Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Nadamat) Episode 18

راعنہ کو اس کے گھر تک ڈراپ کر کے نوریز گیٹ سے ہی واپس جانے لگا۔
“نوریز اندر تو چلیں۔۔۔” راعنہ نے کار سے اترتے ہوئے کہا۔
“نہیں مجھے ضروری کام ہے۔۔۔۔” نوریز اسٹیرنگ پر ہاتھ رکھے عجلت میں گویا ہوا۔
“پانچ منٹ۔۔۔ میرے پیرنٹس سے مل لیجئے گا۔۔۔۔” راعنہ کو اس کا یوں جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
“تمہیں ایک دفعہ بات کہنے پر سمجھ کیوں نہیں آتی۔۔۔۔” نوریز کی آنکھوں میں سختی در آئی اور آواز تند ہوگئی۔
راعنہ سہم کر سر جھکائے کار سے اتر گئی اور نوریز کار ریورس کر کے گیٹ سے نکالتے چلا گیا۔
دل ہی دل اپنے والدین کا دل رکھنے مناسب بہانہ سوچتے وہ بے دم قدموں سے لاؤنج کے اندر داخل ہوئی۔
“راعنہ۔۔۔۔۔۔ آگئی۔۔۔۔ نوریز نہیں آیا۔۔۔۔۔” بابا نے صوفے پر اٹھ کر اس کا استقبال کیا۔
“بابا وہ۔۔۔۔ انہیں پیپرز چیک کرنے تھے۔۔۔۔ بہت ضروری کام تھا ورنہ ضرور آتے۔۔۔۔ ” راعنہ نے شوہر کی پردہ پوشی کرتے جواب دیا۔
“چلو کوئی بات نہیں۔۔۔۔ آو بیٹھو۔۔۔۔” شعیب صاحب نے نوریز کے کام کی نوعیت سمجھتے ہوئے سر کو جنبش دیا۔
راعنہ پھیکا مسکراتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
چار دن اپنے میکے میں رہ کر راعنہ آج حمدان کے ہمراہ گھر آگئی تھی۔ وہ کمرے میں سامان رکھ کر سستانے لیٹی کہ موبائل بجنے لگا۔
“کیوں میڈم۔۔۔ آگئی یاد۔۔۔۔ تمہیں تو اب بھئیاں کے علاوہ کوئی نظر ہی نہیں آتا۔۔۔۔ ” راعنہ نے کال اٹھاتے ہی شکوہ شکایت شروع کر دی۔
“ہاہاہا۔۔۔۔ یہ تو سچ ہے۔۔۔۔ اب تو ہر جگہ بس صدیف ہی ہیں۔۔۔” آیت اس کی بات کا برا منائے بغیر بولی۔
وہ دونوں اس وقت ٹاکسم اسکوائر کے پاس بیٹھے برگر ہاتھوں میں لیئے ترکی کے خوشگوار فضا سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ اپنا نام سننے پر صدیف نے ایک نظر سر اٹھا کر اسے دیکھا پھر واپس اپنے کھانے کے جانب متوجہ ہوا۔
“چلو اچھی بات ہے۔۔۔۔ میرے بھئیاں کا اچھے سے خیال رکھنا۔۔۔۔” راعنہ نے خوش اسلوبی سے جواب دیا۔
“تم بتاو۔۔۔۔۔ کیسی چل رہی ہیں۔۔۔۔ بھائی کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ ہوگئی۔۔۔۔” آیت نے برگر کھاتے ہوئے پوچھا تھا۔
“ہممم کیا بتاوں۔۔۔۔ کبھی بہت اچھے ہوجاتے ہیں۔۔۔۔ اور کبھی بہت ناگواری کا مظاہری کرتے ہیں۔۔۔۔۔ سمجھ نہیں آرہی۔۔۔۔” راعنہ واقعی نوریز کے مزاج سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
“شروع شروع میں ایسی ہوتا ہے۔۔۔۔ آہستہ آہستہ سب سیٹ ہوجائے گا۔۔۔۔” آیت نے محتاط اندازے میں جواب دیا تا کہ صدیف کو نوریز اور راعنہ کے ان بن کی خبر نہ لگے۔
“میں بھی اسی امید پر ہوں۔۔۔۔ چلو بھئیاں کو فون دو۔۔۔۔” راعنہ نے آہ بھری اور پھر صدیف سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
کچھ دیر صدیف سے حال احوال دریافت کر کے اس نے کال کاٹ دی اور تیار ہونے چلی گئی۔ راعنہ، نوریز کو سرپرائز دینا چاہتا تھی اس لیے ڈیپ ریڈ کلر کے قمیض شلوار پہنے بالوں کو کھلے چھوڑ کر پیارا سا میک اپ کئے اور ہلکی جیولری پہنے وہ ان کے کالج سے لوٹنے کا انتظار کرنے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نوریز کے متعین کردہ وکیل کے پانچ دن کے محنت کے بعد بلا آخر نوریز کو پولیس کمشنر سے ملاقات کا وقت مل گیا تھا۔ اس وقت نوریز اور وکیل صاحب ان کے مین آفس میں ان کے رو بہ رو موجود تھے۔
“آپ کا ایک اہلکار۔۔۔۔۔ ایس آئی خان۔۔۔۔ اس کی شکایت درج کروانے آیا ہوں۔۔۔۔۔” ابتدائی حال احوال خے بعد نوریز اپنے مغرور انداز میں گویا ہوا۔
کمشنر صاحب اپنے قابل آفسر کے متعلق شکایت کا سن کر حیران ہوگئے۔ آبرو سکیھڑے نوریز کو دیکھنے لگے۔
“بغیر کسی تفتیشی وارنٹ وہ میری پراپرٹی میں گھس کر تلاشی کرتے ہیں۔۔۔۔ بے جا۔۔۔۔ بے بنیاد شک کر کے ڈسٹرب کرنا مناسب تو نہیں ہے۔۔۔۔۔ آپ اسے سسپینڈ کر دیں یا ان کا کہی اور تبادلہ کر دیں فوراً۔۔۔۔۔ ” نوریز غراتے ہوئے آگے ہوا۔
“پروفیسر نوریز صدیقی۔۔۔۔۔ صرف اتنی سی بات پر میں ایک قابل پولیس آفسر کو سسپینڈ تو ہرگز نہیں کروں گا۔۔۔۔ اور رہی بات تبادلے کی۔۔۔۔ تو میرا نہیں خیال ایس آئی خان بغیر کسی ثبوت و شواہد کے کسی کو پریشان کریں گے۔۔۔۔۔ ضرور آپ نے کسی قانون کی خلاف ورزی کی ہیں۔۔۔۔” کمشنر صاحب نے بڑے تحمل سے معاملہ سمجھنے کی کوشش کرتے جواب دیا۔
ضبط کی وجہ سے نوریز کی گردن کی رگیں تن گئیں تھی۔ اس نے کھا جانے والی نظروں سے اپنے وکیل کو دیکھا۔ وہ ہڑبڑا کر تھوک نگل کر سیدھا ہوا۔
“سر اپنے پیشے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر شہریوں کو بے وجہ تنگ کرنا جرم ہے۔۔۔۔ میں از خود چاہوں تو ایس آئی خان پر کیس کر سکتا ہوں۔۔۔۔ پر چونکہ آپ اس شہر کے کمشنر ہیں۔۔۔۔ پھر نوریز کے والد۔۔۔۔۔ وارث صاحب۔۔۔۔ آپ کی ذاتی جان پہچان بھی ہے۔۔۔۔ اس لیے ہم نے پہلے آپ سے رجوع کرنا ضروری سمجھا۔۔۔۔”وکیل اپنی بات مکمل کر کے مخالف کے جواب کا منتظر ہوا۔
نوریز دانت پر دانت جمائے ہوئے تند نظروں سے کمشنر کو گھور رہا تھا۔
“آپ کی بات درست ہے وکیل صاحب۔۔۔۔ آپ میرے اہلکاروں میں سے کسی اور کے بابت ایسا کہتے تو میں مان بھی لیتا۔۔۔۔ لیکن خان کا ایسا برتاو۔۔۔۔۔ میرے لیے نا قابل یقین ہے۔۔۔۔۔ اس کے کیرئیر کے تین سالوں میں۔۔۔۔ میں نے اس کی اچھی کارگردگی ہی دیکھی ہے۔۔۔۔ کبھی شکایت نہیں سنی۔۔۔۔” کمشنر صاحب کے تحمل سے نوریز کا غضب بڑھنے لگا۔
“اب میں لے کر آیا ہوں نا شکایت۔۔۔۔ اس کا کچھ کرو۔۔۔۔ ورنہ میں اپنے طریقے سے کروں گا۔۔۔۔” نوریز میز پر ہاتھ مارتے کھڑا ہوگیا۔
اس کے طیش سے خوف زدہ ہو کر وکیل صاحب کھڑے ہوئے اور اسے پکڑ کر سمجھانے لگے۔ کیبن کے اندر سے بلند آواز آتے سن کر کمشنر صاحب کے دو پہرے دار اپنے اسلحہ تانے اندر داخل ہوئے۔ کمشنر صاحب نے ہاتھ اٹھا کر ان دونوں کو رکنے کا حکم دیا۔
“کیا کر رہے ہو نوریز۔۔۔۔ ہم معاملہ سلجھانے آئیں ہیں۔۔۔۔ مزید بگاڑنے نہیں۔۔۔۔” وکیل صاحب نے نوریز کے کان میں سرگوشی کی پر اس پر جنون سوار ہوچکا تھا۔
“مسٹر نوریز۔۔۔۔۔ غصہ انسان کو ڈوبا دیتا ہے۔۔۔۔۔ اپنے غصے پر قابو کرنا سیکھو۔۔۔۔ میں بات کروں گا خان سے۔۔۔۔” کمشنر صاحب نے اپنے جگہ سے کھڑے ہو کر حکم صادر کرتے انہیں جانے کا اشارہ کیا۔
“نوریز۔۔۔۔ چلو۔۔۔۔ پلیزز چلو۔۔۔۔” وکیل صاحب اسے ساتھ گھسیٹتے ہوئے باہر لیں جانے لگے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
چار سے چھ بج گئے پھر چھ سے آٹھ لیکن نوریز گھر نہیں کا اتا پتا نہیں تھا۔ راعنہ انتظار کر کر کے تنگ ہوگئی۔ بالوں کو اوپر کر کے باندھ لیے، جیولری اتار دی۔ اس نے وقفے وقفے سے دو تین مرتبہ نوریز کو کال بھی ملائی پر اس نے کال نہیں اٹھائی۔
دوسری طرف نوریز کمشنر آفس سے دوست کے گودام میں آگیا تھا۔ سموکنگ کر کے اس کا اضطراب کم نا ہو سکا تو شر ا ب کا سہارا لینے لگا۔
بڑے بوتل سے زہریلا مائع شیشے کی گلاس میں انڈیل کر ایک ہی گھونٹ میں حلق کے نیچے اتارا اور گہرے سانس لیتے سر صوفے کی پشت سے ٹکا کر چھت کو گھورنے لگا۔
یک دم نین کا عکس اس کی آنکھوں میں لہرایا تھا۔ سر جھٹک کر وہ سیدھا ہوا تو چہرے پر ناگواری رقم تھی۔ ایک کے بعد ایک کر کے اس نے بوتل آدھی کر دی۔
قریب ساڑھے بارہ بجے وہ نشے میں جھولتا گھر پہنچا۔
“نوریز۔۔۔ کہاں تھے آپ۔۔۔۔ کتنی دفعہ کال کیا۔۔۔۔ ” راعنہ نے اسے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر معصوم سی آواز میں شکایت کی۔
نوریز اسے نظر انداز کر کے لڑکھڑاتے قدموں سے شرٹ اتار کر الماری کے سمت جاتے جاتے ڈگمگا گیا۔
“نوریز۔۔۔ آپ۔۔۔۔ ” راعنہ نے آگے آکر اسے تھام لیا اور اس کی حالت سے سمجھ گئی کہ وہ ڈرنک کر کے آیا ہے۔
راعنہ کا گلا رندھ گیا۔
“آپ پھر ڈرنک کر کے آئے ہیں۔۔۔۔ پر آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ دوبارہ ڈرنک نہیں کریں گے۔۔۔۔” وہ شکوہ کرتے نوریز کو تھامے ہوئے سہارا دیتی بیڈ پر لے آئی۔
نوریز نے کھلتی اور بند ہوتی آنکھوں سے اس کا چہرہ واضح کرنے کی کوشش کی جس کی آواز کانوں کو بہت بھا گئی تھی۔ مدہوشی میں اس نے راعنہ کو ساتھ ہی بیڈ پر گرا دیا اور اس کی گردن میں چہرہ چھپا کر اسے خود میں سمیٹ لیا۔
راعنہ نے نوریز کو دور کرنے کی کوشش کی پر شوہر کی قربت میں آتے وہ بے خود ہونے لگی۔ آنکھیں سختی سے مینچھے نوریز کے لمس سے سیراب ہوتی اس کی دھڑکن تیز ہونے لگی۔
“نین۔۔۔۔” نوریز کے لبوں سے مخمور انداز میں راعنہ کے گردن کا طواف کرتے جب یہ نام نکلا تو راعنہ نے ایک جھٹکے سے آنکھیں کھول لی۔
نوریز کا وجود اس کی بانہوں میں تھا لیکن دماغ نین کے حوالے تھا۔ راعنہ کے بدن میں ٹھنڈی لہر سرائیت کر گئی۔
نوریز دیوانہ وار اس کے گردن اور چہرے پر اپنا لمس چھوڑ رہا تھا لیکن راعنہ بے حس سی پڑی اس نام پر اٹک کر رہ گئی تھی۔ بھیگی آنکھوں سے اس نے نظریں گھما کر نوریز کو دیکھا۔ وہ اپنے ہوش میں نہیں تھا اور لب مسلسل حرکت میں تھے۔ یک دم راعنہ کو اپنا آپ بے مول سا لگنے لگا۔ اس نے دونوں ہاتھوں کا زور لگا کر نوریز کو خود سے دور کیا اور بیڈ پر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
نوریز نے اس وجود کو بانہوں میں لینا چاہا لیکن بیڈ پر ہر جگہ ہاتھ مار کر جب کوئی نا ملا تو اس سب کو اپنا گمان مان کر اوندھے منہ لیٹ کر سوگیا۔
راعنہ پیچھے ہوتے ہوتے دیوار سے لگ کر بیٹھ گئی اور بے آواز رونے لگی۔ کسی بھی عورت کے لیے، چاہے وہ کتنی بھی حوصلہ مند ہو، اپنے شوہر کے زبان سے کسی غیر عورت کا نام برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہی کیفیت راعنہ کی تھی۔ اس کے لیے نوریز کے زبان پر کسی دوسری لڑکی کا نام گراں گزار تھا۔
پتا نہیں تکلیف کس بات پر ہوتی ہے، اس بات پر کہ ہم کسی کے لیے خاص ہونا چاہتے ہیں پر اس کے لیے خاص بھی نہیں ہوتے یا اس بات پر کہ خاص ہو کر بھی ہم اس کے دل سے کسی کی یادیں کھرج نہیں پاتے۔ راعنہ اس درجہ پر تھی جہاں کوئی اور نہیں تھی وہ زوجہ تھی لیکن نوریز کے دل سے نین کا عکس نکال نہیں سکی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
آیت کی صبح آنکھ کھلی تو تازہ گلاب کے پھولوں کا بوقے اپنے سرہانے پایا۔ قہ سستاتے ہوئے اٹھ بیٹھی اور بوقے اٹھا کر اپنے چہرے کے قریب کیا۔
“فور مائی لو۔۔۔۔” کارڈ پر لکھے الفاظ پڑھ کر آیت کے لبوں پر شفیق سی تبسم بکھر گئی۔
اس نے کمرے میں چاروں طرف دیکھا پر صدیف وہاں نہیں تھا۔
“اتنی صبح صبح کہاں چلیں گئے۔۔۔۔” دل ہی دل سوچتے ہوئے وہ اٹھی اور فریش ہونے چلی گئی۔
دوسری طرف صدیف نے ہوٹل کے ڈائننگ ہال کا ایک ٹیبل خوبصورت سا سجایا ہوا تھا۔ آیت فریش ہو کر جینز اور فلورل شرٹ پہنے اس پر اسکارف گلے میں ڈالے تیار ہوئی اور صدیف کو کال کرنے کے ارادے سے موبائل اٹھایا کہ اس کا میسج پہلے سے آیا ہوا تھا۔
“ڈائننگ ہال ٹیبل نمبر سیون۔۔۔۔” مطلوبہ ٹیبل کا نمبر پڑھ کر اس نے مسکراتے ہوئے شوز پہنے اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
وہ ڈائننگ ہال میں پہنچی تو صدیف ٹیبل نمبر سیون پر پہلے سے موجود اس کا منتظر تھا۔ اسے آتے دیکھ کر وہ آبرو اٹھائے کھڑا ہوگیا۔ آیت انجان بنتی گردن اکھڑا کر چلتی قریب آئی اور اس کے مقابل نشست سنبھالی۔
“میڈم آٹھ بجے میسج کیا تھا۔۔۔۔۔ ساڑھے دس بج رہیں ہیں۔۔۔۔” صدیف جعلی خفہ ہوا۔
“ہاں تو مجھے کیا پتا تھا۔۔۔۔ آپ کو جگا کر آنا چاہیئے تھا۔۔۔۔۔” آیت بالوں میں انگلیاں چلا کر ادائیں دکھاتی بولی۔
صدیف پیار سے اس کے سر پر ہلکی تھپکی دے کر ناشتہ آرڈر کرنے لگا۔ آیت سر سہلاتے اس عالیشان فائیو اسٹار ہوٹل کے ڈائننگ ہال کو دیکھ کر محظوظ ہونے لگی۔
ناشتے کے بعد وہ گھومنے نکل گئے۔ شام ہونے تک وہ کئی سارے بازار اور دید مقامات کر چکے تھے۔ ابھی سورج غروب ہونے میں لچھ وقت باقی تھا۔ آسمان میں ہلکی زردی بڑھ گئی تھی۔ صدیف اور آیت ہاٹ ائیر بیلون میں چڑھ کر آسمان کی بلندیوں کو دیکھنے لگے۔
“یہ میری لائف کا سب سے خوبصورت دن ہے۔۔۔۔۔” آیت خوشی سے سرشار صدیف کے حصار سے لگ گئی۔
“میرا بھی۔۔۔۔” صدیف نے اس کے پیشانی پر محبت بھرا بوسہ دیتے اظہار کیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“سر آپ نے مجھے بلایا تھا۔۔۔۔” اگلی صبح ایس آئی خان دستک دے کر کمشنر صاحب کے دفتر میں داخل ہوا۔
“ہاں خان۔۔۔۔ آو۔۔۔۔” کمشنر صاحب نے آنکھوں پر سے گلاسس ہٹا کر اسے اندر آنے کی اجازت دی۔
وہ موودب انداز میں چلتے ان کے ٹیبل کے سامنے کھڑا ہوا اور ہاتھ بلند کر کے سلیوٹ کیا۔ کمشنر صاحب نے سر کے خم سے اس کا احترام وصول کیا اور ہاتھ کے اشارے سے سیٹ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
“تمہارے خلاف میرے پاس شکایت آئی ہے۔۔۔۔” کمشنر صاحب اپنے نرم انداز میں بولتے آگے کو ہوئے۔
ان کی بات سن کر ایس آئی خان کے تاثرات بدلنے لگے۔ وہ حیرانگی سے سامنے بیٹھے اڈھیر عمر خوب رو مرد کو دیکھنے لگے۔
“کسی نے شکایت کی ہے کہ تم۔۔۔۔ بغیر کسی وارنٹ کے ان کی پراپرٹی میں گھس کر انہیں بلا وجہ پریشان کر رہے ہو۔۔۔۔ اپنی وردی کا غلط استعمال کر رہے ہو۔۔۔۔ ” کمشنر صاحب نے نوریز کی پہچان چھپا لی تھی۔
“کیا میں جان سکتا ہوں ایسی شکایت کس نے کی ہے۔۔۔۔ ” خان نے تحمل مزاجی سے سوال کیا۔
“پہلے تم بتاو۔۔۔۔ یہ سچ ہے کہ نہیں۔۔۔۔” کمشنر صاحب ڈٹے رہیں۔
“سچ ہے۔۔۔۔۔ میں ان کی پراپرٹی میں ضرور گھسا ہوں۔۔۔۔۔ لیکن میری انویسٹیگیشن بلا وجہ نہیں ہے سر۔۔۔۔۔ ” خان بہت ہی سنجیدگی سے گویا ہوا۔
کمشنر صاحب کے بنا کہے بھی وہ سمجھ گیا تھا شکایت کون کر سکتا ہے۔
“تو کوئی پروگریس۔۔۔۔ ” کمشنر صاحب بغور اس کے بدلتے تاثرات دیکھ کر پوچھنے لگے۔
“بد قسمتی سے اب تک کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔۔۔۔صرف ایک فون کال سے میں یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ نوریز ہی نین کے کیس میں ملوث ہیں۔۔۔۔ ” اس نے سر جھکائے آہ بھری۔
“اب تک مجھے اس پر شک تھا لیکن اب نوریز کی اس حرکت سے مجھے یقین ہو چلا ہے کہ ان سب کے پیچھے اسی کا ہاتھ ہے۔۔۔۔ ” وہ مزید گویا ہوا۔ اسے مانو نئی امید ملی تھی۔
“خان۔۔۔۔ ابھی تو شکایت میرے پاس آئی ہے۔۔۔۔ اور نوریز باقاعدہ دھمکا کر گیا ہے کہ اگر میں نے تمہارا کچھ نا کیا تو وہ اپنے طریقے سے کرے گا۔۔۔۔۔ اس کی پہنچ بہت دور تک ہے۔۔۔۔ اگر وہ ہوم منسٹر کے پاس چلا گیا پھر تو تمہیں سسپینڈ ہونے سے میں بھی نہیں بجا سکوں گا۔۔۔۔” کمشنر صاحب نے معاملے کی نوعیت سمجھانے کی کوشش کی۔
“یہ تو اور بھی اچھا ہے سر۔۔۔۔۔ ابھی تو میں اپنے پیشے کا پابند ہوں۔۔۔۔ ورنہ جس طرح نین غائب ہوئی ہے۔۔۔۔ نوریز کو اس سے بھی برے انجام تک پہنچا سکتا ہوں۔۔۔۔” اچانک اس کا لہجہ سخت ہونے لگا۔ اس کی انگارہ ہوتی نظریں کمشنر صاحب کو خوف زدہ کرنے کافی تھی۔
“میرا یہی مشورہ ہے۔۔۔۔ اس کیس کو ذاتی دشمنی مت بناو۔۔۔۔” کمشنر صاحب نے اس کا طیش کم کرنے کی کوشش کی پر خان کے تاثرات سپاٹ ہی رہے۔
“ذاتیات پر ہی تو اس نے حملہ کیا ہے سر۔۔۔۔۔ اب اس کی کرنی اس پر پلٹنے کی باری ہے۔۔۔۔۔” اپنی بات مکمل کر کے وہ رکا نہیں تھا اور کمشنر صاحب متفکر انداز میں اسے جاتے دیکھتے رہیں۔
پولیس ہیڈ کوارٹر سے نکل کر وہ سیدھے خان ہاوس پہنچا۔ صحن میں پودوں کے پاس بیٹھے عزیز صاحب نے اسے پکارا پر وہ ان کی پکار ان سنی کر کے سیڑھیاں چڑھتے اوپری منزل پر آیا اور بڑے کمرے میں داخل ہوتے دروازے کی کنڈی چڑھا دی۔ چند گہرے سانس لیں کر وہ پلٹا تو سامنے دیوار پر اس معصوم پری کی فریم شدہ تصویر پر نظر پڑی۔ نین عبدالعزیز خان سفید قمیض شلوار پہنے سفید ہی ڈوپٹہ سر پر اوڑھے ہاتھ تھیوڑی پر ہاتھ رکھے مسکرا رہی تھی۔ اس کی لائٹ براون چمکتی آنکھیں زندگی سے بھرپور انداز میں اسے دیکھ رہی تھی۔
ایس آئی آفسر احیان غفور خان کی آنکھیں ڈبڈبا گئی۔ نین کا عکس پانی میں گڈمڈ ہونے لگا۔
بھیگی آنکھوں سے نین کی تصویر دیکھتے ماضی کے کچھ صفحے احیان خان کے ذہن کے پردوں پر روشن ہوئے۔
یہ ان کے آبائی علاقے کا منظر ہے جب بارہ سال کی نین اپنی سہیلیوں کے ہمراہ بیٹھی ہوئی تھی اور اس سے سات سال بڑا انیس سال کا خوب رو ٹین ایج احیان خان گاوں کے باقی لڑکوں کے ساتھ باغ میں گلی ڈنڈا کھیل رہا تھا۔ ایک پھل دار درخت کے نیچھے بیٹھی نین مسلسل درخت پر لگے اشتہا انگیز سیب کو دیکھنے لگی۔
“ایسے گھورنے سے سیب تمہارے گود میں نہیں آن گرے گے۔۔۔۔ آئینسٹاین بےبی۔۔۔۔ “احیان نے سستانے کے لیے گھاس پر لیٹتے ہوئے اس کا مذاق اڑایا تھا۔
“تو توڑ کر لا دو۔۔۔۔ بھوک لگ رہی ہے۔۔۔۔” نین نے نظروں کا رخ احیان پر مرکوز کر دیا۔
“میں کیوں لاوں۔۔۔۔ اب تمہارے لیے درخت پر چڑھوں۔۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔ میرے اتنے برے دن بھی نہیں آئے۔۔۔۔” احیان نے ناک بو چڑھاتے آنکھوں پر بازو رکھ دیا۔
نین کا دل بری طرح دکا تھا۔ وہ منہ بھسورتے ہوئے اٹھ کر جانے لگی۔ ایک احساس کے تحت احیان نے بازو ہٹا کر قد کاٹ میں لمبی اور خوبصورت سی نازک لڑکی کو مایوس ہو کر جاتے دیکھا تو شرمندگی سے لب بھینجے اٹھا اور ایک جھکٹے سے درخت پر چڑھ کر سیب توڑنے لگا۔
“آہ۔ہ۔ہ۔۔۔۔۔ ” کراہنے کی آواز پر نین پلٹی تو احیان سیبوں سمیت اوندھے منہ گرا پڑا تھا۔ اسے دیکھ کر نین کی ہنسی چھوٹ گئی۔
“یہ کیا کر رہیں ہیں۔۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔۔”وہ بھاگتے ہوئے واپس اس کے پاس آئی۔
“تم نے ہی تو کہا۔۔۔۔ سیب توڑ دوں۔۔۔۔۔” احیان اسسس آہ۔ہ۔ کرتے اپنے بازو اور گھنٹے سہلانے لگا کپڑوں پر جگہ جگہ مٹی لگ گئی تھی۔ ہاتھ میں پکڑے دو سیب اس نے نین کے جانب بڑھائے۔
“ہاں پر اپنی ہڈی تڑوانے کے لیے تو نہیں کہا۔۔۔۔ کوئی زبردستی تھوڑی تھی۔۔۔۔ نا چڑھتے درخت پر۔۔۔۔ ہاہاہا” نین سیب دانتوں سے کترتے ہوئے ہنسے گئی۔
“احسان فراموش لڑکی۔۔۔۔” احیان خان اس کی مستی سے تنگ ہو کر اسے ڈپٹنے لگا۔
نین مڑ مڑ کر اسے دیکھتی آگے بھاگ گئی۔
“تمہیں پتا ہے نین۔۔۔۔ اس معصومیت سے ایک دن یا تو خود مرو گی۔۔۔۔۔ یا کسی اور کو مار دو گی۔۔۔۔ ” احیان کا لہجہ کچھ لمحوں کے لیے نین کو چونکا گیا۔
“میں نہیں مروں گی۔۔۔۔ میری حفاظت آپ کرو گے نا۔۔۔۔۔ فیوچر پولیس آفسر۔۔۔۔” نین نے چہکتے ہوئے کہا تھا۔
اس وقت نین کے خالی کمرے میں اس کے تصویر کے سامنے ایس آئی آفسر کے یونیفارم میں کھڑے احیان خان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوچکے تھے۔ اگر تب احیان کو پتا ہوتا کہ واقعی نین کی جان جانے والی ہے تو وہ کبھی ایسا تبصرہ نہ کرتا۔
“آئی ایم سوری نین۔۔۔۔۔ میں تمہاری حفاظت نہیں کر سکا۔۔۔۔” احیان خان دل ہی دل نین سے مخاطب ہوتے اپنے آنسو صاف کرنے لگا۔
نم پلکیں اٹھا کر اس نے دوبارہ نین کی تصویر کو دیکھا وہ یوں ہی مسکراتے ہوئے چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ احیان کے دل میں ٹھیس اٹھی تو وہ سر جھکائے مڑ کر کمرے سے باہر آگیا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نوریز کی صبح آنکھ کھلی تو سر میں شدید درد ہورہا تھا۔ وہ پیشانی مسلتے ہوئے پیر گھسیٹ کر چلتے واشروم میں بند ہوگیا۔
ٹھنڈے پانی سے نہانے کے بعد وہ قدرے بہتر محسوس کر رہا تھا۔ تولیے سے بال ڑگڑتے وہ نیم برہنہ حالت میں باہر آیا تو راعنہ کو صوفے پر خاموش بیٹھے پایا۔
“ایسے کیوں بیٹھی ہو۔۔۔۔” نوریز نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
“نین کون ہے۔۔۔۔” راعنہ نے سپاٹ انداز میں سوال کیا۔
وارڈروب میں جھانکتے نوریز کے آبرو پھیل گئے۔ اس نے دانت پر دانت جمائے تھوک نگل کر حلق تر کیا اور انجان بنتے دوبارہ کپڑے ٹٹولنے لگا۔
“کیا۔۔۔۔ ” اس نے بے حد لاپرواہی سے خود کو انجان بنایا۔
“نین کون ہے۔۔۔۔۔ ” اب کی بار راعنہ اس کے رو بہ رو آگئی۔ وہ الماری اور نوریز کے مابین کھڑی تند نظروں سے اسے گھور رہی تھی۔
“مجھے نہیں پتا۔۔۔۔۔ کیوں کیا ہوا۔۔۔۔” نوریز اس سے نظر ملانے سے کترانے لگا اس لیے اسے سائیڈ پر کر کے دوبارہ الماری میں ہاتھ مارے۔
“کل رات آپ ڈرنک کر کے آئے تھے۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔ ” رات کا منظر یاد کرتے راعنہ کی زبان کانپ گئی۔
“اور آپ کے زبان سے یہ نام نکلا تھا۔۔۔۔۔ شاید نشے میں آپ مجھے نین سمجھ رہیں تھے۔۔۔۔ ” راعنہ سینے پر ہاتھ باندھے اس کے جواب کی منتظر ہوئی۔
نوریز دل ہی دل اپنی بے وقوفی پر خود کو برا بھلا کہتے صبر کا مظاہرہ کرتے اس کے جانب مڑا۔
“ایسی کوئی نہیں ہے۔۔۔۔” نوریز نے بہانہ کر کے جانا چاہا پر راعنہ اس کا راستہ روک لیا۔
“میں اتنی بے وقوف بھی نہیں ہوں۔۔۔۔ کوئی بھی عورت اپنے شوہر کے زبان پر کسی اور کا نام برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔۔ کیا آپ کا کسی سے افئیر چل رہا ہے۔۔۔۔ ” راعنہ کی آواز بھیگ گئی۔
“میرا کسی سے کوئی افئیر نہیں ہے۔۔۔۔۔ اور تھا بھی تو۔۔۔۔۔ اب ختم ہوچکا ہے۔۔۔۔۔ آئی سمجھ۔۔۔۔۔ اب دوبارہ تمہارے منہ سے یہ نام نا سنوں۔۔۔۔” نوریز کا ضبط ٹوٹنے لگا اس نے راعنہ کا بازو دبوچ کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک ایک لفظ چبا کر کہا۔
راعنہ کے تاثرات بدلنے لگے اسے اپنے بازو میں نوریز کی انگلیاں دھنسی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔ وہ خود کو اس کے گرفت سے آزاد کرانے کے جتن کرنے لگی۔
اپنی بات مکمل کر کے نوریز نے ایک جھٹکے سے راعنہ کا بازو چھوڑا تو وہ لڑکھڑاتے پاس پڑے صوفے پر دھڑم کر کت بیٹھ گئی۔ دو آنسو ٹوٹ کر اس کے رخسار پر بہہ گئے۔ تند نظروں سے اسے دیکھ کر وہ لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے باہر نکل گیا۔
دل ٹوٹنے کا درد راعنہ اچھے سے جانتی تھی اس لیے نوریز کے دل شکنی کا سوچ کر اسے اپنے سوالوں پر پچھتاوا ہوا۔ اس کے دل میں نوریز کے لیے محبت اور ہمدردی بڑھ گئی پر حقیقت تو اس کے بر عکس تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
پندرہ دن کا ہنی مون منا کر صدیف اور آیت آج واپسی پاکستان لوٹے تھے۔ بٹ ہاوس میں بڑی سی دعوت رکھی گئی تھی جس میں دونوں فیملیز مل کر بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔
آیت اور صدیف نے باری باری سب کے تحائف پیش کئے۔ راعنہ ہمہ وقت اپنی بیسٹ فرینڈ کے گرد بازو حمائل کئے بیٹھی رہی۔ یہی کیفیت آیت کی بھی تھی۔ اتنے دنوں بعد اسے راعنہ سے مل کر بہت اچھا محسوس ہورہا تھا۔
شادی کا پہلا سال دونوں جوڑوں کا اچھا گزرا۔ آیت اور صدیف تو بہت خوش تھے جبکہ راعنہ اور نوریز میں اکثر ان بن رہتی پر اس نے اپنے ذاتی مسائل کا اثر کبھی اپنے گھر کے ماحول پر نہیں پڑنے دیا۔ وہ جب بھی میکے آتی خوشحال اور مستحکم زندگی کا اثر مرتب کراتی اس لیے شعیب صاحب اور عاطرہ بیگم کو کبھی اس کے شادی شدہ زندگی کے بھید بھاؤ کا پتا نہ چلا۔
شادی کے پہلے سال ہی آیت نے حاملہ ہونے کی نوید سنائی۔ بٹ ہاوس کی خوشیاں دن دگنی رات چگنی ہوگئی تھی۔ وہیں دوسری طرف راعنہ پر دباو بڑھنے لگا۔ سنبل بیگم نے اسے کری کوٹی سنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نا دیا۔
“کتنی با کمال ہے میری بیٹی۔۔۔۔ اتنے اچھے سے سسرال کو سنبھالا ہوا ہے۔۔۔۔ اور بہت جلد پہلے وارث سے بھی نوازنے والی ہے۔۔۔۔ اور ایک ہم ہے۔۔۔۔ بس اتنا ہی تو کہہ رہی ہوں۔۔۔۔ بھئی ہمارا بھی دل کرتا ہے گھر میں بچے کی کھلکاری سنیں۔۔۔۔ اپنے پوتے پوتی سے کھیلیں۔۔۔۔ پر نہیں کچھ کہو تو فورا منہ بن جاتا ہے سب کا۔۔۔۔ ہونہہ۔۔۔” سنبل بیگم آیت کے ہونے والے بچے کے لیے شاپنگ سے لوٹ کر چھوٹے چھوٹے کپڑے دیکھتے ہوئے بلند آواز گویا ہوئی۔
راعنہ کچن میں ملازمہ کے ہمراہ لنچ کے اہتمام میں مصروف تھی۔ ساس کی باتیں ہزار مرتبہ ان سنی کر کے بھی آخر اس کے دل پر چھبنے لگی تھی۔ رات کو اس نے اس بارے میں نوریز سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور خاموشی سے سنبل بیگم کی دہائیاں برداشت کرنے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نوریز ایک سال سے ایس آئی آفسر احیان خان سے بچتا رہا تھا۔ اس بیچ کمشنر صاحب نے احیان کو کئی سارے دیگر کیس میں الجھا دیا تھا تاکہ نوریز پر سے اس کا دھیان ہٹ جائے اور نوریز کو اسے سسپینڈ کروانے یا کسی دوسرے شہر تبادلہ کروانے کا کوئی موقع نا ملے۔
نین کی امی جی اس کے گمشدگی سے بہت بیمار رہنے لگی تھی اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی اس بیماری کو الزائمر کا نام دیا گیا۔ انہیں نین کے علاوہ کوئی یاد نہیں رہتا حتہ کہ عزیز صاحب بھی نہیں۔ بیوی کی یہ حالت دیکھ کر عزیز صاحب بھی کمزور پڑ گئے تھے۔ نین کی بڑی بہن جو سعودی ممالک میں شادی شدہ تھی، اس نے کئی مرتبہ والدین کو اپنے پاس بلوانے کی کوشش کی مگر عزیز صاحب خود دار مرد تھے انہوں نے بیٹی اور داماد پر بوج بننا گوارا نہیں کیا۔ امی جی کا سارا علاج احیان خان اپنے نگرانی میں کروا رہا تھا۔ جب جب وہ اپنی تائی کو نین کے لیے فریاد کرتے دیکھتا اس کی آنکھیں بھر آتی اور نوریز کے لیے نفرت مزید بڑھ جاتی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔