Nadamat By Palwasha Safi Readelle50274 (Nadamat) Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
(Nadamat) Episode 7
مونال سے واپسی شہر آتے آتے رات ہوگئی تھی اس لیے یاشم اور راعنہ نے ڈنر باہر کرنے کا فیصلہ کیا اور یاشم کی فرمائش پر وہ دونوں چائنیز ریسٹورنٹ گئے۔
راعنہ نے صرف sweet & sour سوپ پر اکتفا کیا جبکہ یاشم نے مکس seafood پلیٹر منگوایا جس میں الگ نوع اقسام کی مچھلیاں جھینگے لوبسٹر نوڈلز سوسیج اور مشرومز موجود تھے۔ راعنہ تو شاخ دار جھینگے اور لوبسٹر دیکھ کر ہی دل بد ہونے لگی جبکہ یاشم بہت مزے سے چٹخارے لے کر کھا رہا تھا۔
ایک مرتبہ جب یاشم نے راعنہ کو بغور اپنی جانب متوجہ پایا تو ہاتھ میں پکڑا جھینگا اس کے آگے کیا۔ راعنہ جرجری لے کر نفی میں سر ہلاتے پیچھے ہوگئی اور یاشم کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ اتنی دیر میں راعنہ سر جھکائے اپنے سوپ کے پیالے کی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔
وہیں یاشم اس کی اٹھتی گرتی پلکوں کے سحر میں کھو کر ڈنر کرنا بھول گیا۔ وہ یک ٹک سامنے بیٹھے سحر سے بھرپور سراپے کو دیکھنے لگا جس نے پہلی ملاقات سے یاشم کے دل کو محبت کا اسیر بنا دیا تھا۔
“ایسا کیا جادو ہیں آپ میں۔۔۔۔ جو دل کرتا ہے ہر وقت آپ کو بس دیکھتا ہی رہوں۔۔۔۔ آج کا دن میری زندگی کا سب سے خوبصورت دن تھا راعنہ۔۔۔۔ اب تو لگتا ہے جیسے ایک سیکنڈ بھی آپ کے بغیر رہنا محال بن گیا ہے۔۔۔۔ پلیز راعنہ۔۔۔۔ میرے دل کو اپنی محبت کے نور سے سیراب کر دو۔۔۔۔” یاشم دل ہی دل راعنہ سے مخاطب تھا۔
سرخ اور گولڈن رنگوں کے منتشر کردہ ریسٹورنٹ کا گرم ماحول، پس منظر میں ہلکے آواز میں چلتا چائنیز میوزک اور سامنے بیٹھی معصومیت کی مورت۔ یاشم کا دل کیا وقت یہی تھم جائے۔ راعنہ ہمیشہ اس کی آنکھوں کے سامنے رہے۔ یہ سفر زندگی بھر کا ساتھ بن جائے۔
راعنہ نے سوپ ختم کر کے سر اٹھایا تو یاشم کو کھوئے ہوئے انداز میں خود کو دیکھتا پا کر مضطرب ہونے لگی۔ آس پاس نظریں دوڑا کر اس نے چہرے پر آتے بال کان کے پیچھے کئے۔
“یاشم۔۔۔۔” پہلی پکار اتنی دھیمی تھی کہ راعنہ کو اپنی آواز خود بھی سنائی نہ دی۔
“یاشم۔۔۔۔” دوسری صدا قدرے بلند آواز میں دی تو یاشم یکدم حال میں لوٹا تھا۔ اس نے پلکیں جھپکا کر اپنے خیالات محو کرنے کی کوشش کی۔
“آپ کا سی فوڈ ٹھنڈا ہورہا ہے۔۔۔۔” راعنہ نے اسے مخاطب کرنے کی وجہ بتائی تو یاشم نے اپنے سامنے پڑے پلیٹر کو دیکھا جس میں سے بمشکل وہ آدھا ہی کھا پایا تھا۔
یاشم نے جھجکتے ہوئے سر پر ہاتھ پھیرا اور ویٹر کو بلا کر بقیہ کھانا پیک کرنے کی ہدایت دی اور بل کی ادائیگی کی۔ دس منٹ بعد وہ ویٹر ایک پیکٹ ہاتھ میں لیئے ان کے ٹیبل پر واپس آیا۔ یاشم نے اس سے پیکٹ لے کر شکریہ ادا کیا اور اٹھ کھڑا ہو گیا۔ اس کی پیروی کرتے راعنہ بھی کھڑی ہوگئی تھی۔
گرم ریسٹورنٹ کا مین گیٹ کھولتے ہی باہر کی ٹھنڈی ہوا نے ان دونوں کا استقبال کیا۔ دن کے مقابلے رات کے وقت سردی کی شدت بڑھ چکی تھی۔
“آپ یہی رکیں۔۔۔۔ میں کار لے کر آتا ہوں۔۔۔۔” یاشم نے راعنہ کو وہی رکنے کا کہا اور خود ہاتھ آپس میں مسلتے ہوئے پارکنگ کا رخ کیا۔
راعنہ گیٹ کے اندرونی سمت کونے میں کھڑی باہر سڑک پر چلتی ٹرافیک کو دیکھ رہی تھی جب کسی نے اسے مخاطب کیا۔
“ایکسیوز می۔۔۔۔ راعنہ شعیب بٹ۔۔۔۔” اس مردانہ آواز نے گویا تصدیق کرنا چاہی۔
راعنہ اس آواز پر متفکر انداز میں پیچھے مڑی۔ سوٹ بوٹ میں تیار، درمیانہ قد کاٹ کے حامل شخصیت کو راعنہ پہچان گئی تھی
“فواد اختر۔۔۔۔” راعنہ نے ان کا نام پکارا تو ان کی چھوٹی آنکھیں بڑی ہوگئی۔
“مائی گاڈ راعنہ۔۔۔۔ کیسی ہو۔۔۔۔ فیملی کے ساتھ آئی ہو کیا۔۔۔۔ صدیف بھی یہی ہے۔۔۔۔” فواد کی خوشی دیدنی تھی۔
صدیف کے نام پر راعنہ کے تاثرات ڈھیلے پڑ گئے۔ فواد اختر اور صدیف بٹ کالج کے دور میں اچھے دوست رہیں تھے اس لیے فواد نے راعنہ کو پہچانتے ہی صدیف کا پوچھا۔
“نہیں میں۔۔۔۔ کام کے سلسلے میں آفس کولیگز کے ساتھ آئی ہوں۔۔۔۔ بھئیاں کراچی میں ہیں۔۔۔۔” راعنہ نے اپنے آپ کو کمپوز رکھنے کی کوشش کی۔
“اووو اچھا۔۔۔۔ عجیب بے وفا ہے تیرا بھائی۔۔۔۔ میں دوبئی میں سیٹل کیا ہوگیا وہ تو مجھے بھول ہی گیا۔۔۔۔ چار سال سے کوئی کانٹیکٹ نہیں۔۔۔۔ کوئی فون میسج نہیں۔۔۔۔ میں نے اتنی دفعہ اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی پر وہ اُس نمبر پر ملا ہی نہیں۔۔۔۔ اینی وے۔۔۔۔ یہ میرا بزنس کارڈ ہے۔۔۔۔ اِس میں میرا موبائل نمبر بھی ہے۔۔۔۔ صدیف سے کہنا لازمی مجھ سے رابطہ کرے۔۔۔۔” فواد جوش اخلاقی سے گویا تھے اور راعنہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے سر کو جنبش دیتے ان کی رو داد سنتی رہی۔
دوسری جانب یاشم کار پارکنگ سے نکال لایا تھا۔ مین روڈ پر کار لاد کر اس کے ماتھے پر شکن نمودار ہوئے اور آنکھوں میں سختی در آئی۔ سامنے ہی اسے راعنہ کے ساتھ ایک سوٹڈ بوٹڈ مرد کھڑا نظر آیا۔ اول تو یاشم کو لگا کہ وہ کوئی بگڑا ہوا رئیس زادہ ہے جو رات کے وقت اکیلی لڑکی کو دیکھ کر اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کر رہا ہے پر راعنہ کو خوش اخلاقی سے اس سے بات کرتے دیکھ کر یاشم کا منہ بن گیا تھا۔
“ٹھیک ہے میں بھئیاں تک آپ کا میسج پہنچا دوں گی۔۔۔۔” راعنہ نے فواد کے ہاتھوں سے کارڈ لیتے ہوئے کہا۔
کارڈ اپنے پرس میں ڈال کر وہ فواد سے ان کی فیملی کے متعلق پوچھ رہی تھی جب اچانک کار کا تیز ہارن فضا میں گونجا۔ راعنہ قدرے چونک کر پلٹی اور یاشم کے سپاٹ تاثرات دیکھ کر گھبرا گئی۔
“اوکے فواد میں چلتی ہوں۔۔۔۔ سونیا اور بچوں کو میرا سلام کہنا۔۔۔۔ ” راعنہ نے عجلت میں رخصت لیا اور شیشے کے گیٹ سے باہر آگئی۔
فواد وہی کھڑا ہاتھ ہوا میں بلند کر کے اسے بائے کرنے لگا۔ جوابی انداز میں راعنہ نے بھی ہاتھ ہلایا اور کار میں سوار ہوگئی۔ راعنہ کے بیٹھتے ہی یاشم نے پورے تاب سے ایکسلیٹر دبایا اور کار زن کر کے ہوا میں اڑنے کے مانند دوڑی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
ایک پل کو راعنہ، یاشم کے اتنی تیز رفتاری سے ڈر گئی۔ اسپیڈ کا کانٹا 120 پر پہنچنے لگا تو راعنہ نے اسے ٹوکنا چاہا۔
“کون تھا وہ۔۔۔۔” اس سے پہلے راعنہ کچھ کہتی یاشم کی گھمبیر آواز ابھری۔
“فیملی فرینڈ تھے۔۔۔۔” راعنہ نے دھیمی آواز میں وضاحت دی۔
“کس سائیڈ کے۔۔۔۔” ضبط کی وجہ سے یاشم کی گردن کی رگیں تن گئی تھی۔
“اااہ۔۔۔ میرے بھائی کے دوست ہیں۔۔۔۔” راعنہ کو یاشم کا غصہ سمجھ نہیں آیا۔ وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
یاشم اسے نظر انداز کر کے نظریں مین روڈ پر جمائے ہوئے اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش میں جٹ گیا۔
“بھائی کا دوست۔۔۔۔ فیملی فرینڈ کیسے بن گیا۔۔۔۔ ” یاشم کا غصہ برقرار رہا۔
“نہیں وہ۔۔۔۔ ایکچیولی ان کی وائف میری دور کی کزن لگتی ہے۔۔۔۔” راعنہ نے سر جھکائے دوسری دلیل بتائی۔
اس آدمی کے شادی شدہ ہونے کا جان کر یاشم قدرے پُر سکون ہوگیا۔ اس نے لمبا سانس خارج کر کے کار کی اسپیڈ ہلکی کردی جبکہ چہرے کے تاثرات سپاٹ رہے۔
کافی دیر کار میں خاموشی چھائی رہی۔ یاشم نے ماحول کا تناو کم کرنے گانے لگا لیئے۔
سن میرے ہمسفر
کیا تجھے اتنی سی بھی خبر
کہ تیری سانس چلتی جدھر
رہوں گا بس وہی عمر بھر
کتنی حسین یہ ملاقاتیں ہیں
ان سے بھی پیاری تیری باتیں ہیں
باتوں میں جو تیرے کھو جاتے ہیں
آو نا ہوش میں، میں کبھی
بانہوں میں ہو تیرے زندگی ہائے۔۔۔
گانے کے لائنز یاشم کو اپنے دل کی آواز لگی۔ بے اختیار اس کا مزاج اچھا ہونے لگا۔ اس نے کنکھیوں سے راعنہ کو دیکھا تھا۔
میں تو یوں کھڑا
کس سوچ میں پڑا تھا
کیسے جی رہا تھا میں دیوانہ
چھپ کے سے آکے تو نے
دل میں سما کے تو نے
چھیڑ دیا کیسا یہ فسانہ
اووو مسکرانا بھی تجھی سے سیکھا ہے
دل لگانے کا تو ہی طریقہ ہے
اعتبار بھی تجھ ہی سے ہوتا ہے
آوں نا ہوش میں، میں کبھی
بانہوں میں ہے تیرے زندگی ہائے۔۔۔
دن بھر کے حسین لمحات اس کے ذہن میں گردش کرنے لگے۔ راعنہ کا بولنا اس کا ہنسنا اس کا قدرتی حسن کو محسوس کر کے خوش ہونا۔ ہوا سے اس کے بالوں کا اڑنا پھر راعنہ کا انہیں کان کے پیچھے کرنا۔ اس کا پلکیں جھپکا کر یاشم کو دیکھنا۔ اس کی ہر ادا پر یاشم کو پیار آرہا تھا۔ یاشم کی مسکراہٹ مزید بڑی ہوگئی تھی۔
ہے نہیں تھا پتا
کہ تجھے مان لوں گا صدا
کہ تیری گلیوں میں اس قدر
آوں گا میں ہر پہر
سن میرے ہمسفر
کیا تجھے اتنی سی بھی خبر
کہ تیری سانس چلتی جدھر
رہوں گا بس وہی عمر بھر
رہوں گا بس وہی عمر بھر۔۔۔
میوزک سنتے یاشم نے چہرہ بائیں جانب گھما کر راعنہ کو دیکھا تو وہ اداسی سے کھڑکی کے پار دیکھ رہی تھی۔ اسے اداس کر دینے پر یاشم کو بہت برا لگ رہا تھا۔ دل ہی دل یاشم نے خود کو ڈپٹا پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کا ہاتھ راعنہ کے کندھے کے سمت بڑھا پر اس نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ پیچھے کر کے خود کو روک لیا تھا۔ وہ پھر سے ایسی کوئی حرکت نہیں کرنا چاہتا تھا جس سے راعنہ مزید اداس ہوجاتی۔
“آئی ایم سوری۔۔۔۔” یاشم نے مدھم آواز میں معذرت چاہی پر راعنہ خاموش رہی۔
“میں آدھے سے زیادہ عمر فارن کنٹریز میں رہا ہوں۔۔۔ پر میرے اصول اور جذبات اب بھی دیسی ہیں۔۔۔۔ مجھ سے جڑی کوئی لڑکی کسی غیر مرد کے ساتھ نظر آئے تو مجھے اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔” اپنی بات مکمل کر کے اس نے راعنہ کو دیکھا تو وہ اب بھی رخ دوسرے جانب کئے ہوئے خاموش تھی۔ یاشم سر جھٹک کر سڑک کو دیکھنے لگا
“میں جسے اپنا مانتا ہوں پھر اس کے لیے بہت پوسیسیو ہوجاتا ہوں۔۔۔۔ اور آپ۔۔۔۔” اب کی بار جب یاشم نے گردن موڑی تو راعنہ اسی کو دیکھ رہی تھی۔
کچھ لمحوں کے لیے یاشم کی ہیزل گرین آنکھیں راعنہ کی گہری سیاہ آنکھوں میں قید ہوگئیں۔
“آپ میرے دل کے بہت قریب ہو۔۔۔۔۔ سب سے اہم۔۔۔۔ سب سے خاص۔۔۔۔” یاشم نے ادھوری بات اس انداز میں مکمل کی کہ راعنہ کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی۔ بلواسطہ یاشم کے اظہار محبت پر راعنہ پریشان ہوگئی اور رخ پھیر لیا۔
راعنہ کے شرمانے پر یاشم کے ہونٹوں پر شفیق سی تبسم بکھر گئی۔ بقیہ راستہ خاموشی کے نذر ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے سفر اپنے منزل کو پہنچ گیا۔ پی سی ہوٹل کے سامنے کار روکتے ہی راعنہ بنا کچھ کہے اتر گئی اور یاشم کا انتظار کئے بغیر اندر چلی گئی۔ یاشم محبت پاش نظروں سے اسے جاتے دیکھتا رہا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
سوپر ماڈل اور اداکارہ ارم شیخ اور پروفیسر نوریز صدیقی کی شادی کے چرچے صرف ٹی وی اور نیوز پیپر تک ہی محدود نہیں تھے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ہر سوں پھیلے ہوئے تھے۔
ٹویٹر ہوتا فیسبوک یا انسٹاگرام، نوریز اور ارم کا نام ہر جگہ ٹرینڈ پر چل رہا تھا۔ کچھ تنقید نگاروں نے ان کے ایج ڈفرینس پر کافی بحث بھی کی تو کئی شائقین نے ان کی جوڑی کو سچی محبت کا عملی نمونہ قرار دیا۔
اکثر کمنٹس میں نوریز صدیقی کو کم سِن لڑکیوں کو پھنسانے میں ماہر اور گولڈ ڈگر کے القابات سے نوازا گیا تو بیشتر شہری اسے پروفیسر ہونے کا رتبہ یاد دلانے لگے۔
ہر وقت ایسی خبریں آیت اور صدیف کے گوش گزار ہوتی رہتیں جس کے چلتے ان دونوں کے درمیان گفتگو مزید کم ہوگئی تھی۔
شام کے وقت آیت ڈنر کا اہتمام کرنے لگی تھی اور تینوں بچے لاؤنج میں بیٹھے اسکول کا ہوم ورک کرنے میں مگن تھے۔ ساتھ ہی ہلکی آواز میں ٹی وی بھی چل رہا تھا۔ ایک نیجی چینل کے مشہور شو پر ارم شیخ سے جب اس افوا کے متعلق سوال پوچھا گیا تو ساتھ ساتھ اسکرین پر نوریز اور ارم کی تصاویر شائع ہونے لگی۔
“ثمر بھئیاں۔۔۔۔ یہ تو وہی انکل ہے۔۔۔۔” مشی نے منہ کے آگے ہاتھ رکھ کر ثمر کے کان میں سرگوشی کی۔
ثمر نے پینسل رکھ کر ریموٹ اٹھایا اور ٹی وی کی آواز اونچی کر دی۔ ذیال نے منہ بھسورتے ہوئے کتاب میں سے سر اٹھا کر ثمر کو گھورا۔
“ہاہاہا۔۔۔۔ آپ تو جانتی ہیں۔۔۔۔ لوگوں کو تو بات کا بتنگڑ بنانے میں مزا آتا ہے۔۔۔۔۔ میں اور نوریز۔۔۔ فلحال اپنے کیرئیر میں مصروف ہیں۔۔۔۔ شادی کا وقت آئے گا تو شادی بھی کر لیں گے۔۔۔۔ ابھی تو ہم بس اپنی لو لائف انجوائے کر رہیں ہیں۔۔۔۔” ارم نے شو کے میزبان کے سوال پر ادائیں دکھاتے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
کچن میں کوکنگ کرتے آیت کا دھیان ارم کے جواب پر گیا تو طیش میں آگئی۔ برتن پٹخ کر رکھتی وہ تیزی سے لاؤنج میں آئی اور ثمر کے ہاتھ سے ٹی وی کا ریموٹ چھین لیا۔
“ہوم ورک کرنے بیٹھایا ہے نا۔۔۔۔ اور تم ٹی وی دیکھ رہے ہو۔۔۔۔ مار کھانی مجھ سے۔۔۔۔ ” آیت نے ڈانٹتے ہوئے ہاتھ اوپر اٹھایا تو ثمر سہم کر پیچھے ہوگیا۔
“ممی۔۔۔۔ ٹی وی تو پہلے سے لگا ہوا ہی تھا۔۔۔۔” مشائم نے مداخلت کی جس پر آیت کا پارہ آسمان کو چھونے لگا۔
“تم چپ کرو۔۔۔۔ یہ سارے شیطانی آئیڈیاز تمہیں ہی آتے ہے۔۔۔۔ تمہارے بھی کان کھینچنے چاہیئے۔۔۔” آیت نے انگلی اٹھا کر اسے دیکھا۔ مشائم کی آنکھیں بھیگنے لگی۔
بچوں پر اپنا غصہ نکال کر جاتے ہوئے آیت نے ٹی وی کی تار نکال لی۔ لاؤنج میں مکمل خاموشی چھا گئی جسے مشی کی ہلکی ہلکی سسکی توڑ رہی تھی۔ ذیال اپنی جگہ سے اٹھا اور مشائم کے پاس آکر اس کا سر اپنے سینے سے لگا کر چپ کروانے لگا۔
“ممی آج کل بہت ڈانٹتی ہیں۔۔۔۔۔ کیا ہوگیا ہے ان کو۔۔۔۔” ثمر کی رندھی ہوئی آواز گونجی تھی۔ آنکھیں اس کی بھی پُر نم تھی۔
“ممی بہت بری ہے۔۔۔۔۔ پاپا بھی برے ہیں۔۔۔۔۔ وہ دونوں کبھی اچھے سے نہیں رہتے۔۔۔۔ مجھے دادو کے پاس جانا ہے۔۔۔۔ ” مشی کے آنسو پھر سے جاری ہوچکے تھے۔
“ہاں۔۔۔۔ اس سنڈے دادو کال کریں گی۔۔۔۔ تو میں ان سے کہہ دوں گا میں اور مشی ان کے پاس آرہیں ہیں بس۔۔۔۔” ثمر نے فورا سے بیشتر اپنا فیصلہ سنایا۔
“بھئیاں آپ چلو گے ہمارے ساتھ۔۔۔۔” مشی نے سر اٹھا کر آنکھیں ڑگڑتے ہوتے ذیال کو دیکھا جو خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
“تم دونوں جانتے ہو یہ سب کس وجہ سے ہورہا ہے۔۔۔۔” ذیال نے تجسس سے مخاطب کیا۔ ثمر اور مشائم سنجیدہ ہو کر اسے دیکھنے لگے۔
“یہ سب اس انکل کی وجہ سے ہورہا ہے۔۔۔۔ پہلے وہ گھر آیا۔۔۔ ممی سے لڑائی کی۔۔۔۔ پاپا اور ممی کا جھگڑا ہوا۔۔۔۔۔ پھر ہم نے اس کی تصویر پاپا اور ممی کے شادی والے البم میں دیکھی۔۔۔۔ اور اب جب سے اس کی خبریں ٹی وی اور نیوز پیپر میں آرہی ہیں پاپا اور ممی پھر سے ڈسٹرب ہوگئے ہیں۔۔۔۔” ذیال شروع سے اب تک سارے مسائل گنوا کر خاموش ہوا۔ ثمر اور مشائم نے ایک دوسرے کو دیکھ کر سر ہلایا۔ ذیال کی باتیں ان دونوں کے سر کے اوپر سے گزر گئی تھیں۔
“ہمیں یہ پتا کرنا پڑے گا۔۔۔۔ آخر یہ انکل ہے کون۔۔۔۔” ذیال نے ایک اہم بات سوچی۔
“پر پتا کیسے کریں گے۔۔۔۔” ثمر نے منہ بنایا۔
“دادو سے۔۔۔۔ انہیں ضرور پتا ہوگا۔۔۔۔ نوریز صدیقی کون ہے۔۔۔۔” ذیال نے کچھ سوچتے ہوئے سر کو جنبش دیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
بٹ ہاوس کا ماحول بھی صدیف کے گھر کے ماحول سے کم نا تھا۔ اس خبر کے چلتے عاطرہ بیگم کا دل کھول اٹھتا۔
“جس درندے نے ہماری بچی کی زندگی تباہ کر دی۔۔۔۔ وہ اپنی زندگی سنوارنے چلا ہے۔۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔ اس کا گھر کبھی آباد نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ دیکھنا آپ۔۔۔۔ ” مٹر چھیلتے ہوئے انہوں نے آہ بھری تھی۔
“کیسی بات کر رہی ہو۔۔۔۔ کسی کو بد دعا دینا اچھی بات نہیں ہے۔۔۔۔ کبھی کبھی اپنے آپ پر پلٹ آتی ہے۔۔۔۔” شعیب صاحب نے فورا سے ٹوکا تھا۔
“ارے صرف میں ہی تو نہیں ہوں۔۔۔۔ اسے تو کئی ساری مائیں بد دعا دیتی ہوں گی۔۔۔۔ نا جانے کس کس کی زندگیاں جہنم بنائی ہیں اس نے۔۔۔۔ پتا نہیں کس کم بخت نے اس کی بیل کرائی ہے۔۔۔۔ وارث صاحب نے تو یقیناً نہیں کرائی ہوگی۔۔۔۔” عاطرہ بیگم کا دل جل رہا تھا اور اس کے ایثار ان کے دہکتے چہرے سے واضح تھے۔
“جس نے بھی کرائی ہو۔۔۔۔ ہمارا اب اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔۔ مجھے تو بس اس بات کی فکر ہورہی ہے۔۔۔۔ کہی راعنہ کو اس کی رہائی کا معلوم پڑا تو وہ پھر سے صدمے میں نہ چلی جائے۔۔۔۔” شعیب صاحب نے متفکر انداز میں اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
ان کا خدشہ سن کر عاطرہ بیگم کے آبرو ڈھیلے پڑ گئے اور ہاتھ سست ہونے لگے۔ نوریز کو کوستے وہ اتنی طیش میں تھی کہ اپنی بیٹی کو بھول ہی گئی تھی۔ پر وہ بے بس ماں باپ یہ نہیں جانتے تھے کہ راعنہ اسلام آباد میں نوریز کو دیکھ چکی ہے۔ جس صدمے کا وہ سوچ کر بھی دہل گئے ہیں، راعنہ اس سے گزر چکی ہے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
دو گھنٹے بعد ان سب کی اسلام آباد سے کراچی واپسی تھی۔ ہوٹل سے چیک آوٹ کرا کر سب سے پہلے وہ پانچوں سینٹورس مال گئے جہاں سب نے اپنی اپنی فیملی کے لیے تحائف لیئے۔ راعنہ نے ایلزینا کے لیے فیری ڈریس اور ساتھ میں میچنگ جیولری اور سینڈل لیئے۔ کپڑوں کی دکان سے نکل کر وہ کھلونوں کی دکان میں گئی جب یاشم ہاتھ میں چھوٹا سا پیکٹ لیے اس کے پیچھے آیا۔
راعنہ نے مصور اور ایلزینا کے لیے چھوٹے بڑے کھیلونے لیے تو یاشم نے بھی اس کی پسند سے اپنے بھانجے بھانجی کے لیے تحفے تحائف پسند کئے۔
شاپنگ کر کے وہ سب ائیر پورٹ کے لیے روانہ ہوگئے اور اپنے گھروں کے سمت ان کا سفر شروع ہوا۔
دوسری جانب زینی آج اسکول نہیں گئی۔ صبح سے وہ چار دفعہ الگ الگ ڈریس پہن کر واپس چینج کر چکی تھی۔ اسے مما کے لوٹنے کا اتنا بے صبری سے انتظار تھا کہ اس نے عجلت میں ٹھیک سے ناشتہ بھی نہیں کیا۔ ایک گھنٹہ لگا کر بھی جب وہ کوئی مناسب ڈریس پسند نہیں کر سکی تو تین ڈریسز ہاتھ میں لیے کچن کے در تک آئی۔
“مامی ان میں سے کونسا زیادہ اچھا ہے۔۔۔۔۔ یہ والا۔۔۔۔ یہ والا۔۔۔ یا یہ والا۔۔۔۔” وہ باری باری تینوں ڈریس اریبہ کو دکھانے لگی۔
“تم پر ہر ڈریس پیارا لگتا ہے زینی۔۔۔۔” اریبہ نے کٹلس بناتے ہوئے ایک نظر اسے دیکھ کر جواب دیا۔
“پر سب سے پیارا کونسا ہے۔۔۔۔ میں چاہتی ہوں۔۔۔۔ جب مما آئے تو میں سب سے پیاری لگوں۔۔۔۔” ایلزینا مامی کے جواب سے مطمئن نہیں ہوسکی۔ اس نے دوبارہ زور دیا تو اریبہ تفصیل سے اس کے ہاتھوں میں لیئے ڈریس دیکھنے لگی۔
“ہمممم۔۔۔۔۔ یہ بلیک والا بہت زیادہ پیارا لگے گا۔۔۔۔” اریبہ نے اس کے دائیں ہاتھ میں پکڑے ڈریس کا حوالہ دیا۔
وہ بلیک کلر کا لمبا فراک تھا جس کے دامن پر ریڈ کلر کے ربن سے پھول بنا کر لگائے گئے تھے جو دور سے اصلی گلاب کی طرح لگتے۔ ایلزینا خوشی سے چہک اٹھی اور تیار ہونے بھاگ گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
فلائٹ پرواز کر چکی تھی۔ راعنہ نے ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھا۔ اسے بھی گھر جا کر اپنے لخت جگر کو سینے سے لگانے کی جلدی تھی۔ ایک ایک منٹ اس کا گن کر گزر رہا تھا۔ پرواز کے دوران راعنہ دو سیٹ چھوڑ کر عاصمہ کے ساتھ بیٹھی تھی۔ اتنی سی دوری پر بھی یاشم کا موڈ خراب ہونے لگا لیکن اب سے دونوں کے راستے الگ ہونے تھے یہ یاشم کو پتا تھا اس لیے وہ اپنے دل کو قابو رکھنے کا پابند ہوگیا۔ البتہ اس نے جلد از جلد راعنہ سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
ائیر پورٹ پر شعیب صاحب اسے لینے آئے وہ تیزی سے ان کے کندھے سے لگ گئی۔ بابا نے اس کا حال احوال دریافت کیا اور یاشم سمیت بقیہ ٹیم سے بھی ملے۔
راعنہ یاشم اور عاصمہ سے رخصت لے کر بابا کے ہمراہ روانہ ہوگئی۔ یاشم نظروں کی حد تک اسے جاتے دیکھتا رہا اور پھر اپنے گھر کا رخ کیا۔
ائیر پورٹ سے گھر تک سفر کے دوران راعنہ بابا کو ٹرپ کی رو داد سناتی رہی اور شعیب صاحب محظوظ ہوتے رہیں۔ انہیں اتنے سالوں میں پہلی مرتبہ راعنہ خوش نظر آرہی تھی۔ اس کی دلی کیفیت سے انجان، بابا نے از خود یہ سوچ کر سکون کا سانس لیا کہ وہ نوریز کی رہائی سے لاعلم ہیں جبکہ یہ ان کی غلط فہمی ثابت ہونے والی تھی۔
گھر کے گیٹ پر کار رکنے کی آواز آئی تو ایلزینا تیزی سے باہر لپکی۔ وہیں راعنہ نے بھی کار سے اتر کر سب سے پہلے بیٹی کو گلے لگایا۔
“زینی۔۔۔ مائی بےبی۔۔۔۔۔ کیسی ہو۔۔۔۔ مما نے آپ کو بہت بہت بہت زیادہ مس کیا۔۔۔” راعنہ دیوانہ وار اسے پیار کرتی گویا ہوئی۔
“میں نے بھی آپ کو بہت مس کیا ہے مما۔۔۔۔۔ آپ دوبارہ مجھے چھوڑ کر مت جانا۔۔۔۔” ایلزینا مما کو پیار کرتے گلہ کر بیٹھی۔
“اوکے مما کی جان۔۔۔۔ نہیں جاوں گی۔۔۔۔ چلو۔۔۔۔ میں نانو اور مامی سے مل لوں۔۔۔۔” راعنہ نے اس کے رخساروں کو چھوم کر گود سے اتارا اور آگے آکر عاطرہ بیگم اور اریبہ سے ملنے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
یاشم گھر آیا تو فریحہ بیگم نے اسے خود سے لگا لیا۔ یاشم نے بھی ان کے گرد بازو حمائل کر کے انہیں مضبوطی سے تھام لیا تھا۔
“مام۔۔۔۔ میں صرف دو دن کے لیے اسلام آباد گیا تھا۔۔۔۔ لندن نہیں جو آپ اتنا رو رہی ہیں۔۔۔۔” یاشم نے الگ ہوتے ہوئے مام کے آنسو صاف کئے۔
“بیٹا ماں کے لیے تو اولاد سے ایک دن کی دوری بھی صدیوں جتنی ہوتی ہیں۔۔۔۔” فریحہ بیگم جوان اور ہینڈسم بیٹے کو لاڈ کرنے لگی۔
یاشم ان کی ممتا پر مزید معتبر ہوگیا۔ بابا اور دادا جان بھی اسی جذبے سے ملے جبکہ آفروزہ سرسری مل کر اس کے بیگ پر جھپٹ پڑی۔ مام نے اسے ٹوکا بھی پر وہ ان کی ڈانٹ خاطر میں لائے بغیر بیگ کھول کر تحائف دیکھنے لگی۔ ایک سنہرے رنگ کا چھوٹا سا گفٹ پیک نکالتے ہوئے اس کی آنکھیں چمک گئی تھی پر اس کے کھولنے سے پہلے یاشم نے مداخلت کی۔
“آفروزہ۔۔۔۔ یہ کسی اور کا ہے۔۔۔۔ ادھر دو۔۔۔۔ خراب مت کرو۔۔۔۔” یاشم نے اس کے ہاتھ سے گفٹ پیک لیں لیا اور احتیاط سے اس کے اندر دیکھ کر گفٹ کے صحیح سلامت ہونے کی تصدیق کی۔
“اووو خوشبو تو باہر تک آرہی ہے۔۔۔۔ کوئی مہنگے برینڈ کا پرفیوم لگ رہا ہے۔۔۔۔ وہ بھی لیڈیز پرفیوم۔۔۔۔” آفروزہ جتا جتا کر سنہرے گفٹ بیگ میں موجود شہ کی جانچ کرنے لگی۔
یاشم نے دادا جان اور بابا کے سامنے آفروزہ کے اس انداز گفتگو پر اسے گھورا تھا۔ آفروزہ منہ بھسورتے ہوئے سر جھکا گئی۔
“اتنی چیزیں تو لایا ہے تیرے لیے۔۔۔۔ اب تو جان چھوڑ اس کی۔۔۔۔ یاشم تم فریش ہوجاو۔۔۔۔ میں کھانا لگواتی ہوں۔۔۔” مام نے آفروزہ کو ڈپٹا تو وہ منہ بنا کر اٹھ گئی۔
یاشم اپنا سامان لیئے کمرے میں آگیا۔ باقی چیزیں اس نے روم کے بیچو بیچ پھینک دی لیکن وہ سنہرا پیکٹ سیف الماری میں احتیاط سے رکھا۔
“ایک دن ایسا ضرور آئے گا راعنہ۔۔۔۔ جب یہ پرفیوم لگائے۔۔۔۔ آپ میرے سامنے۔۔۔۔ اسی روم میں موجود ہوں گی۔۔۔۔” اس پیکٹ کو دیکھتے ہوئے یاشم خیالی طور پر راعنہ کو اپنے گرد محسوس کرنے لگا۔ اس کا چہکنا۔ اس کا شرمانا۔ اس کی پُر کشش آواز اور جھیل سی گہری آنکھیں یاد کرتے یاشم نے حسرتی آہ بھری اور فریش ہونے چلا گیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نوریز ایک شام جینز اور سادی سی ٹی شرٹ پہنے گھنے بال ماتھے پر بکھرے رکھے اور ہاتھ میں شر ا ب کی چھوٹی بوتل پکڑے نشے کی حالت میں ارم کے گھر پہنچا۔
اس کی حالت پر غور کئے بغیر گارڈز نے اسے اندر جانے دیا۔ ارم کے والدین پاکستان سے باہر مکیم تھے اس لیے نوریز رات کے وقت بھی اکثر وہاں آیا کرتا تھا۔
لاونج میں سے گزر کر نوریز ڈائریکٹ ارم کے بیڈروم میں داخل ہوا۔
ارم سلک کی نائٹی پہنے آئینے کے سامنے بیٹھی ہاتھوں اور پیروں پر کوئی بیوٹی کریم لگا رہی تھی جب دروازے سے داخل ہوتے نوریز کا عکس نظر آیا۔
“ہائے بےبی۔۔۔۔ ایسے اچانک۔۔۔۔ بتایا بھی نہیں آنے والے ہو۔۔۔۔” ارم تیزی سے آکر نوریز سے لپٹ گئی۔
“کیا کروں۔۔۔۔ تم اتنی خوبصورت ہو۔۔۔۔ تمہارے بغیر رہا نہیں جاتا۔۔۔ ” نوریز نے اس کے کھلے بالوں میں چہرا چھپا کر اس کی نازک گردن پر اپنے دہکتے لب نصب کئے۔
ارم سانس روکے آنکھیں بند کر کے اس کی شدت سے سیراب ہونے لگی۔ نوریز کا لمس اسے مدہوش کرنے لگا۔ وہ خود کو آزاد چھوڑتی نوریز کے بازووں میں پگھل سی گئی تھی۔ اس کا جنون بڑھنے لگا تو ارم نے اسے پیچھے کیا اور اپنی اٹکی سانس بحال کرنے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔
