Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Nadamat) Episode 19

اس رات نوریز بیڈ پر نیم دراز ہو کر موبائل پر کوئی فیشن شو دیکھ رہا تھا جب راعنہ نے بات کرنے کی ٹھانی۔
“نوریز۔۔۔۔ آپ جانتے ہو نا۔۔۔۔ آیت کی خوش خبری ہے۔۔۔۔ بھئیاں اور آیت پیرنٹس بننے والے ہیں۔۔۔۔” راعنہ اس کے سائیڈ پر نیم دراز ہو کر نوریز کے کندھے پر ہاتھ رکھے نرمی سے گویا ہوئی۔
نوریز نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ دونوں ہاتھوں سے موبائل تھامے فیشن شو دیکھنے میں مگن رہا۔
“ممی کے طرف سے مجھ پر بہت پریشر ہے۔۔۔۔ وہ چاہتی ہے ہم بھی بےبی پلان کرے۔۔۔۔ ” بات کرتے کرتے اس نے ایک پل خاموش ہو کر نوریز کو دیکھا تھا۔
نوریز بےبی کے نام پر حیران ضرور ہوا لیکن نظریں موبائل اسکرین پر جمائی رکھی۔
“جب سے انہوں نے آیت کی پریگننسی کا سنا ہے۔۔۔ مجھ سے دادی بننے کی فرمائش کر رہی ہیں۔۔۔۔ تو کیوں نا ہم ان کی خواہش پوری کر دیں۔۔۔۔” راعنہ نے پر امید نگاہوں سے اسے دیکھتے سوال کیا۔
نوریز کی غیر دلچسپی سے راعنہ تپ گئی تو چڑ کر اس کا موبائل جھپٹ لیا۔
“میں آپ سے بات کر رہی ہوں نوریز۔۔۔۔ ” راعنہ خفہ ہونے لگی۔ مگر اس کی اس حرکت پر نوریز باقاعدہ طیش میں آگیا۔
“نہیں چاہیئے مجھے بچہ۔۔۔۔ کوئی بےبی پلان نہیں کرنا مجھے۔۔۔۔” غصے سے کہتے اس نے راعنہ کے ہاتھ سے اپنا موبائل واپس لیا اور بیڈ سے اتر کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
کافی دیر تک راعنہ کے سماعتوں میں اس کے جملے گردش کرتے رہے۔ وہ بے یقینی سے اپنی جگہ جامد بیٹھی بند دروازے کو دیکھتی رہی۔ جب خواب ٹوٹتے ہیں تو زندگی بنجر سی لگنے لگتی ہے اور اس وقت بہت دکھ ہوتا ہے جب ہم کسی کے لیے ساری دنیا کو چھوڑ دیں پر وہ خود دنیا میں آگے نکل کر ہمیں اکیلا کر دیتے ہیں۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
یہ وہ منظر ہے جب آیت نے بڑے بیٹے ذیال کو جنم دیا۔ شعیب صاحب کے گھر نئے ممبر کا بہت اچھے سے استقبال ہوا۔ حمدان نے گھر کو نیلے رنگ کے بیلون سے سجا دیا تھا اور تقریبا سب ہی عزیز و اقارب میں میٹھائی بانٹی۔ اس کام میں راعنہ نے بھی بھر پور ساتھ دیا۔
صدیف اپنے گود میں سوئے چھوٹے ذیال کے نرم ہاتھوں پر اپنی انگلی پھیرتے بیڈ پر نیم دراز ہو کر بیٹھی آیت سے مشکور ہوا۔
“آج تم نے مجھے وہ خوشی دی ہے۔۔۔۔۔ جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔۔۔۔ اولاد کی نعمت۔۔۔۔ جس کے لیے اللہ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔۔۔۔” صدیف نے اپنا ایک ہاتھ بڑھا کر آیت کے ہاتھوں پر رکھا۔
آیت نے اپنے دونوں ہاتھوں میں مضبوطی سے اس کا ہاتھ تھام کر بیٹے کو دیکھا۔ آج اس کا رشتہ مزید مضبوط ہوگیا تھا۔ وہ ماں اور باپ کے رتبے پر آگئے تھے۔
خوشی کا سماں تو صدیقی ہاوس میں قائم تھا ان کی بیٹی کے ہاں اولاد ہوئی تھی۔ وہ سب آیت اور بےبی ذیال سے مل کر واپس گھر پہنچے تو حسب عادت سنبل بیگم کے مزاج بدل گئے۔
“کتنے خوش قسمت ہیں۔۔۔۔ اتنی اچھی بہو ملی ہے۔۔۔۔ بیٹا دیا ہے۔۔۔۔ اور ایک ہم ہیں۔۔۔۔” صوفے پر پیر دراز کر کے بیٹھے انہوں نے آہ بھری۔
راعنہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ وہ کمرے میں جاتے جاتے پلٹی اور ان کے سامنے آگئی۔
“صرف قسمت کو کوسنے سے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔ اور آپ ہر وقت مجھے کیوں سناتی رہتی ہیں۔۔۔۔ اپنے بیٹے کو بھی سمجھائیں۔۔۔۔” راعنہ نے اپنے آواز حد کوشش مدھم رکھنے کی کوشش کی مگر پھر بھی بلند ہوگئی۔
“میرا بیٹا بالکل صحیح ہے۔۔۔۔” سنبل بیگم بحث کرنے لگی۔
“صرف پڑھا لکھا کر پروفیسر بنانا صحیح اور غلط کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔۔۔۔ عورت کی عزت کرنا سیکھانا شاید آپ کی تربیت کا حصہ نہیں ہے۔۔۔۔ “راعنہ نے ساس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا تھا۔
“شرم نہیں آتی اپنے شوہر کے بارے میں ایسی باتیں کرتی ہو۔۔۔۔ تمہیں یہ تربیت ملی ہے کیا۔۔۔۔” ممی بھی باز نہ آئی انہوں نے راعنہ کے تربیت پر سوال اٹھایا۔
“یہ شرم و لحاظ اور میری تربیت ہی تو ہے۔۔۔ جو میں اب تک خاموش ہوں۔۔۔۔ ورنہ آپ کے الکوحولک اور بد مزاج بیٹے کے ساتھ کوئی لڑکی نہیں رہیں گی۔۔۔۔” راعنہ نے احساس دلانا چاہا پر سنبل بیگم مزید تن گئی۔
“یا اللہ اتنی لمبی زبان ہے۔۔۔۔ ایسا بھی کیا کر دیا ہے میرے بیٹے نے۔۔۔۔ وہ تو وارث نے تمہارا رشتہ کرا دیا۔۔۔ ورنہ میں تو اپنے نوریز کے لیے ہیرے جیسی لڑکی لاتی۔۔۔۔” سنبل بیگم نے سینے پر ہاتھ رکھے جملہ کسا۔
راعنہ نے بحث ختم کرنا بہتر سمجھا اس لیے زبان مفقل کر دی مگر اسی اثنا نوریز لاونج میں داخل ہورہا تھا۔
“ممی۔۔۔۔ کیا چل رہا ہے یہ سب۔۔۔” اس نے قریب آتے ماں اور بیوی آمنے سامنے غصے سے ایک دوسرے کو گھورتے دیکھ کر پوچھا۔
“دیکھ لو اپنی بیوی کو۔۔۔۔ کیسا سلوک کر رہی ہے میرے ساتھ۔۔۔۔ میں نے زرا سی بات کہہ دی۔۔۔۔ اس نے آسمان ہی سر پر اٹھا لیا۔۔۔۔ کتنی باتیں سنائی ہے۔۔۔۔ کتنا انسلٹ کیا مجھے۔۔۔۔۔” سنبل بیگم نے قسمت کو خود پر مہربان دیکھ کر مصنوعی آنسو آنکھوں میں لاتے لاچاری کا مظاہرہ کیا۔
راعنہ ان کے پل میں بدلتے تاثرات دیکھ حیران رہ گئی۔ وہیں نوریز کے عصاب تن گئے۔
“راعنہ۔۔۔۔ وٹس دس۔۔۔۔” نوریز سپاٹ انداز میں اسے دیکھنے لگا۔
“میں نے ایسا کچھ نہیں کہا جو مجھے نہیں کہنا چاہیئے تھا۔۔۔۔ یہ ہر وقت مجھے طعنے دیتی ہیں۔۔۔۔ آج میں نے پلٹ کر اپنا دفاع کیا تو یہ خفہ ہورہی ہیں۔۔۔۔” راعنہ سینے پر ہاتھ باندھے سر جھکائے گویا ہوئی۔
“توبہ ہے اس لڑکی سے۔۔۔۔ اس ٹیون میں مجھ سے آج تک کسی نے بات نہیں کی۔۔۔۔ “ممی کی ناراضگی برقرار تھی۔
“ممی آپ میری بات کو غلط لیں رہی ہیں۔۔۔۔ میں تو۔۔۔۔” راعنہ نے دوبارہ سمجھانے کی کوشش کرنا چاہی۔ اب کی بار اس کا لہجہ بھی نرم تھا لیکن بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ جھٹکا کھا کر صوفے پر گر پڑی۔
چٹاخخخ کی آواز فضا میں گونج کر محلول ہوگئی۔ سنبل بیگم نے سہم کر سینے پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔ نوریز تندی سے گھورتے راعنہ کو زناٹے دار تھپڑ رسید کر چکا تھا۔
“جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔ ایک اور آواز نہیں۔۔۔۔” انگلی اٹھا کر غضب ناک تاثرات بنائے اس نے راعنہ کو دھمکایا۔
راعنہ آدھے صوفے پر اور آدھے فرش پر گری ہاتھ گال پر رکھے پھٹی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ تھپڑ کی شدت اتنی زور دار تھی کہ راعنہ کے کان میں سی سی ہونے لگی پر اس بے رحم کو کوئی رحم نا آیا بلکہ مزید جلی کٹی سنا کر لمبے ڈگ بھرتا کمرے کے جانب روانہ ہوگیا۔
راعنہ کو تھپڑ پڑ جانے کے بعد سنبل بیگم کا بھی دماغ ماوف ہوگیا اس لیے نظریں چراتی وہ خاموشی سے مڑ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
“یا اللہ یہ کیسی آزمائش ہے۔۔۔۔” راعنہ سر صوفے پر رکھ کر چہرہ بازووں میں چھپا کر رونے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“صدیف۔۔۔۔ ہمارا ذیال کیسا ہے۔۔۔۔۔” وارث صاحب نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے پوچھا تھا۔
وہ سب صدیقی ہاوس کے لاونج میں بیٹھے خوش گپیوں میں لگیں تھے۔ راعنہ نے خاموشی سے سب کے لیے چائے کا اہتمام کیا۔
“بالکل ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ ماشااللہ بڑا ہورہا ہے۔۔۔۔ پر روتا بہت ہے۔۔۔۔ ” صدیف کی بات کرتے کرتے چائے کا کپ لیتے ہوئے راعنہ کے پیشانی پر آئی برو کے پاس لگے چوٹ پر نظر پڑی جو اس دن نوریز کے مارنے سے گرنے کے باعث لگی تھی۔
“راعنہ۔۔۔۔ یہ کیا ہوا ہے۔۔۔۔ ” صدیف نے چائے کا کپ لے کر ٹیبل پر رکھا اور راعنہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بیٹھایا۔
راعنہ اس کے سوال سے گڑبڑا گئی اس نے بالوں اور ڈوپٹے کی مدد سے چوٹ چھپانی چاہی پر ناکام رہی۔ وارث صاحب اس کے پیشانی پر لگا زخم دیکھ چکے تھے۔
“راعنہ بیٹا اتنی چوٹ کیسے لگی۔۔۔۔ ” وارث صاحب بھی متفکر ہوئے۔
سنبل بیگم نے پریشانی سے تھوک نگل کر حلق تر کیا اور تیزی سے بائیں جانب سنگل صوفے پر بیٹھے نوریز کو دیکھا۔ وہ سر جھکائے اندر تک گڑھ جانے والی نظر سے راعنہ کو گھور رہا تھا۔
“کچھ نہیں بھئیاں۔۔۔۔ کچن میں کام کرتے ہوئے شیلف سے لگ گیا تھا۔۔۔۔ اب ٹھیک ہوں۔۔۔۔” راعنہ پھیکا مسکرا کر جھوٹ بولی۔
“دھیان سے کام کرنا چاہیئے نا۔۔۔۔۔ ” صدیف نے راعنہ کے بال کان کے پیچھے کر کے متفکر انداز میں دوبارہ اس جگہ کو دیکھا۔
راعنہ کی آنکھیں بھر آگئی تھی اس لیے وہ لب کاٹتے سر جھکا گئی۔
“ہاں۔۔۔ شکر ہے آنکھ بچ گئی ہے۔۔۔۔ اور ملازمہ کے ہوتے تمہیں اتنا کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔ ” وارث صاحب نے اپنے جانب سے اضافہ کیا۔
راعنہ کے لیے مزید وہاں بیٹھنا دوبھر ہو گیا اس لیے مضطرب ہوتے اٹھ کر چلی گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
صدیف کے جانے کے بعد نوریز کمرے میں آیا تو راعنہ گم صم سی کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔ اسے نوریز کے آنے کی خبر نہ ہوئی۔ نوریز نے پہلے الماری کے دراز میں سے دوائی کی ٹیوب اٹھائی اور پھر راعنہ کے عقب میں آن کھڑا ہوا۔
راعنہ اپنے خیالوں میں گم تھی جب اپنے کندھے پر نوریز کا لمس محسوس کرتے چونک کر ہوش میں آئی اور ایک جھٹکے سے پلٹی۔
“دکھاو۔۔۔۔ کہاں چوٹ لگی ہے۔۔۔۔” نوریز نے اس کے پیشانی کو مشاہدہ کرتے ہوئے کہا۔
راعنہ مزمت کرتے اس کے حصار سے دور جانے لگی لیکن نوریز نے اس کی راہیں مسدود کر دی تھی۔ ٹیوب سے تھوڑی کریم انگلی پر لے کر وہ نرمی سے چوٹ پر لگانے لگا۔ راعنہ بے یقینی سے اشک بار آنکھوں سے سر اٹھائے اس کا سپاٹ چہرہ دیکھنے لگی۔ کیا غرور تھا اس کی آنکھوں میں۔ کتنی اکڑ تھی اس کی گردن میں۔ غصہ ہر وقت لمبی ستواں ناک کی زینت بنا رہتا۔ پھر بھی راعنہ اس کے پُر کشش شخصیت کے جانب مائل ہونے لگی۔
“درد بھی خود دیتے ہو۔۔۔۔ دوا بھی خود لگاتے ہو۔۔۔۔۔ سمجھ نہیں آرہی۔۔۔۔ پیار کرتے ہو یا نفرت۔۔۔۔” راعنہ کی مدھم آواز نے ان دونوں کے مابین چھائی خاموشی کو توڑا
“نا پیار کرتا ہوں۔۔۔۔ اور نا نفرت۔۔۔۔۔” نوریز کی آواز کسی بھی قسم کے جذبات سے عاری رہی۔
“پر کیوں۔۔۔۔۔ خود ہی تو مجھ سے نکاح کر کے مجھے اپنی زندگی میں شامل کیا تھا۔۔۔۔۔ پھر ایسا رویہ کیوں۔۔۔۔” راعنہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر شکوہ کیا۔
“اپنی مرضی سے نکاح نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔ پاپا نے بہت پریشرائز کر دیا تھا۔۔۔۔۔ آیت کی وجہ سے۔۔۔۔۔ میں نے تو پہلے دن ہی انکار کیا تھا۔۔۔۔” نوریز نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش نہیں کی مگر یہ حقیقت سن کر راعنہ کے ہاتھ خود ہی ڈھیلے پڑ گئے تھے۔
“آیت کی وجہ سے۔۔۔۔” راعنہ کو سچائی تسلیم کرنے میں دقت ہورہی تھی۔
“ہمممم۔۔۔۔۔ وٹہ سٹہ ہوا تھا نا ہمارا۔۔۔۔۔ میں انکار کرتا تو آٹومیٹکلی آیت اور صدیف کے رشتے پر اثر پڑتا۔۔۔۔۔ ” ہاتھ پر اس کی گرفت چھوٹ جانے کے بعد نوریز قدم قدم چل کر بیڈ کے پاس آیا اور سائیڈ ٹیبل کے دراز سے سیگریٹ نکال کر سلگائی۔
راعنہ بت بنی اپنی جگہ پر کھڑی اسے سن رہی تھی اور وہ دھواں اڑاتے واپس اس کے رو بہ رو آیا۔
“آیت کو سب پتا ہے۔۔۔۔۔ اس نے تمہیں نہیں بتایا۔۔۔۔ مجھے تو لگا۔۔۔۔ تم دونوں ہر بات شئیر کرتیں ہو۔۔۔۔۔ ایک ایک چیز آپس میں شئیر کرتیں ہو۔۔۔۔” نوریز آبرو اٹھائے واقعی راعنہ لا علم ہونے پر شاک ہوا۔
وہیں راعنہ کی بے یقینی مزید بڑھ گئی۔ آیت نے اس نے اتنی بڑی بات چھپائی تھی یہ بات تسلیم کرنا آسان نہیں تھا۔
زندگی میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ قریب ترین رشتہ بھی دھوکہ دے جاتا ہے۔ نیتوں میں شگاف پڑ جاتے ہیں جو بظاہر تو ہمیں نظر نہیں آتے۔ جن لوگوں کی قسم کھائی جا سکتی ہیں وہ بھی دغہ دے جاتے ہیں۔ ایسی باتیں سننی کو ملتی ہیں کہ انسان کانوں اور آنکھوں پر یقین کھو بیٹھتا ہے۔
“مجھے تو ہر وقت اس بات کا غصہ تھا کہ میری انکار جاننے کے باوجود بھی تم کیوں مجھ سے شادی کر رہی ہو۔۔۔۔ چلی جاتی نا اپنے عاشق کے ساتھ۔۔۔۔ میں بھی بچ جاتا۔۔۔۔” بالکونی کے ریلنگ پر بازو ٹکائے جھک کر کھڑے اس نے بہت ہی لا پرواہی سے کہا مگر راعنہ کی آنکھیں بڑی ہوگئی۔
“عاشق۔۔۔۔” یہ لفظ اس پر پہاڑ کی مانند گرا تھا۔
“ہاں۔۔۔۔ وہ تھا نا۔۔۔۔۔ نکاح کے دن آیا تھا تمہارے پاس۔۔۔۔ نام یاد نہیں۔۔۔۔ پر گڈ لوکنگ اور اچھے گھر کا تھا۔۔۔۔” بلواسطہ امتثال کے متعلق سن کر راعنہ کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔
“وہ میرا عاشق نہیں تھا۔۔۔۔ ہم صرف دوست تھے۔۔۔۔۔ مطلب۔۔۔۔ صرف کلاس میٹس۔۔۔۔ ” راعنہ کو وضاحت دینے مناسب لفظ سمجھ نہیں آیا۔
“وٹ ایور۔۔۔۔ ” نوریز نے سر اوپر کو اٹھا کر آخری کش کا دھواں ہوا میں اڑایا اور سیگریٹ ایش ٹرے میں بجھا کر خود نائٹ ڈریس چینج کرنے ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔
راعنہ اس تبصرے پر اشتعال سے سرخ ہوتی اس کے پیچھے در آئی لیکن نوریز کو بغیر شرٹ کے دیکھ کر نظریں جھکائے واپس باہر آگئی۔
“آپ یوں میرے کردار پر الزام نہیں لگا سکتے۔۔۔۔” دروازے کا ناب تھامے وہ باہر سے ہی گویا ہوئی۔
نوریز ٹی شرٹ پہنتے باہر آیا اور اس کے سائیڈ سے گھومتے ہوئے بیڈ کے جانب آتے کنکارا۔
“تم نے قرآن مجید کی وہ آیات تو پڑھی ہوں گی۔۔۔۔ پاک مردوں کے لیے پاک عورتیں ہیں۔۔۔۔۔ اور ناپاک مردوں کے لیے ناپاک عورتیں۔۔۔۔ ” نوریز نے بیڈ پر لیٹ کر بازو آنکھوں پر رکھ دیا۔
راعنہ اس کے الفاظ سن کر زمین میں دھنسی چلی گئی۔
“تو میں کیسا مرد ہوں۔۔۔۔” اس نے جتاتے ہوئے پوچھا تھا۔
“ناپاک مرد۔۔۔۔۔” راعنہ کو اپنی زبان سے نکلنے والے لفظوں پر خود بھی یقین نہیں آیا۔
“اگر میں ناپاک مرد ہوں۔۔۔۔ تو میری عورت کہاں سے پاکیزہ ہوگی۔۔۔۔ ” اس نے استحزیہ جملہ کسا اور ہاتھ بڑھا کر اپنے سائیڈ کا ٹیبل لیمپ آف کر دیا۔
راعنہ سر نفی میں ہلاتے بے آواز رونے لگی۔ نوریز کو اپنے گناہوں پر کوئی پچھتاوا نہیں تھا لیکن راعنہ کوئی گناہ کئے بغیر بھی اس کے نسبت سے جڑ کر گناہ گار بن گئی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
رشتہ زبردستی ہی سہی مگر اللہ کی رضا سے جڑا تھا جسے راعنہ نے دل سے نبھانے کا فیصلہ کیا۔ اس کا ماننا تھا کہ وہ اپنے اچھائی اور پیار سے نوریز کے دل میں اپنے لیے جگہ بنا لیں گی۔ اس مرتبہ قسمت بھی کچھ مہربان ہوئی تھی کہ نوریز کے جانب سے بد سلوکی قدرے کم ہوگئی۔ راعنہ اس کی ڈانٹ ڈپٹ کو خاموشی سے سن لیتی اس لیے نوریز نے بات بات پر ڈپٹنا کم کر دیا۔
اسی رویئے کے چلتے شادی کی دوسری انیورسیری پر اس نے راعنہ کے ہمراہ ملیشیاء کا ٹور بنایا۔ راعنہ کی محنت رنگ لائی تھی۔ نوریز کا برتاؤ بہتر ہونے لگا تھا لیکن یہ وقتی تبدیلی ثابت ہونے والی تھی۔
ایک شام اپنے ویزے کے سلسلے میں وہ ملیشیائی سفارت خانے گئے تو معلوم پڑا کہ ویزا منسوخ ہوا ہے۔ نوریز کا اشتعال بڑھنے لگا۔ ایمبیسی کے پارکنگ میں کھڑے وہ گاڑی کے ٹائر کو بوٹ سے لات مار کر اپنا غصہ کم کرنے لگا۔
“اٹس اوکے نوریز۔۔۔۔ دوبارہ ٹرائی کریں گے۔۔۔۔ آپ ایسے غصہ نہ کرو۔۔۔۔” راعنہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی۔
“سب کچھ تو فراہم کیا تھا میں نے۔۔۔۔ پھر ویزا ریجیکٹ کیوں ہوگیا۔۔۔۔ میں فراڈ کا کیس کر دوں گا ان ایمبیسی والوں پر۔۔۔۔” گاڑی کے بانٹ پر جھکے وہ تندی سے غرایا۔
“شاید آپ کو ملک کے باہر سفر کرنے کے بنیادی اصول نہیں پتا مسٹر نوریز۔۔۔۔ جب کسی پر قانونی کیس چل رہا ہو وہ ملک سے باہر نہیں جا سکتا۔۔۔۔ ” اس مردانہ آواز پر نوریز بری طرح چونکا تھا۔
وہ آواز راعنہ کے لیے انجان تھی لیکن نوریز بخوبی واقف تھا۔ راعنہ حیرانگی سے جبکہ نوریز پریشانی سے ایک ساتھ پیچھے مڑے۔ ایس آئی آفسر احیان خان با وردی شریر مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے اسی جانب آرہیں تھے۔
“آفسر خان۔۔۔۔۔ پلیزز میں یہاں کوئی تماشا نہیں چاہتا۔۔۔۔” نوریز نے دانت پیستے ہوئے انگلی اٹھا کر تنبہیہ کیا۔
“کیوں۔۔۔۔۔ بیوی ساتھ ہے اس لیے۔۔۔۔ کہی انہیں آپ کی سچائی۔۔۔۔ جو بد قسمتی سے میں اب تک ثابت نہیں کر پایا۔۔۔۔ وہ پتا چل گئی تو۔۔۔۔” آفسر خان جتاتے ہوئے بولے۔
راعنہ نے حیرت سے گردن موڑ کر نوریز کو دیکھا تھا۔ نوریز ہاتھوں کی مٹھی سختی سے بنائے تند نظروں سے احیان خان کو دیکھ رہا تھا۔
“مجھے تم سے بحث کر کے اپنا دن مزید خراب نہیں کرنا۔۔۔۔۔ چلو راعنہ۔۔۔۔” نوریز نے یک لخت جواب دے کر راعنہ کا بازو پکڑے چلنے کا کہا۔
راعنہ ماجرہ سمجھنے کی کوشش کرتی اس کے ساتھ چل پڑی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“نوریز۔۔۔۔۔ کونسا کیس چل رہا ہے آپ پر۔۔۔۔ کونسا جرم کیا ہے آپ نے۔۔۔۔” راعنہ کمرے میں در آتے ہی مستفسر ہوئی۔
“میرے ذاتی معاملات میں دخل مت دو۔۔۔۔”نوریز نے تندی سے کہتے کوٹ اتار کر دور پھینکا۔
“میں آپ کی بیوی ہوں۔۔۔۔ مجھے جاننے کا حق ہے۔۔۔۔” راعنہ افسردہ ہونے لگی۔ اس کا شوہر بد مزاج ہے الکوحلک ہے، یہ سب تو وہ برداشت کر ہی رہی تھی لیکن وہ مجرم بھی ہے یہ انکشاف راعنہ کے لیے از سر نو تسلیم کرنا ہی مشکل تھا۔
“صرف بیوی ہو۔۔۔۔ میرے معاملات جاننے کا حق نہیں دیا میں نے۔۔۔۔” نوریز اتنی ہی غضب سے کہتے اس کے سامنے آیا۔
اس کے وحشت سے راعنہ خاموش ہوگئی۔ آنکھوں کے پیالے بھر آئیں۔ نوریز اسے دھمکا کر اپنا اشتعال کم کرنے شر ا ب کا سہارا لینے بالکونی کی جانب بڑھ گیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
(تین ماہ بعد)
آیت بےبی ذیال کے ساتھ کھیل رہی تھی جب صدیف اس کے پاس آیا۔
“جب سے بیٹا آیا ہے۔۔۔۔ تم تو مجھے بھول ہی گئی ہو۔۔۔۔” صدیف نے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے ہوئے خفگی کا اظہار کیا۔
“ہہہہہ۔۔۔۔۔ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔۔۔۔” آیت اس کی جعلی خفگی سمجھ گئی تھی اس لیے لاپرواہ انداز میں جواب دیا۔
“نہیں بھئی۔۔۔۔ اب تو میں ناراض ہوں۔۔۔۔” صدیف کی ناراضگی برقرار رہی۔
“اچھا۔۔۔۔ تو پھر کیسے مانیں گے آپ۔۔۔۔” اب کی بار آیت اٹھ کر اس کے پاس آگئی تھی۔
“ہمممم تمہارے ہاتھوں کے بنے شاہی ٹکرے کھا کر۔۔۔۔” صدیف نے اس کے گرد بازو حمائل کر کے اپنی فرمائش ظاہر کی تو آیت کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
“اوکے جناب۔۔۔۔ ابھی بنا دیتی ہوں۔۔۔۔” اس کے حصار سے الگ ہوتے آیت نے کچن کا رخ کیا۔
صدیف محبت پاش نظروں سے اسے دیکھ کر ذیال کے پاس آیا اور اسے اٹھا کر پیار کرنے لگا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
دوسری جانب کافی دنوں سے راعنہ کو اپنی طبیعت ناساز لگ رہی تھی۔ ڈاکٹر سے معائنہ کروانے پر خوشی کی نوید ملی۔ شادی کے دو سال بعد اسے ماں بننے کی خوشی نصیب ہوئی تھی۔
اس شام نوریز گھر آیا تو کمرے میں ہر سوں ہلکی زرد روشنی چھائی ہوئی تھیں۔ سرخ و سفید گلاب کے پتیوں سے بیڈ کو سجایا گیا تھا اور بیج میں تین کینڈلز کے ساتھ ایک لفافہ پڑا تھا۔ نوریز نے حیرت سے اس اہتمام کو دیکھ کر محظوظ ہوتے لفافہ اٹھا اور اس میں موجود خط پڑھنے لگا۔ دراصل وہ خط راعنہ کی رپورٹس تھیں۔
راعنہ خوشی سے سرشار ڈریسنگ روم میں سے باہر آکر نوریز کے عقب میں کھڑی ہوگئی۔
“تم پریگننٹ ہو۔۔۔۔” نوریز نے رپورٹس کی زبانی تائید چاہی۔
راعنہ نے بلش کرتے ہوئے سر اثبات میں جنبش دیتے چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا۔
ایک پل کے لیے نوریز کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
“آپ خوش نہیں ہیں۔۔۔۔” راعنہ کی مدھم سی آواز نے خاموشی توڑی۔
“میں۔۔۔۔ میں خوش ہوں۔۔۔۔ بہت خوش ہوں۔۔۔۔” نوریز نے خوشی سے اسے خود سے لگا لیا تھا۔
راعنہ نے اپنے شوہر کے حصار میں سکون کا سانس لیا۔ اسے زندگی کی نئی امید مل گئی تھی۔ اس نے سوچا ان دونوں کے رشتے کی خلش بےبی کے آنے سے ضرور پوری ہوگی۔ اولاد، ماں باپ کو جوڑنے کی کڑی ہوتی ہیں۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
صدیقی ہاوس میں خوشیوں نے نئے سرے سے قدم رکھا۔ نوریز پوری طرح راعنہ کا خیال رکھنے لگا وہیں سنبل بیگم کا برتاؤ بھی بہتر ہونے لگا۔
اس شام شعیب صاحب پوری فیملی سمیت مبارکباد دینے صدیقی ہاوس تشریف لائیں۔ آیت کو دیکھ کر راعنہ گم صم ہوگئی۔ اس کی بیسٹ فرینڈ نے اپنی محبت پانے ان کی دوستی میں درار پیدا کر دی تھی جو اب بہ آسانی پوری نہیں ہونے والی تھی۔ راعنہ کا یہ رویہ آیت کو تشویش میں مبتلا کر گیا۔
“راعنہ۔۔۔۔ مجھ سے ناراض ہو۔۔۔۔ کوئی بات ہوئی ہے کیا۔۔۔۔ نا کال کرتی ہو نا میسج۔۔۔۔ ” آیت اس سے لگ کر بیٹھی گویا ہوئی۔
جوابا راعنہ خاموش رہی۔ اس خوشی کے موقع پر وہ کوئی بد سلوکی نہیں کرنا چاہتی تھی مگر جب بولنا شروع ہوئی تو آواز ہر قسم کے جذبات سے عاری تھی۔
“کبھی سوچا نہیں تھا کہ ہمارے تعلق میں ایسا وقت بھی آئے گا کہ تمہیں کال کرنا تو دور کی بات۔۔۔۔ ایک میسج کرنے کے لیے بھی سو بار سوچنا پڑے گا۔۔۔۔” راعنہ نے شکوہ کن نظروں سے آیت کو دیکھا جو اپنی جگہ جامد ہوگئی تھی۔
“میرا اتنا عزیز رشتہ مجھے اس قدر بے رحمی سے توڑ دے گا یہ میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔۔۔ آیت۔۔۔ تم اتنی خود غرض کیسے ہوگئی۔۔۔۔” نا چاہتے ہوئے بھی راعنہ کے تاثرات سخت ہونے لگے۔
“راعنہ تم کس بارے میں بات کر رہی ہو۔۔۔۔۔” آیت کا دل دہل گیا تھا۔
“مجھے نوریز نے سب بتا دیا ہے۔۔۔۔” اس انکشاف پر مانو آیت زمین میں دھنس گئی ہو۔ اس سے کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔
“راعنہ آئی ایم سوری۔۔۔۔ ” آیت کی آواز رندھ گئی پر راعنہ پر اب اس کے آنسوؤں کا اثر نہیں ہونے والا تھا۔
“معافی مجھے مانگنی چاہیئے۔۔۔۔ جو میں نے تم پر اتنا اندھا اعتماد کیا تھا۔۔۔۔ پر آیت۔۔۔۔ میں دوبارہ تم پر بھروسہ نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔ تم اب سے صرف میرے بھائیاں کی بیوی ہو۔۔۔۔۔ میری بیسٹ فرینڈ تو مر گئی ہے۔۔۔۔” راعنہ بے لچک لہجے میں اپنی بات مکمل کر کے اٹھ گئی۔
آیت نے سب سے چھپتے رخ پھیر کر کئی سارے آنسو اپنے اندر اتارے تھے۔ آج سچ میں اسے لگا وہ نا قابل تلافی گناہ کر بیٹھی ہے۔ اس دن آیت نے راعنہ کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
یہ وہ منظر ہے جب راعنہ نے ننھی بیٹی کو جنم دیا۔ ایلزینا نوریز صدیقی اس کی زندگی بن کر آئی تھی۔ ایلزینا کے نین نقش بالکل نوریز جیسے تھے اور رنگت راعنہ پر گئی تھی۔ ایلزینا کے آنے سے ان دونوں کی زندگی بدل گئی۔ کچھ نا بدل سکا تو وہ نوریز کی فطرت تھی۔ اسی کے چلتے نوریز کی اسٹرگلنگ ماڈل ارم شیخ سے روابط بننے لگے۔
ایک شام راعنہ ایک سال کی چھوٹی زینی کو اس کے بےبی کارٹ میں سلا کر اپنے بیڈ کے سائیڈ آئی تھی کہ سائیڈ ٹیبل پر پڑا نوریز کا موبائل بجنے لگا۔
“ہیلو۔۔۔۔ بےبی۔۔۔۔” راعنہ کے کال موصول کرتے ہی نازک نسوانی آواز ابھری۔
بے اختیار راعنہ نے کال کاٹ دی۔ اس کی دھڑکن تیز ہوگئی اور ماتے پر بل نمودار ہوئے۔ چند منٹ بعد نوریز نہا کر تولیے سے بال ڑگڑتے واشروم سے باہر آتے نظر آیا تو راعنہ فورا سے اس کے رو بہ رو آگئی۔
“کس کا نمبر ہے یہ۔۔۔۔۔ ” راعنہ نے نوریز کا موبائل اسکرین روشن کر کے اس کے سامنے کیا۔
نوریز موصول شدہ نمبر دیکھ کر طیش میں آگیا اور فورا سے بیشتر اپنا موبائل جھپٹ کر لے لیا۔
“وٹ دہ۔۔۔۔۔ میرا فون کیوں پک کیا تم نے۔۔۔۔” غضب ناک تاثرات بنائے وہ غرایا۔
“نوریز چار سال ہوگئے ہیں ہماری شادی کو۔۔۔۔ ایک سال کی بیٹی ہے ہماری۔۔۔۔۔ بند کردو یہ سب۔۔۔۔ اور شرافت کی زندگی شروع کرو۔۔۔۔۔ کل کو ہماری بیٹی کیا سیکھیں گی۔۔۔۔” راعنہ منت کرتے سمجھانے لگی۔
“منہ بند رکھو اپنا۔۔۔۔ ورنہ مجھے بند کروانا اچھے سے آتا ہے۔۔۔۔ ” نوریز اسے دھمکاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
کسی کی زندگی سے خود چلے جانا الگ بات ہے۔ لیکن اپنی جگہ کو پُر ہوتے دیکھنا اور بات ہوتی ہے۔ راعنہ یہ تو نہیں جانتی تھی کہ کال کرنے والی لڑکی سے نوریز کا کیا تعلق ہے مگر وہ اپنی جگہ پر ہوتے محسوس کر سکتی تھی۔ کسی سے نفرت ہو تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ پر جو انسان آہستہ آہستہ آپ کو اپنی زندگی سے نکال رہا ہو، وہ آپ کا شویر، آپ کی محبت ہو تو صرف تکلیف نہیں ہوتی۔ انسان ٹوٹ کر رہ جاتا ہے۔ اس معاملے میں صبر کرنا تو نا ممکنات میں شامل ہیں۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔