Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Nadamat) Episode 17

راعنہ کی بارات بھی اسی دھوم دھام سے لائی گئی۔ صدیف اور آیت نے بھرپور انجوائے کیا۔ نوریز بلیک شیروانی میں سب سے ہینڈسم دولہا لگ رہا تھا۔ اس کے دلکش سراپے پر کئی نظریں جم جاتیں۔
راعنہ نے سرخ کے بجائے ملٹی کلر لہنگے کا انتخاب کیا تھا۔ گولڈن کام دار شرٹ اور مالٹا کلر دامن کے ساتھ پنک اور جامنی کلر کا منتشیر کردہ ڈوپٹہ سر پر ٹکائے وہ دولہن کے روپ میں بہت پر کشش لگ رہی تھی۔
رسم کے دوران آیت دودھ کا گلاس لیئے نوریز کے سامنے بیٹھی اور کافی بھاری رقم کی فرمائش کی۔
“تم تو میری بہن کو۔۔۔۔ پیسے تو سالی کو دیتے ہیں۔۔۔۔” نوریز نے تصحیح کرنی چاہی۔
“سوری بھائی۔۔۔۔ میں نے پارٹی بدل لی۔۔۔۔ اس وقت میں راعنہ کی بھابھی ہوں۔۔۔۔ چلو نکالو پیسے۔۔۔۔ ورنہ جانے نہیں دوں گی۔۔۔۔” آیت نے شان سے سر اٹھا کر کہا۔
نوریز نے سر جھٹکا اور جیب میں موجود ساری رقم اس کے ہاتھ پر رکھ دی۔ ماحول میں خوشی سے سرشار نعرے بلند ہوئے۔ تالیوں اور سیٹھیوں نے ماحول کی خوشی دوبالا کر دی۔
نوریز آج اچھے موڈ میں تھا اس لیے راعنہ مہندی کی رات والے واقعے کو ایک غلط فہمی قرار دے کر بھول گئی۔ اس نے نئے سرے سے نئی شروعات کرنے کا فیصلہ کیا۔
رات بارہ بجے باری باری ممی بابا اور دونوں بھائیوں سے رخصت لیتی وہ آیت سے ملنے لگی۔
“میں تو بہت خوش ہوں۔۔۔۔ میری بیسٹ فرینڈ میری بھابھی بن گئی۔۔۔۔” گلے ملتے آیت نے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
راعنہ مضبوطی سے اسے خود سے لگا کر بابا کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ گئی۔
“راعنہ۔۔۔ میری ہر نصیحت یاد رکھنا۔۔۔۔ وارث صاحب اور بھابھی کا اچھے سے خیال رکھنا۔۔۔۔ نوریز کی زندگی خوشیوں سے بھر دینا۔۔۔۔ میری دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہے۔۔۔ جاو۔۔۔ خوش رہو۔۔۔۔” آخر میں شعیب صاحب کی آواز بھیگ گئی تھی۔
چند آنسو ٹوٹ کر راعنہ کے رخساروں کو بھیگا گئے تھے۔ ایسی ہی کیفیت عاطرہ بیگم کی تھی جن کو آیت خود سے لگائے چپ کروانے کی کوشش کرنے لگی۔
تھوڑے آنسو اور ڈھیر ساری دعائیں دے کر راعنہ رخصت کر دی گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
ویسے تو راعنہ بچپن سے اب تک ان گنت مرتبہ صدیقی ہاوس آئی تھی۔ مگر آج اس کی حالت عجیب ہورہی تھی۔ مہمانوں کے جانے کے بعد اس نے گھونگھٹ میں سے ہی نظریں اٹھا کر اس خوبصورت اور بڑے کمرے کا جائزہ لیا۔ اس سے پہلے کبھی نوریز کے کمرے میں آنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ آج وہ پہلی مرتبہ اس کمرے میں آئی تھی وہ بھی دولہن بن کر۔
گھٹنوں کے گرد بازو حمائل کئے وہ دو گھنٹے تک ایک ہی زاویے میں بیٹھی رہی پر نوریز نہیں آیا۔ متفکر ہوتے اس نے وال کلاک پر وقت دیکھا اور اپنے ہینڈ بیگ سے موبائل نکال کر نوریز کا نمبر ملایا لیکن بند آرہا تھا۔ اس کی پریشانی میں اضافہ ہونے لگا۔
وہیں دوسری طرف نوریز، گھر آکر رسموں سے فارغ ہوکر جب مما راعنہ کمرے میں لے جانے لگی تو اپنی کار کی چابی اٹھاتے باہر نکل گیا تھا اور اپنے پرانے دوست کے پاس آگیا تھا۔
“تُو بھی عجیب ہے یار۔۔۔۔ آج تیری سہاگ رات ہے۔۔۔۔ اور تُو یہاں میرے ساتھ بیٹھا پی رہا ہے۔۔۔۔” اس نے نشے سے جھولتے ہوئے اپنی بات مکمل کی۔
نوریز گلاس آنکھوں سے سامنے لہراتے اس میں موجود مائع کو گھور رہا تھا۔
“اتنی اچھی بیوی تو ملی ہے۔۔۔۔ تیرے پاس پورا موقع ہے۔۔۔۔ پر تُو ضائع کر رہا ہے۔۔۔۔ چچ چچ۔۔۔” اس نے استحزیہ ہنستے ہوئے نوریز کے کندھے پر تھپکی ماری۔
نوریز کے آبرو تن گئے۔ اس نے خاموش نظر سے دوست کو گھورا تو وہ آخری گھونٹ بھر کر سونے چلا گیا جبکہ نوریز دوبارہ گلاس بھرنے لگا۔ گلاس میں شیشے کی بوتل سے مائع انڈیلتے ہوئے اس کے ذہن میں دو چہرے ابھرنے لگے تھے۔ پہلا چہرا نین کا تھا اور دوسرا راعنہ کا۔ ایک اس کا ماضی تھا اور ایک اس کا حال۔ ماضی وہ بھلا نہیں سکتا تھا اور حال تسلیم کرنے میں اسے دقت پیش آرہی تھی اس لیے اس نے دونوں سے دور اکیلے وقت گزارنے کا فیصلہ کیا۔
شر ا ب کی پوری بوتل خالی کر کے وہ وہی صوفے پر ہی لیٹ گیا۔ کچھ پچھتاوے کبھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ کی بیٹھے بیٹھے آنکھ لگ گئی تھی۔ سوتے ہوئے جب ایک جانب ڈھلکنے لگی تو اس نے ایک جھٹکے کی آنکھیں کھول دیں۔ عنودگی میں جمائی لیتے وہ سستانے لگی تھی جب دروازے کا ہینڈل گھوما اور نوریز لڑکھڑاتے قدموں سے اندر داخل ہوا۔
نشے میں اس نے راعنہ پر دھیان نہیں دیا۔ وہ بے دھیانی میں بیڈ پر لیٹنے لگا تھا کہ راعنہ کھسک کر قدرے دور ہوئی تو اس کے چوڑیوں کی آواز سے نوریز کا اس کے جانب دھیان گیا۔
“سوری وہ۔۔۔۔ دوست نے زبردستی روک لیا تھا۔۔۔۔”نوریز نے سیدھے ہوتے بہانہ کیا۔
راعنہ نے کوئی جواب نہیں دیا وہ تو نوریز کو اس حالت میں دیکھ کر ہی شاک ہوگئی تھی۔
گھوم کر دوسری سائیڈ آتے ہوئے اس نے شیروانی اتار دی۔ شیروانی اتارنے ہوئے اس کی جیب سے سونے کی چین بیڈ پر گر پڑی۔
“یہ۔۔۔۔ یہ تمہارے لئے۔۔۔۔” وہی سے کھڑے کھڑے اس نے وہ چین راعنہ کے جانب بڑھائی۔
راعنہ نے جھجکتے ہوئے چین پکڑ لی۔ اس کا دل بھر آرہا تھا۔ وہ بہ مشکل خود کو کمپوز رکھے ہوئے تھی۔ نوریز بیڈ کے دوسرے حصے میں ڈھے کر کے لیٹ گیا تو راعنہ یک دم اپنا دامن اٹھائے اٹھ کھڑی ہوگئی۔ اسے نوریز سے بہت خوف لگ رہا تھا۔ اپنی پیشانی تھامے وہ اس انشکاف پر دہل کر رہ گئی تھی کہ نوریز ڈرنک کرتا ہے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
صدیف کی صبح آنکھ کھلی تو اپنی زندگی کو اپنے بہت قریب پایا۔ آیت کا روشن چہرا دیکھ کر وہ مسکرا دیا تھا۔ اس کے گرد بانہوں کا حصار مزید تنگ کر کے اس نے آیت کو خود میں بھینج لیا۔ آیت نے اس کے لمس سے کسمسا کر آنکھیں کھول لی۔
“کیا ہوا ہسبینڈ جی۔۔۔۔” اس نے عنودگی میں صدیف کو دیکھا۔
صدیف کی آنکھیں بند تھی اور لب مسکرا رہیں تھے۔
“اپنی زندگی کو۔۔۔۔” صدیف نے مدھم آواز میں جواب دیا اور اس کے پیشانی پر لب رکھتے محبت کا احساس دلایا۔
دوسری طرف راعنہ کی صبح ڈرتے ہوئے ہوئی تھی۔ پہلے ہی وہ رات بھر نوریز سے گھبراتے ٹھیک سے سو نہیں سکی تھی اور صبح بھی اچانک ہی اٹھ بیٹھی تھی۔
دن چڑھنے لگا تو سنبل بیگم ملازمہ کے ہمراہ ان کے لیے کمرے میں ہی ناشتہ لیں آئی تھی۔
“یہ اب تک سورہا ہے۔۔۔۔” نوریز کو بے حس سویا دیکھ کر سنبل بیگم اس کے سائیڈ آئی اور اسے جھنجوڑ کر جگانے لگی۔
راعنہ کے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ مما کو کیسے بتائیں۔
“یہ آفت تو مصیبت بن گئی ہے میرے لیے۔۔۔۔” عنودگی میں نوریز کو لگا راعنہ اسے جگا رہی ہے اس لیے جھنجلا اٹھا۔ منہ میں بڑبڑاتے ہوئے اس نے آنکھیں کھولی تو مما کو سامنے پا کر ہڑبڑا گیا۔
“مما۔۔۔۔ آپ۔۔۔ ” اس نے آنکھیں مسلتے ہوئے کمبل اپنے اوپر اوڑھ کر خود کو ڈھکا۔
مما اس کی آواز سے جھلکتی بے باکی کی وجہ سمجھ گئی پر خود کو انجان رکھے پھر سے راعنہ کے سامنے آئی جو رات کے بہ نسبت فریش لگ رہی تھی۔ اس نے گرین کلر کے ہلکے کام والے ڈریس کے ساتھ نفیس سی جیولری پہن رکھی تھی۔
“راعنہ۔۔۔۔ تم اپنے باقی زیورات میرے پاس رکھوا لو۔۔۔۔” سنبل بیگم اس کی تھیوڑی پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے بولی۔
“کیوں مما۔۔۔۔ میرا مطلب۔۔۔۔ میں اپنی چیزوں کی حفاظت خود کر سکتی ہوں۔۔۔۔” راعنہ نے خوش اسلوبی سے جواب دیا۔
“وہ تو ہے۔۔۔۔ پر کراچی کے حالات تو تم جانتی ہو۔۔۔۔ میں اپنے الماری کے تجوری میں رکھ دوں گی۔۔۔۔ تمہیں جب بھی چاہیئے ہونگے مانگ لینا۔۔۔۔” سنبل بیگم نے دوسری دلیل پیش کی۔
راعنہ شادی کی صبح بے مروتی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے سر اثبات میں جنبش دیتے ڈریسنگ روم میں رکھے اپنے بیگز کے جانب بڑھ گئی۔ اتنی دیر میں سنبل بیگم پھر سے نوریز کے سر پر پہنچی اور اس کا بازو دبوچ کر اسے اپنے جانب متوجہ کیا۔
“شادی کے رات ڈرنک کر کے آنا ضروری تھا۔۔۔۔ کیا سوچ رہی ہوگی وہ۔۔۔۔” مما نے دانت پیستے ہوئے اسے ڈپٹا۔
“کسی کے آنے سے میں اپنی لائف ڈسٹرب نہیں کر سکتا مما۔۔۔۔ آپ سب چاہتے تھے میں اس سے شادی کر لوں۔۔۔۔ تو کر لی۔۔۔۔” نوریز لاپرواہی سے کمبل اچھالتے کھڑا ہوگیا۔
“پر نوریز۔۔۔۔ اسے ایڈجسٹ ہونے کا وقت تو دو۔۔۔۔” سنبل بیگم نے کنکھیوں سے ڈریسنگ روم کے دروازے کو دیکھا تھا۔
“میں ایسا ہی ہوں۔۔۔۔ اسے میرے ساتھ ایسی ایڈجسٹ کرنا پڑے گا۔۔۔ میں اپنا لائف اسٹائل چینج نہیں کروں گا۔۔۔۔” نوریز نے دونوں ہاتھ اٹھا کر علان کیا اور واشروم میں چلا گیا۔
راعنہ نے اپنے دو سے تین جیولری باکسس لا کر مما کے ہاتھوں میں رکھ دیئے۔
“ناشتہ کر لو اوکے۔۔۔۔ پھر ولیمے کے لیے بھی تیار ہونا ہے نا۔۔۔۔” جیولری کے ڈبے لیتے انہوں نے ہدایت دی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“کتنے ہلکے گنگن ہے۔۔۔۔ ہماری آیت کو ہم نے ہر گنگن 4 تولے کا بنا کر دیا ہے۔۔۔۔ اور اس کے دیکھو۔۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔” اپنے کمرے میں آکر سنبل بیگم، راعنہ کے زیورات جانچنے لگی۔
وہ ہر ایک چیز کو ہاتھوں میں تول تول کر دیکھ رہی تھی۔
“ویسے تو بہت تہزیب دار بنتے ہیں بھائی صاحب۔۔۔۔ لیکن بیٹی کے جہیز میں ہاتھ بہت ہلکا رکھا ہے۔۔۔۔۔” دوسرا تبصرہ انہوں نے شعیب صاحب پر کیا۔
وارث صاحب نے تپے ہوئے تاثرات بنائے ڈریسنگ مرر میں نظر آتا ان کا عکس دیکھا۔
“فرنیچر بھی عام سی لکڑی کا لیا ہے۔۔۔۔۔ ہماری آیت کا تو ایرانی لکڑی کا تھا۔۔۔۔۔ اور خالص فوم استعمال ہوا تھا۔۔۔۔۔ راعنہ کا ہماری آیت سے کوئی موازنہ نہیں ہے۔۔۔۔۔ جہیز میں تول کر دی ہیں میں نے اپنی بیٹی۔۔۔۔ پر عاطرہ کو دیکھو۔۔۔۔ پردے تک بنا کر نہیں دیئے۔۔۔۔” غیر دلچسپی سے راعنہ کے زیورات سیف میں رکھتے ہوئے انہوں نے سر جھٹکا تھا۔
“بس بھی کرو۔۔۔۔ کیا تم راعنہ اور آیت کے زیورات اور جہیز کا ناپ تول لے کر بیٹھ گئی ہو۔۔۔۔” وارث صاحب سے مزید ان کے جملے سنے نہیں گئے تو سنبل بیگم کو ٹوک دیا۔
“غلط کیا کہہ رہی ہوں۔۔۔۔ راعنہ نہ رنگ روپ کی اتنی اچھی ہے۔۔۔۔ نا کوئی خاص جیولری لائی ہے۔۔۔۔ نوریز کو تو وہ پہلے سے نا پسند ہے۔۔۔۔ اب بس اللہ ہی مالک ہے۔۔۔۔” انہوں نے شوہر کی ڈانٹ کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے اضافہ کیا اور کمرے سے باہر نکلنے لگی۔
جاتے جاتے بھی وہ بہت کچھ بڑبڑا رہی تھی لیکن وارث صاحب نے دھیان ہاتھ میں پکڑے اخبار پر مبذول کر دیا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
ولیمے کا فنکشن ساتھ ساتھ رکھا گیا تھا۔ پورا دن راعنہ اور نوریز میں کوئی بات نہیں ہوسکی تھی۔ شام کے وقت وہ پالر جانے لگی تو نوریز نے اس کا راستہ روک لیا۔
“کل رات کے لیے سوری۔۔۔۔ دوست نے زبردستی پلا دی تھی۔۔۔۔ دوبارہ ایسا نہیں ہوگا۔۔۔۔۔” اس نے معصوم چہرہ بنائے کان پکڑ لیے تھے۔
“آپ ڈرنگ کرتے ہو۔۔۔۔” راعنہ نے شکوہ کیا۔
“متواتر نہیں پیتا۔۔۔۔ کبھی کبھی دوستوں کے ساتھ تھوڑی ڈرنگ کر لیتا ہوں۔۔۔۔ پر۔۔۔۔ آئیندہ نہیں پیوں گا۔۔۔۔ اوکے۔۔۔۔ بس تم پاپا سے کل رات کی شکایت مت کرنا۔۔۔۔” نوریز نے اس کے کندھوں کو تھامے اس کی سیاہ آنکھوں میں دیکھا۔
جواب میں راعنہ خاموش رہی۔
“ولیمے کے دن تمہارے شوہر کو اپنے پاپا سے ڈانٹ پڑ جائے تو تمہیں اچھا لگے گا۔۔۔۔” اس نے دنیا بھر کی معصومیت اپنے اندر سمیٹ لی تھی۔
راعنہ نے ہلکے سے نفی میں سر ہلایا۔
“تھینکیو۔۔۔۔” خوشی سے سرشار ہوتے نوریز نے اسے بانہوں میں بھر لیا۔
راعنہ کو جھجک محسوس ہورہی تھی پر جلد ہی نوریز کا سحر اسے جکڑنے لگا اور اس نے خود کو نوریز کے بازووں میں ڈھیلا چھوڑ دیا تھا۔ راعنہ کی جھجک ختم ہونے لگی تو نوریز کی شیطانی مسکان اور آنکھوں میں بے رحمی بڑھ گئی۔ مخالف جنس کو قابو کرنا اسے اچھے سے آتا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
آیت صدیف اور راعنہ نوریز کا ولیمہ ایک ساتھ رکھا گیا۔ شہر کے بڑے اور عالی شان ہال میں رکھے ولیمے کی تقریب میں صدیف بلیک تھری پیس سوٹ میں تیار ہوا اور آیت سلور گاون میں۔
وہیں نوریز نے گرے سوٹ زیب تن کیا تو راعنہ رائل بلیو کلر میسکی میں اس کے ساتھ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ شہر کے ایک سے بڑھ کر ایک بزنس مین اور نامور شخصیات تشریف فرما تھے۔
وارث صاحب اپنے پروفیسرز کے گھیرے میں بیٹھے تھے جبکہ شعیب صاحب بزنس مین کے گروہ میں۔ وہیں عاطرہ بیگم اور سنبل بیگم اپنی اپنی سہیلیوں کا ساتھ دیں رہیں تھیں۔
صدیف اور آیت شام کو انجوائے کر رہیں تھے جبکہ نوریز اور راعنہ خاموش تھے۔ یوں ہی خوشی خوشی محفل اپنے اختتام کو پہنچی اور سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
کمرے کے ڈریسنگ روم میں راعنہ سر جھکائے ہاتھ پیچھے کئے اپنے میکسی کی زپ کھولنے کے جتن میں لگی تھی جو آدھے میں آکر پھنس گیا تھا۔ اسی اثنا نوریز اپنے شب خوابی کے کپڑے لینے ڈریسنگ روم میں در آیا تو راعنہ نے یک دم سیدھی ہوتے دیوار کے سمت پشت کر لی۔
“نوریز۔۔۔ مما کو بلا دیں گے۔۔۔۔ مجھے ڈریس چینج کرنے میں ہیلپ چاہیئے۔۔۔۔” راعنہ کے میکسی کندھوں سے تھامے جھجکتے ہوئے کہا۔
“مما تو۔۔۔۔ سوگئی ہوگی۔۔۔۔” نوریز نے سوچ سوچ کر بولتے ہوئے اپنے ہاتھ پر بندھی گھڑی میں وقت دکھایا جہاں رات کے ڈیڑھ بج رہے تھے۔
“اووو۔۔۔۔ اوکے۔۔۔۔ خیر میں کچھ نا کچھ کر لوں گی۔۔۔۔” راعنہ کی آواز مدھم پڑ گئی۔
نوریز شانے اچکا کر واپس جانے لگا۔ راعنہ اس کے پوری طرح نکلنے سے پہلے واپس آئینے کے جانب مڑی اور بال آگے کر کے اپنے عمل میں مصروف ہوگئی۔ نوریز نے جاتے جاتے رخ گھما کر راعنہ کے سمت دیکھا تو اس کی شفاف گردن اور پیٹھ دیکھتا رہ گیا۔ اس کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی وہ ڈریسنگ روم سے باہر نکلنے کے بجائے ایڑیوں کے بل گھوم کر راعنہ کے عقب میں آگیا۔
راعنہ آنکھیں سختی سے مینچھے ڈریس کے دونوں سرے پکڑے زور لگا رہی تھی۔ اسے اب ڈریس کے پھٹ جانے کی بھی فکر نہیں تھی کہ اپنی پیٹھ پر انجان لمس محسوس کرتے اچھل پڑی۔ اس نے ایک جھکٹے سے سر اٹھا کر آنکھیں کھولی۔
“میں ہیلپ کر دوں۔۔۔ ” آئینے میں نوریز کا عکس دیکھ کر اس نے شرم سے آنکھیں جھکا لی۔
نوریز اس کی خاموشی کو اس کے ہاں جانتے ڈریس کی زپ کھولنے میں مدد کرنے لگا۔ جیسے جیسے نوریز کی انگلیاں راعنہ کی پیٹھ اور پھر نیچھے سرکتی اس کی کمر کو چھونے لگی اس کی دھڑکن تیز ہوتی گئی۔
وہ تیز تیز سانس لیتے لب دانتوں میں دبائے اپنے لرزش کو قابو کر رہی تھی۔ وہیں نوریز مخمور نگاہوں سے اسے دیکھتے اپنی طاقت لگا کر زپ نیچھے کرتا گیا۔ زپ پوری کھلنے کے بعد بھی دونوں اسی طرح ساکت کھڑے رہیں۔ نوریز نے اسے اپنے مزید قریب کر لیا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“آیت۔۔۔۔ دوسری شرٹ نکال دو۔۔۔۔ ” صدیف باتھروم گاون پہنے بیڈ پر پڑے اپنے کپڑے دیکھ کر گویا ہوا۔
“سامنے رکھی ہوئی تو ہے۔۔۔۔” آیت نے بیڈ پر ترتیب سے رکھیں اس کے کپڑوں کے جانب اشارہ کیا۔
“یہ نہیں۔۔۔۔ بلیو کلر والی شرٹ نکال دو۔۔۔۔ ” صدیف نے چیک لائنز والی وائٹ شرٹ دیکھ کر منہ بنایا۔
آیت حیران ہوتے الماری کے پاس آئی اور بلیو شرٹ اٹھائی کی نیچھے ایک لفافہ پڑا ملا جس پر اس کا نام لکھا تھا۔
“یہ کس نے دیا ہے۔۔۔۔” آیت الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی۔
“دیکھ لو۔۔۔ کسی خاص چاہنے والے نے سلامی بھیجی ہوگی۔۔۔۔” صدیف اس کے ہاتھوں سے شرٹ لے کر پہننے لگا۔
آیت نے اس کی بات پر غور دیئے بغیر لفافہ کھول کر دیکھا تو اس میں دو ٹکٹس تھیں۔
“ہنی مون ٹرپ ٹو ترکی۔۔۔۔” ویزا کے عبارت پڑھتے وہ خوشی سے اچھل پڑی۔
صدیف اسے یوں خوش دیکھ کر مستحکم انداز میں مسکرایا۔
“تھینکیو سو مچ صدیف۔۔۔۔ آئی لو یو۔۔۔۔” آیت چہکتے ہوئے اس کے حصار سے جا لگی۔
“آئی لو یو ٹو میری جان۔۔۔۔” صدیف نے محبت سے اس کے گرد بازو حمائل کر کے خود میں بھینج لیا۔
“میں راعنہ کو بتا کر آتی ہوں۔۔۔۔۔” آیت اس کے حصار سے الگ ہوتے ہوئے موبائل پر نمبر ملانے لگی۔
صدیف اس کی اور راعنہ کی دوستی پر متبسم ہوتے کمرے سے باہر نکل گیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ کی صبح دیر سے آنکھ کھلی۔ اس نے سستاتے ہوئے آنکھیں پوری کھولی تو سامنے وہ سراپا نظر آیا۔ نوریز کا لمس یاد کرتے وہ بلش کرنے لگی۔ کافی دیر تک کھوئے انداز میں وہ ساتھ سوئے ہوئے نوریز کو تک رہی تھی جب اس کا موبائل بجنے لگا۔
نوریز نے موبائل ٹیون پر اپنی آنکھیں کھولی تو ساتھ ہی راعنہ کا مسکراتا چہرہ روشن ہوا۔ اپنے اور اس کے قربت بھرے لمحات یاد کرتے جواباً وہ بھی مسکرا دیا۔
“تمہاری کال آرہی ہے۔۔۔۔” نوریز نے بھاری آواز میں اسے مخاطب کیا۔
“آیت کی ہے۔۔۔۔” راعنہ نے اس پر سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا۔
“تو اٹھا لو۔۔۔۔” نوریز نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔
“بعد میں بات کر لوں گی۔۔۔۔ ابھی یہ موقع گنوانا نہیں چاہتی۔۔۔۔” راعنہ کھسک کر نوریز کے قریب ہوگئی۔
“کونسا موقع۔۔۔۔” وہ مستفسر ہوا۔
“آپ کو جی بھر کے دیکھنے کا۔۔۔۔” راعنہ نے بلش کرتے ہوئے معصومیت سے جواب دیا۔
“ہاہاہا۔۔۔۔ کہی جا تھوڑی رہا ہوں۔۔۔۔ جتنا چاہو دیکھ لینا۔۔۔۔ تمہارا ہی ہوں۔۔۔۔ ” نوریز ہنس پڑا۔
“سچ میں میرے ہو۔۔۔۔” راعنہ نے محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے تائید چاہی۔
“بالکل۔۔۔۔ آفت۔۔۔۔” نوریز نے زور سے اس کے گال کھینچے۔
راعنہ کراہ کر پیچھے ہوگئی۔ نوریز کھلکھلا کر ہنستے ہوئے اٹھا اور واشروم میں چلا گیا۔
“پہلے اس لقب سے چڑ رہتی تھی۔۔۔۔ پر اب اس لقب سے پیار ہوگیا ہے۔۔۔۔ اور آپ سے بھی۔۔۔۔۔” راعنہ نے اپنے گال سہلاتے ہوئے نوریز کے متعلق سوچا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“اووو راعنہ۔۔۔۔ میں بہت لکی ہوں۔۔۔۔ صدیف نے میری اتنی بڑی خواہش پل میں پوری کر دی۔۔۔۔ تم تو جانتی ہو۔۔۔۔ ترکی جانا میری بچپن سے خواہش تھی۔۔۔۔ ” آیت کی خوشیوم کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ اس نے راعنہ کے کال کرتے ہی ہنی مون پر ترکی جانے کی خوش خبری سنائی۔
“آخر بھائی کس کا ہے۔۔۔۔” راعنہ نے شانے اچکائے۔
“تم اور نوریز بھائی کہاں جا رہیں ہو۔۔۔۔” آیت نے تجسس سے پوچھا۔
“پتا نہیں۔۔۔۔ میں نے پوچھا نہیں ہے اب تک۔۔۔۔” راعنہ نے سوچتے ہوئے جواب دیا۔
“ہممم ہوسکتا ہے۔۔۔۔ بھائی نے بھی کوئی سرپرائز پلان کیا ہو۔۔۔۔ چلو آل دی بیسٹ۔۔۔۔” آیت نے از خود سوچا اور الوداعی کلمات کہتے ہوئے کال کاٹ دی۔
راعنہ سوچوں میں ڈوبی ہوئی تھی جب نوریز تولیے سے بال ڑگڑتے واشروم سے باہر آئے۔
“نوریز۔۔۔۔ ہم گھومنے کہاں جارہیں ہیں۔۔۔۔” اول تو کافی دیر راعنہ اسے دیکھتی رہی پھر سوال پوچھ ہی لیا۔
نوریز نے بال برش کرتے ہوئے آئینے میں ہی سوالیہ نظروں سے ہی راعنہ کا عکس دیکھا۔
“وہ۔۔۔ آیت اور بھئیاں ہنی مون کے لیے ترکی جارہیں ہیں۔۔۔۔ تو ہم کہاں جا رہیں ہیں۔۔۔۔” راعنہ ہاتھ پیچھے باندھے ہوئے اپنی بات کی وضاحت دیتے اس کے سامنے آگئی۔
نوریز اس کی بات مکمل ہونے تک خاموشی سے سنتا رہا۔ جب راعنہ اپنی بات مکمل کر کے خاموش ہوئی تو وہ ٹھوس لہجے میں گویا ہوا۔
“ہم کہی نہیں جا رہیں۔۔۔۔۔ سال کا اینڈ چل رہا ہے۔۔۔۔ مجھے کورس مکمل کروانا ہے۔۔۔۔۔” ہیئر برش زور سے میز پر پٹخ کر وہ شرٹ کے بٹن بند کرتے کمرے سے باہر نکل گیا۔
راعنہ شاکی انداز میں اس کے بدلتے مزاج دیکھتی رہ گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
اسی شام آیت اور صدیف مکلاوے کی رسم کرنے اور مما پاپا سے ملنے آئے تھے۔
“کیسی ہو۔۔۔۔ تمہارے بغیر گھر بے رونق سا ہوگیا ہے۔۔۔۔” صدیف نے بہن کو خود سے لگاتے حال احوال دریافت کیا۔
راعنہ اپنے بھئیاں کے حصار سے لگ کر بہت اچھا محسوس کر رہی تھی۔ شام کی چائے پر وارث صاحب اور نوریز نے بھی شمولیت کی۔ آیت مردوں کو آپس میں باتیں کرتے پا کر راعنہ کے پیچھے کمرے میں آگئی۔
“تو بھائی نے بتایا۔۔۔۔ کہاں جا رہیں ہو۔۔۔۔” آیت نے چھوٹتے ہی وہی سوال دہرایا۔
“ابھی نہیں جا رہیں۔۔۔۔۔ در اصل سال کا اینڈ چل رہا ہے نا۔۔۔۔ تو کالج کی بہت مصروفیات ہے۔۔۔۔ نوریز نے کہا وہ بعد میں لیں جائیں گے۔۔۔۔” راعنہ نے مدھم پر با اعتماد لہجے میں جواب دیا۔
میاں بیوی کا رشتہ ایسا ہی تو ہوتا ہے کہ چاہے میاں کیسا بھی ہو بیوی کبھی کمرے کے چار دیواری کی بات باہر نہیں کرتی۔ ایک باشعور عورت کی پہچان اسی سے تو ہوتی ہے۔ پر کہی نا کہی یہی صفت راعنہ کی کمزوری بننے والی تھی۔
آیت کا چہرہ اتر گیا تھا پر راعنہ اس کی توجہ دوسری باتوں کے جانب مبذول کرا کر ماحول کا تناو کم کرنے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
اگلے شام آیت اور صدیف ترکی کے لیے روانہ ہوگئے۔ سب نے خوشی خوشی انہیں رخصت کیا۔ اسی رات راعنہ کو مکلاوے کے لیے اپنے گھر جانا تھا اس لیے جانے سے پہلے اس نے کچھ میٹھا لینے ایک بیکری پر کار رکوائی۔
نوریز بے دلی سے اس کے ساتھ چلتا بیکری آئٹمز کو دیکھ رہا تھا جب اس کا موبائل بجنے لگا۔ وہ نمبر دیکھ کر نوریز کے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے تھے۔
“راعنہ۔۔۔۔ تم جو لینا چاہو لے لو۔۔۔۔ میں کال پر بات کر کے آتا ہوں۔۔۔۔” اس نے عجلت میں ہدایت دی اور بیکری سے باہر نکل گیا۔
راعنہ ہر ایک لوازمات کو دیکھتی قدم قدم آگے بڑھنے لگی۔ اناری سرخ رنگ کے کام دار ڈریس اور نفیس سی جیولری میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔
“راعنہ آپی۔۔۔۔” اس نے اپنے عقب سے کسی ٹین ایج لڑکی کی پکار سنی۔
راعنہ حیرت زدہ ہو کر پیچھے مڑی تھی۔
“تسکین۔۔۔۔ کیسی ہو۔۔۔۔ کہاں غائب ہوگئی ہو۔۔۔۔” راعنہ نے اسے پہچانتے خود سے لگایا۔
تسکین عنایت کی بڑی بہت اور راعنہ اسکول میں کلاس میٹس رہیں تھیں۔ جس کے چلتے اکثر ان کا ملنا جلنا رہتا۔
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔ کتنے عرصے بعد مل رہیں ہیں۔۔۔۔ ہانی آپی کی شادی کیا ہوگئی آپ تو ہمارے گھر کا راستہ ہی بھول گئی۔۔۔۔” تسکین نے معصوم بچوں کے جیسے منہ بنایا۔
“ہاہاہا۔۔۔۔ ایسی بات نہیں ہے۔۔۔۔ بس لائف بزی ہوگئی ہے۔۔۔۔جیسی موقع ملے میں ضرور آوں گی۔۔۔۔ پر میں نے اپنی شادی میں ہانی کو بہت مس کیا۔۔۔۔” راعنہ نے تسکین کی بڑی بہن کو یاد کرتے کہا۔
“آپ کی شادی ہوگئی۔۔۔ مبارک ہو۔۔۔۔ کس سے ہوئی ہیں۔۔۔۔” تسکین کی خوشی اس کے چہرے پر واضح تھی۔
“خیر مبارک۔۔۔۔” راعنہ نے مبارکباد وصول کرتے ہوئے تیزی سے آس پاس نظر دوڑا کر نوریز کو تلاش کیا۔
“وہ ہیں میرے ہسبینڈ۔۔۔۔۔” پھر بیکری کے باہر روش پر کھڑے نوریز کے جانب اشارہ کیا۔
تسکین نے چہرے پر بڑی سی مسکراہٹ سجائے گردن موڑی کہ یک دم ٹھٹک گئی۔ چہرے پر خوف کی لہر دوڑ گئی۔
“پروفیسر نوریز۔۔۔۔” وہ نا گہانی میں اونچا بولی تو راعنہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی۔
“تم جانتی ہو میرے ہسبینڈ کو۔۔۔ ” اس نے تسکین کا رخ اپنے جانب کیا۔
“جی وہ۔۔۔۔ میرے کالج میں پروفیسر ہیں۔۔۔۔” تسکین کی آواز لرز رہی تھی۔ وہ بہ مشکل خود کو قابو رکھنے کی کوشش کرتی گویا ہوئی۔
“اوو کنتا اچھا اتفاق ہے۔۔۔۔۔ چلو نوریز سے مل لو۔۔۔۔” راعنہ اسے بازو سے تھام کر اپنے ساتھ لے جانے لگی۔
“نہیں آپی۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔ پھر کبھی مل لوں گی۔۔۔۔ ابھی مجھے دیر ہورہی ہیں۔۔۔۔۔ بائے۔۔۔۔۔” تسکین نے گھبرا کر فورا اپنا بازو چھڑایا اور سر جھکائے نوریز کی نظروں سے بچتی دوسرے دروازے سے باہر نکل گئی۔
راعنہ سر جھٹک کر اپنے شاپنگ کے جانب متوجہ ہوئی۔ دوسری طرف نوریز اپنے وکیل دوست سے تکرار میں مصروف تھا۔
“کچھ بھی کرو۔۔۔۔۔ پر اس ایس آئی آفسر خان کا یہاں سے تبادلہ کرواو۔۔۔۔۔ ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ گیا ہے۔۔۔۔ ” نوریز دانت پر دانت جمائے ہوئے دبے دبے غصے سے غرایا۔
“یار ایک تو تم بتا نہیں رہیں۔۔۔۔ کہ وہ تمہارے پیچھے کیوں پڑا ہے۔۔۔۔ اوپر سے اس کا تبادلہ کروانے کا کہہ رہیں ہو۔۔۔۔۔ یہ اتنا آسان نہیں ہے۔۔۔۔۔ اس کے خلاف کوئی چارج شیٹ بھی نہیں بنی جس کا استعمال کر کے تبادلہ کروایا جائے۔۔۔۔۔ ” وکیل نے معاملہ سمجھانے کی کوشش کی۔
“تو تم بنوا لو نا۔۔۔۔ لکھ دو چارج شیٹ میں کہ اپنی وردی کا غلط استعمال کر کے عام شہریوں کو تنگ کر رہا ہے۔۔۔۔” نوریز کا پارہ آسمان کو چھونے لگا۔
“اچھا اچھا تم غصہ مت کرو۔۔۔۔۔ میں دیکھتا ہوں کیا کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔ ایس آئی خان کے متعلق انکوائری کراتا ہوں میں۔۔۔۔۔” وکیل نے نوریز کو جوش میں آتے سن کر نرمی سے سمجھایا۔
نوریز نے اس کی بات سن کر کال کاٹ دی اور سر بلند کر کے ہوا میں گرم سانس خارج کیا۔
“ایس آئی خان۔۔۔۔۔ غلط انسان سے پنگا لے لیا ہے تم نے۔۔۔۔۔” حقارت سے سوچتے اس نے اپنے آپ کو کمپوز کیا اور گردن موڑ کر بیکری کے اندر خریداری کرتے راعنہ کو دیکھا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔