Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Nadamat) Episode 1

بٹ ہاوس میں صبح کا آغاز معمول کے مطابق ہوا۔ راعنہ نے انگڑائی لیتے کھڑکی پر سے پردے ہٹائے اور گھوم کر بیڈ کے دوسرے حصے میں سوئی نو سالہ بیٹی ایلزینا کو جگانے لگی۔
“زینی۔۔۔۔ ایلزینا۔۔۔۔ گڈ مارننگ میری پرنسس۔۔۔۔ چلو اٹھو۔۔۔۔ شاباش۔۔۔ ” راعنہ اس کے سرہانے بیٹھی ہلکے آواز میں پکارتے ایلزینا کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
ایلزینا نے سر جھٹکتے ہوئے راعنہ کا ہاتھ ہٹایا اور کروٹ بدل لی۔ راعنہ لب بھینجے اٹھی اور کمفرٹر تہہ کرنے لگی۔
“زینی دن چڑھ گیا ہے۔۔۔۔ چلو بھی۔۔۔۔ اٹھو۔۔۔۔ پھر ہمیں نانو کے ساتھ شاپنگ پر بھی جانا ہے۔۔۔۔ اگر تم ابھی نا اٹھی تو میں تمہیں چھوڑ کر چلی جاوں گی۔۔۔۔” راعنہ نے سپاٹ آواز میں دھمکایا تو ایلزینا بند آنکھوں کو زبردستی کھولنے کی کوشش کرتے اپنی جگہ پر اٹھ بیٹھی۔
راعنہ نیند سے جُھولتی زینی کو شاپنگ کے نام پر اٹھ بیٹھتے دیکھ کر مسکرا دی تھی۔ کمفرٹر صحیح کر کے راعنہ نے بیٹھے ہوئے سوئی ایلزینا کو گود میں اٹھایا اور واشروم میں چلی گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
سنڈے کی صبح بٹ ہاوس کے سبھی مکین دیر سے اٹھے تھے۔ شعیب بٹ صاحب سفید قمیض شلوار میں ملبوس آنکھوں پر گلاسس لگائے ہاتھوں میں اخبار لیئے اوپن کچن سے منسلک ڈائننگ ٹیبل پر آن بیٹھے۔ عاطرہ بیگم اپنی چھوٹی بہو اریبہ کے ہمراہ ناشتے کے اہتمام میں مصروف تھیں۔
حمدان بٹ ٹریک ٹراؤزر اور سمپل بلیک ٹی شرٹ پہنے گیلے بال ماتے پر بکھیرے رکھے ڈائننگ ایریا میں آیا اور سلام کرتے ہوئے بابا کے رائٹ سائیڈ پر نشست سنبھالی۔
“حمدان۔۔۔ وہ جاپانی سپانسر کے ساتھ کل میٹنگ رکھوا لو۔۔۔۔” شعیب صاحب نے اخبار تہہ کر کے آنکھوں پر سے گلاسس ہٹاتے ہوئے بیٹے کو مخاطب کیا۔
“جی بابا میں انہیں ای میل بھیج چکا ہوں۔۔۔۔” حمدان نے موودب انداز میں جواب دیا۔
ایلزینا گلابی ڈریس پہنے اور کندھوں تک آتے بالوں میں میچنگ ہیئر بینڈ لگائے راعنہ کا ہاتھ تھامے سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی۔
“گڈ مارننگ نانو۔۔۔۔۔” نیچے آتے ہی وہ بھاگ کر کچن میں در آئی اور عاطرہ بیگم کے گرد ہاتھوں کا گھیرا بنایا۔
“اٹھ گئی میری گڑیا۔۔۔” عاطرہ بیگم نے جھک کر اس کے گال پر پیار کیا۔
راعنہ ان دونوں کو پیار سے دیکھتے ہوئے اپنی بھابھی کے سائیڈ آگئی اور ٹرے میں لوازمات رکھ کر لیں جانے لگی۔
“نانو۔۔۔۔ شاپنگ پہ جائیں گے نا۔۔۔۔” ان سے لگے ہی ایلزینا کی فرمائش تیار ہوئی تھی۔
“پہلے ناشتہ تو کر لو گڑیا۔۔۔۔ پھر چلیں گے۔۔۔” عاطرہ بیگم اسے لیں کر ڈائننگ ٹیبل پر آئی۔ اسے حمدان کے سائیڈ بیٹھا کر وہ شیعب صاحب کے مقابل سربراہی سیٹ پر تشریف فرما ہوگئی۔
حمدان اور ایلزینا میں پیار بھری نظروں کا تبادلہ ہوا۔ راعنہ نے اس کے آگے دودھ سے بھرا گلاس اور املیٹ رکھا تو ایلزینا کا چہرا اتر گیا۔
“مجھے انڈے اور دودھ نہیں پسند۔۔۔۔” اس نے منہ بنائے بے دلی سے دوسری چیزوں پر نگاہ ڈالی تھی۔
“پسند تو مجھے بھی نہیں ہے۔۔۔۔ پر صحت کے لیے بہت اچھا ہے۔۔۔۔ اس لیے کھانا تو پڑے گا۔۔۔۔ چلو کھاو۔۔۔”حمدان نے اپنے سامنے پڑے آملیٹ کو دیکھ کر بچوں کے سے انداز میں منہ بنایا تو ایلزینا کھلکھلا کر ہنس پڑی پھر اپنے ناشتے کے جانب متوجہ ہوگئی۔
ناشتے کے دوران خاموشی چھائی رہی۔ چائے کا آخری گھونٹ پی کر شعیب صاحب گویا ہوئے۔
“راعنہ۔۔۔۔ تمہاری جاب کا کیا بنا۔۔۔۔۔” انہوں نے اپنی سوچوں سے باہر نکل کر راعنہ کو مخاطب کیا تھا۔
راعنہ جو سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی؛ چونک کر سیدھی ہوئی۔
“جی بابا سلیکشن ہوگئی ہے۔۔۔ کل سے جوائن کرنا ہے۔۔۔۔” اس نے خوشی کے تاثرات چہرے پر سجائے تھے۔
راعنہ کی یہ خوشی مصنوعی ہے، یہ بات سب جانتے تھے۔ شعیب صاحب نے سر کو اثابت میں جنبش دیا۔
حمدان نے دل میں راعنہ کی جاب لگنے پر شکر ادا کیا اور اپنے لیے دوسرا کپ چائے کا بھرا۔ اسی اثنا حمدان اور اریبہ کا آٹھ ماہ چھوٹا بیٹا والکر میں چھوٹے چھوٹے قدم رکھتے ڈائننگ ٹیبل کے پاس آیا۔ حمدان نے جھک کر اسے والکر سے نکالا۔ پاپا کی گود میں آتے ہی اس شرارتی بےبی کی میز پر سجے رنگ برنگے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھ کر آنکھیں چمک اٹھی اور ایک جھٹکے سے چائے کے کپ پر جھپٹا۔ حمدان بیٹے کی اس حرکت سے آشنا نہیں تھے پھر بھی اس کے ہاتھ کو پکڑ کر فوراً سے بیشتر کھڑے ہوگئے۔ اس کے اچانک کھڑے ہونے پر سب گھبرا گئے۔ حمدان کے سرہانے کھڑی اریبہ نے تیزی سے ہاتھ بڑھا چائے کا کپ سنبھال لیا ورنہ چائے حمدان کے ران پر گر جاتی۔
“مصور۔۔۔ شیطان۔۔۔۔ ابھی پاپا کو جلا دیا تھا۔۔۔۔ ” اریبہ بیٹے کو حمدان کے گود سے لے کر ڈپٹنے لگی۔
“اچھا ہوا حمدان نے نوٹ کر لیا اور کھڑا ہو گیا ورنہ اس کا اپنا ہاتھ جل جاتا۔۔۔۔” راعنہ نے بھابھی کی تصحیح کی تھی۔
ایک پل کے لیے ماحول گھمبیر ہوگیا۔ اریبہ نے مصور کو واپس والکر میں بیٹھایا اور لاونج کے خالی ایریا میں رکھے کھلونوں کے پاس لے آئی۔ ایلزینا ان کے پیچے بھاگ گئی اور مصور کے ساتھ کھیلنے لگی۔ ماحول کا تناو کم ہوا تو سب اپنی اپنی خوش گپیوں میں مصروف ہو گئے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
ایسی ہی ایک صبح صدیف بٹ کے گھر میں ہوئی تھی۔ ان کے دونوں بیٹے، 10 سالہ بڑا بیٹا ذیال اور 7 سالہ دوسرا بیٹا ثمر کھیل کود میں مصروف تھے جبکہ 4 سالہ بیٹی مشائم کمرے میں بند ہو کر ناراضگی کا مظاہرہ کر رہی تھی۔
صدیف ناشتہ کر کے اٹھ رہے تھے کہ آیت نے انہیں مخاطب کر کے روک لیا۔
“کل ذیال اور ثمر کے اسکول میں ٹیچر پیرنٹس میٹنگ ہیں۔۔۔ ہم دونوں کو بلایا ہے۔۔۔۔ ” اس کے آگے آیت نے بات نا مکمل چھوڑ دی۔
“تم جا کر مل لینا۔۔۔۔ مجھے کل ضروری کام ہے۔۔۔۔” پچھلے پانچ سالوں کے جیسے آج بھی صدیف کا رویہ سخت تھا۔
“پر صدیف۔۔۔۔ پرنسپل نے خاص طور پر آپ کو ساتھ لانے کا کہا ہے۔۔۔” آیت کی آواز میں خفگی در آئی تھی۔ وہ شکوہ کن لہجے میں بولی۔
“میری طرف سے معذرت کر لینا۔۔۔۔۔ انہیں مجھ سے متعلق جو بھی کام ہے مجھے کال کر کے بتا دیں۔۔۔۔”صدیف اپنی بات پر ڈٹے رہیں۔
ماں اور باپ کو بحث کرتے دیکھ کر ذیال اور ثمر بے دلی سے ڈائننگ ٹیبل کے پاس پڑے صوفے پر بیٹھ گئے۔ ہر دوسرے دن ان کے گھر ایسی تکرار چلتی رہتی۔ اب تو ان بچوں کو ماں باپ کی تکرار دیکھنے کی عادت سی ہوگئی تھی۔
“صدیف یہ ہماری فیملی ہے۔۔۔۔ ہمارے بچے ہیں۔۔۔ ہمیں مل کر ان کے فیوچر کو بنانا ہے۔۔۔۔” آیت نے رنجیدہ ہوتے وضاحت دینا چاہی پر صدیف بلند آواز میں اس کی بات کاٹ گئے۔
“ہاں تو میں اپنی ذمہ داریاں دیکھ رہا ہوں نا۔۔۔۔۔ دن رات لگا کر بزنس سیٹل کیا ہے۔۔۔۔ یہ گھر بنایا ہے۔۔۔۔ گھر کا۔۔۔ بچوں کا۔۔۔۔ تمہارا۔۔۔۔ ہر خرچہ پورا کر تو رہا ہوں۔۔۔۔” صدیف روز روز کے گلے شکوے سے زچ ہوگئے۔
“صرف اتنا کافی نہیں ہے صدیف۔۔۔۔۔ بچوں کو باپ کا وقت۔۔۔ اس کا پیار بھی چاہیئے ہوتا ہے۔۔۔۔ پر آپ نے خود کو کام میں اتنا الجھا لیا ہے کہ آپ کو یہ تک یاد نہیں آج ہماری بیٹی کی سالگرہ ہے۔۔۔۔۔” آیت اتنی ہی اونچا بولی تھی۔ صدیف کے عصاب ڈھیلے پڑ گئے۔
“اس کی سالگرہ منانا۔۔۔۔ اس کے لیے کوئی گفٹ لانا تو دور کی بات۔۔۔۔ رات کو میرے بتانے کے باوجود بھی آپ نے اسے اب تک وش بھی نہیں کیا۔۔۔۔ وہ اس دکھ میں صبح سے کمرے سے باہر نکلنے کا نام نہیں لے رہی کہ پاپا نے وش نہیں کیا۔۔۔۔۔ “بولتے بولتے آیت کی آواز بھیگ گئی تو وہ خود کو کمپوز کرنے خاموش ہوگئی۔
ذیال اور ثمر ایک دوسرے کو اشارہ کر کے اٹھے اور مشائم کے کمرے کے جانب بھاگ گئے۔
“میں آپ سے اپنے لیے کچھ نہیں مانگ رہی۔۔۔۔ بس اپنے بچوں کو ان کا پاپا دلانے کی کوشش کر رہی ہوں۔۔۔۔ جو دنیا کی بھیڑ میں کھو گئے ہیں۔۔۔۔” آخری شکوہ کر کے آیت رکی نہیں تھی۔
صدیف نے لمبا سانس لے کر سر بلند کر کے افسوس میں لب بھینجے اور پھر موڈ خوشگوار بنا کر بچوں کے کمرے کے سمت بڑھ گئے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
دروازہ کھول کر صدیف نے اندر جھانکا تو مشائم سر جھکائے بیڈ پر بیٹھی تھی اور دونوں بھائی مل کر اسے منانے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ غصے سے منہ بناتی ان کو خود سے دور کر دیتی پھر واپس سر جھکا لیتی۔
“مشائم۔۔۔۔ مشی۔۔۔۔ ” صدیف نے پیار سے اسے مخاطب کیا تھا۔ اس نے سر اٹھا کر ایک نگاہ پاپا پر ڈالی اور پھر سے ناراضی کا اظہار کرتے سر جھکا دیا۔
“پاپا سے ناراض ہو۔۔۔۔ پر میں نے تو آپ کے لیے سرپرائز تیار کروایا تھا۔۔۔۔ اب آپ ناراض ہو۔۔۔ تو پھر میں سرپرائز کس کو دوں۔۔۔۔” صدیف نے معصومیت سے آنکھوں کی پتلیاں گھمائی تھی۔
مشائم کے چہرے پر رونق لوٹ آئی۔ وہ چھوٹی آنکھیں جھپکا کر انہیں دیکھنے لگی۔ ثمر تو سرپرائز کا سن کر خوش ہوگیا تھا پر چونکہ ذیال بڑا اور سمجھدار تھا اس لیے بنا تاثر لیے بیٹھا رہا۔
“سرپرائز۔۔۔۔” مشائم نے ہونٹوں کو گول گول کر کے لفظ ادا کیا۔
“ہممم۔۔۔۔ وہ سرپرائز نا بہت بڑا ہے۔۔۔۔۔ کل لے آتا تو سرپرائز ختم ہوجاتا۔۔۔۔ اس لیے ابھی ہم مل کر جائیں گے اور وہ سرپرائز لائیں گے۔۔۔۔” صدیف نے مشی کو بازووں میں اٹھا کر پیار کیا۔ مشی پاپا کی داڑھی مونچھ چنبنے سے کسمسا کر ان کے بازووں سے الگ ہوگئی۔
“اوکے پاپا میں تیار ہو کر آتی ہوں۔۔۔ پھر سرپرائز لینے چلیں گے۔۔۔” مشی چہکتے ہوئے بیڈ سے اتری اور واشروم میں در آئی۔
“پاپا ہم بھی چلیں۔۔۔۔” ثمر نے پاپا کے گلے میں ہاتھ ڈال کر التجائی کہا۔
“بالکل۔۔۔ جاو تم دونوں بھی تیار ہوجاو۔۔۔۔” صدیف اس کی فرمائش مان گئے۔
“چلو بھئیاں۔۔۔۔ تیار ہوتے ہیں۔۔۔۔” ثمر نے ذیال کو جھنجوڑا تھا اور بیڈ سے اتر کر باہر نکل گیا۔ ذیال پاپا کا جھوٹ سمجھ گیا تھا پر ان سے شکایت کئے بغیر سست روی سے اٹھ کر چلا گیا۔
کمرے میں اکیلے ہو کر صدیف ٹراؤزر کے جیب میں سے موبائل نکال دوست کو کال ملانے لگا۔ سرپرائز کا کہہ دیا تھا تو اب انتظام بھی کرنا تھا۔
“زبیر۔۔۔ مجھے آدھے گھنٹے کے اندر پیارا سا برتھ ڈے کیک اور بڑا سا ٹیڈی بیئر گفٹ پیک چاہیئے۔۔۔۔” کال موصول ہوتے ہی وہ جلدی سے بولے تھے۔
زبیر، صدیف کا اچھا دوست ہونے کے ساتھ ساتھ گفٹ شاپ اونر بھی تھا۔
“صدیف۔۔۔ آدھا گھنٹہ تو بہت کم ٹائم ہے۔۔۔۔ کیک تیار ہونے میں کم سے کم دو گھنٹے تو لگتے ہیں۔۔۔۔ اور بڑا ٹیڈی بیئر گفٹ پیک کروانے میں بھی وقت لگے گا۔۔۔۔” زبیر نے الگ الگ دلائل بتائے۔
“میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔۔۔۔ ایکچیولی میری بیٹی کی سالگرہ ہے اور میں بھول گیا تھا۔۔۔۔ پلیز کچھ کرو۔۔۔۔ میں اسے تھوڑی تک تمہاری شاپ پر لا رہا ہوں۔۔۔۔ تب تک تیار کروا دینا۔۔۔۔ سارے کاریگر لگا دو۔۔۔ میں ڈبل پے کر دوں گا۔۔۔۔” صدیف نے پیشانی مسلتے ہوئے اپنی مجبوری بتائی۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔ پر کم سے کم بھی ایک ڈیڑھ گھنٹہ لگے گا۔۔۔۔” زبیر نے بات مان لی تو صدیف مسکرا کر مشکور ہوا۔
الوداعی کلمات کہہ کر اس نے کال کاٹی اور مڑا تھا کہ ٹھٹک گیا۔ آیت سینے پر ہاتھ باندھے کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔
صدیف نظریں چراتے اس کے سائیڈ سے گزر کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ آیت نے سرد سانس خارج کر کے سر جھٹکا اور مشائم کو تیار کرنے ڈریسنگ روم میں در آئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
ایک گھنٹے کے بعد صدیف اور تینوں بچے آئس کریم کے شاپ میں بیٹھے آئس کریم نوش فرما رہیں تھے۔ یہ وقت گزاری کا طریقہ تھا تاکہ زبیر کو گفٹ اور کیک تیار کروانے کے لیے زیادہ وقت ملے۔ آئس کریم کھا کر صدیف بچوں کو پلے لینڈ لے گیا اور آدھ گھنٹہ وہاں گزار کر بالآخر ڈیڑھ گھنٹے بعد زبیر کی شاپ پر آئے تو دونوں چیزیں تیار تھیں حتی کہ زبیر نے اپنے جانب سے مشائم کو چھوٹی سی ڈول بطور برتھ ڈے گفٹ بھی دی۔
مشائم بڑے بڑے باکسس دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ کیک کی مہک سے ذیال اور ثمر کو بھوک لگنے لگی۔ دونوں گفٹ باکسس کار میں رکھوا کر صدیف نے زبیر کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور گھر کے لیے روانہ ہوگیا۔
“ممی۔۔۔۔ ممی۔۔۔ یہ دیکھو۔۔۔۔ اتنا بڑا کیک۔۔۔۔” مشائم چہکتے ہوئے لاؤنج میں بھاگ آئی۔ اس کے پیچھے صدیف ایک ہاتھ میں کیک کا باکس اور دوسرے میں ٹیڈی بیئر لیئے داخل ہوئے۔
آیت آگے آئی اور ان کے ہاتھ سے کیک لے کر سینٹرل ٹیبل پر رکھ کر وہ کچن سے چری اور پلیٹیں لینے گئی تو اتنی دیر میں مشائم نے اپنے دونوں بھائیوں کے ساتھ مل کر گفٹ کھولا اور پنک کلر کا بڑا سا ٹیڈی بیئر دیکھ کر وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔
“واو۔۔۔۔ بہت اچھا ہے۔۔۔۔۔ تھینکیو پاپا۔۔۔۔ بہت اچھا گفٹ ہے۔۔۔” مشی مشکور ہوتے پاپا سے لپٹ گئی تھی۔
صدیف نے اسے پیار کیا اور سب کیک کے گرد جمع ہوگئے۔ ابھی وہ کیک کٹ کرنے لگے تھے کہ ذیال اور ثمر کے کمرے میں سے ان کے ٹیب پر کال آنے لگی۔ تینوں بچوں میں کھلبلی مچ گئی۔ ایک دوسرے کو چمکتی آنکھوں سے دیکھ کر وہ کمرے کے جانب لپکے۔
“مشی۔۔۔ کیک تو کٹ کر لو۔۔۔۔” صدیف نے صدا لگائی۔
“بعد میں پاپا۔۔۔۔ پہلے کال۔۔۔۔” مشی جوابی صدا لگا کر کمرے میں چلی گئی۔
“کس کی کال ہے۔۔۔۔۔” صدیف نے حیرت سے آیت کو دیکھا تھا۔
“پتا نہیں۔۔۔۔” وہ جانتے ہوئے بھی انجان بن گئی اور نظریں چرا کر اپنے بیڈروم کے سمت گامزن ہوئی۔
صدیف سوچ میں پڑ گیا تھا۔ وہ آبرو ملائے بچوں کے کمرے کے جانب بڑھ گئے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
بچے آگے پیچھے بھاگتے ٹیب پر جھپٹ پڑے۔ ذیال نے تیزی سے اسکائپ کی کال موصول کی اور ٹیب چہرے کے آگے کر کے سلام کیا۔ اس کے دائیں اور بائیں ثمر اور مشائم بیٹھ چکے تھے۔ ذیال کے بعد باری باری ان دونوں نے سلام کیا اور مشائم کو ناراضگی ظاہر کرنے میں ایک لمحہ نہیں لگا۔
“میں آپ سے بہت خفہ ہوں دادو۔۔۔۔ آپ کو ہم سے پیار ہی نہیں ہے۔۔۔۔ ہر دفعہ کہتی ہیں اگلی سالگرہ پر ہم سے ملنے آئیں گی پر نہیں آتی۔۔۔۔ آپ کو بس۔۔۔۔۔ چاچو کا بیٹا پیارا ہے۔۔۔۔ اسی کے پاس رہتی ہیں۔۔۔۔” مشائم نے منہ بنائے معصومیت سے شکوہ کیا۔
“ہاں دادو۔۔۔۔ آپ ہر دفعہ پرامس توڑ دیتی ہیں۔۔۔۔” ثمر بھی مشی کے حمایت کرتے ہوئے بولا۔
“ہہہہہ۔۔۔۔ ایسی بات نہیں ہے میری بچی۔۔۔۔ مجھے آپ سب بھی بہت پیارے ہو۔۔۔۔” عاطرہ بیگم انہیں پیار سے سمجھانے لگی تھی۔
“میرے جوڑوں میں درد رہتا ہے۔۔۔۔ اس لیے وہاں نہیں آسکتی۔۔۔۔۔ ” انہوں نے بہانہ کیا تھا پر ان کے چہرے پر مجبوری کے باعث امڑتی تکلیف واضح تھی جو بچے سمجھ نا سکے۔
“پر وعدے کے مطابق میں کال تو کرتی ہوں نا۔۔۔۔ سلگرہ بہت مبارک ہو میری بچی۔۔۔۔ اللہ خوش رکھیں آباد رکھیں۔۔۔۔ تم سب میں یہ اتفاق اور اتحاد قائم و دائم رہیں۔۔۔۔ آمین۔۔۔۔” مشائم کو دعا دیں کر انہوں نے آمین بھی خود کہا۔
“اچھا مشی بتاو۔۔۔۔۔ کیک کھایا۔۔۔۔ ممی نے کیا گفٹ دیا اور پاپا نے۔۔۔۔ ” دادو نے بچوں کے مزاج کو اچھا بنانے سالگرہ کے متعلق سوال کرنے لگی اور جواب میں مشی اپنے گفٹس گنوانے لگی۔
صدیف بنا آواز کئے دروازے کا ناب گھما کر اندر داخل ہوا تو اسکرین پر وہ چہرہ دیکھا جن کو رو بہ رو دیکھیں مدت بیت گئی تھی۔ اس کی ممی کے آنکھوں کے گرد حلقے بڑھ گئے تھے اور چہرے پر چار چھ جھریاں اضافہ ہوگئی تھیں پر ماں سے ملنے کی وہ تڑپ آج بھی صدیف کو آبدیدہ کر گئی۔ اس جانب بچوں کی پشت تھی اس لیے وہ اپنے پاپا کی طرف متوجہ نہیں ہوئے اور ذیال نے ٹیب اپنے چہرے کے بہت قریب پکڑا تھا جس میں ثمر اور مشائم اس کے کندھے سے سر لگائے کیمرے میں فٹ ہونے کی جتن میں مصروف رہیں اس لیے عاطرہ بیگم بچوں کے پیچھے کھڑے صدیف کو دیکھ نہیں پائی۔
صدیف کی آگے بڑھ کر ان سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہوسکی اس لیے الٹے قدم واپس باہر آگیا۔ اس کے ذہن میں پانچ سال پہلے کے اس شام کا عکس لہرانے لگا جب وہ آیت اور دونوں بیٹوں کو لیئے گھر سے نکلا تھا۔
آیت ملازمہ کے سر پر کھڑی گھر کی صفائی کروا رہی تھی اور لانڈری کے لیے چند ہدایات گوش گزار کروا رہی تھی جب اس نے صدیف کو تیزی سے بیڈروم کے سمت جاتے دیکھا۔ وہ ان کی حالت سمجھ گئی تھی۔ ملازمہ کو کام سمجھا کر وہ بیڈروم میں داخل ہوئی تو صدیف ہاتھ کی مٹھی بنا کر منہ پر رکھے مضطرب کھڑے تھے۔
“ہم نے گھر چھوڑا تھا صدیف۔۔۔۔ بٹ ہاوس کے مکینوں سے رشتہ نہیں توڑا۔۔۔۔ ممی ہر سنڈے کال کر کے بچوں سے بات کرتی ہیں۔۔۔۔” آیت صبح کے بہ نسبت بہت ہی نرم لہجے میں گویا ہوئی۔ اس نے صدیف کا بازو تھام کر اس کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
“کیا بابا اور حمدان بھی بات کرتے ہیں۔۔۔” یہ سوال غیر متوقع طور پر ہوا تھا۔ آیت نے اس کے کندھے پر سے سر اٹھا کر صدیف کے چہرے کو دیکھا۔ اچانک ہی وہ اسے بہت تھکا ہارا لگا تھا۔
“راعنہ کرتی ہے۔۔۔۔۔ ” آیت کی خاموشی پر صدیف نے دوسرا سوال کیا تھا۔
آیت کے پاس ان دونوں سوالوں کے جوابات نہیں تھے۔ وہ صدیف سے جھوٹ نہیں بولنا چاہتی تھی اور سچ وہی تھا جو اس کی خاموشی بیان کر گیا تھا۔
“ہم نے رشتہ نہیں توڑا آیت۔۔۔۔ پر وہ ہمیں اب اپنا حصہ نہیں سمجھتے۔۔۔۔ ممی تو دادی ماں ہے۔۔۔۔ دادی تو ماں سے بھی ایک درجہ بڑھ کر ہوتی ہیں۔۔۔۔ بیٹے سے بات ہو یا نہ ہو۔۔۔۔ پر پوتے پوتی سے ہر سنڈے بات کرتی ہیں۔۔۔۔ لیکن باقی سب کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔” افسوس سے سر جھٹک کر وہ لمبا سانس خارج کرتے کمرے سے باہر نکل گئے۔
آیت کھڑکی کے پاس گم صم کھڑی رہی۔ کار اسٹارٹ ہونے کی آواز پر چند آنسو ٹوٹ کر اس کے رخسار پر لڑکھتے تھیوڑی کو بھیگا گئے۔ آنکھیں بند کر کے بقیہ آنسو اندر اتار کر وہ اپنے معمول کے کاموں میں جٹ گئی۔ صدیف اپنے رستے زخم اکیلے رہ کر سینے کی کوشش کرتا تھا اس لیے آیت اس کے یوں گھر سے نکل جانے پر پریشان نہیں ہوئی۔ لب بھینجے وہ اس طوفان کی زد میں آنے سے پہلے کا وقت یاد کرنے لگی جس طوفان کا نام نوریز صدیقی تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
بٹ ہاوس میں سنڈے کا دن سست روی سے گزرتا رہا۔ ایلزینا سے کئے وعدے کے مطابق عاطرہ بیگم اور راعنہ اسے شاپنگ پر بھی لیں گئیں تھیں پر شام کے وقت وہ پھر سے بور ہونے لگی۔ اس نے مصور کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی پر وہ اپنا الگ لگا رہا۔
“یہ کب بڑا ہوگا۔۔۔۔۔” ایلزینا نے بڑوں سے مصور کے متعلق سوال کیا تھا۔
“کیوں کیا ہوا۔۔۔” راعنہ نے بابا کو چائے کا کپ تھماتے ہوئے پوچھا۔
“میرے ساتھ کھیلتا ہی نہیں ہے۔۔۔۔ بس کھاتا ہے پیتا ہے اور سو جاتا ہے۔۔۔۔ ماموں۔۔۔۔ اگلی دفعہ آپ میرے جتنا بڑا بےبی لانا اور لڑکی لانا۔۔۔۔ اتنا چھوٹا نہیں چاہیئے۔۔۔۔” ایلزینا کی فرمائش پر اریبہ نے نظریں جھکا لی وہیں حمدان کا رنگ سرخ ہوگیا۔
جب مصور کی پیدائش کا وقت تھا تب حمدان نے ایلزینا سے یہی کہا تھا کہ وہ اس کے لیے بےبی لانے جا رہیں ہیں جو اس کے ساتھ کھیلے گا اور تب سے یہ بات اس کے دماغ میں فٹ ہوگئی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
مسٹر اور مسز شیعب بٹ کے تین بچے ہیں۔ بڑا بیٹا صدیف بیٹی راعنہ اور چھوٹا بیٹا حمدان۔ شیعب صاحب ہمیشہ سے میانہ روی کے قائل تھے اور اپنے بچوں کو بھی اسی راہ پر چلنے کی تلقین کی تھی۔
بٹ ہاوس جدید طرز و تعمیر کا بنا کھلا سا بنگلہ تھا۔ مین گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی اندرونی عمارت تک ناک کی سدھ میں سیدھی بنی روش تھی جس کے دائیں جانب بڑا سا لان بنا تھا۔ جس کی کیاریوں میں رنگین پھولوں کا بسیرا تھا۔ بائیں جانب گیراج سا بنا تھا جہاں حمدان کی کار پارک ہوا کرتی۔ اندرونی عمارت کی شروعات بڑے لاؤنج سے ہوتی تھی۔ لاؤنج کے بیچو بیچ صوفہ سیٹ رکھے ہوئے تھے۔ دائیں سمت بڑا سا اوپن کچن تھا جس کے آگے ڈائننگ ایریا بنایا گیا تھا اور بائیں جانب پہلا بڑا کمرہ ڈرائنگ روم کے طور پر استعمال ہوتا۔ دوسرا کمرہ شعیب صاحب کا تھا اور آخر کا چھوٹا کمرہ بطور سٹڈی روم بہ روئے کار آتا۔ ساتھ ہی لکڑی کی سیڑھیاں بنی تھی جو دوسری منزل کے ہال میں کھلتی۔ دوسری منزل پر بنے چار کمروں میں سے تین ان بہن بھائیوں کے تھے اور ایک کمرہ بچوں کے لیے مخصوص تھا۔ صدیف کا کمرہ پچھلے پانچ سالوں سے بند پڑا تھا۔ جس دن شعیب صاحب گھر پر نا ہوتے عاطرہ بیگم اپنی نگرانی میں صاف کروا کر واپس لاک کر دیا کرتی۔ شعیب صاحب اپنی بیگم کے اس عمل سے واقف تھے پھر بھی انجان بنے رہے اور کبھی ان پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔ عاطرہ بیگم نے شوہر سے فرمانبرداری دکھائی تھی تو شعیب صاحب بھی بیگم کی ممتا کا لاج رکھے ہوئے تھے۔
شعیب صاحب ریٹائرڈ سرکاری ملازم تھے اور عاطرہ بیگم لیکچرار رہ چکی تھی۔ دونوں میاں بیوی ریٹائرڈ زندگی گزار رہیں تھے۔ ان کی زندگی بچوں اور نواسوں میں خوشحال اور مستحکم تھی۔
پینتیس سال کے معتبر اور با وقار صدیف نے پانچ سال پہلے امپورٹ ایکسپورٹ کی دنیا میں اپنا الگ لوہا منوایا۔ جب کہ تیس سال کا خوب رو مضبوط وجہیہ حمدان بابا کے ہمراہ، شعیب صاحب کو وراثت میں ملی ٹیکسٹائل کی صنعت کو سنبھالے ہوئے تھا۔
ان دونوں کے مابین تینتیس سالہ راعنہ محض گریجویٹ تھی اور حال ہی میں ایک نیجی موٹر شوروم میں ایڈیٹر کی نوکری پر فائز ہوئی تھی۔
پہلے پہل یہ فیملی اتفاق اور اتحاد کے ساتھ رہتے تھے۔ شعیب صاحب اور عاطرہ بیگم ہر حد عقل کوشش کر کے انہیں امن و امان اور معاشرے کے رہن سہن سیکھاتے رہتے۔ دونوں میاں بیوی اپنی پرورش سے مطمئن تھے پر قسمت ایسے پلٹے گی کہ بھائی بھائی سے نفرت کرے گا بہن بھائی میں دوریاں آجائیں گی یہ شعیب صاحب کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ زندگی نے انسان کو جو درس دینے ہوتے ہیں وہ دے کر ہی رہتی ہے۔ ایسا ہی ایک درس شعیب صاحب کو ملنا تھا۔ کہی نہ کہی وہ اس بربادی کا ذمہ دار خود کو مانتے تھے۔ اکثر ماضی کو سوچ کر وہ غمگین ہوجاتے پر عاطرہ بیگم ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہی اور کبھی انہیں ٹوٹنے نہیں دیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
صدیف بٹ کا گھر چھوٹا اور نفیس تھا۔ تین بیڈروم پر مشتمل اس گھر میں صدیف، آیت اور ان کے تین بچے خوشحال زندگی بسر کر رہے تھے۔
منڈے کی صبح معمول کے مطابق ہوئی۔ آیت سب سے پہلے اٹھی۔ فریش ہو کر ناشتہ ریڈی کیا پھر بیٹوں کو اسکول کے لیے تیار کرنے لگی۔ صدیف اتنی دیر میں آفس کے لیے تیار ہوگیا تھا۔ ان کو رخصت کرا کر آیت پلٹی تھی کہ ڈور بیل بجی۔
“شائد صدیف کچھ بھول گئے ہوں۔۔۔۔” ڈور بیل کی آواز سن کر آیت نے سوچا تھا اور جتانے کے انداز میں آبرو اٹھا کر گیٹ کھولا تھا کہ ٹھٹک گئی سامنے کھڑے اس انسان کی آمد کا آیت کو گمان بھی نہ تھا۔
“آیت مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔۔” اس نے گھمبیر آواز میں آیت کو مخاطب کیا۔
“میرے شوہر ابھی گھر پر نہیں ہے۔۔۔۔” آیت مضطرب ہوگئی اور گیٹ بند کرنے لگی تھی پر اس نے اپنا آہنی ہاتھ گیٹ پر رکھ کر آیت کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔
“مجھے صدیف سے نہیں تم سے بات کرنی ہے۔۔۔۔” اس نے اپنے مطالبے کی تصحیح کرائی۔
“جو بھی ہے۔۔۔۔ میں اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں آپ سے نہیں ملنا چاہتی۔۔۔۔ جائے یہاں سے۔۔۔۔” آیت نے اضطراب میں گیٹ پر دوبارہ زور دیا۔
“آیت پلیززز۔۔۔۔ پانچ سال ہوگئے ہیں۔۔۔۔ ایک مرتبہ میری بات سن لو۔۔۔۔۔” وہ مستفسر ہوا۔
“میں نے کہا نا۔۔۔۔ نہیں سننی مجھے آپ کی بات۔۔۔۔ جائے یہاں سے۔۔۔۔” آیت کی آواز بلند ہوگئی تھی۔
اپنی ممی کو اونچا بولتے سن کر مشی نیم خوابی کے کیفیت میں اٹھ کر کمرے سے باہر آگئی تھی۔ گیٹ پر موجود لمبے چوڑے مضبوط سراپے سے اپنی ممی کو بحث کرتے دیکھ کر مشائم سہم گئی۔
“ممی۔۔۔۔۔۔” وہ آیت کو پکارتے پورچ کی پہلی سیڑھی پر کھڑی رونے لگی۔
آیت نے مشائم کو روتے دیکھ کر اپنی مزاحمت بڑھا دی۔
“آپ جا رہیں ہیں یا میں پولیس کو بلاوں۔۔۔۔ پلیزز مسٹر نوریز صدیقی۔۔۔۔ جاو یہاں سے۔۔۔۔” اس نے ایک ایک لفظ چھبا کر ادا کیا۔
نوریز نے تند نظروں سے پہلے آیت کو گھورا اور پھر اس کے پیچھے روتی بچی کو اور غصے کا کڑوا گھونٹ پی کر سرد سانس خارج کرتے لمبے ڈگ بھرتا روانہ ہوگیا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔