Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Nadamat) Episode 11

یاشم بے صبری سے راعنہ کا منتظر تھا۔ اس کی نظریں مین انٹرینس پر جمی ہوئی تھی پر راعنہ اس کے دیکھ لینے سے پہلے ہی تیزی سے گزر کر اپنے کیبن میں چلی گئی۔
یاشم نے بار بار وقت دیکھتے ہوئے بالآخر خود اس کے کیبن میں جا کر پوچھنے کا فیصلہ کیا۔ راعنہ کے کیبن میں آکر یاشم کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی۔
“تو کیا سوچا آپ نے۔۔۔۔ ” یاشم نے آبرو اٹھا کر پر امید نظروں سے اسے دیکھا۔
“میں۔۔۔۔۔ میں آپ سے شادی نہیں کر سکتی۔۔۔۔” راعنہ نے سیدھے سادے انکار کر دیا۔
یاشم کو اپنے کانوں سنے پر یقین نہیں آرہا تھا۔ اس کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی۔
“راعنہ میں آپ کو بہت جوش رکھوں گا۔۔۔۔۔ لوگ پانے کے لیے محبت کرتے ہیں۔۔۔۔ پر میں نے نبھانے کے لیے کی ہے۔۔۔ میں ہمیشہ آپ کا ساتھ نبھاوں گا۔۔۔۔” یاشم نے راعنہ کو یقین دہانی کروائی پر راعنہ سر نفی میں ہلاتے اس کے عین سامنے آگئی۔
“لیکن میں آپ سے شادی کرنا ہی نہیں چاہتی۔۔۔۔ کوئی زبردستی ہے کیا۔۔۔۔ میں اپنے حال میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔ مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔ اور میں نے آپ کو صرف دوست کی نظر سے دیکھا ہے۔۔۔۔ پلیز آپ مجھ سے شادی کا خیال اپنے دل سے نکال دیں۔۔۔۔” راعنہ نے اس کی ہیزل گرین آنکھوں میں نمی امڑتے دیکھ کر رخ پھیر لیا۔
“پر میرا کیا ہوگا۔۔۔۔۔ میں ذہنی طور پر بہت مضبوط ہوں۔۔۔۔۔ پر دل کے معاملات میں اتنا ہی کمزور ہوں۔۔۔۔ آپ کے بغیر ایک لمحہ بھی گزارنا مشکل ہے۔۔۔۔” یاشم کو لگا واقعی اس کا دل رک جائے گا۔
“وہ میرا سر درد نہیں ہے۔۔۔۔ آپ نے مجھ سے پوچھ کر محبت نہیں کی تھی۔۔۔۔۔ اب آپ رہ سکتے ہیں میرے بغیر یا نہیں وہ آپ کا مسئلہ ہے۔۔۔۔۔ میری طرف سے انکار ہے۔۔۔۔۔ اور اب دوبارہ مجھ سے شادی کا ذکر مت کرنا۔۔۔۔” راعنہ نے سرد مہری سے جواب دیا اور خود کیبن سے باہر نکل گئی۔
یاشم کا دل نشتر سے چیر دیا گیا تھا۔ اس نے آنکھیں سختی سے مینچھے راعنہ کے انکار کو تسلیم کرنا چاہا پر نہیں کر پایا۔ جن سے محبت کا دعوہ ہو انہیں اتنی آسانی سے نہیں چھوڑا جاتا بلکہ انہیں اپنے پاس رکھنے کے لیے آخری سانس تک کوشش کرنی پڑتی ہیں۔ ابھی تو یاشم کا اصل امتحان شروع ہوا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ آفس کے چھت پر آکر ایک کونے میں کھڑی ہوگئی۔ اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر وہ بے آواز رونے لگی۔
“آئی ایم سوری یاشم۔۔۔۔ مجھے معاف کر دینا۔۔۔۔۔ میرے لیے ایسا کرنا ضروری تھا۔۔۔۔ میں نے آپ کو بہت ہرٹ کر دیا ہے پر میں مجبور ہوں۔۔۔۔۔ آئی ایم سوری۔۔۔۔” دل ہی دل سوچتے وہ بے دم سی دیوار کے ساتھ سمٹ کر بیٹھ گئی۔
گھٹنوں کے گرد بازو حمائل کر کے وہ یہ سوچنے لگی آخر اسے اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی اجازت کب ملی تھی۔ نوریز کے وقت ہامی کا فیصلہ بھی اس نے دباو میں لیا تھا اور اب یاشم کے وقت انکار کا بھی۔
نوریز صدیقی لڑکیوں کے دل پر راج کرنے والا راعنہ کے دل کا مالک بنے گا یہ اس نے کبھی سوچا نہیں تھا پر قسمت اس کا دل نوریز کے ہاتھوں ہی توڑے گی یہ بھی راعنہ کے گمان میں نہ تھا۔
ماضی *
جوانی کی سیڑھی پر پاؤں رکھتے ہی آیت کی خوبصورتی مزید نکھر گئی تھی وہیں راعنہ بھی دلکش دوشیزہ سے کم نہ تھی۔
دوسری طرف نوریز کے نین نقش اور بھی ٹھوس ہوگئے تھے۔ لمبا قد چوڑے شانے مضبوط جسامت کے ساتھ ساتھ چھوٹی تراشی داڑھی مونچھ اور گھنے بال اس کی شخصیت کو سحر انگیز بنا گئے تھے۔
اس صبح نوریز نہا کر یونیورسٹی کے لیے تیار ہورہا تھا جب اس نے راعنہ کی آواز سنی۔
راعنہ رکشے سے اتر کر صدیقی ہاوس میں داخل ہوئی اور آیت کو پکارنے لگی۔
“آیت۔۔۔۔ آیت۔۔۔۔ آنٹی۔۔۔۔۔ کہاں گئے سب۔۔۔۔ ” ہر سمت دیکھتے ہوئے راعنہ نے نیچے پورشن میں کسی کو نا پا کر دوسری منزل کا رخ کیا۔
آیت کے کمرے میں جھانک کر وہ سیڑھیوں کے سرے پر پہنچی تھی کہ اسے اپنے عقب میں کسی کا سایہ محسوس ہوا۔
“بھووو۔۔۔۔” راعنہ مڑی تو نوریز نے شرارت کرنے کے انداز میں اسے ڈرایا۔
راعنہ سچ میں ڈر گئی اور لڑکھڑا کر ایک قدم پیچھے ہوگئی تھی کہ چیخ پڑی۔ اس کا پیر پھسل کر دوسری سیڑھی پر آگیا تھا لیکن ہاتھ ایک مضبوط گرفت میں ہونے کے باعث وہ مزید نیچھے گرنے سے بچ گئی۔
نوریز نے جھٹ سے راعنہ کا دائیاں ہاتھ پکڑ کر اسے گرنے سے بچایا اور پھر اوپر کھینچ کر سیدھا کیا۔
“آفت۔۔۔۔۔ کیا کر رہی ہو یہاں۔۔۔۔۔” جتنی وجہیہ شخصیت تھی اتنی ہی دم دار آواز۔
آیت کے حوالے سے نوریز، راعنہ کو آفت بلایا کرتا تھا۔
راعنہ کا ہاتھ اب بھی نوریز کی مضبوط گرفت میں تھا اس لیے اس کے اتنے قریب ہونے پر پہلی مرتبہ راعنہ کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی۔ نوریز کے کھلے گریبان سے جھلکتے چوڑے سینے کو دیکھ کر راعنہ متذبذب ہونے لگی۔
“آیت سے ملنے آئی تھی۔۔۔ کہاں ہے وہ۔۔۔۔ ” نظریں نیچی رکھیں اس اپنے آنے کی وجہ بتائی۔
“وہ تو مما کے ساتھ کالج چلی گئی ہیں۔۔۔۔” نوریز نے بے باکی سے شانے اچکائے۔
“پر اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی نا۔۔۔۔” راعنہ کو آیت کی فکر ہونے لگی۔ اس نے زبردستی اپنا ہاتھ نوریز کی گرفت سے آزاد کرایا۔
“ہممم پر اسے تم سے ملے بغیر چین نہیں آتا۔۔۔۔ تم اس کے لیے آکسیجن کا کام کرتی ہو۔۔۔۔ “نوریز پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے گھوم کر راعنہ کے پیچھے آیا اور اس کی کان میں سرگوشی کی۔
راعنہ، نوریز کی گرم سانسیں اپنے کان کے لوہ پر محسوس کر کے کانپ اٹھی اور تیزی سے اس کے حصار سے ہٹ گئی۔
“اس سے پہلے مجھے کالج میں نا پا کر آیت نکل جائے مجھے جلدی سے کالج پہنچنا چاہیئے۔۔۔۔”راعنہ نے راہ حل نکالتے ہوئے کہا اور سیڑھیاں اترنے لگی۔
“میں اسی سائیڈ جا رہا ہوں۔۔۔۔ چاہو تو میں چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔۔” نوریز اپنے کھلے گریبان کے بٹن بند کرتے اس کے پیچھے آیا۔
راعنہ نے ایک نظر نوریز کو دیکھا اور ساتھ آنے کے لیے مان گئی۔
“بائک پر بیٹھ جاو گی۔۔۔۔” نوریز نے معنی خیز نظروں سے اسے دیکھا۔
“جی۔۔۔۔ بس آپ جلدی سے کالج پہنچا دو۔۔۔۔” راعنہ نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
نوریز نے محظوظ ہوتے ہوئے سر کو خم دیا اور اپنی بائک اسٹارٹ کی۔ راعنہ متذبذب ہوتی بائک کے آخری کونے سے ٹک گئی۔ نوریز اس کے بیٹھنے کے انداز پر غصہ ہونے لگا۔
“میڈم۔۔۔۔ ایک جمپ آئے گا پیچھے گری پڑی ہو گی۔۔۔۔ ٹھیک سے بیٹھو۔۔۔۔” نوریز نے سختی سے تنبیہہ کیا تو راعنہ لب دانتوں میں دبائے تھوڑا آگے کو ہوئی۔
اس کا بازو نوریز کی پیٹھ سے مَس ہونے لگا۔ نوریز سائیڈ مرر میں راعنہ کے پریشان کن تاثرات دیکھ کر مسکرایا اور بائک دوڑا دی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
آیت نے راعنہ کی تلاش میں پورا کالج چھان مارا پر وہ نہ ملی تو مایوس ہو کر واپس جانے لگی تھی تب ہی مین گیٹ پر اسے راعنہ، نوریز کی بائک سے اترتی ہوئی نظر آئی۔
“میں یہاں بخار میں پاگلوں کی طرح تمہیں ڈھونڈ رہی ہوں اور تم بھائی کے ساتھ گھوم رہی ہو۔۔۔۔” آیت نے خفگی میں راعنہ کے کندھے پر تھپکی ماری۔
“آیت۔۔۔۔ میں تم سے ملنے تمہارے گھر گئی تھی پر وہاں پتا چلا کہ تم کالج آئی ہو۔۔۔۔ اس لیے نوریز مجھے ڈراپ کرنے آگئے۔۔۔۔” راعنہ کو آیت کا تبصرہ برا لگا اس لیے فوراً سے وضاحت پیش کی۔
ان دونوں کی تکرار سے محظوظ ہوتے نوریز صدیقی اپنی بھوری آنکھیں چاروں طرف گھما کر گرلز کالج میں آتی جاتی لڑکیوں کو دیکھنے میں مصروف تھا۔
“بھائی۔۔۔۔ ہوگیا آپ کا۔۔۔۔ کر لیا گرلز کالج کا نظارہ۔۔۔۔ چلو اب جاو۔۔۔۔ یونی نہیں جانا آپ کو۔۔۔۔۔ کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ملے گی۔۔۔۔” آیت کمر پر ہاتھ رکھے نوریز کے جانب متوجہ ہوئی۔
“کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے چیرمین پروفیسر وارث صدیقی کے بیٹے کو روکنے کی کسی کی ہمت نہیں ہے۔۔۔۔” نوریز نے مغرور انداز میں اپنے شرٹ کا کالر اچکایا اور بائک اسٹارٹ کی۔
“بہت دیکھے ہیں آپ کے جیسے۔۔۔۔ چلو جاو۔۔۔۔۔ آپ سے یہاں کوئی نہیں پھنسنے والی۔۔۔۔ ” آیت نے ہاتھ ہوا میں ہلا کر نوریز کو جانے کا اشارہ کیا۔
نوریز ناک چڑھا کر روانہ ہوگیا۔
“آیت۔۔۔۔ بڑا بھائی ہے وہ تمہارا۔۔۔۔ ایسے بات کرتے ہیں بڑے بھائی سے۔۔۔۔” راعنہ کو آیت کا یہ رویہ اچھا نہیں لگا۔
“ارے چھوڑ یار۔۔۔ میرا اور بھائی کا چلتا رہتا ہے۔۔۔۔ چل تمہیں کچھ بتانا ہے۔۔۔۔۔۔ پتا ہے۔۔۔۔ میں نے کل رات ایک خواب دیکھا۔۔۔۔۔ ” آیت نے راعنہ کے بازو میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اسے لیئے کالج کے اندر بڑھ گئی۔
حال *
یاشم کا آفس میں بالکل دل نہیں لگ رہا تھا۔ جا جا کر اسے راعنہ کی ریجیکشن یاد آتی اور وہ اداس ہوجاتا اس لیے گھر جلدی آگیا۔
“یاشم۔۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔۔ آج جلدی آگئے۔۔۔۔۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔۔۔” فریحہ بیگم نے اسے مخاطب کر کے روکا۔
“میں آپ کو نہیں سمجھا سکتا مام۔۔۔۔۔ بلکہ میں کسی کو نہیں سمجھا سکتا۔۔۔۔۔ کہ اس وقت میرے اندر کیا چل رہا ہے۔۔۔۔ میں کس اذیت سے گزر رہا ہوں۔۔۔۔ ” یاشم کی ہمت جواب دے گئی۔ اسے لگا وہ یہی گر پڑے گا اس لیے مام کو نظر انداز کر کے کمرے میں چلا گیا۔
فریحہ بیگم اس کی کیفیت سمجھنے کی کوشش کرتی وہی کھڑی رہی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ نے دو دن کے لیے آفس سے چھٹی لے لی تھی۔ وہ یاشم کو حقیقت تسلیم کرنے کے لیے وقت فراہم کر رہی تھی۔
وہیں یاشم روز سوٹ بوٹ میں تیار آفس آتا اور سب سے پہلے راعنہ کے کیبن میں چلا آتا لیکن خالی میز دیکھ کر مایوس ہو کر مڑ جاتا۔
اس دن ایلزینا اسکول کے چھٹی کے ٹائم مما کا انتظار کر رہی تھی جب اس کے سامنے جدید ماڈل کی چمکتی کار رکی اور اس میں سے گرے کلر کا ڈنر سوٹ پہنے ہشاش بشاش سا تیار نوریز صدیقی برآمد ہوا۔
“ہائے ایلزینا۔۔۔۔۔” آنکھوں پر سے گلاسس ہٹا کر اس نے جھک کر ایلزینا کو دیکھا۔
ایلزینا انجان شخص کے زبانی اپنا نام سن کر حیران ہوئی۔
“آپ مجھے جانتے ہیں۔۔۔۔” اس نے حیرت بھری خوشی سے پوچھا۔
“ہاں میں آپ کو جانتا ہوں۔۔۔۔ چلو میں آپ کو لینے آیا ہوں۔۔۔۔” نوریز اس کا ہاتھ تھامے سیدھا ہوا۔
“مجھے تو آج مما لینے آنے والی تھی۔۔۔۔ ” زینی نے سر پورا اوپر کر کے نوریز کو دیکھا۔
“آاا۔۔۔۔ آپ کی مما نے ہی مجھے بھیجا ہے۔۔۔۔۔ ایکچیولی وہ مصروف ہیں۔۔۔۔” نوریز نے ایلزینا کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی اور گہری نظر سے زینی کو دیکھا تھا۔
“پر مما نے تو نہیں بتایا۔۔۔۔۔ کیا آپ مما کے دوست ہو۔۔۔۔ ” زینی اس کے ساتھ چلنے پر راضی نہ ہوسکی۔
“ہاں میں آپ کی مما کا دوست ہوں۔۔۔۔ اور میں نے کہا نا۔۔۔۔ آپ کی مما مصروف ہے اس لیے مجھے آپ کو لینے بھیجا ہے۔۔۔۔۔ چلو ہم ونڈر لینڈ جائیں گے۔۔۔۔۔ خوب انجوائے کریں گے۔۔۔۔” نوریز نے اسے گھومانے کا لالچ دیا۔
ایلزینا کی آنکھیں ونڈر لینڈ کے نام پر چمک اٹھی تھی لیکن دل میں ایک خلش سی باقی تھی۔
“پر مما کو بغیر بتائے جاوں گی تو وہ پریشان ہوجائے گی۔۔۔۔” ایلزینا نے نوریز کی آفر ٹھکرا دی۔
نوریز کی آنکھوں میں سختی در آئی مگر اپنے آپ کو کمپوز رکھے رہا۔
“میں آپ کی مما کو کال کر دوں گا۔۔۔۔ اوکے۔۔۔۔” نوریز نے با اعتماد انداز میں سر کو خم دیا۔
ایلزینا دل و نا دل اس کے ساتھ کار میں آکر بیٹھ گئی۔
“انکل۔۔۔۔ مما کو کال کریں نا۔۔۔۔” زینی کا دل مطمئن نا ہوسکا۔ اس نے نوریز کی سچائی جانچنے کی کوشش کی۔
نوریز نے سپاٹ انداز میں موبائل نکالا اور کچھ بٹن دبا کر ایلزینا کے سامنے جتاتے ہوئے فون اس انداز میں کان سے لگایا کہ زینی کال پر موجود نمبر نہ دیکھ سکی۔ وہ یہ بھی اندازہ نہیں لگا سکی کہ کال واقعی مل گئی ہے یا نہیں۔
“ہائے راعنہ۔۔۔۔ ہاں میں نے ایلزینا کو پک کر لیا ہے۔۔۔۔ پر میں اسے ونڈر لینڈ لے کر جا رہا ہوں۔۔۔۔” نوریز موبائل فون کان سے لگایا اداکاری کرنے لگا۔
ایلزینا اس کے زبان سے اپنی مما کا نام سن کر قدرے مطمئن ہونے لگی۔
“ہاں میں شام تک اسے گھر ڈراپ کر دوں گا۔۔۔۔۔ تم پریشان مت ہونا۔۔۔۔ اوکے بائے۔۔۔۔” نوریز نے خوش دلی سے تسلی بخش جواب دیتے موبائل جیب میں ڈالا اور اسٹیئرنگ پر ہاتھ رکھے ایلزینا کے جانب مڑا۔
“آپ کی مما نے اجازت دے دی ہے۔۔۔۔ اب چلیں۔۔۔۔” نوریز کے لہجے سے جھلکتا کانفیڈینس پر ایلزینا نے سر اثابت میں ہلایا اور سیٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
“زینی بےبی۔۔۔۔ تم جتنی ہوشیاری کر لو۔۔۔۔ میں باپ ہوں تمہارا۔۔۔۔ تمہیں قابو کرنا اچھے سے آتا ہے مجھے۔۔۔۔۔ ” نوریز نے کنکھیوں سے ایلزینا کو دیکھ کر سوچا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ اور شعیب صاحب ٹریفک جام کے باعث اسکول دیر سے پہنچے۔ راعنہ نے چوکیدار سے زینی کو بلوانے کے لیے کہا تو وہ حیران پریشان راعنہ کا منہ دیکھتا رہا۔
“میڈم۔۔۔۔ ایلزینا تو تھوڑی دیر پہلے ایک کار میں چلی گئی۔۔۔۔” چوکیدار نے عام انداز میں جواب دیا پر راعنہ کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔
“کس کے ساتھ گئی ہے۔۔۔۔۔ اور تم نے جانے کیوں دیا۔۔۔۔ ہمیشہ میں یا میرا بھائی ہی لینے آتے ہیں۔۔۔۔ پھر کسی انجان کے ساتھ کیسے جانے دیا۔۔۔۔ ” راعنہ چوکیدار پر برس پڑی۔
“وہ اچھے خاصے سوٹڈ بوٹڈ مرد تھے۔۔۔۔۔ اور زینی بھی اپنائیت سے بات کر رہی تھی۔۔۔۔۔ سوچا آپ کے اپنے ہیں۔۔۔۔ اس لیے۔۔۔۔” چوکیدار کو معاملہ سمجھ نہ آیا۔ وہ اپنے ذہن پر زور دیتے اس شخص کا ہولیہ بتانے لگا۔
“بابا۔۔۔۔۔ کون لے گیا ہے زینی کو۔۔۔۔” راعنہ نے شعیب صاحب کے جانب رخ کر کے سوال کیا۔
شعیب صاحب اسے سمجھا کر دوبارہ چوکیدار سے معلومات کرنے لگے۔
سوٹڈ بوٹڈ مرد اور چمکتی بڑی کار؛ چوکیدار کے وضاحت پر راعنہ کے ذہن میں یاشم کا عکس لہرایا۔ وہ غصے سے دانت پیستی بابا کے سمت مڑی۔
“بابا میں ابھی آتی ہوں۔۔۔۔ “وہ شعیب صاحب کو اطلاع دے کر ٹیکسی اسٹینڈ کے سمت بھاگی۔
اپنے آفس کا ایڈریس بتا کر وہ پورا راستہ یاشم کی اس حرکت پر پیچ و تاب کھاتی رہی۔
آفس کے عمارت میں در آتے ہی وہ دفتر کے سارے اخلاقیات بالائے طاق رکھ کر یاشم کے کیبن میں داخل ہوئی اور جھپٹ کر اس کا کالر جکڑ لیا۔
“یہ کیا حرکت ہے یاشم۔۔۔۔ ایلزینا کہاں ہے۔۔۔۔ ” راعنہ نے اس کا کالر جھنجوڑا۔
“مجھے نہیں پتا ایلزینا کہاں ہے۔۔۔۔” یاشم شاک ہوگیا تھا۔
“جھوٹ۔۔۔۔۔ میں نے آپ کا پروپوزل ٹھکرا دیا تو آپ میری بیٹی کو کڈنیپ کر کے مجھے بلیک میل کرنا چاہتے ہو۔۔۔۔ ” راعنہ کی آواز بھیگ چکی تھی۔
راعنہ کے خدشے پر یاشم کی بے یقینی سے آنکھیں پھیل گئی۔
“راعنہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔۔” یاشم نے اپنی صفائی میں ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
“مجھے آپ سے ایسی امید نہیں تھی۔۔۔۔ میری بیٹی واپس کرو یاشم پلیززز۔۔۔۔ اسے ان سب میں مٹ گھسیٹو۔۔۔۔ وہ بس معصوم سی بچی ہے۔۔۔” راعنہ باقاعدہ منت کرنے لگی۔
“میں نے آپ کی بیٹی کو کڈنیپ نہیں کیا راعنہ۔۔۔۔۔ میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔۔۔۔ آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔۔۔۔ آپ سے ہاں کروانے میں ایسی گھٹیا حرکت کبھی نہیں کروں گا۔۔۔۔ میں اتنا گرا ہوا بھی نہیں ہوں کہ اپنا مطلب نکالنے ایک معصوم بچی کا استعمال کروں۔۔۔۔” یاشم، راعنہ کو کندھوں سے تھام کر اس کی متروم آنکھوں میں دیکھتے ہوئے غرایا۔
راعنہ کے عصاب ڈھیلے پڑ گئے۔ وہ روتے ہوئے یاشم کی بازووں میں بے دم ہونے لگی۔
“راعنہ سنبھالو خود کو۔۔۔۔ مجھے ڈیٹیل سے بتاو۔۔۔۔۔ ایلزینا کہاں ہے۔۔۔۔” یاشم نے اسے اپنی سیٹ پر بیٹھایا اور خود دو زانو ہو کر اس کے آگے بیٹھا۔
“مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔۔ میں کیا کروں۔۔۔۔ کہاں ڈھونڈوں زینی کو۔۔۔۔۔” راعنہ نے گیلی سانس اندر کھینچ کر خود کو کمپوز کرتے پورا واقعہ یاشم کے گوش گزار کیا۔
“ڈونٹ وری۔۔۔۔ میں کچھ کرتا ہوں۔۔۔۔۔ ایلزینا جہاں بھی ہے۔۔۔۔۔ ضرور ملے گی۔۔۔۔” یاشم نے اپنے جانب سے راعنہ کو دلاسہ دیا اور ایلزینا کو تلاش کرنے کی ترقیب سوچنے لگا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
ایلزینا اور نوریز ونڈر لینڈ میں شغل کرتے رہیں۔ واٹر سلائیڈ کے دوران زینی خوف زدہ ہوئی۔
“کم ان زینی۔۔۔۔۔ یو کین ڈو اٹ۔۔۔۔۔” نوریز نے اس کی حوصلہ افزائی کی۔
“نہیں میں نہیں جا سکتی۔۔۔۔ مجھے تیرنا نہیں آتا۔۔۔۔” زینی واٹر سلائیڈ پر بیٹھنے سے جھجک رہی تھی۔
“اوکے میرے ساتھ بیٹھو گی نا۔۔۔۔” نوریز نے دوسرا راستہ نکالا اور خود سوئمنگ ڈریس پہن کر واٹر سلائیڈ پر آگیا۔
زینی خوشی خوشی نوریز کے گود میں اسے مضبوطی سے تھام کر بیٹھی تو نوریز نے ایک جھٹکے سے سلائیڈ کے ہینڈل چھوڑ دیئے اور وہ دونوں پانی کے بہاو کے ساتھ سلائیڈ ہوتے ہوئے نیچھے پول میں آ گرے۔ پانی میں آکر نوریز نے ایلزینا کو پانی سے اوپر اٹھا لیا تھا اور تیرتے ہوئے کنارے پر آگیا۔
“ہہہہہ۔۔۔۔۔ بہت مزا آیا۔۔۔۔۔ آپ بہت اچھا سلائیڈ کرتے ہو۔۔۔۔۔ دوبارہ کریں۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔” زینی اچھل اچھل کر نوریز کو منانے لگی۔
نوریز لبوں پر بڑی سی مسکراہٹ سجائے پھر سے سلائیڈ پر چڑھنے لگا۔ اور اس طرح ان دونوں نے تین دفعہ واٹر سلائیڈ کے مزے لیئے۔
“اوکے۔۔۔۔ اب بس۔۔۔۔ پانی میں زیادہ کھیلنا اچھا نہیں ہے۔۔۔۔ بیمار ہوجاو گی۔۔۔ ” نوریز نے آنکھیں دکھائی تو ایلزینا لب بھینجے اس کی بات ماننے کی پابند ہوگئی۔
خشک کپڑے پہن کر وہ دونوں کچھ دیر شام کی دھوپ میں بیٹھ کر سستانے لگے۔
“زینی۔۔۔۔۔ پاپا کی یاد نہیں آتی۔۔۔۔” نوریز نے افق میں ڈوبتے آفتاب پر نظر جمائے ہوئے نرمی سے پوچھا تھا۔
“یاد تو آتی ہے۔۔۔۔ پر۔۔۔۔۔ پتا نہیں میرے پاپا کون ہے۔۔۔۔ کہاں ہے۔۔۔۔” زینی نے آہ بھری۔
نوریز نے اس انکشاف پر بے یقینی سے اسے دیکھا۔
“تو راعنہ نے زینی کو میرے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔۔۔۔۔ مجھ سے انجان رکھا ہے۔۔۔۔ راعنہ۔۔۔۔ ایلزینا میں میرا خون ہے۔۔۔۔ تم یوں اسے مجھ سے غافل نہیں رکھ سکتی۔۔۔۔” نوریز نے جبڑے سخت کر لیے۔
“اگلی دفعہ۔۔۔۔ میں تمہیں تمہارے پاپا کے پاس لے جاوں گا۔۔۔” نوریز نے پر سوچ انداز میں کہا تو زینی یک دم کھڑی ہوگئی۔
“آپ جانتے ہو میرے پاپا کو۔۔۔۔” ایلزینا کی خوشی دگنی ہوگئی تھی۔
“بالکل جانتا ہوں۔۔۔۔۔ بہت مس کرتے ہیں وہ تمہیں۔۔۔۔” نوریز نے زینی کے گیلے بال پیچھے کرتے اس کے گال پر پیار کیا اور اسے اپنی گود میں بیٹھا کر مضبوطی سے اپنے حصار میں لے لیا تھا۔
“مس کرتے ہیں۔۔۔۔ تو ملنے کیوں نہیں آتے۔۔۔۔ مما کو کیوں چھوڑ دیا انہوں نے۔۔۔۔۔” زینی کا چھوٹا دماغ تیز تیز سوالات بنانے لگا۔
“بہت جلد وہ آپ کی مما سے ملنے آئیں گے۔۔۔۔ بس کچھ مہینوں کی بات ہے۔۔۔۔” نوریز کا لہجہ سخت ہونے لگا۔ اسے راعنہ پر شدید غصہ آرہا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
آیت اور صدیف بچوں کو ان کے کئیر ٹیکر کے پاس چھوڑ کر لانگ ڈرائیو پر نکل گئے۔ ڈرائیو کرتے ہوئے صدیف خاموش رہا۔
“ہم کہاں جا رہیں ہیں۔۔۔۔” آیت نے دل فریب انداز میں کہتے ہوئے صدیف کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
“تمہیں کڈنیپ کر رہا ہوں۔۔۔۔” صدیف کی آواز بے لچک تھی لیکن اس کے جملے پر آیت ہنس پڑی۔
“اووو نہیں۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ مجھے چھوڑ دو۔۔۔ مجھے جانے دو۔۔۔۔ خدا کا واسطہ۔۔۔۔۔ میرے ساتھ کچھ مت کرنا۔۔۔۔ میں شادی شدہ ہوں۔۔۔۔ ” آیت فلمی انداز میں ہلکے ہاتھوں سے صدیف کے بازو پر چھوٹے چھوٹے مقے مار کر اداکاری کرنے لگی۔
صدیف کے لبوں کو شریر مسکراہٹ چھو کر گزری۔
“ویسے کڈنیپر جی۔۔۔۔۔ میرے ساتھ کیا کرنے والے ہو۔۔۔۔” آیت تجسس سے پوچھتی آگے کو ہوئی۔
“بہت۔۔۔۔ زیادہ۔۔۔۔۔ پیار۔۔۔۔۔” صدیف نے چہرا اس کے سمت کر کے بے رحمانہ تاثرات بنائے جواب دیا۔
“ہائے۔۔۔۔ اب میں کہاں جاوں۔۔۔۔ کوئی بچاو مجھے اس ظالم کڈنیپر سے۔۔۔۔” آیت نے منہ بنائے سر پر ہاتھ مارا۔
صدیف نے اس کی بچگانی اداکاری پر سر جھٹکتے ہوئے ایک فارم ہاوس کے سامنے کار روکی۔
آیت نے ونڈ اسکرین کے باہر اس فارم ہاوس ہو دیکھا تو اس کی شرارت بھری دلچسپی ختم ہوگئی۔ وہ وارث صاحب کا پرانا فارم ہاوس تھا جو کبھی نوریز استعمال کیا کرتا تھا۔
“صدیف۔۔۔۔ آپ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں۔۔۔۔ ” آیت نے حیرانگی سے سوال کیا تھا۔
“تم چلو۔۔۔ پتا چل جائے گا۔۔۔۔” صدیف نے اپنی سیٹ سے اترتے ہوئے کہا۔
آیت کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ وہ اپنے جذبات پر قابو رکھنے کی کوشش کرتی اس کے پیچھے ہو لی۔
فارم ہاوس کے دروازے تک آکر صدیف رک گیا اور آیت کو اندر جانے کا اشارہ کیا۔ آیت بے یقینی سے صدیف کو دیکھتی مضطرب ہوتے اندر داخل ہوئی تو سامنے کھڑے سراپے کو دیکھ کر دنگ رہ گئی۔
“پاپا۔۔۔۔۔” وارث صاحب کو دیکھ کر آیت کی زبان سے بے اختیار یہ لفظ نکلا۔
“آیت۔۔۔۔ میری بچی۔۔۔۔” وارث صاحب پانچ سال بعد اپنے لخت جگر کو دیکھ کر جذباتی ہوگئے۔
آیت تیزی سے آگے آکر ان سے لپٹ گئی۔ وارث صاحب نے اسے سینے سے لگا کر مضبوطی سے اپنے حصار میں لیا۔
“آیت۔۔۔۔ کیسی ہو۔۔۔۔۔ مجھے کال آئی تھی کہ تم۔۔۔۔۔ ” وارث صاحب لرزتے ہوئے سر تا پیر اسے دیکھتے اس کی تندرستی کی تصدیق کرنے لگے۔
“پاپا۔۔۔۔ آپ کیسے ہیں۔۔۔۔۔ یہ آپ نے اپنی کیا حالت کر لی ہے۔۔۔۔” آیت اشک بار آنکھوں سے وارث صاحب کی سفید داڑھی اور آنکھوں کے گرد حلکے دیکھ کر مستفسر ہوئی۔
“بیٹا ایک ہارا ہوا باپ۔۔۔۔۔ اور کیسے ہوگا۔۔۔۔۔ ” وارث صاحب کے آنسو جاری ہو گئے۔
“نہیں پاپا۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ ایسے مت رویئے۔۔۔۔ ” آیت نے ان کے آنسو صاف کرتے انہیں صوفے پر بیٹھایا۔
وارث صاحب سر جھکائے پانچ سالوں کی آپ بیتی سنانے لگے۔ آیت نے ان کا ہاتھ تھامے دروازے کے جانب دیکھا جہاں صدیف محبت پاش نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ آیت اُس کی اِس مہربانی پر سر کو خم دے کر مشکور ہوئی اور اپنے رخسار صاف کرتے پاپا کے جانب متوجہ ہو کر ان کی داستان سننے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
دو گھنٹے تک ان باپ بیٹی کی نا تمام باتیں چلتی رہی۔ سورج پورا غروب ہوا تو ایلزینا کو گھر جانے کا خیال آیا۔
“اب مجھے گھر ڈراپ کر دیں۔۔۔۔۔ شام ہوگئی ہے۔۔۔۔۔ مما کے پاس جانا ہے۔۔۔۔ ” ایلزینا اٹھ کر جانے لگی۔
“آج میرے گھر چلتے ہیں۔۔۔۔ میں نئی موویز لایا ہوں۔۔۔۔ فروزن والی۔۔۔۔۔ اور باربی ڈول والی۔۔۔۔ مل کر دیکھیں گے۔۔۔۔” نوریز نے بھوری آنکھوں میں ڈھیر ساری دلچسپی بھر کر للچایا۔
“نہیں آج کے لیے کافی ہے۔۔۔۔ اب مما کے پاس جانا ہے۔۔۔۔” ایلزینا نے نوریز کی ایک نہیں سنی اور گھر جانے کی ضد کرنے لگی۔
بار بار مما کے پاس جانے کی ضد کرتے جب زینی رونے والی ہوگئی تو نوریز کو مجبوراً ماننا پڑا۔
دوسری جانب بٹ ہاوس میں نا کسی نے کھانے کا لقمہ لیا تھا نا پانی کا گھونٹ بھرا تھا۔
“اگر اغوا برائے تاوان ہوتا تو اب تک کڈنیپرز کی کال آجانی چاہیئے تھی۔۔۔۔ ” حمدان لاونج میں دائیں سے بائیں چکر کاٹتے گویا ہوا۔
شعیب صاحب اور عاطرہ بیگم سر ہاتھوں میں گرائے پریشان بیٹھے تھے۔ راعنہ آفس سے خالی ہاتھ لوٹ آئی تھی۔
“یاشم نہیں تو اور کون۔۔۔۔” وہ اس شخص کے متعلق سوچ سوچ کر دل گیر ہونے لگی۔
سب کے زبان پر ایلزینا کے خیریت سے ہونے کی دعائیں جاری تھی جب گیٹ پر دستک ہوئی۔ حمدان نے تیزی سے باہر نکل کر گیٹ کھولا۔ زینی آئس کریم کھاتے ماموں کو مسکان سے نوازتے گھر کے اندر داخل ہوئی۔ حمدان نے فوراً سے سر گلی میں نکال کر جھانکا پر اسے وہاں کسی کا نام و نشان نہیں ملا۔
“زینی۔۔۔۔ کہاں چلی گئی تھی۔۔۔۔۔ کس کے ساتھ تھی۔۔۔۔ ہم کتنا پریشان ہورہیں تھے۔۔۔۔” راعنہ نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر زینی پر سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔
“مما۔۔۔۔ انہوں نے تو کہا آپ نے انہیں بھیجا ہے۔۔۔۔۔ بہت اچھے تھے۔۔۔۔ ہم نے بہت مزے کئے۔۔۔۔۔” زینی سب کے توقعات کے بر عکس خوشی خوشی ونڈر لینڈ کی رو داد سنانے لگی۔
“میں نے کسی کو نہیں بھیجا تھا۔۔۔۔ کیسے دکھتے تھے۔۔۔۔۔ آپ انہیں جانتی ہو۔۔۔۔” راعنہ نے اسے کندھوں سے تھامے سنجیدہ کیا۔
“بہت پیارے تھے۔۔۔۔۔ لمبے چوڑے۔۔۔۔۔ سوٹ اور مہنگی کار والے۔۔۔۔ ماموں سے بھی بڑی باڈی تھی۔۔۔۔ ” زینی کے ذہن پر نوریز کی سحر انگیز شخصیت نصب ہوگئی تھی۔
راعنہ کے آبرو پھیل گئے۔ اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ وہ تیزی سے اٹھی اور کمرے کے جانب بھاگی۔ تھوڑی دیر بعد وہ ایک تصویر ہاتھ میں لیے پھر سے لاؤنج میں آئی اور وہ تصویر ایلزینا کے آگے کی۔
“کیا یہ تھے وہ۔۔۔۔” نوریز کی تصویر تھامے راعنہ کے ہاتھ میں ہلکی کپکپاہٹ ہونے لگی۔
سب میں بے چین نظروں کا تبادلہ ہوا۔
“ہاں یہی تھے وہ۔۔۔۔ آپ جانتی ہو انہیں مما۔۔۔۔ ” ایلزینا نوریز کی تصویر دیکھ کر خوشی سے چہک اٹھی۔
راعنہ کے ہاتھ سے تصویر پھسل کر فرش پر گر پڑی۔
“راعنہ۔۔۔۔” شعیب صاحب نے اسے سنبھال کر صوفے پر بیٹھایا۔
“چین سے جینے کیوں نہیں دے رہیں وہ مجھے۔۔۔۔۔ بابا اب وہ مجھ سے میری بیٹی چھیننا چاہتے ہیں۔۔۔۔” راعنہ نے سر ہاتھوں میں گرا دیا۔
شعیب صاحب اور عاطرہ بیگم نے اسے سمجھانے کی کوشش کی پر راعنہ مضطرب رہی۔
“نہیں بابا۔۔۔۔۔ میں انہیں میری بیٹی نہیں لینے دوں گی۔۔۔۔ وہ مجھ سے ایلزینا کو دور نہیں کر سکتے۔۔۔۔” نفرت سے نوریز کو سوچتے ہوئے راعنہ نے پختہ ارادہ کیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔