Nadamat By Palwasha Safi Readelle50274 (Nadamat) Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
(Nadamat) Episode 24
بابا کی ہدایت مان کر یاشم فریش ہونے چلا گیا۔ مما نے اس کے لیے کھانے کا بندوبست کروایا جس پر وہ بچوں کی طرح ٹوٹ پڑا۔ راعنہ اس کے مقابل نشست سنبھالے تھیوڑی کے نیچھے ہتھیلی رکھے کہنی میز پر ٹکائے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو جنون کی انتہا تک اس سے محبت کرتا تھا۔ جس نے اسے کھو دینے کے خوف سے جینے کی آس ہی چھوڑ دی تھی۔
دونوں جبڑوں سے چباتے ہوئے اس نے ایک نظر سامنے دیکھا اور دیکھتا ہی چلا گیا۔ ماحول خیرہ ہونے لگا بس نظروں کے رو بہ رو صرف وہ چہرا شفاف تھا۔ یاشم اسے دیکھتے چند ماہ قبل اسلام آباد کے اس چائنیز رسٹورانٹ میں جا پہنچا تھا۔ پس منظر میں ہلکی موسیقی سنائی دینے لگی تھی جب ایک نرم لمس محسوس کرتے وہ حقیقت میں لوٹ آیا۔
“کیا ہوا۔۔۔۔ رک کیوں گئے۔۔۔۔ کچھ اور کھانا ہے۔۔۔۔” مما نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھ کر اپنے جانب متوجہ کرتے پوچھا۔
یاشم پلکیں جھپکاتے کبھی سامنے بیٹھی راعنہ کو دیکھتا کبھی ساتھ بیٹھی مما کو اور پھر سر جھٹک کر دوبارہ کھانے پر توجہ مرکوز کر دی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
آفان صاحب فریحہ بیگم اور آفروز ڈرائیور کے ساتھ روانہ ہوئے اور راعنہ، یاشم کے ساتھ۔
ڈرائیو کرتے ہوئے یاشم نے رخ موڑ کر راعنہ کو دیکھا تو اس کے چہرے پر سکون تھا۔ اطمینان تھا۔ ایک الگ ہی چمک تھی جو یاشم نے اس سے پہلے نہیں دیکھی تھی۔
“میں جانتا ہوں۔۔۔۔ آپ بابا کے فورس کرنے پر آئی ہیں۔۔۔۔” یاشم سامنے دیکھتے ہوئے کنکارا۔
“نہیں۔۔۔۔ میں اپنی مرضی سے ان کے ساتھ آئی ہوں۔۔۔۔” راعنہ نے فورا جواب دیا۔
اس کے جواب پر یاشم ہیزل گرین آنکھیں چھوٹی کر کے بغور اسے دیکھنے لگا۔ راعنہ اس کی نظریں خود پر محسوس کرتے کھسک کر قریب ہوئی اور بلش کرتے یاشم کے کندھے پر سر رکھا۔
“آپ کو لگتا ہے محبت صرف آپ کو ہے۔۔۔۔۔ ” مخمور انداز میں پوچھے گئے اس سوال پر یاشم نے اسٹیرنگ پر گرفت مضبوط کر دی۔ نظریں روڈ پر جما لی مگر دھڑکنوں کی رفتار معمول سے بڑھ گئی تھی۔
“جب کوئی آپ کو اتنی شدت سے چاہتا ہو۔۔۔۔ آپ کی ہر کمی۔۔۔۔ ہر خامی جاننے کے باوجود بھی اپنانا چاہتا ہو تو کوئی خود کو اس سے محبت کرنے سے کیسے روک سکتا ہے۔۔۔۔” اظہار کرتے ہوئے راعنہ نے گھنی پلکیں اٹھا کر یاشم کا بائیاں رخ دیکھا۔
یاشم کے لبوں پر شفیق سی تبسم بکھر گئی۔
“میں خود کو آپ کے جانب مائل ہونے سے روک نہیں سکی۔۔۔ دل کے ہاتھوں مجبور ہوگئی تھی۔۔۔۔ پر انکار بھی ضرور تھا۔۔۔۔ میں کنفیوز تھی۔۔۔” راعنہ نے سیدھے ہوتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔ اس نے آفان صاحب کی پہلی ملاقات راز رہنے دی۔
“اور اب۔۔۔۔” اس کے خاموش ہونے کے بعد یاشم بولا۔
“اب مطمئن ہوں۔۔۔۔ اپنے فیصلے پر خوش ہوں۔۔۔” راعنہ نے اس کی چمکتی آنکھوں میں دیکھا۔
“مکرو گی تو نہیں۔۔۔۔ ” یاشم جان بوجھ کر تنگ کرنے لگا۔
“کبھی نہیں۔۔۔۔” محظوظ ہوتے سر نفی میں ہلایا۔
“وعدہ۔۔۔۔” ایک آبرو اٹھا کر پوچھا۔
“پکا وعدہ۔۔۔۔” مسکرا کر تسکین دلائی گئی۔
“تو چلو۔۔۔۔ تاریخ طے کر لیتے ہیں۔۔۔۔” آنکھ کا کونا دباتے شریر مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
” ہہہہہہ۔۔۔۔۔” راعنہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
محبت تو وہ واحد جذبہ ہے جو عزت دینے سے بڑھتا ہے۔ یاشم اور راعنہ کے رشتے میں عزت کو پہلے مقام پر رکھا گیا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“مما آپ کہاں چلی گئی تھی۔۔۔۔” ایلزینا، راعنہ کو دیکھتے اس سے لپٹ گئی۔
ایلزینا نے اس کے پیچھے یاشم کو گھر میں داخل ہوتے دیکھا تو اس کے گرد بازو بازو حمائل کر کے چہک اٹھی۔
“ہائے فرینڈ۔۔۔۔” اس نے جوش سے کہا تھا۔
“کیسی ہو زینی۔۔۔۔” یاشم نے اس کے کندھوں کو تھپتھپا کر حال احوال دریافت کیا۔
“یہ کون ہیں۔۔۔۔” یاشم کے بعد اس کی نظر آفان صاحب اور فریحہ بیگم پر پڑی۔
“یہ میرے بابا ہیں۔۔۔ اور یہ مما۔۔۔۔ اور یہ چھوٹی بہن۔۔۔۔” یاشم نے ہاتھ کے اشارے سے باری باری سب کا تعارف بتایا۔
شعیب صاحب اور عاطرہ بیگم بھی ان کا استقبال کرنے پورچ میں آگئے تھے۔
آفان صاحب، ایلزینا کے سر پر ہاتھ پھیرتے آگے بڑھ گئے۔ ان کے پیچھے فریحہ بیگم ایلزینا کے گال پر پیار کرتے اور مسکراہٹ سے نورازتے اندر چلی گئی۔ جبکہ آفروز نے ہاتھ بڑھا کر مصافحہ کرتے روز سے ایلزینا کے ہاتھ کو جنبش دیا تھا۔
دونوں فیملیز ڈرائنگ روم میں تشریف فرما ہوگئیں۔ ایلزینا محظوظ ہوتے سب کو دیکھ کر لاؤنج میں بھاگ آئی۔
“مصور۔۔۔۔ شور مت کرنا۔۔۔۔۔ یاشم کے بابا آئیں ہیں۔۔۔۔ بہت بڑی داڑھی مونچھ ہیں۔۔۔۔ نانا سے بھی بڑے۔۔۔۔” مصور کو کھیلونا پکڑاتے ہوئے اس نے رازداری سے سرگوشی کی۔
ایک سالہ مصور اپنی توتلی زبان میں بڑبڑایا۔
“ہاں۔۔۔۔ کوئی سیریس معاملہ لگتا ہے۔۔۔۔ نانا نانو بھی سیریس بیٹھے ہیں۔۔۔۔” زینی نے اس انداز میں جواب دیا مانو مصور کی بات سمجھ گئی ہو۔
مصور ننھے قدم اٹھاتا ڈرائنگ روم میں جانے لگا تو ایلزینا نے روک لیا۔
“نہییییں۔۔۔۔ مت جاو۔۔۔۔ مما کہتی ہے بڑوں کی مجلس میں بچوں کو نہیں جانا چاہیئے۔۔۔۔۔” اس کا ہاتھ پکڑے اسے دوسرے جانب لے جانے لگی۔
وہیں دوسری طرف ڈرائنگ روم میں چائے کے لوازمات نوش فرمانے کے بعد اصل موضوع پر تبادلہ خیال ہوا اور باہمی مشورے سے یاشم کے اسرار پر اسی ماہ کے اندر اندر نکاح اور رخصتی کا فیصلہ کیا گیا۔
“اتنی جلدی ہے شادی کرنے کی۔۔۔۔” راعنہ، یاشم کے بڑوں کے سامنے اسرار کرنے پر ناراض ہوئی۔
لان میں چہل قدمی کرتے ہوئے جب اس نے اپنی خفگی کا اظہار کیا تو یاشم حد عقل سنجیدگی سے اس کے رو بہ رو ہوا۔
“مجھے جلدی اپنے لیے نہیں ہے راعنہ۔۔۔۔ میں تا عمر آپ کا انتظار کر سکتا ہوں۔۔۔۔ جلدی مجھے آپ کے لیے ہیں۔۔۔۔ اس سے پہلے نوریز صدیقی پھر سے کوئی اسٹیپ اٹھائیں۔۔۔۔ میں آپ کو اور ایلزینا کو اپنے تحفظ میں لانا چاہتا ہوں۔۔۔۔” یاشم نے سنجیدگی سے مستقبل کا خدشہ ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ہونے کا یقین بھی دلایا۔
یاشم کا جواب سن کر راعنہ کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ چہرے پر سیاہ سایہ لہرایا تھا۔
“آپ پریشان مت ہوں۔۔۔۔ نوریز اب آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔۔۔۔” اس نے راعنہ کا اضطراب کم کرنے کی کوشش کی۔
راعنہ نے متبسم ہوتے سر کو خم دیا مگر دل میں کئی وسوسے جنم لے چکے تھے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نوریز ڈفینڈنگ وکیل رضوی صاحب کے سامنے بیٹھے تھے۔ ان سے ایلزینا کی کسٹڈی واپس لینے کے بابت بات چیت ہورہی تھی۔
“نوریز تمہیں اسے واپس لانا ہے تو پیار سے بہیو کرنا ہوگا۔۔۔ اس کے دل میں اپنا اچھا امپریشن جمانا ہوگا۔۔۔۔ اس مرتبہ فیصلہ پورا ایلزینا کے مرضی پر انحصار کرتا ہے۔۔۔ ” وکیل صاحب سامنے پڑے کاغذات میں سے تفصیلات بیان کرنے لگے۔
“کوشش کر رہا ہوں رضوی۔۔۔۔ پر راعنہ نے اسے میرے بارے میں کبھی بتایا ہی نہیں۔۔۔۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتی کہ میں اس کا باپ ہوں۔۔۔” نوریز نے افسردگی سے ہنکھارا بھرتے چئیر کی پشت سے ٹیک لگائی۔
“یہ تو اچھی بات ہے۔۔۔۔” رضوی صاحب شریر مسکراہٹ کے ساتھ آگے ہوئے۔
نوریز نے آبرو سکھیڑ کر انہیں دیکھا تھا۔
“دیکھو۔۔۔۔ اس بات کا مثبت پہلو دیکھو۔۔۔۔ مس راعنہ نے ایلزینا کو انجان رکھا ہے۔۔۔۔ تو تم اب اس کے پاس جاو اور نئے سرے سے اپنا تعارف کرواو۔۔۔۔ اسے اپنی مٹھی میں لو۔۔۔۔” رضوی صاحب نے لبوں پر معنی خیز مسکان سجائے ہاتھ کی مٹھی بنا کر دکھائی۔
نوریز کی آنکھوں میں چمک آگئی وہ آگے کا لائحہ عمل سوچتے ہوئے رضوی صاحب سے مصافحہ کر کے چلا گیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
اسکول کی چھٹی کے وقت ایلزینا بھاگتے ہوئے باہر آئی تو نوریز کو کار کے بانٹ سے ٹیک لگائے اپنا منتظر پایا۔
“ہائے زینی۔۔۔۔ پھر سے گھومنے چلیں۔۔۔” اس نے جھک کر ایلزینا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے لالچ دینا چاہا۔
“میں آپ کے ساتھ نہیں جاوں گی۔۔۔۔” زینی سہم کر قدم قدم پیچھے ہونے لگی۔
“زینی۔۔۔۔ میں نے آپ سے پرامس کیا تھا کہ اگلی دفعہ آپ کے پاپا سے ملواوں گا۔۔۔۔ تو پاپا سے نہیں ملنا۔۔۔۔” دوسرا طریقہ آزمایا گیا۔
“مجھے پتا ہے۔۔۔۔ آپ ہی میرے پاپا ہو۔۔۔۔ مجھے سب پتا چل گیا ہے۔۔۔۔۔ آپ بالکل اچھے نہیں ہو۔۔۔۔۔” ایلزینا کی شکایتی آواز پر نوریز شاک ہوگیا۔
اپنا اضطراب قابو کرنے اس نے مٹھیاں سختی سے بھینج لی۔
“بےبی وہ پرانی باتیں ہیں۔۔۔۔ میں اب اچھا بن گیا ہوں۔۔۔۔ ” نوریز نے قدم اٹھا کر ایلزینا کو گود میں اٹھانا چاہا پر وہ تیزی سے پیچھے ہوگئی۔
اسی اثناء حمدان کی کار رکی تو ایلزینا سکون کا سانس لیتی اس کے جانب بھاگی۔
“کیا کر رہے ہو یہاں۔۔۔” حمدان نے ایلزینا کو اپنے حصار میں لیتے نوریز سے سوال کیا۔
“اپنی بیٹی سے ملنے آیا ہوں۔۔۔۔” نوریز نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا۔
“ہہہہہ۔۔۔۔ بیٹی۔۔۔ وہ بیٹی جسے تم نے اپنانے سے بھی انکار کر دیا تھا۔۔۔۔۔ جس کے پیدائش پر سوال اٹھایا تھا۔۔۔۔۔ وہ بیٹی۔۔۔۔ اب اپنی بیٹی ہوگئی۔۔۔۔” حمدان استحزیہ ہنسا۔
“مائنڈ یور لینگویج حمدان۔۔۔۔” نوریز طیش میں آکر اس پر جھپٹ پڑا۔
“یو مائنڈ یور بزنس نوریز۔۔۔۔ “جواب میں حمدان نے بھی اس کے سوٹ کا کالر دبوچ لیا۔
دونوں دست و گریباں ایک دوسرے کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہیں تھے۔
“ماموں۔۔۔ چلو۔۔۔۔ پلیز ماموں۔۔۔۔” ایلزینا رو پڑی۔ حمدان کے پیٹ پر زور دیتے وہ اسے نوریز سے دور کرنے لگی پر ننھی ایلزینا کے زور سے لمبے چوڑے مضبوط حمدان میں حرکت تک نا ہوئی۔
آس پاس اپنے بچوں کو لینے آئیں پیرنٹس کا رش لگ گیا۔ اسکول کے سیکیورٹی عملے نے گیٹ پر بھیڑ دیکھی تو فورا حمدان اور نوریز پر لپکے اور ان دونوں کو آزاد کروایا۔
گریبان آزاد ہوتے ایلزینا پھر سے حمدان کا ہاتھ پکڑ کر اپنی پوری طاقت سے کھینچنے لگی۔
نوریز کے آگے اسکول اتنظامایہ نے حلقہ بنا لیا تھا۔ حمدان تنے ہوئے تاثرات بنائے اسے گھورتا کار کے جانب مڑ گیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
شاہ پیلس میں خوشیوں کا سماں تھا۔ اکلوتے بھائی کے نکاح میں شرکت کرنے زونائشہ اور باقی دونوں بہنیں بھی آگئیں تھیں۔ آفان صاحب اور یاشم آفس سے لوٹے تو ساری خواتین اپنی اپنی شاپنگ پر تبصرہ کرنے میں مشغول ملی۔
یاشم ان کے قریب صوفے پر بیٹھ گیا اور بغور ان کی تیاریاں دیکھنے لگا۔
“تقریبا سارے کام ہوگئے ہیں۔۔۔۔ اب بس تقریب کے انتظامات دیکھنے ہیں۔۔۔۔” زونائشہ نے ہاتھ اٹھا کر ایک نظر سامنے لگے ڈھیر پر ڈالی۔
“ایک کام ابھی رہتا ہے۔۔۔۔” یاشم گہری سوچ میں بڑبڑایا اور تیزی سے اٹھ گیا۔
دوسری جانب صدیف آفس میں کام مکمل کر کے نکلنے لگا تھا کہ سیکرٹری کی مذمتی صدا سنی۔ ساتھ ہی کیبن کا دروازہ کھلا اور برانڈڈ سوٹ بوٹ میں تیار خوب رو وجیہہ جوان اندر داخل ہوا جسے سیکرٹری روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“سر میں نے ان سے کہا بھی آفس آف ہوچکا ہے کل آئیں پر یہ مانے نہیں۔۔۔۔” سیکرٹری نے وضاحت دینی چاہی پر صدیف نے سر کے خم سے سے جانے کا اشارہ کیا۔
“تھینکیو۔۔۔۔ آپ مجھے نہیں جانتے۔۔۔۔ پر میں آپ کو جانتا ہوں۔۔۔۔” یاشم خوش اخلاقی سے ان کے گلے لگا۔
صدیف نے اچھنبے سے دیکھتے اسے خود سے الگ کیا۔
“میرا نام یاشم آفان شاہ ہے۔۔۔۔ شاہ آٹو موبائل انڈسٹریل کا ایم ڈی۔۔۔۔” ہاتھ تھامے مصافحہ کرتے ہوئے اپنا تعارف بتایا۔
صدیف کے تاثرات اب بھی تنے ہوئے تھے۔ اس نے کچھ کہنے لب کھولے پر یاشم نے مزید واضح کیا تو وہ خاموش ہوگیا۔
“نئے مناسبت سے بتاوں تو۔۔۔۔ راعنہ کا ہونے والا شوہر۔۔۔۔” یاشم گھوم کر اس چھوٹے مگر نفیس آفس کا جائزہ لینے لگا۔
صدیف کا منہ کھل گیا تھا۔ وہ بنا پلک جھپکائے سر تا پیر اس سراپے کو دیکھنے لگا۔ لبوں سے نکلنے والے الفاظ حلق میں ہی دم توڑ گئے تھے۔
“اس ماہ کے ستائیس کو میرا اور راعنہ کا نکاح ہے۔۔۔۔ پر اس گھر کی خوشیاں آپ کے بغیر ادھوری ہے صدیف بھئیاں۔۔۔۔” یاشم نے صدیف کے بازو پر ہاتھ رکھ کر اپنائیت کا احساس دلایا۔
“پر اس گھر کی خوشیاں برباد کرنے والا ہی میں ہوں۔۔۔۔ میری وہاں کسی کو ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔” صدیف کے لفظوں سے زمانے بھر کا درد چھلکنے لگا۔
“سب کو ضرورت ہے۔۔۔۔ بابا کو۔۔۔۔ ممی کو۔۔۔۔ حمدان کو۔۔۔” باری باری سب کا نام لیتے اس نے صدیف کی اداس آنکھوں میں دیکھا۔
“اور سب سے زیادہ۔۔۔۔ آپ کی گڑیا کو۔۔۔۔” یاشم نے راعنہ کا وہ لقب یاد کروایا جس سے صرف صدیف پکارا کرتا تھا۔
صدیف نے آنسو ضبط کرتے اپنی سیٹ پر بیٹھ کر سر ہاتھوں میں گرا دیا۔
“مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے۔۔۔۔ جس وقت مجھے والدین کا ساتھ دینا چاہیئے تھا۔۔۔۔۔ بہن کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے تھی۔۔۔۔ مشکل حالات میں بھائی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے تھا۔۔۔۔۔ میں سب کو اکیلا چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔۔ آج تک خود کو معاف نہیں کر پا رہا۔۔۔۔” وہ بھیگی آواز میں اپنا کرب بیان کرنے لگے۔
یاشم نے دوسری چئیر قریب کھسکائی اور ان کے ستہانے بیٹھ کر تسلی دینے لگا۔
“بھئیاں۔۔۔۔ ماضی کو ہم نہیں بدل سکتے۔۔۔۔ جو ہوگیا۔۔۔۔ بھول جائیں۔۔۔۔ آگے بڑھیں۔۔۔۔ تب آپ والدین کا ساتھ نہیں دیں سکے تو اب دیں۔۔۔۔ گھر چلیئے۔۔۔۔ بٹ ہاوس بڑے بیٹے کا منتظر ہے۔۔۔۔ ” یاشم نے صدیف کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھایا۔
“پر آیت۔۔۔۔ ” ایک اور اندیشہ دونوں کو خاموش کر گیا۔
“وقت لگے گا۔۔۔۔ پر بھابھی کے ساتھ بھی سب پہلے جیسے نارمل ہوجائیں گے۔۔۔۔” سر کو خم دیتے اس نے نئی امید جگائی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نوریز اپنے اپارٹمنٹ کے بیڈروم میں بیڈ کراون سے سر ٹکائے نیم دراز بیٹھا تھا جب اس کا موبائل بجنے لگا۔
“ہاں مما۔۔۔۔” کال اسپیکر پر کر کے اس نے واپس آنکھیں موندھے سینے پر ہاتھ باندھ لیے۔
“نوریز۔۔۔۔ کیسے ہو بیٹا۔۔۔۔ گھر کیوں نہیں آتے۔۔۔۔ ماں سے کیسی ناراضگی۔۔۔۔” سنبل بیگم کی مدھم آواز ابھری۔
جواب میں نوریز خاموش رہا۔ اسے ایلزینا کے انکشاف نے ڈسٹرب کر دیا تھا اس لیے خاموش رہنا مناسب سمجھا۔
“تجھے پتا ہے۔۔۔۔ راعنہ شادی کر رہی ہے۔۔۔۔ تھوڑے دنوں میں اس کا نکاح ہے۔۔۔۔” مما نے اہم خبر سے آگاہ کیا
وہ جھٹکے سے آنکھیں کھول کر سیدھا ہوگیا۔
“دیکھو وہ عورت ذات ہو کر آگے موو کر رہی ہے۔۔۔۔ نئی زندگی شروع کر رہی ہے۔۔۔۔ اور تم مرد ہو کر اس سب میں الجھے ہوئے ہو۔۔۔۔ بیٹا چھوڑ دو یہ سب۔۔۔۔ آگے بڑھو۔۔۔۔ مجھے بھی تمہارا گھر بستا ہوا دیکھنا ہے۔۔۔۔۔ ” مما نے پیار سے اپنی خواہش ظاہر کی۔
“آپ کو کس نے بتایا۔۔۔۔” نوریز تو راعنہ کے نکاح پر اٹک گیا تھا۔
“آیت نے تیرے پاپا کو بتایا تھا۔۔۔۔ صدیف اور آیت واپس بٹ ہاوس جا رہیں ہیں۔۔۔۔ میں اس کے لیے بہت خوش ہوں۔۔۔” مما کی آواز سے خوشی صاف ظاہر تھی۔ نوریز محض ہممم کر کے کال کاٹ گیا۔
آیت اور صدیف اپنوں کے پاس واپس جا رہیں تھے۔ راعنہ کو نیا ہمسفر مل گیا تھا۔ ایلزینا اس سے بد زن ہوچکی تھی۔ اس کے حصے میں کیا آیا۔ زندگی بھر کی رسوائی اور گناہوں کا بوجھ۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
پانچ سال بعد صدیف اور آیت بٹ ہاوس کے دہلیز پر کھڑے تھے۔ گیٹ کھلتے ہی تینوں بچے دادو پکارتے عاطرہ بیگم سے لپٹ گئے۔ دادا سے پہلی بار متعارف ہوتے وہ قدرے جھجک کرتے آگے بڑھ گئے۔ ان کے پیچھے صدیف اور آیت سب سے ملنے لگے۔
راعنہ سے ملتے ہوئے آیت شدت سے ملی تھی لیکن راعنہ کے تاثرات ہر طرح کے جذبات سے عاری تھے۔
جانے والوں کے لوٹ کر آنے کا یقین کر بھی لیا جائے تو یہ یقین کیسے ہو کہ ان کے لوٹ آنے پر وقت اور جذبات بھی وہی رہیں گے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات جانے والوں کے لوٹنے سے دل کو خوشی محسوس نہیں ہوتی۔
آیت کڑوا گھونٹ پی کر اریبہ سے ملنے بڑھ گئی۔
بڑوں کے احساسات سے یکسر انجان چاروں بچے بے حد خوش تھے۔ وہ آپس میں ہاتھ ملائے مصور کے گرد گول گول گھوم کر چہک رہیں تھے۔ راعنہ نے ایلزینا کو پہلی مرتبہ اتنا خوش دیکھا تھا۔ وہیں دوسری طرف مصور گبھی انجان بچے دیکھ کر گھبرا جاتا تو کبھی خوشی سے چیخ پڑتا۔
ایک گہرا طوفان کاٹ کر، زندگی کے دوڑ میں صبر کا دامن تھامے بلاآخر خوشیوں نے بٹ ہاوس کا رخ کر لیا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
دونوں گھروں میں تیاریاں عروج پر تھیں۔ صدیف نے حمدان کا بھر پور ساتھ دیا۔ ایک آیت تھی جسے کوئی کام اریبہ بتا دیتی تو وہ کر لیتی ورنہ عاطرہ بیگم اور راعنہ کا مزاج روکھا روکھا تھا۔
“راعنہ میں ہیلپ کر دوں۔۔۔۔” اس دن راعنہ اپنے نئے ڈریسس پیک کر رہی تھی جب آیت نے مدد کرنے کے لیے کہا۔
“نہیں۔۔۔ اریبہ کر دے گی۔۔۔۔” سپاٹ انداز میں کہتے وہ اپنے کام میں جھٹی رہی۔
آیت کا گلا رندھ گیا اور سر جھکا گئی۔
“مما بھوک لگ رہی ہیں۔۔۔۔ “زینی کھیلتے کھیلتے تھک کر کمرے میں فریاد لے کر آئی۔
“زینی دو منٹ بس یہ سامان سمیٹ لوں۔۔۔ ” راعنہ نے ہاتھوں کی رفتار بڑھا دی۔
ایلزینا کا منہ بن گیا تھا۔ وہ رونے دینے کو ہوگئی پر آیت نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔ ایلزینا مسکرا کر اس کا ہاتھ تھامے ساتھ آگئی۔
سامان سمیٹتے راعنہ کو دو منٹ کے بجائے دس سے پندرہ منٹ لگ گئے۔ اچانک اسے ایلزینا کا خیال آیا تو اسے ڈھونڈتی لاونج میں آئی کہ ٹھٹک گئی۔ ایلزینا، آیت کی گود میں بیٹھی اس کے ہاتھوں سے مٹن پلاو نوش فرما رہی تھی۔ راعنہ تعجب سے اسے دیکھنے لگی کیونکہ ایلزینا مٹن نہیں کھاتی تھی مگر آیت کے ہاتھوں وہ آدھے سے زیادہ پلیٹ ختم کر چکی تھی۔
“مما۔۔۔۔ بڑی مامی بہت اچھا پلاو بناتی ہے۔۔۔۔ آپ بھی کھا کر دیکھو۔۔۔۔” زینی نے سیڑھیوں کے پاس راعنہ کو کھڑے دیکھ کر صدا لگائی۔
آیت نے راعنہ کو سپاٹ تاثرات بنائے دیکھا تو ایلزینا کو گود سے اتار کر کھڑی ہوگئی۔ راعنہ اسے نظر انداز کر کے زینی کے پاس آئی۔
“زینی۔۔۔۔ آپ بڑی مامی کے ہاتھوں پلاو کھاو۔۔۔۔ میں نانو کے ساتھ بازار جا رہی ہوں۔۔۔۔ انہیں تنگ مت کرنا۔۔۔۔” اس کے ہدایات پر زینی نے چمکتے آنکھوں سے سر اثابت میں ہلایا۔
آیت مسکرا دی اور پھر سے زینی کو ساتھ بیٹھا کر نوالہ کھلانے لگی۔
“تو زینی۔۔۔۔ آپ مجھے مشائم کی شرارتیں گنوا رہی تھی۔۔۔۔ اور کیا کیا کرتی ہے وہ۔۔۔۔” آیت نے خوش دلی سے اسے یاد دلایا۔
“اوو ہاں۔۔۔۔ مما نے سارا مزا خراب کر دیا۔۔۔۔” ایلزینا سر پر ہاتھ مار کر پھر سے گویا ہوئی اور کھاتے ہوئے کزنز کی شرارتیں گنوانے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
(یاشم+راعنہ کی شادی اسپیشل)
“اففووو۔۔۔۔ زونائشہ۔۔۔۔ آفروز۔۔۔۔حبہ۔۔۔۔ جلدی کرو۔۔۔۔ دیر ہورہی ہے۔۔۔۔ ” فریحہ بیگم نے سر اوپر کو اٹھا کر بیٹیوں کو صدا لگائی۔
وہ رائل بلیو کلر کی بنارسی سلک کی ساڑھی زیب تن کئے، بالوں کا جوڑا بنائے، نفیس سا میک اپ کئے، ڈائمنڈ کی جیولری پہنے بہت ہی پیاری لگ رہیں تھی۔
آفان صاحب سفید قمیض شلوار پر بلیک کلر کا ویسٹ کوٹ زیب تن کئے چمکتے بوٹ مہنگی گھڑی پہنے بالوں کو ایک سائیڈ پر جمائے ہشاش بشاش تیار کسی سے کال پر مصروف تھے۔
یاشم گولڈن کلر کے کامدار ڈیزائنر شیروانی پہنے بال اور ہلکی شیو نفاست سے بنائے چمکتے بوٹ مہنگی گھڑی پہنے اپنی پسندیدہ پرفیوم لگائے ہشاش بشاش تیار ہو کر مما کے عقب میں آیا اور ان کے گرد بازو حمائل کر کے خود سے لگایا۔
Looking gorgeous mama…
اس کی آواز پر فریحہ بیگم نے ہاتھ بڑھا کر اس کے گال پر رکھ کر پیار کیا۔
And you are looking handsome as always…
جوابی انداز میں مما نے یاشم کی تعریف کر دی۔ یاشم ان کے ہاتھ پر بوسہ دیتے بابا کے پاس آگیا۔
C’mon girls… hurry up…
فریحہ بیگم زچ ہونے لگی اور ہونہہ کرتے پلٹ گئی۔ اسی اثنا سیڑھیوں پر باری باری ٹک ٹک کی آوازیں گونجی اور آفروز سرخ کلر کے میسکی میں تیار نیچھے آرہی تھی۔ اس کے پیچھے تیسری بہن حبہ بھی آسمانی رنگ کا کامدار لہنگا اٹھائے ہوئے تھیں۔ جبکہ بڑی دونوں بہنیں اپنے بچوں کو تیار کرنے میں مصروف تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
ہال کی چمکتی روشنیوں اور تازہ پھولوں سے سجائے اسٹیج پر ساتھ ساتھ بیٹھے راعنہ اور یاشم نے خود کو ایک دوسرے کے نام کیا۔
راعنہ مرون رنگ کے ملٹی کلر کامدار لہنگے میں ملبوس خوبصورت جیولری پہنے پیارا میک اپ کئے ہاتھوں میں مہندی لگائے دولہن کے روپ میں سب سے حسین لگ رہی تھی۔ یاشم کی نگاہیں بار بار اپنی دولہن کے جانب اٹھ جاتی اور اس کی نظروں سے راعنہ اپنی نظریں نیچی رکھیں بلش کرنے پر مجبور ہوجاتی۔
حمدان اور صدیف دونوں اپنی اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہیں تھے۔
“حمدان۔۔۔۔ اتنی سیکیورٹی کس لیے۔۔۔۔” صدیف نے ہال کے چاروں طرف سکیورٹی اہلکاروں کی نفری دیکھ کر سوال کیا۔
“نوریز کے لیے۔۔۔۔ میں نہیں چاہتا وہ یہاں آکر کوئی تماشا کرے۔۔۔۔ ” حمدان نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا اور آگے بڑھ گیا۔
صدیف سنجیدہ تاثرات بنائے وہی کھڑا رہا۔
نوریز ہال میں آیا تو تھا مگر راعنہ کو کسی اور دولہن بنے ہنستے مسکراتے دیکھ کر ندامت کے احساس سے گھر گیا۔ وہ بہت زیادہ خوبصورت نا سہی مگر ایک مضبوط اور محبت سے بھر پور عورت تھی۔ اس بات کا احساس نوریز کو اس وقت اسے یاشم کے ہاتھوں میں ہاتھ دیئے اس کی دولہن بنے دیکھ کر ہورہا تھا۔ راعنہ پر ہوتی اس کی نظریں بےبی پنک کلر کے شرارے میں مبلوس ایلزینا پر پڑی۔ وہ چہکتے ہوئے راعنہ اور یاشم کے مابین آن بیٹھی اوت باری باری دونوں کو بوسہ دیا۔ اس خوبصورت منظر کو کیمرہ مین نے تصویر کی شکل میں قید کر لیا۔
یاشم نے اس کے کان میں سرگوشی کی تو وہ مزید سر آگے پیچھے ڈالتے کھلکھلا اٹھی۔ وہ تینوں اس وقت ایک مکمل فیملی کی عکاسی کر رہیں تھے۔ جن میں نوریز اور اس کے نفرت کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
مٹھیاں سختی سے بھینجے وہ تیز تیز چلتے اپنی کار میں جا بیٹھا اور زن کر کے دوڑا دی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
پھولوں سے سجے کنگ سائز بیڈ پر راعنہ گھونگھٹ گرائے بیٹھی تھی۔ اس کا دل برق رفتاری سے بھی تیز دھڑک رہا تھا۔ دروازے کے کھلنے پر اس نے دل تھامے پلکیں اٹھا کر گھونگھٹ کی آڑ سے اسے اندر داخل ہوتے دیکھا۔
یاشم مخمور نگاہوں سے سر تا پیر دیکھتے اس کے پاس آیا۔ راعنہ کا گھونگھٹ اٹھا کر اس کا چہرا اپنے نظروں میں قید کر لیا۔ کمرے میں مکمل خاموشی تھی تازہ پھولوں کی ہلکی مہک اور نائٹ لائٹ کی زرد روشنی ماحول میں ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔
یاشم نے اپنے جیب سے نفیس روبی کا بریسلیٹ نکال کر اسے پہنایا۔ راعنہ ہاتھ آنکھوں کے سامنے کر کے ان چمکتی روبی کو دیکھ کر محظوظ ہوئی۔
اس کی مسکراہٹ دیکھ کر یاشم نے قریب کھسک کر راعنہ کے پیشانی پر محبت بھرا بوسہ دیتے خود سے لگا لیا۔
اگلی صبح کی روشنی سب سے حسین تھی۔ راعنہ نہا کر تیار ہورہی تھی جب یاشم کی آنکھ کھلی۔ اٹھ کر اس کے عقب میں آتے اس کے گرد بازو حمائل کر کے کندھے پر سر رکھ گیا۔ اس کے گیلے بالوں میں لمبا سانس لیں کر سرشار ہوتے اسے راعنہ کے وجود سے جانی پہچانی خوشبو کا احساس ہوا۔ یاشم کی آنکھیں چمک اٹھی۔ یہ وہی پرفیوم تھی جو وہ اسلام آباد سے راعنہ کے لیے لایا تھا۔
“ہممم چوری۔۔۔۔ ” یاشم شریر انداز میں ایک آبرو اٹھائے بولا۔
“اب ایک مرد کے کمرے میں لیڈیز پرفیوم ہونے کا یہی مطلب ہوگا کہ وہ اپنی بیوی کے لیے لایا ہے۔۔۔۔ رائٹ۔۔۔۔” راعنہ نے گھوم کر اس کے گردن میں ہاتھ ڈالے وضاحت دی۔
“تو میرے کمرے کی تلاشی ہورہی تھی۔۔۔۔” اس نے چہرے پر مصنوعی خفگی ظاہر کی۔
“کچھ ایسا ہی سمجھ لو۔۔۔۔ اب سے آپ کے ہر قدم پر نظر رکھی جائے گی۔۔۔۔” راعنہ نے جتاتے ہوئے کہا۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ جو حکم میری جان۔۔۔۔۔” یاشم اس کے گرد بازووں کا حلقہ تنگ کرتے ہوئے ہنسا۔
راعنہ کسمسا گئی۔ اسی اثنا دروازے پر دستک ہوئی۔
“یاشم چھوڑیں۔۔۔۔” راعنہ زبردستی اس کے حصار سے الگ ہوئی۔
دروازہ کھولتے ایلزینا شب خوابی کے کپڑوں میں راعنہ کے پاس آگئی تھی۔
“گڈ مارننگ مما۔۔۔۔ گڈ مارننگ یاشم۔۔۔۔” اس نے باری باری ان سے لگ کر وش کیا۔
“گڈ مارننگ لیٹل پرنسس۔۔۔۔ پر یاشم نہیں۔۔۔۔ آج سے آپ مجھے پاپا بلاو گی۔۔۔۔” یاشم نے پورے جوش و خروش سے کہا۔
“پاپا۔۔۔ ” ایلزینا کی آنکھیں بڑی ہوگئی۔
“یس پاپا۔۔۔۔ وی آر فیملی ناو۔۔۔۔” یاشم نے اپنی آنکھیں گول گول گھومائی۔
ایلزینا نے تائید نے راعنہ کے جانب دیکھا تو اس نے مستحکم انداز میں مسکرا کر سر کو خم دیا۔
“اوکے۔۔۔۔۔۔ پاپا۔۔۔۔۔” ایلزینا کو پہلی مرتبہ جھجک محسوس ہوئی۔
یاشم نے خوش ہوتے اسے اٹھایا اور تیز تیز گھوما۔ ایلزینا ہوا میں ہاتھ بلند کئے کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ راعنہ ان کے چہکتے چہرے دیکھ کر قسمت کی مہربانی پر شکر ادا کرنے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔۔
