Nadamat By Palwasha Safi Readelle50274 (Nadamat) Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
(Nadamat) Episode 21
راعنہ نے لمبا سانس لیں کر بولنا شروع کیا۔
“پاپا۔۔۔ میں آپ کی بہت عزت کرتی ہوں۔۔۔۔ مجھے آپ سے کوئی شکوہ نہیں ہیں۔۔۔۔ گلہ تو مجھے اپنے گھر والوں سے بھی نہیں۔۔۔۔ یہی میری قسمت کا لکھا تھا۔۔۔۔ ہاں ایک غلطی میرے گھر والوں نے کی۔۔۔۔ نوریز کے بارے میں پوچھ گچھ کئے بغیر میرا رشتہ کرا دیا۔۔۔۔ اور ایک غلطی۔۔۔۔” راعنہ نے بولتے بولتے پلکیں اٹھا کر آیت کے جانب دیکھا تھا۔
“ایک غلطی میری بیسٹ فرینڈ نے کی۔۔۔۔۔ مجھے نوریز کے انکار سے انجان رکھ کر۔۔۔۔ پر۔۔۔ پتا ہے پاپا۔۔۔۔۔ سب سے بڑی غلطی تو میری اپنی ہے۔۔۔۔ نوریز کے مزاج جاننے کے باوجود بھی راضی ہوگئی تھی۔۔۔۔۔ تب میں نے سوچا مزاج ہی تو ہیں۔۔۔۔ بدل جائیں گے۔۔۔۔ مگر میں غلط تھی۔۔۔۔۔” وہ کچھ دیر سانس لینے رکی۔
سب دم سادھے اسے سن رہیں تھے۔ نوریز نے اپنی برائی پر تپے ہوئے انداز میں رخ بدلا۔ ننھی ایلزینا ماحول کے سنگینی سے بے خبر راعنہ کے گود سے اتر کر چھوٹے قدم اٹھاتے پا پا کرتے ہوئے نوریز کے گود میں آگئی۔
“مگر میں ایک ہی غلطی دوبارہ نہیں دوہرا سکتی۔۔۔۔ کم سے کم اب نہیں۔۔۔۔ اب میرے ساتھ ایک بچی کی زندگی بھی جڑی ہے۔۔۔۔۔ میں اپنی بیٹی پر ایسے ظلم ہوتے نہیں دیکھ سکوں گی۔۔۔۔۔ اس لیے۔۔۔۔۔” اس کے آگے کے الفاظ زبان پر لاتے ہوئے راعنہ کی آواز کانپ گئی۔ وہ خود کو ہمت دلانے ایک لمحے کے لیے خاموش ہوئی۔
نوریز نے آنکھیں چھوٹی کر کے بغور اسے دیکھا تھا۔
“اس لیے مجھے طلاق چاہیئے۔۔۔۔۔ میں مزید نوریز کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔۔۔۔۔” اس کا مطالبہ سنتے سب کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔
نوریز طیش میں آکر کھڑا ہوگیا۔
“اور نا دوں تو۔۔۔ ” لاؤنج میں اس کی ڈٹی آواز ابھری تھی۔
“تو میں کورٹ میں خلع کے لیے اپیل کروں گی۔۔۔۔ ” راعنہ نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا۔ وہ پہلے سے سارے اندیشوں کے لیے تیار ہو کر میدان میں آئی تھی۔
نوریز چیلنج منظور کرنے کے انداز میں آبرو اچکا کر مسکرایا۔
“کر لو جو کرنا ہے۔۔۔۔ ” اتنا کہتے وہ اپنے موبائل میں کارٹون دیکھتی ایلزینا کو زبردستی گود میں اٹھا کر لمبے ڈگ بھرتا روانہ ہوگیا۔
ماحول میں ہڑبڑی مچ گئی۔ سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ راعنہ کا دل دہل گیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے وہ زینی کو لے کر جارہا تھا۔ وارث صاحب نے نوریز کو صدا لگائی۔ صدیف نے پکارتے ہوئے اس کے پیچھے جا کر روکنا چاہا پر وہ کسی کی نا سنتے گیٹ سے نکل گیا اور کار میں سوار ہو کر تیزی سے دوڑا دی۔
راعنہ اپنے آنسو ضبط کرتے صوفے پر ڈھے کر بیٹھی۔
“راعنہ۔۔۔۔ بیٹا جلد بازی میں اتنا بڑا فیصلہ نہیں کرتے۔۔۔۔ ہم سب مل کر اس معاملے کا حل نکالیں گے۔۔۔۔ ” عاطرہ بیگم سے بیٹی کا گھر اجرتا دیکھا نہیں گیا۔
“بھابھی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔۔۔ میں سمجھاوں گا نوریز کو۔۔۔” وارث صاحب نے تائید کی۔
“آئی ایم سوری۔۔۔۔ پر میں اپنا فیصلہ کر چکی ہوں۔۔۔۔ مجھے مزید فورس مت کیجیئے۔۔۔۔ میرا دل نوریز سے اٹھ چکا ہے۔۔۔۔ میں ان کے ساتھ رہ کر بھی کبھی خوش نہیں رہ سکتی۔۔۔۔ اس لیے الگ ہونے میں ہی بہتری ہے۔۔۔۔” راعنہ ہاتھ جوڑے معذرت کرتے بولی۔
شعیب صاحب دوہری کیفیت کا شکار ہورہیں تھے۔ انہوں نے راعنہ کے گرد بازو حمائل کر کے اپنے جانب متوجہ کیا۔
“تم ابھی اندر جاو۔۔۔۔ اس بارے میں تسلی سے بات کریں گے۔۔۔۔ “بابا کی ہدایت پر وہ لب بھینجے کمرے کے جانب بڑھ گئی۔
اس کے کمرے میں جاتے شعیب صاحب نے لاؤنج میں موجود افراد پر نظر گردانی کی اور وارث صاحب کے رو بہ رو ہوئے۔
“صدیقی صاحب۔۔۔۔ میں راعنہ کو جانتا ہوں۔۔۔۔ وہ برداشت کی آخری حد تک صبر کرنے والوں میں سے ہے۔۔۔۔ اگر وہ اتنا بڑا فیصلہ لیں رہی ہے تو یقیناً نوریز نے اسے برداشت کی انتہا تک پہنچا دیا ہوگا۔۔۔۔ بھلا کونسی لڑکی اپنی شادی توڑنا چاہے گی۔۔۔۔” بے بسی سے ہنکھارا بھرتے وہ ایک لمحے کو رکیں۔
“خیر۔۔۔۔ میں اسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔۔۔۔ آپ بھی نوریز سے بات کر کے دیکھیئے۔۔۔۔” وارث صاحب کا شانہ تھپتھپا کر وہ اپنے کمرے کے جانب چلے گئے۔ یہ ملاقات ختم کرنے کا اشارہ تھا۔
وارث صاحب سر جھکائے سنبل بیگم کو چلنے کا اشارہ کرتے عاطرہ بیگم سے رخصت لیتے روانہ ہوگئے۔ آیت ان کے ساتھ گیٹ تک آگئی تھی۔
“اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔ ” آیت کے سر پر ہاتھ پھیر کر وہ گیٹ کے باہر نکل گئے۔ مما نے بھی آیت کو خود سے لگا کر تسلی دی تھی۔
ایک پل میں کئی ساری زندگیاں داو پر آگئی تھیں۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نوریز نے گھر کے اندر داخل ہو کر ایلزینا کو گود سے اتار کر صوفے پر بیٹھایا لیکن وہ ما ما کرتے روئے جا رہی تھی۔
“چپ۔۔۔۔ بالکل چپ۔۔۔۔ ” وہ اتنا غضب سے غرایا کہ ننھی ایلزینا سچ میں اپنی فریاد دبا گئی۔
نوریز کے چلانے سے کچن میں کام کرتی ملازمہ بھاگتے ہوئے لاؤنج میں آئی۔
“اسے کچھ کھلاو۔۔۔۔ دوبارہ اس کا رونا نا سنوں میں۔۔۔۔” انگلی اٹھا کر غضب ناک تاثرات بنائے ملازمہ کو تنبیہ کرتے وہ اپنے بیڈروم میں چلا گیا۔
ملازمہ خوف زدہ ہو کر تیزی سے ایلزینا کو اٹھا کر اپنے ساتھ کچن میں لے گئی۔
کمرے کی ہر چیز کو اپنے عتاب کا نشانہ بناتے وہ سب چیزیں تہس نہس کر رہا تھا۔
“نا طلاق دوں گا اور نا اپناوں گا۔۔۔۔ تم نا جینے کے قابل رہو گی اور نا مرنے کے۔۔۔۔ نوریز صدیقی سے مقابلہ تمہیں بہت مہنگا پڑے گا مسز راعنہ نوریز۔۔۔۔” گرم سانس خارج کرتے وہ بیڈ پر بیٹھ گیا اور نفرت بھری نگاہوں سے سامنے دیوار پر اپنی اور راعنہ کی فریم شدہ تصاویر دیکھنے لگا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“یہ کیا طریقہ ہے نوریز۔۔۔۔۔ اس طرح سب کے درمیان سے اٹھ کر آتے ہیں۔۔۔۔ ہم گئے نا ساتھ معاملہ حل کرنے۔۔۔۔” پاپا گھر آتے ہی نوریز پر برس پڑے۔
“یہ بات اپنی لاڈلی سے کہیں۔۔۔۔ جو سب کے سامنے میری برائیاں کرتے تھک نہیں رہی تھی۔۔۔۔” نوریز نے راعنہ کے متعلق جملہ کسا۔
“یہ وقت جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کا ہے۔۔۔۔ کل کو وہ کورٹ چلی گئی تو کیا عزت رہ جائیں گی۔۔۔۔” وارث صاحب نے سنجیدگی سے سمجھایا۔
“تو آپ کیا چاہتے ہیں۔۔۔۔ میں اسے اتنی آسانی سے طلاق دے دوں۔۔۔۔” نوریز نے آنکھیں چھوٹی کر کے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“میرا یہ مطلب نہیں تھا۔۔۔۔ تم اس سے نرمی سے بات کرو۔۔۔۔ پیار سے سمجھاو۔۔۔۔” پاپا نے اسے اپنے ساتھ بیٹھایا۔
“پاپا۔۔۔۔ میں نے اپنی طرف سے پہل کی۔۔۔۔ وہ نہیں مانی۔۔۔۔ اب اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کے پیروں میں گر کر معافی مانگوں۔۔۔۔ منت سماجت کروں۔۔۔۔ تو یہ مجھ سے نہیں ہوگا۔۔۔۔” اپنی بات مکمل کر کے وہ رکا نہیں تھا۔
وارث صاحب لاچاری سے ہاتھ ملتے رہ گئے۔ سنبل بیگم نے کوشش کی بات کرنے کی لیکن نوریز نے ان کی بھی نہیں سنی۔ وہی دوسری طرف شعیب صاحب اور عاطرہ بیگم بھی راعنہ کے کمرے میں موجود تھے۔
“شادی میں کمپرومائز کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔ کبھی شوہر کے خاطر تو کبھی اولاد کے خاطر۔۔۔۔ ہماری زینی کا سوچو بیٹا۔۔۔۔ اسے ماں اور باپ دونوں کی ضرورت ہے۔۔۔۔” ممی نے راعنہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے پیار سے سمجھایا۔
بابا نے بھی اسے نوریز کو ایک آخری موقع دینے کی نصیحت دی۔ ان دونوں کے مشورے مان کر راعنہ نے گھر واپس آنے کا فیصلہ کیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
صبح نوریز تیار ہو کر کمرے سے باہر آیا تو پاپا اور مما پہلے سے لاونج میں بیٹھے تھے۔
“راعنہ صلح کے لیے مان گئی ہے۔۔۔۔ شعیب صاحب اسے ابھی لے کر آرہیں ہیں۔۔۔۔ اب تم دوبارہ کوئی تماشا مت بنانا۔۔۔۔” وارث صاحب نے انگلی اٹھا کر درشتی سے کہا۔
نوریز آبرو اٹھائے نظریں گھما کر مما کو ایک نظر دیکھ کر صوفے پر جا بیٹھا۔ تھوڑی دیر میں گیٹ کھلا اور شعیب صاحب، راعنہ کا ہاتھ تھامے اندر داخل ہوتے نظر آئے۔ وارث صاحب نے دل فراغی سے استقبال کیا۔ پہلے شعیب صاحب اور پھر راعنہ کو گلے لگایا۔ سنبل بیگم بھی اسی انداز میں ملیں۔ جبکہ نوریز بے تاثر رہا۔
بابا کچھ دیر وہی بیٹھے رہیں اور پھر رخصت لیتے چلیں گئے۔ ننھی ایلزینا آنکھیں مسلتی کمرے سے باہر آئی تو اپنی مما کو دیکھ کر خوشی سے چہک اٹھی۔ وہ اسے لیئے کمرے میں آگئی تو نوریز ان کے پیچھے آیا۔
“میں صرف اپنی بیٹی کے لیے واپس آئی ہوں۔۔۔۔ یہ مت سمجھنا کہ آپ کو معاف کر دیا۔۔۔۔” سپاٹ انداز میں کہتے اس نے کٹیلی نظروں سے نوریز کو دیکھا تھا۔
نوریز اس کی بات خاطر میں نا لاتے ہوئے مغرور انداز میں گردن اکڑا کر ڈریسنگ مرر میں اپنی شرٹ کی شکن درست کر کے واپس نکل گیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
کچھ دنوں سے صدیقی ہاوس میں خاموشی تھی۔ سب اپنے حصے کا کام کر کے کمروں میں بند ہوجاتے۔ راعنہ اور نوریز کے مابین دوریاں برقرار تھیں۔
کچھ یہی صورتحال صدیف اور آیت میں بھی پائی جاتی۔ بظاہر وہ خاموش تھے لیکن اندر ہی اندر دونوں کئی سارے شکوے گلے سے گھیرے ہوئے تھے۔
چند ہی دونوں میں اس خاموشی نے بہت بڑے طوفان کا روپ لے لیا جب شاپنگ مال میں راعنہ اور امتثال کا آمنا سامنا ہوا۔
“بہت پیاری ہے تمہاری بیٹی۔۔۔۔” امتثال نے ابتدائی حال احوال دریافت کر کے ایلزینا کے گال پر پیار کرتے ہوئے کہا۔
راعنہ خوش مزاجی سے اس کی مصروفیات پوچھنے لگی۔ اتفاقا کسی کام سے نوریز بھی اسی شاپنگ مال میں موجود تھا اور راعنہ کو یوں خوشی سے امتثال کے ساتھ بات کرتے دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ نفرت اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے ان دونوں کو دیکھ کر وہ لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے چلا گیا۔
“تم بتاو۔۔۔۔ لائف کیسے چل رہی ہے پروفیسر نوریز کے ساتھ۔۔۔” امتثال نے تنگ کرنے کے انداز میں پوچھا پر راعنہ کے چہرے پر مایوسی کے سایے لہرائے تھے۔
وہ کوئی جواب دیتی اس سے پہلے پانچ سال کا چھوٹا بچہ بھاگتے ہوئے آیا اور پاپا پکارتے امتثال سے لپٹ گیا۔ امتثال نے جھک کر بیٹھے کو گود میں اٹھا لیا اور راعنہ سے متعارف کروانے لگا۔
“مجھے شاپ میں اکیلے چھوڑ کر یہاں کھڑے ہو۔۔۔۔” ایک پیاری نسوانی آواز گلہ کرتے قریب آئی۔
“سوری جان۔۔۔۔ پرانی کلاس میٹ دکھ گئی تھی۔۔۔۔ میٹ راعنہ۔۔۔۔ ہم یونی میں کلاس میٹس تھے۔۔۔۔” امتثال نے پیار سے بیوی کے گرد بازو حمائل کر کے راعنہ کے جانب متوجہ کروایا۔
راعنہ حسرتی نگاہوں سے اس فیملی کو دیکھتے سوچ میں پڑ گئی۔ کیا یہ ہوتی ہے زندگی۔ شادی کے یہ معنی ہوتے ہیں۔ بیوی کو عزت دینا پیار دینا ہی تو پہلی شرط مانی جاتی ہے پر میرے حصے میں ایسا کیوں نہیں ہے۔
“اینڈ راعنہ۔۔۔۔ شی از مائی بیوٹی فل وائف مہک۔۔۔۔ ” امتثال نے اسے مخاطب کیا تو وہ اپنے سوچوں کو مہو کرتے اس کی بیوی سے ملنے لگی۔
“ٹیل می راعنہ۔۔۔۔ یہ یونی میں بھی اتنے رومانٹیک تھے۔۔۔۔” مہک نے امتثال کے حصار سے الگ ہوتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں۔۔۔۔ یونی میں یہ بہت decent تھے۔۔۔۔ ” راعنہ نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔
“دیکھا۔۔۔ یہی بات پچھلے پانچ سالوں سے سمجھا رہا ہوں۔۔۔۔ میری محبت میرا رومانس صرف میری فیملی کے لیے ہیں۔۔۔۔” امتثال اور مہک ایک دوسرے کی نظروں میں کھو گئے تھے۔ پانچ سال بعد بھی یوں لگا جیسے ان کی حال ہی میں شادی ہوئی ہو۔
“اوکے میں چلتی ہوں۔۔۔۔ بائے۔۔۔۔” راعنہ کو الجھن ہونے لگی۔ وہ نظریں چرا کر ایلزینا کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
شادی کے اصل روپ اور میاں بیوی کے اصل معنوں سے روشناس ہوتی وہ کھوئے انداز میں اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا نوریز ٹانگ پر ٹانگ رکھے صوفے پر بیٹھے اسی جانب دیکھ رہیں تھے۔
“آج آپ کالج سے جلدی آگئے۔۔۔۔” آنے والے طوفان سے بے خبر راعنہ نے خود کو کمپوز کرتے ہوئے پوچھا۔
“مل کر آگئی اپنے lover سے۔۔۔۔” نوریز کے اس سوال نے راعنہ کے چودا طبق روشن کر دیئے وہ بے یقینی سے پورا گھوم کر اسے دیکھنے لگی۔
“اب سمجھا۔۔۔۔ اسی لیے تم مجھ سے ڈائوورس لینا چاہتی ہو۔۔۔۔” نوریز اٹھ کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر غرایا۔
“ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔ آپ غلط سمجھ رہیں ہیں۔۔۔۔” راعنہ نے صفائی دینا چاہی پر نوریز غصے میں اس کی بات کاٹ گیا۔
“کب سے چل رہا ہے۔۔۔۔۔۔ کب سے ملتی جلتی ہو۔۔۔۔” پوچھتے پوچھتے نوریز کے ملے آبرو پھیل گئے۔ آنکھوں کی پتلیاں گھما کر اس نے بیڈ پر چڑھ کر بیٹھی چاکلیٹ کھاتے ایلزینا کو دیکھا تھا۔
“کہیں ایلزینا۔۔۔۔ ” اس کی ادھوری بات بھی راعنہ کے ہوش اڑا دینے کافی تھی۔
“بس مسٹر نوریز۔۔۔۔ اس کے آگے ایک لفظ مت کہنا۔۔۔۔ مجھ پر اور میری بیٹی کے کردار پر انگلی اٹھا کر تم نے سارے حدود پار کر دیئے ہیں۔۔۔۔ تم صرف بد مزاج ہی نہیں۔۔۔۔ بد کردار اور گھٹیا سوچ کے حامل ہو۔۔۔۔ کیسے اپنی ہی اولاد کے بارے میں ایسا سوچ سکتے ہو۔۔۔۔ تمہیں اس کے شکل میں اپنا عکس دیکھائی نہیں دیتا۔۔۔۔” راعنہ کی آواز بھیگ گئی۔ تکلیف کی وجہ سے آنسو جاری ہو گئے تھے۔
نوریز نے ایک مرتبہ پھر ایلزینا کے جانب دیکھا تھا جو ماں باپ کے جھگڑے میں چاکلیٹ کھانا بھول چکی تھی۔ یہ حقیقت تھی ایلزینا بالکل نوریز کی کاپی تھی۔ اس کے بھورے گھنے بال بڑی آنکھیں لمبی ناک چھوٹے ہونٹ بلا شبہ اس سرخ و سفید تین سال کی بچی کو خوبصورتی اپنے پاپا نوریز صدیقی سے وراثت میں ملی تھی۔
“ایک عورت شوہر کے سارے ظلم برداشت کر سکتی ہیں۔۔۔۔ پر اپنے کردار پر شک نہیں۔۔۔۔” راعنہ بہتے آنسوؤں سے پھر سے وضاحت دینے لگی۔
نوریز نے طیش میں آتے راعنہ کی تھیوڑی اوپر کو اٹھائی۔
“تو ملنے کیوں گئی تھی۔۔۔۔” اتنا کہتے نوریز سیدھا ہوا اور اپنی بیلٹ نکال کر راعنہ پر وار کرنے لگا۔
راعنہ چیختے چلاتے اسے روکنے لگی پر بج نہ سکی۔ بیلٹ کے کھردرے حصے سے اس کی گردن اور کندھے پر جراشے بن گئیں ھس سے خون رسنے لگا۔ یہ منظر ننھی ایلزینا کے لیے قیامت کے جیسا تھا۔ اس کے دل میں نوریز کسی خونخار درندے کی صفت اختیار کر گیا۔ وہ تیزی سے بیڈ سے اتری اور باہر کو بھاگی۔
وارث صاحب اور سنبل بیگم جو راعنہ کا رونا سن کر اس کے کمرے کے جانب آرہیں تھے ایلزینا کو بے دھڑک روتے ہوئے اپنے جانب آتے دیکھ کر حواس باختہ ہوگئے۔ ایلزینا دادا جان کے گود میں آتے ہی خوف سے بے ہوش ہوگئی۔ وارث صاحب نے اسے بازووں میں اٹھائے اپنی رفتار تیز کر دی۔
“نوریز پاگل ہوگئے ہو۔۔۔۔ چھوڑو اسے۔۔۔۔۔ ” سنبل بیگم نے کمرے میں داخل ہوتے ہی نوریز کے ہاتھوں سے بیلٹ چھین لیا۔
وارث صاحب نے آبدیدہ ہوتے زخمی حالت میں فرش پر پڑی راعنہ کو دیکھا پر بنا کچھ کہے ایلزینا کا گال تھپتھپاتے پورچ کے سمت بھاگے۔
“زینی۔۔۔۔ بیٹا آنکھیں کھولو۔۔۔۔ ہوش میں آو۔۔۔۔” کار میں بھی بار بار وارث صاحب اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرتے رہیں پر ننھی زینی بے حس و حرکت آنکھیں موندھے دادا کے گود میں پڑی رہی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“السلام علیکم پاپا۔۔۔۔” آیت نے کال اٹھاتے سلام کیا۔
“آیت۔۔۔۔ تم جلدی سے ہسپتال آو۔۔۔۔” وارث صاحب نے گھبرائے ہوئے کہا۔
“پاپا۔۔۔۔ سب خیریت ہے۔۔۔۔” آیت خوف و ہراس میں ٹھیک سے بول بھی نا سکی۔
اس کے تاثرات بدلتے دیکھ کر صدیف اس کے عقب میں آن کھڑا ہوا۔
“بیٹا۔۔۔۔ ایلزینا بے ہوش ہوگئی ہے۔۔۔۔ میں اسے ہسپتال لایا ہوں۔۔۔۔” پاپا نے ایمرجنسی روم میں جھانکتے ہوئے جواب دیا جہاں ڈاکٹر مسلسل ایلزینا کے سینے پر پریشر دے کر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کر رہیں تھے۔
“کیا ہوا اسے۔۔۔۔” آیت کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔
صدیف نے ہاتھ بڑھا کر موبائل فون جھپٹا اور خود کال سننے لگا۔ آیت اس حملے کے لیے تیار نا تھی صدیف کے موبائل جھپٹنے پر وہ پورا گھوم کر لڑکھڑا گئی۔
“بیٹا وہ۔۔۔۔ اس نے نوریز کو راعنہ پر ہاتھ اٹھاتے دیکھ لیا تھا۔۔۔۔ اور۔۔۔۔” وارث صاحب بے دھیانی میں سارا واقعہ بیان کرنے لگے۔
وہیں صدیف کے چہرے کے عضلات تن گئے۔ وہ موبائل فون بیڈ پر پٹختا باہر کے جانب بھاگا۔
لاؤنج میں بابا ممی اور بڑی پھوپھو گپ شپ کر رہیں تھے کہ صدیف کو یوں بھاگتے دیکھ کر گھبرا گئے۔
“یا اللہ خیر۔۔۔۔ صدیف۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔ ” بابا نے اسے پکارا۔
حمدان جو گیٹ سے اندر داخل ہورہا تھا صدیف کو بے ہنگم انداز میں اپنے جانب آتے دیکھ کر ہڑبڑا گیا اور تیزی سے ایک سائیڈ کو ہوگیا۔
“حمدان اس کے پیچھے جاو۔۔۔۔ دیکھو کیا مسئلہ ہوا ہے۔۔۔۔” بابا نے فورا سے پہلے ہدایت دی۔
حمدان سر کو خم دیتے صدیف کے پیچھے ہولیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
دونوں آگے پیچھے ہوتے صدیقی ہاوس پہنچے اور راعنہ کو پکارنے لگے۔ راستے میں صدیف سارا قصہ حمدان کے گوش گزار کر چکا تھا اس لیے صدیقی ہاوس پہنچنے تک وہ خاصا غصے میں تھا۔
ان کی پکار پر راعنہ کو سنبل بیگم سہارا دیتے کمرے سے باہر لے آئی۔ حمدان کا دل دہل گیا وہ بھاگ کر ان کے قریب گیا اور راعنہ آپی کا بازو اپنے کندھے پر ڈالے سہارا دینے لگا۔ اتنی دیر میں نوریز دوسرے کمرے سے برآمد ہورہا تھا۔ اسے آتے دیکھ کر حمدان اچھل کر اس کے سامنے آیا اور دونوں دست و گریباں ہوگئے۔ صدیف نے حمدان کے گرد بازو حمائل کر دیئے۔
“حمدان چھوڑو اسے۔۔۔۔” صدیف سپاٹ انداز میں گویا ہوا۔
“نہیں بھئیاں۔۔۔۔ یہ آپ کا سالا ہوگا۔۔۔۔ میرا کچھ نہیں لگتا۔۔۔۔ میں اسے جان سے مار دوں گا۔۔۔۔” حمدان آج سارے آداب و لحاظ بھول جانے کو تیار تھا۔
“حمدان اسے کورٹ میں دیکھ لیں گے۔۔۔ میں نے کہا چھوڑو۔۔۔۔” صدیف نے اپنی پوری طاقت لگا کر حمدان کے ہاتھوں نوریز کا گریبان چھڑایا۔
کورٹ کے نام پر حمدان کا غصہ کم ہونے لگا تو وہیں نوریز کا پرواز کر گیا۔ راعنہ خاموشی سے اپنے بھائیوں کو نوریز سے لڑتے دیکھ رہی تھی۔ اس کے سارے احساسات مر چکے تھے۔ وہ بس دم سادھے بیٹھی سامنے کا منظر دیکھتی رہی۔
“اتنا جھنجٹ میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔” نوریز استحزیہ کہتے ٹیبل کے آگے سے گھوم کر راعنہ کے عین سامنے آیا۔
“میں نوریز صدیقی۔۔۔۔ راعنہ کو طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔” نوریز نے ڈٹی آواز میں اعلانیہ صورت صدا بلند کی۔
راعنہ نے سانس روکے آنکھیں میچ لی۔
“نوریز۔۔۔۔” سنبل بیگم جگہ سے کھڑی ہوگئی۔
“میں راعنہ کو طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔” دوسری صدا پہلے سے بھی بے لچک تھی۔
صدیف کی دھڑکنیں تیز ہونے لگی۔ چاہے جتنا بھی غصہ تھا لیکن بہن کی شادی ٹوٹتے دیکھنا کسی قہر سے کم نا تھا۔
“میں راعنہ کو طلاق دیتا ہوں۔۔۔” تیسری مرتبہ یہ الفاظ راعنہ کے جسم پر بجلی کی طرح گرے تھے۔ وہ ایک پل کو کانپ گئی۔
سنبل بیگم سر پکڑ کر بیٹھتے چلی گئی۔ نوریز سرد مہری سے حمدان کے جانب مڑا۔
“لے جاو اپنی بہن کو۔۔۔۔ آزاد کر دیا میں نے اسے۔۔۔۔” پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے تندی سے کہتے وہ آگے بڑھ گیا۔
حمدان مایوسی سے راعنہ کے پاس آیا تو راعنہ خود بخود کھڑی ہوگئی اور بغیر کسی سہارے کے لڑکھڑاتے قدموں سے قدم قدم چلنے لگی۔ صدیف کے سائیڈ سے گزرتے ہوئے وہ ایک لمحے کے لیے رکی پر اس کے زبان پر جیسے تالا لگ گیا ہو اس لیے خاموشی سے سر جھکا گیا۔ راعنہ بے تاثر انداز میں پھر سے چل پڑی۔
“چلو بھئیاں۔۔۔۔” حمدان نے مدھم آواز میں ہنھکارا بھرتے صدیف کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور راعنہ کے ساتھ چلنے لگا۔
صدیف لمبا سانس خارج کر کے سر جھکائے ان کے پیچھے آگیا۔ وہ تینوں گیٹ تک پہنچے تو سامنے سے وارث صاحب ایلزینا کو گود میں اٹھائے اندر داخل ہورہے تھے۔ اپنی مما کو دیکھ کر ایلزینا فورا راعنہ کے گود میں آگئی۔
“صدیف۔۔۔۔” وارث صاحب نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
“آپ کے بیٹے نے ہماری بہن کو طلاق دے دی۔۔۔۔ ہم انہیں لے کر جا رہیں ہیں۔۔۔۔” حمدان نے جتاتے ہوئے جواب دیا اور راعنہ کے کندھے کے گرد بازو حمائل کر کے آگے چلنے کا کہا۔
راعنہ، وارث صاحب کو نظر انداز کر کے ایلزینا کو مضبوطی سے اپنے حصار میں تھامے گیٹ عبور کر گئی۔ ان کے جاتے وارث صاحب نے سر اٹھا کر لاونج کے سرے پر کھڑی سنبل بیگم کو دیکھا تو انہوں نے سر کو خم دے کر نوریز کے لفظوں کی تصدیق دی۔ وارث صاحب اپنا سر پکڑے پورچ کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے تھے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ کے طلاق کا سن کر بٹ ہاوس میں قہرام مچ چکا تھا۔ ممی اور بڑی پھوپھو آنسو بہائے جا رہیں تھیں۔ بابا کا سر ایک جانب کو ڈھلکا ہوا تھا اور چہرا پژمردہ سا لگ رہا تھا۔ آیت لب بھینجے اپنے آنسو ضبط کرتے ایک کونے میں کھڑی تھی۔
شعیب صاحب وہ بے بس باپ تھے جن کی بیٹی طلاق کا داغ اپنے دامن پر لیئے میکے کی دہلیز پر لوٹ آئی تھی۔ عاطرہ بیگم کاٹو تو لہو نہ ہو کے مصداق گنگ بیٹھی تھی۔ حمدان کے کندھے جھکے ہوئے تھے تو صدیف کا سر شرم سے جھکا ہوا تھا۔
“ابھی کہ ابھی طلاق دو اسے۔۔۔۔” یہ وہ الفاظ تھے جس نے آیت کی رگوں میں لہو خشک کر دیا تھا۔
بڑی پھوپھو کا آیت کو دیکھ دیکھ کر کلیجہ کٹ رہا تھا۔
“کیا حالت کر دی ہے اس ظالم نے ہماری بچی کی۔۔۔۔۔” انہوں نے راعنہ کے پاس بیٹھ کر اسے خود سے لگا لیا۔
راعنہ کا ٹوٹتا وجود ان کے کمزور بازووں میں بکھر سا گیا۔وہ بےحس صوفے پر بیٹھی اپنے گود میں سوئی معصوم بچی کو دیکھ رہی تھی۔
“کس قدر بے حس لوگ تھے۔۔۔۔۔ ارے ہمارے بچے نے ان کی بیٹی کو پلکوں پر بٹھا کر رکھا ہے۔۔۔۔۔ اور اس کمینے نے ہماری بچی پر کتنا تشدد کیا ہے۔۔۔۔۔” بڑی پھوپھو کی سینہ کوبی شروع ہوگئی تو عاطرہ بیگم کے آنسو پھر سے جاری ہو گئے۔
حمدان مضطرب سا کھڑا بہن کا گھر اجڑنے پر لب کاٹ رہا تھا۔ وہیں صدیف کا شرم سے سر جھکا ہوا تھا۔ اس کی ہی محبت دلانے کے لیے راعنہ نے اپنی قربانی دی تھی اور خود کو وٹہ سٹہ کے اس بھٹی میں جھونک دیا تھا۔
“بھائی صاحب آپ کیوں خاموش ہیں۔۔۔۔۔۔ ان کی بیٹی کے ساتھ ایسا ہوگا تبھی انہیں ہمارے تکلیف کا احساس ہوگا۔۔۔۔”پھوپھو نے شکایتی نظروں سے شعیب صاحب کو دیکھا۔
“صدیف ابھی کہ ابھی طلاق دو اسے۔۔۔۔ جب خود کی بیٹی کا گھر اجڑے گا۔۔۔۔ تب ان لوگوں کو پتا لگے گا۔۔۔۔” پھوپھو نے دانت پیستے ہوئے نفرت بھری نگاہوں سے آیت کو دیکھا۔
ان کی بات پر صدیف نے بے دم سا سر اٹھا کر کچھ فاصلے پر کھڑی آیت کو دیکھا تھا۔
صدیف کی نظروں سے آیت کانپ اٹھی اس نے منت کرتے سر نفی میں ہلایا۔ اس کا دل خوف سے لرز رہا تھا کہ کہی بہن کی بکھری حالت دیکھ کر صدیف سچ میں اسے طلاق کے تین بول نہ بول دیں۔
“پھوپھو میری کیا غلطی ہے۔۔۔۔ میرا کیا قصور ہے۔۔۔۔ مجھے کس بات کی سزا دے رہی ہیں آپ۔۔۔۔” آیت پھوپھو کے آگے دو زانو ہو کر رونے لگی۔
“چپ منحوس۔۔۔۔ ہماری بچی کی زندگی میں کالا سایہ بن کر چھائی ہو تم۔۔۔۔ آستین کے سانپ کا کردار نبھایا ہے تم نے۔۔۔۔۔ جب تمہیں اپنے بھائی کے حرکات پتا تھے پھر کیوں اپنی بیسٹ فرینڈ کو اس جہنم میں ڈالا۔۔۔۔۔ یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔” پھوپھو کی تیز آواز پورے گھر میں گونجی تھی۔
ان کی باتیں آیت پر کوڑوں کے مانند لگ رہی تھیں۔ وہ ان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھے نفی میں سر ہلانے لگی۔ جب بڑی پھوپھو پر کوئی اثر نا ہوا تو آیت نے ان کے پہلو میں بیٹھی راعنہ کے ہاتھ تھام لیئے۔
“راعنہ پلیزز۔۔۔ آئی ایم سوری۔۔۔۔ پر اتنی بڑی سزا مت دو۔۔۔” آیت ہاتھ چھوڑے راعنہ کے پیروں میں بیٹھی گرگرانے لگی۔
صدیف خود کو بےبسی کے انتہا پر محسوس کر رہا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا بہن کا ساتھ دے یا بیوی کا۔ راعنہ نے تھکے ہوئے پژمردہ چہرا اٹھا کر آیت کو دیکھا۔
“تمہیں کس چیز کی معافی چاہیئے۔۔۔۔ میرا دل خالی کرنے پر معافی چاہیئے۔۔۔۔ یا مجھے زندہ درگور کرنے کی معافی۔۔۔۔ میں کیا کیا معاف کروں آیت۔۔۔۔ میں نے تمہیں دل کے سب سے اونچے مقام پر رکھا تھا۔۔۔۔ پر تم نے مجھے پیروں کی خاک بھی نہیں سمجھا۔۔۔۔ بھری دنیا میں تماشا بن گئی ہوں میں۔۔۔۔” راعنہ نے روتے روتے اپنے ہاتھ پیچھے کھینچ لیئے۔
آیت بھیگی آنکھوں سے اپنے خالی ہاتھ دیکھنے لگی۔ اب کی بار اس کا رخ ممی کے سمت تھا۔ وہ خالی ہاتھ پھیلائے اپنی شادی بچانے کی بھیگ مانگ رہی تھی پر کسی طرف سے اسے دتکار دیا جاتا۔ آخر میں وہ موہوم سی امید کے ساتھ اٹھ کر صدیف کے پاس آئی۔
صدیف نے لمبی سانس لیتے اسے دیکھا اور بولنے لب کھولیں۔ آیت کو اپنا سر چکراتا محسوس ہوا اسے لگا وہ ابھی گر جائے گی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔۔
