Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Nadamat) Episode 6

راعنہ کے سماعتوں میں اپنی چیخیں اور رونے کی آوازیں گونجنے لگی۔
“نوریز پلیزز مت ماریں۔۔۔۔ رک جائے۔۔۔۔ آہ۔ہ۔ہ۔۔۔ نہیں رک جائے۔۔۔۔۔ آہہہہہہ۔۔۔۔ نوریز نہیں۔۔۔۔ مت ماریں۔۔۔۔ پلیزز۔۔۔ ” اپنی دہائیاں، وہ منت سماجت کرنا، رونا چیخنا، اور ساتھ ساتھ بیلٹ کی چٹاخ چٹاخ کر کے فضا میں محلول ہوتی گونج۔ راعنہ بری طرح کانپ اٹھی تھی۔
اس کے قدم لڑکھڑا گئے تو اس سے بھاگا بھی نہیں گیا اور وہ انٹرینس سے باہر آکر سڑک کنارے درخت کا سہارا لیئے کھڑی ہوگئی۔ اسلام آباد کے ٹھنڈے موسم میں وہ خوف کے مارے پسینے سے شرابور مسلسل لرز رہی تھی۔ اپنا ماضی ایک فلم کی طرح اس کے ذہن میں گھومنے لگا۔ وہ ڈری سہمی درخت سے لگے کپکپا رہی تھی کہ اپنے کندھے پر ایک مضبوط لمس محسوس کرتے وہ اچھل پڑی۔
“نہیں پلیزز نہیں۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ مت مارو۔۔۔۔ پلیززز نہیں۔۔۔۔” وہ بد حواس ہو کر آنکھیں بند کر کے چلانے لگی۔
“راعنہ۔۔۔۔ راعنہ۔۔۔ اٹس می یاشم۔۔۔۔ کیا ہوگیا آپ کو۔۔۔۔” یاشم نے راعنہ کو کندھوں سے تھامے جھنجوڑ کر اپنے جانب متوجہ کیا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر وہ بری طرح شاک ہوگیا تھا۔
راعنہ اتنا ڈری ہوئی تھی مانو س نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔ اس کا دل برق رفتاری سے بھی تیز دھڑک رہا تھا۔ وہ پھٹی نظروں سے اسٹریٹ لائٹ کی زرد روشنی میں سامنے کھڑے سراپے کو دیکھنے لگی۔ حواس بحال ہونے لگے تو راعنہ نے کندھے جھٹک کر یاشم کے ہاتھ ہٹائے اور قدم قدم پیچھے ہوتی گئی۔
“ممم میں۔۔۔۔ وووو وہ۔۔۔ اااہ۔۔۔۔ مم میں یہاں نہیں رہ سکتی۔۔۔ ممم۔۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔۔ مممم مجھے جانا ہوگا۔۔۔۔ سسس سوری۔۔۔۔ ” وہ کپکپاتے ہوئے گویا ہوئی اور ایڑیوں کے بل پلٹ کر پی سی ہوٹل کے اندرونی سمت بھاگی۔
یاشم شاکی انداز میں وہی کھڑے اسے پکارتا رہا۔ اس نے راعنہ کے پیچھے جانا چاہا پر آفان صاحب کی سیکریٹری یاشم کو ڈھونڈنے باہر نکل آئی تھی۔
“سر لانچ کا وقت ہوگیا ہے باس آپ کو بلا رہے ہیں۔۔۔۔” سیکریٹری کی پھولی سانس بتا رہی تھی کہ وہ کافی دیر سے یاشم کو ڈھونڈتی رہی ہے اور اب اسے ساتھ لیئے ہی ایوینٹ میں جائے گی۔
چار و ناچار یاشم دل پر پتھر رکھ کر تقریب میں چلا گیا۔ مسکراتا بزنس فیس بنا کر وہ اسٹیج پر آیا تو فضا میں تالیاں گونج اٹھی۔ ارم شیخ کیمرے کے آگے ہنستا چہرا بنائے نوریز کے بازو میں ہاتھ ڈالے کھڑی اداکاری کے جوہر دکھا رہی تھی۔ یاشم کو اسٹیج پر آتے دیکھ کر نوریز کو وہ کچھ کچھ دیکھا ہوا لگا تھا لیکن یہ یاد نہیں آیا کہ اس نے یاشم کو کب اور کہاں دیکھا تھا۔
یاشم نے ملٹی پلیکس اسکرین سے پردہ اٹھایا تو تالیوں کا شور مزید بلند ہوا۔ آفان صاحب نے فخر سے یاشم کو سینے سے لگا لیا تھا۔ یاشم ان سے مبارکباد وصول کرتے ہوئے مائک لے کر اپنے بنائے ڈیزائن کی خصوصیات بیان کرنے لگا۔ سب مہمان گرامی اپنی نشت پر تشریف فرما ہو کر اسے سننے لگے۔ بات کرتے کرتے بھی بار بار یاشم کا دھیان راعنہ کے جانب بھٹک جاتا۔ اسے راعنہ کی بے حد فکر ہورہی تھی۔ وہ تیز تیز ساری تفصیلات بتا کر جلد از جلد تقریب ختم کرنا چاہتا تھا لیکن آج قسمت اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔
دوسری جانب راعنہ اپنے روم میں در آتے ہی بے دم ہوتی گئی۔ اس کے ہاتھ پیر ڈھیلے پڑ گئے۔ ڈوپٹہ سر سے سرک کر اس کے پیروں میں گر پڑا پر اسے کسی چیز کا ہوش نہیں تھا۔ وہ پاوں گھسیٹ کر چلتی بیڈ کے پائنتی کے پاس سمٹ کر بیٹھ گئی۔ اس کے اندر کا خوف ایک مرتبہ پھر اس پر غلبہ حاصل کر چکا تھا۔ وہ یوں کانپ رہی تھی جیسے ابھی نوریز وہاں آجائے گا اور اسے مارنے لگ جائے گا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“سر۔۔۔۔ یہ مسٹر نوریز صدیقی ہیں۔۔۔۔ انہیں ہمارے نئے ڈیزائنز میں سے کار خریدنی ہے۔۔۔۔” آفان صاحب کی سیکریٹری نے نوریز کا تعارف کروایا۔
یاشم نے ایک نظر نوریز کو دیکھا اور حیران رہ گیا۔
“اوو۔۔۔ آپ۔۔۔۔ میں آپ سے پہلے مل چکا ہوں۔۔۔ کیسے ہیں آپ۔۔۔۔” یاشم خوش اخلاقی سے نوریز سے ملا۔ جبکہ نوریز اسے اجنبیت سے دیکھ رہا تھا۔
“مجھے بھی آپ کہی دیکھے ہوئے لگے۔۔۔ پر یاد نہیں آرہا کہ کہاں دیکھا ہے۔۔۔۔۔” نوریز نے مصاحفہ کرتے ہوئے بغور یاشم کو دیکھا تھا۔
“یاد کیسے ہوگا۔۔۔۔ اس دن آپ کی طبیعت جو خراب تھی۔۔۔۔ میں نے آپ کو ہاسپٹل لے جانے کے لیے اتنا کہا پر آپ مانے ہی نہیں۔۔۔۔” یاشم نے منہ بنائے سر جھٹکا۔
“اوو یس۔۔۔۔ اب یاد آیا۔۔۔۔ ویسے اس دن کے لیے تھینکس۔۔۔” نوریز نے یاشم کی شناخت کی تو سر کو خم دیتے اس کا شکریہ ادا کیا۔
“یہ تو میرا فرض تھا۔۔۔۔۔ اب کیسی طبیعت ہے۔۔۔۔” یاشم نے عیادت کے لئے پوچھا۔
“بالکل ٹھیک۔۔۔” نوریز نے ہاتھ ہوا میں اٹھا کر اپنی صحتیابی کی تصدیق کرائی۔ یاشم مطمئن ہوا اور اپنے ایمپلائی کو آواز دی۔
“عدنان۔۔۔ تم انہیں ہمارے سارے لیٹیسٹ (جدید) ماڈل گاڑیوں کا البم دکھاو۔۔۔۔ پھر جو انہیں پسند آئے مجھے بتا دینا۔۔۔۔ سوری مسٹر نوریز پر مجھے ایک بہت امپورٹینٹ کام سے جانا ہے۔۔۔۔ عدنان آپ کو سارے ماڈلز دکھا دے گا۔۔۔۔۔” عدنان کو ہدایت دے کر وہ التجائی انداز میں معذرت خواہ ہوا۔
در اصل یاشم کو جلد از جلد ہوٹل جا کر راعنہ سے ملنا تھا اس لیے وہ مزید وقت ضائع کئے بغیر باہر کے جانب بڑھ گیا۔
نوریز اس کی معذرت قبول کر کے عدنان کے پیچھے ہولیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ بیڈ کے پائنتی سے لگ کر بیٹھی بے آواز انسو بہاتی اپنے ماضی کو یاد کرنے لگی۔ عمر کے وہ لمحات جس نے اس کی زندگی میں ایک حسین اضافہ کیا تھا۔۔۔
ماضی
اسکول بریک کے دوران سب بچے کھیل کود میں لگیں تھے۔ دس سالہ کلاس اے کی راعنہ اپنی سہیلیوں کے جھمکٹے میں بیٹھی شغل میں مصروف تھی۔ وہیں دوسری طرف اسی کی ہم عمر کلاس بی کی آیت بھاگتے بھاگتے گر پڑی۔
اس کے ساتھی اٹھانے کے بجائے آیت پر ہنسنے لگے۔
راعنہ کے اعصاب تن گئے اس نے دوسرے بچوں کو دھکم پیل کر کے ہٹایا اور اپنا ہاتھ بڑھا کر آیت کو کھڑا کیا پھر اس کے کپڑے جھاڑ کر اپنے ساتھ لے آئی۔ یہی سے ان دونوں کی دوستی کی شروعات ہوئی۔
“ہائے میں راعنہ ہوں۔۔۔۔۔” راعنہ نے اپنا ہاتھ بڑھا کر خوش اسلوبی سے کہا۔
آیت نے بھیگی پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر پھیکا مسکرا کر اپنا تعارف بتایا۔
“گرنے پر رو کیوں رہی ہو۔۔۔۔ ” راعنہ نے معصومیت سے پوچھا۔
“تو گرنے پر چوٹ لگتی ہے۔۔۔۔ پھر درد ہوتا ہے تو رونا آتا ہے۔۔۔۔” آیت نے اپنا نظریہ بتایا۔
“نہیں بھدو۔۔۔۔ گرنے سے مضبوط بنتے ہیں۔۔۔۔۔ چوٹ لگتی ہے تو ڈر کم ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اس لیے رونا نہیں چاہیئے۔۔۔۔ پھر سے کھڑے ہو کر مضبوطی سے زندگی کا مقابلہ کرنا چاہیئے۔۔۔۔” راعنہ کے جذبے سے آیت میں نیا جوش بھر گیا وہ تیزی سے سیدھی کھڑی ہوگئی۔
کھڑے ہوتے ہوئے گھنٹے میں اٹھتی درد کی لہر کے باعث وہ اسسس کرنے لگی پر راعنہ نے اس کا ہاتھ تھامے پوری حوصلہ افزائی کی تھی۔
اس وقت راعنہ کو کیا پتا تھا کہ زندگی اسے اس قدر گرائے گی کہ کھڑے ہونے سے پہلے بھی سوچنا پڑے گا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
یاشم بھاگتا ہوا ہوٹل کی لابی سے گزر کر لفٹ میں در آیا اور مطلوبہ منزل کا بٹن دبا کر لب کاٹنے لگا۔
“یا اللہ راعنہ خیریت سے ہو۔۔۔۔ اچانک کیا ہوگیا آپ کو راعنہ۔۔۔۔ ” دل ہی دل راعنہ کی خیریت کی دعا کر کے وہ خیالی طور پر اس سے مخاطب ہوا تھا۔
لفٹ کے رکتے ہی وہ تیزی سے لمبے کوریڈور کے آخری کمرے کے سامنے رکا اور دھڑا دھڑ دروازہ بجانے لگا۔
“راعنہ۔۔۔۔ دروازہ کھولیں۔۔۔ راعنہ اٹس می یاشم۔۔۔۔ راعنہ اوپن دی ڈور۔۔۔۔” دروازہ زور سے بجا کر بھی جب اندر مکمل خاموشی رہی تو یاشم کا دل دہل گیا۔
وہ الٹے قدم لفٹ کو لپکا۔ نیچھے آکر اس نے ریسپشن پر موجود مینیجر سے راعنہ کے متعلق دریافت کیا۔
“جی وہ دو گھنٹے پہلے اندر داخل ہوئی ہیں اور لفٹ نمبر چار سے اوپر گئی ہیں۔۔۔۔۔ اور پھر دوبارہ باہر نہیں آئی۔۔۔۔” کاونٹر پر کھڑے مینیجر نے کمپیوٹر میں سے سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کر کے معلومات فراہم کی۔
“اندر ہے تو پھر دروازہ کیوں نہیں کھول رہی۔۔۔۔ کہی کچھ۔۔۔۔” اس کے آگے یاشم سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ اس نے مینیجر سے کمرے کی اضافی چابی طلب کی اور پھر سے لفٹ کا رخ کیا۔
یاشم کو پریشان حال بھاگتے دیکھ کر ہوٹل مینیجر اور اسٹاف بھی اس کے پیچھے ہو لیے۔
کمرے کے دروازے تک آکر یاشم کے کارڈ نما چابی پکڑے ہاتھ میں لرزش طاری ہوگئی۔ اس کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی تھی۔ آنکھیں سختی سے مینچھے اس نے کارڈ درز کے اندر ڈالا تو ایک کلک کی آواز سے دروازہ کھل گیا۔ کمرا پورا تاریک تھا اور راعنہ بیڈ کی پائنتی سے سمٹ کر بیٹھی تھی اور اس کا ڈوپٹہ کمرے کے بیچو بیچ گرا پڑا تھا۔ یاشم نے راعنہ کو خیریت سے دیکھ کر سکون کا سانس لیا اور کارڈ مینیجر کو واپس تھما کر اسے جانے کا اشارہ کیا۔
مینیجر اپنے اسٹاف سمیت نظریں نیچی رکھیں واپس مڑ گیا۔ یاشم آہستہ آہستہ اندر آیا۔ اول تو جھک کر اس نے راعنہ کا ڈوپٹہ اٹھایا پھر اس کے ساتھ بیڈ کی پائنتی سے ٹیک لگائے فرش پر بیٹھ گیا اور ڈوپٹہ راعنہ کے آگے پھیلا کر اس کے کندھوں پر ڈال دیا۔
“کتنا ڈرا دیا تھا آپ نے۔۔۔۔ ایونیٹ سے بھی اچانک آگئی تھی اور اب دروازہ بند کر کے بیٹھی تھی۔۔۔۔ ایسا بھی کوئی کرتا ہے۔۔۔۔ کتنی دیر سے کھٹکٹا رہا تھا دروازہ کیوں نہیں کھولا۔۔۔۔ مجھے لگا آپ کو کچھ ہوگیا ہے۔۔۔ اس لیے ایکسٹا چابی سے دروازہ کھولنا پڑا۔۔۔۔”یاشم ہلکی آواز میں شکایت کرنے لگا۔
راعنہ نے سر اٹھا کر یاشم کے جانب دیکھا تھا۔ اس کی متروم آنکھیں اور سرخ ناک دیکھ کر یاشم کو دھچکا لگا۔
“کیا ہوا آپ رو کیوں رہی ہو۔۔۔۔ کسی نے کچھ کہا ہے۔۔۔۔ بات کیا ہے راعنہ مجھے اب واقعی بہت گھبراہٹ ہورہی ہے۔۔۔۔ پلیز بتاو۔۔۔۔ کیا ہوا ہے۔۔۔۔” یاشم حواس باختہ ہو کر منت کرنے لگا۔
“زندگی بہت ظالم ہے یاشم۔۔۔۔ یہ کبھی چین سے رہنے نہیں دیتی۔۔۔۔ جب کبھی لگتا ہے اب سب ٹھیک ہوگیا ہے۔۔۔۔ اگلے ہی پل انسان پھر سے اسی چوراہے پر آجاتا ہے۔۔۔۔ ” راعنہ نے رندھی ہوئی آواز میں جواب دیا۔
یاشم کا کلیجہ باہر آنے کو تھا پر وہ سمجھ گیا تھا کہ راعنہ اس وقت اپنے حواسوں میں نہیں ہے۔ وہ کسی گہرے دکھ میں ایسا بول رہی ہے اس لیے یاشم نے دوبارہ اس سے وجہ جاننے کی کوشش نہیں کی۔
“مت روو راعنہ۔۔۔ آپ روتی اچھی نہیں لگتی۔۔۔۔ آپ ہنستی مسکراتی بہت اچھی لگتی ہو۔۔۔۔” یاشم نے لمبا سانس لیں کر خود کو کمپوز کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت اسے راعنہ کو سنبھالنا تھا خود کمزور نہیں پڑنا تھا۔
“یہ آنسو تو اب میرا مقدر بن گئے ہیں۔۔۔۔ کوشش بہت کرتی ہوں پر۔۔۔۔ روک نہیں پاتی۔۔۔۔ ان پر میرا اختیار نہیں ہے۔۔۔۔” راعنہ پھر سے زار و قطار رونے لگی۔
روتے ہوئے لاشعوری طور پر اس نے یاشم کے کندھے پر سر رکھ دیا تھا۔ سر ایک جانب کر لینے سے اس کے لمبے بال اسی سمت ڈھلک گئے اور ڈوپٹہ سرک کر بازو پر گر پڑا جس کی وجہ سے بلیک قمیض میں سے جھلکتی راعنہ کی سفید گردن واضح ہوگئی۔ یاشم نے افسردگی سے راعنہ کے روتے چہرے کو دیکھا تھا اور چہرے پر سے اس کی نظریں راعنہ کی گردن پر رک گئی تو اس کے آبرو پھیل گئے۔ راعنہ کی گردن پر اور گردن کے پیچھے کندھے کے پاس کئی سارے زخموں کے نشانات تھے۔ یاشم بنا پلک جھپکائے ان زخموں کو دیکھتا رہا۔ نا جانے کب اور کسے اتنے زخم لگے ہونگے اور اس دوران راعنہ کو کتنا درد ہوا ہوگا؛ یہ سوچتے ہی یاشم نے نظریں پھیر لی۔ راعنہ کی تکلیف کا سوچ کر بھی اس کے دل میں ٹیس سی اٹھی تھی۔
“راعنہ کیا ہوا ہے آپ کے ساتھ۔۔۔ مجھے بتاو۔۔۔ شاید میں کچھ مدد کر سکوں۔۔۔۔۔” یاشم نے موہوم سی امید کے ساتھ پھر پوچھا تھا۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھا کر راعنہ کے بھیگے رخسار پر رکھا۔ اس کے آنسو یاشم کی ہتھیلی میں جذب ہونے لگے۔
راعنہ نے اس کا لمس محسوس کیا تو ایک جھٹکے سے سیدھی ہوگئی۔ اپنا ڈوپٹہ درست کرتے وہ تیز تیز آنسو صاف کرتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔ رو رو نڈھال پڑتے اس کے پیروں میں اتنی طاقت نہیں رہی تھی۔ خود کو گرنے سے بچانے وہ بیڈ پر بیٹھ گئی۔
“کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔ آپ جاو یہاں سے۔۔۔۔ “اس نے سفاکی سے جواب دیا تھا۔
یاشم نے کچھ کہنا چاہا پر راعنہ نے ٹوک دیا۔
“پلیز یاشم اس وقت مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔۔۔۔ جائے آپ۔۔۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔” راعنہ نے سرخ آنکھوں سے یاشم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے التجا کی تھی۔
یاشم نے نظریں چرا لی کیونکہ وہ جانتا تھا اگر وہ زیادہ دیر راعنہ کی آنکھوں میں دیکھتا رہا تو اس کے لیے وہاں سے جانا مشکل ہوجائے گا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔ میں جا رہا ہوں۔۔۔۔ پر آپ اپنا خیال رکھنا پلیزز۔۔۔۔ ” یاشم معصوم تاثرات بنائے پلٹ کر جانے لگا۔
راعنہ نے اس کی پشت کو دیکھا اور پھر رخ پھیر کر اپنے آنسو ضبط کرنے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
یاشم اپنے کمرے میں تو آگیا تھا لیکن رات بھر وہ راعنہ کے زخموں کا سوچ سوچ کر مضطرب رہا اس لیے صبح دیر سے اٹھا تھا۔ جبکہ راعنہ سنبھل چکی تھی۔ صبح جلدی اٹھ کر اس نے عاصمہ کے زبانی بتائے گئے پورے ایونٹ کی جھلکیاں اور اہم نقاط کو قلمی جامع پہنا کر رپورٹ تیار کی۔
ناشتے کے ٹیبل پر وہ پوری ٹیم ایک ساتھ موجود تھیں۔ راعنہ نے سب سے پہلے اپنی لکھی تفصیلات یاشم کے آگے رکھی۔
“کل کچھ وجوہات کی بنا پر مجھ سے ایوینٹ مس ہوگیا۔۔۔۔ پر میں نے ساری رپورٹ بنا لی ہے۔۔۔۔” اس نے متبسم ہو کر فائل ٹیبل پر رکھی۔
یاشم اس کا یہ پرانا روپ دیکھ بہت خوش ہوا تھا۔ اس نے رپورٹ کا سرسری جائزہ لیا اور راعنہ کے کام سے مطمئن ہوکر مشکور ہوا۔ ایک بجے یاشم کی وزرات پیٹرولیم کے ساتھ میٹنگ تھی جس میں راعنہ بھی شامل ہوئی۔ وزیر صاحب کو یاشم کا ڈیزائن بہت پسند آیا اور انہوں اسے وہ کار مارکیٹ میں متعارف کروانے کے لیے رضامندی سنائی۔
ان سے میٹنگ ختم کر کے یاشم اور راعنہ اسلام آباد کی سیر کو نکل گئے۔
اسلام آباد کی وسیع سڑکوں پر ڈرائیو کرتے ہوئے یاشم اپنے کالج لائف اور یونیورسٹی لائف کے متعلق بتاتا رہا اور راعنہ محظوظ ہوتی رہی۔ تقریباً عصر کے وقت یاشم اور راعنہ فیصل مسجد میں داخل ہوئے۔
نیلے آسمان پر چھائے ہلکے سفید بادل، میٹھی سی دھوپ کی ہلکی گرمائش اور ایک جھونکے سے چلتی ٹھنڈی ہوا فضا میں خوشگوار ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔ ننگے پیر فیصل مسجد میں چلتے راعنہ کے جسم میں سردی کی لہر دوڑ گئی۔ اس نے موقع کی مناسبت سے گرم سوٹ اور اونی سویٹر کے ساتھ پشمینہ شال سر پر اوڑھ رکھا تھا۔ جبکہ یاشم بلیک پینٹ اور کافی کی طرح براون ہائی نیک پہنے اور کندھوں پر لیدر کی جیکٹ ڈالے ہوئے تھا۔
سر سبز و شاداب وادی کے بیج بنے سنگ مر مر کے اس شہکار کو دیکھ کر راعنہ بہت اچھا محسوس کر رہی تھی۔ اس نے فیصل مسجد کے ہر ایک ستون ہر ایک دیوار کا اچھے سے جائزہ لیا اور پھر آگے کا سفر شروع کیا۔ ان کی اگلی منزل اسلام آباد کے شہر سے کچھ مسافت کی دوری پر واقع مونال تھی۔
اونچی نیچی ڈھلان پر سفر کرتے جب وہ مونال کی اونچائی پر پہنچے تو مغرب کا وقت ہوچکا تھا آسمان میں ہلکی ہلکی نیلاہٹ بڑھنے لگی تھی۔ تاریکی کا آغاز ہوتے ہی ہوٹل کے سارے لائٹس روشن کر دیئے گئے پر راعنہ ان سب سے الگ ہوٹل کے وسطی حصے میں کھڑی شام کے سحر انگیز نظارے سے محظوظ ہونے لگی۔ حالانکہ آفتاب غروب ہونے کے بعد اتنی اونچائی پر ہوا کی گردش تیز ہوگئی تھی مگر راعنہ ٹھنڈ کو خاطر میں نا لاتے ہوئے نظر کی حد تک پھیلے سر سبز و شاداب شہر کو دیکھتے ہوئے بہت محظوظ ہوئی۔
یاشم کو اسلام آباد کے نظاروں سے کوئی غرض نہیں تھا اسے تو بس راعنہ کو خوش دیکھ کر ہی بہت اچھا لگ رہا تھا۔ ایک ٹیبل سے ٹک کر ہاتھ سینے پر باندھے یاشم ماحول سے یکسر جدا کھڑی راعنہ کو دیکھ رہا تھا۔
راعنہ نے آنکھیں بند کر کے ٹھنڈی ہوا میں گہرا سانس لیا اور جب واپس خارج کیا تو اسے اپنا آپ بہت ہلکا محسوس ہورہا تھا۔ اس جگہ کے قدرتی نظارے راعنہ میں نئی امید بھر گئے تھے۔ وہ خوش دلی سے یاشم کے پاس آئی۔
“تھینکیو یاشم۔۔۔۔ مجھے یہاں لانے کے لیے۔۔۔۔ بہت خوبصورت جگہ ہے۔۔۔۔ ویسے تو میں یہاں پہلے بھی آچکی ہوں۔۔۔۔ پر اب کی بار جیسا سکون پہلے کبھی نہیں ملا۔۔۔” راعنہ کے چہرے سے اس کی خوشی صاف ظاہر تھی۔ اس کی اداس گہری آنکھوں میں چمک در آئی تھی۔
“مجھے بھی ایسی خوشی پہلے کبھی نہیں ملی۔۔۔۔” یاشم سیدھے ہو کر راعنہ کے رو بہ رو آگیا۔
“پتا ہے راعنہ۔۔۔۔ خوشیاں ہمیشہ نہیں رہتیں۔۔۔۔ اس وقت ہم جہاں ہیں۔۔۔۔ کل یہ ہمارا ماضی بن جائے گا۔۔۔۔ ایک حسین یادگار سفر۔۔۔۔ اسی طرح غم بھی دیر پا نہیں ہیں۔۔۔۔ ہر احساس کا اپنا مقرر وقت ہوتا ہے۔۔۔۔۔ جب ہم ایک ہی چیز پر ہمیشہ خوش نہیں ہوسکتے۔۔۔۔۔ تو ایک ہی غم پر بار بار رونا کیوں۔۔۔۔؟” یاشم کی باتوں پر راعنہ کی مسکان سمٹ گئی۔ ڈائریکٹ نا صحیح پر یاشم نے اسے کل رات ہوئے واقعے کا احساس دلا دیا۔
“جو چیز گزر گئی ہیں۔۔۔ اسے جانے دیں۔۔۔۔ اس کی اتنی ہی مدت لکھی ہوئی تھی۔۔۔۔ ماضی کے غم پر خود کو آج کیوں تکلیف دینا۔۔۔۔ زندگی کے ایک درس کی طرح ماضی سے سیکھ کر آگے بڑھئے۔۔۔۔ میں آپ کے دکھ تو نہیں مٹا سکتا۔۔۔۔۔ اس درد سے آپ کو خود ہی باہر آنا ہے راعنہ۔۔۔۔” یاشم نے مدھم آواز میں اسے بہت گہری بات سمجھائی۔
دونوں کے مابین کچھ لمحے خاموشی سے سرک گئے۔
“پر چند لمحوں کی خوشیاں ضرور دے سکتا ہوں۔۔۔۔” یاشم نے شرارتی انداز میں پلکیں جھپکائی اور راعنہ کو پیچھے دیکھنے کا اشارہ کیا۔
راعنہ حیرانگی سے مڑی تو اس نے ایک ویٹر کو گرما گرم چائے اور اسنیک کی ٹرے اٹھائے اسی جانب آتے دیکھا۔ یاشم کے اس انداز پر راعنہ ہنس پڑی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
کم سن اور معروف اداکارہ ارم شیخ اور پروفیسر نوریز صدیقی کے افئیر کی خبریں ہر سوں چھائی ہوئی تھیں۔ ہر نیوز پیپر اور ٹی وی چینل میں ارم اور نوریز کی بانہوں میں بانہیں ڈالے کھڑے تصویروں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا۔ ساتھ ساتھ ان دونوں کی بہت جلد شادی کرنے کی افوائیں بھی اڑ رہی تھیں۔ کئی رپورٹرز نے اس خبر کی سچائی جاننے ارم اور نوریز سے تصدیق بھی کرنا چاہی پر فلحال دونوں خاموش تھے۔
مگر ان خبروں سے صدیقی ہاوس میں الگ ہی طوفان برپا ہونے لگا تھا جب سے یہ خبریں وارث صاحب کے علم میں آئی تھیں ان کا غصہ بڑھ گیا تھا۔
طیش میں آکر انہوں نے نوریز کو صدا لگائی۔
“یہ سب کیا ہے نوریز۔۔۔۔ یہ میڈیا والے کیا واحیات خبریں نشر کر رہیں ہیں۔۔۔۔ تم خود سے 14 سال چھوٹی اداکارہ کے ساتھ ریلیشن میں ہو۔۔۔۔” وارث صاحب نے اخبار کے شوبز والا صفحہ نوریز کے سامنے ٹیبل پر اچھالا۔
“سو واٹ پاپا۔۔۔۔ اس میں اتنا غصہ کرنے والی کیا بات ہے۔۔۔۔” نوریز نے ناک سے مکھی اڑائی تھی۔
“ایک تو وہ تم سے چودہ سال چھوٹی ہے۔۔۔۔ اور پھر اداکارہ ہے۔۔۔۔ اور اوپر سے تمہاری اس سے شادی کرنے کی خبریں سرخیاں بنی ہوئی ہیں۔۔۔۔ سب احباب پوچھ رہیں ہیں۔۔۔غصہ بھی نہ آئے کیا۔۔۔۔؟” اس کا موڈ بگڑتے دیکھ کر حارث صاحب نے قدرے نرمی سے وضاحت دی۔
“پاپا۔۔۔ دوست و احباب کیا سوچتے ہیں اس سے مجھے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔۔۔۔ رہی بات شادی کرنے کی۔۔۔۔ تو ارم اچھی لڑکی ہے۔۔۔۔ میں جلد اسے آپ سے ملوا دوں گا۔۔۔۔ اور دوسری بات۔۔۔۔۔ جب مجھے اور ارم کو ہمارے ایج ڈفرینس سے کوئی ایشو نہیں ہیں۔۔۔۔۔ تو آپ کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔۔۔۔” سرد لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر نوریز نے مانو وارث صاحب کو چپ کروا دیا تھا۔
انہیں خاموش دیکھ کر نوریز لمبے ڈگ بھرتا روانہ ہوگیا اور وارث صاحب اپنی بیگم کی جانب مڑے۔
“کیا اس نے آپ سے کبھی اس بارے میں ذکر کیا ہے۔۔۔۔” وارث صاحب نے بھوری آنکھیں سنبل بیگم کی آنکھوں میں گاڑھ دی۔
سنبل بیگم شوہر کی تند و تیز نظروں سے گھبرا گئی تھی۔
“اا۔ایک آدھ مرتبہ۔۔۔۔ اس کے زبانی۔۔۔۔ نام سنا تھا اس لڑکی کا۔۔۔۔ پر۔۔۔۔۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ اس کے ساتھ سیریس ہے۔۔۔۔ مجھے لگا بس۔۔۔۔ کچھ وقت کا جنون ہے۔۔۔۔” آخری فقرہ کہتے ہوئے وہ گم صم ہوگئی۔
ان کا جواب سن کر وارث صاحب ماتھے پر بل ڈالے کھڑے ہوگئے۔ ان کے غضب سے سنبل بیگم سہم گئی۔
“یہ سب آپ کی لا پرواہی کا نتیجہ ہے۔۔۔۔ بچپن سے آج تک آپ اس کی غلطیاں مجھ سے چھپاتی رہی ہیں۔۔۔۔۔ اس کے گناہوں پر پردہ ڈالتی رہی ہیں۔۔۔۔ اسی لیے وہ اس قدر جنونی اور ضدی ہوگیا ہے۔۔۔۔ یہ سب آپ کی غلطی ہیں۔۔۔۔پہلے بھی سب آپ کی وجہ سے بگڑا تھا۔۔۔۔ اب بھی سب آپ کی وجہ سے ہورہا ہیں۔۔۔۔” وارث صاحب نے سر پکڑ کر بے بسی سے سرد سانس خارج کی۔
سنبل بیگم کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی پر وارث صاحب ان کے آنسوؤں کی پروا کئے بغیر انہیں نوریز کی بگڑی حرکتوں کا ذمہ دار ٹھہرا کر چلے گئے۔
“ماں ہوں آخر میں اس کی۔۔۔۔۔۔ اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی۔۔۔۔ اسی لیے ساتھ دیتی ہوں۔۔۔۔” سنبل بیگم وہی صوفے پر بیٹھی منہ بنائے سوچتی رہ گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نوریز گھر سے نکل کر شوٹ کے لوکیشن پر چلا گیا۔ اسے ارم سے ان خبروں پر مفصل بات کرنی تھی۔
ڈیفینس ایریا کے اس اعلی شان اور پر تعیش بنگلے میں کسی ڈیزائنر کے پارٹی کولیکشن کی فوٹو شوٹ ہورہی تھی۔ بڑے بڑے اداکاروں کے ساتھ ساتھ کئی فیشن ماڈلز بھی خوبصورت کپڑے زیب تن کئے کیمرے کے آگے پوز بنا کر کھڑے تھے۔ پروڈیوسر ڈائریکٹر ڈیزائنر اور دیگر عملہ اپنے اپنے کاموں میں مشغول نظر آئے۔
نوریز ان سب پر ایک نگاہ ڈال کر میک اپ روم میں آگیا جہاں ارم تیار ہورہی تھی۔
“ہائے بےبی۔۔۔۔ کسی لگ رہی ہوں۔۔۔۔” ارم نے نوریز کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر استفسار کیا۔
ارم ریڈ کلر کے چمکدار اور بیک لیس بلاوز پہنے پیارا میک اپ اور خوبصورت سا ہیئر اسٹائل بنائے ہاتھ پھیلائے کھڑی تھی۔ میک اپ آرٹسٹ اس کے میک اپ کا آخری ٹچ اپ کروا رہا تھا اور دوسری ٹیم ممبر اس کے بازو پر بلیک شیفون کی کام والی ساڑھی کا پلو درست کر رہی تھی۔
لوگوں کی موجودگی میں نوریز خاموش رہا پر اس کے اضطراب میں اضافہ ہونے لگا۔
“پتا ہے جان۔۔۔۔ میرے ساتھ میل پارٹنر کون ہے۔۔۔۔۔ “ارم اس کے موڈ سے بے خبر اپنے شوٹ کے رو داد سنا رہی تھی اور نوریز خاموشی سے اسے تیار ہوتے دیکھتا رہا۔
“سوپر اسٹار احسن خان۔۔۔۔ اوو مائی گاڈ۔۔۔۔ مجھے یقین نہیں آرہا۔۔۔۔ میں احسن خان کے ساتھ کام کر رہی ہوں۔۔۔۔ میرے سب سے فیورٹ ایکٹر ہیں وہ۔۔۔۔” ارم کی خوشی ساتھویں آسمان کو چھو رہی تھی۔
نوریز کی نظریں ارم کی چہرے پر سے ہوتی ہوئی اس کے ڈیپ گلے اور پھر بیک لیس سے جھلکتی پتلی کمر پر جا ٹھہری۔ اس کے ماتھے پر شکن نمودار ہوئے تھے۔ بلاشبہ ارم کے ہر ادا پر نوریز فدا تھا پر ارم کی خوبصورتی اس کے علاوہ کوئی اور دیکھیں یہ اسے قبول نہیں تھا۔
“مجھے ارم سے کچھ پرسنل بات کرنی ہیں۔۔۔۔ آپ لوگ پلیزز۔۔۔ تھوڑی دیر باہر ویٹ کر لیں۔۔۔۔” نوریز سے مزید رہا نہیں گیا۔ اس نے ارم کو تیار کرنے والی ٹیم سے معذرت کر لی۔
شوبز کی دنیا میں چلتے ارم اور نوریز کی شادی کے خبروں کی بنا پر اس شعبے میں کام کرنے والے تمام لوگ نوریز سے آشنا تھے اس لیے وہ دونوں میک اپ آرٹسٹ نوریز کی بات مان کر وہاں سے چلیں گئے۔
“کیا ہوا بےبی۔۔۔۔ موڈ کیوں آف ہے۔۔۔۔” ارم ساڑھی کا دامن اٹھا کر لمبی ہیل میں ٹک ٹک کر کے چلتی نوریز کے قریب آئی اور اس کے کندھے پر اپنا دائیاں بازو ٹکا کر بائیں ہاتھ سے نوریز کے رخسار اور گلے پر انگلی پھیرتی مدہوش آواز میں بولی۔
نوریز نے مخمور نگاہوں سے اسے دیکھا اور اپنا ہاتھ اس کے کمر کے گرد مائل کر کے اسے خود سے لگایا۔
“بےبی۔۔۔۔ یہ بلاوز بہت چھوٹا ہے۔۔۔۔۔ چینج کر لو۔۔۔۔ ” نوریز نے بہت ہی پیار سے کہا تھا پھر بھی ارم کے تاثرات بدلنے لگے۔
“میرا دس منٹ میں شوٹ ہے۔۔۔۔ اور اب تم کہہ رہے ہو میں چینج کر لوں۔۔۔۔ نوریز یہ شوبز ہیں۔۔۔۔ یہاں جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔۔۔۔ ایسی بولڈ ڈریسنگ کرنے والی ماڈلز اور ایکٹریس کو ہی کام ملتا ہے۔۔۔۔ میں ایسا نہیں کروں گی تو ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز کی نظروں میں کیسے آو گی۔۔۔۔” ارم اس کے الگ ہو کر آئینے میں اپنے آپ کو دیکھتی بال سنوارنے لگی۔
“تو چھوڑ دو یہ سب۔۔۔۔ مجھے نہیں پسند۔۔۔۔ تمہاری باڈی شو پیس کی طرح۔۔۔۔ سب کی نظروں کا مرکز بنے۔۔۔۔” نوریز دو قدم آگے آیا اور ارم کا بازو دبوچ کر اس کا رخ اپنے جانب گھمایا۔
نوریز کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ ارم کراہ اٹھی۔
“ماڈلنگ اور ایکٹنگ صرف میرا کام نہیں میرا شوق بھی ہے نوریز۔۔۔۔۔ میں شوبز نہیں چھوڑ سکتی۔۔۔۔” ارم اپنا بازو چھڑا کر پیچھے ہوگئی۔
“میں پیار سے سمجھا رہا ہوں ارم۔۔۔۔ تمہیں اس شعبے میں رہنا ہے تو ڈھنگ سے رہنا ہوگا۔۔۔۔ ورنہ مجھ سے اچھے برتاو کی امید مت کرنا۔۔۔۔” نوریز کی آواز بلند ہوگئی۔ ساتھ ہی اس کی بھوری آنکھیں غصے کی شدت سے سرخ ہونے لگی۔
ایک پل کے لیے ارم بری طرح خوفزدہ ہوگئی تھی۔
“چلاو مت مجھ پر۔۔۔۔ مسٹر نوریز صدیقی۔۔۔۔ میں تمہاری ایکس وائف نہیں ہوں۔۔۔۔ جو تم ڈانٹو گے یا مارو گے تو میں خاموشی سے ایک کونے میں پڑی رہوں گی۔۔۔۔۔” ارم نے نوریز کو حقیقت کا آئینہ دکھانا شروع کیا۔
“جتنی چھوٹ دی ہے۔۔۔۔ اتنی حد میں رہو۔۔۔۔ میں نے اس لیے تمہاری جیل سے بیل نہیں کرائی کہ تم میرے ہی سر پر چڑھ جاو۔۔۔۔ میں ایک سوپر ماڈل ہوں۔۔۔۔ فریش فیس ایکٹریس ہوں۔۔۔۔۔ میں نے تمہارے کرتوت میڈیا میں بتا دیئے نا۔۔۔۔ تو تم کہی کے نہیں بچو گے۔۔۔۔” ارم انگلی اٹھا کر اسے دھمکا کر ہونہہ کرتے کمرے سے باہر نکل گئی اور نوریز لب بھینجے آئینے میں خود کو دیکھتا رہا۔
“میں تمہاری ایکس وائف نہیں ہوں جو تم ڈانٹو گے یا مارو گے تو میں ایک کونے میں پڑی رہوں گی۔۔۔۔” دیواروں سے ٹکرا کر ارم کی آواز اور اس کے زبان سے نکلے یہ الفاظ نوریز کی سماعتوںمیں گونجتے رہیں۔
سامنے بڑے سے آئینے میں خیالی طور پر اس کا معصوم سا چہرا ابھرا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔