Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Nadamat) Episode 10

ریسٹورنٹ سے نکل کر یاشم ساحل سمندر پر آگیا تھا۔ اس وقت وہ اکیلا رہنا چاہتا تھا۔ گھر والوں کے کالز سے بچنے اس نے موبائل تک آف کر دیا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنی امیدیں ٹوٹنے پر غمزدہ ہے یا راعنہ کے طلاق یافتہ ہونے پر افسردہ۔
“میں یہ ضرور چاہتا تھا کہ۔۔۔۔۔ وہ میری ہوجائے۔۔۔۔۔ پر یہ کبھی نہیں چاہا تھا کہ۔۔۔۔ ان کی لائف میں ایسا کوئی حادثہ پیش آیا ہو۔۔۔۔ کیا ہوتا اگر ان کا گھر نا ٹوٹا ہوتا۔۔۔۔ راعنہ اپنے شوہر کے ساتھ اور ایلزینا اپنے پاپا کے ساتھ خوشی خوشی رہ رہی ہوتیں۔۔۔۔ میں راعنہ کی خوشیوں میں خوش ہوجاتا۔۔۔۔۔” یاشم نے ریت پر بیٹھے گاڑی کے بانٹ سے ٹیک لگائے سمندر میں اٹھتی لہروں کو دیکھتے ہوئے اداسی سے سوچا۔
“ایسا کیا ہوا تھا۔۔۔۔ ایسی کیا وجہ تھی جو انہیں ڈائوورس ہوگئی۔۔۔۔ اتنی اچھی تو ہیں۔۔۔۔ وہ کبھی اپنا گھر خود نہیں اجاڑیں گی۔۔۔۔” یاشم، راعنہ کے جانب سے مطمئن تھا۔
“ان کا ہسبینڈ کون تھا۔۔۔۔ اس نے کیسے اتنی اچھی بیوی اور اتنی معصوم بیٹی کو جانے دیا۔۔۔۔” یاشم کو راعنہ کے سابق شوہر پر شدید غصہ آیا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
آفان شاہ صاحب لاؤنج میں دائیں سے بائیں چکر لگاتے بار بار گھڑی پر وقت دیکھ رہے تھے۔
“یاشم نے پہلے تو کبھی اتنی دیر نہیں کی۔۔۔۔ ” انہوں نے پریشانی میں سوچا اور موبائل فون نکال کر اس کا نمبر ملانے لگے۔ نمبر بند آنے پر وہ سخت ناراض ہوئے۔
“ایسی لاپرواہی پہلے تو کبھی نہیں کی یاشم نے۔۔۔۔” وہ ایک کے بعد دیگر کالز پر کالز کرنے لگے۔
“حد ہے بھئی۔۔۔” وہ زچ ہوتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئے۔
فریحہ بیگم بھی وہی آگئی تھی۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر انہوں نے پریشانی سے شوہر کا بازو تھپتھپا کر متوجہ کیا۔ آفان صاحب نے بےبسی سے سر نفی میں ہلایا۔ ایک موہوم سی امید کے ساتھ انہوں نے عدنان کا نمبر ملایا اور اسے صورتحال سے واقف کیا۔
“آپ فکر مت کریں سر۔۔۔۔ میں ابھی سب سے پوچھ کر آپ کو انفارم کرتا ہوں۔۔۔۔” عدنان نے با اعتماد انداز میں جواب دیا۔ آفان صاحب مشکور ہوکر اس کے کال بیک کے منتظر ہوگئے۔
“یا اللہ میرا بیٹا خیریت سے ہو۔۔۔۔ آفان۔۔۔۔ کہاں ہے یاشم۔۔۔۔” فریحہ بیگم ان سے سوال کرتے رونے لگی۔
“حوصلہ رکھیں۔۔۔۔ آجائے گا۔۔۔۔ ” آفان صاحب نے دلاسہ دینے ان کا ہاتھ تھاما تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ بیڈ پر نیم دراز بیٹھی یاشم کے حوالے سے بہت فکرمند تھی۔ اس نے اللہ سے یاشم کے خیریت کی دعا کی اور سونے کے لیے لیٹنے لگی تھی جب اس کا موبائل بجنے لگا کال عدنان کی آرہی تھی۔ راعنہ نے سانس روکے پہلے ہی بیل پر کال اٹھا لی۔
“راعنہ، یاشم آپ کے ساتھ ہے کیا۔۔۔۔ ” عدنان نے چھوٹتے ہی یاشم کے بارے میں بازیاب کرنا چاہا۔
“میرے ساتھ تھے۔۔۔ پر شام کے وقت چلے گئے تھے۔۔۔۔ کیوں کیا ہوا سب خیریت ہے نا۔۔۔۔” راعنہ کا دل دہل گیا کہ کہی جذبات میں آکر یاشم نے کوئی غلط قدم نہ اٹھا لیا ہو۔
“جی وہ۔۔۔ اب تک گھر نہیں گئے۔۔۔ آفان سر بہت پریشان ہورہیں تھے اس لیے میں پورے اسٹاف سے یاشم سر کا پوچھ رہا ہوں۔۔۔۔ راعنہ ان کے بارے میں کچھ بھی پتا چلے مجھے لازمی انفارم کرنا۔۔۔۔” عدنان نے ریکویسٹ کی۔
“شیور۔۔۔ اور آپ کو وہ ملے تو مجھے ضرور بتائیے گا پلیزز۔۔۔۔” راعنہ نے التجا کی تھی۔
عدنان اس کی بات مان کر الوداعی کلمات کہتے کال کاٹ گیا۔ راعنہ بے چینی سے کمرے میں چکر کاٹنے لگی۔ اس کے اضطراب میں اضافہ ہونے لگا تو خود یاشم کا نمبر ملانے لگی پر ہر کوشش بے سود لوٹ آتی۔
“یا اللہ۔۔۔۔ کہاں ہے یاشم۔۔۔۔ بس خیریت سے ہوں اور جلدی گھر پہنچ جائے۔۔۔۔” راعنہ نے سر اوپر اٹھا کر دعائیں شروع کر دی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
یاشم رات ڈھائی بجے کے قریب گھر پہنچا۔ آفان صاحب بیٹھے بیٹھے ہی آنکھیں موندھے ہوئے تھے اور فریحہ بیگم تسبیح ہاتھ میں لیئے ذکر و اذکار میں مصروف تھی۔
قدموں کی چھاپ پر انہوں نے سر اٹھا کر دیکھا تو یاشم کو اپنے سامنے کھڑا پایا۔
“یاشم۔۔۔۔ کہاں چلا گیا تھا۔۔۔۔۔ کتنے پریشان ہورہیں تھے ہم۔۔۔۔ تم ٹھیک تو ہو۔۔۔۔” فریحہ بیگم ایک جھٹکے سے اس کے پاس آئی اور اسے دیوانہ وار چومتی گلہ کرنے لگی۔
یاشم کو انہیں رلانے پر بہت افسوس ہوا۔ بیوی کی آواز پر آفان صاحب نے چونک کے آنکھیں کھولی۔
“یاشم۔۔۔۔۔ ایسے کوئی کرتا ہے۔۔۔ بتا کر جانا چاہیئے تھا نا۔۔۔۔”آفان صاحب نے قدرے سختی سے شکوہ کیا۔
“سوری بابا۔۔۔۔ سوری مام۔۔۔۔۔ بس کچھ ڈسٹرب تھا۔۔۔۔ اس لیے آپ کو انفارم نہیں کر سکا۔۔۔۔” یاشم نے سرخ پڑتی آنکھوں سے باری باری والدین کو دیکھ کر معافی مانگی۔
“یاشم۔۔۔۔ سب ٹھیک ہے نا۔۔۔۔۔ ” آفان صاحب اس کا بجھا چہرا دیکھ کر متفکر ہوئے۔
“ہاں بابا۔۔۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔۔۔ چلیئے۔۔۔۔ آپ بھی جا کر سوجائیں۔۔۔۔ میں بھی اپنے کمرے میں جا رہا ہوں۔۔۔۔” یاشم نے زبردستی اپنے آپ کو بے باک دکھایا اور انہیں تسلی دیتے اپنے کمرے کے جانب بڑھ گیا۔
آفان صاحب کو وہ ٹھیک نہیں لگا۔ انہوں نے پیچھے جانا چاہا پر فریحہ بیگم نے ان کا بازو تھام کر روک لیا۔
“ابھی اسے جانے دیں۔۔۔۔ آپ کو جو بھی پوچھنا ہو۔۔۔۔ صبح پوچھ لیجیئے گا۔۔۔۔” فریحہ بیگم کو فل وقت اپنے بیٹے کی آرام کی فکر ستا رہی تھی۔
آفان صاحب ان کی بات مان گئے اور سر کو جنبش دیتے اپنے کمرے میں چلے گئے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
اس دن راعنہ آفس جلدی آگئی تھی اور آتے ہی بغیر دستک دیئے سیدھے یاشم کے کیبن میں در آئی۔
“یہ کیا حرکت تھی یاشم۔۔۔۔ کہاں چلے گئے تھے آپ۔۔۔۔ سب کتنا پریشان ہوگئے تھے۔۔۔۔ ” راعنہ ٹیبل پر ہاتھ رکھ کر بلند آواز میں گویا ہوئی۔
“سب۔۔۔۔ آپ بھی۔۔۔۔” یاشم نے اپنی رولنگ چیئر جھلاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
راعنہ نے جھٹ سے رخ پھیر لیا کہ کہی یاشم اس کی آنکھوں کے زبانی اس کے دل کا حال نہ جان لیں۔ کسی کو چاہنے سے زیادہ چاہے جانے کا احساس بڑا ہوتا ہے۔
یاشم اسے چاہتا ہے اس احساس کے تحت راعنہ کا دل اس کے جانب فریفتہ ہونے لگا پر اپنا ماضی سوچ کر، اپنی بد قسمتی یاد کر کے وہ اپنے احساسات روکے ہوئے تھی۔
“مطلب آپ کے والدین۔۔۔۔ اور پورا اسٹاف۔۔۔۔” راعنہ متذبذب ہو کر بات بدل گئی تھی۔
یاشم اپنے تکلیف پر ہنستا ہوا سیٹ پر سے اٹھا اور ٹیبل کے سائیڈ سے گزر کر راعنہ کے سامنے آیا۔ نا جانے کیوں اسے یہ لگا تھا کہ راعنہ بھی اسے پسند کرنے لگی ہے۔
“سب وقتی ہے۔۔۔۔ یہاں کوئی کسی کے لیے پریشان نہیں ہوتا۔۔۔۔ ” یاشم نے استحزیہ ہنستے کھڑکی کے پاس آیا۔ راعنہ کی بے رخی اسے کرب میں مبتلا کر رہی تھی۔
“کوئی اور ہو نا ہو۔۔۔۔۔ لیکن ماں اور باپ وہ ہنستی ہیں جو اولاد کی تکلیف پر نیم جان ہوجاتے ہیں۔۔۔۔ ” راعنہ نے بہت ہی پیار سے کہا۔
ماں باپ کی فضیلت بیان کرتے راعنہ کے ذہن میں اپنے بابا اور ممی کا چہرا لہرایا تھا۔ وہی دوسری جانب یاشم کے نظروں کے سامنے ایلزینا کے ساتھ ہوئے ایکسیڈنٹ کے وقت راعنہ کی حالت کا عکس گھوما تھا۔
“آپ کسی کے لیے بھی اپنے والدین کو تکلیف مت دو یاشم۔۔۔۔ آپ ان کے لیے اپنے جان سے بڑھ کر ہو۔۔۔۔ انہیں پریشان مت کیجیئے۔۔۔۔” راعنہ کی آواز میں افسردگی در آئی تھی۔
یاشم ایڑیوں کے بل گھوما اور راعنہ کے عین قریب آگیا۔
“آپ نہیں چاہتی میں اپنے پیرنٹس کو تکلیف دوں۔۔۔۔ تو آپ میری ہوجاو۔۔۔۔۔ marry me۔۔۔۔ ” اب کی بار یاشم کی آنکھوں میں جنون تھا اور آواز میں جذبہ۔ اس کے دل کے ارادے مضبوط ہوگئے تھے اور راعنہ کو اپنانے کی چاہت عروج پر تھی۔
اس کا مطالبہ سن کر راعنہ اپنی جگہ جامد ہوگئی۔ بنا پلک جھپکائے وہ یاشم کو دیکھتی گئی۔
“مجھے نہیں پتا آپ کے ماضی میں کیا ہوا ہے۔۔۔۔ کیوں ہوا ہے۔۔۔۔ میں اسے نہیں بدل سکتا۔۔۔۔ پر آپ کا مستقبل ضرور بدل سکتا ہو۔۔۔۔” یاشم نے ایک قدم آگے بڑھ کر راعنہ کو تھامنا چاہا لیکن وہ بے اختیار پیچھے ہوگئی۔
یاشم کی باتیں اس کے دل پر جہاں مرہم کی طرح لگ رہی تھی وہیں اپنے اندر اٹھتے طوفان سے راعنہ مضطرب ہونے لگی۔
“آپ نے ایک عرصہ خود سے۔۔۔۔ سماج سے لڑھتے گزارا ہے۔۔۔۔ بہت تھک گئی ہوگی۔۔۔۔ پر راعنہ۔۔۔۔ آپ کی یہ آنکھیں آنسو بہانے کے لیے نہیں ہیں۔۔۔۔ آپ کا چہرا اداسی کا نقاب اوڑھے رکھنے کے لیے نہیں ہے۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں آپ میرے دل کی سلطنت پر حکومت کرنے آو۔۔۔۔ یہاں آپ کے سارے خواب پورے ہوجائے گے۔۔۔۔ میں آپ کی ساری تکالیف خود میں سمیٹ لوں گا۔۔۔۔” یاشم اسے نئے خواب دکھانے لگا۔
راعنہ پل پل یاشم کی دیوانگی سے خوفزدہ ہونے لگی۔ اس نے سر نفی میں ہلاتے اپنا رخ پھیر لیا۔
“پلیزز یاشم۔۔۔ بس کردو۔۔۔۔ مجھے وہ خواب مت دکھاو جو نا ممکن ہے۔۔۔۔ ” راعنہ نے آنکھیں بند کر کے کانوں پر ہاتھ رکھ لیئے تھے۔ اس میں مزید اعتراف سننے کی سکت نہ تھی۔
“ممکن ہے راعنہ۔۔۔۔” یاشم نے اسے قائل کرنے نرمی سے کہا۔
“کچھ ممکن نہیں ہے۔۔۔۔ میں آپ کی نہیں ہوسکتی۔۔۔۔ مجھ میں اور آپ میں بہت فرق ہے۔۔۔۔ میں تو عمر میں بھی آپ سے بڑی ہوں۔۔۔۔ پھر آپ نے اتنا سب کیسے سوچ لیا۔۔۔۔” راعنہ نے شکوہ کرتے لب دانتوں میں دبایا۔
راعنہ کی بات پر یاشم سر جھٹک کر مسکرایا۔
“آپ کو پتا ہیں۔۔۔۔ جب ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی۔۔۔۔۔ جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ سے شادی ہوئی تھی۔۔۔۔ تب وہ صرف پچیس سال کے تھے۔۔۔۔ اور بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہ چالیس سال کی تھیں۔۔۔۔ اتنا فرق تھا ان دونوں میں۔۔۔۔ لیکن پھر بھی وہ آئیڈل کپل رہیں ہیں۔۔۔۔ ان کی جوڑی پوری امت کے لیے مثال ہیں۔۔۔۔ ” یاشم کہتے ہوئے گھوم کر راعنہ کے سامنے آیا۔
“کیا اس سے بڑی کوئی دلیل چاہیئے آپ کو۔۔۔۔ مجھے ہمارے بیچ کے ایج ڈفرینس سے کوئی ایشو نہیں ہے۔۔۔۔ محبت دو دلوں کو جوڑنے والا جذبہ ہے۔۔۔۔ رنگ نسل۔۔۔۔ ذات پات۔۔۔۔ عمر۔۔۔۔ قومیت۔۔۔۔ یہ سب ہمارے معاشرے نے عائد کیے ہیں۔۔۔۔ شریعت اور عشق میں یہ تفریق نہیں دیکھی جاتی۔۔۔۔۔” یاشم نے شہادت کی انگلی سے راعنہ کی تھیوڑی اوپر کو اٹھا کر اس کی متروم آنکھوں میں دیکھا۔
“بات صرف اتنی نہیں ہے۔۔۔۔۔ میں ڈائوورسی ہوں۔۔۔۔ میری ایک نو سال کی بیٹی ہے۔۔۔۔” راعنہ نے دوسری وجہ پیش کی۔
“تو۔۔۔۔ کیا ڈائوورسڈ لڑکیاں پھر سے گھر نہیں بسا سکتی۔۔۔ کیا انہیں پھر سے ہمسفر چننے کا حق نہیں ہوتا۔۔۔۔ ایک دفعہ شادی نہیں چلی تو کیا جینا چھوڑ دے۔۔۔۔؟ ” یاشم کے اس قدر نارمل برتاو پر راعنہ واقعی حیران ہوگئی تھی کیونکہ اس سے پہلے تو ہر کوئی محض ہمدردی جتاتا اور افسوس کر کے چلا جاتا۔
“اور رہی بات ایلزینا کی۔۔۔۔ میں اسے اپنانے کے لیے تیار ہوں۔۔۔۔ میں اسے اپنا نام دوں گا۔۔۔۔ ہماری بیٹی ہوگی وہ۔۔۔۔” یاشم کی بات پر راعنہ کو یقین نہیں آرہا تھا۔ وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“یاشم۔۔۔ آپ کچھ بھی بنا سوچے سمجھے بولیں جا رہیں ہیں۔۔۔۔۔ ” راعنہ زچ ہونے لگی۔
“میں نے بالکل سوچ سمجھ کر۔۔۔۔۔ اپنے ہوش و حواس میں یہ فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔ اور آپ بھی اچھے سے سوچ لیجیئے گا۔۔۔۔ کوئی جلدی نہیں ہے۔۔۔۔ میں آپ کے جواب کا انتظار کروں گا۔۔۔۔ ” یاشم کا فیصلہ حتمی تھا۔ راعنہ مزید دلیل نہیں دے سکی۔
اپنے گھڑی کے جانب اشارہ کرتے ہوئے یاشم کیبن سے باہر نکل گیا۔ راعنہ اسے دیکھتے اس کے اخلاق و کردار کی اصل شناخت متعین کرنے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“سر۔۔۔۔۔ مسٹر نوریز آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔۔” دروازے سے نمودار ہوتے مینیجر نے صدیف کو مطلع کیا۔
نوریز کے نام پر صدیف کے عصاب تن گئے۔
“ہممم۔۔۔۔ بھیجو۔۔۔۔ ” خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کرتے اس نے مینیجر کو اجازت دی۔
مینیجر سر کو خم دے کر باہر نکل گیا اور تھوڑی دیر بعد دروازہ دوبارہ کھلا۔ نوریز ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے اور دوسرا پہلو میں گرائے شان سے صدیف کے کیبن میں داخل ہوا۔ اسے آتے دیکھ کر صدیف سپاٹ تاثرات بنائے کھڑا ہو گیا تھا۔
“اتنے سالوں بعد تم سے مل کر اچھا لگ رہا ہے۔۔۔۔” نوریز صدیف کے تاثرات خاطر میں نا لاتے ہوئے کرسی پیچھے کر کے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا۔
“پر تمہیں جیل سے باہر دیکھ کر مجھے بالکل اچھا نہیں لگا۔۔۔۔” صدیف نے اپنی نشست واپس سنبھالی۔
“ہاہاہا۔۔۔۔۔ مذاق کرنے کی عادت نہیں گئی تمہاری۔۔۔۔۔ ” نوریز نے اس کا تبصرہ ہنسی میں اڑا دیا۔
صدیف کے چہرے کے عضلات تپے ہوئے رہے تو نوریز سنجیدہ ہو کر آگے کو ہوا۔
“خیر میں یہاں اپنے متعلق بات کرنے نہیں آیا۔۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں آیت گھر آئے۔۔۔۔۔ پاپا سے ملے۔۔۔۔ تم آیت کو پاپا سے ملنے کی اجازت دے دو۔۔۔۔” اب کی بار نوریز گویا ہوا تو اس کی آواز شکستہ تھی۔
“ایک باپ جب اپنی اولاد سے دور ہو تو کیسا لگتا ہے۔۔۔۔ میں سمجھ سکتا ہوں۔۔۔۔ میں نے تو ہمیشہ سے پاپا کو دکھ دیے ہیں۔۔۔۔ پر آیت۔۔۔۔ وہ پاپا کے بہت قریب رہی ہے۔۔۔۔ اس عمر میں پاپا کو اپنی بیٹی کی ضرورت ہے۔۔۔۔ پلیز صدیف پچھلا سب کچھ بھلا کر پاپا کے لیے آیت کو گھر آنے کی پرمیشن دے دو۔۔۔۔” اس نے پر امید نظروں سے صدیف کو دیکھا۔
صدیف ایک پل کے لیے نوریز میں آئی اس تبدیلی کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوگیا تھا۔ وہ مکمل خاموش ہوا تو صدیف نے کنکارتے ہوئے سانس خارج کی۔
“نوریز۔۔۔۔ میں ان شوہروں میں سے نہیں ہوں جو اپنی بیوی پر اپنی مرضی مسلت کرتا پھروں۔۔۔۔ میں نے کبھی اس پر پابندیاں نہیں لگائی۔۔۔۔۔ آیت نے خود اپنی مرضی سے اس گھر سے تعلق توڑا ہے۔۔۔۔ جوڑنا چاہے۔۔۔۔ تو بھی اس کی اپنی مرضی ہے۔۔۔۔ میں اس بابت کچھ نہیں کہہ سکتا۔۔۔۔” صدیف کا جواب سپاٹ تھا۔
نوریز نے سر جھٹک کر لب بھینج لیئے۔
“جانتا ہوں۔۔۔۔ ضد میں آیت مجھ سے کم نہیں ہے۔۔۔۔ پر تم اس سے بات کر کے دیکھو۔۔۔۔ وہ تمہاری بات ضرور مانے گی۔۔۔۔ میں اپنے لیے تھوڑی کچھ مانگ رہا ہوں۔۔۔۔ مجھے بس پاپا کی فکر ہے۔۔۔” نوریز نے اسے منانے کی ایک اور کوشش کی۔
“تمہارے مشورے کے لیے شکریہ۔۔۔۔۔ میں کوشش کروں گا۔۔۔۔” صدیف بات کو ختم کرتے اپنے سیٹ سے اٹھا۔
نوریز اپنے غصے کو قابو کرتے کھڑا ہوا اور صدیف کو تندی سے گھور کر کیبن سے باہر نکل گیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
یاشم گھر پہنچا تو اس کے چہرے پر الگ ہی رونق تھی۔ لنچ کے بعد اس نے اپنی شادی کا موضوع چھیڑا۔
“مام۔۔۔۔ آپ چاہتی تھی کہ میں شادی کر لوں۔۔۔۔” اس نے فریحہ بیگم کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر مخاطب کیا۔
جواب میں مام نے سر کو اثابت میں جنبش دیا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔ میں شادی کرنے کے لیے ریڈی ہوں۔۔۔۔۔” یاشم کا جواب سن کر سب کی چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔
“یہ تو اچھی بات ہے۔۔۔۔ میں آج سے ہی لڑکی دیکھنا شروع کر دیتی ہوں۔۔۔۔” فریحہ بیگم نے یاشم کے سر پر ہاتھ پھیرتے اس کی پیشانی پر محبت بھرا بوسہ دیا۔
“لڑکی میں نے پسند کر لی ہے مام۔۔۔۔” یاشم نے حد عقل سنجیدگی سے جواب دیا۔
آفان صاحب کے آبرو تن گئے وہ طیش میں آکر کھڑے ہوگئے۔ مام کے چہرے کا رنگ زرد پڑنے لگا۔ شاہ خاندان میں لو میرج کرنے کا رواج نہیں تھا اس لیے یاشم کے زبانی محبت کا اقرار سن کر سب دنگ رہ گئے۔
آفان صاحب کچھ کہتے اس سے پہلے دادا جان سامنے آئے۔
“واہ کیا بات ہے۔۔۔۔ کون ہے وہ۔۔۔۔ کس خاندان کی ہیں۔۔۔۔” دادا جان نے لڑکی کے متعلق سوال پوچھا۔
آفان صاحب اپنے بابا جان کو خاندانی رواج کے خلاف جاتے دیکھ کر مزید حیران ہوگئے۔ یاشم دادا جان کا سب سے لاڈلا پوتا ہے یہ حقیقت ضرور تھی پر وہ اس کی خوشی کی خاطر خاندانی روایات توڑ دیں گے یہ آفان صاحب کے گمان میں بھی نہ تھا۔
“دادا جان وہ بہت اچھی ہے۔۔۔۔ آپ اس سے ملیں گے تو وہ آپ کو بھی ضرور پسند آئے گی۔۔۔۔۔ میرے آفس میں کام کرتی ہیں۔۔۔۔ راعنہ شعیب بٹ۔۔۔۔” یاشم دادا جان کے رو بہ رو آکر انہیں تفصیلات بتانے لگا۔
راعنہ کے نام پر آفان صاحب کے ماتھے پہ شکن نمودار ہوئے۔
“ہرگز نہیں۔۔۔۔۔ ” انہوں نے اتنی بلند آواز میں کہا کہ سب سہم گئے۔ یاشم بے یقینی سے بابا کی طرف مڑا۔
“آفان۔۔۔۔ ایک دفعہ ٹھنڈے دماغ سے بیٹے کی بات تو سن لو۔۔۔” دادا جان نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔
“بابا جان وہ لڑکی اس سے بڑی ہے۔۔۔۔ اور طلاق یافتہ ہے۔۔۔۔۔ ” آفان صاحب کی بات سن کر دادا جان نے رخ موڑ کر یاشم کو دیکھا تھا۔
یاشم پریشانی اور بے بسی کے ملے جلے تاثرات سے بابا کو دیکھنے لگا۔
“بابا۔۔۔۔ راعنہ بہت اچھی ہے۔۔۔۔ میں ان سے محبت کرتا ہوں۔۔۔۔ محبت عمر نہیں دیکھتی۔۔۔۔۔ ” یاشم نے اپنے دلائل پیش کرنا چاہے پر بابا نے ہاتھ ہوا میں اٹھا لیا۔
“چپ۔۔۔۔ ایک دم چپ۔۔۔۔۔ یہ کوئی محبت نہیں ہے۔۔۔۔ بس وقتی اٹریکشن ہے۔۔۔۔۔ راعنہ جیسی لڑکیوں کو اپنی معصومیت سے لڑکوں کا دل بہلانے کا ہنر بہت اچھے سے آتا ہے۔۔۔۔۔۔ دوبارہ میں تمہارے منہ سے اس کا نام نہ سنوں۔۔۔۔” بابا غضب سے سرخ چہرہ اور انگارا ہوتی آنکھیں یاشم پر گاڑھ کر بولے۔
“بابا وہ ایسی نہیں ہے۔۔۔۔۔” یاشم نے راعنہ کا دفاع کرنا چاہا پر آفان صاحب نے اس کی ایک نہ سنی اور اسے نظر انداز کر کے چل پڑے۔
یک دم ہی گھر کے ماحول میں تناو بڑھ گیا۔ یاشم نے غصے سے سینٹرل ٹیبل کو لات دے ماری۔ مام اور دادا جان کی سمجھ میں نہ آیا کہ معاملے کو کیسے قابو کریں۔ بلاآخر دادا جان نے بات کرنے کی کوشش کی۔
“دادا جان آپ بھی وہی کہیں گے نا۔۔۔۔۔” ان کے گویا ہونے سے پہلے یاشم نے افسردگی سے دادا جان کو دیکھا۔
دادا جان کی نصیحت ان کے حلق میں ہی دم توڑ گئی۔ فریحہ بیگم نے موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے یاشم کا بازو دبوچا اور اسے کمرے کے سمت لے جانے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
کمرے کے بیج لا کر مام نے اس کا بازو چھوڑا اور اس کے گال پر ہاتھ کر اس کا چہرا اپنے سامنے کیا۔
“ایسے بات کرتے ہیں بابا اور دادا جان سے۔۔۔۔۔ کیا یہ تمیز سیکھائی ہے میں نے۔۔۔۔ ایسا صلہ دے رہے ہو میری پرورش کا۔۔۔۔۔” مام نے اپنی خفگی کا اظہار کیا۔
“آپ کیوں نہیں سمجھ رہی مام۔۔۔۔ بابا کو مس انڈرسٹینڈنگ ہوئی ہے۔۔۔۔۔ راعنہ ویسی نہیں ہے۔۔۔۔” یاشم نے ان کا ہاتھ ہٹایا اور دو قدم آگے کھڑا ہو گیا۔
“یاشم۔۔۔۔ تم جانتے ہو نا۔۔۔۔۔ اس خاندان میں کبھی پسند کی شادی نہیں ہوئی۔۔۔۔۔ اور پھر تم نے پسند کیا بھی خود سے بڑی عمر کی ایک طلاق یافتہ لڑکی کو۔۔۔۔” مام کو اب تک اس کی پسند پر مانو یقین نہ آیا ہو۔
یاشم نظریں چرا گیا کیونکہ ابھی تک اس کی فیملی راعنہ کی بیٹی سے انجان تھے۔
“مام۔۔۔۔ پلیزز میرے جذبات سمجھنے کی کوشش کریں۔۔۔۔” یاشم نے بے بسی سے التجا کی تھی۔
“یاشم پلیزز۔۔۔۔ بھول جاو اسے۔۔۔۔۔ تمہارے بابا کبھی نہیں مانیں گے۔۔۔۔” فریحہ بیگم نے دوبارہ اس کا گال تھپتھپا کر سمجھایا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
یاشم مضطرب ہوتا بیڈ پر بیٹھ گیا۔
“بس ایک دفعہ راعنہ ہاں کر دیں۔۔۔۔ پھر میں ہر حال میں بابا کو منا لوں گا۔۔۔۔” یاشم نے حتمی فیصلہ کیا اور راعنہ کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
دوسری جانب راعنہ دن بھر یاشم کا اعتراف سن کر پریشان ہوتی رہی۔ کمرے میں دائیں سے بائیں چکر کاٹتے اس نے بیڈ پر سوئی ایلزینا کو دیکھا۔
کتنی مشابہت رکھتی تھی وہ اس دلکش مرد سے جو کہنے کو تو اس کا باپ تھا پر جس نے کبھی جی بھر کر اسے پیار بھی نہیں کیا تھا۔
ایلزینا کو دیکھتے راعنہ ماضی کے اوراق میں کھونے لگی۔ نو سال کی زینی راعنہ کو بچپن کی آیت لگی تھی۔
ماضی *
صدیقی ہاوس کو لائٹس اور بیلون سے سجایا گیا تھا۔ ہر سوں باجو اور پٹاخوں کا شور مچا تھا۔ پنک کلر کا فیری گاون پہنے سر پر بڑی سی ہیپی برتھ ڈے والی ٹوپی پہنے آیت صدیقی منہ پھلائے کھڑی تھی۔
“آیت۔۔۔ کیک کٹ کر لو۔۔۔۔ سب ویٹ کر رہیں ہیں۔۔۔۔۔” وارث صاحب نے نرمی سے مخاطب کیا۔
“نہیں پاپا۔۔۔۔۔۔ راعنہ جب تک نہیں آئے گی۔۔۔۔ میں کیک کٹ نہیں کروں گی۔۔۔۔ ” آیت نے ناک چڑھائے ہوئے سر دائیں سے بائیں نفی میں ہلایا۔
“آیت کاٹ بھی دو۔۔۔۔۔ بھوک لگ رہی ہے یار۔۔۔۔ نہیں تو میں ایسی کھا جاوں گا۔۔۔۔” چودہ سالہ نوریز نے تپ کر دھمکی دی۔
دس سالہ آیت نے بھائی کو گھورا تو مما نے بھی نوریز کو چپ کرانے اس کے بازو پر تھپکی ماری۔
“آیت۔۔۔۔ “اسی اثناء راعنہ اپنی ممی کا ہاتھ تھامے بھاگتے ہوئے پارٹی ایریا میں داخل ہوئی۔
راعنہ کے رفتار سے قدم ملانے عاطرہ بیگم کو بھی بھاگنا پڑ رہا تھا۔
“لو۔۔۔۔ آگئی آیت کی آفت۔۔۔۔ ” نوریز نے ناک بھسورتے ہوئے کہا۔
سنبل بیگم نے دوبارہ اس کے کندھے پر تھپکی مار کر اسے خاموش کرایا۔
راعنہ کو دیکھ کر آیت کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ وہ اپنی جگہ پر کھڑی اچھلنے لگی۔
“ہیپی برتھ ڈے آیت۔۔۔۔” راعنہ نے تیزی سے آگے آکر اسے خود سے لگا لیا۔
“تھینکیو۔۔۔۔۔ چلو کیک کٹ کرتے ہیں۔۔۔۔” آیت نے شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے ہاتھ پر راعنہ کا ہاتھ رکھا اور دونوں ساتھ میں کینڈل بجھا کر کیک کٹ کرنے لگیں۔
عاطرہ بیگم اور سنبل بیگم شانہ بشانہ کھڑی بچیوں کے اس محبت پر محظوظ ہونے لگی۔
“ایک جسم دو جان ہے یہ دونوں۔۔۔۔۔ کبھی کبھی تو سوچتی ہوں۔۔۔۔ اگر یہ الگ ہوگئیں تو کیا کریں گی۔۔۔۔” عاطرہ بیگم نے متفکر انداز میں کہا۔
“اللہ تعالی ان کی دوستی یوں ہی تا عمر قائم رکھیں۔۔۔۔ الگ کیوں ہونگی بھلا۔۔۔۔” سنبل بیگم نے راعنہ اور آیت کو ایک دوسرے سے چپک کر کیمرہ کے آگے پوز بناتے ہوئے دیکھ کر دعا دی تھی۔
“میرا مطلب تھا۔۔۔۔ جب یہ بڑی ہوجائیں گی۔۔۔۔ شادی ہوگی۔۔۔۔۔ تب تو الگ ہونا ہوگا۔۔۔۔ ہمیں کیا پتا۔۔۔۔ کس کا نصیب کہاں لکھا ہے۔۔۔۔” عاطرہ بیگم نے اپنے تبصرہ کی وضاحت دیتے ہوئے سمجھایا۔
“جہاں بھی ہو۔۔۔۔ اللہ دونوں بچیوں کے نصیب اچھے کریں۔۔۔۔” سنبل بیگم نے پھر سے دعا دیتے آیت اور راعنہ کو مضبوطی سے اپنے حصار میں لے لیا اور باری باری دونوں کو پیار کیا۔
راعنہ اور آیت کی دوستی دل و جان سے بڑھ کر تھی۔ دونوں ہی ایک دوسرے پر جان نچھاور کرتیں تھیں۔ دکھ سکھ میں ہمہ وقت ایک دوسرے کے ساتھ موجود رہتی۔ جان دینے والی سہیلیاں جان چھڑانے تک کے مراحل طے کرے گی یہ نا آیت نے سوچا تھا اور نا راعنہ نے۔
** حال ****
ایلزینا کے سراہنے بیٹھے اپنا اور آیت کا بچپن یاد کرتے راعنہ کو وقت کا پتا ہی نہ چلا۔ دور کہی سے فجر کی اذانیں سنائی دی تو وہ آنکھیں، جو رت جگے کے باعث سرخ ہورہی تھی، مسل کر بار بار جھپکاتے وضو کرنے واشروم چلی گئی۔
فجر کی نماز ادا کر کے راعنہ کافی دیر اسی جگہ بیٹھی خالی ہاتھوں کو دیکھتی آنسو بہاتی رہی۔ اس کے ہاتھ میں کیا تھا۔ کچھ بھی تو نہیں۔ کرنے والی ذات تو اس پاک رب کی ہیں۔ اور پھر آنسو تو وہ خاموش دعا ہے جو صرف اللہ سن سکتا ہے۔
“یا اللہ۔۔۔۔ مجھے نہیں پتا۔۔۔۔ انسان کے ہر پوشیدہ ارادوں سے تو صرف تُو واقف ہے۔۔۔۔ میں تو اپنے آپ کو سمجھ نہیں پا رہی۔۔۔۔۔ پھر یاشم کو کہاں سمجھوں گی۔۔۔۔ بس میری دعا ہے۔۔۔۔۔ تُو اپنا سایہ مجھ پر برقرار رکھنا۔۔۔۔ وہی کرنا جس میں میری اور میری بیٹی کی بہتری ہو۔۔۔۔” راعنہ نے دعا کر کے آنسو صاف کئے اور پر سکون ہو کر سونے چلی گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
ایلزینا کے اسکول میں موسم گرما کے تعطیلات چل رہے تھے اس لیے وہ دیر تک سوئی رہتی تو اکثر راعنہ کی بھی دیر سے آنکھ کھلتی۔
اس دن بھی وہ فجر کے بعد سوئی تھی اس لیے آفس کے لیے دیر سے اٹھی اور وقت دیکھ کر تیز تیز تیار ہونے لگی۔
ہلکے مرجنڈا کلر کے قمیض شلوار پہنے بالوں کا ڈھیلا جوڑا بنائے وہ ڈوپٹہ سیٹ کرنے لگی۔ ہونٹوں پر لپ گلاس لگاتے ہوئے راعنہ کے نظروں میں یاشم کا عکس لہرایا تھا۔
“کہی یاشم نے جواب طلب کیا تو۔۔۔۔ کیا کہوں گی ان سے۔۔۔۔۔ میں تو اب تک کوئی فیصلہ ہی نہیں کر پائی ہوں۔۔۔۔” راعنہ کی پریشانی میں اضافہ ہونے لگا۔
“راعنہ۔۔۔۔ جلدی کرو۔۔۔۔ آفس نہیں جانا کیا۔۔۔۔” عاطرہ بیگم نے سیڑھیوں کے پاس سر اوپر کو اٹھا کر راعنہ کو آواز دی۔
“بس آرہی ہوں۔۔۔۔” منفی خیالات ذہن سے محو کر کے راعنہ اپنا بیگ کندھے پر ڈالے باہر بھاگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
آفس پہنچ کر وہ سر جھکائے یاشم سے سامنا نہ ہونے کی دعا کرتی اپنے کیبن میں در آئی۔ ابھی اس نے ٹیبل پر ہاتھ رکھ کر سانس بحال کی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ راعنہ چونک کر اچھل پڑی لیکن پیچھے مڑتے ہوئے بے یقینی سے اپنی جگہ ساکن ہوگئی۔
“آپ۔۔۔۔” سامنے کھڑے اس سراپے کو دیکھ کر وہ اتنا ہی کہہ سکی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔
NOTE: