Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Nadamat) Episode 13

سنڈنے کی شام نین پستہ کلر کے قمیض شلوار پہنے، بالوں کو ہالف کیچر میں باندھے، سادہ سا تیار ہو کر نوریز کے بتائے ایڈریس پر پہنچی تو نوریز کو اپنا منتظر پایا۔
اس فائف سٹار ہوٹل کے انٹرنس پر جینز پر بلیک شرٹ اور براون کوٹ میں ملبوس وہ ہشاش بشاش سا تیار پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے مغرور انداز میں کھڑا تھا۔ نین اس کی تیاری دیکھ کر بلش کرنے لگی۔ ٹیکسی سے اتر کر وہ قدم قدم چلتی نوریز کے قریب پہنچی۔ نوریز نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے آگے چلنے کا اشارہ کیا۔ نین سر جھکائے ڈائننگ ہال کے اندر داخل ہوئی۔ چاروں سمت نظریں گھما کر وہ ٹھٹک گئی۔ پورا ہال خالی پڑا تھا۔ نین کی چھٹی حس اسے محتاط کرنے لگی۔ اس نے بے یقینی سے نوریز کے سمت دیکھا۔
“سر یہ سب۔۔۔۔” اس نے ماحول کا جائزہ لیتے نوریز کو مخاطب کیا۔
“یہاں ہم اسٹوڈنٹ اور پروفیسر نہیں ہیں نین۔۔۔۔ وی آر فرینڈز۔۔۔ بی فری۔۔۔۔۔” نوریز نے بے تکلفی سے کہتے نین کے کمر میں ہاتھ ڈالا تھا کہ وہ اچھل پڑی۔
نین کو نوریز سے اس طرح بے تکلف ہونے کی امید نا تھی وہ فورا سے پہلو بدلتے دور ہوگئی۔
“سر میرا اسائنمنٹ۔۔۔۔” نین نے اپنے آنے کی اصل وجہ یاد کرائی۔
“تمہارا اسائنمنٹ اپروو ہوجائے گا۔۔۔۔ چلو ڈنر کرتے ہیں۔۔۔۔” نوریز نے ایک سیٹ پیچھے کر کے نین کو بیٹھنے کی ہدایت دی۔
نین شش و پنج میں مبتلا ہوتے نشست پر بیٹھ گئی۔ نوریز گھوم کر دوسری سائیڈ آیا اور نین کے مقابل جگہ سنبھال لی۔
وہیں دوسری طرف صدیقی ہاوس میں اس کی قسمت کا فیصلہ ہورہا تھا جس سے انجان وہ اس وقت نین کو اپنے جانب مائل کرنے کی کوشش میں لگا رہا۔ ڈنر نین کی پسند کا آرڈر کیا گیا۔ اس دوران نوریز نے نین کو گویا کرنے اس کے آبائی علاقے کے متعلق سوال پوچھا۔
نین آگے ہوکر خوش دلی سے سوات کے بابت بتانے لگی۔ نوریز اپنے پلان میں کامیاب ہوگیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نین کی ہچکچاہٹ میں کمی ہونے لگی۔ وہیں نوریز کی نظریں نین کے نازک سراپے کا طواف کرتیں رہیں۔ بات کرتے کرتے نین نے نوریز کو مخمور نگاہوں سے خود کو گھورتے پایا تو مبہم سی ہو کر خاموش ہوگئی۔
نوریز نے سر جھٹک کر اپنے خیالات محو کئے اور اپنے کسی کالج ٹرپ کی رو داد سنانے لگا جس میں وہ اپنے کلاس میٹس کے ساتھ وادی سوات گیا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
واپسی پر راعنہ کو جہاں ایک طرف صدیف کا رشتہ ہوجانے کی خوشی تھی وہی اپنی بات پکی ہونے پر برا بھی لگ رہا تھا۔
نوریز تند مزاج اور بد خو انسان ہے اس بات سے وہ واقف تھی لیکن وہ چاہ کر بھی بابا کو نوریز کے بد مزاجی کے متعلق نہیں بتا سکی کیونکہ اب صدیف اور آیت کی خوشیاں بھی اس کے ساتھ جڑ گئی تھی۔
وہیں دوسرے جانب نوریز رات کو گھر پہنچا تو مما کے زبانی آیت کا رشتہ ہونے کی خوش خبری ملی۔
“راعنہ کی بھی بات پکی ہوگئی ہے۔۔۔۔” موقع کو دیکھتے ہوئے مما سنبھل کر بولی تھی۔
“چلو اچھا ہوا۔۔۔۔ اب اس آفت کا اس گھر میں آنا جانا کم ہوجائے گا۔۔۔۔” نوریز نے صوفے پر پھیل کر بیٹھے سیب دانتوں سے کترتے ہوئے جواب دیا۔
“وہ اسی گھر آئے گی۔۔۔۔ بہو بن کر۔۔۔۔۔ تیرے پاپا نے اس کا ہاتھ تیرے لیے مانگا ہے۔۔۔۔” سنبل بیگم نے تپ کر جواب دیا۔
نوریز یک دم سیدھا ہوگیا۔ سیب کا ٹکڑا اسے اپنے حلق میں پھنستا ہوا محسوس ہوا۔
“واٹ۔۔۔۔۔ ” اسے اپنے کانوں سنے پر یقین نہیں آرہا تھا۔
جواباً سنبل بیگم نے بیزار تاثرات بنائے اسے دیکھا مانو کہہ رہی ہو مزاق کے موڈ میں نہیں ہوں۔
“مما میں اس آفت سے شادی نہیں کروں گا۔۔۔۔ بہت زہر لگتی ہے وہ مجھے۔۔۔۔” نوریز غصے سے آگ بگولا ہوتا غرایا۔
اس کے غضب سے سہم کر سنبل بیگم ایک قدم پیچھے ہوگئی۔ نوریز کو یوں چلاتے سن کر وارث صاحب اسٹدی روم سے اور آیت اپنے بیڈروم سے نکل کر لاونج میں آگئے۔
“تمیز سے مخاطب کرو راعنہ کو۔۔۔۔ تمہاری ہونے والی بیوی ہے وہ۔۔۔۔” وارث صاحب نے تند تاثرات بنائے ڈٹی آواز میں صدا لگائی۔
“پاپا کس سے پوچھ کر آپ نے راعنہ کا رشتہ مجھ سے کروایا ہے۔۔۔۔۔ میں اس رشتے کو تسلیم نہیں کرتا۔۔۔۔” نوریز کی آنکھوں میں وحشت در آئی۔
سنبل بیگم نے تیزی سے اس کے آگے آکر اسے گھیرے میں لیے سنبھالنے کی کوشش کی۔
“نوریز۔۔۔۔۔ راعنہ اچھی لڑکی ہے۔۔۔۔۔ وہ تمہیں بہت خوش رکھے گی۔۔۔۔ اور مت بھولو۔۔۔۔ آیت کا بھی اسی گھر میں رشتہ ہوا ہے۔۔۔۔۔” وارث صاحب نے قدرے نرمی سے سمجھایا پر نوریز کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا۔
“ہاں تو یوں کہے کہ اپنی لاڈلی کے بدلے سیفٹی ڈپازٹ کے طور پر اس راعنہ کو میرے گلے میں ڈال رہیں ہیں۔۔۔۔۔ ” نوریز مما کو پرے ہٹا کر پاپا کے سامنے آیا۔
آیت نے تیزی سے مما کو تھام کر گرنے سے بچا لیا۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ حالات کو کیسے قابو کرے۔
“اتنی ہی پسند ہے راعنہ آپ کو۔۔۔۔ تو خود کر لیں اس سے شادی۔۔۔۔۔” نوریز نے اخلاقیات کے سارے دائرے توڑ دیئے تھے۔
وارث صاحب نے لب بھینجے ہاتھ ہوا میں بلند کیا اور اتنی ہی شدت سے نوریز کے گال پر دے مارا۔
نوریز ایک جانب جھک سا گیا۔ چٹاخخخخخ۔۔۔۔ کی گونج لاؤنج کی دیواروں سے ٹکڑا کر فضا میں محلول ہوگئی۔ آیت نے منہ پر ہاتھ رکھا اور مما نے دل پر۔
نوریز تیز تیز سانس لیتے سرخ آنکھوں سے سیدھا ہوا۔
“بد تمیز۔۔۔۔ ایسے بہیو کرتے ہیں اپنے باپ سے۔۔۔۔۔ تمہاری شادی راعنہ سے ہوگی بسسسس۔۔۔۔۔ فیصلہ ہوچکا ہے۔۔۔۔ اور آج کے بعد اگر تم نے اس بات کا بکھیڑا بنایا تو میں تمہیں اپنی جائیداد سے عاق کر دوں گا۔۔۔۔۔” کرہٹ بھرے لہجے میں اپنا حکم سنا کر وارث صاحب منہ میں بڑبڑاتے کمرے کے جانب بڑھ گئے۔
نوریز نے نفرت سے آیت کو دیکھا اور سرخ گال لیے لمبے ڈگ بھرتا باہر کے سمت روانہ ہوگیا۔ آیت تیزی سے اس کے پیچھے لپکی تھی۔
“بھائی۔۔۔۔ ” آیت نے پورچ میں اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔
“گھر چھوڑ کر نہیں جارہا۔۔۔۔۔ بس کچھ وقت اکیلے رہنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔” نوریز نے اپنے بازو پر سے آیت کا ہاتھ ہٹایا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔
آیت اشک بار آنکھوں سے اس کی گاڑی کو مین گیٹ سے باہر جاتے دیکھنے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ رات گئے تک کمرے میں چکر کاٹتی رہی۔ نا جانے کونسا خوف تھا جو اسے چین سے بیٹھنے نہیں دے رہا تھا۔ اپنی کیفیت سے تنگ آکر اس نے آیت کو کال ملائی۔
آیت سوتے میں بھی کال اٹھا کر بیڈ پر اٹھ بیٹھی۔
“آیت۔۔۔۔ کیا انکل نے نوریز سے بات کی۔۔۔۔۔ اس وقت تو انہوں نے رشتہ طے کر دیا لیکن۔۔۔۔۔ نوریز سے تو ان کی مرضی پوچھی ہی نہیں۔۔۔۔” اپنی پریشانی کا اظہار کرتے راعنہ اداس ہوگئی تھی۔ آخر پوچھا تو اس سے بھی نہیں گیا کہ وہ نوریز سے شادی کرنا چاہتی ہے یا نہیں۔
مگر وہ تو لڑکی ذات تھی۔ قربانی اسے دینی تھی۔ نوریز کبھی کمپرومائز کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔
دوسری طرف راعنہ کے سوال پر آیت سوچ میں پڑ گئی کہ کہی اس نے نوریز بھائی کا ری ایکش بتا دیا تو راعنہ انکار نہ کر دیں اور شعیب صاحب بدزن ہو کر اس کا اور صدیف کا رشتہ بھی نہ توڑ دیں۔ پیار انسان کو بہت بڑا خود غرض بنا دیتا ہے۔ یہ مثال اس وقت آیت پر پوری جچ رہی تھی۔
“ہاں۔۔۔ پاپا نے بات کر لی بھائی سے۔۔۔۔ وہ اس رشتے پر راضی ہے۔۔۔۔۔ انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔۔” آیت نے بہت صفائی سے جھوٹ بولا۔
اس وقت آیت کے ذہن میں اپنے پاپا کی باتیں گردش کی تھی۔ زبردستی ہی سہی پر وہ نوریز اور راعنہ کی شادی کروا ہی دیتے۔
“شکر ہے۔۔۔۔ انکل نے ان کی مرضی پوچھ لی۔۔۔۔ ورنہ میں تو سوچ سوچ کر پریشان ہوگئی۔۔۔۔ آیت۔۔۔۔ نوریز خوش تو تھے نا۔۔۔۔” راعنہ نے سکون کا سانس لیتے ہوئے پوچھا۔
جانے کیوں اس کا دل ابھی تک بے چین تھا۔
“ٹینشن مت لو راعنہ۔۔۔۔ بھائی خوش ہیں۔۔۔۔ تمہارا شوہر بہت لکی ہوگا۔۔۔۔ تم جس گھر بھی جاوں گی۔۔۔۔۔ اسے خوشیوں سے بھر دو گی۔۔۔۔”آیت نے دل میں یہی دعا کرتے ہوئے جواب دیا۔
“لکی تو میں ہوں۔۔۔۔۔ جو مجھے تم جیسی دوست ملی ہے۔۔۔۔ ” راعنہ نے محبت پاش انداز میں کہا۔
آیت مزید جھوٹی تسلیاں نہیں دے سکتی تھی اس لیے اونگھ کر نیند آنے کا بہانہ کیا۔ راعنہ نے بیسٹ فرینڈ کی آرام کا سوچ کر اسے سونے کے لیے کہا اور کال کاٹ دی۔
راعنہ کی خود کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان نہیں تھا اس لیے وہ ٹیرس پر آگئی۔
صاف آسمان پر چاند اور اس کی روشنی اسے مرعوب کر رہی تھی۔ ہوا سے اڑتے بالوں کو پیچھے کرتی وہ نئے انداز سے نوریز صدیقی کو سوچنے لگی۔ اس کا دلکش سراپا اور چمکتی آنکھیں یاد کرتے راعنہ شرمانے پر مجبور ہوگئی۔
دل کے کسی کونے میں ایک پل کے لیے امتثال کا عکس ابھرا تھا لیکن محرم رشتے کی اس اَن دیکھی ڈور نے راعنہ کے تمام خیالات کو نوریز کے گرد محدود کر دیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نوریز نے اپنے اور راعنہ کے رشتے کے بابت دوبارہ کوئی بات نہیں کی۔ حتہ کہ گھر میں جب انگیجمنٹ کے متعلق کوئی بات چلتی وہ اٹھ کر چلا جاتا۔ اسے اس شادی میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔
وہیں صدیف انگیجمنٹ کی ساری تیاریاں خود دیکھ رہا تھا۔ شاپنگ ہوتی یا دیگر تیاریاں وہ سب میں پوری طرح شرکت کرتا۔
اس ویک اینڈ پر بٹ فیملی اور صدیقی فیملی نے مل کر انگیجمنٹ کی شاپنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ مقرر کردہ وقت پر مخصوص جگہ پر دونوں فیملیز ملی اور خوشی خوشی تقریب کی خریداری کرنے لگیں۔ آیت ہر چیز صدیف کی پسند سے لے رہی تھی۔ جبکہ راعنہ اور نوریز میں جھجک برقرار تھی۔
جیولری کی دکان پر انگیجمنٹ رنگ پسند کرتے ہوئے راعنہ نے بات کرنے میں پہل کی۔
“نوریز یہ رنگ کیسی ہے۔۔۔۔” راعنہ نے باکس نوریز کے آگے کر کے ایک چھوٹی یاقوت جڑے انگوٹھی پر انگلی رکھ کر اشارہ کیا۔
نوریز نے بے زاری سے پہلے راعنہ کو دیکھا پھر اس کے عقب میں نظر آتے اپنے پاپا کو۔
“اچھی ہے۔۔۔۔” دو لفظی جواب دیتے نوریز رخ پھیر کر کلائی پر بندھی مہنگی گھڑی پر وقت دیکھنے لگا۔
راعنہ بلش کرتے ہوئے سر جھکا کر اس رنگ کا سائز دیکھنے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
یہ منظر رنگین پھولوں اور روشنیوں سے سجے میرج ہال کا ہے جہاں آیت صدیف اور راعنہ نوریز کے انگیجمنٹ کی تقریب ہونی تھی۔
حمدان اور اس کے کزنز تقریب کی تیاریاں دیکھنے شام سے ہال میں موجود تھے۔ نوریز کی جانب سے اس کے ماموں زاد استقبال کے لیے تشریف فرما تھے۔
“کیا بات ہے بھئی۔۔۔۔ بڑے چمک رہے ہو۔۔۔۔” حمدان نے صدیف کو سر تا پیر سراہتے ہوئے کہا۔
صدیف گرے کلر کے تھری پیس سوٹ بوٹ میں ملبوس بال اور شیو نفاست سے بنائے، چمکتے بوٹ مہنگی گھڑی پہنے اور مہنگی پرفیوم لگائے ہشاش بشاش سا تیار کار سے اتر کر ٹین ایج حمدان کے رو بہ رو آیا تو اس کے جملے پر بے ساختہ مسکرا دیا۔
وارث صاحب نے اسے گلے سے لگایا اور بابا نے سراہتے ہوئے شانہ تھپتھپا کر اپنی محبت کا اظہار کیا۔
مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہوگیا تھا۔ دونوں خاندانوں کے عزیز و اقارب نے بھر پور شرکت کی۔ کیمرہ مین کی فلیش لائٹ اور پس منظر میں چلتے میوزک نے ماحول کو خوشگوار بنا دیا تھا۔
نوریز بلیک تھری پیس سوٹ زیب تن کئے ہشاش بشاش تیار اپنی مما کے ہمراہ شان سے چلتا ہال میں داخل ہوا۔
“نوریز کم آن بیٹا۔۔۔۔ آج تمہاری انگیجمنٹ ہے۔۔۔۔ کچھ ایکسائٹمنٹ دکھاو۔۔۔۔” سنبل بیگم نے اس کی تھیوڑی پر ہاتھ رکھ کر خواہش کی۔
نوریز زبردستی مسکرایا۔
“تم ایک سال کا وقت دو راعنہ کو۔۔۔۔ اگر وہ اس ایک سال میں تمہارا دل نہیں جیت پائی۔۔۔۔۔ تو آئی پرامس۔۔۔۔۔ تم جہاں کہو گے۔۔۔۔ جس سے کہو گے۔۔۔۔۔ میں تمہاری وہاں دوسری شادی کروا دوں گی۔۔۔۔۔ تم ایک مرد ہو بیٹا۔۔۔۔۔ بیوی کو سر پر نہیں جوتے کی نوک پر رکھو۔۔۔۔ چلو اب موڈ ٹھیک کرو۔۔۔۔” سنبل بیگم کی اس نصیحت پر نوریز کھل کر مسکرا دیا اور ان کے حصار سے جا لگا۔
سنبل بیگم اسے پیار کر رہی تھی جب وارث صاحب بھی آگئے۔ انہوں نے دل جمی سے نوریز کے گرد بازو پھیلا کر خوشی کا اظہار کیا تھا۔
دونوں دولہے اسٹیج پر کھڑے منتظر تھے۔ مہمانوں کی نظریں بھی انٹرنس پر جمی ہوئی تھیں۔
دلہن کے داخل ہوتے وقت ہال کی بڑی لائٹس آف کر دی گئی اور ایک سپاٹ لائٹ انٹرنس پر کھڑی آیت پر ڈالی گئی۔ ساتھ ساتھ مشینی فوارے کی مدد سے مسلسل گلاب کی پتیاں اڑائی جا رہی تھی۔ بیک گراؤنڈ کے گانے نے ماحول کی رونق مزید بڑھا دی تھی۔
aisa dekha naheen khoob-soorat koyi
jism jaise ajanta ki moorat koyi
jism jaise nigaahon pah jaadu koyi
jism naghmah koyi
jism khush-bu koyi
jism jaise mahakti hui chaandani
jism jaise machalti hui raagini
jism jaise kih khilta hua ik chaman
jism jaise kih sooraj ki pahli kiran
jism tarsha huwa dil-kash o dil-nisheen
sandaleen sandaleen
marmareen marmareen
husn-i jaanaan ki ta‘reef mumkin naheen
husn-i jaanaan ki ta‘reef mumkin naheen
aafireen aafireen
aafireen aafireen
tu bhi dekhe agar to kahe ham-nisheen
aafireen aafireen
aafireen aafireen
سنبل بیگم اور وارث صاحب کے ساتھ چلتی آیت ہلکے گولڈن کلر کا کام دار لمبا ڈریس پہنے، خوبصورت سی جیولری کو زینت بنائے اور بالوں کو اسٹائل سے بنائے برائڈل میک اپ میں تیار اسٹیج کے جانب بڑھ رہی تھی۔ صدیف کے لبوں پر شفیق سی تبسم بکھر گئی وہ یک ٹک اپنے ہونے والی منگیتر کو دیکھے جارہا تھا۔
آیت اسٹیج کے قریب آئی تو نوریز نے اس کا ہاتھ تھامے اوپر چڑھنے میں مدد کی اور پھر صدیف کے سائیڈ پر کھڑا کیا۔
“بہت مبارک ہو۔۔۔۔” آیت اور صدیف دونوں کو ایک ساتھ بازووں میں بھر کر مبارک باد پیش کی۔
میوزک ایک مرتبہ پھر بلند ہوا اور پٹاخوں کے شور پر سب دوبارہ انٹرنس کے سمت متوجہ ہوگئے۔
راعنہ، شعیب صاحب اور عاطرہ بیگم کے ساتھ ہال میں داخل ہورہی تھی۔ گلابی کلر کے فینسی لمبے فراک میں ملبوس لمبے بال رول کئے ہوئے۔ ڈائمنڈ کی ہلکی جیولری پہنے نفیس میک اپ میں راعنہ بہت ہی حسین لگ رہی تھی۔ ایک پل کے لیے نوریز اس پر سے نظریں نہیں ہٹا سکا۔
jaane kaise baandhe tu ne akhiyon ke dor
man mera khincha chala aaya teri or
mere chihre ke subh zulfon ki shaam
mera sab kuchh hai piya ab se tere naam
nazron ne teri chhuwa
to hai yih jaadu hua
hone lagi hoon main haseen
aafreen aafreen
aafireen
aafreen aafreen
aafireen
aafreen aafreen
aafireen
chahrah ik phool ki tarh shaadaab hai
chahrah us ka hai ya koyi mahtaab hai
chahrah jaise ghazal chahrah jaan-i ghazal
chahrah jaise kali chahrah jaise kanwal
chahrah jaise tasawwur bhi tasweer bhi
chahrah ik khaab bhi chahrah taa‘beer bhi
chahrah koyi alf lailawi daastaan
chahrah ik pal yaqeen chahrah ik pal gumaan
chahrah jaisa kih chahrah kaheen bhi naheen
maah-ru maah-ru mah-jabeen mah-jabeen
husn-i jaanaan ki ta‘reef mumkin naheen
husn-i jaanaan ki ta‘reef mumkin naheen
aafireen aafireen
aafireen aafireen
tu bhi dekhe agar to kahe ham-nisheen
aafireen aafireen
aafireen aafireen
husn-i jaanaan ki ta‘reef mumkin naheen
aafreen aafreen
aafireen
aafreen aafreen
aafireen
مما اور بابا کے ساتھ ساتھ چلتی راعنہ نے جھجکتے ہوئے سر ہلکا سا اٹھا کر ایک مرتبہ اسٹیج کے جانب دیکھا تو نوریز کو خود کو گھورتے پا کر شرما گئی اور تیزی سے نظریں جھکا گئی۔
اسٹیج پر آکر نوریز کے ساتھ کھڑے ہوتے راعنہ عجیب کیفیت کا شکار ہورہی تھی۔ شاید یہ محبت کا پہلا احساس تھا جو اسے اپنے ہونے والے ہمسفر کے ساتھ کھڑے ہونے پر محسوس ہورہا تھا۔
دونوں کپلز اسٹیج پر تشریف فرما ہوئے تو رشتہ داروں اور دوستوں کی تالیاں گونج اٹھی۔ رسم کا آغاز نوریز اور راعنہ سے کیا گیا۔ سب سے پہلے نوریز نے رنگ پہنا کر اسے اپنے نام کیا اور پھر راعنہ نے نوریز کی انگلی میں اپنے نام کی مہر ثبت کر دی۔
سیٹھیوں اور تالیوں کا جوش و خروش بلند ہوا۔
صدیف اور آیت نے ایک دوسرے کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے انگھوٹی پہنائی اور اپنی محبت تاحیات مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا۔
ایک مرتبہ پھر فائر ورکس دکھا کر اس عالی شان انگیجمنٹ کی رات کو یادگار بنایا گیا۔
حمدان کی خوشی ڈبل تھی ایک ساتھ اس کے بھائی اور بہن دونوں کی انگیجمنٹ تھی اس لیے اس نے اس خاص موقع پر مخصوص پرفارمنس تیار کر رکھی تھی۔ وہ اسٹیج کے سامنے ایریا میں آیا تو ڈی جے نے باقی تمام ساز روک دیئے۔ ایونٹ آرگنائزر نے لائٹس ہلکی کر دی اور حمدان کے قدموں کے پاس دھواں اڑانے لگا۔ اسی کے ساتھ میوزک دوبارہ شروع ہوا اور حمدان، راعنہ کو شریر مسکراہٹ کے ساتھ آنکھ مارتے مہمانوں کے سمت مڑا۔
Tumne Mohabbat Karni Hai
Humne Mohabbat Ki Hai
Iss Dil Ke Alawa Kisi Se Bhi
Na Humne Ijaazat Li Hai
Hunar Hai Yeh Bhi Ishq Ka
Kisi Kisi Ko Aata Hai
Jaan Loota Ke Dushman Ki
Humne Hifazat Ki Hai
Baat Karte Hain Hazaron
Hazaron
Hai Tajurba Humein Yaaron
Haan Yaaron
Baat Karte Hain Hazaron
Hai Tajurba Humein Yaaron
Aisi Hai Ada
Bandh Loon Hawa
Mujhpe Woh Khuda
Dil Se Dua Barsaye
Jhoome Jo Pathaan Meri Jaan
Mehfil Hi Loot Jaaye
Dede Jo Zubaan Meri Jaan
Uspe Mar Mit Jaaye
حمدان کے ڈانس پر سارے دوست اور کزنز ساتھ ساتھ جھوم اٹھے۔ سب نے اس کے قدموں کی چھاپ سے تالیوں کا ساز ملا کر اس کی پرفارمنس کو چار چاند لگا دیا تھا۔
مہمان بھی خوب لطف اندوز ہورہیں تھے۔
Kaise Dushman Pe
Hum Marte Hain Yaar
Abki Baar Tarika Hum Batayenge
Tarika Hum Batayenge
Yaar Karde Jo Ishaara
Ishaara
Dil Main De Doon Dobara
Dobara
Yaar Karde Jo Ishaara
Dil Main De Doon Dobara
Pyar Ka Nasha
Aisa Hai Chadha
Hoke Yoon Fida
Dushman Gale Lag Jaaye
Jhoome Jo Pathaan Meri Jaan
Mehfil Hi Loot Jaaye
Dede Jo Zubaan Meri Jaan
Uspe Mar Mit Jaaye
Jhoome Jo Pathan Meri Jaan
Mehfil Hi Loot Jaaye
Dede Jo Zubaan Meri Jaan
Uspe Mar Mit Jaaye
کیمرہ مین، حمدان کے ہر اسٹیپ پر آگے پیچھے ہوتے اسے شوٹ کر رہا تھا۔ آخر کے اسٹیپ پر ہوا میں ہاتھ بلند کر کے اس کے تین چار دوست بھی میدان میں آگئے اور ساتھ ڈانس کرنے لگے۔
پرفارمنس مکمل کر کے وہ تیز تیز سانس لیتے اسٹیج پر آکر راعنہ کے ساتھ بیٹھ گیا۔
راعنہ نے مشکور ہوتے اس کے بکھرے بال پیچھے کر کے پیشانی پر آیا پسینہ صاف کروایا۔
“گریٹ پرفارمنس حمدان۔۔۔۔” نوریز نے آگے ہوکر اسے سراہا۔
“تھینکیو جیجو۔۔۔۔” حمدان نے پذیرائی وصول کرتے مصافحہ کیا۔
نوریز کے آگے ہونے پر اس کی پرفیوم کی خوشبو راعنہ کی دھڑکن بڑھا گئی تھی۔ وہ بلش کرتے ہوئے سر جھکا گئی۔ کہی نا کہی اسے اپنی قسمت پر رشک ہوا تھا لیکن یہ اس کی غلط فہمی ثابت ہونے والی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
سب مہمان ڈنر کے بعد دونوں کپل سے مل کر گھروں کو لوٹ گئے۔
جانے سے پہلے برائڈل روم میں آکر آیت اور راعنہ خوشی دے چہکتے آغوش گیر ہوگئیں۔
“مبارک ہو بھابھی۔۔۔۔” آیت نے راعنہ کے گال سے گال ٹکرا کر مبارک باد دی۔
“تمہیں بھی مبارک ہو بھابھی۔۔۔۔۔ میں بہت خوش ہوں۔۔۔۔” راعنہ نے اسے خود سے لگائے خوشی کا اظہار کیا۔
“میں بھی۔۔۔۔” آیت نے دلی آرزو پوری ہونے پر سکون کا سانس لیا تھا۔
“اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔۔۔۔ ” یوں ہی اس کے گلے لگے راعنہ اللہ کا شکر ادا کرنا نا بھولی۔
“بالکل۔۔۔۔ اللہ کا شکر ہے۔۔۔۔۔” آیت نے اللہ کی بڑھائی بیان کرنے میں اس کا ساتھ دیا۔
اتنی دیر میں وارث صاحب کی گاڑی گیٹ پر آگئی تو آیت باری باری سب رخصت لیتے روانہ ہوگئی۔ صدیف اسے رخصت کرنے گاڑی تک آیا اور ڈریس اٹھا کر اسے بیٹھنے میں مدد دی پھر سیدھا ہوکر بائے کرتے ہاتھ ہلایا۔
ایسی چھوٹی چھوٹی مہربانیوں کی امید راعنہ نے بھی لگائی ہوئی تھی لیکن نوریز عام رومانٹیک شوہر کا کردار نبھانے کے بجائے اپنے انا کا دامن تھامے سب سے رخصت لے کر اپنی کار میں سوار ہوگیا اور دونوں گاڑیاں زن کر کے بڑھ گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
گھر آکر چینج کر کے جب راعنہ با وضو کمرے میں تو ایک نئے احساس نے اسے جکڑ لیا تھا۔ اپنی انگیجمنٹ رنگ دیکھتے ہوئے وہ شام کے حسین لمحات یاد کرنے لگی۔ اس نئے احساس کے بابت اپنی رائے بتانے اس نے آیت کو کال ملانی چاہی لیکن اس کا نمبر مصروف آرہا تھا۔ راعنہ کے حیرت آبرو بھیل گئے۔ اسی انداز اس نے صدیف بھئیاں کا نمبر ٹرائی کیا تو وہ بھی دوسری کال پر مصروف بتا رہا تھا۔
“آتے ہی شروع ہوگئے دونوں۔۔۔۔” دل ہی دل اس نے آیت اور صدیف کے رابطے کے بارے میں سوچا تھا۔
اگلی کال اس کا نوریز کو ملانے کا دل کیا پر دیوار پر لگی گھڑی پر وقت دیکھ کر اس نے از خود نوریز کو ڈسٹرب کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ مگر دل میں مچی ہلچل کم نہ ہوئی تو مجبور ہوتے اس نے نوریز کی وٹس اپ پروفائل کھول لی اور اس کی ڈی پی دیکھنے لگی۔
ڈی پی میں نوریز نے سوئمنگ پول کے پاس رکھے چیئر پر نیم برہنہ حالت میں لیٹے ایک بازو سر کے پاس رکھے دلکش نظروں سے کیمرے کو دیکھتے سیلفی لی تھی۔ اس کے چوڑے شانے اور مصبوط باڈی پر سے ہوتی راعنہ کی نظریں نوریز کی نگاہوں کے ٹکرائی تو ایک پل کو اسے لگا مانو نوریز اسی کو دیکھ رہا ہے۔ بلش کرتے ہوئے تیزی سے موبائل اسکرین آف کر کے راعنہ سر جھٹک کر اٹھی اور مصلے پر کھڑی ہوکر نماز ادا کرنے لگی۔
خوشی یا غم، ہر موقع پر وہ اللہ کے حضور حاضر ہو کر شکر ضرور ادا کرتی۔
“یا اللہ۔۔۔۔ یہ رشتہ آپ نے جوڑا ہے۔۔۔۔ اور میں اسے آپ کے توکل پر قبول کرتی ہوں۔۔۔۔ مجھے ہر حال میں اس رشتے کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔۔۔۔” اپنی نئی زندگی کی خوشحالی کی دعا مانگ کر اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نوریز گھر جانے کے بجائے اپنے دوست کے پاس آگیا تھا۔ رات بھر وہ اس کے ہمراہ ڈرنکنگ اور سموکنگ کرتے رہا اس لیے صبح کالج آنے میں اسے دیر ہوگئی تھی۔
کلاس میں در آتے ہی اس نے بک اٹھائی اور لیکچر شروع کیا۔ لیکچر کے دوران اس نے پہلی قطار میں دیکھا تو اسے نین کی جگہ خالی ملی۔
ایک پل کے لیے وہ ٹھٹک گیا پھر خود کو کمپوز کرتے ہوئے واپس دھیان پڑھائی پر مرکوز کر لی۔
“عفاف۔۔۔ نین کیوں غیر حاضر ہے۔۔۔۔۔” کلاس ختم ہونے کے بعد نوریز نے دوسری سٹوڈنٹ جو کہ غالباً نین کی بیسٹ فرینڈ تھی، اسے مخاطب کیا۔
عفاف، نین کی غیر حاضری کی وجہ جانتی تھی لیکن اسے پروفیسر نوریز کے نین میں انٹرسٹڈ ہونے کا بھی پورا علم تھا اس لیے جھوٹ بولا۔
“پتا نہیں سر۔۔۔۔ میرا اس سے رابطہ نہیں ہوا۔۔۔۔” عفاف انجان بنتے آگے بڑھ گئی۔
نوریز کے ماتھے پہ شکن نمودار ہوئے۔ اس نے اپنا موبائل نکال کر نین کا نمبر ملایا جو بند آرہا تھا جس سے اس کے طیش میں اضافہ ہونے لگا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
دوسری طرف نین عبدالعزیز کے گھر اس کے چچا اور ان کی فیملی پیشاور سے تشریف فرما تھی اس لیے اپنی امی کی مدد کرنے نین نے کالج سے چھٹی کر لی تھی۔
کھانے کا اہتمام ان دونوں ماں بیٹی نے خوب اچھے سے کیا۔ اس دوران چچا اور ان کی اہلیہ نین کو بڑے گھور سے دیکھ رہیں تھے۔ لنچ نے بعد باتوں باتوں میں چچا جان نے اپنے بیٹے احیان خان، جو کہ حال ہی میں سرکاری نوکری پر فائز ہوا تھا، اس کے لیے نین کا رشتہ مانگ لیا۔
عزیز صاحب کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا تھا۔ احیان خان ان کا سب سے پیارا بھتیجا تھا۔ نین کی اجازت لے کر انہوں نے فوراً ہاں کر دی۔ دونوں بھائی بغل گیر ہوگئے۔ چچی جان نے نین کو خود سے لگا کر مبارک باد کہا۔ امی جان سب کا منہ میٹھا کرانے برفی لیں آئی۔
نین کے دل میں اپنے حسن کو لے کر ہمیشہ کسی برے حادثے کا شکار ہونے خوف لگا رہتا تھا اس لیے اس نے ابو جان کے پوچھنے پر اللہ کا شکر ادا کرتے رشتے کے لیے رضامندی ظاہر کی۔ اسے اپنے کزن کے روپ میں اپنا محافظ ملنے والا تھا۔ مگر یہ محافظ اسے بجا سکتا تھا یا نہیں یہ وقت بتانے والا تھا۔