Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Nadamat) Episode 12

یاشم اپنا کام ختم کر کے پولیس نفری لیئے بٹ ہاوس پہنچا تو زینی کو گھر پر دیکھ کر حیران ہوگیا۔
“زینی۔۔۔۔ کہاں تھی آپ۔۔۔۔۔” اس نے معصومیت سے زینی کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا تھا۔
“مما کے دوست کے ساتھ تھی۔۔۔۔” زینی نے لاپرواہی سے شانے اچکائے۔
“اوووو۔۔۔۔ کتنے دوست ہیں آپ کی مما کے۔۔۔۔” یاشم نے دانت پر دانت جمائے ہوئے راعنہ کو دیکھا تھا۔
یاشم کے اس تبصرہ پر راعنہ کے آبرو تن گئے تو وہیں شعیب صاحب طیش میں آگئے۔ سب سے پہلے انہوں نے پولیس نفری کو واپس بھیجا اور پھر یاشم کے جانب مڑے۔
“میری بیٹی کے کردار پر انگلی اٹھا رہیں ہیں آپ۔۔۔۔ ” انہوں نے سرخ چہرہ یاشم کے سامنے کیا۔
“آپ کی بیٹی۔۔۔۔ کچھ دیر قبل۔۔۔۔ مجھ پر اپنی بیٹی کے کڈنیپنگ کا الزام لگا رہی تھی۔۔۔۔۔۔ میرے کردار کو جو برا بھلا کہا وہ کچھ نہیں۔۔۔۔” یاشم نے اسی انداز میں جواب دیا۔
شعیب صاحب نے حیرت سے راعنہ کے جانب دیکھا۔ راعنہ بابا کی شکوہ کن نظروں سے خفیف ہو کر سر جھکا گئی۔ یاشم اپنے رویئے پر افسوس کرتے سر جھٹک کر لب بھینجے روانہ ہوگیا۔
“یاشم۔۔۔۔ ” راعنہ اس کے پیچھے گیٹ تک آگئی۔
اس کی پکار پر یاشم رک گیا تھا۔
“آئی ایم سوری۔۔۔۔ ایک مس انڈرسٹینڈنگ ہوگئی تھی۔۔۔۔” راعنہ نے اپنے برتاو پر شرمندہ ہوتے معذرت چاہی۔
“اس مس انڈرسٹینڈنگ کے لیے تو معاف کر بھی دوں راعنہ۔۔۔۔ پر میرا دل توڑنے پر کیسے معاف کروں۔۔۔۔” یاشم کے دل میں ٹھیس سی اٹھی تھی۔
راعنہ نے بھیگی پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا۔ ایک پل کو سیاہ آنکھیں ہیزل گرین آنکھوں میں مقید ہوگئی۔ یاشم کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی۔ وہ پلک تک نہ جھپکا سکا۔ راعنہ کی آنکھوں میں اس کے درد کی داستان رقم تھی۔ یاشم اس کی تکلیف کو محسوس کرتا دہل گیا۔
“کون ہے وہ۔۔۔۔۔ آپ کا ایکس ہسبینڈ کون ہے۔۔۔۔ وہ ہی ایلزینا کے معاملے میں آپ کو پریشان کر رہا ہے نا۔۔۔۔” یاشم بنا کہے بھی راعنہ کے دل کی کیفیت سمجھ گیا تھا۔
راعنہ نے نظریں نیچی کر لی۔
“مجھے سچ بتاو۔۔۔۔ کیا ہوا ہے آپ کے ماضی میں۔۔۔۔ کون ہے وہ۔۔۔۔ ڈائوورس کیوں ہوا آپ کا۔۔۔۔۔ پلیزز راعنہ مجھے سب سچ بتاو۔۔۔۔ میں سچ جاننا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔” یاشم التجا کرنے لگا۔
راعنہ نے لمبا سانس خارج کر کے بولنا شروع کیا۔
“نوریز صدیقی۔۔۔۔۔ ان کا نام نوریز صدیقی ہے۔۔۔۔” راعنہ انگلیاں مڑوڑتی گویا ہوئی۔
نوریز کا نام سن کر یاشم پر مانو آسمان ٹوٹ پڑا تھا۔
* ماضی
موسم بہار کی اس خوشگوار شام بٹ ہاوس کے مکین لان میں ڈھیرا جمائے ہوئے تھے۔ شعیب صاحب اور عاطرہ بیگم راکنگ چئیر پر بیٹھے چائے سے لطف اندوز ہورہیں تھے اور ان کے تینوں بچے آپس میں کرکٹ کھیلنے میں مصروف تھے۔
صدیف بیٹنگ کر رہا تھا اور راعنہ باولنگ۔ حمدان حسب معمول ایمپائر کا کردار نبھا رہا تھا۔
راعنہ نے وکٹ کا نشانہ بنا کر بال کرائی تو صدیف نے بیٹ اوپر گھما کر چھکا دے مارا۔
“کیچ۔۔۔۔ ” راعنہ بال کو ہوا میں بلند ہوتے دیکھ کر چلائی تھی۔
اسی اثنا آیت گیٹ سے اندر داخل ہورہی تھی۔ اپنے جانب بال آتے دیکھ اس نے لمبا جمپ لگا کر بال کیچ کر لی۔
“ییییییی۔۔۔۔۔۔ آوٹ۔۔۔۔۔ بھئیاں آوٹ ہوگئے۔۔۔۔۔” اپنی جگہ پر کھڑی اچھل کر راعنہ نے اپنی جیت کا اعلان کیا۔
“ایسے کیسے آوٹ۔۔۔۔ آیت تو ٹیم میں ہی نہیں تھی۔۔۔۔” حمدان نے ایمپائر کا کردار ادا کرتے ہوئے سوال اٹھایا۔
“آوٹ ہی ہے۔۔۔۔۔ آیت ہمیشہ سے میری ٹیم میں ہے۔۔۔۔۔ میں جیت گئی۔۔۔۔۔” راعنہ نے ناک بو چڑھاتے حمدان کو تنگ کیا اور آیت کے جانب بڑھ گئی۔
آیت ہاتھوں میں گیند پکڑے شرمندگی سے صدیف کو دیکھ رہی تھی جو بلا وجہ آوٹ ہو کر میدان سے باہر جا رہا تھا۔
“حمدان چلو اب تم مجھے باولنگ کراو۔۔۔۔” راعنہ نے آیت کے ہاتھ سے بال لے کر حمدان کے جانب اچھالی۔
صدیف نے بیٹ راعنہ کو دیا اور خود سائیڈ پر کھڑا ہوگیا۔ آیت کیچر سے نکلتی لٹوں کو پیچھے کرتی اس کے پاس آئی۔
“آئی ایم سوری۔۔۔۔ مجھے پتا نہیں تھا بیٹنگ پر آپ ہے۔۔۔۔ ورنہ میں بال کیچ نہیں کرتی۔۔۔۔” آیت نے افسردگی سے معافی مانگی۔
“اٹس اوکے۔۔۔ کوئی بات نہیں۔۔۔۔ یہ تو بس کھیل ہے۔۔۔۔” صدیف نے خوش اخلاقی سے جواب دیا۔
آیت اس کے جواب پر پُر سکون ہو کر حمدان اور راعنہ کا کھیل دیکھنے لگی۔
آیت اور راعنہ بچپن سے بیسٹ فرینڈز تھی۔ اکثر ایک دوسرے کے گھر آنا جانا لگا رہتا پر پچھلے کچھ دنوں سے آیت کی صدیف کے جانب دلچسپی بڑھنے لگی تھی۔ وہ اچانک اس کے رو بہ رو آجانے پر بلش کرنے لگتی۔ اس کی یہ کیفیت صدیف سے چھپی نہیں تھی۔ وہ اپنے طرف آیت کی بڑھتی دلچسپی سے محظوظ ہونے لگتا مگر بہ ظاہر خود کو انجان رکھے ہوئے تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ آیت اور صدیف ایک ہی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔ صدیف ان دونوں سے سینئیر تھا جبکہ راعنہ اور آیت ایک ہی سال کی الگ الگ ڈیپارٹمنٹس کی طالب علما تھیں۔ دونوں ہی ایک دوسرے سے جان نثار کرنے کی حد تک محبت کرتی تھیں۔
ایک دن وہ دونوں یونیورسٹی کے فٹ پاتھ پر ساتھ ساتھ باتیں کرتیں چل رہی تھیں کہ درخت کے پاس کھڑے لڑکوں کے ایک گروپ نے ان کو دیکھ کر بلند آواز میں گانا شروع کیا۔
“میرا دل یہ پکارے آجا۔۔۔۔ اس غم کے سہارے آجا۔۔۔۔ بھیگا بھیگا ہے سما۔۔۔۔ کبھی ملو تو یہاں۔۔۔۔” گروپ میں سے ایک لڑکے کی نظریں کبھی آیت پر تو کبھی راعنہ پر رکتی۔
راعنہ نے تندی سے اسے گھورا اور اس جانب جانے لگی لیکن آیت نے روک لیا تھا۔
“چھوڑو۔۔۔۔ منہ مت لگو ان کے۔۔۔۔ ہمارے دھیان دینے سے ان کو مزید شہہ مل جائے گی۔۔۔۔ چلو۔۔۔۔” آیت نے راعنہ کا بازو تھام کر اسے دوسری سمت لے جاتے ہوئے کہا۔
اس دن تو راعنہ چپ کر کے چلی گئی تھی لیکن اگلے کئی دنوں تک ان لڑکوں کا یہی عمل جاری رہا۔ زبانی ہراسمنٹ تک تو ٹھیک تھا لیکن ایک دن جب اس گانے والے لڑکے نے پاس میں سے گزرتے ہوئے آیت کے کندھے پر ٹکر ماری تو راعنہ سے برداشت نہ ہوا۔
“اے رکو۔۔۔۔ یہ کیا بد تمیزی ہے۔۔۔۔ آوارہ گردی کرنے آتے ہو یونیورسٹی۔۔۔۔۔” راعنہ نے غراتے ہوئے ٹوکا۔
“اووو بےبی ڈول کو برا لگا۔۔۔۔۔ چل تُو اس سے ٹکرا کر آآ۔۔۔۔” اس لڑکے نے جتاتے ہوئے کہا اور اپنے ساتھی کو ہدایت دی۔
“راعنہ چلو یہاں سے۔۔۔۔” آیت نے پریشانی سے اسے پکارا۔
راعنہ اپنے جگہ پر کھڑی سینے پر ہاتھ باندھے دوسرے لڑکے کی حرکات و سکنات مشاہدہ کر رہی تھی۔ وہ لڑکا اپنے پہلے ساتھی کو فخریہ مسکراہٹ دے کر راعنہ کے قریب آیا تھا کہ راعنہ نے پورے تاب سے اسے زناٹے دار تھپڑ رسید کیا۔ تھپڑ اتنا شدت بھرا تھا کہ وہ لڑکا اچھل کر گر پڑا۔ پہلے ساتھی کی آنکھیں پھیل گئی تو دوسری طرف آیت نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔
“آئیندہ ہمیں پریشان کیا تو ایک ایک کا منہ توڑ دوں گی۔۔۔۔” راعنہ نے انگلی اٹھا کر غضب ناک تاثرات بنائے ان لڑکوں کو دھمکایا اور آیت کا ہاتھ پکڑ کر روانہ ہوگئی۔
وہ چاروں لڑکے ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے۔
“اسے اپنے طریقے سے سبق سیکھانا پڑے گا۔۔۔۔۔” ان کے گروپ لیڈر نے نفرت سے سوچا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
ڈیپارٹمنٹ چئیرمین کا بیٹا ہونے کے ناطے نوریز کو ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے فوراً بعد ہی فرسٹ ائیر پری میڈکل کے کیمسٹری پروفیسر کی نوکری پر فائز کیا گیا۔ ویسے تو نوریز شروع سے ہی اپنے حُسن پر غرور اور اپنے تعلیمی فیلڈ میں اعلی کارگردگی پر فخر کیا کرتا تھا لیکن پروفیسر بن جانے کے بعد اس کی انا ساتویں آسمان کو چھونے لگی۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی سحر انگیز اور دلکش پرسنیلٹی کے باعث وہ مخالف جنس میں کافی مقبول تھا۔ اساتذہ ہوتیں یا اسٹوڈنٹس، نوریز سے چند لمحے کی گفتگو بھی کئی دنوں تک انہیں سحر میں جکڑے رکھتیں۔
نوریز کے ارد گرد صنف نازک کی کمی نہ تھی لیکن جس کم سن اور حسین دوشیزہ نے اس کی راتوں کی نیند اڑا دی تھی وہ فرسٹ ائیر پری میڈکل کی اسٹوڈنٹ نین عبدالعزیز تھی۔
نین عبدالعزیز خان کا تعلق پیشاور کے سرسبز و شاداب وادی سوات سے تھا۔ سوات کی سی خوبصورتی نین کو وراثت میں ملی تھی۔لمبا قد اسمارٹ جسامت، سبز آنکھیں اور بھورے بال، ایک برابر ناک، گلابی ہونٹ، وہ گول معصوم چہرا دیکھ کر مخالف جنس فریفتہ ہوئے بغیر نہ رہ پاتے۔
نوریز کی کیفیت بھی یکساں تھی لیکن وہ جس جذبے کو پسندیدگی کا نام دے رہا تھا وہ در حقیقت ہوس کی بھوک تھی جس کی بھینٹ ایک معصوم جان چڑھنے والی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
اس روز کیمسٹری لیب میں پروفیسر نوریز صدیقی کے زیر نگرانی پریکٹیکل چل رہا تھا۔ نین اپنے ٹیم کے ساتھ کھڑی، سفید کوٹ اور لیب کی مخصوص گلاسس پہنے کیمیکلز پر تجربہ آزما رہی تھی۔ ٹیسٹ ٹیوب میں سلفیورک ایسڈ کی کچھ مقدار ڈال کر وہ وائٹ بورڈ پر لکھے اگلے کیمیکل کا نام دیکھ رہی تھی جب اس کی پروفیسر نوریز پر نظر پڑی۔ وہ مسلسل حسرت بھری نگاہوں سے اسی کو دیکھ رہیں تھے۔ نین نادانی اور کم عمری کے دور میں نوریز کے نظروں کی حدت سے گھبرا گئی اور ٹیسٹ ٹیوب اس کے ہاتھ سے پھسل کر ٹوٹ گیا۔
نوریز ایک جھٹکے سے اس کے سر پر پہنچا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔
“دھیان سے نین۔۔۔۔ یہ ایسڈ ہے۔۔۔۔ اس کی ایک چھنٹ بھی تمہارے نازک ہاتھوں کو جلا سکتی ہے۔۔۔۔” نوریز نے اپنے ہاتھوں میں لیئے نین کے ہاتھ کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔
نین کی سرخ و سفید ہتھیلی گھبراہٹ سے مزید سرخ ہورہی تھی۔ اس نے سر جھکا کر اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا لیکن نوریز کی گرفت سے آزاد نا ہوسکی۔ بقیہ اسٹوڈنٹس تجربات چھوڑ کر ان کا تماشہ دیکھنے لگیں۔
“سب اپنا اپنا پریکٹیکل مکمل کریں۔۔۔۔ ” نوریز نے سختی سے اعلانیہ صورت صدا بلند کی تو اسٹوڈنٹس ہڑبڑا کر اپنے کام میں جھٹ گئے۔
“تم چلو۔۔۔۔ تمہارے ہاتھ کو واش کرواتے ہیں۔۔۔۔ الرجی ہو جائے گی۔۔۔۔” نین کا ہاتھ تھامے وہ اسے اپنے ساتھ لیب سے منسلک ریسٹ روم میں لے آیا۔
“سر میں خود کر لوں گی۔۔۔۔ ” نین نے ہمت کر کے اپنا ہاتھ چھڑایا۔
نوریز کے عصاب تن گئے تھے پر وہ ڈیوٹی کے دوران مس بہیو نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے ایک سائیڈ پر ہوگیا۔ نین نے کانپتے ہوئے تیزی سے واش بیسن میں ہاتھ دھوئے اور نوریز کو نظر انداز کر کے اس کے سائیڈ سے گزر کر باہر آگئی۔
نادانی میں اسے یونیورسٹی کے سب سے چارمنگ اور ینگ پروفیسر کا اپنے لیے پریشان ہونا اچھا بھی لگ رہا تھا لیکن اس کی چھٹی حس اسے محتاط بھی کر رہی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
یہ موسم گرما کے ایک تپتی دوپہر کا منظر ہے۔ راعنہ کی ایکسٹرا کلاس چل رہی تھی اس لیے آیت اکیلے روانہ ہوگئی۔ ڈیپارٹمنٹ سے یونی کے مین گیٹ تک درختوں کے مابین ایک لمبا پختہ راستہ تھا جو آیت کو آج اکیلے پار کرنا تھا۔
تپتی دھوپ میں اس پہر کسی کسی درخت کے سائے تلے ایک آدھ اسٹوڈنٹ بیٹھا نظر آتا۔
آیت اپنے خیالوں میں گم سر پر کتاب سے سایہ کئے چل رہی تھی جب ایک درخت کے پاس اسے وہی لڑکوں کا گروپ نظر آیا۔ آیت ٹھٹک کر رک گئی وہیں ان لڑکوں نے بھی اسے دیکھ لیا تھا۔
“آج اچھا موقع ہے۔۔۔۔ اس کی وہ فرینڈ بھی ساتھ نہیں ہے۔۔۔۔ مل کر دھر لیتے ہیں۔۔۔۔۔” ایک لڑکے نے حقارت بھری نظروں سے آیت کو دیکھتے ہوئے جملہ کسا۔
آیت کا گلا خشک ہونے لگا اس نے دائیں سے بائیں کسی گارڈ یا پروفیسر کی تلاش کی پر کوئی نا ملا۔ آیت مین گیٹ اپنے سامنے دیکھ سکتی تھی اب اتنی دور آکر اس کے لیے واپس جانا مشکل تھا۔ لڑکوں کے ہاتھوں ہراساں ہونے سے بچنے کی ترقیب سوچتی اسے روش کے دوسرے سمت صدیف اور فواد اختر نظر آئے۔ آیت نے سکون کا سانس لیا اور تیزی سے اس سمت بھاگی۔
“ایکسیوز می۔۔۔۔ صدیف۔۔۔۔” سر جھکائے جھجکتے ہوئے اس نے صدیف کو مخاطب کیا۔
صدیف حیرت زدہ ہو کر پیچھے مڑا۔
“وہ ایکچیولی۔۔۔۔ راعنہ کی ایکسٹرا کلاس چل رہی تھی۔۔۔۔ آپ میرے ساتھ مین گیٹ تک آجائے گے۔۔۔۔ اکیلے جاتے ہوئے ٹھیک نہیں لگ رہا۔۔۔۔” آیت نے پھیکا مسکرا کر وضاحت دی۔
صدیف سر اثابت میں ہلا کر فواد سے معذرت کرتا آیت کے ساتھ چل پڑا۔ آیت سر جھکائے بار بار گلا تر کرتی مضطرب سی چل رہی تھی۔ اس کی یہ کیفیت دیکھ کر صدیف نے مشکوک انداز میں اسے دیکھا اور پھر تیز نظروں سے چاروں اطراف کا جائزہ لیا۔
ایک درخت کے پاس چار لڑکوں کا گروپ اسی سمت دیکھتے ہوئے ملا۔ اتنا اچھا موقع ہاتھ سے چلے جانے پر وہ ہاتھ ملتے رہ گئے تھے۔ صدیف کے تاثرات سپاٹ ہوگئے۔ وہ گھوم کر آیت کے بائیں جانب آگیا جس سے وہ ان لڑکوں کی نظروں سے چھپ گئی۔ صدیف کی اس تحفظ پر آیت بلش کرنے لگی اس کے دل میں پیار مزید بڑھنے لگا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
آیت اور راعنہ کے فرینڈشپ کے چلتے دونوں فیملیز میں بھی اچھا میل ملاپ تھا۔ رمضان عید سالگرہ ہر دکھ سکھ میں ساتھ ہوا کرتے تھے۔
آیت کی صدیف کے جانب بڑھتی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے راعنہ نے فائنل ایگزامز کے بعد ان دونوں کی شادی کروانے کا فیصلہ کیا۔
اس شام سب کی موجودگی میں راعنہ نے صدیف کی شادی کا موضوع چھیڑا۔
“میرے خیال سے صدیف بھئیاں کی اب شادی کرا دینی چاہیئے۔۔۔۔ کیوں بابا۔۔۔۔” راعنہ نے محظوظ ہوتے ہوئے باری باری سب کو دیکھا۔
“ہاں کرا تو دینی چاہیئے۔۔۔ ” شعیب صاحب نے سر کو جنبش دیتے ہامی بھری۔
“آیت کیسی رہے گی۔۔۔۔ کیوں بھئیاں۔۔۔۔ آیت سے شادی کرو گے۔۔۔۔” راعنہ نے بابا کی رضامندی ملتے ہی بولا۔
صدیف اس کے ڈائریکٹ سوال پر گڑبڑا گیا۔
“راعنہ۔۔۔۔ بابا طے کر لیں گے۔۔۔۔ ” صدیف نے اسے آنکھیں دکھائی۔
راعنہ منہ بنائے خاموش ہوگئی۔ اس دوران عاطرہ بیگم اور شعیب صاحب آیت کے معاملے میں تبادلہ خیال کرنے لگے۔ راعنہ دل ہی دل مطمئن تھی کہ بابا اور ممی کو اعتراض کرنے کا کوئی پوائنٹ نہیں ملے گا آخر کو اس کی فرینڈ اتنی اچھی جو ہے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
اگلے دن یونیورسٹی آتے ہی وہ آیت سے لپٹ گئی۔
“کیا ہوگیا بھئی۔۔۔۔ کہی عمران ہاشمی کی روح تو نہیں آگئی تم میں۔۔۔۔ ” آیت کسمسا کر پیچھے ہٹ گئی۔
“عمران ہاشمی تو کوئی اور بن کر دکھائے گا تمہیں۔۔۔۔ بس تھوڑا اور انتظار۔۔۔۔” راعنہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر خیالی طور پر آیت اور صدیف کو میاں بیوی کے جوڑے میں سجے دیکھا۔
“لگتا ہے تم ابھی بھی نیند میں ہو۔۔۔۔ اٹھ جاو میڈم۔۔۔ ” آیت نے اس کا ہاتھ پرے ہٹا دیا اور خود کلاس کے سمت بڑھ گئی۔
راعنہ، بابا اور ممی کے فائنل فیصلے تک اسے انجان رکھنا چاہتی تھی اس لیے اپنی خوشی دل میں دبا کر اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف روانہ ہوگئی۔
آیت اور صدیف کے بارے میں سوچتے ہوئے وہ اپنے کلاس میں داخل ہوتے امتثال سے رو بہ رو ہوئی۔ امتثال نے تیزی سے اپنے قدم جما لیئے ورنہ راعنہ سے ٹکرا جاتا۔
“سوری میں۔۔۔۔” امتثال نے معذرت چاہی پر راعنہ نے ٹوک لیا۔
“نو آئی ایم سوری۔۔۔۔ میں ہی دیکھ کر نہیں چل رہی تھی۔۔۔” راعنہ نے آبرو اٹھا کر چمکتی آنکھوں سے مسکرا کر معافی مانگی۔
“اٹس اوکے۔۔۔۔” امتثال مسکرا دیا اور سائیڈ پر ہو کر پہلے راعنہ کو گزرنے کی جگہ دی۔ راعنہ سر جھکائے بلش کرتی اس کے سامنے سے گزر کر اپنی سیٹ پر آگئی۔ نظریں اس کی امتثال پر ہی جمی ہوئی تھی۔ دل ہی دل راعنہ اسے پسند کرنے لگی تھی جس کی خبر آیت کو بھی نہ تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
واپسی پر آیت پہلے نکل گئی۔ راعنہ کو لائبریری میں کچھ کام تھا۔ صدیف بار بار گھڑی پر وقت دیکھتے آیت کے پاس آکر راعنہ کا پوچھنے لگا۔
“وہ لائبریری گئی تھی۔۔۔۔ پر بکس واپس کرانے میں کتنی دیر لگتی ہے۔۔۔۔ اب تک تو آ جانا چاہیئے تھا۔۔۔۔” آیت کو بھی فکر ہونے لگی۔
“میں دیکھ کر آتا ہوں۔۔۔۔” صدیف نے لائبریری کا رخ کیا۔
“صدیف۔۔۔ میں بھی ساتھ چلتی ہوں۔۔۔۔” آیت اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی۔
وہیں دوسری جانب راعنہ بکس لائبریری کے شیلف پر واپس رکھ کر مڑی تھی کہ ان لڑکوں کے گروپ نے اسے گھیر لیا۔ راعنہ باری باری ان چاروں کو دیکھ کر گھبرا گئی اور پیچھے ہٹنے لگی۔
“کیا ہوا۔۔۔۔ اس دن تو بڑی شیرنی بن رہی تھی۔۔۔۔ آج بھیگی بلی کیوں بن گئی۔۔۔۔” ایک لڑکے نے سامنے آکر اس کا راستہ روکا۔
راعنہ خود کو کمپوز رکھتے ہوئے دوسرے سمت کے نکلنے کی کوشش میں جٹ گئی۔
“تھپڑ مارا تھا نا مجھے۔۔۔۔ اب میں بتاتا ہوں کیسا لگتا ہے۔۔۔۔” اس لڑکے نے کہتے ہوئے راعنہ کو مارنے اپنا ہاتھ ہوا میں بلند کیا۔
راعنہ نے سہم کر آنکھیں بند کر دی پر اس لڑکے کا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا۔ صدیف نے عین وقت پر پہنچ کر اسے روک لیا تھا۔ راعنہ نے حیرانگی سے آنکھیں کھولی تو اپنے محافظ بھائی کو اپنے سامنے پایا۔ صدیف کو وہاں دیکھ کر راعنہ کی آنکھیں بھیگ گئی۔ آیت نے آگے آکر راعنہ کو اپنے حصار میں لے لیا تھا۔
“میری نظر میں تو اسی دن آگئے تھے تم لوگ۔۔۔۔ لیکن سبق سیکھانے کا موقع آج ملا ہے۔۔۔۔” صدیف نے دانت پر دانت جمائے ہوئے زور دار ضرب لگائی۔
وہ لڑکا جھٹکا کھاتا دور گر پڑا۔ آیت اور راعنہ، صدیف کے غضب ناک تاثرات دیکھ کر مزید پریشان ہوگئیں۔ ایک کے بعد دوسرا ضرب لگاتے صدیف نے ان چاروں کو زمین بوس کر دیا۔
“بھئیاں بس کر دو۔۔۔۔۔” راعنہ نے متذبذب ہوتے صدیف کو پکارا پر وہ مسلسل ان لڑکوں پر لاتوں اور مقوں کی برسات کرتا رہا۔
لائبریری میں توڑ پھوڑ کی آوازیں سن کر لائبریرین اور چند پروفیسرز نے تیزی سے صدیف کو جکڑ کر ان لڑکوں سے دور کیا۔ راعنہ پروفیسرز سے معذرت کرتی صدیف کا بازو تھامے لائبریری سے باہر لے آئی۔
“اتنا مارنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔ دیکھو۔۔۔۔ خود بھی چوٹ لگ گئی نا۔۔۔۔” راعنہ منہ بنائے صدیف کے ہاتھ پر لگے زخم پر سے خون کو صاف کرنے لگی۔
“کوئی میری بہن کے ساتھ مس بہیو کرے گا تو میں اس کا منہ توڑ دوں گا۔۔۔۔” صدیف کا غصہ عوض برقرار تھا۔
راعنہ سر جھٹک کر اس کے کندھے سے لگ گئی۔ صدیف نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے تھپتھپاتے تحفظ کا احساس دلایا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“سر آپ نے بلایا۔۔۔۔” نین اسٹاف روم کے دروازے پر دستک دے کر کنکاری۔
اسٹاف روم میں فل وقت نوریز اکیلے بیٹھا تھا۔ اسائنمنٹ چیک کرتے ہوئے نین کی اسائنمنٹ ہاتھ میں اٹھائے اس نے ملازم کو اسے بلانے بھیجا تھا۔
“ہاں نین۔۔۔۔۔ آو اندر آو۔۔۔۔” نوریز نے سر تا پیر اسے دیکھتے ہوئے اندر آنے کی اجازت دی۔
نین جھجکتے ہوئے اندر داخل ہوئی اور نوریز کے ہاتھ میں اپنا اسائنمنٹ دیکھ کر پریشان ہونے لگی۔
“نین۔۔۔۔۔ calcium carbonate کی کیا خصوصیات ہیں۔۔۔۔” نوریز نے تھیوڑی چڑھا کر پوچھا تھا۔
نین کو جواب تو آتا تھا لیکن نوریز کی نظروں سے مضطرب ہو کر اس پر لرزش طاری ہوگئی۔
“ووو وہ۔۔۔۔ ااااہ۔۔۔۔۔ ” نین دماغ پر زور ڈالتی جواب دہرانے لگی تھی پر نوریز کھڑا ہو کر اس کے قریب آیا۔
“چلو چھوڑو۔۔۔۔ میرے ساتھ ڈنر پر چلو گی۔۔۔۔ میں سارا لیکچر پھر سے کروا دوں گا۔۔۔۔ ” بلیک پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ نین کے بالکل رو بہ رو آگیا۔
نوریز کی وائٹ شرٹ کے پہلے دو بٹن کھلے تھے جس سے جھلکتی مضبوظ باڈی دیکھ کر اور نتھوں میں پڑتی اس کے پرفیوم کی خوشبو سے نین کی دھڑکنیں بڑھ گئی تھی۔
“میں نوٹس میں سے پڑھ لوں گی سر۔۔۔۔ ” نین سر جھکائے گویا ہوئی۔
نوریز اس کی معصومیت پر سر جھٹک کر مسکرایا۔
“نین۔۔۔۔ تمہارا اسائنمنٹ سبمٹ ہوچکا ہے۔۔۔۔۔ اب نوٹس میں سے پڑھ کر بھی تم دوبارہ چینج نہیں کر سکتی۔۔۔۔ ” نوریز نے جتاتے ہوئے کہا۔
نین کی نیلی آنکھیں بڑی ہوگئی۔ اس نے سر اٹھا کر پہلے نوریز کو دیکھا پھر ٹیبل پر پڑے اپنے اسائنمنٹ کو۔
“اپنے اسائنمنٹ کے نمبرز بچانے ہیں تو۔۔۔۔۔ ویک اینڈ کی شام تیار رہنا۔۔۔۔ میں تمہیں گھر پر پک کرنے آجاوں گا۔۔۔۔۔” نوریز نے اس کے گرد گھوم کر واپس اپنی جگہ پر آتے ہوئے حکم صادر کیا۔
“سر۔۔۔۔ آپ گھر پر مت آنا۔۔۔۔ آپ جہاں بلائیں گے۔۔۔۔ میں خود آجاو گی۔۔۔۔” نوریز کے اپنے گھر پر آنے کا سوچ کر نین دہل گئی۔
نین کی بات پر نوریز کی مسکراہٹ مزید بڑی ہوگئی۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔ میں ایڈریس میسج کر دوں گا۔۔۔۔ ابھی جاو۔۔۔۔ تمہارے کلاس کا وقت ہورہا ہے۔۔۔۔” نوریز نے آگے کا لائحہ عمل سوچتے ہوئے اسے جانے کا اشارہ کیا۔
نین سر کو جنبش دیتے اسٹاف روم سے باہر نکل گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
سنڈے کے دن شعیب صاحب عاطرہ بیگم صدیف اور راعنہ صدیقی ہاوس پہنچے۔ ابتدائی حال احوال دریافت کر کے موضوعِ گفتگو آیت اور صدیف کے رشتے پر آئی۔
“اس دوستی کو رشتہ داری میں بدل دیتے ہیں وارث صاحب۔۔۔۔۔ میں صدیف کے لیے آیت کا رشتہ مانگنے آیا ہوں۔۔۔” شعیب صاحب نے رشتے کی پیشکش کی۔
آیت کی تو خوشیوں کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ اس نے جس کو چاہا وہ ہی اس کا نصیب بننے جا رہا تھا۔ دلی کیفیت صدیف کی بھی کچھ کم نا تھی لیکن بہ ظاہر بڑوں کے مابین اپنے جذبات قابو کئے ہوئے رہا۔
راعنہ نے خوش ہوتے آیت کو آنکھ ماری اور آبرو اٹھا کر تنگ کیا۔ آیت موقع کی نزاکت کو دھیان میں رکھتے سر جھکا گئی۔
شعیب صاحب کی پیشکش پر وارث صاحب اور سنبل بیگم کے درمیان خوشی اور حیرانی کے ملے جلے تاثرات کا تبادلہ ہوا۔ باری باری بیگم اور بیٹی کو دیکھ کر وارث صاحب کنکارے۔
“بہت ہی خوش نصیب ہوتے ہے وہ والدین جن کو بن مانگے اپنی بیٹی کے لیے اتنی اچھی فیملی مل جاتی ہیں۔۔۔۔ میرے پاس اپنے جذبات بیان کرنے الفاظ نہیں ہے شعیب صاحب۔۔۔۔ صدیف تو گھر کا ہی بچہ ہے۔۔۔۔ پر اندر ہی اندر۔۔۔۔۔ بیٹی کی جدائی غمگین بھی کر رہی ہیں۔۔۔۔” وارث صاحب نے ساتھ بیٹھی آیت کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا۔
“آپ بے فکر رہیں۔۔۔۔ ہم آیت کو اپنی بیٹی بنا کر رکھیں گے۔۔۔۔” عاطرہ بیگم نے اپنے جانب سے اضافہ کیا۔
“میں سمجھ سکتا ہوں۔۔۔۔ بیٹیاں بہت انمول ہوتی ہیں۔۔۔۔ میری بھی ایک بیٹی ہے۔۔۔۔۔ اس کی شادی کا سوچ کر اکثر میرا بھی دل اداس ہوجاتا ہے۔۔۔ پر یہی تو دنیا کا دستور ہے۔۔۔۔ بیٹیاں رخصت ہو کر سسرال جاتی ہے۔۔۔۔” شعیب صاحب نے راعنہ کی شادی کو سوچتے ہوئے سر جھٹکا۔
“تو پھر۔۔۔۔ آیت آپ کی۔۔۔۔ اور راعنہ میری۔۔۔۔ راعنہ کا رشتہ نوریز سے کرا دیں۔۔۔۔۔” وارث صاحب نے خوش دلی سے شعیب صاحب کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تھپتھپایا۔
سب میں حیرت انگیز نظروں کا تبادلہ ہوا۔
“پر یہ تو وٹہ سٹہ ہوجائے گا۔۔۔۔” سنبل بیگم کے لیے راعنہ کو بطور بہو تسلیم کرنا مشکل تھا۔
ڈرائنگ روم میں چل رہے گفتگو پر راعنہ نے پریشانی سے پہلو بدلا۔ وہ یہاں آیت اور صدیف کا رشتہ کروانے آئی تھی نہ کہ اپنی بات چلانے۔
“آج کل کے زمانے میں کون ان سب باتوں کو مانتا ہے بیگم۔۔۔۔ چاروں بچے ماشااللہ سے سمجھ دار ہیں۔۔۔۔ سب اپنی اپنی زندگیوں میں سیٹل ہوجائے گے۔۔۔۔ کیوں شعیب صاحب۔۔۔۔” وارث صاحب نے بیگم کی بات لاپرواہی سے اڑا دی۔
ان کے اعتماد سے شعیب صاحب نے خوشی سے سر کو جنبش دیا اور راعنہ کے طرف دیکھا۔ راعنہ مضطرب ہونے لگی پر بابا نے اس کے جھکے سر کو اس کی رضامندی سمجھ کر رشتے کے لیے ہامی بھر دی۔
صدیف، راعنہ کی چہرے پر پریشانی جانچ گیا اس لیے اس نے بات مزید بڑھنے سے پہلے مداخلت کرنا چاہی پر راعنہ نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھ کر روک لیا تھا۔
“منظور ہے وارث صاحب۔۔۔۔” شعیب صاحب رشتہ پکا کرتے اٹھ کھڑے ہوئے۔
“مبارک ہو۔۔۔۔ ڈبل رشتہ داری مبارک ہو۔۔۔۔” وارث صاحب چہکتے ہوئے ان کے بغل گیر ہوگئے۔
عاطرہ بیگم اور سنبل بیگم نے بھی ایک دوسرے کو آغوش میں بھر لیا تھا۔ آپس میں مل کر وارث صاحب راعنہ کے پاس آئے اور شعیب صاحب آیت کے جانب مڑے۔ دونوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی پھر وارث صاحب نے صدیف کو جود سے لگا کر اس کا شانہ تھپتھپایا۔
آیت اور راعنہ نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ آیت بڑی سی مسکراہٹ سجائے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ اپنی خوشی میں اس قدر مگن تھی کہ راعنہ کی پریشانی جانچ نہیں پائی۔
رشتہ طے کر کے جلد ہی منگنی کی رسم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور وقت اور تاریخ طے کرتے بٹ فیملی روانہ ہوگئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔۔