Nadamat By Palwasha Safi Readelle50274 (Nadamat) Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
(Nadamat) Episode 22
“میں آیت کو طلاق۔۔۔۔ ” اور آیت کا دل دہل گیا۔ سانس رک رک کر آنے لگی۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔
“نہیں دوں گا۔۔۔۔” صدیف کا جملہ مکمل ہوا تو آیت کی سانس میں سانس آئی۔
“اللہ۔۔۔۔” وہ اللہ کو پکارتے صدیف کے بازو پر سر ٹکا گئی۔
“شادی کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔۔۔ جب چاہے رشتہ جوڑا اور جب چاہے توڑ دیا۔۔۔۔ نوریز کے کئے کی سزا۔۔۔۔ آیت کو کیوں دوں۔۔۔۔ مانا غلطی کی ہے۔۔۔۔ پر اس نے تو راعنہ اور نوریز دونوں کی بھلائی چاہی تھی۔۔۔۔” صدیف نے مضبوطی سے آیت کو اپنے حصار میں لے لیا۔
آیت کو جس سہارے کی ضرورت تھی وہ اسے دستیاب تھا۔ شوہر کے مضبوط کندھوں نے اسے گرنے نہیں دیا۔
راعنہ نے فخریہ انداز میں صدیف کو دیکھا تھا۔ اسے اپنے بھائی سے اسی فیصلے کی امید تھی۔
“اگر کسی کو آیت کے یہاں رہنے سے دقت پیش آرہی ہے تو۔۔۔۔ میں اپنی فیملی لے کر اس گھر سے چلا جاتا ہوں۔۔۔” صدیف نے ہتمی فیصلہ سنا کر سب کو دہلا دیا تھا۔
عاطرہ بیگم جوان بیٹے کے اس بات پر دل پر ہاتھ رکھ کر کھڑی ہوگئی۔ بیٹی کے طلاق کا صدمہ کم تھا جو اب بیٹے کے گھر چھوڑ کر جانے کا دکھ بھی سہہ پاتی۔ اس سے پہلے وہ کچھ کہتی شعیب صاحب کنکارے۔
“منظور ہے۔۔۔۔ ویسے بھی آیت سب کی نظروں کے سامنے رہے گی تو بار بار نوریز کا خیال آئے گا۔۔۔۔ اور اس خب*یث کا ذکر میں اب اس گھر میں نہیں سننا چاہتا۔۔۔۔” ہاتھ پیچھے باندھے خلا میں دیکھتے انہوں نے اپنا فیصلہ سنایا۔
ان کے فیصلے پر عاطرہ بیگم گنگ ہو کر رہ گئی۔ راعنہ کا سر جھکا ہوا تھا جبکہ حمدان نے آبدیدہ ہوتے صدیف کے جانب گردن گھما کر اسے دیکھا تھا۔ صدیف زرد پڑتے چہرے سے فرش کے اس حصے کو دیکھ رہا تھا جہاں کچھ ثانئے قبل بابا کھڑے تھے۔
بابا کی بات پر غور کر کے بلاآخر صدیف نے گھر چھوڑنے کا اپنا فیصلہ پختہ کیا اور کمرے میں چلا گیا۔ آیت نے پھر سے ایک نظر سب کو دیکھا۔ اس وقت کسی کو اس کے جانب دیکھنا بھی گوارا نا ہوا۔ دل گیر ہوتے وہ صدیف کے پیچھے چلی گئی۔
اس رات نا کسی نے پانی کا گھونٹ پیا اور نا کھانے کا لقمہ منہ میں ڈالا۔ حتہ کہ کہنے کو کسی کی آنکھ تک نہ لگی۔ دکھ کا سما صرف صدیقی ہاوس پر تھوڑی تھا۔ غم کے کالے بادل تو بٹ ہاوس میں بسر ہو چلے تھے جہاں بیٹی کے نام کے ساتھ طلاق یافتہ کا لقب جڑ گیا اور بڑا بیٹا ماں باپ کو چھوڑ بیوی کا دامن تھامے گھر سے جا رہا تھا۔
فجر کے ساتھ بابا اور ممی کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔ اندر کی خاموشی بوڑھے ماں باپ کے مابین کے اختلافات کی صاف گواہی دے رہی تھی۔
“بابا۔۔۔۔ آپ ذیابیطس کے مریض ہیں۔۔۔۔ کل سے کچھ نہیں کھایا آپ نے۔۔۔۔ طبیعت خراب ہوجائے گی۔۔۔۔” حمدان ہاتھوں میں ٹرے لیئے سرخ آنکھوں کو جھکائے کھڑا تھا۔
شعیب صاحب بھیگی پلکیں جھپکاتے متبسم ہوئے۔ بڑے نہیں تو چھوٹے بیٹے کا سہارا کافی تھا۔ سر اثابت میں ہلاتے اس کے گرد بازو حمائل کر کے وہ حمدان کو کمرے میں لے آئیں۔
“سوئے نہیں۔۔۔۔” انہوں نے ٹرے اپنے اور عاطرہ بیگم کے مابین رکھ دیا۔
زبان سے بھلے ہی اظہار نہ کریں پر فکر تو تھی۔ آخر کو فرمانبردار بیوی کا فرض نبھاتے انہوں نے ہمیشہ کی طرح شوہر کے فیصلے پر صبر کر لیا تھا۔ بدلے میں اتنی خاطر داری تو بنتی تھی۔
عاطرہ بیگم اپنے جذبات پر قابو رکھنے کی کوشش کرتی مضطرب سی بیٹھی رہی۔ کھانے کو ہاتھ تک نا لگایا۔
“ممی۔۔۔۔۔ تھوڑا سا کھا لو۔۔۔۔ جب تک آپ نہیں کھاو گی۔۔۔۔ بابا بھی نہیں کھائیں گے۔۔۔۔ ان کا شوگر ڈاون ہوجائے گا۔۔۔۔” حمدان والدین کے درمیاں خاموش تاثرات سمجھ گیا۔
ممی نے آنکھیں بند کر کے لمبا سانس خارج کیا اور دودھ کا گلاس اٹھا لیا۔ ان کے بعد شعیب صاحب بھی بمشکل چند لقمے کھا پائیں۔
طلوع آفتاب کے ساتھ ذیال اور ثمر کا رونا شروع ہوا جن کو آیت نے صبح سویرے زبردستی اٹھا دیا تھا۔ ضروری اشیاء سے بھرے دو بیگز گھسیٹتے ہوئے صدیف کمرے سے باہر آیا اور سنسان پڑے لاؤنج میں نظر دوڑائی۔
بچوں کے رونے کے آواز پر حمدان باہر آگیا۔
“بھئیاں۔۔۔ مت جاو۔۔۔۔ ” اس نے صدیف کا بازو تھامے التجائی انداز میں کہا۔
“حمدان۔۔۔۔ بابا اور ممی کا بہت خیال رکھنا۔۔۔۔ ” صدیف نے اس کے گلے لگ کر ہدایت دی۔
حمدان کا گلا رندھ گیا۔
“گھر کی ذمہ داری اب تمہارے اوپر ہے۔۔۔۔” الگ ہوتے ہوئے ایک اور ہدایت دی گئی۔
حمدان لب بھینجے اسے دیکھے گیا۔
“راعنہ کا خیال رکھنا۔۔۔۔ اور اپنا بھی۔۔۔۔ جب بھی میری ضرورت ہو۔۔۔۔ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔۔” صدیف سے حمدان کے آنسو دیکھے نہیں گئے اس لیے تیزی سے اس کا گال تھپتھپا کر پورچ کی سیڑھیاں اتر کر باہر نکل گیا۔
پیچھے آیت ایک ہاتھ سے پانچ سالہ ذیال کو تھامے اور دوسرے سے دو سالہ ثمر کو گود میں اٹھائے مایوسی سے دہلیز پار کر گئی۔
یہ منظر چار اور آنکھیں بھی دیکھ رہیں تھیں۔ شعیب صاحب جو لاونج میں تو آگئے تھے لیکن آگے آکر بیٹے بہو اور نواسوں کو روکنے کی ہمت نہیں کر پائے اور راعنہ جو اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑی دل ہی دل خود کو اس سب کا قصور وار ٹھہرا رہی تھی۔
انسان کا ایک غلط فیصلہ جانے انجانے کتنی ہی زندگیوں سے کھیل جاتا ہے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
طارق روڈ کے رش میں رکشے سے اتر کر صدیف اور آیت دھوپ میں کھڑے ملاتشی نظروں سے چاروں اطراف کا جائزہ لے رہیں تھے۔ صدیف بار بار کسی کو کال ملانے میں مصروف تھا۔ آیت نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھ کر حوصلہ افزائی کرنی چاہی۔
“صدیف آپ بالکل پریشان نا ہو۔۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔ میں پاپا سے بات کرتی ہوں۔۔۔۔ ان کا گلستان جوہر میں ایک خالی اپارٹمنٹ ہے۔۔۔۔ ہم وہاں چلے جائیں گے۔۔۔۔۔ پاپا سے نوکری کا بھی پوچھ لوں گی۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔” آیت اپنے انداز میں تیز تیز پلاننگ بتا رہی تھی کہ یک دم صدیف کی گردن کی رگیں ابھرتی دیکھ کر آواز مدھم پڑ گئی۔
صدیف غصے سے سرخ ہوتے اس انداز میں مڑا کہ آیت نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ کر نظریں جھکا لی۔
“سمجھ کیا رکھا تم نے مجھے۔۔۔۔۔ تمہارے گھر والوں نے میری بہن کی زندگی تباہ کر دی۔۔۔۔ اور تم چاہتی ہو میں ان کے ٹکڑوں پر پلوں۔۔۔۔ ان کے دیئے گھر میں رہ کر ان کی دلائی نوکری کروں۔۔۔۔ ” صدیف کی سپاٹ آواز نے گویا تائید چاہی۔
جواب میں آیت کچھ نا کہہ سکی۔
“میں نے اپنی فیملی کے سکون کی خاطر تمہیں ان سے دور کیا ہے۔۔۔۔ ان سے تعلق نہیں توڑا۔۔۔۔ لیکن ہاں میرا اور میرے بچوں کا تمہاری فیملی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔۔ اور تمہیں بھی ان سے رشتہ رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ آئیندہ میرے سامنے ان کا ذکر بھی مت کرنا۔۔۔۔” ٹریفک کے رش میں بھی صدیف کی آواز با آسانی سنی جا سکتی تھی۔
آیت نے شرم سے سر جھکا لیا۔ اسے یہ موقع مناسب نا لگا اس لیے اپنے کہے پر پچھتاتے خاموش ہوگئی۔ صدیف نے دانت پیستے ہوئے رخ سڑک کے سمت کر لیا۔ تھوڑی دیر میں صدیف کے دوست زبیر کی گاڑی ان کے آگے رکی۔ صدیف نے آیت کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود ڈکی میں بیگز رکھنے لگا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ دن بھر کمرے میں بند رہی۔ ظہر کے وقت کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی اور بابا اندر داخل ہوئے۔
“راعنہ۔۔۔۔ ایسے خود کو بند کر کے کیوں رکھ دیا ہے۔۔۔۔ دنیا ایک انسان کے ساتھ ختم تھوڑی ہوجاتی ہے۔۔۔۔ طلاق بہت برا اسیر ہے۔۔۔۔ کوئی شک نہیں۔۔۔۔ لیکن باپ کے گھر کا در ہر بیٹی کے لیے وا ہوتا ہے۔۔۔۔ نوریز گزارے کے قابل نہیں تھا تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ رشتہ ختم ہوگیا۔۔۔۔ اب نئے سرے سے شروع کرو۔۔۔۔” شعیب صاحب نے اسے خود سے لگا کر دلاسہ دیا۔
“بابا۔۔۔۔ مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔ ” راعنہ بلک بلک کر رونے لگی۔
“نہیں بیٹا۔۔۔۔ غلطی مجھ سے ہوئی۔۔۔۔ مجھے ہاں کرنے سے پہلے اچھے سے جانچ پڑتال کر لینی چاہیئے تھی۔۔۔” بابا اس کا شانہ تھپتھپاتے افسردہ ہوئے۔
یوں ہی دونوں باپ بیٹی اشک بہاتے اپنے اپنے جذبات بیان کرتے رہیں۔
(ایک ماہ بعد)
صبح سویرے گیٹ دھڑا دھڑ بجایا گیا۔ حمدان شب خوابی کے کپڑوں میں ہی باہر آیا اور گیٹ کھولتے ٹھٹک گیا۔
“ہم ایلزینا نوریز کو لینے آئے ہیں۔۔۔۔ مس راعنہ بنا اجازت انہیں ساتھ لے آئی ہیں۔۔۔” باوردی پولیس کے ساتھ ساتھ سفید سوٹ اور بلیک کوٹ میں ملبوس وکیل بھی موجود تھا۔
“کیا مطلب بنا اجازت۔۔۔۔ راعنہ کی بیٹی ہے وہ۔۔۔۔” شعیب صاحب ان کا منطق سمجھنے سے قاصر تھے۔
“میرے کلائنٹ مسٹر نوریز نے کمپلین کی ہیں۔۔۔۔ کہ مس راعنہ ان کے مرضی کے خلاف ان کی بیٹی کو ساتھ لے آئی ہیں۔۔۔۔” وکیل صاحب نے دوبارہ مدعہ سمجھایا۔
“پر نوریز اور راعنہ کا طلاق ہوچکا ہے۔۔۔۔ میری بیٹی عدت میں ہے۔۔۔۔ ” شعیب صاحب پھر سے گویا ہوئے۔ اب کی بار پولیس گھر کی دہلیز پار کر کے اندر داخل ہوئی۔
“بٹ صاحب۔۔۔۔ مسٹر نوریز نے آپ کی بیٹی کو طلاق دی ہے۔۔۔۔ اپنی بیٹی لے کر آنے کی اجازت نہیں دی۔۔۔۔ نوریز نے ایلزینا کے کسٹڈی کے لیے اپیل کی ہے۔۔۔۔ اس لیے ہم کورٹ کے آرڈرز لے کر اسے لینے آئے ہیں۔۔۔۔ باہر نکالیں ایلزینا کو۔۔۔۔” پولیس آفسر نے کورٹ کا خط ان کے آگے لہراتے ہوئے ساتھی لیڈی کانسٹیبل کو اشارہ کیا۔
وہ بھاری برقم خاتون سر کو خم دیتے گھر کے اندر داخل ہوئی اور تھوڑی دیر بعد ایلزینا کو زبردستی گود میں اٹھائے باہر آئی۔ اس کے پیچھے راعنہ اور عاطرہ بیگم بھی پورچ میں نکل آئی تھیں۔
“بابا یہ سب کیا ہے۔۔۔۔ ” راعنہ دل گرفتگی سے پھنکاری۔
“نوریز نے ایلزینا کے کسٹڈی کے عدالت میں اپیل کی ہے۔۔۔” بابا نے آہ بھرتے کورٹ لیٹر راعنہ کو تھمایا۔
راعنہ کے آنسو اس لیٹر کو بھیگا گئے۔
ایلزینا روتے ہوئے مما مما پکارتی ہاتھ ہوا میں بلند کئے ہوئے تھی اور راعنہ بھیگی آنکھوں سے اسے جاتے دیکھ رہی تھی۔
“آپی۔۔۔۔ جیسے ہی آپ کی عدت پوری ہوگی ہم اس اپیل کو چیلنج کریں گے۔۔۔۔ ایلزینا کو واپس لے کر آئیں گے۔۔۔۔” حمدان نے فرش پر بیٹھتی راعنہ کو تھامے تسلی دی۔
راعنہ لب بھینجے جلد از جلد عدت پوری ہونے کی دعا کرنے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ کی عدت پوری ہوئے ایک ہفتہ ہوچکا تھا مگر ایلزینا کے بغیر اسے اپنی زندگی بے مول لگنے لگی۔ وہ پہلے سے زیادہ خاموش اور مرجھا گئی تھی۔
ایک شام ہانی اور تسکین عنایت کو جب راعنہ کے طلاق کا معلوم ہوا تو تسلیت دینے گھر آئیں۔ وہ دونوں راعنہ کے پاس بیٹھی تھی۔ باتوں باتوں میں نوریز کا ذکر آیا تو تسکین نے بے دھیانی میں نین کا نام لیا جس پر راعنہ کرنٹ کھا کر سیدھی ہوئی۔
“وہ تھے ہی اتنے برے۔۔۔۔ نا جانے نین کے ساتھ کیسا سلوک کیا ہوگا۔۔۔۔” تسکین کو آج بھی وہ واقعہ پوری شفافیت سے یاد تھا۔
“نین۔۔۔۔ نین کون ہے۔۔۔۔”؟ راعنہ اس نام پر الرٹ ہوگئی۔ یہی نام اس نے ایک مرتبہ نوریز کے زبان سے بھی سنا تھا۔
“میرے ساتھ کالج میں تھی۔۔۔۔ نوریز سر اس کے پیچھے پڑے تھے۔۔۔۔ نین ان کی وجہ سے بہت پریشان تھی۔۔۔ اور پھر اچانک ایک دن وہ غائب ہوگئی۔۔۔۔ پولیس نے بہت کوشش کی پر ڈھونڈ نہیں سکی۔۔۔۔ سب کا شک نوریز سر پر ہی جاتا ہے۔۔۔۔۔ انہوں نے ہی نین کے ساتھ کچھ کیا ہے۔۔۔۔” تسکین نے مدھم آواز میں سارا قصہ سنایا۔
راعنہ کے دماغ میں جھماکا سا ہوا تھا۔ شادی کے دنوں میں بھی پولیس کئی مرتبہ صدیقی ہاوس کے چکر کاٹ گئی تھی اور پھر اسی کیس کے چلتے نوریز اور اس کا ہنی مون ٹرپ بھی کینسل ہوگیا تھا۔
“تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔” راعنہ نے شکوہ کیا۔
“میں ڈر گئی تھی۔۔۔۔ سوچا نوریز سر کو پتا چلا میں نے بتایا ہے تو وہ مجھے بھی مار دیں گے۔۔۔۔” تسکین سر جھکا گئی۔
“نین کا کیس کون دیکھ رہا تھا۔۔۔۔”؟ دوسرا سوال بہت ہی ہڑبڑی میں ہوا۔
“ایس آئی آفسر احیان خان۔۔۔۔” تسکین نے حیرانگی سے ہانی آپی کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
“راعنہ۔۔۔۔ تم کیا کرنے کا سوچ رہی ہو۔۔۔۔ کیا تم نین کے متعلق کچھ جانتی ہو۔۔۔۔” ہانی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مستفسر ہوئی۔
“میں کچھ نہیں جانتی۔۔۔۔ لیکن میں اپنی بیٹی کو مزید ایسے انسان کے پاس نہیں رہنے دے سکتی۔۔۔۔ اور اس کام میں ایس آئی خان میری مدد کر سکتا ہے۔۔۔۔” راعنہ نے پر عزم ہوتے اپنے رخسار صاف کئے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“بابا کل کو وہ طیش میں کر مجھے مار دیتے تب بھی کیا آپ چپ رہتے۔۔۔۔” راعنہ بد دل ہوتے سوال کرنے لگی۔
جب اس نے عدالت میں ایلزینا کی کسٹڈی کو چیلنج کرنے اور ساتھ ساتھ نوریز کی سچائی باہر لانے کی بات کی تو شعیب صاحب انکاری ہوئے۔
“پر بیٹا یہ غلط ہے۔۔۔۔ ” بابا نے منطق دینے کی کوشش کی لیکن راعنہ سننے کو تیار نا ہوئی۔
“ہر برائی ایک نا ایک دن زوال کو ضرور پہنچتی ہے بابا۔۔۔۔ نوریز کے زوال کا وقت آگیا ہے۔۔۔۔ ” راعنہ نے با اعتماد انداز میں انہیں باور دلایا۔
شعیب صاحب خیال رکھنے کی ہدایت دیتے اس کے فیصلے پر راضی ہوگئے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
اگلی صبح احیان خان با وردی اپنے کیبن میں کھڑے کسی اہم کیس کی فائل مشاہدہ کر رہیں تھے جب حوالدار دستک دیتے اندر داخل ہوا اور اسے راعنہ کے آمد کی اطلاع دی۔
“میں اور آپ ایک دوسرے کو نہیں جانتے۔۔۔۔ پر ایک ایسا نام ہے جو ہم دونوں سے جڑا ہے۔۔۔۔” راعنہ اس با رعب پولیس آفسر کے سامنے نشست سنبھالتے گویا ہوئی۔
حمدان دوسری چئیر پر تشریف فرما ہوا۔
احیان خان براون آنکھیں چھوٹی کر کے سامنے بیٹھے اس جانے پہچانے چہرے کو یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
“نوریز صدیقی۔۔۔۔ ” راعنہ کے زبان سے یہ نام سنتے ہی احیان کے تاثرات بدل گئے اور ساتھ ہی اسے راعنہ سے پہلی ملاقات بھی یاد آگئی۔
“مسز راعنہ نوریز۔۔۔۔” احیان خان نے اجنبیت سے اس کا نام دہرایا۔
“مس راعنہ شعیب بٹ۔۔۔۔۔ میرا ڈائوورس ہوچکا ہے۔۔۔۔ اب میں مسز نوریز نہیں ہوں۔۔۔۔” راعنہ نے پھیکا مسکراتے ہوئے اپنا صحیح تعارف بتایا۔
“کہیے۔۔۔۔ کیا مدد کر سکتا ہوں آپ کی۔۔۔۔” آفسر احیان خان میز پر کہنیاں ٹکائے ہاتھوں کو باہم ملائے آگے کو ہوا۔
“میں نین عبدالعزیز کا کیس ری اوپن کروانا چاہتی ہوں۔۔۔۔ میں نوریز کے ظلموں کے خلاف گواہی دوں گی۔۔۔۔” راعنہ وقت ضائع کئے بغیر مدعے پر آئی۔
“اپنے ایکس ہسبینڈ کے خلاف گواہی دے کر کیا مل جائے گا۔۔۔۔” احیان خان اپنے پروفیشنل انداز میں سوال کرتا راعنہ کی نیت جانچنے لگا۔
“انصاف۔۔۔۔ خود کے لیے بھی۔۔۔۔ اور نین کے لیے بھی۔۔۔۔ ” راعنہ بنا جھجک ہر سوال کا جواب دیتی رہی۔
“نین کو۔۔۔۔ یا اس کی فیملی کو جانتی ہیں۔۔۔۔” احیان اب پر سکون ہوتا سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔
“نہیں۔۔۔۔ پر ایک مرتبہ نوریز کے زبانی اس کا نام سنا تھا۔۔۔۔ اور میرے پوچھنے پر وہ بری طرح گھبرا گئے تھے۔۔۔۔” راعنہ ماضی کے تکلیفوں میں گھر گئی۔
“ہمارے پاس نین کے کال ریکارڈز کے علاوہ کوئی پروف نہیں ہے۔۔۔۔ پر اس سے نوریز گنہگار ثابت نہیں ہوجاتا۔۔۔۔” آفسر خان اپنی ناکامی پر سر ہلاتے رہ گیا۔
“تو باقی کے پروف کیسے لا سکتے ہیں۔۔۔۔” راعنہ کی امید کی لوہ بجھنے لگی تھی۔
“چلو میرے ساتھ۔۔۔۔”احیان خان اپنی کیپ پہنتا اٹھ کھڑا ہوا۔ راعنہ اور حمدان خاموشی سے اس کے پیچھے ہو لیے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
تھوڑی مسافت کر کے احیان کی جیپ سرخ اینٹوں سے بنے ایک پرانے طرز پر تعمیر شدہ گھر کے آگے رکی۔ وہ جیپ سے اترا اور چھوٹے گیٹ سے اندر داخل ہوا۔
حمدان اور راعنہ میں حیران کن نظروں کا تبادلہ ہوا۔ چھوٹے قدموں سے وہ دونوں آگے پیچھے ہوتے اندر داخل ہوئے۔
بڑی حویلی کے چھوٹے باغیچے میں بزرگ عمر سفید پگڑی سر پر باندھے آنکھوں پر نمبر والے گلاسس لگائے پودوں کو پانی دے رہیں تھے۔ راعنہ نے سر کو خم دے کر سلام کیا تو انہوں نے بھی جواباً سر کو خم دیا۔
احیان خان دوسرے منزل پر سیڑھیوں کے سرے پر دست بہ کمر کھڑا راعنہ اور حمدان کو دیکھ رہا تھا۔ اوپر آنے کے بعد احیان انہیں لکڑی کے دروازے کے سامنے لے آیا۔ دروازہ کھولتے ہی راعنہ کی سامنے دیوار پر لگی اس مسکراتی خوبصورت سی نازک لڑکی کی تصویر پر نظر پڑی جو پندرہ سے سولہ سال کی نو عمر دوشیزہ تھی۔
“یہ ہے نین۔۔۔۔۔ “احیان خان کی افسردہ آواز پر راعنہ اس تصویر کے سحر سے باہر آئی۔
حمدان پلک تک نہ جھپکا سکا۔ اس نے آج تک اس سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھی تھی۔
“آج بھی اس گھر میں نین کے گمشدگی کا غم تازہ ہے۔۔۔۔” احیان نے سر جھٹکتے ہنھکارا بھری۔
راعنہ اور حمدان دم سادھے اسے سنتے اس کے پیچھے چلتے گئے۔ احیان اب ان دونوں کو پہلی منزل کے بڑے کمرے میں لے آیا۔ سنگل بیڈ پر برزگ عمر کمزور سی خاتون لیٹی خالی ذہن خلا میں دیکھ رہی تھی۔ راعنہ ان کے پہلو میں بیٹھی تو اس بزرگ خاتون کی آنکھوں کا رخ راعنہ پر آکر رک گیا۔
“نین۔۔۔۔ آگئی۔۔۔۔۔” کانپتے ہاتھوں سے انہوں نے راعنہ کے چہرے کو تھاما۔
“یہ نین نہیں ہے۔۔۔۔ اس کی سہیلی ہے۔۔۔۔” احیان نے آگے آکر راعنہ کا چہرا ان کی گرفت سے آزاد کرایا۔
“تو نین کیوں نہیں آئی۔۔۔ ” سوال پوچھ کر وہ خاتون پھر سے خلا میں دیکھنے لگی۔
راعنہ کی آنکھیں بھر آگئی تھی وہ لب بھینجے مضطرب ہوتے اٹھ گئی۔
“یہ نین کی امی جان ہے۔۔۔۔ اس کے لاپتہ ہونے کے بعد یہ بہت بیمار ہوگئی۔۔۔۔ الزائمر کی وجہ سے یہ کسی کو پہچان نہیں پاتی۔۔۔۔ نین کے علاوہ انہیں کوئی یاد نہیں۔۔۔۔ اپنے خاوند۔۔۔ عزیز صاحب بھی نہیں۔۔۔۔” احیان نے تایا ابو کو نام سے مخاطب کیا۔ وہ فلحال راعنہ سے اپنا اور نین کا رشتہ خفیہ رکھنا چاہتا تھا۔
راعنہ بھیگی سانس اندر کھینچ کر خود کو کمپوز کرتے باہر نکل آئی۔
“آپ ہمیں یہ سب کیوں بتا رہیں ہیں۔۔۔۔” حمدان نے خاموشی توڑی۔
احیان اسے دیکھ کر مسکرایا اور پھر راعنہ کے رو بہ رو ہوا۔
“مس راعنہ۔۔۔۔ آپ نے کہا آپ نین کا کیس ری اوپن کروانا چاہتی ہیں۔۔۔۔ آپ نین کو انصاف دلانا چاہتی ہیں۔۔۔۔ تب آپ کی نین سے۔۔۔۔ اس کی فیملی سے کوئی واقفیت نہیں تھی۔۔۔۔ پھر بھی آپ نے ایسا کہا۔۔۔۔ میں سمجھ گیا۔۔۔۔ آپ کا مقصد صرف نوریز صدیقی سے خود پر کئے مظالم کا بدلہ لینا ہے۔۔۔۔ میں نے آپ کو نین کی فیملی اس لیے دکھائی کہ آپ نین کے نام پر غائبانہ وار مت کیجیئے۔۔۔۔ آپ بھی ایک بیٹی کی ماں ہیں۔۔۔۔ نین کی والدہ کا سوچ کر قدم اٹھائیے۔۔۔۔” احیان خان کی باتوں پر راعنہ نے سر جھکا لیا۔
“پھر بھی اگر آپ اپنے ایکس ہسبینڈ کے خلاف جانے کے لیے تیار ہیں تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔۔۔۔ سوچ سمجھ کر فیصلہ کیجیئے گا۔۔۔۔” انہیں وہی چھوڑ کر احیان خان واپس چلا گیا۔
راعنہ فٹ پاتھ پر بیٹھی کتنی دیر نین کی امی جان کو یاد کر کے روتی رہی۔ ایک پل کے لیے ہی سہی پر اسے نین سمجھ کر اس بے بس ماں کے چہرے پر جو چمک آئی تھی چاہ کر بھی راعنہ بھلا نہیں سکی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
اگلی کئی راتوں تک راعنہ کو نیند نہیں آئی۔ وہ سوتے ہوئے بھی اٹھ بیٹھتی اور دائیں بائیں خالی بیڈ دیکھ کر ایلزینا کو یاد کرتے رو پڑتی۔
وہیں ایلزینا کے لیے بھی ماں کے بغیر رہنا مشکل تھا۔ اس رات بھی سونے سے پہلے وہ بیڈ پر کھڑی ایک ہی مطالبہ کر رہی تھی۔
“مما چاہیئے۔۔۔۔” اس نے منہ لٹکائے آنکھوں کے گوشوں سے نوریز کو دیکھا۔
“پاپا کافی نہیں ہے۔۔۔۔” اس نے معصوم چہرہ بنائے پوچھا۔
ایلزینا نے جب سے نوریز کا وحشی روپ دیکھا تھا وہ خوف زدہ رہتی۔ سہمے انداز اس نے نفی میں سر ہلایا۔
“ہممم کچھ دنوں میں پاپا دوسری شادی کریں گے۔۔۔۔ پھر نئی مما آجائے گی اوکے۔۔۔۔” زچ ہوتے وہ ڈریسنگ روم کے جانب بڑھ گیا۔
اس تین سال کی بچی کو دوسری شادی کا مطلب تو سمجھ میں نہیں آیا پر نئی مما کا سن کر بیڈ پر اچھلتے ہوئے رونے لگی۔
“نہیں۔۔۔۔ میری مما چاہیئے۔۔۔۔ مجھے اپنی مما چاہیئے۔۔۔۔” بلند آواز چیخنے لگی تو نوریز جاتے جاتے پلٹا اور ہاتھ ہوا میں بلند کر کے اسے خاموش کرایا۔
“چپ۔۔۔۔ ایک تھپڑ پڑے گا نا۔۔۔۔ اپنی مما کا نام لینا بھی بھول جاو گی۔۔۔۔۔ جاو دادی کے پاس جاکر سوجاو۔۔۔۔۔ اترو۔۔۔۔” نوریز کے غصے سے لرزتے ایلزینا بیڈ سے اتر کمرے سے باہر بھاگ گئی اور وہ ہونہہ کرتے رہ گیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
اگلی صبح احیان خان ہیڈ کوارٹرز پہنچا تو راعنہ پہلے سے اس کے کیبن میں بیٹھی تھی۔ احیان کے بیٹھتے ہی کارروائی شروع ہوئی۔ پہلے راعنہ کا بیان لیا گیا پھر نین کے متعلق کچھ باتیں ڈسکس ہوئی۔
“جہاں جہاں نوریز کا بسیرا تھا۔۔۔۔ سب دیکھ لیا۔۔۔۔ صدیقی ہاوس۔۔۔۔ فارم ہاوس۔۔۔۔ مسٹر وارث کی دیگر پراپرٹیز۔۔۔۔ کہی سے کچھ نا ملا۔۔۔۔” انگلیاں باہم ملائے وہ تصوراتی طور ماضی میں چلا گیا جب وہ پاگلوں کی طرح نین کو ہر جگہ ڈھونڈ رہا تھا۔
“فارم ہاوس کا سیکریٹ تہہ خانہ۔۔۔۔۔” راعنہ اپنے جانب سے نوریز کے خفیہ ٹھکانے سوچتے ہوئے کنکاری تو احیان سیدھا ہو گیا۔
“فارم ہاوس میں کوئی تہہ خانہ نہیں ہے۔۔۔۔” اس نے راعنہ کی تصحیح کرتے بغور اسے دیکھا۔
“تہہ خانہ ہے۔۔۔۔ پر جانے کا راستہ خفیہ ہے۔۔۔۔۔ “راعنہ کے اعتماد سے احیان جھٹکا کھا کر آگے ہوا۔
“آپ کو کیسے پتا۔۔۔۔ ” احیان کے انداز میں پہلے جیسا جنون در آیا تھا۔
“آفسر خان۔۔۔۔ میرا نو سال کی عمر سے صدیقی ہاوس سے تعلق ہے۔۔۔۔ نوریز سے شادی کرنے سے پہلے۔۔۔۔ میں ان کی بہن۔۔۔ آیت کی بیسٹ فرینڈ تھی۔۔۔۔ ہم ایک دوسرے سے کوئی بھی بات نہیں چھپاتے تھے۔۔۔۔ ” راعنہ جتاتے ہوئے مسکرائی۔
احیان خان کھڑا ہوگیا۔ راعنہ ساتھ چلنے لگی پر اس نے روک لیا۔
“آپ گھر جائیں۔۔۔۔۔ کوئی اپڈیٹ ملی تو میں خبر کر دوں گا۔۔۔۔ وہاں خطرہ ہوسکتا ہے۔۔۔۔ ” احیان نے سنجیدگی سے ہدایت دی۔
“ایس آئی آفسر احیان خان کی موجودگی میں مجھے کیا خطرہ ہوگا۔۔۔۔۔” راعنہ کو اس کی بات بے منطق لگی۔
“مس راعنہ۔۔۔۔ میں نین کو تو نہیں بچا سکا۔۔۔۔ پر آپ کا تحفظ میری پہلی ترجیح ہے۔۔۔۔ سی یو لیٹر۔۔۔” احیان خان اپنی بات مکمل کر کے لمبے ڈگ بھرتا روانہ ہوگیا۔
راعنہ دل میں کامیابی کی دعائیں کرنے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نوریز فرسٹ ائیر کی کلاس میں کھڑا سرپرائز ٹیسٹ لے رہا تھا جب اس کا موبائل بجنے لگا۔ ویسے تو ڈیوٹی کے وقت کال موصول کرنا کالج رولز کے خلاف تھا مگر وہ نمبر دیکھ کر نوریز فوراً کلاس سے باہر آگیا اور کال سننے لگا۔
“سر۔۔۔۔ آپ آئے ہوئے ہیں کیا۔۔۔ بتایا نہیں۔۔۔۔ ” فارم ہاوس کے چوکیدار نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
“کیا بکو ا س کر رہے ہو۔۔۔۔ میں شہر میں ہوں۔۔۔۔” نوریز دبے دبے غصے سے چلایا۔
“تو پھر فارم ہاوس میں کون ہے۔۔۔ توڑ پھوڑ کی آوازیں بھی آرہی ہیں۔۔۔۔” چوکیدار نے کھڑکی سے فارم ہاوس کے اندر جھانکتے ہوئے متفکر انداز میں جواب دیا۔
نوریز کال کاٹتے پورے جوش سے بھاگا تھا۔
وہیں دوسری جانب آفسر خان اپنے ٹیم کے ہمراہ فارم ہاوس میں چھان بین میں مصروف تھا۔
“ایک ایک کونا توڑ دو۔۔۔۔ پورا فرش اکھاڑ ڈالو۔۔۔۔ پر تہہ خانے کا خفیہ راستہ ڈھونڈو۔۔۔۔” اپنے ساتھی اہلکاروں کو ہدایات دیتے وہ خود بھی صوفے الٹنے لگا۔
ظہر پڑھنے کے بعد راعنہ مصلحے پر بیٹھی آیت کریمہ کا ورد کر رہی تھی۔ اس کے دل کو کئی سارے اندیشوں نے پریشان کر رکھا تھا۔
نوریز ایک سو بیس کے اسپیڈ سے ڈرائیونگ کرتے پھر سے چوکیدار کو کال ملانے لگا لیکن اس کا نمبر بند آرہا تھا کیونکہ چوکیدار کو احیان کے اہلکاروں نے اپنے قبضے میں جکڑ لیا تھا۔ کمرے کے بیڈ کے نیچھے انہیں تہہ خانے کا راستہ مل گیا۔ احیان کے قدم من بھر کے سیڑھیاں اتر رہیں تھے۔ آخری سیڑھی پر پاؤں رکھتے اسے چاروں طرف سے نین کے احساس نے گھیر لیا۔ بظاہر تو وہ جگہ خالی تھی مگر احیان کا دل بتا رہا تھا کہ وہاں کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ اسی احساس کے تحت اس نے تیز نظروں سے آس پاس کا جائزہ لیا اور وسطی دیوار کے ساتھ قدرے اٹھی ہوئی مٹھی کو کھودنے کا حکم صادر کیا۔ دو اہلکار ہاتھوں میں آلات لیے آگے گئے اور اس جگہ کو کھودنے لگے۔
جب تک نوریز ہانپتے کانپتے فارم ہاوس پہنچا بہت دیر ہوچکی تھی۔ فارم ہاوس اتل پتل کر رہ گیا تھا۔ ہر جگہ فرش اور دیواریں ٹوٹی ہوئی تھیں اور تہہ خانے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ دھڑکتے دل کے ساتھ وہ الٹے قدم پیچھے ہونے لگا اور مڑتے ہوئے دو با وردی پولیس اہلکاروں سے ٹکرا گیا۔
احیان خان اس بے نام قبر کے آگے دو زانو ہو کر بیٹھا ہڈیوں کے ڈھانچے کو دیکھتے اپنے آنسو ضبط کرنے کے جتن کر رہا تھا جب ایک اہلکار اس کے قریب آیا اور موودب انداز میں مخاطب کیا۔
“سر۔۔۔۔ مسٹر نوریز آئے ہیں۔۔۔۔ انہیں گرفتار کر لیا ہے۔۔۔۔” ساتھی اہلکار کی بات سنتے احیان خان سرخ آنکھیں جھپکا کر آنسو اندر اتارتے اٹھا اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آیا۔
اس کے دوسرے اہلکاروں نے دائیں بائیں سے نوریز کو جکڑ لیا تھا اور نوریز مزمت کرتے خود کو آزاد کرانے کی کوشش کر رہا تھا۔ احیان آگے آیا اور نوریز کا کالر دبوچ کر بے دھڑک اس پر لاتوں اور گھونسوں کی برسات کر دی۔
“دل تو کر رہا ہے اسی قبر میں تمہیں گھاڑ دوں۔۔۔۔ پر اپنے ڈیوٹی کے ہاتھوں مجبور ہوں۔۔۔۔۔ “احیان دانت پر دانت جمائے ہوئے پورے طاقت سے مقے مارتا غرایا۔
نوریز کے منہ اور ناک سے خو ن کی دھار بہنے لگی۔ اپنا غصہ اس پر نکال کر احیان نے اسے دوسرے ساتھی کے جانب دھکیلا اور اسے لیں جانے کا حکم سنایا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ اسی انداز میں بیٹھی عصر کی اذان سنتے اللہ کی بزرگی بیان کر رہی تھی جب اس کا موبائل بجا۔ پہلے ہی بیل پر اس نے کال موصول کی لیکن دوسرے جانب مکمل خاموشی تھی۔
“سیکریٹ تہہ خانے کا خفیہ دروازہ مل گیا راعنہ۔۔۔۔” چند ثانئے بعد احیان کی رندھی ہوئی آواز گونجی تھی۔
راعنہ نے منہ پر ہاتھ رکھ کر سانس روک لی۔
“باڈی مل گئی ہے۔۔۔۔۔ تصدیق کے لیے فورنسک لیب بھیج رہیں ہیں۔۔۔۔ پر۔۔۔۔ میرا دل کہہ رہا ہے۔۔۔۔ وہ نین ہی ہے۔۔۔۔” احیان نے سر اٹھا کر کھلے آسمان میں لمبی سانس لی۔
اس کے ہر معلومات کے ساتھ راعنہ کا دل دہل جاتا۔
“نوریز کو حراست میں لے لیا ہے۔۔۔۔۔ اور یہ سب آپ کی مدد کے بغیر نا ممکن تھا۔۔۔۔ تھینکیو۔۔۔۔” آخر میں وہ راعنہ کا مشکور ہوا۔
نوریز کی گرفتاری کا سن کر راعنہ کے دو آنسو ٹوٹ کر رخسار پر لڑکھتے بہہ گئے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔
