Nadamat By Palwasha Safi Readelle50274

Nadamat By Palwasha Safi Readelle50274 Last updated: 27 September 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nadamat

By Palwasha Safi

رات ڈھائی بجے کے قریب آیت کا موبائل بجا چونکہ آیت بچوں کے کمرے میں سو رہی تھی اور اس کا موبائل بیڈروم میں تھا تو صدیف نے کال اٹھائی۔ "السلام علیکم پاپا۔۔۔۔"اس نے عنودگی میں سلام کیا مگر وارث صاحب کی رندھی ہوئی آواز پر وہ پورا چونک گیا۔ وارث صاحب کو تھوڑی دیر قبل نوریز کے ایکسیڈنٹ کی اطلاع ملی تو انہوں نے سب سے پہلے آیت کو کال ملائی۔ "میں آتا ہوں پاپا۔۔۔۔" صدیف کو نوریز کے ایکسیڈنٹ کا غم تھا یا نہیں وہ سمجھ نا سکا مگر اس حالت میں اس نے انسانیت کے ناتے وارث صاحب کا سہارا بننے کا فیصلہ کیا۔ ایک گھنٹے بعد صدیف ہاسپٹل میں وارث صاحب کے ہمراہ موجود تھا۔ آئی سی یو کے شیشے سے وہ خو ن میں لت پت نوریز کی باڈی دیکھ کر اداس ہوگیا۔ "حالت بہت نازک ہے۔۔۔۔ ہم کوشش کر رہیں ہیں۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔ ہم جھوٹی امید نہیں دلا سکتے۔۔۔۔ آپ مضبوط رہیں سر۔۔۔۔" ڈاکٹر صاحب اپنے تعلیمی دور میں پروفیسر وارث صدیقی کا سٹوڈنٹ رہ چکا تھا اس لیے وہ ذاتی طور پر ان کا خاص خیال رکھ رہا تھا۔ وارث صاحب بہ مشکل خود کو سنبھالے ہوئے تھے۔ صدیف ان کے پہلو میں بیٹھ کر دلاسہ دینے لگا۔ "سنبل بیگم کو کیسے بتاوں گا۔۔۔۔ آیت کو کیا کہوں گا۔۔۔۔۔ " وہ مجبور باپ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ صدیف انہیں خود سے لگا کر خاموش کروانے لگا۔ آج کل کی اولاد اپنے خواہشات کی اڑ میں بوڑھے ماں باپ کی تکالیف کیوں بھول جاتے ہیں؛ صدیف دل ہی دل سوچتے مایوس ہونے لگا۔ فجر کے قریب ڈاکٹر صاحب دوبارہ ان کے رو بہ رو آئے۔ "کیا مسٹر نوریز کو پہلے بھی ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔۔۔۔" ان کے سوال پر وارث صاحب اور صدیف شاک ہوگئے۔ "دراصل۔۔۔۔ ایکسیڈنٹ سے پہلے انہیں ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔۔۔۔ اور ہمارے رپورٹس کے مطابق یہ ان کا دوسرا میجر اٹیک ہے۔۔۔۔ ان کی باڈی کا بایاں حصہ تو ایکسیڈنٹ کے پہلے سے d e a d ہوچکا تھا۔۔۔۔" اس اہم انکشاف پر صدیف نے وارث صاحب کے جانب دیکھا مگر وہ بھی اتنے ہی صدمے میں تھے۔ "اس نے کبھی نہیں بتایا۔۔۔۔" وارث صاحب اٹک اٹک کر بولے۔ ابھی ڈاکٹر انہیں نوریز کے مسائل سے آگاہ کر رہا تھا کہ نرس ہڑبڑاتے ہوئے آئی اور ڈاکٹر صاحب کے کان میں سرگوشی کی جس سے ان کا رنگ زرد پڑ گیا۔ چہرے پر کالے سایے لہرا گئے۔ "ایسا کوئی قانون نہیں جو نوریز صدیقی کو سزا دلوا سکے" کہنے والے کو نظام کائنات چلانے والے خالق سے سزا مل چکی تھی۔ اس سے بہتر انصاف کرنے والا کوئی نہیں۔