Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Nadamat) Episode 3

عاطرہ بیگم جانتی تھی راعنہ کے زخم آج پھر سے تازہ ہوگئے ہیں اس لیے انہوں نے ایلزینا کو اپنے پاس سلا دیا تھا۔ راعنہ ماضی کو یاد کرتے بیڈ کی پائنتی سے ٹیک لگائے بیٹھی رہی۔
وہ نام جسے وہ چاہ کر بھی اپنے ماضی کے پنوں سے نہیں مٹا سکتی تھی۔ اس شخص کا چہرا راعنہ کے عصاب میں ایسا نقش تھا جو بہ آسانی مٹنے والا نہیں تھا اسی لیے پانچ سال بعد بھی اس کے ذکر پر راعنہ اتنی ڈسٹرب ہوگئی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
آیت نے موبائل اپنے پیچھے چھپانے کی کوشش کی پر صدیف دیکھ چکا تھا اس لیے اس نے ہاتھ بڑھا کر آیت کے ہاتھ سے موبائل لیا۔
“مشی نے بتایا تھا۔۔۔۔ آج میرے آفس جانے کے بعد گھر پر کوئی آیا تھا۔۔۔۔ اور اب۔۔۔ رات کے اس پہر۔۔۔۔ تم مجھ سے چھپ کر کسی سے باتیں کر رہی ہو۔۔۔۔” صدیف نے اپنی بھوری آنکھیں آیت کی ڈارک براون آنکھوں میں گاڑھ لی۔
“آپ مجھ پر شک کر رہیں ہیں۔۔۔۔” آیت کی آواز بھر آگئی تھی۔
“نہیں آیت۔۔۔۔ میں تم پر شک نہیں کر رہا۔۔۔۔۔ ” صدیف نے نرمی سے کہتے آیت کو کندھوں سے تھام کر اپنے قریب کیا۔ آیت شوہر کے پناہ میں آکر آبدیدہ ہوگئی تھی۔
“تم میری بیوی ہو۔۔۔۔ ہمارے تین بچے ہیں۔۔۔۔۔ ایک چھوٹی سی فیملی ہیں۔۔۔۔۔ مجھے تمہاری فکر ہے۔۔۔۔۔ میری غیر موجودگی میں کوئی تمہیں یا ہمارے بچوں نقصان نہ پہنچا دیں اس بات کا ڈر لگا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔” صدیف نے دھیمی آواز میں اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
“نوریز آئے تھے صبح۔۔۔۔ اور ابھی بھی ان کی کال تھی۔۔۔۔ وہ بات کرنا چاہتے ہیں مجھ سے۔۔۔۔ پر میں انکار کر دیتی ہوں۔۔۔۔۔ ” آیت نے جوں کہ توں ساری بات صدیف کے گوش گزار کر دی۔ جبکہ صدیف کا دماغ تو نوریز کے نام پر ہی اٹک گیا تھا۔
“وہ جیل سے رِہا کب ہوا۔۔۔۔” تھوڑی دیر بعد اس کی گھمبیر آواز گونجی تھی۔ صدیف نے آیت کو اپنے حصار سے الگ کیا اور طیش ضبط کرنے لب بھینج گیا۔
“پتا نہیں۔۔۔۔ میں نے نہیں پوچھا۔۔۔۔ پر صدیف۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ اگر میں ان سے بات کرنے پر راضی نہ ہوئی تو وہ بٹ ہاوس نہ چلے جائیں۔۔۔۔۔ ” آیت کی متفکر انداز نے صدیف کو مزید پریشان کر دیا تھا۔
“وہ وہاں نہیں جائے گا۔۔۔۔ ایسی غلطی وہ دوبارہ نہیں کرے گا۔۔۔۔” صدیف نے پر سوچ انداز میں آنکھیں چھوٹی کر کے جواب دیا اور بیڈروم کے سمت گامزن ہوا۔
“امید ہے وہ وہاں نہ جائے۔۔۔۔ ” آیت نے دل ہی دل نوریز کی بٹ ہاوس نا جانے کی دعا کی اور سست روی صدیف کے پیچھے ہو لی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
شاہ ولا کے سبھی مکین نیند کی آغوش میں جا چکے تھے سوائے ایک شخص کے۔ یاشم کی ہیزل گرین کلر آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ وہ آنکھیں بند کرتا تو راعنہ کا مسکراتا چہرہ اس کے ذہن کے پردوں پر لہرا جاتا۔ راعنہ کی مسکراہٹ، اس کا پلکیں گرا کر یاشم کو نظر انداز کرنا، سر جھکائے کمپیوٹر اسکرین پر مرکوز اس کی سیاہ گہری آنکھیں، چہرے کی معصومیت۔ ایک ایک ادا یاشم کو یاد آرہی تھی۔ کروٹ بدل کر اس نے وال کلاک پر نظر ڈالی جو رات کے دو بجا رہا تھا۔
“راعنہ۔۔۔۔ یہ کیا کر دیا آپ نے۔۔۔۔ پہلی ملاقات میں میری نیندیں اڑا دی۔۔۔۔ آااہہہہ۔۔۔۔ لگتا ہے اب شب بیداری کی عادت ڈالنی پڑے گی۔۔۔” حسرت سے آہ بھرتے ہوئے وہ خود کلامی کرنے لگا۔
صبح تو وہ اس کیفیت سے انجان تھا اور جھنجھلا جاتا پر اس وقت یاشم محبت کا اعتراف کر چکا تھا۔ اس نے راعنہ کو اپنے دل کے سب سے اونچے مقام پر محسوس کیا تھا۔ یہ جذبہ اسے بہت اچھا لگ رہا تھا۔ وہ خوشی سے سرشار ہو کر مسکرانے لگا اور جلد از جلد صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا تاکہ وہ راعنہ کا دیدار کر کے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا سکے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
اگلے دن حمدان کو اتنی بڑی ڈیل ملنے کی خوشی میں انجمن تاجران کے جانب سے ان کے مین آفس میں چھوٹا سا لنچ رکھا گیا تھا جس میں صدیف بھی مدعو تھے۔
سب سے مبارک باد وصول کرتے جب حمدان اور صدیف رو بہ رو ہوئے تو حمدان سر جھکا کر آگے بڑھنے لگا لیکن صدیف نے اسے مخاطب کرتے روک لیا۔
“مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے حمدان۔۔۔۔” صدیف نے بڑا بھائی ہونے کے ناطے سخت لہجے میں کہا۔
“آپ کو جو بھی بات کرنی ہے بابا سے کریں۔۔۔۔” حمدان نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا۔ وہ جانتا تھا صدیف اور بابا اکثر رابطے میں رہتے ہیں۔
“بات سیریس ہے حمدان۔۔۔۔ راعنہ کے بارے میں ہے۔۔۔۔” صدیف نے اس کے طنز کا برا نہ مناتے ہوئے مسئلے کی نوعیت سمجھانے کی کوشش کی۔
حمدان کے عصاب ڈھیلے پڑ گئے تھے۔ وہ سنجیدگی سے صدیف کے جانب متوجہ ہوا۔
“نوریز کی بیل ہوگئی ہے۔۔۔۔ وہ جیل سے رہا ہوگیا ہے۔۔۔۔ کل میرے گھر پر آیا تھا پر آیت نے گیٹ سے ہی واپس بھیج دیا۔۔۔۔ ” صدیف کی بات سن کر حمدان کی آنکھیں بڑی ہوگئی تھی۔
“ہوسکتا ہے وہ راعنہ سے ملنے کی کوشش کریں۔۔۔۔ اس لیے تمہیں آگاہ کر رہا ہوں۔۔۔۔ چاہتا تو بابا کو بتا سکتا تھا۔۔۔۔ پر اس عمر میں ان کے لیے مزید اسٹریس تاوان دہ ہوسکتا ہے۔۔۔۔ گھر پر سب کا خیال رکھنا۔۔۔۔ میری ضرورت ہو تو ایک کال کر دینا۔۔۔۔ ” صدیف اپنی بات مکمل کر کے حمدان کا شانہ تھپتھپا کر روانہ ہوگئے۔
حمدان کو اپنے رویئے پر افسوس ہوا اس نے فوراً سے صدیف کو پکارا تھا۔
“بھئیاں۔۔۔۔ ” صدیف کے قدم رک گئے۔ پانچ سال بعد وہ حمدان کے زبان سے اپنے لیے یہ لقب سن رہا تھا۔ صدیف بے یقینی سے پیچھے مڑا۔
“تھینکیو۔۔۔۔” خفیف سا مسکرا کر حمدان دوسری سمت بڑھ گیا اور صدیف وہی کھڑے اسے جاتے دیکھتا رہا۔
وہ دونوں دور ہی صحیح پر ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے۔ بھائیوں کے رشتے کی اصل تعریف کوئی ان سے پوچھتا۔ پر قسمت نے ایسا کھیل کھیلا تھا کہ وہ سامنے ہو کر بھی ایک دوسرے سے دور تھے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ کا دن حسب معمول شروع ہوا۔ زینی کے دیر سے اٹھنے کے باعث وہ آج بھی لیٹ ہوگئی تھی۔ شیعب صاحب اسے آفس کے سامنے ڈراپ کر کے روانہ ہوگئے اور راعنہ تیز تیز چلتی آفس کے اندر داخل ہوئی۔ لابی میں اس کی یاشم سے ٹکر ہوتے ہوتے بچی تھی۔
“آئی ایم سوری سر۔۔۔۔” اپنا ہینڈ بیگ سمنبھالتی وہ ڈوپٹہ سر پر درست کرتی معذرت خواہ ہوئی۔
“آرام سے آرام سے راعنہ۔۔۔۔” یاشم نے راعنہ کے آگے ہو کر اس کی اسپیڈ کم کرنے کی کوشش کی تھی۔ راعنہ یک دم رک گئی۔
“اور پھر سے سر۔۔۔۔ کل ہی تو کہا تھا۔۔۔ مجھے فارملیٹی نہیں چاہیئے۔۔۔۔ میرا نام یاشم ہے۔۔۔۔” یاشم نے خفگی سے ٹوکا تھا۔
راعنہ خجالتی انداز میں سر پر ہاتھ رکھ کر دوبارہ معذرت خواہ ہوئی۔
“اوو سوری یاشم۔۔۔۔۔ میں عجلت میں بھول گئی تھی۔۔۔” راعنہ نے جان چھڑانے کے لیے دوستانہ مزاج میں کہا اور لفٹ کے جانب چلی گئی۔
یاشم وہی کھڑا حسرتی نگاہوں سے اسے جاتا دیکھتا رہا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
زینی کے اسکول میں شش ماہی امتحانات چل رہے تھے اس لیے اس کی چھٹی بارہ بجے ہوگئی تھی۔ حمدان اور راعنہ اپنے اپنے آفس میں تھے اور شعیب صاحب بھی گھر پر نہیں تھے اس لیے عاطرہ بیگم اسے لینے لانے چلی گئی تھی۔ واپسی دونوں گروسیری کرتے ہوئے کافی دیر سے لوٹیں۔ عاطرہ بیگم جلدی سے لنچ بنانے کچن میں در آئی اور ایلزینا کمرے میں چلی گئی تھی۔ یونیفارم چینج کر کے جب وہ نیچھے آئی تو نانو کو کچن میں مصروف پایا اور مامی مصور کو فیڈ کروانے میں مصروف تھی۔ کچھ دیر کارٹون دیکھ کر وہ اکتا گئی اور اٹھ کر نانو کے کمرے میں چلی آئی۔ ایک ایک کر کے الماری کے ہینڈل کھینچ کر ایلزینا کو آخری الماری کا پٹ کھلا ملا۔ اس کی آنکھیں چمک اٹھی۔ وہ چہکتے ہوئے پٹ کھول کر الماری کے خانے میں جا بیٹھی۔ کافی دیر وہ چھپن چھپائی کھلینے کے انداز میں اپنے آپ میں ہی لگی رہی۔ کچھ دیر بعد اس کا دم گھنٹے لگا تو اس نے الماری کا پٹ دھکیلا لیکن وہ بند ہوچکا تھا۔ ایلزینا بری طرح گھبرا گئی۔
“نانو۔۔۔۔۔ نانو۔۔۔۔۔ مامی۔۔۔۔ نانو۔۔۔۔۔” وہ مسلسل دروازہ بجا کر نانو کو پکارنے لگی پر چونکہ کمرے کا دروازہ بھی بند تھا تو الماری کے آخری حصے سے چھوٹی ایلزینا کی آواز باہر تک نہ پہنچ سکی۔
خوف کی وجہ سے کانپتے ہوئے اس نے اور زور سے دستک دی اور بلند آواز روتے ہوئے مسلسل نانو کو صدائیں دیتی رہی۔ چھوٹے سے الماری میں بند ہو کر اسے پہلے ہی سانس لینے میں دشواری ہورہی تھی اوپر سے گھبراہٹ کے مارے اسے پیسنے آنے لگے اور اس کا گلا خشک ہونے لگا۔
قریب ڈھائی بجے کے قریب شعیب صاحب اور راعنہ ساتھ ساتھ گھر لوٹے تھے۔ اریبہ ان دونوں کے لیے پانی لیں آئی۔
“آپی آپ تھکی ہوئی لگ رہی ہیں۔۔۔ آفس میں کام زیادہ تھا کیا۔۔۔۔” اریبہ نے استفسار کیا۔
“نہیں بس ایسے ہی۔۔۔۔” راعنہ بہانہ کر گئی۔ اب وہ اریبہ کو کیا کہتی کہ کل رات وہ کتنی دیر روتی رہی تھی۔
کچھ دیر سستا کر وہ اٹھی اور کچن کے در سے اندر جھانکا۔
“ممی آپ زینی کو لیں آئی تھی۔۔۔۔” راعنہ نے سوال پوچھتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر کھیرے کا ٹکڑا منہ میں ڈالا۔
“اور نہیں تو کیا میں اب تک اسے اسکول میں رہنے دیتی۔۔۔۔ لیں آئی ہوں۔۔۔۔ ماہ رانی پورا راستہ چپڑ چپڑ کرتی رہی ہے۔۔۔ اس کے باتوں کے چکر میں۔۔۔ میں دھنیا لینا بھول گئی۔۔۔” ممی نے سلاد کاٹتے ہوئے آپ بیتی سنائی۔
راعنہ بیٹی کی شرارتوں پر مسکرا کر سیڑھیوں کے طرف چل پڑی۔
“زینی۔۔۔۔ زینی بےبی۔۔۔۔” اپنے کمرے میں آکر اس نے بالکونی میں واشروم میں ڈریسنگ روم میں، ہر جگہ اسے تلاش کیا۔
“بابا۔۔۔۔ زینی نیچھے ہے کیا۔۔۔۔” کمرے سے باہر آکر ریلنگ کے پاس کھڑی ہو کر راعنہ نے لاؤنج میں صدا لگائی۔
“نہیں راعنہ یہاں تو نہیں ہے۔۔۔۔” بابا نے سر اوپر کو اٹھا کر جواب دیا۔
“کہاں چلی گئی یہ لڑکی۔۔۔۔” راعنہ منہ میں بڑبڑاتے دوسرے کمرے میں دیکھنے گئی۔
دوسرے کمرے کو اچھے سے دیکھ کر تیسرے کمرے میں جاتے ہوئے ایک پل کو راعنہ کے قدم رکے تھے۔ وہ صدیف کا کمرہ تھا۔ سر جھٹک کر اس نے دروازہ اندر دھکیلا اور اندھیرے کمرے میں ہر طرف جائزہ لیا۔
راعنہ کو اب پریشانی ہونے لگی۔ وہ تیزی سے ٹیرس پر گئی تھی مگر ہر طرف سے اس کی پکار خالی چلی آتی۔ تلاش بے سود ہوتا۔ راعنہ کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی۔ وہ بھاگتے ہوئے نیچھے پورشن میں آئی۔
“ممی زینی کہی نہیں مل رہی۔۔۔۔۔” اس نے عجلت میں سب کو آگاہ کیا اور لان کے سمت بھاگی۔
“یہی کہی ہوگی۔۔۔۔ کہاں جا سکتی ہیں۔۔۔۔ ” ممی نے اپنے تاثرات نارمل رکھے ہوئے جواب دیا تھا۔
راعنہ دیوانہ وار پھر سے ایک کمرے سے دوسرے میں جھانکتے واپس لاونج میں آئی۔
“ممی۔۔۔ زینی کہی نہیں ہے ۔۔۔۔ بابا آپ باہر دیکھ کر آئیں نا۔۔۔۔ ہوسکتا ہے گلی میں کھیلنے نکل گئی ہو۔۔۔۔” راعنہ کی گھبراہٹ میں مسلسل اضافہ ہونے لگا تھا۔ آبدیدہ ہوتے اس نے شعیب صاحب سے التجا کی۔
“راعنہ پریشان مت ہو مل جائے گی۔۔۔۔ میں دیکھ کر آتا ہوں۔۔۔۔” شیعب صاحب اسے تسلی دیتے باہر چلے گئے۔
راعنہ کو ان کی تسلی سے بھی سکون نہ آیا وہ بلند آواز ایلزینا کو پکارنے لگی۔ اریبہ اور عاطرہ بیگم بھی آس پاس نظر ڈورانے لگ گئیں۔ وہیں دوسری جانب زینی کا بند الماری میں چیخ چیخ کر گلا بیٹھ گیا تھا اور سانس رک رک کر آنے سے وہ حواسوں سے بیگانی ہوتی گئی۔ نیم بے ہوشی کی حالت میں اس سے پٹ بجایا بھی نہیں گیا۔
“آپی آپ روئے مت۔۔۔۔ دوبارہ چیک کرتے ہیں۔۔۔۔ شرارت کر رہی ہوگی ہمارے ساتھ۔۔۔۔ کہی چھپ کر بیٹھی ہوگی۔۔۔۔ ” اریبہ نے امید دلائی تو راعنہ آنسو صاف کرتے پھر سے کمرہ بہ کمرہ دیکھنے لگی۔
“باہر تو کہی نہیں ہے۔۔۔۔” شیعب صاحب خالی ہاتھ لوٹے تھے۔
راعنہ ایک مرتبہ پھر ممی اور بابا کے کمرے میں آکر تلاش کرنے لگی۔
“زینی۔۔۔۔ بےبی۔۔۔۔ کہاں ہو۔۔۔۔” رندھی ہوئی آواز میں پکارتی اس نے بیڈ کے نیچھے بھی جھانک کر دیکھا تھا۔
زینی نے مما کی آواز پر آنکھیں کھولی تھی اور ہمت کر کے بلانا چاہا پر اس کی آواز نہ نکل سکی۔ ہاتھ اٹھا کر اس نے مٹھی بنائی اور پٹ پر دستک دی۔
راعنہ مڑ کر جانے لگی تھی کہ دستک کی آواز پر ٹھٹک کر رک گئی۔ دوبارہ سننے کی سعی کر کے اس نے الماری کے سمت قدم بڑھائے۔
“ایلزینا۔۔۔۔ زینی۔۔۔ آپ اندر ہو کیا۔۔۔۔ ” راعنہ نے تصدیق چاہی تو دوبارہ بے دم سی دستک ہوئی۔
راعنہ حواس باختہ ہو کر ہینڈل کھینچنے لگی۔ اس کی تمام طاقت سے بھی وہ پٹ نا کھلا۔
“ممی۔۔۔۔ بابا۔۔۔۔” لزرتی آواز میں والدین کو پکار کر اس نے مدد کے لیے بلایا۔
شعیب صاحب اور عاطرہ بیگم سینے پر ہاتھ رکھے بھاگے چلیں آئے۔
“ممی زینی اندر ہے۔۔۔۔ یہ کیسے کھلتا ہے۔۔۔۔” راعنہ نے پورا پیچھے ہو کر زور لگایا پر سب بے سود رہا۔
“اس کا لاک تو خراب ہوگیا تھا۔۔۔۔ اسی لیے میں پورا بند نہیں کرتی تھی۔۔۔۔ زینی اندر کیسے چلی گئی۔۔۔۔” عاطرہ بیگم نے وضاحت دی۔
“راعنہ ہٹو میں کھولتا ہوں۔۔۔۔” بابا نے آگے آکر اپنے بوڑھے بازووں کا دم آزمانہ چاہا۔
“ایلزینا۔۔۔۔۔ ڈرو مت۔۔۔۔ مما آپ کو ابھی باہر نکال لے گی۔۔۔ ہمت رکھو میرا بچہ۔۔۔۔” راعنہ نے خود کو کمپوز کرتے ہوئے بیٹی کو ہمت دلانے کی کوشش کی۔
حمدان پورا راستہ ڈرائیو کرتے ہوئے نوریز کے رہائی کے متعلق سوچتے ہوئے گھر پہنچا تو پورچ میں گاڑی پارک کرتے ہی اسے اندر سے راعنہ کی رونے اور ممی کی پریشان کن آوازیں سنائی دی۔ حمدان کے اوسان خطا ہوگئے وہ تیزی سے اندر بھاگا اور آوازوں کی سمت متعین کر کے بابا کے کمرے میں در آیا۔
“کیا ہورہا ہے۔۔۔۔” حمدان نے پریشان ہو کر پوچھا۔
راعنہ تیزی سے اس کے جانب بھاگ کر آئی۔
“حمدان زینی الماری میں لاکڈ ہوگئی ہے۔۔۔۔ کافی دیر سے اندر ہے کچھ کرو۔۔۔۔” راعنہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ الماری ہی توڑ دے۔
راعنہ کی دہائی پر حمدان اپنا کوٹ اتار کر پھینکتا الماری کے سامنے آیا تو بابا خود ہی پیچھے ہٹ گئے۔ دائیں اور بائیں سے زور لگا کر بھی پٹ نہ کھلا تو حمدان نے دروازہ توڑنے کا ارادہ بنایا۔
“اریبہ میرا ٹول باکس لے کر آو جلدی۔۔۔۔ ” تیزی سے بیوی کو ہدایت دی اور وہ اس کی تکمیل کرنے اسٹور روم کے سمت بھاگی۔
“زینی۔۔۔۔ آر یو اوکے۔۔۔۔ ماموں کو ہنٹ دو۔۔۔ زینی بیٹا۔۔۔ ” حمدان نے دروازہ زور سے بجایا تھا پر اندر سے کوئی رسپانس نہ ملا۔ اتنی دیر میں اریبہ اوزاروں کا باکس اٹھائے اس کے پاس آئی۔
بڑا سا پیچکس پٹ کے درز میں پھنسا کر حمدان بازو کی طاقت سے ہتوڑی مارنے لگا۔ ٹک ٹک کی آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی۔ الماری سے لکڑی کے زرے پاش پاش ہونے لگے پر کسی نے پرواہ نہ کی اور حمدان کی کڑی محنت سے پٹ الماری سے الگ ہوگیا۔ دروازے کے ہٹتے ہی راعنہ نے ایلزینا کا بے حس و حرکت وجود باہر نکال کر جھنجھوڑا تھا۔ اس میں کوئی حرکت نا پا کر سب میں آہ و بکا بلند ہوگیا۔ حمدان راعنہ کے گود سے زینی کو لے کر گاڑی کے جانب بھاگا۔ بابا بھی اس کے پیچھے ہو لیے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
یاشم اپنا کام ختم کر کے ورکرز ہال میں آیا اور آخری ٹیبل کے پاس آکر کمپیوٹر پر ہاتھ پھیرتے راعنہ کے لمس کو محسوس کرنے لگا۔
“اب پھر آپ کا دیدار کرنے چوبیس گھنٹوں کا انتظار کرنا پڑے گا راعنہ۔۔۔۔۔ یہ کیا جادو کر دیا ہے آپ نے مجھ پر۔۔۔۔ آپ کو دیکھے بغیر دن نہیں گزرتا۔۔۔۔” یاشم نے سوچتے ہوئے خالی سیٹ پر بیٹھ کر ٹیبل پر رکھی چیزیں مشاہدہ کی۔
ایک چھوٹی ڈائری اٹھا کر پہلا صفحہ کھولا جس میں راعنہ نے اپنی ہینڈ رائٹنگ سے شیڈول بنائے تھے۔
“ہر ادا۔۔۔۔ ہر صفت اتنی مکمل ہیں آپ کی۔۔۔۔۔ ” اس نے راعنہ کی لکھائی کو انگلیوں کی پھوروں سے چھوا تھا۔ یاشم یہ نہیں جانتا تھا کہ جسے وہ مکمل سمجھ رہا ہے وہ اندر سے بہت ٹوٹی ہوئی ہے۔ اس کی زندگی بہت خالی اور نامکمل ہے۔
“کیا کبھی آپ کی لائف میں میری جگہ بن پائے گی یا نہیں۔۔۔” اور اس سوچ کے ساتھ ہی یاشم کے چہرے پر سختی در آئی۔
“ضرور بنے گی۔۔۔۔ میں خود بناوں گا۔۔۔۔ آئی ول میک شیور راعنہ۔۔۔۔ کہ آپ کو مجھ سے پیار ہوجائے۔۔۔۔ بی کاز۔۔۔۔ آئی لو یو۔۔۔۔” پر عزم ہوتے ہوئے یاشم اٹھا اور وہاں سے روانہ ہوگیا۔
شاہ ولا میں یاشم کی بڑی بہن رہنے آئی ہوئی تھی۔ اس وقت ضمیرہ اپنی مام کے ساتھ بیٹھی یاشم کے شادی کے موضوع پر تبادلہ خیال کر رہیں تھیں جب یاشم اندر داخل ہوا۔
“آو یاشم۔۔۔ دیکھو۔۔۔۔ ضمیرہ تمہارے لیے کچھ پروپوزلز لائی ہیں۔۔۔” مام اسے دیکھ کر اطلاع دیتے گویا ہوئی۔
یاشم کے چہرے پر ناگواری چھا گئی۔ وہ فریحہ بیگم کے سائیڈ بیٹھا اور بڑی بہن کو گھورا۔
“سس۔۔۔ کیوں مام کا دماغ الٹے کاموں میں لگا رہی ہو۔۔۔” یاشم نے ہونہہ کیا۔
“الٹے کام نہیں ہے۔۔۔۔ شادی سب نے کرنی ہے۔۔۔۔ اور یہی صحیح وقت ہے۔۔۔۔ ستائیس کے ہوگئے ہو۔۔۔۔ ڈگری مکمل کر لی۔۔۔۔ بزنس بھی ہینڈل کرنے لگے ہو۔۔۔۔ اب سیٹل ہوجانا چاہیئے۔۔۔۔” ضمیرہ نے لمبی وضاحت پیش کی۔
“واو۔۔۔۔ بھائی جان کی شادی ہوگی۔۔۔۔۔” آفروزہ خوشی سے چہک اٹھی تھی۔
“بھائی جان جلدی کرو نا۔۔۔۔ مجھے نئے کپڑے بنوانے ہیں۔۔۔۔ جیولری لینی ہے۔۔۔۔ سینڈل چوڑیاں۔۔۔۔ اور بھی بہت کچھ۔۔۔۔” آفروزہ اپنی لسٹ گنوانے لگی۔
یاشم اٹھا اور صوفے کے اوپر سے ہاتھ بڑھا کر آفروز کے سر پر تھپکی لگائی۔
“اپنے شاپنگ کے چکر میں مجھے کیوں پھنسا رہی ہو۔۔۔۔ اتنا شوق ہے تو خود کر لو۔۔۔۔ مجھے ابھی کوئی شادی وادی نہیں کرنی۔۔۔۔۔” کھلے عام اعلانیہ طور پر کہتا وہ سیڑھیوں کے جانب بڑھ گیا۔ پیچھے مام اور دونوں بہنیں اسے پکارتی رہ گئیں۔
شاہ ولا، اپنے بناوٹ کا شاہکار تھا۔ دادا جان نے خاص طور امریکہ سے ڈیزائن منگوا کر بنوایا تھا۔ عمارت کے چاروں طرف دائرے کی شکل میں بڑے بڑے وسیع لان پھیلے ہوئے تھے۔ شاہ ولا کے تزئین و آرائش میں ایرانی لکڑی اور ترکش انٹیریئر کا کثرت سے استعمال کیا گیا تھا۔ عمارت کے اندر داخل ہوتے ہی سامنے لمبی سیڑھیاں تھیں جو دوسرے منزل سے جڑی تھی۔ دوسرے منزل کا سب سے بڑا اور پر تعیش کمرہ شاہ خاندان کے وارث یاشم شاہ کا تھا۔ کنگ سائز بیڈ دائیں جانب بڑا سا وارڈراب اور بائیں جانب قدم آور کھڑکی اور اس کے آگے رکھا یک نفری جھولا۔ آفان صاحب نے اپنی بیٹیوں کو بھی کبھی کسی آسائش کی کمی نہیں ہونے دی۔ ان کے لیے بیٹا اور بیٹی ایک برابر تھے اور یاشم کو بھی اپنی بہنوں سے بہت پیار تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
ہسپتال کے کوریڈور میں حمدان ایلزینا کو گود میں اٹھائے ایمرجنسی وارڈ کے جانب بھاگا۔ بابا اس کی رفتار سے قدم ملانے کی جتن کر رہے تھے۔ ممی اور راعنہ دوسری گاڑی سے جلدی ہسپتال پہنچی۔
ڈاکٹر نے ایلزینا کی نبض دیکھی اور نرس کو ہدایات دے کر اسے آکسیجن لگوایا۔ پرچی پر لکھ کر فوری طور پر لگوانے والے انجیکشنز اور ڈرپ انہوں نے حمدان کو تھمایا تو وہ تیزی سے میڈیکل اسٹور کو لپکا۔
“گھبرانے کی بات نہیں ہے۔۔۔۔ وہ الماری میں کافی دیر تک بند رہنے کے باعث آکسجن کی کمی کی وجہ سے بے ہوش ہوئی ہے۔۔۔۔ تھوڑی دیر تک ہوش آجائے گا۔۔۔۔” ڈاکٹر صاحب نے پروفیشنل انداز میں ان سب کو سمجھایا تھا۔
بابا ان کے مشکور ہو کر راعنہ کے جانب پلٹے اور اسے خود سے لگا کر دلاسہ دیا۔ اتنی دیر میں حمدان دوائی سے بھرا پیکٹ لیں آیا تھا۔ ڈرپ لگنے کے ایک گھنٹے بعد ایلزینا کو ہوش آگیا البتہ آکسجن ماسک لگا رہا۔ راعنہ کانپتے ہوئے اس کے سرہانے بیٹھی اور اسے سینے میں بھینج لیا۔
“زینی۔۔۔۔ ایسا کوئی کرتا ہے ہاں۔۔۔۔ دیکھو مما کتنی ڈر گئی ہے۔۔۔۔ سب اتنا پریشان ہوگئے تھے۔۔۔۔” راعنہ نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے گلہ کیا۔
“سوری مما۔۔۔۔ پھر نہیں کروں گی۔۔۔۔۔” زینی بہ مشکل بول سکی۔
راعنہ نے اس کے رخساروں کو چھوم کر واپس بیڈ پر لیٹا دیا اور آرام کرنے کی ہدایت دی۔ ایلزینا ادویات کے زیر اثر تھی سر تکیے پر رکھتے ہی سو گئی۔ اسے نارمل ہوتے دیکھ کر بقیہ فیملی کی جان میں جان آگئی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
صدیقی ہاوس جو کہ بٹ فیملی اور شاہ فیملی سے یکسر مختلف تھا۔ ایک کینال میں بنا وہ بنگلہ خاموشی کا اعملی نمونہ تھا۔ وارث صدیقی اور ان کی بیگم سنبل صدیقی اپنے بیٹے نوریز صدیقی کے ہمراہ اس گھر کے مالکان تھے۔ کہتے ہیں بیٹی پرائی ہوتی ہیں ایک دن شادی کر کے چلی جاتی ہے۔ یہ روایت ان کی بیٹی پورا بجا لائی تھی جس نے پانچ سال سے اس گھر اور یہاں رہتے لوگوں سے پوری طرح قطع تعلق کر لیا تھا۔ آیت صدیقی جو کبھی اس گھر کی جان ہوا کرتی تھی اب ان سے کٹ کر رہ گئی تھی۔
پاپا نے کافی کوشش کی لیکن آیت نے اس واقعے کے بعد دوبارہ کبھی اس چوکٹ کا رخ نہ کیا۔ آخر کیسے کرتی آیت کی متاع جان اس کی دل عزیز سہیلی جو ان سب کے چلتے اس سے بچھڑ گئی تھی۔
نوریز کریم کلر کے قمیض شلوار پہنے بال نفاست سے بنائے مہنگی پرفیوم لگائے ہشاش بشاش تیار ہو کر کمرے سے باہر آیا۔ لاؤنج میں سے گزرتے ہوئے اس نے والدین کو سلام کیا۔
“نوریز۔۔۔۔ کھانا کھا لو۔۔۔۔ صبح ناشتہ بھی نہیں کیا تم نے۔۔۔۔” سنبل بیگم نے اسے مخاطب کیا۔
وارث صاحب اور نوریز کے مابین بات چیت کم ہی ہوا کرتی تھی۔ انہیں نوریز سے جو بھی کام ہوتا وہ بیوی کے ذریعے کہلواتے۔ ان کی یہ گریزی بجا تھی نوریز نے ان کی برسوں کی کمائی عزت کو ریت کی دیوار کے مانند ڈھیر کر دیا تھا۔ جبکہ سنبل بیگم ماں تھی ان کے ممتا کے چلتے نوریز کو سات خون بھی معاف تھے۔
“مما ایک دوست سے ملنے جا رہا ہوں۔۔۔۔ لنچ اسی کے ساتھ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔۔۔۔” نوریز نے بغیر پلٹے جوابی صدا لگائی اور گیٹ سے باہر نکل گیا۔
مین روڈ پر ڈرائیو کرتے ہوئے اچانک نوریز کو اپنا سر بھاری ہوتا محسوس ہوا۔ سانس گھٹ گھٹ کر آنے لگی۔ اس نے اپنے سائیڈ کا شیشہ نیچھے کر دیا پھر بھی فرق نہ پڑا تو کار ایک سائیڈ پر روک کر گاڑی سے اتر گیا۔ قمیض کے پہلے دو بٹن کھول کر وہ بائیں سینے کو مسلتا ہوا تیز تیز سانس لینے لگا۔ سینے میں اٹھتی تکلیف اس کے چہرے پر نقش تھی۔ درد برداشت کرنے اس نے نچھلا لب دانتوں میں دبا لیا اور آنکھیں سختی سے میچ لی۔
یاشم بلیک جینز اور وائٹ شرٹ پر براون کوٹ پہنے ڈرائیونگ کرتے گاڑی میں چل رہے گانے کے دھن پر سر ہلا رہا تھا جب اسے سڑک کنارے ایک ہینڈسم مرد کو تکلیف سے جونچتے دیکھا۔ نوریز کی کار کے پیچھے اپنی کار روک کر یاشم تیزی سے اتر کر اس کے پاس گیا۔
“ہیلو۔۔۔۔ آپ ٹھیک تو ہیں۔۔۔۔ چلیئے میں آپ کو ہاسپٹل لے جاتا ہوں۔۔۔۔” یاشم نے نوریز کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے جانب متوجہ کیا۔
“نہیں میں۔۔۔۔۔ میں ٹھیک۔۔۔۔ ہوں۔۔۔ آاہہہہ۔” نوریز سے بولا تک نہیں جا رہا تھا۔ وہ بائیں چیسٹ پر ہاتھ رکھے کراہ اٹھا۔
“آپ ٹھیک نہیں لگ رہے۔۔۔۔ میرے ساتھ چلیئے۔۔۔ آپ کو ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہیں۔۔۔۔” یاشم متفکر ہوگیا اس نے نوریز کو منانے کی کوشش کی۔
“پانی۔۔۔۔” نوریز کو اپنا گلا خشک ہوتا لگا۔ خود کو گرنے سے بچانے اس نے اپنی گاڑی سے ٹیک لگا لی تھی۔
اسے گاڑی کے سہارے ٹکا کر یاشم اپنے کار کو لپکا اور پانی کی بوتل اٹھا کر پھر سے نوریز کے پاس آیا۔ نوریز نے اس کے ہاتھ سے بوتل لے کر ایک ہی سانس میں کئی گھونٹ پیئے۔ حلق سے پانی کے اترتے گھونٹ کے ساتھ اسے طبیعت سنبھلتی محسوس ہوئی۔ اس نے گہرے سانس لیتے یاشم کا شکریہ ادا کیا۔
“دیکھیئے۔۔۔۔ آپ پوری طرح ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔ آپ کو جہاں جانا ہے میں ڈراپ کر دوں گا۔۔۔۔” یاشم کا ہاتھ تھام کر نوریز اٹھ کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔
“میں اب بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔ آپ کا بہت شکریہ۔۔۔۔ اب چلتا ہوں۔۔۔۔” نوریز نے متانیت سے سر کو خم دیا اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔
یاشم کار کا دروازہ بند کر کے پیچھے ہوگیا۔ نوریز کی گاڑی نظروں سے اوجھل ہونے تک وہ وہی کھڑا رہا۔
“عجیب پاگل آدمی تھا۔۔۔۔ اتنی طبیعت خراب تھی پھر بھی اپنی ضد پر اڑا رہا۔۔۔۔” یاشم نے طیش سے سوچا اور پھر سر جھٹک کر اپنی کار میں سوار ہوگیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔