سمت چہرہ کر کے اپنے ڈیڈ کو صدائیں دینے لگی۔ فاروقی صاحب پورچ میں آئے اور مذاحمت کرنے لگے لیکن یاشم نے ان کی ایک نہیں سنی اور پولیس اہلکار مہر کو گرفتار کر کے لے گئے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
آفس آکر وہ کافی دیر راعنہ کا منتظر رہا پر جب وہ نہیں آئی۔ بلکہ اس نے حمدان نے ہاتھوں اپنا استعفی بھجوایا تو یاشم کو بہت برا لگا۔ اس نے خود راعنہ کے گھر جا کر معافی مانگنے کا فیصلہ کیا اور آفس ریکارڈز سے اس کا ایڈریس نوٹ کر کے اس کے گھر کا رخ کیا۔
بٹ ہاوس میں خاموشی کا راج تھا۔ گیٹ کے بیل پر راعنہ نے گیٹ کھولا تو یاشم کو اپنے سامنے کھڑے پایا۔
“کون آیا ہے راعنہ۔۔۔۔” شعیب صاحب آنکھوں پر گلاسس لگاتے لاؤنج کے سرے تک آئے۔
یاشم راعنہ کے سائیڈ سے گزر کر اندر داخل ہوا اور سلام کرتے شعیب صاحب کے رو بہ رو ہوگیا۔
“السلام و علیکم انکل۔۔۔ میں راعنہ کے آفس کا ایم ڈی ہوں یاشم آفان شاہ۔۔۔۔” یاشم نے خوش دلی سے اپنا تعارف کرایا اور پھر ان کے آگے ہلکا سا جھک گیا۔
شعیب صاحب نے یاشم کے عقب سے نظر آتی راعنہ کو دیکھا اور پھر یاشم کے سر پر ہاتھ پھیرتے اسے اندر چلنے کی دعوت دی۔
یاشم خوشی خوشی ان کے ساتھ ڈرائنگ روم کے اندر چلا گیا۔ راعنہ وہی کھڑے کھڑے سوچ میں پڑ گئی تھی۔
صوفے پر آمنے سامنے بیٹھے شعیب صاحب یاشم کے گویا ہونے کے منتظر تھے۔ اتنی دیر میں عاطرہ بیگم اور راعنہ بھی وہیں آگئیں تھیں۔ یاشم نے ایک نظر ان تینوں کو دیکھا اور پھر صوفے پر آگے ہو کر کنکارا۔
“راعنہ۔۔۔ بابا کی طرف سے میں معذرت خواہ ہوں۔۔۔۔ انہیں مس انڈرسٹینڈنگ ہوگئی تھی۔۔۔۔ انہوں نے اُسی حقیقت مانا جو انہیں دکھایا گیا تھا۔۔۔۔ اور معاملے کی تہہ تک جانے سے پہلے آپ کو ڈانٹ دیا۔۔۔۔ آئی ایم رئیلی سوری۔۔۔” یاشم باقائدہ معذرت چاہنے لگا۔
“وہ سب مہر نے کیا تھا اور الزام آپ پر لگ گیا۔۔۔ میں دل سے بہت شرمندہ ہوں۔۔۔۔ آپ چاہے تو پولیس میں ہمارے خلاف کمپلین درج کر لیں۔۔۔۔ میں ہر قسم کا جرمانہ بھرنے تیار ہوں۔۔۔۔ پر آپ یوں ریزائن میں کیجیئے۔۔۔۔ پلیزز۔۔۔ ” یاشم نے افسردگی سے سر جھکا لیا تھا۔
راعنہ نے بابا اور ممی کو دیکھا وہ دونوں اسی کو دیکھ رہے تھے۔ شعیب صاحب کی نظروں سے راعنہ نے اپنا رخ پھیر لیا جیسے وہ کہہ رہے ہو کہ راعنہ استعفی واپس لینے کا فیصلہ خود کرے جبکہ راعنہ کسی فیصلے پر نہیں پہنچ پا رہی تھی۔ یاشم معافی مانگ کر پُر امید نظروں سے راعنہ کو دیکھنے لگا۔ اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا وہ کسی صورت راعنہ کا انکار سننے کا حامی نہ تھا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔ میں آپ کی معذرت قبول کرتی ہوں۔۔۔۔ غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے۔۔۔ میں اپنا استعفی واپس لیتی ہوں۔۔۔۔” راعنہ نے با اعتماد انداز میں جواب دیا۔
یاشم کے خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ اس کی خوشی چہرے پر نمایاں واضح تھی۔ وہ مشکور ہوتا جانے لگا پر بابا نے روک لیا۔
“آپ پہلی مرتبہ گھر آئیں ہیں۔۔۔۔ چائے پی کر جائیں۔۔۔ ” شعیب صاحب نے خوش اسلوبی سے آفر دی۔
یاشم اٹھتے اٹھتے واپس بیٹھ گیا تو راعنہ بابا کی ہدایت مان کر اس کے لیے چائے بنانے چلی گئی۔ چائے کے دوران یاشم اور بابا کے مابین تعلیم اور بزنس کے متعلق نیک خیالات کا تبادلہ ہوتا رہا۔ جاتے ہوئے راعنہ اسے رخصت کرنے گیٹ تک ساتھ آگئی۔ پہلی مرتنہ اسے یاشم صاف دل اور نیک انسان لگا تھا۔
“میں آپ کا ویٹ کروں گا۔۔۔۔ آفس میں بہت کام پڑا ہے۔۔۔۔ جلدی آنا۔۔۔۔” اپنے دوستانہ مزاج کو برقرار رکھنے یاشم نے سختی سے ہدایت دی تھی۔
“ہہہہ اوکے۔۔۔” راعنہ دل سے متبسم ہوئی۔
یاشم کے تاثرات بدلنے لگے اس کی نظروں میں خمار چھانے لگا تھا جو اس نے بر وقت سر جھکا کر چھپا لیا اور آفس کے لیے روانہ ہوگیا۔ یاشم کے جاتے ہی راعنہ تیزی سے اپنے کمرے میں گئی اور آفس جانے کی تیاری کرنے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
حمدان اور صدیف چونکہ ایک کشتی کے دو مسافر تھے اس لیے اکثر اوقات سالانہ میٹنگز میں ملاقات ہوجایا کرتی تھیں۔ پہلے پہل وہ دونوں ایک دوسرے کو نظر انداز کر دیتے پر پچھلی ملاقات کے بعد دونوں کے مابین نفرت کی دیوار ٹوٹنے لگی تھی۔
سینٹرل آفس میں سال بھر کے تجارت کی تفصیلات جمع کرواتے ہوئے حمدان کو کافی بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ وہ انجمن تاجران کے صدر سے کچھ مہلت مانگ رہا تھا لیکن وہ بار بار انکار کر دیتا۔
صدیف نے جب حمدان کو گھاٹے میں جاتے دیکھا تو فوراً آگے آیا۔ حمدان کو صدیف کی مداخلت پسند نہیں آئی۔
“آپ کو میرے معاملات میں دخل دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔” حمدان تاسف سے بولا۔
“میں تمہیں نہیں اپنے فیملی بزنس کو ڈوبنے سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔۔۔” صدیف، حمدان کی باتوں پر دھیان دیئے بغیر اس کی فائل پڑھنے لگا تا کہ غلطیوں کی نشاندہی کر سکے۔
“وہ آپ کی فیملی نہیں ہیں۔۔۔۔” حمدان نے سرد مہری سے صدیف کے ہاتھوں سے فائل جھپٹ لی۔
“صرف گھر چھوڑ کر چلے جانے سے خون کے رشتے ٹوٹ نہیں جاتے حمدان۔۔۔۔ اور یہ تم بھی اچھے سے جانتے ہو۔۔۔ میں نے سب کے سکھ کے لیے ہی گھر چھوڑا تھا۔۔۔۔” صدیف کی آواز میں سختی در آئی تھی۔
حمدان ایک پل کو مبہم سا ہوگیا کیونکہ صدیف صحیح کہہ رہا تھا۔ اسے خاموش دیکھ کر صدیف نے اس کے ہاتھوں سے فائل واپس لے لی اور ٹہلتے ہوئے پڑھنے لگا۔
“صحیح کہا آپ نے بھئیاں۔۔۔۔ گھر چھوڑنے سے خون کے رشتے ٹوٹ نہیں جاتے۔۔۔ اسی لیے تو آپ کی ڈانٹ بھی مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔۔۔۔” حمدان نے دل میں سوچا تھا۔
صدیف اس کی غلطیاں نشاندہی کرا کر اسے درست طریقہ کار سمجھانے لگا۔ حمدان نے ساری توجہ اس پر مرکوز کر لی۔ جلدی جلدی ٹوٹل درست کرا کر جب حمدان دوبارہ صدر کے آفس میں گیا تو اب کی بار اس کا حرج کم تھا۔ 8 فیصد کے بجائے 2 فیصد کٹائی ہوئی جس پر حمدان نے شکر کا سانس لیا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ کو آفان صاحب کے دفتر میں کام کرتے تین ہفتے ہوگئے تھے۔ پورے سٹاف سے اس کی اچھی پہچان ہوگئی تھی اور یاشم کے دوستانہ مزاج کے ساتھ بھی ایڈجسٹ کر لیا تھا۔ اب راعنہ، یاشم کی باتوں کا برا نہیں مناتی اور یاشم تو ہر دوسرے ہاور کے بعد اس کے ٹیبل پر آجاتا کچھ دیر اسے دیکھ کر اور اس کا حال احوال دریافت کر کے واپس اپنے کیبن میں چلا جاتا۔
آفان صاحب دفتر کم ہی آیا کرتے تھے انہوں آدھے سے زیادہ ذمہ داری یاشم پر ڈال دی تھی جو وہ بخوبی سنبھال رہا تھا۔ اس نے نئے ڈیزائن پر کام شروع کیا جو اس کے اپنے ہی لیپ ٹاپ میں ہوا کرتا اور مہر کی گرفتاری کے بعد کسی اور کی اس ڈیزائن کو چوری کرنے کی ہمت نہیں ہوسکی۔
اس دن یاشم اپنے کیبن میں بیٹھے نئے ڈیزائن پر کام کر رہا تھا جب دروازے پر دستک ہوئی اور ساتھ ہی راعنہ نے اندر جھانکا تھا۔
“یاشم۔۔۔ آپ نے بلایا تھا۔۔۔” اس نے اپنے آنے کی وجہ یاد کروائی۔
“راعنہ۔۔۔۔ آو اندر آو۔۔۔۔” یاشم اپنے پہلے پروجیکٹ کے مکمل ہونے پر بہت خوش تھا۔ اس نے سب سے پہلے راعنہ کو ڈیزائن دکھا کر رائے لینا چاہی۔
“یہ فائنل ڈیزائن دیکھو۔۔۔۔ کیسا ہے۔۔۔۔” یاشم نے اپنے لیپ ٹاپ کو گھوما کر اس کا رخ میز کے پار چئیر پر بیٹھی راعنہ کے سمت کیا۔
راعنہ اس نئے اسپورٹس کار کا ڈیزائن دیکھ کر دنگ رہ گئی تھی۔
“بہت زبردست ہے۔۔۔۔ آپ تو بہت اچھا ڈیزائن کرتے ہیں۔۔۔۔ اٹس امیزنگ۔۔۔۔” راعنہ کو گاڑیوں کی اتنی سمجھ تو نہ تھی پر وہ لیپ ٹاپ اسکرین پر چل رہے سلائیڈز کو سراہے بغیر نہ رہ سکی۔
“ہہہہ تھینکس۔۔۔ یہ ڈیزائن مجھ سے یو کے میں انجیئرنگ کے وقت مرسیڈیز کمپنی کے مالک نے خریدنا چاہا تھا۔۔۔ پر میں نے نہیں دیا۔۔۔۔ سوچا فائدہ پہنچانا ہے تو اپنے ملک کو ہی کیوں نہ پہنچاوں۔۔۔۔ ترکی دینی ہے تو اپنے وطن کو دیتا ہوں کسی غیر ملکی کمپنی کو کیوں۔۔۔۔” یاشم ٹیبل پر ہاتھ رکھے آگے ہو کر بیٹھا۔ راعنہ کہنی میز پر رکھے اور ہاتھ گال کے نیچھے ٹکائے اسے دیکھ رہی تھی۔
“پتا ہے راعنہ۔۔۔۔۔ ہمارے لوگوں کا ایک نظریہ بن گیا ہے۔۔۔۔ فارن کنٹری جانا ہے۔۔۔۔ وہاں سیٹل ہونا ہے۔۔۔۔ وہاں کی کمائی اچھی ہے۔۔۔۔ فارن کے نام پر اچھے رشتے ملیں گے۔۔۔۔ اپنے ملک میں رہتے ہوئے یہ سب نہیں ہوسکتا۔۔۔۔” یاشم کی باتیں کسی ماہر فلاسفر سے کم نا تھی۔ اس نے نوجوان نسل کی بہت بڑی غلطی کی نشاندہی کرائی۔
“پر میں سوچتا ہوں۔۔۔۔ جب تک ہم یہاں رہ کر یہاں کے حالات میں بسر کر کے اس ملک کی ضروریات کو نہیں سمجھیں گے۔۔۔ تب تک ہمارا ملک ترقی کیسے کرے گا۔۔۔۔ ہمیں خود اپنے ملک میں رہ کر یہاں کی معیشت سوارنی ہے۔۔۔ رائٹ راعنہ۔۔۔۔” بات کرتے کرتے یاشم کو محسوس ہوا کہ موضوع گفتگو بہت سیریس ہوگیا ہے تو خود سے ہی دوستانہ مزاج بنا کر راعنہ کو مخاطب کیا۔
“بالکل۔۔۔۔ پر آج کل ایسی سوچ کے حامل جوان بہت کم ہوگئے ہیں۔۔۔ “راعنہ نے افسوس کرتے سر جھٹکا۔
“اسی لیے تو میں انٹرنیشنل پلیٹ فارم پر ہماری کمپنی کو ترکی دلا کر لوگوں میں یہ شعور بڑھانا چاہتا ہوں۔۔۔ اور اس کام میں مجھے آپ کا تعاون درکار ہے۔۔۔” یاشم کی بات پر راعنہ خوش اسلوبی سے مسکرائی۔
“میں آپ کے ساتھ ہوں۔۔۔۔ ” راعنہ نے اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی تو یاشم مشکور ہوا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
اگلے ہفتے یاشم کو اپنا ڈیزائن لانچ کرنے اسلام آباد میں منعقد افتتاحی تقریب میں حصہ لینا تھا۔ اس تقریب میں کئی نیشنل اور انٹرنیشل کاروباری افراد کی شرکت متوقع تھیں۔ یاشم کے ساتھ دو لڑکوں اور ایک لڑکی پر مشتمل اسٹاف ممبران بھی جا رہے تھے پر یاشم نے راعنہ کو بھی ساتھ لے جانے کا پلان بنایا تاکہ وہ اس کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکیں۔ اسی سلسلے میں بات کرنے وہ راعنہ کے پاس آیا اور اسے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔
“سوری یاشم میں نہیں آسکتی۔۔۔۔ میں نے کبھی اکیلے ٹریول نہیں کیا۔۔۔۔ میں ایسے کہی نہیں گئی۔۔۔۔” الگ الگ دلائل دے کر راعنہ انکار کرنے لگی۔
“راعنہ آپ کا چلنا ضروری ہیں۔۔۔ آپ میری چیف ایڈیٹر ہو۔۔۔ تقریب کی ساری تفصیلات آپ نے ہی تو لکھنی ہیں۔۔۔ چلنا تو پڑے گا۔۔۔۔ پلیز۔۔۔ اور پھر آپ اکیلی تھوڑی ہیں۔۔۔ میں ہوں ساتھ میں اور دو تین دیگر اسٹاف ممبران ہیں۔۔۔۔ عاصمہ بھی ہیں۔۔۔۔ دو دن ہی کی بات ہے راعنہ۔۔۔۔” یاشم نے اسے منانے کی کوشش کی۔
“میں عاصمہ کو سمجھا دوں گی۔۔۔۔ وہ ڈیٹیل لکھ کر مجھے بھیج دیں گی۔۔۔۔ پر میرا جانا مشکل ہے۔۔۔۔” راعنہ نے سر نفی میں ہلاتے پھر سے انکار کیا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔ آپ نہیں آرہی تو میں لانچ کینسل کر دیتا ہوں۔۔۔ مجھے بھی نہیں جانا پھر۔۔۔۔” یاشم برا مان گیا اور ضد کرتے لمبے ڈگ بھرتا روانہ ہوگیا۔
راعنہ پیچھے اسے پکارتی رہ گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
گھر آکر راعنہ نے فیملی سے درپیش مسئلہ شئیر کیا۔ بابا اور ممی نے اسے جانے کی اجازت دے دی۔ حمدان بھی دل و نا دل مان گیا تھا پر راعنہ کے لیے اصل مسئلہ ایلزینا کا تھا۔ وہ اس کے بغیر کبھی نہیں رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ زینی اپنی مما کے جانے کا سن کر اداس ہوگئی تھی۔
“زینی۔۔۔۔ دو دن کے لیے جانا ہے بےبی۔۔۔۔ آپ کے پاس نانا نانو ماموں مامی سب ہونگے نا۔۔۔۔” راعنہ بیڈ پر گھٹنوں کے گرد بازو حمائل کر کے اداس بیٹھی ایلزینا کو قائل کرنے لگی۔
“سب ہونگے۔۔۔۔ پر آپ تو نہیں ہونگی۔۔۔۔ آپ نے تو کہا ہے آپ مجھے کبھی چھوڑ کر نہیں جائیں گی۔۔۔۔ “زینی نے رونے والی معصوم آنکھیں اٹھا کر مما کو دیکھا۔
“میں آپ کو کبھی چھوڑ کر نہیں جاوں گی۔۔۔۔ بس دو دن کے لیے آفس والوں کے ساتھ کام سے جا رہی ہوں۔۔۔ واپس تو آپ کے پاس ہی آوں گی۔۔۔۔ چلو روتے نہیں۔۔۔۔ آپ میری بہادر بیٹی ہو نا۔۔۔” راعنہ نے اس کا مزاج اچھا کرنے اسے گدگدایا۔
منہ بھسورتے ہوئے زینی یک دم ہنس پڑی۔ اسے منا کر راعنہ اپنی پیکنگ کرنے لگی۔ کچن میں سے پانی کی بوتل لینے آئی تو ممی نے اسے مخاطب کیا۔
“راعنہ۔۔۔ زینی ابھی تو مان گئی ہے۔۔۔ پر تیرے گھر سے نکلتے ہی رونا شروع کر دے گی۔۔۔ تم اسے بھی ساتھ لے جاو۔۔۔” عاطرہ بیگم کو ایلزینا کی فکر ہونے لگی۔
“ممی۔۔۔ میں کام کے سلسلے میں جا رہی ہوں۔۔۔ پکنک پر نہیں۔۔۔۔ وہ بور ہوجائے گی۔۔۔۔ اور پھر میں کام میں لگی رہوں گی تو اسے کون سنبھالے گا۔۔۔ میں اسے ہوٹل میں اکیلے بھی تو نہیں چھوڑ سکتی نا۔۔۔”راعنہ کے منطق پر ممی نے سمجھنے کے انداز میں سر کو جنبش دیا۔
“وہ رونے لگے تو آپ مجھ سے کال پر بات کروا لینا میں اسے سمجھا دیا کروں گی۔۔۔۔ اور ویسے بھی ممی۔۔۔ وہ اب بڑی ہورہی ہے۔۔۔۔ میرے بغیر رہنا سیکھ لینا چاہیئے اسے۔۔۔۔” راعنہ کی آواز مدھم ہوگئی۔
“اور مجھے بھی سیکھ لینا چاہیئے۔۔۔۔”اس نے خود کلامی کرتے ہوئے اپنے آپ کو بھی سمجھایا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
اگلی صبح راعنہ سفید چکن کاری کے کُرتے پاجامے پر فیروزی رنگ کا ڈوپٹہ سر پر لیئے کندھے پر میچنگ شال ٹکائے بابا کے ہمراہ ائیر پورٹ پہنچی تو یاشم اور بقیہ ساتھی پہلے سے ویٹنگ ایریا میں موجود تھے۔ یاشم بلیو جینز پر گرے کلر کی شرٹ اور ڈینم کی جیکٹ زیب تن کئے چمکتے بوٹ مہنگی گھڑی پہنے شیو اور بال نفاست سے بنائے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا۔ راعنہ اور شعیب صاحب کو آتے دیکھ کر وہ ان کے پاس آیا اور شعیب صاحب کے ہاتھ سے راعنہ کا سفری بیگ لیا۔
“بیٹا آپ کے بھروسے میں اسے جانے دے رہا ہوں۔۔۔ ورنہ اس سے پہلے یہ اکیلے کہی نہیں گئی۔۔۔۔” شعیب صاحب نے اپنی تشویش ظاہر کی تو یاشم نے ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیئے۔
“آپ بے فکر رہیں انکل۔۔۔۔ ہماری پوری ٹیم ہے۔۔۔۔ راعنہ اکیلی نہیں ہیں۔۔۔۔ ہم سب ان کے ساتھ ہیں۔۔۔۔” یاشم نے بابا کو تسلی دی تو انہوں نے مطمئن ہو کر راعنہ کو دعائیں دی۔
“اپنا خیال رکھنا۔۔۔ کوئی بھی پریشانی ہو فوراً کال کر دینا۔۔۔” بابا نے راعنہ کو خود سے لگا کر رخصت کیا اور یاشم کا کندھا تھپتھپا کر روانہ ہوگئے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
فلائٹ کے دوران راعنہ دوسری کولیگ عاصمہ کے ساتھ رہی اور یاشم مرد حضرات کے ساتھ پھر بھی وہ بار بار راعنہ کے کھانے پینے اور اس کے آرام کا پورا خیال رکھتا رہا۔ یاشم کے ہوتے راعنہ کو کوئی دقت پیش نہیں ہوئی۔
کراچی کے مقابلے اسلام آباد کے موسم میں خنکی زیادہ تھی۔ راعنہ نے شال کندھوں پر پوری پھیلا لی تھی اور یاشم نے بھی جیکٹ کے بٹن بند کر دیئے تھے۔ ائیر پورٹ سے ہوٹل تک دو گاڑیاں کروائی گئی۔ ایک کار میں راعنہ عاصمہ اور یاشم سوار ہوئے اور دوسری میں باقی دونوں ایمپلائیز نے سفر شروع کیا۔
سفر کے دوران عاصمہ اور راعنہ باتیں کرتی رہیں۔ راعنہ کو خوش دیکھ کر یاشم کو بہت اچھا لگ رہا تھا۔ اس کی نظر بار بار بیک ویو مرر میں راعنہ پر آکر رک جاتی اور راعنہ اس کی نگاہیں خود پر محسوس کرتے مضطرب ہوجاتی اور سر جھکا لیتی تو یاشم شرمندہ ہوتے رخ پھیر لیتا۔
“کیا کر رہا ہے یاشم۔۔۔۔ کنٹرول۔۔۔۔ اچھا اپمریشن جمانا ہے۔۔۔ خود سے بدگمان نہیں کرانا۔۔۔۔”ونڈ اسکرین سے باہر دیکھتے ہوئے یاشم نے خود کو ڈپٹا تھا۔
اسلام آباد کے پی سی ہوٹل کا ایک بڑا اور شاندار کمرا عاصمہ اور راعنہ کا تھا اور دوسرا دونوں مرد حضرات کا۔ جبکہ یاشم کے لیے آفان صاحب نے اپنا اپارٹمنٹ تیار کروایا تھا لیکن راعنہ کے نزدیک رہنے کی خاطر یاشم نے اپارٹمنٹ جانے سے انکار کر دیا اور راعنہ کے کمرے کے قریب ہی الگ کمرا بک کروایا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
اسی شام یاشم کے ڈیزائن لانچنگ کی تقریب منعقد کی گئی تھی۔ پی سی ہوٹل کے لان ایریا میں ہی تقریب کے اتنظامات کئے گئے۔
یاشم فریش ہو کر لان ایریا میں آیا اور اپنی نگرانی میں تیاریاں مکمل کروانے لگا۔
وہیں دوسری طرف راعنہ فریش ہو کر تیار ہونے سے پہلے کچھ دیر کھڑکی میں آکھڑی ہوگئی۔ اسے شام کے وقت غروب آفتاب کا سماء، ٹھنڈی ہوا اور پُر سکون فضا میں وقت گزارنا اچھا لگ رہا تھا۔
لان میں جہاں یاشم کھڑا ورکرز سے بات چیت کر رہا تھا وہاں راعنہ اسے بآسانی دیکھ سکتی تھی۔ وہ کھڑکی کے در پر ہاتھ رکھے کھڑی یاشم کو دیکھ رہی تھی جہاں وہ کسی بزرگ ورکر سے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حال احوال دریافت کر رہا تھا۔ اس برزگ ورکر کے کسی بات پر ہنستے ہوئے یاشم نے کھڑکی کے سمت دیکھا تو اس کی راعنہ پر نظر پڑی۔ راعنہ اسی کو دیکھ رہی تھی۔ ایک پل کے لیے دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے جا ٹکرائی۔ راعنہ کی سیاہ آنکھیں یاشم کی ہیزل گرین آنکھوں کو اپنے سحر میں جکڑ چکی تھی۔ وہ ماحول سے غافل ہو کر راعنہ کو دیکھنے میں مگن ہو چکا تھا۔ راعنہ کو یاشم کی نظروں سے کچھ ہونے لگا تو وہ تیزی سے کھڑکی پر سے ہٹ گئی۔ وہیں دوسری جانب یاشم سر اٹھائے خالی کھڑکی کو دیکھ کر مسکرانے لگا۔
مغرب کے بعد تقریب کا باقائدہ آغاز ہوا۔ یاشم رائل بلیو کلر کے تھری پیس ڈنر سوٹ میں ملبوس، بال بلو ڈرائی کر کے اسٹائل سے بنائے، چمکتے بوٹ مہنگی گھڑی پہنے اور مہنگی پرفیوم لگائے ہشاش بشاش سا تیار ہوا۔ بیٹے کی پہلی کامیابی سے لطف اندوز ہونے آفان شاہ صاحب بھی تقریب میں تشریف فرما تھے۔
راعنہ بلیک ڈیزائنر ڈریس پہنے کھلے بالوں پر ڈوپٹہ ٹکائے، کانوں میں چھوٹے جھومکے ڈالے اور نفیس میک اپ کر کے تقریب میں جانے کے لیے تیار ہوئی۔ بیڈ پر بیٹھ کر وہ فلیٹ سینڈل کی اسٹرپ بند کر رہی تھی جب اس کا موبائل بجنے لگا۔
“السلام علیکم ممی۔۔۔۔۔” کال اٹھا کر اس نے عجلت میں بولا۔
“وعلیکم السلام راعنہ۔۔۔۔ بزی تو نہیں ہو۔۔۔۔ تھوڑی دیر زینی سے بات کر لے۔۔۔۔ بہت یاد کر رہی ہیں تمہیں۔۔۔ کھانا بھی نہیں کھایا اب تک۔۔۔۔ ” عاطرہ بیگم نے راعنہ کے عجلت بھری آواز سے اس کی مصروفیت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی۔
راعنہ کو دیر تو ہورہی تھی پر بیٹی سے بات کرنے کو دل بھی چاہ رہا تھا۔
“ہاں ممی میری بات کرواو۔۔۔” اس نے تسلی سے صوفے پر بیٹھ کر کہا تھا۔
عاطرہ بیگم نے اس کی بات پر سر کو جنبش دیتے زینی کے کان سے موبائل لگایا۔ وہ مما سے اتنی ناراض تھی کہ خود موبائل پکڑنے کی زحمت بھی نہیں کی۔
“زینی۔۔۔۔بےبی۔۔۔۔ آپ نانو کو تنگ کر رہی ہو ہاں۔۔۔۔” راعنہ نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
زینی نے کوئی جواب نہیں دیا۔
“مما کام سے گئی ہے نا۔۔۔۔ اور آپ تو اب بڑی ہوگئی ہو۔۔۔۔ اسٹرانگ ہوگئی ہو۔۔۔ پھر میری بہادر بیٹی ایسے اپنی مما کو پریشان کرے گی کیا۔۔۔۔” راعنہ جانتی تھی زینی بات نہ بھی کرے پر وہ اس کی باتیں بغور سن رہی ہے۔
“چلو شاباش۔۔۔ ڈنر کرو۔۔۔۔ نانو کو تنگ نہ کرنا۔۔۔۔ مما دو دن میں آجائے گی اوکے۔۔۔۔ اور آپ کے لیے گفٹس بھی لائے گی۔۔۔۔ بائے سویٹی۔۔۔۔ ابھی مما کو جانا ہے۔۔۔۔” راعنہ نے آخر میں پیار سے سمجھایا اور کال کاٹ دی۔
ایلزینا نے منہ بنائے ہی رخ پھیر لیا اور ناراض چہرہ لیئے ڈائننگ ٹیبل پر جاکر بیٹھ گئی۔
“بالکل اپنی ماں پر گئی ہے۔۔۔۔” عاطرہ بیگم نے سر جھٹک کر اس کے پیچھے جاتے سوچا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ یاشم سب سے ملتے اور مبارکباد وصول کرتے پورے تقریب میں راعنہ کی تلاش کرتا رہا۔ بابا کے ہمراہ کھڑا وہ ان کے کسی دوست سے متعارف ہورہا تھا جب اس نے راعنہ کو ایوینٹ میں داخل ہوتے دیکھا اور پھر دیکھتا ہی رہ گیا۔ یاشم کب بے خود ہونے لگا اسے احساس ہی نہیں ہوا۔ اسے آس پاس سب دھندلا سا لگنے لگا پر راعنہ کا عکس شیشے کی طرح شفاف رہا۔ بابا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنے جانب متوجہ کیا تو وہ جھٹکا کھا کر حقیقت میں لوٹ آیا۔ بابا کی بات پر پھیکا مسکرا کر سر کو جنبش دیتے اس نے پھر سے سامنے دیکھا تو راعنہ وہاں نہیں تھی۔ ایک بے چینی سی اس میں سر تا پا سرائیت کر گئی۔
دوسری طرف راعنہ نے ایوینٹ میں قدم رکھا تو یاشم کو سامنے آفان صاحب کے ساتھ کھڑے خود کو دیکھتے پایا۔ یاشم کی نظریں مسلسل اس کے گرد طواف کرنے لگیں تھیں۔ وہ متذبذب ہو کر چہرے پر آتی لٹ پیچھے کر کے دائیں جانب مڑ کر عاصمہ کے پاس آگئی۔ راعنہ کو محسوس ہورہا تھا کہ یاشم اسے ڈھونڈ رہا ہوگا اور کہی نہ کہی یہ احساس اس کے اندر یاشم کے لیے دلچسپی بڑھانے لگا۔ وہ یاشم کی نظروں سے بچتی محتاط انداز میں چلتی اسٹیج کے پاس آگئی اور ڈیکوریشن کے لیے رکھے قد آور گلدان کے آوٹ میں کھڑی ہو کر شریر مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے یاشم کو دیکھنے لگی۔
“بہت مزا آتا ہیں نا آپ کو مجھے دیکھنے میں۔۔۔۔۔ اب ڈھونڈتے رہو۔۔۔۔” راعنہ نے شرارت بھری دلچسپی سے سوچا تھا۔
یاشم اس ڈھوندتے بہانے بہانے سے کبھی دائیں جانب چلا جاتا تو کبھی بائیں جانب۔ اس کی نظریں متواتر راعنہ کے تلاش میں مصروف رہی۔ مہمانوں کے بڑھتے رش میں وہ کہی نہیں ملی تو یاشم پریشان ہونے لگا۔
“اوکے اوکے بہت ہوگیا۔۔۔۔ آرہی ہوں باہر۔۔۔۔” راعنہ نے یاشم کے چہرے پر اداسی دیکھ کر شرارت روکنے کا سوچا اور چہرے پر بڑی سی مسکان سجائے گلدان کے آوٹ سے نکل کر سامنے آئی تھی کہ ٹھٹک گئی۔
نوریز صدیقی اپنے مغرور انداز میں بلیک تھری پیس سوٹ بوٹ میں تیار گھنے بالوں کو جیل لگا کر اسٹائل سے بنائے فخریہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے سب سے پر جوش، ایک معاروف لالی ووڈ اداکارہ ارم شیخ کے ساتھ ایوینٹ میں داخل ہوئے۔
نوریز کو دیکھ کر راعنہ کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ جس انسان نے اس کی زندگی اجیرن بنا دی تھی، راعنہ اتنے سالوں بعد اسے دیکھ کر پریشان ہوگئی ہے یا نوریز کو کسی دوسری عورت کے ساتھ دیکھ کر۔ ساتھ ساتھ اسے جیل کی سلاخوں کے باہر پا کر راعنہ کی حالت غیر ہوگئی تھی۔
راعنہ کے لیے اپنے پیروں پر کھڑے رہنا دوبھر ہو گیا۔ جیسے جیسے نوریز اور ارم شیخ میڈیا رپورٹرز کو مسکان سے نوازتے آگے بڑھ رہے تھے ویسے ویسے راعنہ کے قدم پیچھے ہوتے گئے۔ اس سے پہلے نوریز کی راعنہ پر نظر پڑتی وہ الٹے قدم پلٹ کر بے دھڑک لان ایریا سے باہر بھاگ گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔
