Nadamat By Palwasha Safi Readelle50274 (Nadamat) Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
(Nadamat) Episode 26
“تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔۔۔۔” راعنہ پورے تاب سے چلاتی اس کے جانب مڑی اور اس کا کالر دبوچ لیا۔
“میں کر چکا ہوں راعنہ۔۔۔۔۔” سفاکی سے جواب دیتے نوریز نے موبائل نکالا اور ایک نمبر ملا کر کال اسپیکر پر لگائی۔
“یس سر۔۔۔۔ ” ایک بھاری مردانہ آواز ابھری۔
“کہاں ہو۔۔۔۔” رعب دار انداز میں پوچھا۔
“شاہ آٹو موبائل آفس کے سامنے۔۔۔۔ ” اس مردانہ آواز کا جواب سن کر راعنہ کے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے۔ اس کے گرفت سے نوریز کا کالر چھوٹ گیا۔
“ہممم جیسے ہی یاشم باہر نکلے۔۔۔۔ شوٹ کر دینا۔۔۔۔” نوریز نے راعنہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہوئے ہدایت دی۔
“اوکے سر۔۔۔۔” ہدایت پر عمل کرتے اس آدمی نے کال کاٹی۔
راعنہ کا دل برق رفتاری سے بھی تیز دھڑک رہا تھا۔
“تمہارے پاس صرف بیس منٹ ہے راعنہ۔۔۔۔ اگر اپنے موجودہ شوہر کو بچا سکتی ہو تو جاو۔۔۔۔” نوریز نے چیلنج کرنے کے انداز میں دروازے کے جانب ہاتھ اٹھا کر اشارہ کیا۔
راعنہ لمبا سانس لیتے بے دھڑک بھاگی تھی۔ نوریز کا تیر نشانے پر لگا تھا۔ وہ ایک مرتبہ پھر اس کی زندگی میں بھونچال مچانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
یاشم کسی کلائنٹ سے نئی ڈیل کے متعلق بات کرتا آفس کی عمارت سے باہر آرہا تھا جب اچانک سڑک پر گاڑیوں کا شور بلند ہوا۔ کسی گاڑی کے اچانک بریک لگانے پر پچھلی گاڑی سے ٹکر ہوگئی۔ تیز ہارن نے یاشم کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تو دیکھا راعنہ چلتی گاڑیوں کے بیچ سے ہوتی اسی جانب آرہی تھی۔
اسے یوں بھاگتے دیکھ کر یاشم کے اوسان خطا ہوگئے وہ تیزی سے اس کے جانب لپکا۔
“راعنہ۔۔۔۔ سب خیریت تو ہیں۔۔۔۔۔ آپ اس طرح یہاں۔۔۔۔۔” یاشم کو راعنہ اپنے حواسوں میں نہ لگی۔ اس نے بازووں سے تھام کر اسے جھنجوڑا۔
“یاشم وہ۔۔۔۔ وہ کوئی آپ کو۔۔۔۔ شوٹ۔۔۔۔” وہ اٹک اٹک کر کہتی تیزی سے آس پاس نظریں گھما کر دیکھنے لگی۔
یاشم نے ٹریفک جام ہوتے اور لوگوں کا ہجوم بنتے دیکھا تو راعنہ کے کندھے کے گرد بازو حمائل کر کے آفس کے اندر لے آیا۔ اپنے کیبن میں اسے اپنی سیٹ پر بیٹھا کر خود اس کے آگے بیٹھا اور سر اوپر کو اٹھا کر راعنہ کے وحشت زدہ تاثرات دیکھنے لگا۔
“راعنہ ٹھیک سے بتائیں۔۔۔۔ کیا بات ہے۔۔۔۔ شروع سے بتائیں۔۔۔۔” اس کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھے نرمی سے گویا ہوا۔
راعنہ نے پسینہ صاف کرتے لمبا سانس لیا اور نوریز کی کال سے لے کر اس سے ملنے جانے تک کی ساری رو داد سنائی۔ یاشم کے آبرو پھیل گئے۔ وہ ہاتھ پہلو میں گرائے اٹھ گیا۔
“ملنے چلی گئی۔۔۔۔ اور مجھے بتانا ضروری بھی نہیں سمجھا۔۔۔۔ اس نے ایک دفعہ کہہ دیا اور آپ فوراً سے چل پڑی۔۔۔۔” یاشم کا لہجہ سخت ہونے لگا۔
راعنہ کی آنکھیں بھر آگئی تھی۔ یہ پہلی مرتبہ تھا جب اس نے یاشم کو سختی سے بات کرتے سنا۔ راعنہ کو احساس ہوا جانے انجانے وہ اسے بہت ٹھیس پہنچا گئی ہے۔
“سس۔سوری۔۔۔” راعنہ نے معذرت کرنا چاہی مگر یاشم بیچ میں ٹوک گیا۔
“نہیں راعنہ۔۔۔۔ بات سوری کی نہیں ہے۔۔۔۔ اعتبار کی ہے۔۔۔۔۔ میں یہاں اپنے سارے کام چھوڑ کر۔۔۔۔۔ الگ الگ وکیلوں سے بات کر رہا ہوں۔۔۔۔ پولیس کی سیفٹی لگا رہا ہوں۔۔۔۔۔ کس لیے۔۔۔۔ آپ کے لیے۔۔۔۔ ایلزینا کے لیے۔۔۔۔۔ اور آپ۔۔۔۔۔ میری ساری محنت پر پانی پھیر کر نوریز سے ملنے چلی گئی۔۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔۔” یاشم اس کے سامنے دائیں سے بائیں ہوتا شدید غصہ ہوا۔
اس کا غصہ کرنا جائز بھی تھا اس لیے راعنہ سر جھکائے بیٹھی رہی۔
“ایک مرد ہی دوسرے مرد کا اخلاق اچھے سے جانچ سکتا ہے۔۔۔۔ اور پھر نوریز صدیقی تو لڑکیوں کی معصومیت کا فائدہ اٹھانے میں ماہر ہے۔۔۔۔ ماضی میں جو ہوا۔۔۔۔ وہ ہوگیا پر اب۔۔۔۔۔” یاشم چئیر کے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر راعنہ کے چہرے کے عین سامنے جھکا اور تندی سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے غرایا۔
“اب تم۔۔۔۔ میری بیوی ہو راعنہ۔۔۔۔ یہ بات کبھی مت بھولنا۔۔۔۔۔” ایک ایک لفظ پر زور دیتے اس نے زور سے چئیر کے بازو پر ہاتھ مارا اور سیدھا ہو کر خود کو کمپوز کرنے لگا۔
راعنہ کے آنسو ٹوٹ کر رخسار پر لڑکھتے بہہ گئے۔ یاشم نے ‘تم’ کر کے مخاطب کیا جس سے یہ اندازہ صاف ہوگیا کہ اسے کس قدر دکھ ہوا ہے۔
“میں آپ کو مزید پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔ دوبارہ ایسی غلطی نہیں ہوگی۔۔۔۔” اسکی رندھی ہوئی آواز پر یاشم نے سرد سانس خارج کی اور راعنہ کے قریب جا کر اس کا سر اپنے سینے سے لگا لیا۔
“اٹس اوکے۔۔۔۔۔ اور آپ فکر نہ کریں۔۔۔۔ نوریز صرف آپ کو ڈرا رہا ہے۔۔۔۔ بلیک میل کر رہا ہے۔۔۔۔۔ مجھے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔” اب کی بار یاشم کی آواز نرم تھی۔
راعنہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ یاشم کے تاثرات میں وہی پیار اور نرمی امڑ آئی تھی جس نے اسے مزید ندامت کی گہرائیوں میں اتار دیا تھا اس لیے ایک بار پھر سر جھکا کر رو پڑی۔
“ششش۔۔۔۔ راعنہ۔۔۔۔ اٹس فائن۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ مت روئیں۔۔۔۔ آپ بے فکر ہو کر گھر جائیں۔۔۔۔۔ میں وکیل سے ملنے جا رہا ہوں۔۔۔۔ اور اب نوریز کی کوئی بھی کال آئے یا میسج۔۔۔۔ یا کچھ بھی۔۔۔۔ آپ نے رسپانس نہیں دینا۔۔۔۔۔” یاشم نے اس کا بھیگا چہرا اپنے ہاتھوں میں تھام کر محبت سے سمجھایا۔
راعنہ فوراً سے بیشتر سر اثابت میں ہلاتے اس کی بات مان گئی۔ تھوڑی دیر مزید اسے تسلی دے کر ڈرائیور کے ہمراہ گھر کے لیے روانہ کیا اور خود اپنی منزل کے جانب روانہ ہوگیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
شام کو یاشم گھر آیا تو کمرے کا دروازہ کھلتے اس پر گلاب کی پتیاں برس پڑی۔ اس نے اچھنبے سے اوپر دیکھا تھا۔ اس کے قدموں سے لے کر بیڈ تک چھوٹے بڑے رنگین کیو کارڈز پڑے تھے۔ وہ ایک ایک کارڈ کو اٹھا کر اس میں لکھے محبت کے وعدے پڑھنے لگا۔
“دل کا سکون صرف تم ہو۔۔۔۔” پہلے سرخ رنگ کے کارڈ پر لکھی یہ لائن پڑھ کر یاشم ہلکا مسکرایا مگر بظاہر جلد اپنے تاثرات ٹھوس بنا لیے۔
“جینے کا آسرا تم سے ہے۔۔۔۔” دوسرا کارڈ پڑھ کر یاشم نے کمرے کا مکمل جائزہ لیا۔
ہر سوں بڑے کینڈل لگائے گئے تھے۔ فضا پھولوں کی خوشبو سے معطر تھی۔ راعنہ کی تیاری سے محظوظ ہوتے وہ اگلا کارڈ پڑھنے لگا۔
“تم نے پھر سے ہنسنا سیکھایا۔۔۔۔” یہ لائن پڑھتے یاشم پورا مسکرا دیا۔
“کبھی کبھی میں بہت غلط ہوتی ہوں۔۔۔۔ پر تمہارا سہارا ٹوٹنے نہیں دیتا۔۔۔۔” اس لائن کے ساتھ رونے والی شکل بنائی گئی تھی۔
ان سب کارڈز کو جمع کرتے آخری کارڈ دل کی شکل کا بنا تھا۔ اسے کھول کر یاشم محبت سے سرشار ہوگیا۔
“آئی لو یو۔۔۔۔ فقط تمہاری۔۔۔۔ ” کارڈ واپس بند کرتے یاشم نے خود کو سنجیدہ بنایا۔
“راعنہ۔۔۔۔ باہر آو۔۔۔۔” یاشم نے مصنوعی خفگی سے پکارا۔
راعنہ معصوم شکل بنائے عقب کے ڈریسنگ روم میں سے باہر آئی۔ یاشم سرد مہری سے اس کے جانب مڑا کہ ٹھٹک گیا۔ بنا پلک جھپکائے وہ سامنے سے آتی دلکش حسینہ کو دیکھنے لگا۔
راعنہ بلیک کلر کے سلیف لیس لانگ گاون میں ملبوس۔ بالوں کو رول کر کے کھلے رکھے ہوئے۔ نفیس میک اپ کئے اس کے سامنے آئی۔ اس کا یہ روپ یاشم کے دل میں ہلچل مچا چکا تھا اس سے مزید ناراضگی کی اداکاری نہیں کی گئی۔ ایک پل کے لیے بھی وہ راعنہ کے سراپے سے نظریں نہیں ہٹا سکا۔
“یہ اچھا طریقہ ہے۔۔۔۔ ناراض شوہر کو تنگ کرنے کا۔۔۔۔ اب سمجھ نہیں آرہی۔۔۔۔ غصہ کروں یا پیار۔۔۔۔” یاشم نے منہ بھسورتے ہوئے سر جھٹکا۔
“دوسرا آپشن زیادہ بہتر رہیں گا۔۔۔۔۔” راعنہ بلش کرتے نرمی سے بولی۔
“اووو ریلی۔۔۔۔۔” یاشم نے اس کی بات پر آبرو اچکائے۔
راعنہ سر کو جنبش دیتے قریب آئی اور یاشم کے گلے میں اپنے بازووں کا حلقہ بنایا۔ یاشم خمار آلود نگاہوں سے اسے دیکھتے کمر کے گرد حصار بنا گیا۔
“ناراض ہو۔۔۔۔” دل میں خوف سا ابھرا تھا۔
“نہیں۔۔۔۔ ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔۔ وہ بس وقتی غصہ تھا۔۔۔۔” یاشم نے اس کی ڑیڑھ کی ہڈی پر انگلیاں پھیری۔
راعنہ نے سانس روک کر آنکھیں میچ لی۔ دونوں کے مابین فاصلہ مزید کم ہوگیا اور نزدیکیاں بڑھ گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
پیشی سے ایک رات پہلے راعنہ نے ایلزینا کو اپنے پاس سلایا۔ وہ افسردگی سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی اسے دیکھ رہی تھی۔
“اتنا مایوس نہ ہوں۔۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔” یاشم نے راعنہ کے سامنے بیڈ کے کنارے پر بیٹھ کر تسلی دی۔
“یہ مجھے تب ملی۔۔۔۔ جب میں جینے کی امید کھو چکی تھی۔۔۔۔ نوریز کے برتاو نے مجھے اپنے آپ سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔ پھر ایک دن مجھے اس ننھی جان کی نوید ملی۔۔۔۔ پہلے پہل دل میں آیا کہ اپنے ساتھ۔۔۔۔ اسے بھی ختم کر دوں۔۔۔۔ پر۔۔۔۔۔” راعنہ بے آواز آنسو بہاتی ماضی کی سوچوں میں کھو گئی۔
یاشم اس کے پہلو میں بیٹھا سنتا رہا۔
“پھر دل میں ایک خیال آیا۔۔۔۔۔ اور میں نے نئی امید کی لوہ جلائی۔۔۔۔ جس دن ایلزینا ہوئی۔۔۔۔ مجھے لگا میری کھوئی خوشیاں واپس مل گئی ہیں۔۔۔۔” راعنہ نے پھیکا مسکراتے ہوئے ہتھیلی سے آنسو صاف کئے۔
یاشم نے ہمدردی سے بغل میں سوئی ایلزینا کو دیکھا تھا۔
“اس دن سے میری ہر خوشی ہنسی۔۔۔۔ جینے کی امید اس سے جڑ گئی ہے۔۔۔۔ پتا ہے۔۔۔۔ رشتے تو آپ سے پہلے بھی آئیں تھے۔۔۔ پر میں اپنی بیٹی کے معاملے میں کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔ ایک عجیب سا ڈر لگا رہتا تھا۔۔۔۔ ” اب راعنہ نے نظروں کا رخ یاشم پر مرکوز کیا۔
جواباً یاشم مسکرا دیا۔
“پر اب۔۔۔۔ جب سوچتی ہوں کہ زینی مجھ سے دور ہوجائے گی تو۔۔۔۔ دل دہل جاتا ہے۔۔۔۔” اپنا خدشہ ظاہر کرتے راعنہ نے سرد آہ بھری۔
“زینی ہم سے الگ نہیں ہوگی۔۔۔۔ مانتا ہوں نوریز اس کا باپ ہے۔۔۔۔ پر آپ جیسی تربیت۔۔۔۔ اور دیکھ بھال وہ کبھی نہیں دے سکتا۔۔۔۔۔ آپ یہ سوچیں کہ اللہ اسے جس کے ساتھ بھی رکھیں۔۔۔ خوش اور آباد رکھیں۔۔۔۔” یاشم نے اپنے جانب سے سمجھانے کی کوشش کی۔
راعنہ نے دل میں دعا کرتے ایلزینا کو خود سے لگا لیا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
فیصلے کی گھڑی آن پہنچی تھی۔ یاشم اور راعنہ عدالت کے کوریڈور میں کھڑے تھے۔ ان کے سائیڈ میں آفان صاحب، شعیب صاحب اور حمدان بھی موجود تھے۔ دوسرے سرے میں وارث صاحب اور نوریز اپنے وکیل کے ہمراہ کھڑے باتوں میں مشغول تھے۔
ایلزینا کبھی مما کو دیکھتی۔ کبھی یاشم کو تو کبھی قدرے فاصلے پر کھڑے نوریز کو۔ اصل امتحان اس کا تھا۔ وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی۔ یاشم پنجوں کے بل بیٹھا اور ایلزینا کو کندھوں سے تھام کر اپنے جانب متوجہ کیا۔
“زینی۔۔۔۔ آپ کس کے ساتھ رہنا چاہتی ہو۔۔۔۔ ہمارے ساتھ۔۔۔۔ یا۔۔۔۔ نوریز کے ساتھ۔۔۔۔” اس کی آنکھوں میں دیکھتے سنجیدگی سے پوچھا۔
“آپ دونوں کے ساتھ رہنا ہے پاپا۔۔۔۔” زینی نے جھٹ سے جواب دیا۔
“بس جج کے سامنے بھی اتنا ہی کہنا ہے۔۔۔۔ صرف اتنی سی بات ہے اوکے۔۔۔۔ ڈونٹ وری۔۔۔۔” یاشم نے اسے خود سے لگا کر تسلی دی۔
زینی پر سکون ہوگئی۔ سر اثابت میں ہلاتے سیدھی ہوئی کہ ٹھٹک گئی۔ نوریز عین اس کے سر پر کھڑا تھا مگر اس کی نظریں یاشم پر مرکوز تھی۔
یاشم تند تاثرات بنائے کھڑا ہو گیا۔
“صرف پاپا بلوا لینے سے تم اس کے باپ نہیں بن جاو گے یاشم۔۔۔۔ خون وہ میرا ہی رہے گی۔۔۔۔” نوریز کی آواز میں طنز تھا۔
شعیب صاحب اور حمدان نے تندی سے اسے گھورا۔ وارث صاحب کے بھی آبرو تن گئے۔
“میرے نزدیک سب سے اہم جذبہ محبت اور انسانیت کا ہے مسٹر نوریز۔۔۔۔ محبت سے ہم ہر رشتے کو اپنا سکتے ہیں۔۔۔۔” یاشم نے اس کے طنز کو خاطر میں نا لاتے ہوئے جواب دیا۔
نوریز مزید کچھ کہتا اس سے پہلے رضوی صاحب آگے آئے اور اس کے کان میں سرگوشی کی۔ نوریز تاثرات نارمل بناتے ان کے پیچھے کمرہ عدالت میں داخل ہوگیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
“ممی۔۔۔ کیا زینی۔۔۔۔ پھوپھو سے الگ ہوجائے گی۔۔۔۔” ثمر نے ڈرائنگ کرتے ہوئے نادانی میں پوچھا۔
ساتھ بیٹھے ذیال اور مشائم نے فوراً سے ہڑبڑا کر اس کے جانب دیکھا تھا۔ ثمر نے خاموشی پر سر اٹھایا تو سب اسے دیکھ رہیں تھے۔ صدیف کے تاثرات سپاٹ تھے اور آیت آنکھیں چھوٹی کر کے اسے گھور رہی تھی۔
“وہ۔۔۔۔ دادو اور چاچو صبح بات کر رہیں تھے۔۔۔۔ زینی کورٹ گئی ہے نا۔۔۔۔۔” ثمر نے جھجکتے ہوئے اپنے سوال کی وضاحت دی اور سر جھکا لیا۔
“زینی، راعنہ کے پاس ہی رہے تو بہتر ہے۔۔۔۔۔ صدیقی فیملی کے ساتھ رہے گی تو ان ہی کے جیسے مطلبی ہوجائے گی۔۔۔۔۔” سرد مہری سے جواب دے کر صدیف اٹھ گیا۔
آیت نے اس کے طنز پر لب بھینجے رخ پھیر لیا۔
بچوں نے باری باری والدین کے اترے چہرے دیکھیں اور پھر سے سر جھکا کر ہوم ورک کرنے لگے۔
صدیف اپنے کمرے سے باہر آکر ممی کے پاس آگیا تھا جو لاونج کے بڑے صوفے پر بیٹھی نظریں دروازے پر مرکوز کئے ہوئے تھی۔
“ممی۔۔۔۔۔ ” صدیف کے آواز پر انہوں نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
صدیف صوفے کے بازو پر ٹک گیا اور ممی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دینے لگا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
کمرہ عدالت میں ہلکی چہ مگوئیاں چل رہی تھی جو جج صاحب کے تشریف لاتے تھم گئی۔ دونوں وکلا نے اپنے اپنے جانب سے کارروائی شروع کی۔
یاشم کے وکیل نوریز کے پرانے جرائم کے بنا پر اسے صحیح اور مخلص باپ کی زمہ داریوں سے یکسر جدا قرار دے رہا تھا اور رضوی صاحب راعنہ کو غیر زمہ دار ماں بنانے پر تلا ہوا تھا۔ بحث و مباحثہ جب یاشم کے وکیل کے ہاتھ میں جانے لگا تو رضوی صاحب یاشم کی کردار کشی کرنے لگے جس پر راعنہ کے تاثرات بدل گئے لیکن یاشم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ردعمل دینے سے روک لیا۔
“جناب پرائی بچی کون اپنے پاس رکھے گا۔۔۔۔ جب تک اس کا ذاتی مطلب نہ ہو۔۔۔۔ پھر ایلزینا نوریز تو ہیں ہی اتنی پیاری اور اب عمر بھی بڑھ رہی ہے تو کسی بھی مرد کی نیت بدل سکتی ہے۔۔۔۔ ” رضوی صاحب نے معنی خیز انداز میں جج صاحب کو سمجھانا چاہا۔
نوریز گردن اکڑا کر بیٹھا ساری کارروائی دیکھ رہا تھا۔ رضوی کے ہر لفظ پر اس کے دل میں ٹھیس سی اٹھتی۔ ایلزینا نے مایوسی سے اس کے جانب دیکھا تھا۔ نا جانے اس ننھی بچی کی نظروں میں دنیا جہاں کے کتنے گلے شکوے رقم تھے کہ نوریز کو سر جھکا کر اٹھنا پڑ گیا۔ وہ اٹھ کر کمرہ عدالت سے باہر آگیا اور اپنے شرٹ کے بٹن کھولتا تیز تیز سانس لینے لگا۔
ندامت کے احساس نے اس کے دل کو قابو کر لیا تھا مگر انا تھی جو اسے ڈرا رہی تھی۔ ایک مرتبہ پھر ماضی کے اوراق کھل کر سامنے بکھر گئے۔ نین کی وہ حسین مسکان جسے وہ خاک میں ملیامیٹ کر چکا تھا۔ راعنہ کی شادی کو نبھانے کی کوششیں جسے وہ پیروں تلے کچل چکا تھا۔ والدین کا سر شرم سے جھکا چکا تھا۔ اس وقت وارث صاحب کمرہ عدالت میں موجود ضرور تھے لیکن وہ نوریز کے بجائے شعیب صاحب کے بغل میں بیٹھے تھے۔ نوریز نے سر جھٹک کر پلکیں جھپکاتے ماضی کے خیالات مہو کرنے کی کوشش کی۔
“نوریز۔۔۔۔ کیا کر رہے ہو یہاں۔۔۔۔ چلو۔۔۔۔ جج صاحب ایلزینا کا بیان لے رہیں ہیں۔۔۔۔” رضوی تیزی سے باہر آیا اور نوریز کو بازو سے پکڑ کر اندر لیں جانے لگے۔
“وکیل انکل نے جو بھی کہا۔۔۔۔ مجھے سمجھ تو نہیں آیا۔۔۔۔ پر اتنا جانتی ہوں۔۔۔۔ غلط کہا ہے۔۔۔۔ یاشم پاپا بہت اچھے ہیں۔۔۔۔۔ مجھے ان کے ساتھ سیف فیل ہوتا ہے نا کہ گندا۔۔۔۔” زینی نے مضبوط عصاب کے ساتھ بولنا شروع کیا۔
نوریز وہی دہلیز پر رک گیا تھا۔
“مجھے مما اور یاشم پاپا کے ساتھ رہنا ہے۔۔۔۔ اپنے پاپا کے ساتھ نہیں۔۔۔۔” اپنی بات مکمل کر کے زینی بھاگتے ہوئے کٹہرے سے اتری اور راعنہ سے لپٹ گئی۔
یاشم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے تھپتھپایا۔ ان کے وکیل نے سر کے خم سے جیت کی نوید سنائی۔
دونوں جانب کا موازنہ کر کے جج صاحب گلا صاف کرتے ہوئے کنکارے اور ایلزینا کو دائمی طور پر راعنہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ سنایا۔
نوریز کے آبرو تن گئے۔ آنکھوں میں سختی در آئی۔ گردن کی رگیں تن گئیں۔ لمبے ڈگ بھرتا آگے آیا اور ایلزینا کا بازو دبوچ کر کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ لے جانے لگا۔ زینی اس کے سخت گرفت سے کراہ اٹھی۔ یاشم دوسرے کنارے سے اس کے سامنے آگیا۔
“نوریز جج صاحب فیصلہ سنا چکے ہیں۔۔۔۔” اس نے طیش سے کہتے ایلزینا کو واپس لینا چاہا۔
“تم تو دور ہی رہو۔۔۔۔۔” نوریز نے اسے دھکہ دے کر پرے گرا دیا۔
حمدان، شعیب صاحب، آفان صاحب حتہ کہ وارث صاحب بھی طیش میں آنے لگے۔
راعنہ نے تند تاثرات بنائے دوسرے بازو سے زینی کو پکڑ کر اپنے جانب کر لیا۔
“بس کر دو نوریز۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ بس کر دو۔۔۔۔” وہ اتنا اونچا بولی کہ کمرہ عدالت میں مچی ہڑبڑی رک گئی۔
نوریز نے زینی کا بازو چھوڑ دیا۔
“پتا ہے تمہارا مسئلہ کیا ہے۔۔۔۔۔ تمہاری انا تمہیں ہارتے ہوئے تسلیم نہیں کر رہی۔۔۔۔۔ یاد ہے تم نے مجھ سے کہا تھا کہ میری جان لے لو گے۔۔۔۔” راعنہ آبدیدہ ہونے لگی مگر خود کو کمپوز کرتے ہوئے گویا رہی۔
یاشم اس کے ساتھ خاموش کھڑا رہا۔
“اور تم جانتے ہو ایلزینا میں میری جان بستی ہے۔۔۔۔ اسی لیے تم اسے مجھ سے دور کرنا چاہتے ہو۔۔۔۔ نہیں تو تمہیں اس سے کوئی لگاو نہیں ہے۔۔۔۔۔ باپ جیسی کوئی شفقت نہیں ہے۔۔۔۔۔” راعنہ کی باتیں نوریز پر طمانچہ جیسے لگی۔
“اگر واقعی تمہیں ایلزینا سے محبت ہے۔۔۔۔ باپ کی شفقت ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ یہ لو۔۔۔۔ ” راعنہ نے بے بسی سے ایلزینا کا ہاتھ نوریز کے آگے کیا۔
نوریز لب بھینجے ساکت کھڑا رہا۔ اس نے دوبارہ ایلزینا کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش نہیں کی۔ راعنہ نے افسوس کرتے سر جھٹکا اور زینی کو خود سے لگا کر باہر جانے لگی۔ اس کے پیچھے یاشم بھی غصیلی نظروں سے اسے دیکھ کر باہر نکل گیا۔
“کیا مزید شرمندگی دکھانی باقی ہے۔۔۔۔ دل نہیں بھرتا تمہارا اتنا سب کر کے۔۔۔۔۔ تم جیسی اولاد ہونے سے تو بہتر ہے کہ میرا کوئی بیٹا ہی نا ہوتا۔۔۔۔” آخر میں وارث صاحب اپنے جانب سے اسے کوستے چلیں گئے۔
نوریز نے تھوک نگل کر حلق تر کیا اور تیزی سے سیڑھیاں اتر کر جانے لگا۔ رضوی صاحب خفیف ہوتے اس کے پیچھے آئے تو نوریز زچ ہوتے غرایا۔
“پلیز رضوی۔۔۔۔۔ اس وقت۔۔۔۔ مجھے اکیلا چھوڑ دو۔۔۔۔۔ آئی ریکویسٹ۔۔۔۔۔ جسٹ لیو می الون۔۔۔۔۔ ” انگلی اٹھا کر غضب ناک تاثرات بنائے تردید کرتے وہ رضوی کا جواب سنے بغیر چلا گیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
ڈرائیو کرتے ہوئے نوریز کو اچانک بائیں بازو پر شدید درد کا احساس ہوا۔ وہ سڑک کنارے کار روک کر سیٹ کی پشت پر سر ٹکا گیا۔
“تم ایک بہت ہی بے کار شخص ہو نوریز۔۔۔۔” اس کے آس پاس اپنے اندر کی آواز گونجی۔
“تم نے آج تک کچھ بھی ڈھنگ کا نہیں کیا۔۔۔۔۔ نا کسی کا دل جیتنا آیا۔۔۔۔۔” نین کا عکس اس کی آنکھوں میں لہرایا۔
“نا کسی سے تعلق نبھانا آیا۔۔۔۔” اب کی بار راعنہ کی تصویر نظروں میں ابھری۔
“تم میں کچھ بھی خاص نہیں ہے۔۔۔۔ نا اچھا بیٹا بن سکے نا اچھے بھائی نا شوہر اور نا اچھے باپ۔۔۔۔۔” ایک ایک کر کے افسوس کی گہرائیوں میں اتر گیا۔
“تمہاری یہاں کسی کو ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔ تمہارے بغیر سب مکمل ہے اور بہترین بھی۔۔۔۔۔ اب تو اپنی ہار تسلیم کر لو۔۔۔۔ راعنہ کی سچائی جیت گئی۔۔۔۔ تمہارا جھوٹ ہارگیا۔۔۔۔” نوریز نے اففف کرتے لمبا سانس خارج کیا اور اسٹرینگ پر مقے مارتا اپنا طیش کم کرنے لگا۔
احساس ندامت سے گھرے اس نے کار دوبارہ اسٹارٹ کیا اور پہلے گھر جاکر والدین سے اور پھر راعنہ سے معافی مانگنے کا فیصلہ کیا۔ پہلی مرتبہ اس کی آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر افسردگی تھی۔
بازو کا درد پھیلتا ہوا کندھے تک جا پہنچا تھا۔ درد کی شدت اس کے چہرے کے عضلات پر نمایاں تھی۔ ایک پل کو لگا وہ اپنا بایاں ہاتھ ہلا نہیں پا رہا۔ دل کی رفتار معمول سے بڑھ گئی ہے۔ نوریز کے ماتھے پہ پسینہ نمودار ہوا۔ آنکھوں میں خوف سا آن ٹھہرا تھا۔ اس نے خوف سے لرزتے کار کی اسپیڈ بڑھا دی مگر یہی اس کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی کیونکہ نا صرف بایاں ہاتھ بلکہ بایاں پیر بھی حرکت سے قاصر تھا۔ بریک نا دبنے کی وجہ سے کار اس کے اختیار سے باہر نکلنے لگی۔ وہ دائیں ہاتھ سے اسٹرینگ کو بیلنس رکھنے کی کوشش کرنے لگا مگر ناکام رہا۔
“کیا ہورہا ہے یہ سب۔۔۔۔” وہ درد اور غصے سے چلایا کہ دماغ میں جھماکہ سا ہوا۔
“تمہیں ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔۔۔۔ اگلا اٹیک تمہاری جان لے سکتا ہے۔۔۔۔” ڈاکٹر کے الفاظ اس کے سماعتوں میں گھومنے لگے۔
انسان دنیاوی زندگی میں اس قدر مگن ہوجاتا ہے کہ اللہ کی پکڑ بھول جاتا ہے۔ یہ خیال تک نہیں رہتا کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے اور نوریز کو اللہ کی لاٹھی پڑ چکی تھی۔ گلے میں طوق ڈال دی گئی تھی۔ اسے ندامت کا احساس تو ہوگیا مگر معافی کا موقع نا ملا۔ توبہ کے دروازے اس پر بند ہوچکے تھے۔
ایک دھماکے سے اس کی کار الٹتے ہوئے ہائے وے کے دیوار سے جا ٹکرائی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
بٹ ہاوس اور شاہ پیلس میں خوشیوں کا سماء تھا۔ غم کے بادل جھڑ چکے تھے۔ راعنہ کو اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے مل گئی۔ یاشم اسے یوں خوش دیکھ کر بہت اچھا محسوس کر رہا تھا۔
“میں آپ کا جتنا شکریہ ادا کروں کم ہے۔۔۔۔ ” راعنہ نے اظہار محبت کیا۔
“زینی آپ کی جان ہے۔۔۔۔ اور آپ میری۔۔۔۔ میں اپنی جان کے لیے اتنا تو کر سکتا ہوں۔۔۔۔” یاشم نے پذیرائی وصول کرتے اسے خود سے لگایا۔
پوری بٹ فیملی شاہ پیلس میں اکٹھی ہوئی تھی۔ آیت بظاہر تو خوش نظر آرہی تھی مگر دل ہی دل اپنے گھر والوں کا سوچ کر پریشان بھی تھی۔
“راعنہ۔۔۔۔ اب تو سب ٹھیک ہوگیا ہے۔۔۔۔ تم اب بھی مجھ سے خفہ ہو۔۔۔۔” جاتے ہوئے آیت نے راعنہ کو سب سے الگ لے جا کر پوچھا تھا۔
“کچھ چیزیں ایک مرتبہ ٹوٹ جائے۔۔۔۔ تو دوبارہ کبھی نہیں جڑ سکتی آیت۔۔۔۔۔ میرا دل بھی تم سے کچھ اسی طرح ٹوٹا ہے۔۔۔۔ میں تم سے خفا نہیں ہوں۔۔۔۔ پر میرے دل میں تمہارے لیے کوئی جذبہ بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔ تم میرے لیے نیوٹرل شے ہو۔۔۔۔” دو ٹوک انداز میں جواب دے کر راعنہ آگے بڑھ گئی اور آیت اسے جاتے دیکھتے رہی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔
NOTE:
