Nadamat By Palwasha Safi Readelle50274 (Nadamat) Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
(Nadamat) Episode 23
اس چھوٹے سے گھر میں آیت کو ایڈجسٹ کرنے میں وقت لگا۔ اس رات وہ ڈنر کے بعد کچن میں کھڑی برتن سمیٹ رہی تھی جب لاونج کے سینٹرل میز پر پڑا اس کا موبائل بجنے لگا۔ صدیف وہی صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا۔
“صدیف آپ دیکھ لیں کس کی کال آرہی ہے۔۔۔۔ میں بزی ہوں۔۔۔۔” آیت نے اوپن کچن سے ہی صدا لگائی۔
صدیف نے ایک نظر اس کے موبائل اسکرین پر جھلکتے نام کو دیکھا اور کال نظر انداز کر کے لیپ ٹاپ بند کرتے اٹھ گیا۔ آیت کو یہ حرکت مشکوک لگی۔ وہ تیزی سے ہاتھ جھاڑتی موبائل کے پاس آئی۔ کال کرنے والے کا نام پڑھ کر وہ صدیف کا اٹھ جانا سمجھ گئی تھی۔
“السلام علیکم مما۔۔۔” آیت نے سنجیدگی سے کال موصول کی۔
“آیت بہت بڑی پرابلم ہوگئی ہے۔۔۔۔۔ نوریز کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔۔۔۔ تیرے پاپا نے اسے چھڑانے سے انکار کر دیا ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا کروں۔۔۔۔” سنبل بیگم حواس باختہ ہو کر رو داد سنانے لگی۔
“واٹ۔۔۔۔ پر گرفتار کیوں کیا ہے۔۔۔۔۔ بھائی نے کیا کیا ہے۔۔۔۔”؟ آیت شاک کے عالم میں اونچا بولی۔
پورچ کی سیڑھیوں پر بیٹھے صدیف کی اس جانب پشت تھی لیکن کان یہی لگے تھے۔
“وہ۔۔۔۔ دراصل۔۔۔۔ بات یہ ہے کہ۔۔۔۔ کچھ سالوں پہلے نوریز کے ہاتھوں ایک لڑکی کا قتل ہوگیا تھا۔۔۔۔” مما رک رک کر گویا ہوئی۔
آیت کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی وہ پھٹی نظروں سے مما کی بات سننے لگی۔
“اب جا کر پولیس کو ہمارے فارم ہاوس میں سے اس لڑکی کی باڈی ملی ہے۔۔۔۔ ” مما نے تشویش کا اظہار کیا۔
“اور آپ کو یہ سب پہلے سے معلوم تھا۔۔۔۔۔ پھر بھی آپ خاموش رہی۔۔۔۔۔ مما۔۔۔۔۔ آپ بھائی کے جرم میں برابر کی حصہ دار ہیں۔۔۔۔” آیت کو اپنی آواز گہری کھائی میں سے آتی محسوس ہوئی۔ اسے اب تک یقین نہیں آرہا تھا۔
“بیٹا وہ۔۔۔۔” مما نے وضاحت دینی چاہی پر آیت نے ٹوک دیا۔
“نہیں مما۔۔۔۔ آپ نے یہ ٹھیک نہیں کیا۔۔۔۔ کاش کہ آپ نے بھائی کے جرائم پر پردہ نا ڈالا ہوتا۔۔۔۔ کاش کہ آپ نے مجھے سچ چھپانے پر ڈپٹا ہوتا۔۔۔۔ کاش کہ آپ آج تک بھائی کا دفاع کرنے کے بجائے۔۔۔۔ پاپا کا ساتھ دیتی۔۔۔۔ تو آج ہماری زندگیاں ایسی نا ہوتیں۔۔۔۔” آیت سر پکڑے رو پڑی۔
مما اسے پکارتی رہی وضاحت دیتی رہی پر آیت نے ایک نا سنی۔
“مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔۔ آئیندہ مجھے کال مت کیجیئے گا۔۔۔۔ بھول جائیں آپ کی کوئی بیٹی بھی ہے۔۔۔۔” آیت نے سختی سے تردید کیا اور پٹخ کر کال کاٹ دی۔
صدیف نے لمبا سانس خارج کیا۔ وہ مما کے کال سے پہلے لیپ ٹاپ میں یہی خبریں پڑھ رہا تھا۔ اس وقت اسے راعنہ کی بہت فکر ستا رہی تھی مگر دل ہی دل میں وہ یہ سوچ کر مطمئن بھی تھا کہ راعنہ اکیلی نہیں ہے بابا اور حمدان اس کے ساتھ ہے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“بالکل مت ڈرنا تسکین۔۔۔۔ تمہیں جو بھی پتا ہے۔۔۔۔ سب بتا دینا۔۔۔۔ ” راعنہ اور تسکین عدالت کے کوریڈور میں کھڑی تھی۔
راعنہ اسے ہمت دلا رہی تھی جب سامنے سے آفسر احیان خان کے پیچھے دو با وردی اہلکار نوریز کے دائیں بائیں چلتے کمرہ عدالت میں داخل ہوئے۔ اندر داخل ہوتے ہوئے نوریز نے گہری مگر سخت نظر سے راعنہ کو گھورا تھا۔
جج صاحب کے تشریف لاتے کارروائی شروع کی گئی۔ عبدالعزیر صاحب نے پانچ سال پہلے نین کے نکاح کے دن ہوئے واقعے کی تفصیلات بتائی تو احیان خان نے نین کو بھیجے گئے نوریز کے میسجز اور کال ریکارڈز پیش کئے۔ گواہ کے طور پر تسکین کا بیان سنا گیا اور فارم ہاوس کے چوکیدار سے بھی سوالات کئے گئے۔
فورنسک رپورٹز کے مطابق نوریز کے فارم ہاوس کے خفیہ تہہ خانے سے ملنے والا ڈھانچہ نین عبدالعزیز کا ثابت ہوا جس سے سارا کیس شیشے کی طرح صاف ہوگیا۔
راعنہ کے زبانی اس پر ہوئے ظلم کی داستان سن کر جج صاحب نے گلا صاف کرتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا۔
نوریز صدیقی کو عمر قید بہ مشقت کی سزا سنائی گئی اور ایلزینا کی کسٹڈی راعنہ کو دی گئی۔ ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ ہوا کہ ایلزینا کے دس سال پورے ہونے کے بعد ایک اور پیشی ہوگی جس میں اس سے خود اپنی رہائش گاہ کے متعلق فیصلہ لیا جائے گا۔
نوریز نے بمشکل اپنے طیش پر قابو رکھا ہوا تھا۔ پاپا نے اس سے نظریں پھیر لی۔ مما اس سے لپٹ کر خوب روئی۔
جاتے جاتے نوریز اور راعنہ مد مقابل رو بہ رو ہوئے تو نوریز اس کے کان کے پاس جھکا۔
“اچھا کھیل کھیلا ہے راعنہ۔۔۔۔۔ پر مجھ سے بچ نہیں سکتی۔۔۔۔ جس دن رِہا ہوا۔۔۔۔۔ سب سے پہلے تمہاری جان لوں گا۔۔۔۔” راعنہ کے کان میں سرگوشی کر کے وہ میڈیا رپورٹرز کے کیمروں سے بچنے کی کوشش کرتا پولیس وین میں سوار ہوگیا اور وین سینٹرل جیل کے جانب چل پڑی۔
راعنہ نے نوریز کی دھمکی پر لب بھینجے خود کو کمپوز کرتے ایلزینا کو مضبوطی سے خود سے لگا لیا۔
“مس راعنہ۔۔۔۔” اپنے عقب میں احیان خان کی آواز سن کر وہ پلٹی۔
“تھوڑی دیر میں۔۔۔۔ میں نین کی باڈی اور اس کے والدین کو لیں کر پشاور کے لیے نکل رہا ہوں۔۔۔۔ وہاں باقاعدگی سے نین کے لیے فاتحہ کروایں گے۔۔۔۔ میں اپنا ٹرانسفر بھی وہی کروا رہا ہوں۔۔۔۔ اب یہاں ہمارا کچھ نہیں بچا۔۔۔۔” احیان نے اسے اپنے پلاننگ سے آگاہ کیا۔
“بہت پیار کرتے تھے نین سے۔۔۔۔” پہلی مرتبہ راعنہ نے ذاتی سوال پوچھا تھا۔
اس کے سوال پر احیان کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔
“تسکین نے بتایا۔۔۔ آپ ہی وہی ہو جس سے نین کا نکاح ہونے والا تھا۔۔۔ ” راعنہ نے مزید واضح کیا تو احیان نے متبسم ہوتے سر اثبات میں ہلایا۔
“بہت پیار کرتا ہوں۔۔۔۔” احیان نے ‘ہوں’ کے لفظ پر زور دیا۔
“اس جہاں میں نا سہی۔۔۔۔ اس جہاں میں آپ اور نین ضرور ایک ہوجائیں گے۔۔۔۔ اصل زندگی تو وہی ہے نا۔۔۔۔” راعنہ نے امید دلائی۔
“بیشک۔۔۔” اس کی بات کی تائید کرتے سر کو جنبش دیتے وہ روانہ ہوگیا اور راعنہ بابا اور حمدان کے ساتھ گھر آگئی۔
############ حال ############
راعنہ اپنی داستان سناتے گیٹ پکڑ کر بیٹھ گئی۔ یاشم اس کی تکلیف محسوس کرتے آبدیدہ ہوگیا تھا۔ اس نے کچھ کہنے لب کھولے کہ گیٹ کے اندرونی حصے سے کسی کے سایے پر نظر پڑی۔
“زینی۔۔۔۔” گیٹ سے سر اندر کر کے اس نے ایلزینا کو پکارا۔
یاشم کی پکار پر جہاں زینی چونکی تھی وہیں راعنہ بھی شاک ہوئی۔ وہ تیزی سے اٹھ کر گیٹ کے اندر آئی۔
“مما۔۔۔۔ میرے پاپا اتنے برے تھے۔۔۔۔”؟ زینی نے اپنے ہاتھوں کی ہتھیلی سے راعنہ کے آنسو صاف کئے۔
“نہیں بےبی۔۔۔۔ وہ انسان اچھے تھے بس عادتیں اچھی نہیں تھی۔۔۔ ” راعنہ نے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہونٹوں سے لگا لیا۔
“مما۔۔۔۔ میں ہمیشہ پاپا کے بارے میں بات کر کے آپ کو پریشان کر دیتی ہوں۔۔۔۔ اب سے نہیں کروں گی۔۔۔۔” ایلزینا نے وعدہ کرتے ہوئے راعنہ کے گردن میں بازووں کا حلقہ بنایا۔
راعنہ نے اسے خود سے لگا کر پیار کیا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
اس شام یاشم نے بابا سے رشتے کے متعلق دوبارہ بات کرنے کی کوشش کی۔
“میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ اور میرے ماننے سے کیا ہوجائے گا۔۔۔۔ راعنہ خود تمہیں رد کر چکی ہیں نا۔۔۔۔” آفان صاحب کی آواز بلند ہونے لگی۔
“میں انہیں منا لوں گا۔۔۔۔ وہ مان جائیں گی۔۔۔۔ بس آپ راضی ہوجائیں۔۔۔۔” یاشم نے حد عقل اپنا لہجہ نرم رکھا۔
“سماج میں کتنی بے عزتی ہوگی۔۔۔۔ آفان شاہ کے بیٹے نے ایک طلاق یافتہ لڑکی پسند کی ہے۔۔۔۔” بابا سر جھٹک کر رخ پھیر گئے۔
“یہی تو ہمارے معاشرے کی غلطی ہے بابا۔۔۔۔۔ یہاں لوگوں کی زبانیں بند نہیں ہوتیں۔۔۔۔۔ انسان کے مسائل اتنے بڑے نہیں ہوتے جتنے طنز سوال تبصرے چئ مگوئیاں ہیں۔۔۔۔ اگر زبان روک لی جائے تو لوگوں کے تکالیف کم ہوجائیں گے۔۔۔۔ کتنے دلوں کو سکون مل جائے گا۔۔۔۔” یاشم نے معاشرتی نظام کے تلخ حقیقت سے روشناس کرایا۔
بابا اسے نظر انداز کئے ہوئے دوسری سمت دیکھ رہیں تھے۔
“یہی بات اگر میں مغربی ممالک میں کرتا تو سب کے رضامندی میں ایک سیکنڈ نہیں لگتا۔۔۔۔ یوں ہی تو وہ اتنے ترقی یافتہ ممالک نہیں بن گئے ہیں۔۔۔۔ مانتا ہوں اسلام سب سے افضل دین ہے۔۔۔۔ پر اسلام میں بھی یہ بات تو کہی نہیں لکھی کہ طلاق یافتہ لڑکیاں جینا چھوڑ دیں۔۔۔۔ دوبارہ گھر بسانے کے خواب نا دیکھیں۔۔۔۔ یہ رسم لوگوں نے ایجاد کیے ہیں اسلام نے نہیں۔۔۔۔ ” یاشم کے زبانی کڑوی حقیقت سن کر آفان صاحب کے آبرو مزید مل گئے۔
“ایک مرتبہ کہا نا۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ اب دوبارہ نام مت لینا اس کا۔۔۔۔” اب کی بار آواز بلند ہونے کے ساتھ ساتھ سخت بھی تھی۔
یاشم ٹیبل پر ہاتھ مارتے کھڑا ہوگیا اور لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔
“یاشم۔۔۔۔ کھانا تو کھا لو۔۔۔۔” مما نے اسے پکارا پر وہ ان کی پکار ان سنی کر کے کمرے میں بند ہوگیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
دوسری جانب راعنہ اور ایلزینا بیڈ پر لیٹی تھیں۔ راعنہ ہلکے ہاتھ سے بیٹی کے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھی۔
“مما۔۔۔۔ یاشم بہت اچھا ہے۔۔۔۔” زینی نے خلا میں دیکھتے ہوئے کہا۔
“ہاں۔۔۔۔ بہت اچھا ہے۔۔۔۔ اور پتا ہے۔۔۔۔ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔۔” راعنہ بھی اسی انداز گویا ہوئی۔
“تو آپ یاشم سے شادی کر کے چلی جاو گی۔۔۔ مجھے چھوڑ دو گی۔۔۔” ایلزینا کو نئے اندیشے نے گھیر لیا۔
“ہہہہہ۔۔۔ نہیں میری جان۔۔۔۔ میں آپ کو نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔ چاہے شادی کروں یا نا کروں۔۔۔۔ پر آپ کو کبھی نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔” راعنہ نے اس کا گول چہرا اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔
“تو کب کر رہی ہو شادی۔۔۔۔” زینی نے دوستانہ مزاج میں پوچھا۔
“منع کر دیا ہے۔۔۔۔” راعنہ کی آواز میں افسردگی در آئی۔
“کیوں منع کیا۔۔۔۔۔ پاپا کی وجہ سے۔۔۔۔” زینی نے از خود نوریز کی رہائی کو وجہ قرار دیا۔
دونوں کے مابین خاموشی چھا گئی۔
“نہیں کچھ نہیں۔۔۔۔ سوجاو۔۔۔۔” سر جھٹک کر جذبات قابو کرتے اسے سلانے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
رات سے صبح ہوگئی پر یاشم کمرے سے باہر نہیں آیا۔ فریحہ بیگم کو اب اس کی فکر ستانے لگی۔ دادا جان بھی ان کی کیفیت اچھے سے سمجھ رہیں تھے مگر بیٹے کی موجودگی میں خاموش رہیں۔
یاشم ضدی تھا تو آفان شاہ بھی اس کا باپ تھا۔ وہ ایک دن کے بندش سے پگھلنے والے نہیں تھے۔ سب کی نظریں نظر انداز کر کے وہ سکون سے اپنا ناشتہ ختم کر کے آفس کے لیے نکل گئے۔
ان کے جانے کے بعد مما اوپر آئیں اور دروازہ بجانے لگی۔
“یاشم۔۔۔۔ تیرے بابا آفس چلیں گئے۔۔۔۔۔ چل باہر آجا۔۔۔۔” انہوں نے دستک دیتے ہوئے اطلاع دی پر اندر سے کوئی جواب نا ملا۔
فریحہ بیگم کے دل میں کئی وسوسے جنم لینے لگے۔
“مما سے کیسی ضد۔۔۔۔ مما کی بات بھی نہیں سنو گے۔۔۔۔” اب کی بار دروازہ اور زور سے بجایا گیا پر جواب ندارد۔
مصنوعی خفگی ظاہر کرتے وہ جانے لگی۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ اب نہیں آوں گی بلانے۔۔۔۔” وہ ہونہہ کرتے پلٹ کر نیچھے چلی گئیں۔
دن بھر ان کا دھیان یاشم کے کمرے کے بند دروازے پر مرکوز رہا۔ دوپہر کے وقت انہوں نے دادا جان کے نمبر سے یاشم کو کال بھی ملائی پر موبائل سویچ آف بتا رہا تھا۔ شام تک ان سے صبر نا ہوا تو انہوں نے آفان صاحب کو کال کر کے گھر جلدی بلا لیا۔
مغرب سے پہلے آفان صاحب گھر پہنچے تو وہ فریحہ بیگم نے ان کا گریبان پکڑ لیا۔
“آفان وہ کوئی جواب نہیں دے رہا۔۔۔۔ اب تو میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔۔۔ کہی اس نے خود کو کچھ کر نا دیا ہو۔۔۔۔” وہ شوہر کے بے تاثر چہرے کو دیکھتے رو پڑی۔
“ایسا کچھ نہیں کرے گا۔۔۔۔۔ اتنا بزدل نہیں ہے میرا بیٹا کہ ایک لڑکی کے پیچھے اپنی جان دے دیں۔۔۔۔ یہ اس کا ہمیں پریشان کرنے کا طریقہ ہے۔۔۔۔۔ اور کچھ نہیں۔۔۔۔” آفان صاحب نے بیگم کے ہاتھ ہٹائے۔
فریحہ بیگم بے یقینی سے انہیں دیکھنے لگی۔ ایک پل کے لیے وہ سوچ میں پڑ گئی تھی کہ یاشم زیادہ ضدی ہے یا آفان شاہ۔
“اور آپ بے فکر رہیں۔۔۔۔ یقینا اس نے کمرے میں کھانے پینے کی اشیا چھپائی تھی۔۔۔۔ ورنہ بھوک لگتے باہر آجاتا۔۔۔۔ فریحہ پیٹ یہ نہیں دیکھتا کہ آپ امیر ہو غریب ہو محبت میں ہو یا فارغ ہو۔۔۔۔۔ پیٹ کو اپنا نظام چلانا ہے اور اس کے لیے خوراک چاہیئے۔۔۔۔ بھوک جب لگتی ہے تو انسان کو صرف کھانا نظر آتا ہے پیار محبت نہیں۔۔۔۔” آفان صاحب انہیں دلاسہ دیتے اپنے کمرے کے جانب بڑھ گئے۔
آفان صاحب نے جو کہنا تھا کہہ دیا پر وہ تو ماں تھی اور یاشم اکلوتا بیٹا۔ انہیں کہاں بیٹے کی ایسی حالت قبول تھی۔
آفروز کے زبانی گھر کی کیفیت بڑی بہنوں کو بھی معلوم پڑی جس کی وجہ سے شام سے ہی ایک ایک کر کے تینوں بیٹیوں کے فون آنے لگے۔
“مما۔۔۔۔ آپ پلیز مت روئے۔۔۔۔ میں بابا سے بات کرتی ہوں۔۔۔۔” دوبئی میں مکیم زونائشہ نے تسلی دی اور مما کے نمبر پر کال منقطع کر کے بابا کا نمبر ملایا۔
آفان صاحب سٹڈی روم میں اپنی راکنگ چئیر پر بیٹھے تھے۔ بیڈروم میں فریحہ بیگم تھی اور فل وقت وہ ان کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ سگار کا کش لیتے انہوں نے رات بھی وہی گزارنے کا سوچا۔ وہ اسی کشمکش میں تھے جب زونائشہ کی کال آنے لگی۔
“بابا۔۔۔۔ اگر یاشم کو وہ لڑکی پسند آئی ہے تو یقینا اس میں کوئی خاص بات ہوگی۔۔۔ آپ جانتے تو ہیں ہمارے یاشم کو۔۔۔۔ اسے بے مول چیزیں کہاں پسند آتی ہے۔۔۔۔ اب اگر وہ راعنہ کے لیے اتنا ضد پکڑ کر بیٹھ گیا ہے تو ضرور وہ اتنی ہی اچھی ہوگی۔۔۔۔ “زونائشہ نے سمجھانے کی کوشش کی۔
بظاہر تو آفان صاحب بیٹیوں کے کالز پر بے لچک رہیں مگر اب اندر ہی اندر انہیں بھی یاشم کی فکر ہونے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“آفان میرے بیٹے کو باہر نکالو۔۔۔۔۔ میں کچھ نہیں جانتی بس اسے میری نظروں کے سامنے لاو۔۔۔۔ ” اگلی صبح فریحہ بیگم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔
“آفان۔۔۔۔ بہو ٹھیک کہہ رہی ہے۔۔۔۔ تم جاو گے تو وہ ضرور بات سنے گا۔۔۔۔۔ اپنے ہی اولاد سے کیسی ضد۔۔۔۔ ” دادا جان کی بات پر آفان صاحب لمبا سانس خارج کر کے اٹھے۔
یاشم کے کمرے تک آکر دستک دینے کے بجائے انہوں نے اپنے مخصوص ایکسٹرا چابی سے دروازہ کھولا۔ اندر قدم رکھتے آفان صاحب کو آنکھیں چھوٹی کر کے تاریک کمرے کا جائزہ لینا پڑا۔ بیڈ پر ایک شکن بھی نہیں تھی مانو دو راتوں سے کوئی اس پر سویا نا ہو۔ پردے کھڑکیوں کے آگے جوں کے توں تھے۔ اے سی پورا کھلا ہوا تھا جس کی وجہ سے دو دنوں کا وہ بند کمرہ برف کے مانند ٹھنڈا ہوچکا تھا۔
آفان صاحب جھرجھری لیتے مزید اندر آئے تو بیڈ کے پائنتی کے پاس یاشم گھٹنوں کے گرد بازو حمائل کئے ہوئے ٹھنڈے فرش پر بیٹھا چھت پر نظریں جمائے ہوئے ملا۔ دو دنوں میں ہی اس کے آنکھوں کے گرد ہلکے بن گئے تھے۔ شیو پہلے سے بڑھی ہوئی تھی اور بال بکھرے پڑے تھے۔ بھوک پیاس کی شدت اس کے چہرے پر صاف واضح تھی۔
“یہ سب کر کے کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔۔۔۔ چلو باہر آو۔۔۔۔ سب پریشان ہورہیں ہیں۔۔۔۔ تمہاری بہنوں نے کال کر کر کے۔۔۔۔ اور تمہاری مما نے رو رو کر میرا دماغ خراب کر دیا ہے۔۔۔۔ چلو اٹھو۔۔۔۔ مجھے مزید غصہ کرنے پر مجبور مت کرو۔۔۔۔ ” آفان صاحب نے غصے سے ڈپٹا پر یاشم کے جسم میں کوئی حرکت نا ہوئی۔
ان کے عصاب ڈھیلے پڑ گئے۔ وہ قدم قدم چلتے یاشم کے دائیں جانب دو زانو ہو کر بیٹھے اور نرمی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مخاطب کیا۔ یاشم چھوٹے بچوں کی طرح ان سے لپٹ گیا۔
“میں کیا کروں بابا۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا ایسا کیوں ہے۔۔۔۔ میں ایسا کیوں ہوگیا ہوں۔۔۔۔ آئی کانٹ انڈرسٹینڈ۔۔۔۔” بابا کے سینے میں سر چھپائے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
آفان صاحب کے دھڑکنیں بڑھ گئی۔
“دل ہمیشہ وہی کیوں لگتا ہے۔۔۔ جو نصیب میں نا ہوں۔۔۔۔ کیا غلط کیا میں نے۔۔۔۔ محبت ہی تو کی تھی۔۔۔۔۔ انہیں اپنانا ہی تو چاہا تھا۔۔۔۔ پھر اس قدر بے قدری کیوں۔۔۔۔۔ میری ذات کی کوئی حیثیت نہیں ہے جو ایسی ٹھکرا دی گئی ہے۔۔۔۔ کسی کو میری تکلیف کیوں محسوس نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ میں دن رات کس اذیت میں گزار رہا ہوں کسی کو نظر کیوں نہیں آرہا۔۔۔۔” یاشم فرش پر بیٹھے گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔
بابا نے اسے خود میں بھینج لیا مگر وہ چپ نا ہوا۔
“لیکن میں مسلسل اپنے ہی ذات میں الجھ رہا ہوں۔۔۔۔ آنکھیں درد کر رہی ہیں۔۔۔۔ دماغ درد کی شدت سے پھٹ رہا ہے۔۔۔۔ میں سو نہیں پا رہا۔۔۔۔ کچھ سوچ بھی نہیں پا رہا۔۔۔۔ کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔۔۔۔ راعنہ کے بغیر۔۔۔۔ سب خالی ہے۔۔۔۔ اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔۔۔۔۔ گہری چپ ہے۔۔۔۔ میں مینٹل ہوتا جارہا ہوں۔۔۔۔” اس کی سسکیاں بندھ گئی پر غم کم نا ہوسکا۔
آفان صاحب اس کے گرد بازو حمائل کئے لب کاٹنے لگے۔
“یو نو بابا۔۔۔۔ نفسیاتی مریض۔۔۔۔ جسے کچھ محسوس نہیں ہوتا۔۔۔۔ نا خوشی نا غم۔۔۔۔ ہنسنا بھول جاتا ہے۔۔۔۔ بلکہ جینا ہی بھول جاتا ہے۔۔۔۔ میری حالت ویسی ہورہی ہے۔۔۔۔ میں آکسفورڈ یونیورسٹی کا ٹاپ آٹو موبائل انجینیر۔۔۔۔ میں ورلڈ ٹاپ ٹین ینگ کار ڈیزائنر۔۔۔۔ میں بری سے بری کار کو بھی جدید ماڈل میں تبدیل کر سکتا ہوں۔۔۔۔ پر بابا۔۔۔۔ میں خود کو نہیں بدل پا رہا۔۔۔۔ میں بہت بیمار ہوگیا ہوں۔۔۔۔ مجھے مرض عشق لگ گیا ہے۔۔۔۔ ایک ایسی لڑکی سے عشق کی بیماری ہو گئی ہے جو مجھ سے عمر میں بڑی ہے۔۔۔۔ جو ڈائوورسڈ ہے۔۔۔۔ جو ایک بچی کی ماں ہے۔۔۔۔ پر بابا۔۔۔۔” روتے روتے اس نے سرخ آنکھوں سے بابا کو دیکھا۔
اور آفان صاحب کو لگا وہ زندہ در گور ہوچکے ہیں۔
“پر بابا۔۔۔۔ آئی ریلی لو ہر۔۔۔۔ میرے دل و دماغ کو سکون چاہیئے۔۔۔۔ اور وہ سکون۔۔۔۔۔۔ راعنہ ہے۔۔۔۔۔ ورنہ۔۔۔۔۔ ورنہ یہ مرض عشق مجھے مار دے گا۔۔۔۔ ” اس کے آگے یاشم میں کچھ کہنے کی ہمت نہیں تھی اور نا ہی آفان صاحب مزید سننے کی سکت رکھتے تھے۔
یاشم کا رونا سن کر دادا جان مما اور آفروز کمرے میں بھاگ آئے۔ فریحہ بیگم نے سینے پر ہاتھ رکھے یاشم کو خود سے لگا لیا۔ آفان صاحب اشک بار آنکھوں سے تیز تیز سانس لیتے اٹھ کر چلے گئے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ زینی کو اسکول بھیج کر خود آفس کے لیے تیار ہونے لگی۔
“پتا نہیں کیا بات ہوئی ہے۔۔۔۔ دو دن سے یاشم آفس نہیں آئے تھے۔۔۔۔ آئی ہوپ وہ ٹھیک ہو۔۔۔۔ ” بال برش کرتے ہوئے اس نے سوچا۔
لاؤنج میں آفان صاحب کی آواز سن کر وہ ٹھٹک گئی اور کمرے سے باہر آکر نیچھے جھانکا۔ آفان صاحب اور بابا نے ایک ساتھ سر اوپر کو اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ راعنہ ڈوپٹہ سر پر سیٹ کرتے مضطرب ہوتی نیچھے آئی۔
“راعنہ۔۔۔۔ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔” اس کے سلام کے بعد آفان صاحب کنکارے۔
راعنہ سر کو خم دیتی انہیں اپنے ساتھ ڈرائنگ روم میں لیں آئی۔
“سمجھ نہیں آرہا۔۔۔۔ کہاں سے شروع کروں۔۔۔۔ ” آفان صاحب نے ہاتھوں کو باہم مسلتے ہنھکارا بھری۔
“سر سب ٹھیک تو ہے۔۔۔۔” راعنہ ان کے پریشان کن تاثرات دیکھ کر تشویش میں پڑ گئی۔
“ٹھیک کرنا ہی تو چاہا تھا۔۔۔۔ پر سب بگڑ گیا ہے۔۔۔۔” آفان صاحب ہاتھ ہوا میں بلند کر کے افسردگی سے بولے۔
راعنہ کے ذہن میں ماضی کے لمحات گردش کرنے لگے۔
(چند روز قبل)
راعنہ، یاشم کے پروپوزل کا سوچتے ہوئے اپنے کیبن میں آئی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی اور آفان صاحب اندر داخل ہوئے۔ راعنہ انہیں یوں اپنے کیبن میں دیکھ کر شاک ہوگئی تھی۔
“میرے بیٹے نے تم سے شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔۔۔۔ پر میں راضی نہیں ہوں۔۔۔۔۔ اور میں چاہتا ہوں کہ تم انکار کر دو۔۔۔۔” آفان صاحب بے لچک انداز میں گویا ہوئے۔
راعنہ کا دل نشتر سے چیر دیا گیا تھا۔
“میں کسی طلاق یافتہ لڑکی کو شاہ خاندان کی بہو نہیں بناوں گا۔۔۔۔ یاشم کو میں نے روکا تو وہ ضد پر آجائے گا۔۔۔۔ پر تم منع کرو گی۔۔۔۔ تو وہ دوبارہ نہیں کہے گا۔۔۔۔” بات کرتے کرتے وہ راعنہ کے سامنے آئے۔
راعنہ نے بولنے لب کھولے مگر آواز نہ نکل سکی۔
“جانتا ہوں تمہارے پاس انکار کی کوئی وجہ نہیں ہے۔۔۔۔ اور یہ بھی جانتا ہوں کہ یاشم بہت جنونی اور ضدی ہے۔۔۔۔ پر میں تمہیں اپنی بہو کے روپ میں قطعی تسلیم نہیں کر سکتا۔۔۔۔” ان کی باتوں پر راعنہ نے سر جھکا لیا۔
“سر۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ یاشم کا دل نہیں توڑ سکتی۔۔۔۔” راعنہ بمشکل کہہ سکی۔
“تمہیں جو چاہیئے۔۔۔۔۔ میں دینے کے لیے تیار ہوں۔۔۔۔ اپنی قیمت بتاو۔۔۔۔۔ بس میرے بیٹے کی زندگی سے نکل جاو۔۔۔۔” اب کی بار انہوں نے انگلی اٹھا کر سختی سے تنبیہہ کیا۔
راعنہ نے آنکھیں بند کر کے آنسو اندر اتار کر خود کو کمپوز کیا اور یاشم کو انکار کرنے چلی گئی۔
(حال)
“یاشم ٹھیک نہیں ہے راعنہ۔۔۔۔ اس نے اپنی طبیعت بہت خراب کر دی ہے۔۔۔۔” اس دن کے آفان صاحب اور آج کے آفان صاحب میں زمین آسمان کا فرق تھا۔
راعنہ کا دل دہل گیا۔
“وہ کہتا اسے مرض عشق ہوگیا ہے اور علاج تم ہو۔۔۔۔ راعنہ۔۔۔۔ میں ہی تمہیں یاشم سے دور کیا تھا۔۔۔۔ اور آج۔۔۔۔ میں ہی تمہیں اس کے پاس لے جانے آیا ہوں۔۔۔۔۔ ہاتھ جوڑتا ہوں۔۔۔۔ میرے بیٹے کو بچا لو۔۔۔۔” آفان صاحب نے بے بسی سے سر جھکا کر ہاتھ جوڑے۔
“سر پلیززز۔۔۔۔ شرمندہ مت کیجیئے۔۔۔۔” راعنہ نے آگے آکر ان کے ہاتھ تھام لیئے تھے۔
“بھا ڑ میں گئی دنیا داری اور لوگوں کی باتیں۔۔۔۔ مجھے میرا بیٹا چاہیئے۔۔۔۔ اور میرے بیٹے کو تم۔۔۔۔ آج سے پہلے میں نے اس کی ایسی حالت کبھی نہیں دیکھی۔۔۔۔ ” آفان صاحب کی آنکھوں میں یاشم کا عکس لہرایا تو بے اختیار رو پڑے۔
“سر۔۔۔۔ سنبھالے خود کو۔۔۔۔” راعنہ نے ان کو کندھوں سے تھام کر سہارا دیتے صوفے پر بیٹھایا۔
“تم چلو میرے ساتھ۔۔۔۔ پلیزز راعنہ۔۔۔۔ مجھے تمہاری ہر شرط منظور ہے۔۔۔۔ میں تمہاری اور یاشم کی شادی کروانے راضی ہوں۔۔۔۔ بس اس کے پاس چلو۔۔۔۔” آفان صاحب نے بھیگے رخسار صاف کرتے موہوم سی امید کے ساتھ راعنہ کو دیکھا۔
راعنہ دوہری کیفیت کا شکار ہو رہی تھی۔ آفان صاحب کے سنبھل جانے کے بعد وہ دونوں ڈرائنگ روم سے باہر آئے تو بابا ممی حمدان اریبہ، سبھی لاؤنج میں کھڑے منتظر تھے۔ راعنہ نے سرسری سا سارا معاملہ ان سب کے گوش گزار کیا۔
“ہرگز نہیں۔۔۔۔” بابا اونچی آواز میں غرائے۔
ایک لمحے کے لیے سب مکمل خاموش ہوگئے۔
“میری بیٹی کوئی کھیلونا ہے۔۔۔۔ جسے آپ کبھی دتکار دیں تو کبھی اپنانے آجائیں۔۔۔۔ میری بیٹی مجھ پر بوجھ نہیں ہے جسے اس طرح کی تذلیل سہنی پڑے۔۔۔۔ راعنہ کہی نہیں جائے گی۔۔۔۔” شعیب صاحب نے ہاتھ پیچھے باندھے اہم فیصلہ کیا۔
“پر بابا۔۔۔۔” راعنہ نے سمجھانا چاہا پر انہوں نے ہاتھ بلند کر کے روک لیا۔
“نہیں راعنہ۔۔۔۔ تم ان کی باتوں میں آکر جذباتی فیصلہ نہیں کرو گی۔۔۔۔” بابا نے درشتی سے کہا۔
“بابا آپی کی بات تو سن لیں۔۔۔۔” حمدان نے مداخلت کی مگر بابا نے اسے بھی ڈپٹا تو ممی آگے آکر ان کے رو بہ رو ہوئیں۔
“نہیں شعیب۔۔۔۔۔ آج فیصلہ راعنہ خود کرے گی۔۔۔۔ ہم ایک مرتبہ اس پر اپنی مرضی مسلت کر کے اس کے ساتھ بہت زیادتی کر چکے ہیں۔۔۔۔ اب دوبارہ نہیں۔۔۔۔” عاطرہ بیگم نے اشک بار آنکھوں سے انہیں دیکھا۔
شعیب صاحب کے عصاب ڈھیلے پڑ گئے مگر نظروں چہرہ سپاٹ رہا۔ ممی گھوم کر راعنہ کے پاس آئی اور اس کا چہرا اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔
“تم کیا چاہتی ہو میری بچی۔۔۔۔” انہوں نے نرمی سے پوچھا تھا۔
“میں یاشم کی خوشیاں چاہتی ہوں ممی۔۔۔۔” راعنہ نے اسی نرمی سے جواب دیا۔
“اور یاشم کی خوشیاں تم سے ہیں۔۔۔۔۔ جاو۔۔۔۔ ” عاطرہ بیگم اس کا مطلب سمجھ گئی اور گال تھپتھپا کر آفان صاحب کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔
راعنہ نے پھیکا مسکرا ان کے عقب میں نظر آتے بابا کو دیکھا اور ممی کا ہاتھ ہٹا کر ان کے قریب آگئی۔
“بابا۔۔۔۔ میں آپ کے اجازت کے بغیر نہیں جاوں گی۔۔۔۔ آپ میرے بابا ہیں۔۔۔۔ میرے سب کچھ۔۔۔۔ آپ کی خوشی سب سے پہلے ہیں۔۔۔۔ ” راعنہ ان کے کندھے سے سر ٹکا گئی۔
شعیب صاحب نے اس کے گرد بازو حمائل کر کے خود سے لگایا۔ اس کے پیشانی پر محبت بھرا بوسہ دیتے مسکرا کر سر کو جنبش دیتے ہامی بھری۔
آفان صاحب راعنہ کی تربیت، اس کے اخلاق و کردار دیکھ کر محظوظ ہوئے تھے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“آفان آپ کہاں چلے گئے تھے۔۔۔۔ یاشم اب بھی نا کچھ کھا رہا ہے نا پی رہا ہے۔۔۔۔۔” فریحہ بیگم ان کو گھر میں داخل ہوتے بولی۔
آفان صاحب کے ساتھ ساتھ راعنہ نے گھر کے اندر قدم رکھا تو کئی سارے احساسات نے اسے گھیر لیا تھا۔ وہ محظوظ ہوتے ہوئے پورے گھر کا جائزہ لیتے آگے بڑھنے لگی۔ پچھلی مرتبہ وہ شاہ پیلس سے منسلک گیسٹ ہاؤس تک ہی آئی تھی۔ پیلس کا یہ حصہ پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا تھا۔
“میں اسے لانے گیا تھا۔۔۔۔ یہ راعنہ ہے۔۔۔۔” آفان صاحب نے بیوی کی شکایت کا مدھم لہجے میں جواب دیا۔
راعنہ سلام کرتے فریحہ بیگم کے آگے ہوئی۔ انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر سلام کا جواب دیتے اسے خود سے لگایا اور مشکور ہوتے آفان صاحب کو دیکھا۔
“چلو راعنہ۔۔۔۔ یاشم اپنے کمرے میں ہے۔۔۔۔” آفان صاحب کی آواز پر راعنہ فریحہ بیگم سے الگ ہوئی اور ان کے پیچھے ہو لی۔
وہ بڑی کشادہ جدید ڈیزائن کی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہلے کمرے میں آئے۔ یاشم کا کمرہ گھر میں سب سے بڑا اور عالی شان بنایا گیا تھا پر اس شاہی کمرے میں بھی یاشم تاریکی میں ایک کونے میں مایوس بیٹھا تھا۔
“یاشم۔۔۔۔ دیکھو کون آیا ہے۔۔۔۔” آفان صاحب نے محتاط اندازے میں مخاطب کیا۔
راعنہ اس کی بکھری حالت دیکھ کر حیران رہ گئی تھی۔
یاشم نے بے زاری سے سر اٹھا کر نظریں اس جانب گھمائی اور بابا کے ساتھ کھڑی راعنہ کو دیکھتا ہی رہ گیا۔ ایک جھٹکے سے مانو اس میں زندگی کی رمق لوٹ آئی ہو۔ وہ خوش ہوتے جگہ سے اٹھا مگر کمزوری کے باعث لڑکھڑا گیا۔ ڈگمگاتے ہوئے وہ تیزی سے بابا کے آغوش سے لگ گیا۔ نظریں اس کی راعنہ پر ہی مرکوز تھی۔
“تھینکیو بابا۔۔۔۔ تھینکیو سو مچ۔۔۔۔” بابا کے گرد بازووں کا حلقہ تنگ کرتے وہ مشکور ہوا۔
“چلو۔۔۔۔ اب اپنی حالت ٹھیک کرو۔۔۔۔ پھر ہمیں شعیب صاحب باقاعدہ رشتے کی بات کرنے بھی تو جانا ہے۔۔۔۔” بابا نے اس کی پیٹھ تھپتھپا کر حوصلہ افزائی کی۔
رشتے کی بات پر یاشم کھل کر مسکرا دیا تو وہیں راعنہ نے بلش کرتے نظریں جھکا لی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔
