Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Nadamat) Episode 8

نوریز ایک قدم پیچھے ہوا اور جیب سے سیگریٹ نکال کر ہونٹوں میں دبائی۔ پھر مخمور انداز میں ارم کو دیکھتے ہوئے سلگانے لگا۔ ارم کو اس کی نظروں سے خوف محسوس ہوا تھا۔ وہاں ایک الگ ہی جنون تھا جو اس سے پہلے ارم نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
“نوریز تم۔۔۔۔” ارم اسے مخاطب کرنے لگی تھی پر نوریز نے ایک ہاتھ اس کے سر کے پیچھے اور دوسرا ہاتھ اس کے منہ پر رکھ دیا۔ ارم کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی۔ نوریز نے ایک لمبا کش لے کر دھواں ارم کے چہرے پر اڑایا تو اس نے آنکھیں سختی سے مینچھے اپنا چہرہ پھیر لیا۔
معنی خیز نظروں سے اسے گھورتے نوریز نے اس کی کلائی دبوچ کر مڑوڑ دی جس کے باعث ارم گھوم گئی اور نوریز کے سمت اس کی پشت ہوگئی۔
“نوریز کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔ چھوڑو مجھے۔۔۔۔ “ارم نے اپنے آپ کو اس کی گرفت سے آزاد کرانے کے لیے ہاتھ پیر مارے۔
“ریلکس بےبی۔۔۔۔ ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی کہاں ہے۔۔۔۔” نوریز کا لہجہ ارم کا دل دہلا گیا۔ اس کی مزمت میں تیزی آگئی پر اپنے آپ کو چھڑا نہ سکی۔
وہیں نوریز نے اس کی نائیٹی کا گاون ہٹا کر ڈیپ گلے سے جھلکتی شفاش پیٹھ پر ہاتھ پھیرا۔
“بہت شوق ہے نا ایکٹریس بننے کا۔۔۔۔۔ بنو۔۔۔۔ شوق سے بنو۔۔۔۔ میں تمہیں نہیں روکوں گا۔۔۔۔۔ پر آج کے بعد۔۔۔۔۔ بیک لیس نہیں پہن سکو گی۔۔۔۔ “نوریز نے ایک اور کش لے کر سیگریٹ مزید سلگائی۔
اس کی بات سن کر ارم کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔
“نوریز نو۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ نو نو۔۔۔ نو پلیزز نو۔۔۔۔ آاہہہہ۔۔۔۔” ارم حواس باختہ ہو کر چیخنے لگی اور ساتھ ہی کراہ اٹھی۔ نوریز ہاتھ میں پکڑے سیگریٹ سے اس کی پیٹھ داغ رہا تھا۔
“سوری۔۔۔۔ میں تمہاری ہر بات مانوں گی۔۔۔۔ نوریز اسٹاپ اٹ۔۔۔۔ آااہہہہہ۔۔۔۔” کراہتے ہوئے وہ بلند آواز رونے لگی پر نوریز پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس نے اپنے عمل میں خلل نہیں پڑنے دیا۔
“نو۔۔۔۔ آئی ایم سوری بےبی۔۔۔۔ مجھے تمہیں پہلے ہی سمجھا دینا چاہیئے تھا۔۔۔۔” سلگتے ہوئے سیگریٹ کا آخری حصہ زور سے ارم کی کمر پر دبا کر نوریز نے ارم کو بیڈ پر پھینک دیا۔
وہ درد اور جلن کی کیفیت سے دو چار خوف سے لرز رہی تھی۔
“کیا کہا تھا تم نے۔۔۔۔ تم میری ایکس وائف نہیں ہو۔۔۔۔ جو میرے ظلم برداشت کرو۔۔۔” نوریز اس کا جملہ دہراتے ہوئے استحزیہ ہنسنے لگا۔
ارم روتے ہوئے ڈر کی وجہ سے پیچھے ہوتے ہوتے بیڈ کراون سے لگ گئی۔ نوریز نے اچھل کر بیڈ پر آتے اس کے دائیں اور بائیں جانب اپنے ہاتھ جمائے اور تند نظروں سے ارم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔
“تم اس جیسی ہو بھی نہیں سکتی۔۔۔۔ کیونکہ وہ ون پیس ہے۔۔۔۔ بہت مضبوط عورت ہے۔۔۔۔۔ آسانی سے ٹوٹنے والوں میں سے نہیں ہے۔۔۔۔ اگر اس کے جتنے تشدد میں تم پر کروں تو تم زندہ نہیں رہ پاو گی۔۔۔۔ پر وہ زندہ ہے اور خوشحال لائف جی رہی ہے۔۔۔۔ جانتی ہو کیوں۔۔۔۔” نوریز نے سوالیہ انداز میں سر کو جنبش دیا۔
ارم نے فوراً سے اس ڈر سے کہ کہی وہ جواب نہ ملنے پر اس پر ہاتھ نہ اٹھا دے سر نفی میں ہلایا۔ ارم کی فرمانبرداری پر نوریز نے متبسم ہوتے اس کے گال پر محبت بھرا بوسہ دیا۔
“کیونکہ اس کے پاس جینے کی ایک وجہ ہے۔۔۔۔ اور اس وجہ کا نام ہے ایلزینا نوریز صدیقی۔۔۔۔” نوریز فخریہ انداز میں آبرو اچکا کر اس پر سے ہٹا اور کمر پر ہاتھ رکھے کھڑا ہوگیا۔
“جس دن میں اس سے وہ وجہ چھین لاوں گا۔۔۔۔۔ جو کہ میں بہت جلد چھیننے والا ہوں۔۔۔۔ وہ اپنے آپ مر جائے گی۔۔۔۔” اس نے رخ اوپر کو اٹھائے فیصلہ سنانے کے جیسے ڈٹی آواز میں کہا۔ نفرت بھری نگاہوں سے چھت کو دیکھتے نوریز نے وہ دن یاد کیا جب راعنہ کی وجہ سے اسے جیل ہوئی تھی۔
بیڈ کی چرچراہٹ پر وہ پیچھے مڑا تو ارم کمرے سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھی پر نوریز نے اس کا بازو دبوچ لیا۔ اس اچانک حملے پر ارم چیخ پڑی۔
“بےبی۔۔۔۔پولیس کو بلانے جا رہی ہو۔۔۔۔ یا میڈیا میں پریس کانفرنس کرنے۔۔۔۔۔” نوریز نے معصوم چہرہ بنایا۔
“جو بھی کرنا ہو۔۔۔۔ سوچ سمجھ کر کرنا۔۔۔۔ ورنہ تمہارا فلمی کیرئیر بننے سے پہلے برباد ہو جائے گا۔۔۔۔” اب کی بار اس کی آواز سرد ہوگئی۔
نوریز نے دھکہ دے کر ارم کو زمین پر گرایا اور خود جیب سے موبائل نکال کر پرائویٹ فولڈر سے ایک ویڈیو لگا کر موبائل اس کی آنکھوں کے سامنے کیا جس میں ارم آدھی رات کو فلم ڈائریکٹر کے گھر سے چھوٹے کپڑے پہنے نشے میں دھت لڑکھڑاتے ہوئے باہر نکلتی نظر آرہی ہے۔ وہ ویڈیو دیکھ کر ارم کے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا تھا۔
“تمہیں کیا لگا۔۔۔۔ فلم پانے کے لیے تم مجھ سے چھپ کر اس ڈائیریکٹر سے ریلیش بناو گی اور مجھے پتا نہیں چلے گا۔۔۔۔” نوریز نے غصے میں ارم کی تھیوڑی اوپر کو اٹھا کر جتاتے ہوئے کہا۔
ارم دل ہی دل نوریز سے محبت کرنے پر خود کو کوسنے لگی۔
“اب جہاں جانا ہے جاو۔۔۔۔ پولیس کے پاس۔۔۔۔۔ یا میڈیا کے پاس۔۔۔۔ پر یاد رکھنا۔۔۔۔ تم میرے خلاف ایک قدم اٹھاو گی۔۔۔۔ تو میں تمہیں دو قدم پیچھے دھکیل دوں گا۔۔۔۔ نوریز صدیقی کو بہت ہلکے میں لیا تھا تم نے۔۔۔۔ پر میرا اصل روپ تم اب دیکھو گی ارم شیخ۔۔۔۔” نوریز تندی سے گھورتے لمبے ڈگ بھرتا روانہ ہوگیا اور ارم درد تکلیف اور پریشانی میں چیختی رہ گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
یاشم کا پہلا پراجیکٹ کامیاب ہونے کی خوشی میں سب کولیگز نے ہفتے کی شام شاہ پیلس سے متصل ریسٹ ہاوس میں بار بی کیو پارٹی کا اہتمام کیا تھا۔
ویسے تو راعنہ شام کے وقت گھر سے نکلنے کی روا دار نہیں تھی پر یاشم کے ضد پر وہ آنے کے لیے مان گئی۔
پارٹی کی شام وہ وائٹ کلر کے ہلکے کام دار ڈریس کے ساتھ ریڈ کلر کا ڈوپٹہ سر پر اوڑھے نفیس میک اپ کئے شاہ پیلس کے احاطے میں داخل ہوئی۔ اس بڑے اور عالی شان محل نما کوٹھی کو دیکھ کر اس کی آنکھیں خیرہ ہوگئی تھی۔ وہ قدم قدم چلتی لان سے گزر کر ریسٹ ہاوس کے سمت آئی جہاں کھلی فضا میں ٹیبل اور چئیرز لگا کر بیٹھنے کی جگہ بنائی گئی تھی اور ہر ٹیبل کے ساتھ دو پلر موجود تھے جس پر ہلکی رزد اور نیلی رنگ کی لائٹس استعمال کر کے روشنی کی گئی تھی۔
یاشم سفید قمیض شلوار پہنے بال نفاست سے بنائے مہنگی پرفیوم لگائے ہشاش بشاش سا تیار ہو کر ملازمین کو ہدایات دے رہا تھا جب اس کی نظر راعنہ پر پڑی۔ اسے دیکھ کر ماحول کی روشنی مدھم پڑ گئی اور پس منظر خیرہ ہونے لگا۔ راعنہ نظریں جھکائے اس کے پاس آئی اور اسے مخاطب کر کے خیالوں سے نکالا۔ حال احوال دریافت کر کے یاشم اپنے کام کے جانب متوجہ ہوا اور راعنہ دوسرے کولیگز کے گھیرے میں جا بیٹھی۔
وہاں موجود سب خوش گپیوں میں مصروف تھے اور یاشم کی نظریں بار بار راعنہ کے طرف بھٹک جاتیں۔
ویسے تو یاشم آفس اسٹاف کے ساتھ اتنا دوستانہ رویہ نہیں رکھتا تھا پر یہ پارٹی ایک طرح سے راعنہ کو نظروں کے سامنے رکھنے کا بہانہ تھا۔ باتوں باتوں میں وقت گزرتا گیا۔ بار بی کیو تیار ہوا تو سب کھانے پینے میں لگ گئے۔
کھانے سے فارغ ہو کر شام کو یادگار اور لطف اندوز بنانے سب نے یاشم سے گیم کھیلنے کی اجازت لی۔ راعنہ کسی بھی قسم کے گیم کا حصہ بننے سے انکاری رہی جبکہ یاشم گیم کا حصہ بن گیا۔ پہلا گیم میوزیکل پلو کا تھا۔ میوزک رک جانے پر جس کے ہاتھ میں کشن ہوا اس کو دوسروں کے بتائے ٹاسک پر عمل کرنا ہوگا۔
کسی نے شاعری سنائی۔ کسی نے لطیفہ سنا کر سب کو ہنسایا تو کسی نے اپنے ایکٹنگ اور ڈانس کے جوہر دکھائے۔ یاشم کی باری آئی تو سب نے اسے گانا گانے کی فرمائش کی۔
“پلیز سر۔۔۔۔ سنا ہے آپ گیٹار بہت اچھا بجاتے ہیں۔۔۔۔ اور ساتھ گنگنا بھی لیتے ہیں۔۔۔۔ کچھ گیٹار پر بجا کر سنائے نا۔۔۔۔۔ ” عدنان کی ضد پر یاشم سر جھٹکتا رہ گیا۔
“اوکے اوکے۔۔۔۔ سناتا ہوں۔۔۔۔ روزی خان۔۔۔۔ گھر سے میرا گیٹار لے آو۔۔۔۔ ” یاشم ہاتھ ہوا میں بلند کر کے ان کی فرمائش مان گیا اور اپنے ملازم کو گیٹار لانے شاہ پیلس بھیجا۔
سب دوستوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی کوئی چہکتے ہوئے نعرے بازی کرنے لگے تو کچھ نے سیٹھیاں بجا کر یاشم کی حوصلہ افزائی کی۔ راعنہ ہاتھ تھیوڑی پر رکھ کر مسرور کن نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
گیٹار آیا تو درمیان میں سے میز ہٹا دیا گیا اور سب دائرے کی شکل بیٹھ کر خاموشی سے یاشم کے گانے کا انتظار کرنے لگے۔ یاشم نے اپنی سیٹ اس زاویے سے رکھی کہ راعنہ کی سیٹ اس کے عین رو بہ رو آگئی۔
چرا لیا ہے تم نے جو دل کو
نظر نہیں چرانا صنم
بدل کے میری تم زندگانی
کہیں بدل نہ جانا صنم
ہوووو لے لیا دل۔۔ ہائے ہاں میرا دل
ہاں دل لے کر مجھ کو نا بہلانا
چرا لیا ہے تم نے جو دل کو
نظر نہیں چرانا صنم
بدل کے میری تم زندگانی
کہیں بدل نہ جانا صنم۔
گیٹار کی دھن اور یاشم کی سریلی آواز سن کر سب حیران ہوگئے۔ وہ واقعی کسی ماہر گلوکار کی طرح میوزک بجا رہا تھا۔ جبکہ یہ تو اس کی دل کی آواز تھی جو راعنہ کو دیکھتے ہوئے ساز بن کر نکل رہی تھی۔
بہار بن کے آوں کبھی تمہاری دنیا میں
گزر نا جائے یہ دن کہیں اسی تمنا میں
تم میرے ہو۔۔۔ اوو تم میرے ہو
آج تم اتنا وعدہ کرتے جانا
چرا لیا ہے تم نے جو دل کو
نظر نہیں چرانا صنم
بدل کے میری تم زندگانی
کہیں بدل نہ جانا صنم۔
راعنہ اس کی نظروں سے بلش کرنے لگی تو سر جھکا لیا تھا۔ اس ادا پر یاشم کی دھڑکن تیز ہوگئی وہ گیٹار سمیت سیٹ سے اٹھ گیا۔
اوو سجاوں گا لٹ کر بھی تیرے بدن کی ڈالی کو
لہو جگر کا دوں گا ہنسی لبوں کی لالی کو
ہے وفا کیا۔۔ اس جہاں کو۔۔
ایک دن دکھلا دوں گا میں دیوانہ
چرا لیا ہے تم نے جو دل کو
نظر نہیں چرانا صنم
بدل کے میری تم زندگانی
کہیں بدل نہ جانا صنم
لے لیا دل۔۔ ہائے ہاں میرا دل
اووو دل لے کر مجھ کو نا بہلانا۔
چرا لیا۔۔۔۔
ہممم ہممم ہممم ہممم۔
وہ سب کے گرد گھومتا ہوا گاتا رہا اور اس کی دھن کے ساتھ کئی کولیگز دائیں سے بائیں ہوتے محظوظ ہونے لگے۔ راعنہ کو اس کی آواز اور گانا اچھا تو لگ رہا تھا لیکن بلواسطہ یاشم جو اسے محسوس کروانا چاہتا تھا وہ محسوس کرتے راعنہ مضطرب ہونے لگی۔
گانا مکمل کر کے جب یاشم واپس اپنی سیٹ پر بیٹھا تو تالیوں کا شور بلند ہوا۔ سب تالیاں بجا کر اسے سراہنے لگے اور یاشم سر کو خم دیتے پذیرائی وصول کرنے لگا۔
پارٹی ختم ہوئی تو سب اپنے گھروں کو جانے لگے۔ یاشم نے راعنہ کو اس کے گھر ڈراپ کرنے کا کہا تو اس نے عاصمہ کے ساتھ جارہی ہوں کہہ کر یاشم کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ اچانک ہی راعنہ کا برتاو یاشم کے ساتھ سرد ہوگیا تھا۔ یاشم کو اس کی بے رخی سمجھ نہ آئی پر راعنہ کی خوشی کے لیے وہ اس کے عاصمہ کے ساتھ جانے پر مان گیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“میم سیٹ ریڈی ہے اور یہ آپ کے آج کا ڈریس۔۔۔۔” ڈیزائنر کے اسسٹینٹ نے ارم کو وہ سلک کی گاون تھمائی جس کے آگے اور پیچھے دونوں گلے کافی ڈیپ تھے۔ ارم کے آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
“یہ چینج کرواو۔۔۔۔ میں یہ نہیں پہن سکتی۔۔۔۔۔ میرے۔۔۔۔ میرے پیٹھ پر کچھ الرجی ہوگئی ہے۔۔۔۔ کوئی ڈھنگ کا ڈریس لے کر آو۔۔۔۔” ارم نے مایوسی سے کہا۔
“پر میم۔۔۔۔ آپ کے لیے یہی ڈریس سلیکٹ کیا تھا۔۔۔۔ اب چینج نہیں ہوسکتی۔۔۔۔” اسسٹینٹ معذرت خواہ ہوا۔
“پر میں بیک لیس نہیں پہن سکتی۔۔۔۔۔ ” ارم نے اسے اپنی مجبوری سمجھانے کی کوشش کی۔
“ٹھیک ہے پھر آپ۔۔۔۔ ڈیزائنر سے خود بات کر لیں۔۔۔۔ نہیں تو آپ کو یہ پراجیکٹ چھوڑنا پڑے گا۔۔۔” اسسٹینٹ نے اسے فیشن شو کے قوانین سمجھائے اور میک اپ روم سے باہر نکل گیا۔
ارم اپنے آنسو اندر اتار کر ڈیزائنر سے بات کرنے چلی گئی اور خوش قسمتی سے اسے پورا پوشیدہ گاون مل بھی گیا تھا۔ شو کے دوران وہ زبردستی مسکرانے کی کوشش کرتی رہی پر چاہ کر بھی چہرے پر چھائی اداسی چھپا نہیں سکی جس کے باعث اسے شو آرگنائزیشن عملہ سے کافی باتیں سننی پڑی تھی۔
نوریز نا پھر اس سے ملنے آیا اور نا بات کی ۔ ارم کے دل سے تو وہ اسی وقت گر چکا تھا اس لیے اس نے بھی رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ دونوں کے راستے الگ ہوچکے تھے۔ فرق یہ تھا کہ نوریز اسے بھلا چکا تھا پر ارم کے لیے وہ ایک بری یاد ضرور بن گیا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
اگلے کئی دنوں تک راعنہ کا برتاو کچھا کچھا سا رہا۔ یاشم جب اس سے بات کرنے جاتا وہ خود کو کام میں الجھا دیتی یا نظر انداز کر کے چلی جاتی۔
راعنہ کے اس برتاو سے یاشم حیران رہ گیا تھا۔ اسی سلسلے میں بات کرنے ایک دن اس نے راعنہ کا راستہ روک لیا۔ اس کی گہری آنکھوں میں دیکھ کر یاشم اپنے آپ میں نہ رہا۔ سیاہ آنکھوں پر لائنر لگائے گھنی پلکیں گلابی گال اور عنابی ہونٹ لیئے راعنہ پنک اور گولڈن کلر کے قمیض شلوار میں ملبوس پنک کلر کا ڈوپٹہ سر پر اوڑھے معصومیت سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“کیا مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے۔۔۔۔ میری کوئی بات بری لگی ہے۔۔۔۔ آپ یوں مجھے اگنور کیوں کر رہی ہیں۔۔۔۔” یاشم نے حد عقل سنجیدگی سے پوچھا۔
“ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔ میں بس اپنے کام پر فوکس کر رہی ہوں۔۔۔۔ ” راعنہ نے بہانہ بنا کر معاملہ ٹالنا چاہا پر یہ اس کی غلط فہمی تھی۔
“پر مجھے آپ کا ایسا بہیوئیر بلکل نہیں پسند۔۔۔۔ آپ جب مجھے اگنور کرتی ہیں مجھے بہت برا لگتا ہے۔۔۔۔” یاشم نے بےبسی سے جواب دیا۔
“یاشم میں یہاں ایک ایمپلائی ہوں۔۔۔۔ اور آپ یہاں کے باس ہے۔۔۔۔ میرا خیال ہے ہمارے مابین بس اتنا ہی تعلق رہیں تو بہتر ہے۔۔۔۔” راعنہ نے دوسرے طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی۔
یاشم جواب دیتا اسی اثنا آفان صاحب کی سیکریٹری کیبن میں دستک دے کر در آئی۔
“سر آپ کو باس بلا رہیں ہیں۔۔۔۔ ” اس نے آفان صاحب کا حکم یاشم کو سنایا۔
“اوکے آتا ہوں۔۔۔۔” یاشم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سے رخ راعنہ کے جانب کر لیا۔
“پلیز راعنہ اگر کوئی مسئلہ ہے۔۔۔ یا کسی نے آپ سے کچھ کہا ہے تو مجھے بتاو۔۔۔ پر اس طرح آپ کی بے رخی سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔۔۔۔” یاشم بےبسی کی اتنہا پر تھا۔
راعنہ نے نظریں گھما کر دروازے کے طرف دیکھا جہاں آفان صاحب کی سیکریٹری اب تک کھڑی ان دونوں کا مکالمہ دیکھ رہی تھی۔ یاشم نے اس کی نظروں کے سمت میں دیکھا اور پورا گھوم گیا۔
“واٹ۔۔۔۔” اس کی آواز میں سختی در آئی اور ماتھے پر شکن نمودار ہوئے۔
“سر وہ۔۔۔۔ شاہ صاحب۔۔۔۔” سیکریٹری کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ یاشم اس پر چلا اٹھا۔
“بولا نا۔۔۔ آجاو گا۔۔۔۔۔ ایک بات سمجھ نہیں آرہی۔۔۔۔” یاشم کا غضب سے سرخ چہرہ ہونے لگا۔
سیکریٹری سہم کر دروازے کے پار نکل گئی۔ راعنہ کے تاثرات بھی کچھ کم وحشت زدہ نہ تھے۔ یاشم اس کے جانب مڑا تو اپنے آپ راعنہ ایک قدم پیچھے ہوگئی۔ وہ خود کو کمپوز کرتے ہوئے وہاں سے جانے لگی پر یاشم نے اس کے آگے اپنا بازو پھیلا دیا۔
“جب تک میرے سوال کا صحیح جواب نہیں دیں دیتی آپ یہاں سے نہیں جا سکتی۔۔۔۔” غصے سے ڈپٹ کر وہ ایک قدم اس کے قریب گیا۔
راعنہ اس کے تند آواز اور تنے تاثرات سے پہلے ہی خوف زدہ تھی، اس کے قریب آنے پر مزید چھنپ سی گئی۔
“یاشم۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ آپ مجھ سے دور رہیں۔۔۔۔” راعنہ کے ہاتھوں پر پسینے آنے لگے۔
یاشم وہیں رک گیا۔ اس وقت راعنہ کی حالت دیکھ کر اسے اسلام آباد والا واقعہ یاد آیا۔ اپنا غصہ پی کر وہ نارمل ہوا تھا کہ راعنہ کا موبائل بجنے لگا۔ اس نے چونک کر پرس میں سے موبائل نکالا۔
“ہیلو۔۔۔۔ جی میں راعنہ بول رہی ہوں۔۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔۔ کہاں لے کر گئے ہیں اسے۔۔۔۔۔ او اوکے میں ابھی آتی ہوں۔۔۔۔” کال پر موجود خاتون کی بات سن کر راعنہ کے اوسان خطا ہوگئے۔
“راعنہ کیا ہوا۔۔۔۔۔ کس کی کال تھی۔۔۔۔ سب ٹھیک تو ہے۔۔۔۔” یاشم اسے پریشان دیکھ کر مزید پریشان ہوگیا۔
“وہ۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔ زینی۔۔۔۔۔ وہ جھولے سے گر گئی ہے۔۔۔۔۔ مجھے جانا ہوگا۔۔۔” راعنہ نے کانپتے ہوئے جواب دیا اور باہر کے سمت بھاگی۔
یاشم اس کے پیچھے نکل گیا۔ راعنہ گھبراہٹ کی وجہ سے لڑکھڑاتے ہوئے روڈ پر جانے لگی تھی کہ دو مضبوط ہاتھوں نے اسے تھام کر ایک سائیڈ پر کر دیا۔
“کیا کر رہی ہو راعنہ۔۔۔۔ دیکھ نہیں رہی کتنا ٹرافیک ہیں۔۔۔۔ آپ کو جہاں جانا ہے۔۔۔۔ چلو میں لے چلتا ہوں۔۔۔۔” یاشم نے کندھوں سے تھامے ہوئے اسے جھنجوڑ دیا تھا۔ اس کی دھڑکنیں تیز ہوگئی تھی راعنہ کو پریشان دیکھ کر مانو اس کی اپنی جان پر بن آئی ہو۔
یاشم اس کا ہاتھ تھامے آفس بلڈنگ کی پارکنگ میں لے آیا اور اپنی کار کا فرنٹ ڈور کھول کر پہلے راعنہ کو بیٹھایا اور پھر خود ڈرائیونگ سیٹ پر آگیا۔
راعنہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اڑ کر ایلزینا کے پاس پہنچ جائے۔ راستے میں اس نے شعیب صاحب کو کال کر کے اسکول سے موصول ہوئی کال کی خبر دی تو وہ بھی پریشان ہوگئے اور مطلوبہ ہسپتال کے لیے نکل گئے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
ہسپتال کے روش پر تیز تیز چلتے راعنہ اور یاشم ایمرجنسی روم میں پہنچے تو بابا اور اریبہ پہلے سے موجود تھے۔ گھر قریب ہونے کی وجہ سے وہ دونوں پہلے پہنچ گئے تھے۔
“بابا زینی کیسی ہے۔۔۔۔” راعنہ سیدھے شعیب صاحب کے گریبان سے لپٹ گئی۔
“راعنہ حوصلہ کرو۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوگا اسے۔۔۔۔۔” شعیب صاحب نے اسے مضبوطی سے تھام کر دلاسہ دیا۔ اریبہ کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر راعنہ اس سے بھی لپٹ گئی تھی۔
“زینی ٹھیک ہوجائے گی۔۔۔۔” راعنہ کا انداز سوالیہ تھا پر ان تینوں سے کچھ فاصلے پر کھڑے یاشم کو لگا وہ اریبہ کو دلاسہ دے رہی ہے۔
“ڈاکٹر نے کہا ہلکی سی چھوٹ لگی ہے۔۔۔۔۔ ایلزینا ٹھیک ہوجائے گی۔۔۔۔” اریبہ نے اس کے آنسو صاف کر کے سمجھایا۔
چند منٹ بعد نرس باہر آئی اور ضروری ادویات کی پرچی شعیب صاحب کو تھمائی۔
“بہو یہ دوائی لے آنا۔۔۔۔” شعیب صاحب چونکہ راعنہ کو سنبھال رہیں تھے، انہوں نے دوائی لانے کے لیے اریبہ کو بھیجنا چاہا۔
یاشم ان کی باتیں سنتا شعیب صاحب کی اس حرکت پر سوچ میں پڑ گیا۔
“ان کی بیٹی زخمی ہے۔۔۔۔ اب یہ کہاں اس پریشانی کی حالت میں میڈکل اسٹور میں گھومتی رہیں گی۔۔۔۔ میں لا کر دیتا ہوں۔۔۔۔” اس نے از خود ایلزینا کو اریبہ کی بیٹی تصور کر لیا۔
اریبہ سسر کے ہاتھ سے پرچی لے کر مڑی تو یاشم اس کے سامنے آگیا۔
“لائے بھابھی میں لیں آتا ہوں۔۔۔۔۔” اس نے احتراماً اریبہ کو مخاطب کیا۔ اریبہ نے مشکور ہوتے ہوئے سر کو خم دیا اور پرچی اسے تھما دی۔
راعنہ کو صرف اپنی بیٹی کی فکر تھی اسے یاشم کی موجودگی یاد ہی نہیں رہی۔ ڈاکٹر وارڈ سے باہر آئے تو راعنہ دل میں مناجات کرتے اندر داخل ہوئی۔
ایلزینا کے اسکول یونیفارم پر جگہ جگہ خون کے دھبے لگے ہوئے تھے رنگ بالکل زرد پڑ رہا تھا اور سر سفید پٹی میں جکڑا ہوا تھا۔
“آااہہہہ اسسسس۔۔۔۔۔ مما۔۔۔۔۔ اہہہ۔۔۔۔” ایلزینا آنکھیں بند کئے ہوئے درد سے ہلکا ہلکا کراہ رہی تھی۔ راعنہ اس کے سرہانے بیٹھی اور اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔
“زینی۔۔۔۔ بےبی۔۔۔۔ مما آگئی ہے۔۔۔۔ دیکھو۔۔۔۔ مما آپ کے پاس ہی ہے۔۔۔۔۔ ڈرتے نہیں ہے۔۔۔۔ آپ ابھی ٹھیک ہوجاو گی۔۔۔” راعنہ اسے پیار کرتی سمجھانے لگی۔
ایلزینا نے بمشکل آنکھیں کھولی تو راعنہ کا چہرا واضح ہوا۔ اپنی مما کو دیکھ کر اس بچی کی مانو سانس میں سانس آگئی ہو۔ وہ پوری طرح اپنی مما سے لپٹ گئی۔
“سوری مما۔۔۔۔ میں نے آپ کو پریشان کر دیا نا۔۔۔۔” زینی نے مدھم آواز میں کہا۔
“اٹس اوکے۔۔۔۔ پر کھیلتے ہوئے دھیان رکھنا چاہیئے نا۔۔۔۔ شکر ہے۔۔۔۔ زیادہ نہیں لگی۔۔۔۔” راعنہ نے تلقین کرتے ہوئے اس کے ہاتھوں پر بوسہ دیا۔
“آئیندہ نہیں ہوگا۔۔۔۔” ایلزینا نے خجالتی انداز میں سر جھکا دیا۔
شعیب صاحب نے بیڈ کے دوسرے سائیڈ سے آکر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اریبہ اس سامنے بیڈ پر بیٹھ کر عیادت کرنے لگی۔
“زینی۔۔۔۔ بہت درد ہورہا ہے کیا۔۔۔۔ ہممم۔۔۔” اریبہ نے بچوں کے جیسے آبرو اٹھائے پوچھا تھا۔
“تھوڑا تھوڑا۔۔۔۔” ایلزینا نے دو انگلیوں کے مابین چھوٹا سا فاصلہ رکھ کر پیمائش بتائی۔
“ہممم چلو کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔ میں آپ کے فیورٹ کھانے کھلاوں گی نا۔۔۔۔ تو یہ تھوڑا تھوڑا درد بھی غائب ہوجائے گا۔۔۔۔” اریبہ نے زینی کا دل بہلانے کی کوشش کی۔
راعنہ نے ایلزینا کو اپنے ہوش و حواس میں دیکھ کر شکر ادا کیا۔ اتنی دیر میں یاشم میڈیسن بھی لے آیا تھا۔ راعنہ مشکور ہوتے ہوئے اس کے جانب متوجہ ہوئی۔
“سوری یاشم۔۔۔۔ میں تو آپ کو بھول ہی گئی تھی۔۔۔۔ ویسے تھینکیو۔۔۔۔ ” راعنہ نے معصومیت سے کہا۔
“تھینکیو کی کیا بات ہے راعنہ۔۔۔۔ آپ کی فیملی میری اپنی فیملی ہے۔۔۔۔ اور اپنوں کی مدد کرنے پر شکریہ نہیں کرتے۔۔۔۔ زینی کیسی ہے۔۔۔۔” یاشم نے خوش مزاجی سے جواب دیا۔
“اب ٹھیک ہے۔۔۔۔ تھوڑی دیر میں ڈسچارج ہوجائے گی۔۔۔۔” راعنہ کی نظریں ایلزینا پر مرکوز تھی جو مزے سے اریبہ کو اپنے من پسند کھانے اور سویٹ ڈش گنوا رہی تھی۔
یاشم بھی اسی سمت دیکھ کر مسکرانے لگا۔ اسے اریبہ اور ایلزینا کے درمیان ماں بیٹی کا ایسا پیار دیکھ کر اچھا لگ رہا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ کو وہی چھوڑ کر یاشم واپس آفس چلا گیا اور اپنے کام نپٹا شام کے وقت پھر سے ہسپتال آگیا۔ ایلزینا تب تک کافی بہتر لگ رہی تھی۔ شعیب صاحب اور راعنہ ہسپتال کے فارمیلٹیز پوری کرنے گئے ہوئے تھے۔ یاشم ایلزینا کے پاس بیٹھا اور پھر اپنے جیب سے چاکلیٹس نکال کر اسے دی۔
“تھینکیو انکل۔۔۔۔” ایلزینا نے چاکلیٹس لیتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔
“ہمم انکل نہیں فرینڈ۔۔۔۔ میری فرینڈ بنو گی۔۔۔۔” یاشم نے اپنا دائیاں ہاتھ آگے کیا۔
ایلزینا نے پہلے اس کے ہاتھ کو دیکھا پھر سر اٹھا کر لمبے چوڑے ہینڈسم جوان مرد کو پھر اس کے عقب میں نظر آتی مامی کو۔ اریبہ نے سر اثابت میں ہلاتے رضامندی ظاہر کی تو اس نے اپنا ننھا ہاتھ یاشم کے ہاتھ میں دے دیا۔
“اوکے۔۔۔ فرینڈ۔۔۔۔” یاشم کا مضبوط ہاتھ تھامے ایلزینا خوشی سے چہک اٹھی تھی۔
یاشم اسی کی معصومیت پر مسکرانے لگا۔ ایلزینا چاکلیٹ کھانے میں مصروف ہوئی تو یاشم اریبہ کے جانب مڑا۔
“بہت پیاری ہے آپ کی بیٹی۔۔۔۔” اس نے خوشگوار مسکان سجائے زینی کو سراہا۔
اریبہ اس کے تبصرے پر حیران رہ گئی۔ وہ یاشم کی غلط فہمی دور کرنے لگی تھی کہ وارڈ کا دروازہ کھلا اور راعنہ اندر داخل ہوتے نظر آئی۔
“یاشم آپ کب آئے۔۔۔۔ ” راعنہ اسے دوبارہ وہاں دیکھ کر خوش بھی ہوئی تھی اور حیران بھی۔
“بس ابھی تھوڑی دیر پہلے اور زینی سے دوستی بھی ہوگئی ہے۔۔۔۔” یاشم نے پیار سے ایلزینا کا گال کھینچا۔
“اوو ریلی۔۔۔۔” راعنہ نے سینے پر ہاتھ باندھے آبرو اٹھائے۔
“آپ کو میری قابلیت پر اب بھی شک ہے۔۔۔۔” یاشم نے اپنا کالر اچکایا۔ راعنہ جواب میں کھلکھلا ہر ہنس پڑی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
آیت کمرے کی بالکونی میں کھڑی بادل سے ڈھکے آسمان کو دیکھ رہی تھی۔ ہلکی ہواوں کے ساتھ ساتھ بوندا باندی نے موسم کو خوشگوار بنا دیا تھا۔
“پانچ سال جیل میں رہ کر بھی انہیں احساس نہیں ہوا۔۔۔۔ آج بھی وہی سب دہرا رہیں ہیں۔۔۔۔” نوریز اور ارم کے بریک اپ اور تشدد کے متعلق خبریں سن کر وہ مایوس ہوگئی تھی۔
“پتا نہیں پاپا کتنے ڈسٹرب ہونگے۔۔۔۔ اور مما کو کتنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہوگا۔۔۔۔” آیت کو اپنے والدین کی فکر ہونے لگی تھی۔
صدیف کمرے میں داخل ہوا تو آیت کو بالکونی میں گم صم کھڑے پا کر وہی چلا آیا اور پیچھے سے ہی آیت کے گرد بازو حمائل کر کے اس کے کندھے پر اپنی تھیوڑی ٹکائی۔
آیت اپنے خیالوں میں گم تھی۔ صدیف کے اچانک گھیر لینے سے چونک گئی۔ اس کے لمس کو محسوس کرتے اس نے صدیف کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر خود کو اس کی بازووں میں ڈھیلا چھوڑ دیا۔
“کیا سوچ رہی ہو۔۔۔۔” صدیف نے مدھم آواز میں پوچھا تھا۔
“یہی کہ میرا شوہر۔۔۔۔ اپنی فیملی کے لیے کتنی محنت کر رہا ہے۔۔۔” آیت بات بدل گئی پر صدیف جانتا تھا حقیقت کچھ اور تھی۔ اس نے اپنا سر اٹھا کر آیت کو کندھوں سے تھامے اس کا رخ اپنے جانب کیا۔
ہوا سے اڑتے چہرے پر آتے بال پیچھے کرتے صدیف نے آیت کی آنکھوں میں دیکھا۔
“تمہیں تو ٹھیک سے جھوٹ بولنا بھی نہیں آتا۔۔۔۔” صدیف کے لہجے میں محبت محسوس کر کے آیت نے شرماتے ہوئے نظریں جھکا لی۔
صدیف کی مسکراہٹ بڑی ہوگئی اور اسے بانہوں میں بھر لیا۔ اس بازووں کے حصار میں آیت کو اپنی قسمت پر رشک آیا تھا۔ چاہے ان کے مابین کتنے ہی جھگڑے ہوا کرتے پر وہ یوں ہی محبت سے ایک دوسرے کے درد تکلیف اور پریشانیوں کو اپنے آپ میں سمیٹ لیا کرتے تھے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔۔