Nadamat By Palwasha Safi Readelle50274 (Nadamat) Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
(Nadamat) Episode 14
کچھ دن تو اسی کشمکش میں گزر گئے۔ امتحانات کے باعث نوریز، نین کے برتاو پر ٹھیک سے دھیان نہیں دے پایا۔ اس دن وہ آخری ڈیوٹی دے کر کالج گیٹ تک پہنچا تھا کہ اپنی کار کے پاس راعنہ کو منتظر پا کر ٹھٹک گیا۔
“تم یہاں۔۔۔۔ میرا مطلب۔۔۔۔ بنا بتائے۔۔۔۔ ” نوریز نے سرپرائز ہونے والے تاثرات بنا کر پوچھا۔
راعنہ بلیک پینٹ پر گھٹنوں تک آتے فلورل کُرتی پہنے بالوں کو ہالف کیچر میں باندھے نزاکت سے کھڑی نوریز کو دیکھ رہی تھی۔
“میں لے کر آئی ہوں اسے یہاں۔۔۔۔۔” نوریز کے عقب سے آیت کی جتاتی ہوئی آواز گونجی تھی۔
نوریز مزید حیران ہوتے پیچھے مڑا۔
“سوچا آپ دونوں نے از خود تو ملنا یا رابطہ کرنا ہے نہیں۔۔۔۔ تو میں ہی ملوا دیتی ہوں۔۔۔ کم آن بھائی۔۔۔ راعنہ آپ کی منگیتر ہے۔۔۔۔۔ کچھ تو رومانس دکھاو۔۔۔۔” آیت نے گلہ آمیز نظروان سے دیکھ کر ہونہہ کیا۔
نوریز سر پر ہاتھ پھیرتے جبراً مسکرایا۔
“چلو۔۔۔۔ لنچ کرواتا ہوں تم دونوں کو۔۔۔۔ ” اپنے کار کے ڈرائیونگ سیٹ کے سمت جاتے ہوئے آفر دی۔
“میں تو صدیف کے ساتھ جارہی ہوں۔۔۔۔ آپ راعنہ کو لنچ کرواو۔۔۔۔ اور ہاں۔۔۔۔۔ آئس کریم بھی ضرور کھلانا۔۔۔۔۔ کلفی فلیور۔۔۔۔۔” آیت تیزی سے کہتے گیٹ کے باہر نکلنے لگی۔
راعنہ اسے جاتے دیکھ کر گڑبڑا گئی اور روکنے کے لیے صدا دی لیکن آیت اس کی پکار نظر انداز کر کے چلی گئی۔ نوریز نے آیت کی چالاکی پر تپ گیا پر اب راعنہ کو ساتھ لے جانا ضروری تھا۔ نوریز نے کار اسٹارٹ کی تو وہ شرماتے ہوئے فرنٹ سیٹ پر جا بیٹھی۔
ڈرائیونگ کرتے ہوئے ایک سگنل پر کار روک کر یوں ہی نوریز نے رخ موڑ کر ساتھ بیٹھی راعنہ کو دیکھا تھا۔ وہ نین جتنی خوبصورت تو نہیں تھی مگر اتنی پُر کشش ضرور تھی کہ نوریز کا دل کچھ بیٹس مس کر گیا۔
سگنل گرین ہونے کے باوجود بھی ان کی کار رکی رہی تو راعنہ نے گردن گھما کر دیکھا اور دیکھتی ہی رہ گئی۔ سیاہ آنکھیں اور بھوری آنکھیں ایک دوسرے میں قید ہوگئی تھی۔ بند گاڑی میں دو نفوس کی چلتی سانسوں کے علاوہ کوئی حرکت نہ تھی۔
دل میں اتر جانے والی اُن نظروں سے راعنہ کی ڈھرکن تیز ہونے لگی پر وہ پلک تک نہ جھپکا سکی۔ وہیں نوریز کی کیفیت بھی یکساں تھی۔ مین روڈ پر ٹریفک جام کرانے پر جب عقبی کار کا ہارن تیزی سے بجا تو وہ دونوں چونک کر حقیقت میں لوٹ آئے۔ نوریز نے پلکیں جھپکا کر خود کو کمپوز کیا اور ایکسلیٹر دبا کر پورے رفتار سے گاڑی بھگائی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
فائف سٹار ہوٹل میں لنچ کرتے وقت بھی ایک آدھ بات کے علاوہ کوئی گفتگو نہیں رہی۔ اس کے بعد نوریز اسے گھر ڈراپ کرنے آیا تو دورازے پر شعیب صاحب سے ملاقات ہوگئی۔
“السلام و علیکم انکل کیسے ہیں آپ۔۔۔۔”نوریز کار سے اتر کر شعیب صاحب سے ملا۔
“وعلیکم السلام۔۔۔۔ نوریز تم تو پھر نظر ہی نہیں آئے۔۔۔۔” اس کی پیٹھ تھپتھپاتے وہ گلہ کر بیٹھے۔
“بس انکل۔۔۔۔۔ کالج میں امتحانات چل رہے تھے۔۔۔۔۔ اس لیے مصروف ہوگیا تھا۔۔۔۔۔ ” نوریز نے مڑ کر راعنہ کو دیکھا۔
اس کی خوشی دیدنی تھی۔ راعنہ کو نوریز کا اپنی فیملی سے یوں گھل ملنا اچھا لگ رہا تھا۔
تھوڑی دیر حال احوال دریافت کر کے نوریز جانے لگا۔ شعیب صاحب نے اسے چائے پر رکنے کا کہا پر وہ اپنے مصروفیات گنوا کر راعنہ سے رخصت لیتا کار میں جا بیٹھا۔ شرم سے راعنہ کے رخساروں میں سرخی مائل ہوگئی تھی۔ اسے یقین تھا کہ وہ نوریز کے دل میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
صدیف اور آیت کھانا کھا کر سی ویو پر آگئے۔ پانی میں اٹھتی لہریں اور تازی ہوا کے چلتے، موسم خوشگوار ہوگیا تھا۔ آیت کو ایک جگہ بیٹھا کر صدیف گَنے کا جوس لینے چلا گیا پر جب واپس آیا تو آیت وہاں نہیں تھی۔
صدیف کے اوسان خطا ہوگئے۔ وہ تیز نظروں سے سیاحوں کو دیکھتے آیت کی تلاش کرنے لگا۔
“آیت۔۔۔۔” اسے پکارتے ہوئے وہ دیوانہ وار اِدھر اُدھر بھاگتے پورے سی ویو پر اسے ڈھونڈ رہا تھا۔
صدیف کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ہونے لگے۔ اس نے جیب سے موبائل نکال کر آیت کو کال ملائی مگر کوئی اٹھا نہیں رہا تھا۔ اس کی بے چینی میں اضافہ ہو گیا۔ وہ پھر سے ایک نظر سمندر کے جانب دوڑا کر اپنی کار کے پاس جانے لگا تھا کہ اس کے کندھے پر جھٹکا لگا۔
“مجھے چھوڑ کر جا رہیں ہو۔۔۔۔ ہاہاہاہا۔۔۔۔۔” آیت نے کھلکھلاتے ہوئے صدیف کے کندھوں پر ہاتھ مارا تھا۔
صدیف نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔
“کہاں چلی گئی تھی تم۔۔۔۔ ایسا بھی کوئی کرتا ہے۔۔۔۔ میں کتنا پریشان ہوگیا تھا۔۔۔۔۔ اففف اللہ۔۔۔۔ کیسے کیسے خیالات آرہیں تھے۔۔۔۔” صدیف کی آواز میں لزرش اور ہاتھوں میں کپکپاہٹ طاری ہوگئی۔
“مجھے کھونے سے ڈرتے ہو۔۔۔۔” آیت نے پلکیں جھپکاتے ہوئے سوال کیا۔
“آف کورس یار۔۔۔۔ یہ دیکھو۔۔۔۔ سانس رکنے کو تھی میری۔۔۔۔۔” صدیف نے آیت کا ہاتھ اپنے سینے پر دل کے پاس رکھے قدرے درشتی سے کہا۔
آیت اس کی تیز دھڑکن محسوس کرتے اپنے شرارت پر پچھتانے لگی۔
“اتنا پیار کرتے ہو مجھ سے۔۔۔۔” آیت کی آواز مدھم ہوگئی۔
“آیت۔۔۔۔ تم میری ہونے والی بیوی ہو۔۔۔۔ میرا مستقبل تمہارے ساتھ ہے۔۔۔۔۔ میں کبھی تمہارا برا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔۔” صدیف نے اسے دونوں کندھوں سے تھامے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔
“سوری۔۔۔۔ میں بس۔۔۔ مذاق کر رہی تھی۔۔۔” آیت نے معصومیت سے کان پکڑ لیئے۔
صدیف سر جھٹک کر روانہ ہوگیا۔ آیت اس کے پیچھے لپکی اور اس کا ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔
“تو پھر آج کہہ دو۔۔۔۔” اپنا مزاج اچھا بناتے مستفسر ہوئی۔
“کیا۔۔۔۔” صدیف جان بوجھ کر انجان بنا۔
“وہی جو ہر لڑکی سننا چاہتی ہے۔۔۔۔” آیت ادائیں دکھاتی بالوں سے کھیلنے لگی۔
“یہی کہ۔۔۔۔۔ تم خوبصورت ہو۔۔۔۔۔” صدیف اس کے شرارت میں ساتھ دینے لگا۔
“نہیں۔۔۔۔ کچھ اور۔۔۔۔” آیت تنگ ہوگئی۔
“اوو۔۔۔۔۔ یہی نا کہ تم بہت اسمارٹ ہو۔۔۔۔” صدیف نے بہ مشکل اپنی ہنسی روکی ہوئی تھی
“جاو۔۔۔۔ نہیں بولتی میں آپ سے۔۔۔۔” آیت زچ ہوکر آگے بڑھ گئی۔
“ہہہہہ۔۔۔۔ آیت سنو۔۔۔۔۔” صدیف نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا اور اپنے سامنے کھڑا کر کے اس کا چہرا اپنےہاتھوں میں تھام کر اوپر کیا۔
“میں تم سے اتنی محبت کرتا ہوں۔۔۔۔ کہ آئی لو یو جیسے الفاظ میرے جذبات کو نہیں تول سکتے۔۔۔۔” آیت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر صدیف نے دل کی بات کہی۔
آیت اس کا اظہار سن کر بلش کرنے لگی اور اس کے کندھے پر سر رکھ کر شرما گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نین آج بھی کالج نہیں جا سکی تھی۔ شام میں اسکا اور احیان خان کا نکاح ہونا تھا۔ وہ پیشاور میں گزرا بچپن کا وہ دن یاد کر رہی تھی جب احیان اسے تنگ کرتے مرا ہوا کاکروچ پکڑے پوری حویلی میں اسے بھگاتا رہا تھا۔
احیان کی شرارتیں یاد کرتی نین مسکرا کر سر جھٹکتی تیار ہونے چلی گئی۔
نین شاور لے کر کمرے میں آئی تو اس کا موبائل مسلسل بج رہا تھا۔ اس نے گیلے بال تولیہ میں لپیٹے ہوئے ہی بھاگ کر کال اٹھائی۔
۔”ہائے نین۔۔۔ نوریز ہیئر۔۔۔۔ ایکچیولی میں نے ایک پریکٹیکل کلاس ارینج کی ہے۔۔۔۔ گیارہ بجے۔۔۔۔ تم ابھی نکلو گی تو گیارہ بجے تک پہنچ جاو گی۔۔۔۔” نوریز نے کال موصول ہوتے ہی مدعا بیان کیا۔
“پر سر ایسے اچانک۔۔۔ آئی مین۔۔۔۔ کالج میں تو ایسا کچھ ڈسکس نہیں ہوا تھا۔۔۔۔”نین کو ان کا اچانک پریکٹیکل رکھنا ٹھیک نہیں لگا۔
“نین وہاں ہم درختوں کے تنے سے نکلنے والے کیمیکلز پر تجربہ کریں گے۔۔۔۔ یہ بہت ضروری ہے۔۔۔۔ اور فائنل ایگزامز میں اس اسائنمنٹ کے مارکس لگیں گے۔۔۔۔ تو وقت ضائع مت کرو۔۔۔۔ جلدی نکلو۔۔۔ میں لوکیشن شئیر کرتا ہوں۔۔۔” نوریز نے پریکٹیکل کی نوعیت سمجھانے کی کوشش کر کے عجلت میں کال کاٹ دی۔
“اب کیا کروں۔۔۔۔” نین سوچ میں پڑ گئی تھی پر نوریز کی بات یاد کر کے وہ تیزی سے تیار ہونے لگی۔ اسے ٹاپ کرنے کے لیے پورے مارکس درکار تھے اور پورے مارکس کے لیے پریکٹیکل میں حصہ لینا ضروری تھا۔
کالج کے لیے تیار ہو کر وہ امی کو انفارم کرتی روانہ ہونے لگی۔
“نین شام میں تمہارا نکاح ہے۔۔۔۔۔ ” امی نے اسے روکنا چاہا۔
“امی میں دوپہر سے پہلے پہلے پہنچ جاوں گی۔۔۔۔ جانا بہت ضروری ہے۔۔۔۔ آپ ابو جی کو سمجھا دینا۔۔۔۔” نین امی کو حصار میں لے کر سمجھاتے ہوئے اپنا کالج بیگ اٹھا کر گیٹ سے باہر نکل گئی۔
رکشہ کرا کر وہ دیر ہوجانے کے خوف سے مسلسل دل میں دعائیں پڑھتی جب نوریز سر کے بھیجے لوکیشن پر پہنچی تو وہاں کوئی نا تھا۔ اسے دھچکا سا لگا۔
“کہاں ہے سب۔۔۔” نین نے سوچتے ہوئے آس پاس پہاڑی درختوں کے بیچو بیچ بنے اس فارم ہاوس کا جائزہ لیا تھا۔
وہ موبائل نکال کر فرینڈز کو کال ملانے لگی تھی کہ سامنے سے بوٹوں کی چھاپ سنائی دی۔ پروفیسر نوریز صدیقی معنی خیز نظروں سے نین کو سر تا پا گھورتے اس کے جانب آئے۔
“تم تو بالکل ٹائم پر آئی ہو نین۔۔۔۔ آئی ایم سو اپمریسڈ۔۔۔۔ ویسے۔۔۔۔ آج کل تمہاری چھٹیاں زیادہ نہیں ہوگئی ہے۔۔۔۔ ” نوریز کے لہجے سے جھلکتی درندگی نین کو چونکا گئی تھی۔
“سر۔۔۔۔ شام میں میرا نکاح ہے۔۔۔۔۔ مجھے جلدی واپس جانا ہے۔۔۔۔ باقی کلاس کو جلدی بلوائے۔۔۔۔” نین نے التجائی انداز میں کہا۔
“اووو۔۔۔۔۔ تو تمہارا نکاح ہے۔۔۔۔ ” نوریز کی حیرت سے آبرو پھیل گئے۔
“خیر تم آگئی ہو نا۔۔۔۔ پریکٹیکل بھی کروا لوں گا۔۔۔۔” نوریز نے لمبا قدم بڑھا کر نین کی راہ فرار مسدود کر دی تھی۔
“سر۔۔۔۔ آپ ک ک کیا کر رہیں ہیں۔۔۔” نین کانپ اٹھی۔
“کیوں۔۔۔ مجھے لگا تم بھی مجھے پسند کرتی ہو۔۔۔۔ میں تو بہت پسند کرتا ہوں تمہیں۔۔۔۔ پھر نکاح کسی اور سے کیوں۔۔۔۔” نوریز کی بے باکی بڑھتی گئی۔
“سر۔۔۔۔ ابو جی نے میرا نکاح۔۔۔۔۔” پیچھے ہوتے ہوتے نین کی کمر دیوار سے لگ گئی تو بات ادھوری رہ گئی۔
نوریز نے اس کے دائیں سائیڈ دیوار پر اپنا ہاتھ ٹکا دیا۔ نین نے اسے اپنے اتنے قریب پا کر گھبراتے ہوئے رخ پھیر لیا۔ نوریز کی مسکراہٹ گہری ہوگئی وہ اپنا چہرہ نین کے گردن کے بالکل قریب لے گیا۔ نین کے جسم سے آتی تازہ مہک اور بالوں میں ہلکی نمی محسوس کرتے نوریز مزید مدہوش ہونے لگا تھا۔
“سر پلیزز جانے دیں۔۔۔” نین کو اپنی آواز کھائی میں سے آتی محسوس ہورہی تھی۔ اس کی تیز دھڑکنیں نوریز کی نیت بگاڑنے کافی تھیں۔
“ابھی تو ہاتھ آئی ہو۔۔۔۔ ایسے کیسے جانے دوں۔۔۔۔ آہ ہ ہ نین۔۔۔۔ بہت نشہ ہے تم میں۔۔۔ تمہیں دیکھتے ہی پاگل ہوجاتا ہوں۔۔۔۔ تم یہ حق مجھ سے پہلے کسی اور کو نہیں دے سکتی۔۔۔۔” نوریز نے مخمور انداز میں کہتے نین کے کان کے پاس سرگوشی کی تھی۔ اس کی سانسوں کی تپش سے نین کو اپنی گردن جلستی محسوس ہوئی۔
اس کا لمس محسوس کرتے ہوئے نین کے ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑ گئے۔ وہ اسے دھکہ دے کر ہٹانا چاہتی تھی پر لمبے چوڑے مضبوط جوان مرد کے آگے نین جیسی نازک لڑکی کا بس نا چلا۔
“سسس سر۔۔۔۔” نین نے روکنا چاہا پر نوریز اس کے منہ پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کر گیا۔
“ششش نین۔۔۔۔ مجھے رومانس کے بیچ روک ٹوک نہیں پسند۔۔۔۔ تم پیار سے مانو گی۔۔۔۔ تو تمہیں بھی مزا آئے گا۔۔۔۔ پر تنگ کرو گی۔۔۔ تو میں زبردستی پر اتر آوں گا۔۔۔ اور پھر۔۔۔۔ تمہیں بہت تکلیف ہوگی۔۔۔۔” نوریز کی جونیت سے نین کے اوسان خطا ہوگئے تھے۔
نوریز نے ایک ہاتھ سے اس کی کمر مضبوطی سے تھام کر اسے خود سے لگا لیا تھا اور دوسرے ہاتھ سے نین کی تھیوڑی اوپر کو اٹھا کر اس کے لبوں کو اپنے جنون کا نشانہ بنایا۔ نین بے آب ماہی کی طرح تڑپ اٹھی پر نوریز کے شکنجے سے آزاد نہ ہوسکی۔ بند آنکھوں میں سے پھسلتے آنسو اس کے رخساروں کو بھیگا گئے تھے۔ نین کی ہمت جواب دینے لگی تھی پر اگلے ہی پل اس کے ذہن کے پردے پر احیان خان کا عکس لہرایا جس سے آج شام اس کا نکاح ہونے والا تھا، اس نے ہمت کر کے نوریز کو پرے دھکیل دیا اور دروازے کے جانب لپکی۔
“نین اسٹاپ۔۔۔۔۔” نوریز اس کے پیچھے لپکا لیکن نین بے دھڑک کسی چیز کی پرواہ کئے بغیر جنگل میں در آئی۔
وہ چھوٹی بیلوں اور درختوں کے پتوں کو پرے ہٹاتی بس ایک ہی سمت میں بھاگ رہی تھی۔ وہ راستہ کہاں جاتا ہے۔ جنگل کے آخری سرے میں کیا ہے۔ کہی کوئی جنگلی جانور نہ آجائے، نین کو کسی چیز کا دھیان نہیں تھا۔
“نین رک جاو۔۔۔۔” نوریز نے بھاگتے ہوئے صدا لگائی پر نین پر اتنی وحشت سوار تھی کہ وہ سنی کو ان سنی کرتے بھاگتی رہی۔
نوریز نے اپنی رفتار تیز کر دی۔ نین نے اس کا سایہ قریب ہوتے محسوس کر کے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی کوشش کی کہ بڑے سے پتھر سے ٹکڑا کر گر پڑی۔ ایک جھٹکے سے وہ چیخ پڑی اور پھر بے آب ماہی کی طرح تڑپ اٹھی۔
نوریز تیز تیز سانس لیتا اس کے سر پر پہنچا پر نین کا جسم بے حس و حرکت دیکھ کر گھبرا گیا۔
“نین۔۔۔۔” اسے مخاطب کرتے نوریز دو زانو ہو کر بیٹھا اور نین کا رخ سیدھا کیا کہ ٹھٹک کر اچھل پڑا۔
سہمے انداز میں وہ منہ پر ہاتھ رکھے دو قدم پیچھے کھسک گیا۔ نین کا بائیاں رخ خون سے لت پت پڑا تھا۔ کان کے سمت گرنے کے باعث اس کی شہہ رگ پھٹ گئی تھی اور نین جائے وقوعہ پر ہی زندگی سے ہار چکی تھی۔ نوریز نے تھوک نگل کر کپکپاتے ہوئے نین کے بازو کو ہلایا لیکن اس میں زندگی کی کوئی رمق نہ بچی تھی۔
“یہ کیا ہوگیا۔۔۔۔ نوریز۔۔۔۔ تھنک اسمارٹلی۔۔۔۔” سر پر ہاتھ رکھے وہ آس پاس نظریں گھما کر دیکھنے لگا۔
اُن دو وجود کے علاوہ وہاں کسی کا نام و نشان نہیں تھا۔ اسی کا بات کا فائدہ اٹھا کر نوریز نے کانپتے ہوئے نین کی لا ش کو اٹھایا اور واپس فارم ہاوس کا رخ کیا۔ تیز نظروں سے ماحول کا جائزہ لیتے ہوئے وہ بے جان لا ش کو بیڈروم کے خفیہ تہہ خانے میں لے آیا۔ بیڈروم میں پڑے صوفے کے نیچھے ایک خفیہ خانہ تھا جس کے بارے میں نوریز کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ اس نے نین کی باڈی اس خفیہ تہہ خانے میں ڈال دی اور صوفے کو اپنی جگہ واپس سیٹ کر کے لاؤنج میں آگیا۔
ڈر اور خوف کے مارے پسینے سے شرابور وہ سستانے بیٹھ گیا۔ جا جا کر نین کا مردہ جسم اس کی آنکھوں میں گردش کرنے لگا۔ خوف و ہراس سے لرزتے وہ ایک جھکٹے سے اٹھا اور اپنا تنفس بحال کرتے لمبے ڈگ بھرتا روانہ ہوگیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نین کی امی کا پریشانی سے برا حال تھا۔ شام ہونے میں کچھ ہی دیر باقی تھی اور نین کا اب تک کوئی اتا پتا نہیں چل سکا تھا۔ امی جی بار بار اس کا نمبر ملا رہی تھی پر دوسری طرف سے جواب ندارت رہا۔
“کہاں ہے نین۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر میں مہمان آنا شروع ہوجائے گے۔۔۔۔” عزیز صاحب نے متفکر ہوتے بیوی کو مخاطب کیا تھا۔
امی جی نے پھر سے مایوس ہوتے سر نفی میں ہلایا۔ عزیز صاحب وہی سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔
“آج کے دن جانا ضروری تھا اس کا۔۔۔۔ میں غفور کو کیا جواب دوں گا۔۔۔۔ احیان سے نظریں کیسے ملاوں گا۔۔۔۔ ” ہر طرف اداسی چھا گئی تھی۔
امی جی کے کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ انہوں نے ایک تجویز سوچتے نین کی کالج فرینڈ کو کال ملائی۔
“آنٹی۔۔۔۔ میں تو ابھی کالج سے لوٹی ہوں۔۔۔۔ آج تو کوئی آوٹ ڈور پریکٹیکل نہیں تھا۔۔۔۔ نین کس کے بلانے پر گئی ہے۔۔۔۔” تسکین عنایت حیرت زدہ ہو کر بولی تھی۔
چونکہ کال اسپیکر پر تھا اس لیے تسکین کا جواب سن کر عزیز صاحب طیش میں آگئے۔ انہوں نے بیوی کے ہاتھ سے موبائل فون جھپٹ لیا۔
“کہی نین کا کسی اور کے ساتھ چکر تو نہیں تھا۔۔۔۔” عزیز صاحب نے اپنی بیگم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا تھا۔
“کسی بات کر رہیں ہیں آپ۔۔۔۔۔ نین کا کسی سے کوئی چکر نہیں تھا۔۔۔۔۔ وہ تو اپنی مرضی سے احیان سے رشتے کے لیے مانی تھی۔۔۔۔۔” امی جی کا دل دہل گیا۔ وہ آنسو بہاتی شوہر کی غلط فہمی دور کرنے لگی۔
عزیز صاحب نے لمبا سانس خارج کیا اور اپنے چھوٹے بھائی غفور کو کال ملا کر مہمانوں کو وہی سے رخصت کرنے کی التجا کی۔
“پر بات کیا ہے لالا۔۔۔۔۔ سب خیریت ہے نا۔۔۔۔”؟ غفور صاحب نے بھائی کی پریشان کن حالات سے واقف ہونا چاہا۔
ان کے عقب میں احیان، جو اپنے نکاح کے مناسبت سے تیار کھڑا تھا، آگے آیا اور کال اسپیکر پر ڈالی۔
“کیا بتاوں غفور۔۔۔۔۔ میرے تو زبان پر بھی نہیں آرہا۔۔۔۔ دراصل نین۔۔۔۔ صبح سے غائب ہے۔۔۔۔” عزیز صاحب بے بسی سے رو داد سنانے لگے۔
احیان کے عصاب تن گئے۔ اس نے باری باری اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی طرف دیکھا تھا۔ ان کے تاثرات بھی کچھ کم نا تھے۔ یک دم ماحول غمگین ہو چلا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نوریز گھر پہنچا تو لاؤنج میں سے بٹ فیملی کی آوازیں بھی آرہی تھی۔ شعیب صاحب عاطرہ بیگم اور حمدان، صدیف اور آیت کی شادی کی تاریخ رکھنے آئے تھے۔
“آج کا دن ہی خراب ہے۔۔۔۔” نوریز نے دل ہی دل میں سوچا اور بیک یارڈ سے راستے سے گزر کر کچن کے اضافی دروازے سے اندر داخل ہوا۔ کچن کے در سے اندر جھانک کر اس نے لاؤنج میں دیکھا تو سب باتوں میں مشغول تھے۔ نوریز نے سب کی نظروں چھپتے ہوئے تیز تیز اپنی شرٹ اتاری اور اس پر نین کے خون سے لگے داغ دھبے دھونے لگا۔
سنبل بیگم چائے کی کیتلی اٹھائے اور چائے لینے کچن میں آئی تو نوریز کو نیم برہنہ حالت میں دیکھ کر شاک ہوگئی اور اس سے بھی بڑا جھٹکا سِنک میں خود آلود شرٹ دیکھ کر لگا۔
“نوریز یہ سب کیا ہے۔۔۔۔۔” انہوں نے گھبراتے ہوئے پوچھا۔
“ششش۔۔۔۔۔”نوریز فوراً پلٹا اور غصے سے انہیں گھور کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
سنبل بیگم سر جھکائے دوسرے شیلف پر چولہے پر پڑی چائے کو گرم کرنے لگی۔ ان کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ طاری ہوگئی۔ وہ بار بار نوریز کو دیکھتی جو جمے ہوئے خون کے دھبے ڑگڑتے مشقت میں مصروف تھا۔ کسی حد تک شرٹ کے دھبے صاف تو ہوگئے پر پوری طرح ختم نہ ہوسکے جس سے نوریز زج ہونے لگا۔ واپس بیک یارڈ میں نکل کر اس نے شرٹ تار پر سوکھنے ڈال دی۔
سنبل بیگم خاموشی سے اس کے حرکات مشاہدہ کر رہی تھی حتہ کہ چائے ابل کر گرنے لگی۔ تب جا کر انہیں ہوش آیا اور وہ زبردستی مسکرانے کی کوشش کرتی کیتلی بھر کر لاؤنج میں نکل گئی۔
مہمانوں کے جانے تک نوریز بیک یارڈ میں ہی گھومتا رہا۔ جب جب ہوا کی وجہ سے اس کی شرٹ لہراتی اس کی نظروں میں نین عبدالعزیز خان کا مسکراتا چہرہ گھوم جاتا۔ جانے یا انجانے اس نے نین کی جان لے لی تھی۔ اس خوف سے اس کا گلا خشک ہونے لگا۔ وہ پانی پینے کچن میں در آیا تب ہی وارث صاحب نے اسے دیکھ لیا تھا۔
“نوریز۔۔۔۔ تم کب آئے۔۔۔۔ شرٹ کہاں ہے تمہاری۔۔۔۔ ” وارث صاحب خوش مزاجی سے بولے۔
“جی۔۔۔ وہ۔۔۔۔ شرٹ پر جوس گر گیا تھا۔۔۔۔ اس لیے دھو کر سوکھنے ڈالا ہے۔۔۔۔۔” اس کی پردہ پوشی کرتے جواب مما کے جابب سے ملا۔
نوریز نے ایک نظر انہیں دیکھا اور سیڑھیوں کے جانب بڑھ گیا۔
“اچھا سنو۔۔۔۔ اگلے ماہ کے پندرہ تاریخ کو آیت اور صدیف کی شادی طے ہوئی ہے۔۔۔۔۔ اور اسی تاریخ کو تمہاری اور راعنہ کی بھی شادی ہے۔۔۔۔۔ ایک بارات جائے گی۔۔۔ دوسری بارات آئے گی۔۔۔۔” وارث صاحب کی خوشی ان کی آواز سے بھی چھلک رہی تھی۔
نوریز ان کی بات مکمل ہونے تک پہلی سیڑھی پر رکا رہا اور پھر بغیر جواب دیئے اوپر چڑھ کر اپنے کمرے میں بند ہوگیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
خان ہاوس میں غم کا سما تھا۔ امی جی نے رو رو کر برا حال کر لیا تھا۔ چچی انہیں خود سے لگائے چپ کرواتی رہی پر جوان اور خوبصورت بیٹی کی گمشدگی ان کا سینہ چیر دیتی اور بلند آواز آہ و بکا کرنے لگتی۔
عزیز صاحب اور غفور صاحب سر پکڑے گھر میں داخل ہوئے تو امی جی ان کے جانب لپکی اور شوہر کا گریبان پکڑ کر فریاد کرنے لگی۔
“پولیس تھانے میں رپورٹ لکھوا دی ہے۔۔۔۔ وہ ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔۔۔۔۔ ہمت رکھو۔۔۔۔” عزیز صاحب مدھم آواز میں کنکارے تھے۔
“میری بیٹی صبح سے غائب ہے۔۔۔۔ آپ کیسے کہہ رہے ہمت رکھوں۔۔۔۔۔” امی جی روتے روتے اپنے حواسوں سے بیگانی ہونے لگی تو عزیز صاحب نے تیزی سے انہیں تھام لیا۔
“اللہ پر بھروسہ رکھو حفصہ۔۔۔۔ تمہارے اس طرح طبیعت خراب کرنے سے نین مل نہیں جائے گی۔۔۔۔ ہم سب ڈھونڈ رہیں ہیں نا۔۔۔۔” عزیز صاحب نے ان کو کمرے میں لے جاتے ہوئے تلقین کی پر وہ کسی کی بات سننے کے حالت میں نہ تھی۔
احیان اتنی دیر خاموش رہا تھا۔ غفور صاحب نے مضطرب ہوتے بیٹے کے جانب دیکھا۔ احیان کی خاموشی انہیں کسی بڑے طوفان کا اندیشہ لگ رہی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
آیت اور راعنہ دونوں کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھیں۔ شادی کی تاریخ طے ہونا ان کی بے چینی بڑھا گیا تھا۔
“پر انکل نے ساتھ ساتھ شادی کیوں رکھی۔۔۔۔ اب میں اپنے بھائی کی شادی انجوائے نہیں کر پاوں گی۔۔۔۔” راعنہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
“ساتھ ساتھ تھوڑی ہے پاگل۔۔۔۔۔ ایک دن میرا فنکشن ہوگا۔۔۔۔ اور اگلے دن تمہارا۔۔۔۔۔۔ میرا فنکشن تم انجوائے کرنا۔۔۔ اور تمہارا فنکشن میں۔۔۔۔ میرے تو پھر بھی اکلوتے بھائی کی شادی ہے۔۔۔۔ مجھے تو لازمی انجوائے کرنا ہے۔۔۔۔” آیت نے بیڈ پر لیٹے پیر جھلاتے ہوئے اپنی پلاننگ بتائی۔
“پھر صحیح ہے۔۔۔۔ پر۔۔۔۔۔ نوریز کے سامنے میں ڈانس کیسے کروں گی۔۔۔۔ شرم آتی ہے۔۔۔۔” راعنہ نے دوسرا اندیشہ ظاہر کیا۔
“اب تیری شرم کا میں کیا کروں۔۔۔۔ میں تو خوب ڈانس کروں گی اور صدیف سے بھی کرواوں گی۔۔۔۔” آیت نے سر پر ہاتھ مارتے راعنہ کے شرمانے پر تبصرہ کیا۔
“ہاہاہا۔۔۔۔ بھئیاں کو ڈانس نہیں آتا۔۔۔۔ ہاں حمدان اچھا ڈانس کر لیتا ہے۔۔۔۔” راعنہ اپنے بھائیوں کے متعلق شان سے بولی۔
“میں تو کرواوں گی۔۔۔۔ ابھی ایک مہینہ ہے۔۔۔۔ سیکھا دوں گی۔۔۔۔ تم دیکھ لینا۔۔۔۔ ” آیت نے گردن اکھڑا کر جواب دیا۔
“چلو دیکھتے ہیں۔۔۔۔” راعنہ اس کو چڑانے لگی۔
آدھی رات گزر جانے تک بھی ان دونوں کی گفتگو جاری رہی۔
وہیں دوسری طرف نوریز ایک پل کو آنکھیں بند تک نا کر سکا تھا۔ جب بھی وہ سونے کی کوشش کرتا نین کی لا ش اس کی ذہن کے پردوں پر لہرا جاتی اور وہ جھٹ سے آنکھیں کھول کر اٹھ بیٹھتا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
شادی کی تاریخ طے ہوتے ہی دونوں گھروں میں تیاریاں زور و شور سے جاری ہوگئی۔
اس دن راعنہ اپنے دونوں بھائیوں کے ساتھ شاپنگ پر گئی ہوئی تھی۔ شاپ میں ڈریس کی پیمنٹ کروا کر وہ مڑی تو حمدان دونوں ہاتھوں میں شاپنگ بیگز اٹھائے تپے انداز میں اسے دیکھ رہا تھا جبکہ صدیف آیت کے ساتھ مسیجز کرنے میں مصروف تھا۔
راعنہ نے جتاتے ہوئے اس کا موبائل لیا اور آیت کو کال ملا لی۔
“آیت۔۔۔ بھئیاں ابھی میرے ساتھ شاپنگ کرنے آئے ہیں۔۔۔۔ تم سے بعد میں بات کریں گے اوکے۔۔۔۔” اس کے کال اٹھاتے ہی راعنہ نے آیت کو تردید کی اور کال کاٹ کر اپنے ہاتھوں میں پکڑا سامان صدیف کو پکڑایا۔
صدیف نے مجبور تاثرات بنائے حمدان کے جانب دیکھا تو وہ اس سے زیادہ تپا ہوا لگ رہا تھا۔ اسے دیکھ کر صدیف کی ہنسی چھوٹ گئی۔
“آپی۔۔۔۔ صبح سے گھما رہی ہو۔۔۔۔ اتنا سامان بھی پکڑایا ہوا ہے۔۔۔۔ کم سے کم ایک برگر ہی کھلا دو۔۔۔۔ بھوک لگی ہے یار۔۔۔۔” حمدان دونوں ہاتھوں میں سامان اٹھائے پیر گھسیٹنے کی طرح راعنہ کے پیچھے ہو لیا۔
راعنہ نے معصومیت سے اس کا گال تھپتھپایا اور فوڈ کورٹ کے سمت بڑھ گئی۔ حمدان نے شکر کا سانس لیا اور تیزی سے خالی ٹیبل پر جا بیٹھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
شام تک راعنہ اچھی خاصی خریداری کر چکی تھی۔ وہ تینوں بہن بھائی لاؤنج میں داخل ہوئے تو عاطرہ بیگم نے اپنے دونوں بیٹوں کے ہاتھوں میں سامان کے بیگز دیکھ کر سر جھٹکا۔
“راعنہ۔۔۔۔ ہوگئی شاپنگ پوری۔۔۔۔ ” شعیب صاحب نے کتاب بند کر کے آنکھوں پر سے گلاسس ہٹا کر بچوں کو دیکھا۔
“نہیں بابا۔۔۔۔ ابھی کچھ چیزیں رہتی ہیں۔۔۔۔” راعنہ ان کے ساتھ آکر بیٹھ گئی۔
“ابی بھی رہتی ہے۔۔۔۔ ہائے اللہ۔۔۔ یہ لڑکیوں کی شاپنگ کبھی پوری کیوں نہیں ہوتی۔۔۔۔” حمدان صوفے کی پشت سے سر ٹکا گیا۔
“ہاں تو میری شادی ہورہی ہے۔۔۔۔۔ شاپنگ بھی زیادہ ہوگی۔۔۔۔” راعنہ نے ہونہہ کیا۔
“شادی تو میری بھی ہورہی ہے۔۔۔۔۔ پر اتنا واویلا نہیں مچایا ہوا۔۔۔۔۔ ” صدیف نے اس کے منطق کو رد کر دیا۔
“پر گھر چھوڑ کر تو مجھے جانا ہے۔۔۔۔ ماں باپ سے الگ میں ہورہی ہوں۔۔۔۔ اپنی خواہشات بھی پوری نا کروں۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔۔” راعنہ نے گلہ آمیز انداز میں جواب دیا۔
سب میں خاموش نظروں کا تبادلہ ہوا۔ بیٹی کی جدائی یاد کرتے عاطرہ بیگم کی آنکھیں بھیگ گئی۔ حمدان نے لب بھینج لیے تھے۔
“بیٹا۔۔۔۔ ماں باپ اور بیٹی کا رشتہ۔۔۔۔۔ سب سے اہم اور بالاتر ہے۔۔۔۔۔ تم دور ضرور ہورہی ہو۔۔۔۔ پر الگ نہیں۔۔۔۔۔ یہ گھر ہمیشہ تمہارا گھر رہے گا۔۔۔۔ جب بھی یاد آئے۔۔۔۔ آجایا کرنا۔۔۔۔” شعیب صاحب نے اسے خود سے لگا کر حوصلہ افزائی کی۔
صدیف شرارتی انداز میں اس کا گال کھینچ کر تنگ کرنے لگا۔ حمدان نے راعنہ کا موڈ اچھا کرنے صوفے کا کُشن اس کے جانب اچھالا۔ راعنہ نے آنکھیں بڑی کر کے اسے گھورا۔ ماحول میں ان تینوں بہن بھائیوں کی چہکتی ہنسی گونج اٹھی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔
