Nadamat By Palwasha Safi Readelle50274 (Nadamat) Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
(Nadamat) Episode 4
لاءئیر سے میٹنگ کے دوران بھی نوریز کی طبیعت ناساز رہی۔ اس نے صحیح طریقے سے لنچ بھی نہیں کیا گیا اور ملاقات جلد ختم کر کے اپنے پرانے دوست کے ہسپتال آگیا۔
اس کے زبانی علامات سن کر ڈاکٹر صاحب نے نوریز کا تفصیلی معائنہ کیا۔
“نوریز۔۔۔۔۔ تمہیں چھوٹا سا ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔۔۔۔ تم اسی وقت ہاسپٹل کیوں نہیں آئے۔۔۔۔ شکر ہے اٹیک کم نوعیت کا تھا۔۔۔۔ اب سے تمہیں ہمارے پاس مستقل علاج کروانا ہوگا۔۔۔۔۔ ورنہ اگلا اٹیک تمہاری جان لے سکتا ہے۔۔۔۔۔” ڈاکٹر صاحب نے میز کے پار بیٹھے نوریز کے میڈیکل رپورٹ مشاہدہ کرتے ہوئے گھمبیر مسئلے سے آشنا کیا۔
دوران گفتگو نوریز پوری توجہ سے ان کے ہدایات سنتا رہا اور پھر پرسکرپشن لے کر ڈاکٹر سے مصافحہ کرتے روانہ ہوگیا۔ ہسپتال کی عمارت سے نکل کر اس نے خود پر استحزیہ ہنستے ہوئے پرچی پھاڑ کر قریبی کوڑا دان میں پھینک دی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
ایلزینا رات تک ڈسچارچ ہو کر گھر آگئی۔ اس حادثے سے وہ اتنا ڈر گئی تھی کہ سارا وقت مما کی گود میں بیٹھی رہی۔ راعنہ نے بہ مشکل اسے چند لقمے ڈنر دیا۔
مصور کرالنگ کرتے ہوئے لاونج میں آیا اور نی نی کر کے زینی کو پکارنے لگا۔
“بہت مس کیا ہے اس نے تمہیں۔۔۔ بار بار نی نی کرتے پورے گھر میں تمہیں ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔۔” اریبہ نے ایلزینا کے سر پر ہاتھ پھیر کر اس کا موڈ اچھا کرنا چاہا۔
ننھا مصور اپنی مما کے گود میں آکر زینی کو ساتھ کھیلانے کی کوشش کرنے لگا مگر ایلزینا نے رخ پھیر لیا۔
“ممی۔۔۔۔ میں اسے سلا کر آتی ہوں۔۔۔۔” راعنہ اسے گود میں اٹھائے کمرے میں چلی گئی۔
بیڈ پر نیم دراز ہو کر وہ زینی کو تھپتھپانے لگی۔ زینی غیر مروی نقطہ کو دیکھتے ہوئے نیم خوابی کے حالت میں کنکاری۔
“آپ کو پتا ہے مما۔۔۔۔ جب میری سانس بند ہونے لگی تھی تو سب سے پہلے کس کا خیال آیا تھا۔۔۔۔” ایلزینا مما کے کندھے سے لگے گویا ہوئی۔
“کس کا۔۔۔۔” راعنہ نے تجسس سے استفسار کیا۔
“آپ کا۔۔۔۔ مجھے لگا۔۔۔۔ میں آپ سے بہت دور ہورہی ہوں۔۔۔۔” زینی نے مما کے گرد اپنا حصار مزید مضبوط کر دیا تھا۔
راعنہ نے بانہوں کے حلقے کو تنگ کر کے اسے سینے میں بھینج لیا۔
“مما۔۔۔ آپ مجھ سے کبھی الگ مت ہونا۔۔۔۔ مجھ سے کبھی دور مت جانا۔۔۔۔” زینی کی آواز رندھ گئی۔
“میں کہی نہیں جاوں گی بیٹا۔۔۔۔ مما آپ سے کبھی الگ نہیں ہوگی۔۔۔۔ ” راعنہ نے اسے پیار کرتے ہوئے سمجھایا۔
الزینا نے سکون کا سانس لیا اور یونہی گلے لگے آنکھیں بند کر لی۔ راعنہ کافی دیر خلا میں دیکھتے اس کے بال سہلاتی رہی۔ جب ایلزینا گہری نیند سو گئی تھی تو اسے بیڈ پر لیٹا کر راعنہ وضو کرنے واشروم چلی گئی۔
آج اسے اپنا آپ پھر سے بکھرتا محسوس ہوا تھا اور اس پاک ذات سے بڑھ کر کوئی تھامنے والا ہے کیا؟؟۔
مصلحہ بچا کر اس نے اول تو ایلزینا کی زندگی بچ جانے پر شکرانے کے نفل ادا کئے اور پھر وہی بیٹھے ہوئے تلاوت قرآن پاک کرنے لگی۔ جب بھی اسے اکیلا پن محسوس ہوتا وہ اللہ کے حضور جھک کر ان کا ساتھ مانگتی اور وہ پر سکون ہوجاتی تھی۔
جب بھی زندگی میں ایسے حالات آن کھڑے ہوں۔ جہاں لگے کہ آپ بالکل تنہا ہوگئے ہیں۔ تو پریشان نہیں ہونا۔ اللہ سے نا امید نہیں ہونا۔ اسی میں اللہ کی کوئی مصلحت ہوتی ہیں۔ شاید اللہ نے لکھ دیا ہو کہ اسے پانے کے لیے آپ کو تنہائیوں کے راستے سے گزرنا پڑے گا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
رات کو چونکہ راعنہ دیر سے سوئی تھی۔ اس لیے صبح اس کی آنکھ نہ کھل سکی۔ وہیں ایلزینا کی طبیعت پہلے سے کافی بہتر تھی وہ جلدی اٹھ کر نیچھے نانو کے کمرے میں آگئی۔ چونکہ سنڈے کا دن تھا اس لیے عاطرہ بیگم صدیف کے بچوں کے ساتھ محو گفتگو تھیں۔ ایلزینا موبائل اسکرین پر اپنے جتنے بچے دیکھ کر خوشی سے چہک گئی۔
“نانو۔۔۔ یہ سب کون ہیں۔۔۔۔” بیڈ پر اچھل کر بیٹھتے اس نے نانو کو چونکا دیا۔
“ہائے میں ایلزینا ہوں۔۔۔۔” اس نے کمیرے میں چہرا آگے کر کے ہاتھ ہوا میں لہرایا۔
دوسری طرف ذیال ثمر اور مشائم بھی حیران ہوگئے تھے۔ اتنے عرصے سے انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ دادی کے ساتھ مصور کے علاوہ کوئی اور بچی بھی رہتی ہے۔
“میں مشائم ہوں۔۔۔۔ ” مشائم نے متعارف ہونے میں پہل کی۔
“اور میں ث سے ثمر۔۔۔۔” ثمر تیزی سے آگے ہوا۔
اس کے انداز پر ایلزینا کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
“میرا نام ذیال ہے۔۔۔۔ دادو یہ کون ہے۔۔۔۔” ذیال نے اپنا تعارف بتاتے ہوئے دادی سے سوال کیا تھا۔
عاطرہ بیگم گڑبڑا گئی۔ انہیں بچوں کے ایسی ملاقات کی توقع نہیں تھی۔
“نانو۔۔۔۔ بتاو نا۔۔۔۔ یہ کون ہے۔۔۔ کہاں رہتے ہیں۔۔۔۔”زینی ان کا ہاتھ جھنجوڑ کر بضد ہوئی۔
“بیٹا یہ صدیف ماموں کے بچے ہیں۔۔۔۔ اور بچوں۔۔۔۔ یہ راعنہ پھوپھو کی بیٹی ہے۔۔۔۔” عاطرہ بیگم نے پہلے زینی کو جواب دیا اور پھر اسکرین پر منتظر بیٹھے بچوں کے جانب رخ کیا۔
“صدیف ماموں ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہتے نانو۔۔۔۔ جیسے حمدان ماموں رہتے ہیں۔۔۔۔ ان کے بچے مصور سے بڑے ہیں۔۔۔ مجھے ان کے ساتھ کھیلنا ہے۔۔۔۔” زینی کا منہ بن گیا تھا۔
“ہاں دادو۔۔۔ آپ ایلزینا کو ہم سے ملوانے لاو نا۔۔۔۔” ثمر نے التجا کی تھی۔
عاطرہ بیگم نانو اور دادو کے کردار میں پھنس گئی انہیں سمجھ نہ آیا کہ بچوں کو کیا جواب دے۔
“کیا کہوں بچوں۔۔۔۔ دل تو میرا بھی بہت کرتا ہے پر۔۔۔۔ ان دیکھی بیڑیوں میں جکڑی ہوئی ہوں اس لیے نہیں آسکتی۔۔۔۔” عاطرہ بیگم نے دل ہی دل میں سوچا تھا۔
چہرے کے تاثرات خوشگوار بنا کر انہوں نے بچوں کو مخاطب کیا۔
“چلو بچوں۔۔۔۔ پھر بات ہوگی۔۔۔۔ زینی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ اسے ناشتہ کروا کر دوائی بھی دینی ہے۔۔۔۔ اوکے بائے۔۔۔۔” عاطرہ بیگم نے تیز تیز کہہ کر کال کاٹ دی۔
“نانو۔۔۔۔ صدیف ماموں اور ان کے بچے ہمارے گھر کب آئے گے۔۔۔۔” زینی کی سوئی اب بھی وہی اٹکی ہوئی تھی۔
“زینی۔۔۔۔ صدیف ماموں اور آپ کی مما ناراض ہیں۔۔۔۔ آپ نا اپنی مما کو مت بتانا ہم نے ان کے بچوں سے بات کی ہے۔۔۔۔ ورنہ وہ ہم پر بھی ناراض ہوجائے گی ٹھیک ہے۔۔۔۔” عاطرہ بیگم نے ایلزینا کے چہرے کو ہاتھوں میں تھام کر سمجھایا اور اٹھ کر جانے لگی۔
اصل معاملہ تو زینی کی سمجھ میں نہ آیا پر وہ مما کی ناراضگی مول نہیں لینا چاہتی تھی اس لیے نانو کی بات مان گئی اور ان کے پیچھے ہو لی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
آفان صاحب کا دفتر آتے ہوئے موڈ بہت بگڑا ہوا تھا۔ انہوں نے نہ کسی کے سلام کا سیدھے منہ جواب دیا نا سکریٹری کے تفصیلات پر دھیان دیا۔ کیبن میں در آتے ہی انہوں نے راعنہ کو بلوایا۔ سکریٹری ان کے حکم کی تابع ہو کر راعنہ کو بلانے چلی گئی۔
راعنہ اپنے بلاک میں بیٹھی کام کر رہی تھی جب آفان صاحب کی سکریٹری اسے بلانے آئی۔ وہ اپنا کمپیوٹر آف کر کے اس ساتھ ہو لی۔ بقیہ کارکنان حسد بھری نظروں سے اسے دیکھتے رہیں۔
“اس راعنہ کا کچھ کرنا پڑے گا۔۔۔۔ کچھ زیادہ ہی چہیتی بن رہی ہے باس کی۔۔۔۔۔” ایک ایمپلائی نے سر جھٹک کر جملہ کسا۔
“ہاں یار۔۔۔۔ جب سے آئی ہے۔۔۔۔ ہر کام اسی کو دے رہیں ہیں۔۔۔۔ ہماری تو کوئی حیثیت ہی نہیں رہی۔۔۔۔” دوسری نے بھی اپنے حصے کا اضافہ کیا تھا۔
“اس سے تو مجھے اسی دن نفرت ہوگئی تھی جب اس کی وجہ سے یاشم نے میری انسلٹ کی تھی۔۔۔۔” مہر کی سرد آواز نے باقی دونوں کو خاموش کرا دیا تھا۔
“اس کا علاج تو میں کروں گی۔۔۔۔ ” مہر نے معنی خیز لہجے میں کہا تو باقی دونوں فرینڈز میں پریشان کن نظروں کا تبادلہ ہوا۔
“کیا کرنے والی ہو مہر۔۔۔۔” اس کے ارادے جاننے دوسری فرینڈ مستفسر ہوئی۔
“اس راعنہ کو۔۔۔۔ اس آفس سے بھی نکلواوں گی۔۔۔۔ اور یاشم کی نظروں سے بھی گراوں گی۔۔۔۔۔” مہر نے اسے دیکھتے ہوئے آنکھ کا کونہ دبایا تھا۔
دوسری جانب راعنہ دستک دے کر آفان صاحب کے کیبن میں داخل ہوئی تو آفان صاحب کے غضب کی زد میں آگئی۔
“مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی راعنہ۔۔۔۔ میں نے آپ کی قابلیت سے متاثر ہو کر بہت اعتماد کر کے رکھا تھا پر آپ۔۔۔۔ ایسا صلہ دیں گی۔۔۔ یہ کبھی نہیں سوچا تھا۔۔۔۔” آفان صاحب کا غصہ تیز ہونے لگا اور راعنہ بے یقینی سے انہیں دیکھتی رہی۔
“سر۔۔۔۔ آپ کیا کہہ رہیں ہیں مجھے سمجھ نہیں آرہی۔۔۔۔” راعنہ حیران ہوئی اور اس کے لا تعلقی پر آفان صاحب کے پیشانی پر دو بل مزید بڑھ گئے۔
“اووو جیسے آپ کو کچھ پتا ہی نہیں ہے ہاں۔۔۔۔” آفان صاحب کی آواز اونچی ہوگئی۔
راعنہ کو تیز آوازوں سے ڈر لگتا تھا۔ وہ آفان صاحب کے غضب سے خوفزدہ ہو کر کانپ اٹھی۔
“سسس۔ سر۔۔۔ مجھے سچ میں نہیں معلوم۔۔۔ کیا ہوا ہے۔۔۔۔” راعنہ کی آواز حلق میں پھنس گئی تھی۔
“ہمارے نئے ڈیزائن۔۔۔۔ میرے رائیول کمپنی کو سیل کر کے آپ کہہ رہی ہیں کیا ہوا ہے۔۔۔۔ ” آفان صاحب میز پر ہاتھ مارتے کھڑے ہوگئے اور راعنہ کی شاک سے آنکھیں بڑی ہوگئی تھی۔
“سر میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔۔” راعنہ ڈوپٹے کا سرا مضبوطی سے ہاتھوں میں دبائے ہوئے بولی۔ اس کی آنکھیں بھیگنے لگی تھی۔
“تو کیا میں جھوٹ بول رہا ہوں۔۔۔۔ مین سرور سے پتا کر کے آرہا ہوں۔۔۔۔ آپ کے ای میل سے بھیجے گئے سارے ڈیٹیل ہیں ہمارے پاس۔۔۔۔” آفان صاحب کا لہجہ بے لچک تھا اور راعنہ الزامات کے تلے دب گئی تھی۔
گلا رندھ جانے کے باعث اس کی آواز نہ نکل سکی۔ وہ محض سر نفی میں ہلاتے اپنے بے قصوری ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہی۔
آفس کیبن کے باہر ایمپلائیز کا جھمکٹا لگ گیا تھا۔ سب اندر سے آتی آفان صاحب کی آواز کو سن کر چی مگوئیاں کرنے لگے۔
یاشم دیر سے اٹھنے کے باعث اسی وقت آفس پہنچا تھا۔ گلاسس اتار کر اس نے شاکی انداز میں آفس میں مچی افرا تفری کا جائزہ لیا اور بابا کی غضب ناک آواز سن کر فوراً کیبن کے سمت بھاگا۔
یاشم دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوا تو راعنہ نے تیزی سے رخ موڑ کر آنکھوں کے بھیگے گوشے صاف کیے۔ آفان صاحب سرد سانس خارج کر کے اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ یاشم نے پہلے بابا کا سرخ ہوتا چہرہ دیکھا اور پھر گردن موڑ کر سر جھکائے کھڑی راعنہ کو جو گیلی سانس اندر کھینچ کر خود کو کمپوز کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کی متروم آنکھیں اور چہرے پر چھائی اداسی دیکھ کر یاشم کا دل دھڑکا تھا لیکن بظاہر خود کو کمپوزڈ رکھے وہ ٹیبل کے قریب آیا۔
“بابا۔۔۔۔ سب خیریت۔۔۔۔ آپ راعنہ کو ایسے کیوں ڈانٹ رہیں ہیں۔۔۔۔” یاشم کی متفکر آواز پر آفان صاحب پھر سے جوش میں آگئے۔
“ڈانٹوں نہیں تو اور کیا کروں۔۔۔۔ جمعہ جمعہ چار دن ہوئے نہیں اسے یہاں۔۔۔۔ اور اس نے ہمیں اتنا بڑا دھوکہ دیا ہے۔۔۔۔ ہمارے نئے ڈیزائن فیصل چشتی کو بھیج دیئے ہیں۔۔۔۔” آفان صاحب کی آواز میں افسردگی در آئی تھی۔ غصے کی جگہ دکھ نے لے لیا تھا۔
یاشم کو بابا کی بات پر یقین نہیں آیا۔ وہ یک ٹک انہیں دیکھتا رہا اور جب ان کی بات کا مطلب سمجھ آیا تو بے یقینی سے پلٹ کر راعنہ کو دیکھا۔ راعنہ نے لب کاٹتے سر اٹھا کر ایک نگاہ یاشم کو دیکھا اور پھر بھیگی پلکیں جھکا لی۔ یاشم نے تیزی سے واپس پلٹ کر راعنہ کے جانب پشت کر لی۔ اسے اپنے بابا کے دکھ کا احساس تھا تو راعنہ کے تکلیف کا اندازہ بھی۔ راعنہ کا اداس چہرہ یاشم کی نگاہوں میں قید ہو گیا تھا پر اس نے سر جھٹک کر اپنے جذبات خود پر حاوی ہونے سے روکا اور گھوم کر ٹیبل کے دوسرے جانب آکر بابا کو کندھوں سے تھاما۔
“بابا۔۔۔۔ ریلکس۔۔۔۔ میں دیکھتا ہوں۔۔۔۔ میں اس معاملے کی تہہ تک جاوں گا اور اصل مجرم آپ سے سامنے لاوں گا۔۔۔۔ آئی نو۔۔۔۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑا لاس ہے۔۔۔۔ پر فیصل چشتی کو اس کی سزا ضرور ملے گی۔۔۔۔” یاشم نے آفان صاحب کو سمجھایا۔ اس نے نہ ڈائریکٹ بابا کی بات ٹھکرائی تھی اور نہ راعنہ کو بے قصور کہا تھا۔
آفان صاحب نے لمبا سانس لیں کر سر کو جنبش دیا۔ ان کے جانب سے مطمئن ہو کر یاشم نے راعنہ کی آنکھوں میں دیکھا اور پلکیں جھپکا کر سر کو خم دیتے اسے جانے کا اشارہ کیا۔ راعنہ سر جھکائے کیبن سے نکل گئی۔ سب ہی کارکنان اس کے جانب متوجہ تھے۔ اسے سوالیہ نظروں سے گھور رہیں تھے۔ راعنہ سے وہاں رکا نہیں گیا وہ تیزی سے اوپری منزل پر گئی اور کسی کے نظریں ملائے بغیر اپنا بیگ سمیٹ کر جانے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ سست روی سے گھر میں داخل ہوئی تو بابا لان میں پودوں کو پانی دینے میں مصروف نظر آئے۔ گیٹ کھلتا محسوس کر کے وہ پیچھے مڑے تو راعنہ کو بے وقت گھر پر دیکھ کر حیران ہوگئے۔
“ارے راعنہ۔۔۔۔۔ اتنی جلدی واپس آگئی۔۔۔۔ کچھ بھول گئی تھی کیا۔۔۔۔ مجھے کال کر لیتی۔۔۔۔۔” بابا اپنے آپ سے اس کی واپس کا اندازہ لگا کر گویا ہوئے۔
راعنہ کا دل بھر آگیا تھا وہ تیزی سے لان میں آئی اور بابا کے کندھے سے لگ کر رونے لگی۔
“راعنہ۔۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔۔ رو کیوں رہی ہو۔۔۔ کسی نے کچھ کہا ہے کیا۔۔۔۔ بتاو بیٹا بات کیا ہے۔۔۔۔” شعیب صاحب کا دل دہل گیا تھا۔
راعنہ کا رونا اور شعیب صاحب کی آواز سن کر عاطرہ بیگم دل پر ہاتھ رکھے فوراً لاؤنج سے باہر آئی۔
“بابا آپ نے کہا تھا نا۔۔۔ کہی میرے قدم ڈگمگا گئے تو میں آپ کے پاس آوں۔۔۔۔”راعنہ نے بہتے آنسوؤں کے ساتھ گویا یاد کروایا۔
“میں مضبوط نہیں ہوں بابا۔۔۔۔ میں بہت کمزور ہوں۔۔۔۔ میں ہمیشہ کی طرح آج بھی بزدل ہوں۔۔۔۔ میں اپنا دفاع نہیں کر پائی۔۔۔۔ میں سچائی ثابت نہیں کر پائی۔۔۔۔” راعنہ کہتے کہتے پھر سے رو پڑی تھی۔
“پر بات کیا ہے راعنہ بتا تو صحیح۔۔۔۔” شعیب صاحب اس کے گرد بازو مائل کر کے اسے اپنے حصار میں لیئے ہوئے لاونج میں آگئے۔ ممی نے بھی راعنہ کو دلاسہ دینے کی کوشش کی تھی۔
بابا کے حصار سے لگے اس نے بابا اور ممی کو آفس میں ہوئے واقعے کے بارے میں بتایا تو شعیب صاحب غصہ میں آگئے۔
“ایسے کیسے میری بیٹی پر اتنا بڑا الزام لگا سکتے ہیں۔۔۔۔ میں خود بات کرتا ہوں شاہ صاحب سے۔۔۔۔ ” شعیب صاحب کھڑے ہوگئے۔
“نہیں بابا۔۔۔۔ آپ وہاں نہیں جائیں گے۔۔۔۔ انہوں نے مجھے جو کہا سو کہہ دیا۔۔۔۔ پر اگر آپ کو کچھ کہا تو مجھے بہت تکلیف ہوگی۔۔۔” راعنہ نے بابا کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔
شعیب صاحب راعنہ کے آنسوؤں سے تر چہرہ دیکھ کر واپس بیٹھ گئے اور اس کا سر اپنے سینے سے لگا کر خاموش کرانے لگے۔
“میں یہ جاب ہی چھوڑ دوں گی۔۔۔۔ نہیں کرنا مجھے ان کے ہاں نوکری۔۔۔۔” راعنہ نے سسکتے ہوئے فیصلہ کیا تھا۔
شعیب صاحب اور عاطرہ بیگم کے مابین خاموش نظروں کا تبادلہ ہوا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
یاشم بابا کو سمجھا کر، ان کا غصہ ٹھنڈا کرا کر جب کیبن سے باہر آیا تو دونوں منزلوں پر دیکھ کر بھی راعنہ اسے نہ ملی۔
“راعنہ ایسے کیوں چلی گئی آپ۔۔۔۔ ایک مرتبہ مجھ سے بات تو کر لیتی۔۔۔۔” یاشم نے افسوس کرتے سوچا تھا۔
آفس ٹائم ختم ہونے کے بعد جب سب اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے یاشم، راعنہ کے ٹیبل پر آیا اور اس کی جگہ پر بیٹھ کر اس کے کمپیوٹر میں سے سارے ای میلز اور دیگر کام مشاہدہ کرنے لگا۔ اسے کہیں بھی راعنہ کے کام میں ایسی کوئی کوتاہی یا دھوکے کے ایثار نہیں ملے۔ یاشم گہری سوچ میں پڑ گیا تھا۔ راعنہ کے ٹیبل کی تلاشی کر کے وہ واپس بابا کے کیبن میں آیا اور ان کا لیپ ٹاپ آن کر کے لیک ہوئے ڈیزائن کی تفصیلات دیکھنے لگا۔
اس گاڑی کا خاکہ دیکھ کر یاشم کے دماغ میں جھماکہ سا ہوا تھا۔ اس کے آبرو پھیل گئے تھے۔ اسے چند دن پہلے مہر سے ہوئی ملاقات یاد آئی جس میں وہ یاشم کو کچھ ڈیزائن دکھا رہی تھی پر یاشم اس پر غصہ ہوگیا تھا۔
“اس ڈیزائن پر تو مہر کام کر رہی تھی۔۔۔ پھر اسے راعنہ کیسے سیل کر سکتی ہیں۔۔۔” یاشم کے تاثرات سخت ہوگئے۔
اپنی سوچ کی تائید کرنے وہ آفس کے مین سرور روم میں گیا اور پچھلے دو سے تین دنوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کرنے لگا۔ دو دن پہلے کے ایک کلپ میں اسے کچھ خرابی محسوس ہوئی جہاں ایک گھنٹے کے لیے ورکرز ہال کا اسکرین جام ہوگیا تھا۔
“شہریار۔۔۔۔ یہ کلپ دیکھو۔۔۔ پانچ بجے سے ساڑھے چھ بجے کے درمیان یہ کیمرہ ایک ہی جگہ رک گیا ہے۔۔۔۔ پتا کراو کیا مسئلہ ہوا تھا۔۔۔” یاشم نے سیکیورٹی انچارج کو سختی سے تنبیہہ کیا۔
شہریار گھبرا کر کی بورڈ پر کچھ بٹن دبا کر تفصیلات دیکھنے لگا۔ دس سے پندرہ منٹ تک انگلیاں چلا کر شہریار گلا تر کرتے ہوئے کنکارا۔
“سر اس دورانیے کی اصل کلپ ہٹا دی گئی ہے۔۔۔۔ شاید اس ایک گھنٹے کے دوران کیمرہ آف کر دیا گیا تھا۔۔۔۔” شہریار نے یاشم کے غضب سے بچنے معاملے سے آگاہ کیا۔
“تو اس وقت تم کہاں سو رہے تھے۔۔۔۔” یاشم کے عصاب تن گئے۔ وہ شہریار کا کالر دبوچ کر غرایا۔
“سس سر اس دد دن تو میں ہالف ڈے لے کر چلا گیا تھا۔۔۔ میری جگہ عبدلمجید کی ڈیوٹی تھی۔۔۔۔ “شہریار سہم کر پیچھے ہونے لگا۔
“بلاو اسے ابھی۔۔۔۔ اس دن سرور روم میں جتنے بھی اہلکار ڈیوٹی پر تھے سب کو بلاو۔۔۔۔” یاشم نے غصے سے سرخ ہوتے شہریار کو پرے دھکیلا تھا۔
شہریار لڑکھڑا گیا اور تیزی سے سیدھے ہو کر باہر کو بھاگا۔ یاشم اپنی تسلی کرنے ایک مرتبہ پھر اس فوٹیج کو دیکھنے لگا۔ تھوڑی دیر میں تین چار سیکیورٹی اہلکار آگے پیچھے کمرے میں داخل ہوئے۔ یاشم نے اپنی ہیزل گرین آنکھیں چھوٹی کر کے باری باری سب کا چہرہ دیکھا تھا۔
“دو دن پہلے آفس ٹائم کے بعد۔۔۔۔۔ پانچ سے ساڑھے چھ بجے کے درمیاں کی فوٹیج مٹائی گئی ہیں۔۔۔۔ مجھے پتا ہے۔۔۔۔ یہ کس کا کام ہے۔۔۔۔ سیدھی طرح خود اپنی چوری کا اعتراف کر لے۔۔۔۔ کیونکہ اگر میں نے بتایا تو بہت برا پیش آوں گا۔۔۔” یاشم نے انگلی اٹھا کر دھمکایا تو سب کے چہروں کا رنگ زرد پڑنے لگا۔ سب تھوک نگل کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
شہریار نے سر جھکا لیا تھا۔ وہیں یاشم تیز نظروں سے باری باری سب کے بدلتے تاثرات دیکھنے لگا۔ اس نے دباو ڈال کر خود اس اہلکار کو منظرعام پر لانے کے لیے چال چلی تھی۔ عبدلمجید کے پیشانی پر پسینہ نمودار ہوا۔ یاشم کی نظروں سے چھپنے وہ ساتھی اہلکار کے پیچھے کھڑا ہوگا۔ یاشم دانت پر دانت جمائے ہوئے اس اہلکار کو ہٹا کر عبدلمجید پر جھڑپ پڑا۔
“کس کے کہنے پر تم نے کلپ مٹائی ہے۔۔۔۔۔ بتاو۔۔۔۔” یاشم نے اپنا آہنی ہاتھ اس کے چہرے پر جھڑ دیا۔ وہ اچھلتا ہوا دور جا گرا۔ عبدلمجید جواب میں خاموشی اختیار کئے رہا تو یاشم نے کالر سے جکڑ کر اسے اٹھایا اور زوردار مقہ دے مارا۔ وہ کراہ اٹھا اور خود کو بچانے کے لیے بھاگنے لگا۔
ساتھی اہلکاروں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی تھی وہ ان دونوں کی جھڑپ روکنے عبدلمجید اور یاشم کے پیچھے ہو لیئے۔
“سر سر۔۔۔۔ میں دیکھتا ہوں۔۔۔۔ آپ خود کو تکلف نہ دیں۔۔۔” شہریار نے یاشم کو روک کر خود عبدلمجید کے منہ پر تھپڑ رسید کیا۔
“کیوں نمک حرام۔۔۔۔ بول کلپ کیوں مٹائی ہے۔۔۔۔ جس تھال میں کھاتا ہے اسی میں چھید کرتا ہے۔۔۔۔ بول۔۔۔” شہریار نے ایک کے بعد دوسرا تھپڑ لگایا تو عبدلمجید کا سر چکرا گیا وہ ہاتھ جوڑے اسے روکنے لگا۔
“سر۔۔۔۔ مجھے اس کام کے پیسے دیئے گئے تھے ۔۔۔۔ غلطی ہوگئی سر۔۔۔ معاف کر دیں۔۔۔۔ دوبارہ ایسی غلطی نہیں ہوگی۔۔۔” روتے روتے اس نے شہریار کے ضربوں سے بچنے کی کوشش کی۔
“کس نے دیئے تھے پیسے۔۔۔۔” یاشم نے ہاتھ اٹھا کر شہریار کو روکا اور پھر سنجیدگی سے پوچھا تھا۔
“وو۔۔۔ وہ مہر میڈم نے۔۔۔۔” عبدلمجید نے ڈرتے ہوئے بتایا۔ یاشم نے غصے میں آکر سینٹرل ٹیبل کو لات ماری۔
“تو میرا شک صحیح تھا۔۔۔۔” یاشم نے کمر پر ہاتھ رکھے تندی سے آبرو ملائے سوچا۔
“مہر۔۔۔ یہ تم نے بالکل ٹھیک نہیں کیا۔۔۔۔” نفرت سے سوچتے یاشم لمبے ڈگ بھرتا روانہ ہوگیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
مشی اور ثمر بیڈ کے نیچھے کسر پسر کر رہے تھے جب ذیال ان دونوں کو ڈھونڈتا کمرے میں داخل ہوا۔
“یہاں کیا کر رہیں ہو تم دونوں۔۔۔۔” ذیال نے جھک کر بیڈ کے نیچھے سر جوڑ کر لیٹے مشی اور ثمر کو ایک ساتھ مخاطب کیا۔
مشی اور ثمر چونک گئے۔ چونک کر اچھلنے کی وجہ سے دونوں کا سر بھی بیڈ سے لگا تھا۔ درد کے باعث منہ بنائے وہ بے دم سے بیڈ کے نیچھے سے نکلے لیکن اگلے ہی لمحے دونوں کی آنکھوں می شرارت ابھری تھی۔
“بھئیاں۔۔۔۔ ہم ممی سے چھپ کر یہ البم دیکھ رہیں تھے۔۔۔” مشی نے شرٹ کے اندر چھپائے البم کو نکال کر ذیال کے آگے کیا۔
“یہ ممی اور پاپا کی شادی کا البم ہے۔۔۔۔ ہمیں اسٹڈی روم کے دراز میں سے ملا۔۔۔۔” ثمر نے سرگوشی کے انداز میں اہم راز افشاں کیا۔
“بھئیاں۔۔۔۔ یہ والی راعنہ پھوپھو ہیں۔۔۔۔ جن کی بیٹی سے کل ہماری بات ہوئی تھی۔۔۔۔” مشی نے البم کھول کر ایک بلیک کلر کی ساڑھی پہنے لمبے سیاہ بالوں کو کندھے کے ایک سائیڈ کھلے چھوڑے مسکراتی ہوئی خوبصورت اور نازک سی لڑکی کی تصویر پر انگلی رکھی۔
“کتنی پیاری ہیں نا پھوپھو۔۔۔۔” ثمر نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔
“تمہیں کیسے پتا یہ ہی راعنہ پھوپھو ہیں۔۔۔۔” ذیال نے پلکیں جھپکا کر سوال کیا تھا۔ وہ مشائم کے ہاتھ سے البم لے کر بقیہ تصاویر دیکھنے لگا۔
اپنے ہینڈسم پاپا اور خوبصورت ممی کو دولہا دولہن بنے دیکھ کر اسے بہت اچھا لگ رہا تھا۔ وہ ایک ایک صفحہ پلٹا کر غور سے ہر تصویر دیکھتا گیا۔
“وہ ایک دن دادو موبائل ہاتھ میں اٹھائے کسی کام سے اٹھی تھی تو ہم نے ان کے بیک گراؤنڈ میں پھوپھو کی فریم شدہ تصویر دیکھ لی تھی۔۔۔۔۔” ثمر اور مشائم نے منہ پر ہاتھ رکھ کر رازداری سے بتایا۔
اسی دوران ایک تصویر میں صدیف کے گلے میں ہاتھ ڈال کر کھڑے خوب رو وجیہہ نوجوان نوریز صدیقی پر مشائم کی نظر پڑی تو اچانک اسے وہ واقعہ یاد آیا۔
“بھئیاں یہ بیڈ انکل اس دن گھر پر بھی آئے تھے۔۔۔۔ ممی کو بہت ڈانٹ رہے تھے۔۔۔۔ ” مشی نے فوراً سے صدا لگائی۔
ذیال بغور اس تصویر کو دیکھ رہا تھا جب کمرے کے در پر آہٹ محسوس ہوئی۔ ذیال نے گھبرا کر البم اپنے پیچھے چھپا لیا وہیں ثمر اور مشائم محافظوں کی طرح اس کے ساتھ چپک کر دائیں اور بائیں جانب کھڑے ہوگئے۔
“تم تینوں یہاں ہو اور میں کب سے ڈھونڈ رہی ہوں۔۔۔۔ چلو جلدی باہر آو۔۔۔ قاری صاحب آگئے ہیں۔۔۔۔” آیت نے ان کے متغئیر رنگوں پر دھیان دیئے بغیر ہدایت دی اور واپس پلٹ گئی۔
ان تینوں نے ممی کے جاتے سکون کا سانس لیا۔ ذیال نے البم ثمر کے ہاتھ پر پٹخ دیا۔
“جہاں سے اٹھائی تھی جلدی سے واپس وہی رکھ کر آو۔۔۔۔ میں قاری صاحب کے پاس بیٹھا تم دونوں کا ویٹ کر رہا ہوں۔۔۔ اگر دیر کی تو میں ممی کو سب بتا دوں گا۔۔۔ آئی سمجھ۔۔۔۔” ذیال نے انگلی اٹھا کر بڑے بھائی کی طرح تنبیہہ کیا اور دروازے کے پار نکل گیا۔
ثمر اور مشی نے شکایتی انداز میں کندھے اچکائے اور البم شرٹ کے نیچھے چھپا کر اسٹڈی روم کا رخ کیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
یاشم نے اپنے کیبن میں بیٹھے بیٹھے ایک پولیس دوست کو کال ملائی تھی۔
“فیصل چشتی کے اکاونٹ سے پچھلے دو دنوں میں کس کس اکاونٹ کو پیسے بھیجے گئے ہیں۔۔۔ مجھے ان سب کی تفصیلات چاہیئے۔۔۔۔ پلیزز ارجنٹ ہے۔۔۔۔” ابتدائی حال احوال دریافت کر کے اس نے فرینڈ کو در پیش صورتحال سے واقف کرایا۔
وہ فرینڈ یاشم کو انتظار کرنے کا کہہ کر اپنے تحقیقات میں جٹ گیا۔
“راعنہ۔۔۔۔ میں مہر کو آپ کی انسلٹ کروانے کی سزا ضرور دلاوں گا۔۔۔۔ اور آپ پورے با عزت طریقے سے اسی آفس میں جاب کریں گی۔۔۔۔” یاشم نے ٹیبل پر کہنیاں ٹکائے ہاتھوں کی مٹھی پر اپنی پیشانی رکھے آنکھیں بند کر کے سوچا تھا۔ اسے راعنہ کی تذلیل اپنی تذلیل لگ رہی تھی اور اب وہ دن رات ایک کر کے اصل قصوروار کو ڈھونڈ رہا تھا۔
ایک گھنٹہ یوں ہی چئیر جھلاتے ہوئے سرک گیا۔ بے صبری سے فرینڈ کے کال کا منتظر وہ بار بار وال کلاک کو دیکھ کر آہ بھرنے لگتا۔ پندرہ منٹ بعد اس کا موبائل بجا تھا جو پہلے ہی بیل پر یاشم نے اٹھا لیا۔ فرینڈ نے چند نام اور اکاونٹ نمبرز کے ساتھ بھیجی گئی رقم بھی نوٹ کروائی۔
“مہرالنساء فاروقی۔۔۔۔ you will pay for this۔۔۔۔ ” غصیلی نظروں سے وہ مہر کا پورا نام دیکھتا رہا اور آگے کا لائحہ عمل سوچتے ہوئے گھر کے جانب روانہ ہوگیا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔
