Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Nadamat) Episode 20

“ہیلو۔۔۔۔” صدیف نے نیند کی حالت میں کال موصول کی پر دوسری طرف مکمل خاموشی چھائی رہی۔
ایک سسکی کے ساتھ کال واپس کاٹ دیا گیا۔ صدیف فوراً اٹھ بیٹھا اور راعنہ کا نمبر دوبارہ ملانے لگا لیکن جواب موصول نہیں ہورہا تھا۔
آیت نے بے چینی سے آنکھیں کھولی اور اپنے سائیڈ کا نائٹ لیمپ آن کیا۔
“صدیف کیا ہوا۔۔۔۔۔ سب خیریت ہے۔۔۔۔” آیت نے متفکر انداز میں اسے پکارا جو پریشانی میں دائیں سے بائیں چکر کاٹتے بار بار کال ملانے کی کوشش کر رہا تھا۔
“راعنہ کی کال آئی تھی۔۔۔۔۔ پر بات کئے بغیر کاٹ دیا۔۔۔۔” صدیف کی آواز سے تشویش صاف ظاہر تھی۔
“ہوسکتا ہے غلطی سے کال لگ گئی ہو۔۔۔۔” آیت نے از خود سوچا۔
“نہیں۔۔۔۔ رات کے ساڑھے تین بجے۔۔۔۔۔ راعنہ غلطی سے کال نہیں کرے گی۔۔۔۔” صدیف نے زچ ہوتے دیوار پر ہاتھ مارا۔
“صدیف۔۔۔۔ فکر نہ کریں۔۔۔۔ کال مل جائے گی۔۔۔۔” آیت تیزی سے اٹھ کر اس کے پاس آئی اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا تھا۔
“آیت۔۔۔۔۔ راعنہ رو رہی تھی۔۔۔۔” صدیف نے اس قدر سنجیدگی سے کہا کہ آیت کا دل گھبرا گیا۔
آیت نے نظریں نیچی کر لی اور دل میں مسلسل دعائیں کرنے لگی۔
“سچ بتاو۔۔۔۔ اس کے اور نوریز کے بیچ سب ٹھیک ہے نا۔۔۔۔۔ آئی ایم شیور۔۔۔۔۔ اس نے تمہیں ضرور بتایا ہوگا۔۔۔۔” صدیف نے آیت کو دونوں کندھوں سے تھام کر جھنجوڑا۔
“مجھے کچھ نہیں پتا۔۔۔ پر۔۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں ہوگی۔۔۔۔ راعنہ اور بھائی کے مابین سب ٹھیک ہوگا۔۔۔۔” آیت نے صدیف کو دلاسہ دینا چاہا پر وہ مضطرب ہوتا بیڈ کے کنارے بیٹھ گیا۔
“میں جانتا ہوں راعنہ کو۔۔۔۔۔ وہ بہت بلند حوصلہ اور با صبر ہے۔۔۔۔ ضرور کوئی بات ہے جس نے اسے اتنا پریشان کر دیا ہے۔۔۔۔” صدیف نے معاملے کی تہہ تک جانے کا ارادہ بنایا۔
آیت نا راعنہ کے تکلیف کی روا دار تھی اور نا اپنے بھائی کے مصیبت میں پڑنے کی خواہشمند اس لیے اسے دونوں کی فکر ستانے لگی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
معاملے کی تصدیق کرنے اگلے دن صبح سویرے صدیف صدیقی ہاوس پہنچا۔
“راعنہ کہاں ہے۔۔۔۔” اس نے صدیف کو کالج کے لیے تیار دیکھ کر پوچھا۔
“سورہی ہے۔۔۔۔ پر تم اتنی صبح۔۔۔۔” نوریز اس وقت صدیف کے آنے اور ڈائریکٹ راعنہ کے متعلق پوچھنے پر مشکوک ہوا۔
“رات ساڑھے تین بجے کال آئی تھی اس کی۔۔۔۔ ” صدیف آنکھیں چھوٹی کر کے بغور نوریز کو دیکھنے لگا۔
“راعنہ اب ایک بچی کی ماں ہے۔۔۔۔ ہوسکتا ہے ایلزینا کو سنبھالتے ہوئے غلطی سے کال لگ گئی ہو۔۔۔۔ اس میں اتنا ہائپر ہونے کی کیا بات ہے۔۔۔۔” نوریز نے لاپرواہی سے آبرو اچکائے۔
“کیا ایلزینا صرف راعنہ کی زمہ داری ہے۔۔۔۔ رات کے کسی پہر ایک دفعہ اگر تم اٹھ کر سنبھال لو اور راعنہ کو آرام کرنے دو تو کچھ نہیں بگڑے گا۔۔۔۔ میں بھی ذیال کو سنبھالنے میں آیت کی مدد کرتا ہوں۔۔۔۔” صدیف نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا۔ نوریز نے لب بھینجے اپنے اشتعال کو قابو رکھنے کی کوشش کی۔
اسی دوران وارث صاحب کمرے سے باہر آرہیں تھے صدیف کو دیکھ کر حیران ہوگئے۔
“صدیف تم اتنی صبح۔۔۔۔ سب خیریت ہیں نا۔۔۔۔” انہوں نے کندھوں پر شال ڈالتے ہوئے اسے مخاطب کیا۔
“جی پاپا۔۔۔۔۔ بس آپ سب سے ملنے آیا تھا۔۔۔۔” صدیف مسکراتے ہوئے ان کے پاس آیا۔
“اچھا کیا۔۔۔۔ کیا باتیں ہورہی تھی۔۔۔۔” وارث صاحب نے اس کا شانہ تھپتھپا کر مزید اضافہ کیا اور نوریز کے جانب دیکھا جو بے زار سا کھڑا تھا۔
“ہہہہ۔۔۔۔ بس یونہی نوریز کو اچھے شوہر اور قابل باپ کی ذمہ داریاں سمجھا رہا تھا۔۔۔۔” صدیف کی آنکھوں میں سختی تھی لیکن لبوں پر مسکراہٹ برقرار تھی۔
“پاپا۔۔۔۔۔ مجھے دیر ہورہی ہے۔۔۔۔۔ آپ صدیف کو کمپنی دیجیئے۔۔۔۔” نوریز سپاٹ انداز میں کہتے جانے کے لیے مڑا مگر صدیف نے روک لیا۔
“ایک دن دیر سے جانے پر کالج والے پروفیسر نوریز صدیقی کو نکال تھوڑی دیں گے۔۔۔۔” صدیف نے اس کے کندھے کے گرد بازو حمائل کر کے جتاتے ہوئے کہا۔
“نوریز۔۔۔۔ تھوڑی دیر بیٹھ جاو۔۔۔۔” پاپا نے بھی سنجیدگی سے مخاطب کیا تو وہ منہ بھسورتے ہوئے ان کے ساتھ صوفے پر آن بیٹھا۔
راعنہ سرخ اور سوجی آنکھیں لیئے کمرے سے باہر آئی تو لاؤنج میں بیٹھے سوٹ بوٹ میں تیار صدیف پر نظر پڑی۔ صدیف نے بھی اسے دیکھ لیا تھا۔ وہ اٹھ کر اس کے پاس آیا اور خود سے لگا لیا۔
“کیسی ہو۔۔۔۔ سب ٹھیک ہے نا۔۔۔ ” راعنہ کا سر پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے تھپتھپاتے اس نے فکرمندی ظاہر کی۔
راعنہ کا دل بھر آیا اس نے نچھلا لب دانتوں میں دبائے سر جھکا لیا تھا۔ وہ بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔
“آپ کیسے ہیں۔۔۔۔” راعنہ نے اپنی خیریت بتانے کے بجائے صدیف سے سوال کیا۔
نوریز مضطرب ہوتا ان دونوں بہن بھائی کی گفتگو سن رہا تھا۔ راعنہ نے صدیف کے عقب سے اس کے تند تاثرات دیکھ لیئے تھے اس لئے احتیاط برت رہی تھی۔
“مجھے چھوڑو۔۔۔ یہ بتاو۔۔۔۔ رات کال پر رو کیوں رہی تھی۔۔۔۔ “صدیف نے راعنہ سے سچ اگلوانے اس کے ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں لے لیئے۔
“بھائیاں وہ۔۔۔۔ آپ سب کی بہت یاد آرہی تھی۔۔۔۔” راعنہ نے بات بدل دی تھی لیکن صدیف نفی میں سر کو جنبش دیتے آگے ہوا۔
“گڑیا۔۔۔۔ سچ بتاو۔۔۔۔” اس نے ہلکے سے جھک کر راعنہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا تھا۔
راعنہ یک دم رو پڑی۔ نوریز کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا پر اس کے ردعمل سے پہلے سنبل بیگم نے اسے روک لیا۔
“بیٹا۔۔۔ میاں بیوی میں ان بن تو ہو ہی جاتی ہیں۔۔۔۔ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔ راعنہ تو معصوم ہے جلدی دل پر لے لیتی ہے۔۔۔” سنبل بیگم نے راعنہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر چپ کروانے کی کوشش کی۔
صدیف لمبا سانس خارج کر کے اٹھا اور نوریز کو گھورتے ہوئے اس کے رو بہ رو آیا۔ ان دونوں کو ایسے آمنے سامنے دیکھ وارث صاحب گھبرا گئے اور تیزی سے ان دونوں کے مابین آگئے۔
“میں بات کرتا ہوں راعنہ سے۔۔۔۔ کوئی مسئلہ ہوتا تو وہ مجھے ضرور بتاتی۔۔۔۔ تم بے فکر رہو صدیف۔۔۔۔” انہوں نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھ کر یقین دہانی کروائی تو صدیف کے تاثرات ڈھیلے پڑ گئے مگر نظروں کی سختی برقرار تھی۔
“بھئیاں میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔ پلیزز ریلکس۔۔۔۔” راعنہ نے فورا صدیف کا بازو تھام کر بات سنبھالنے کی کوشش کی۔
صدیف نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر نوریز سے مخاطب ہوا۔
“آیت سے بات کر لینا نوریز۔۔۔۔ کافی دنوں سے تمہیں بہت یاد کر رہی تھی۔۔۔۔” صدیف معنی خیز نظروں سے اسے دیکھتے اس کا کندھا تھپتھپا کر باہر کے جانب بڑھ گیا۔
نوریز کے ساتھ ساتھ پاپا اور مما کے بھی تاثرات بدل گئے۔ صدیف جاتے جاتے غیر محسوس طریقے میں ان کو وارن کر گیا۔
“زرا سی بات ہوئی نہیں ہوتی کہ میکے تک خبر پہنچا دیتی ہو۔۔۔۔ کونسا میاں اپنی بیوی پر غصہ نہیں ہوتا۔۔۔۔ تھوڑا برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔۔ اب تیری وجہ سے صدیف میری آیت کو پریشان کرے گا۔۔۔۔” سنبل بیگم سر پکڑے راعنہ کو برا بھلا سنانے لگی۔
راعنہ آنسو صاف کرتے اپنے کمرے میں چلی گئی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
صدیف کے جاتے ہی نوریز لان میں نکل آیا اور آیت کو کال ملائی۔
“آیت تم ٹھیک ہو نا۔۔۔۔” اس کے کال موصول کرتے ہی نوریز گویا ہوا۔
“ہاں بھائی میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔ کیوں کیا ہوا۔۔۔۔” آیت، نوریز کے اس طرز پر حیران ہوگئی۔
“کچھ نہیں۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔ صدیف گھر پر آیا تھا۔۔۔۔” نوریز نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے سکون کا سانس لیا۔
صدیف کے اپنے میکے جانے کا سن کر آیت واقعی شاک ہوگئی تھی پھر اچانک اسے رات کا منظر یاد آیا۔
“ہاں وہ۔۔۔ رات کو راعنہ کی کال آئی تھی۔۔۔۔ اسی لیے پوچھنے آئیں ہونگے۔۔۔۔ بھائی آپ کے اور راعنہ کے بیچ سب ٹھیک ہے نا۔۔۔۔” آیت نے خفہ ہوتے ہوئے پوچھا۔
“ہممم سب ٹھیک ہے۔۔۔۔ کوئی پرابلم ہو تو فورا مجھے بتانا۔۔۔۔” اسے تلقین کر کے نوریز اپنی کار کے جانب بڑھ گیا۔
آیت پر سوچ انداز میں موبائل اسکرین دیکھتی رہی۔
“پتا نہیں صدیف نے سب سے کیا کہہ دیا ہے۔۔۔۔” اس نے دل میں سوچا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
شام کو صدیف گھر آیا تو آیت نے سوالوں کی برسات کر دی۔
“کیسی تھی راعنہ۔۔۔۔” اس نے محتاط انداز سے گفتگو کا آغاز کیا۔
“ٹھیک۔۔۔ ” جواب بہت ہی بے دلی سے ملا تھا۔
“بھائی نے کال کی تھی مجھے۔۔۔۔ آپ نے گھر پر کیا کہا ہے۔۔۔۔” آیت نے دوسرا سوال کیا تو صدیف طیش میں آگیا۔
“مجھے اس وقت تم سے بحث نہیں کرنی۔۔۔۔ ” اس نے تندی سے کہتے آیت کو گھورا۔
شادی کے تین سالوں میں یہ پہلی دفعہ تھا کہ صدیف اتنا اونچا بولا ہو۔ آیت خاموش ہونے کے بجائے ضد پر اڑ گئی۔
“پر مجھے میرا جواب چاہیئے۔۔۔۔ ” آیت نے حاضر جوابی کا مظاہرہ کر کے غلطی کر لی تھی۔
صدیف کی آنکھیں سرخ ہوگئی اور ضبط سے گردن کی رگیں تن گئیں۔ آیت اس کا یہ روپ دیکھ کر سہم کر پیچھے ہونے لگی۔
صدیف لمبا سانس لیتے کمرے سے باہر نکل گیا مگر اس دن کے بعد جھگڑوں اور خفگی نے ان دونوں کے مابین اپنا بسیرا کر لیا تھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
راعنہ کے کہنے پر صدیف نے بابا اور ممی کو کچھ نہیں بتایا اور وقت کے ساتھ ساتھ معاملہ ٹھنڈا ہوتا گیا۔ بٹ ہاوس میں خوشیوں کی نئی آمد ہوئی تھی۔ آیت اور صدیف کے ہاں دوسرے بیٹے ثمر کی پیدائش پر سب خوش تھے مگر یہ خوشی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی۔
ایک شام نوریز اور راعنہ کے درمیان تلخیاں بہت بڑھ گئیں۔
“بس بہت ہوگیا۔۔۔۔ میں تمہیں مزید برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔” نوریز زمین بوس ہوئی راعنہ کو دیکھتے ہوئے غرایا۔
“برداشت تو میری ختم ہوگئی ہے۔۔۔۔ پچھلے چار سال سے امید لگائی تھی کہ آج نہیں تو کل آپ سدھر جائیں گے۔۔۔۔ ایک بیٹی کے باپ ہیں۔۔۔۔ میرا نا سہی۔۔۔۔ اس کا سوچ کر اپنے برے اعمال سے باز آجائیں گے۔۔۔۔ پر نہیں۔۔۔۔ نوریز میرا صبر ختم ہوگیا ہے۔۔۔۔” راعنہ جسم درد سے جونچتے اٹھ کر بیڈ پر بیٹھی دو سال کی ایلزینا کے پاس آئی۔
“تم اب ایک پل یہاں نہیں رہو گی۔۔۔۔ نکلو میرے گھر سے۔۔۔۔” نوریز نے اس کی باتوں کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس کا بازو دبوچا اور کمرے سے باہر لے جانے لگا۔
“میری بیٹی۔۔۔۔” راعنہ نے بازو پھیلا کر ایلزینا کو اٹھانا چاہا مگر اس کے پہلے نوریز نے زینی کو گود میں اٹھا لیا تھا۔
“نوریز میری بیٹی واپس کریں۔۔۔۔ آپ اس طرح اسے مجھ سے نہیں چھین سکتے۔۔۔۔” ایلزینا سے دور ہونے کا سوچ کر بھی مانو راعنہ کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی۔
“شرعی قانونی سائنسی۔۔۔۔ ہر لحاظ سے میں ایلزینا کا باپ ہوں۔۔۔۔ اس پر پہلا حق میرا ہے۔۔۔۔ تم کچھ نہیں کر سکتی۔۔۔۔ جسٹ گیٹ آوٹ۔۔۔۔” اسے دھکیلتے ہوئے نوریز پوری تاب سے چلایا۔
راعنہ اور نوریز کی بلند آوازیں اور ایلزینا کا رونا سن کر وارث صاحب اور سنبل بیگم بھی کمرے سے باہر آگئے۔
“یہ کیا کر رہے ہو نوریز۔۔۔۔” پاپا نے اسے پکارا پر نوریز نے ان کی پکار ان سنی کر کے راعنہ کو گیٹ سے باہر دھکہ دے کر گیٹ بند کر دیا۔
“نوریز گیٹ کھولیں۔۔۔۔۔ پاپا۔۔۔۔۔” راعنہ دھڑا دھڑ گیٹ بجانے لگی۔
“کوئی اس کے لیے گیٹ نہیں کھولے گا۔۔۔۔۔ میری لائف سے میرے گھر سے۔۔۔۔ میں نے اسے نکال دیا ہے۔۔۔۔۔ ” انگلی اٹھا کر غضب ناک آواز میں غراتے ہوئے اس نے ماں باپ کو دیکھا۔
وارث صاحب ماتھے پر شکن ڈالے آگے جانے لگے پر نوریز نے ان کا راستہ روک لیا۔
“اب آپ کی کوئی من مانی نہیں چلیں گی۔۔۔۔ اور اب تو آپ مجھے جائیداد سے بے دخل کرنے کی دھمکی بھی نہیں دے سکتے۔۔۔۔ ” نوریز نے سپاٹ انداز میں کہتے اپنے موبائل میں ایک تصویر کھولی۔
“یہ دادا جی کی وصیت ہے۔۔۔۔ اور اس میں یہ صاف لکھا ہے کہ جب ان کا پوتا۔۔۔۔۔ یعنی کی میں۔۔۔۔ نوریز صدیقی 30 سال سے اوپر ہوجائے گا۔۔۔۔ تو قانونی طور پر ساری جائیداد کا مالک بن جائے گا۔۔۔۔ ” نوریز کے لبوں پر معنی خیز مسکان آگئی تھی۔
“اور شاید آپ بھول رہیں ہیں پاپا۔۔۔۔ میں 32 کا ہوچکا ہوں۔۔۔۔ شکر ہے وکیل صاحب نے مجھے وصیت دکھا دی تھی۔۔۔۔۔ ورنہ آپ تو کبھی نہ بتاتے۔۔۔۔۔” طنزیہ لہجے میں اپنی بات مکمل کر کے اس نے گردن موڑ کر بند گیٹ کو دیکھا جو مسلسل بج رہا تھا۔
وارث صاحب لاچاری سے لب بھینجے اپنا غصہ ضبط کرنے لگے۔ سنبل بیگم نے پیار سے سمجھانے کی کوشش کی مگر نوریز نے ان کی بھی نا سنی۔
“مما آپ نے ہی کہا تھا۔۔۔۔ ایڈجسٹ نہ ہوئی تو نکال دینا۔۔۔۔ سو اب نکال دیا۔۔۔۔ یہ لیں سنبھالے اسے۔۔۔۔۔” نوریز بے زاری سے ایلزینا اپنی مما کے گود میں دے کر اندر چلا گیا۔
وارث صاحب نے نفرت بھری نگاہوں سے اپنی بیگم کو دیکھا اور دانت پیستے ہوئے ایلزینا کو ان کے آغوش سے لے کر اپنے ساتھ لے گئے۔ سنبل بیگم مایوسی سے کبھی لاؤنج کے اندر تو کبھی گیٹ کے جانب دیکھتی رہی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
گرد و نواح میں فجر کی اذانیں شروع ہوگئی تھیں۔ شعیب صاحب اللہ کے حضور حاضر ہونے وضو کرنے چلے گئے۔ عاطرہ بیگم اپنے عبادات کا اہتمام کرنے لگی۔ صبح کا آغاز معمول کے مطابق ہوا تھا۔
ابھی شعیب صاحب مسجد کے لیے جانے لگے تھے کہ اس پہلے گیٹ بجنا شروع ہوا۔ یک دم ہی فضا میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ دونوں میاں بیوی نے پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔
“بابا میں دیکھتا ہوں۔۔۔” صدیف گیٹ کی بے دھڑک آواز پر شب خوابی کے کپڑوں میں ہی باہر آیا اور لاؤنج کا دروازہ کھول کر گیٹ کے جانب گامزن ہوا۔
حمدان آنکھیں مسلتے والدین کے پاس آگیا تھا جبکہ آیت دونوں بچوں کے ہمراہ کمرے میں ہی تھی۔
محتاط اندازے میں گیٹ کھولتے ہی صدیف ٹھٹک گیا۔ راعنہ ننگے زخمی پیر بغیر کسی چادر یا ڈوپٹے کے بکھرے بال روئی آنکھیں زرد پڑتا چہرا لیئے بے ڈھنگ سی چلتی اس کے بازووں میں گر پڑی۔
“گڑیا۔۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔۔۔ تم اس حال میں۔۔۔۔ ” صدیف نے فورا سے اسے تھام لیا تھا۔
بابا ممی حمدان تیزی سے بھاگ آئے۔
“بھئیاں۔۔۔۔ میری۔۔۔۔ میری بیٹی۔۔۔۔ انہوں نے لے لی۔۔۔۔ ” راعنہ اتنا ہی کہہ سکی اور اپنے حواسوں سے بے گانی ہوگئی۔
راعنہ کی آواز پر آیت بھاگتے لاونج کے سیڑھیوں تک آگئی مگر اسے بے عزت و آبرو صدیف بازووں میں بے ہوش دیکھ کر دہل گئی۔ گھبراہٹ کے مارے اس پر لرزش طاری ہوگئی تھی۔
“حمدان گاڑی نکالو جلدی۔۔۔۔” صدیف نے راعنہ کو اٹھاتے ہوئے صدا لگائی۔
حمدان جو اپنی دل عزیز آپی کو اس حالت میں دیکھ کر رونے کو ہوگیا تھا تیزی سے صدیف کی ہدایت پر بھاگ اٹھا۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
ہسپتال کے فرش پر آگے پیچھے ہوتے بٹ فیملی ایمرجنسی وارڈ پہنچے۔ ایمرجنسی ڈاکٹرز راعنہ کے علاج میں جٹ گئے۔ بابا ممی اور حمدان تشویش میں ‘اسے اچانک کیا ہوگیا ہے’ سوچ رہیں تھے جبکہ صدیف جانتا تھا کہ وجہ نوریز ہی ہوگا۔ اس نے جیب سے موبائل نکالا اور نوریز کا نمبر ڈائل کیا پر دوسری طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ حسب عادت نوریز ڈرنک کر کے سویا تھا اتنی جلدی ہوش میں کیسے آتا۔
آیت اپنے بیٹوں کو ملازمہ کے حوالے چھوڑ کر تیزی سے ہسپتال پہنچی۔
“صدیف۔۔۔۔ راعنہ کیسی ہے۔۔۔۔ کیا کہا ڈاکٹرز نے۔۔۔۔” تیز تیز سانس لیتے خود کو کمپوز کرتے ہوئے اس نے سوال کیا مگر صدیف تندی سے گھور کر دوسری جانب مڑ گیا۔
آیت کا دل ڈوبنے لگا۔ اس نے موہوم سی امید کے ساتھ بابا کو دیکھا اور ان سے راعنہ کا حال دریافت کیا۔
“ڈاکٹرز بہت کوشش کر رہیں ہیں پر راعنہ ہوش میں ہی نہیں آرہی۔۔۔۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے اسے مینٹلی صدمہ پہنچا ہے۔۔۔۔ وہ کسی حادثے کی وجہ سے ٹرامہ میں چلی گئی ہے۔۔۔۔” بابا نے آبدیدہ ہوتے صورتحال سے واقف کرایا۔
آیت کے دو آنسو ٹوٹ کر رخسار پر لڑکھتے ہوئے تھیوڑی سے نیچھے بہہ گئے۔ وہ بابا کو دلاسہ دیتی اس سے پہلے آیت کو اپنے بازو پر مضبوط آہنی گرفت کا احساس ہوا۔ صدیف نے اسے تیزی سے اپنے جانب کھینچا تھا جس پر آیت کراہ اٹھی۔
“کال کیوں نہیں اٹھا رہیں تمہارے گھر والے۔۔۔۔ میری بہن کو اس حال میں پہنچا کر خود سکون سے سو رہیں ہیں ہاااں۔۔۔۔ ابھی کہ ابھی اطلاع دو انہیں۔۔۔۔۔ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔” ہسپتال کے احترام میں صدیف نے ہلکی آواز میں تردید کی پھر بھی آیت اس کے غضب کی شدت سے سہم گئی اور اپنے پرس سے موبائل نکال کر گھر پر کال ملانے لگی۔
صدیف گرم سانس خارج کر کے بابا اور حمدان کے ساتھ جا کھڑا ہوا۔ آیت نے پہلے نوریز بھائی کا نمبر ملایا اور جواب نا ملنے پر مما کا نمبر ٹرائی کیا۔
“مما۔۔۔۔ یہ سب کیا ہورہا ہے۔۔۔۔۔ نوریز بھائی کہاں ہے۔۔۔۔ آپ لوگوں نے راعنہ کے ساتھ کیا کیا ہے۔۔۔۔ پتا ہے وہ ہاسپٹلائزڈ ہے۔۔۔۔ ہوش میں نہیں آرہی۔۔۔۔ آپ سے ایسی لاپرواہی کی امید نہیں تھی۔۔۔” مما کے کال اٹھاتے ہی آیت دبے دبے غصے سے برس پڑی۔
“کیا بتاوں آیت۔۔۔۔ نوریز نے رات بھر سے عذاب میں ڈالا ہوا ہے۔۔۔۔ پہلے تو اچانک راعنہ کو گھر سے نکال دیا۔۔۔۔ اور بیٹی میرے حوالے کر دی ہے۔۔۔۔ یہ تو کسی بھی طرح چپ نہیں ہورہی۔۔۔۔۔ ” سنبل بیگم بے بسی سے اپنی دہائیاں سنانے لگی۔ ان کے عقب سے یلزینا کی مسلسل رونے کی آواز آیت کو بھی بخوبی سنائی دے رہی تھی۔
“تیرے پاپا بھی رات سے ہی کہی نکل گئے ہیں۔۔۔۔ پتا نہیں کہاں چلے گئے ہیں مجھے اس مصیبت میں اکیلے چھوڑ کر۔۔۔۔” انہیں وارث صاحب سے شکایت ہوئی۔
“مما۔۔۔۔ ابھی ان سب باتوں کا وقت نہیں ہے۔۔۔۔ بھائی کو اٹھا کر ہسپتال بھیجو۔۔۔۔ آپ راعنہ کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔۔ کل کو میرے سسرال والے میرے ساتھ ایسا برا سلوک کریں تو۔۔۔۔” آیت نے حقیقت کا آئینہ دکھانا چاہا۔
“ایسے کیسے تیرے ساتھ برا سلوک کریں گے۔۔۔۔ ہم مر گئے ہیں کیا۔۔۔۔” مما آب و تاب نا لاتے غرائی۔
“تو مما۔۔۔۔ راعنہ بھی کوئی لاوارث نہیں ہے۔۔۔۔ شعیب انکل جیسے باپ۔۔۔۔ صدیف اور حمدان جیسے بھائی حیات ہیں اس کے۔۔۔۔ آپ سوچ بھی نہیں سکتی وہ کیا کر سکتے ہیں۔۔۔۔” آیت نے سنگین نتائج کا خدشہ ظاہر کیا تو مما یک دم خاموش ہوگئی۔
کال منقطع ہوتے ہی سنبل بیگم، نوریز کے کمرے کے جانب لپکی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
دو گھنٹے کے کوششوں کے بعد راعنہ کو ہوش آگیا اور حواسوں میں آتے ہی ایلزینا کو پکارنے لگی۔ عاطرہ بیگم نے اسے خود سے لگا کر تسلی دینا چاہی۔
“حمدان گیا ہے۔۔۔۔ ایلزینا کو ابھی لے آئے گا۔۔۔۔ تم سنبھالو خود کو۔۔۔۔ یہ کیا حالت بنا لی ہے اپنی۔۔۔۔” عاطرہ بیگم اسے کے بال سنوارتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر سمجھانے لگی۔
شعیب صاحب نے بھی بات کرنے کی کوشش کی لیکن راعنہ پھر سے رو پڑی تھی۔ صدیف اور آیت کو وارڈ میں داخل ہوتے دیکھ کر راعنہ فورا سے آیت کے طرف بھاگی۔
“آیت پلیززز۔۔۔۔ نوریز کو سمجھاو۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ میں وعدہ کرتی ہوں۔۔۔۔ ان سے کوئی شکایت نہیں کروں گی۔۔۔۔ انہیں ڈرنک کرنے سے بھی نہیں روکوں گی۔۔۔۔ میری بیٹی بہت رو رہی تھی۔۔۔۔۔ مجھے زینی لا دو۔۔۔۔” راعنہ زار و قطار روتے آیت کا گریبان پکڑے فریاد کرنے لگی۔
ڈرنک کا لفظ سن کر شعیب صاحب کے عصاب ڈھیلے پڑ گئے۔ الگ الگ وسوسوں نے انہیں گھیر لیا۔ اپنی پھول جیسی بیٹی کو یوں ٹوٹتا دیکھ کر ان سے مزید رہا نہیں گیا اور سر پکڑ کر بیٹھتے چلے گئے۔
“بابا۔۔۔” صدیف تیزی سے ان کے پاس آیا اور انہیں کندھوں سے تھام کر صوفے پر بیٹھایا۔
بابا نے چند لمبے سانس لیں کر خود کو قابو کیا اور اٹھ کر راعنہ کے پاس آئے۔ اسے خود سے لگا کر ایک نظر آیت کو دیکھ کر باہر جانے لگے۔ عاطرہ بیگم بھی ان کے پیچھے چل پڑی۔ آیت ہر ایک کی شکوہ کن نظریں خود پر پڑتے دیکھ کر مایوسی سے سر جھکا گئی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
نوریز اپنے شاہی بیڈ پر بے خبر سورہا تھا جب بلاآخر مما نے اسے جگانے پانی کا گلاس اس کے چہرے پر خالی کر دیا۔ نوریز سٹپٹا کر اٹھ بیٹھا۔
“وٹس دس مما۔۔۔۔” چہرے پر سے پانی کی چھینٹیں جھٹک کر وہ طیش میں غرایا۔
“پتا بھی ہے کتنا بڑا بکھیڑا کھڑا کر دیا ہے تم نے۔۔۔۔ راعنہ ہسپتال تک پہنچ گئی ہے۔۔۔۔ اب اس کے گھر والے آیت کو پریشان کر رہیں ہیں۔۔۔۔ ” مما نے معاملے سے آگاہ کرتے اس کے سر پر تھپکی ماری۔
“تیرے پاپا بھی رات سے ہی راعنہ کو ڈھونڈنے سڑکوں پر نکلے ہیں۔۔۔۔ اور تیری بیٹی نے رو رو کر میرا جینا محال کر دیا ہے۔۔۔۔ چل اٹھ جا کر راعنہ کو واپس لا۔۔۔۔” مما نے سینے پر ہاتھ باندھے درشتی سے کہا۔
“میں کہی نہیں جا رہا۔۔۔۔” نوریز زچ ہونے لگا۔
“دیکھ نوریز۔۔۔۔۔ تو نے آج تک جو چاہا وہ کیا ہے۔۔۔۔ میں نے کبھی کچھ نہیں کہا۔۔۔۔ تیری وجہ سے ایک معصوم جان چلی گئی۔۔۔۔ میں نے پھر بھی تیرا ساتھ دیا۔۔۔۔ زندگی میں پہلی دفعہ کچھ مانگ رہی ہوں۔۔۔۔۔۔ ہم سب کی خوشی اسی میں ہیں۔۔۔۔۔ جا بیٹا۔۔۔۔ راعنہ کو واپس لے آ۔۔۔۔ بات ابھی بگڑی نہیں ہے۔۔۔۔۔” مما نے نوریز کی تھیوڑی پر ہاتھ رکھ کر لاڈ سے سمجھاتے ہوئے فرمائش کی۔
نوریز بے زار تاثرات بنائے اٹھا اور فریش ہونے چلا گیا۔
دوسری طرف بٹ ہاوس میں ماتم کا سما تھا۔ سب یوں سر جھکائے خاموش تھے جیسے کوئی میت گھر آئی ہو۔ راعنہ اپنے بابا کے کندھے پر سر رکھے سسک رہی تھی۔
“تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔ ہم سب نوریز کو سمجھا دیتے۔۔۔۔ بات اتنی نا بگڑتی۔۔۔۔” شعیب صاحب نے مدھم آواز میں ہنھکارا بھری۔
راعنہ نے بھیگی پلکیں اٹھائی اور اپنے بابا کا ستا ہوا چہرا دیکھنے لگی۔
“آپ نے ہمیشہ مجھے سخت سے سخت حالات سے بھی ڈٹ کر مقابلہ کرنا سیکھایا ہے بابا۔۔۔۔ میں آپ سب کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔ میں نے ہمیشہ ہر حالت میں مثبت پہلو دیکھنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔ مجھے لگا آج نہیں تو کل نوریز سدھر جائیں گے۔۔۔۔ میری محبت انہیں بدل دے گی۔۔۔۔ چلو میری نا سہی۔۔۔۔۔ بیٹی کی محبت ضرور تبدیلی لائے گی۔۔۔۔۔ پر نہیں۔۔۔۔ میں غلط تھی۔۔۔۔ کچھ لوگوں کے فطرت میں بدلنا نہیں ہوتا۔۔۔۔ چاہے اپنا دل سینے سے نکال کر ان کے قدموں میں رکھ دو۔۔۔۔۔ وہ پھر بھی نہیں بدل سکتے۔۔۔۔” اس وقت راعنہ خود کو لاچاری کی انتہا پر محسوس کر رہی تھی۔
“مجھ پر انہوں نے جتنے تشدد کئے۔۔۔۔ جیسا بھی برا سلوک کیا۔۔۔۔ میں خاموشی سے سہتی رہی۔۔۔۔ پر بابا۔۔۔۔ انہوں نے ایک ماں سے اس کی اولاد دور کر دی۔۔۔۔ میری ممتا یہ برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔۔ میرا دل پھٹ رہا ہے۔۔۔۔ جب تک میں اپنی بیٹی کو سینے سے نا لگا لوں۔۔۔۔ مجھے سکون نہیں ملے گا۔۔۔۔” آنسووں کا ریلا پھر سے جاری ہوگیا تھا۔
شعیب صاحب نے سمجھنے کے انداز میں سر کو جنبش دیتے اسے خاموش کرانے کی کوشش کی۔ جب سے وہ سب گھر آئے تھے۔ کسی نے آیت سے سیدھے منہ بات نہیں کی تھی۔ حتہ کہ صدیف بھی نظر انداز کیے ہوئے تھا۔ بھائی کے کئے کی سزا بلواسطہ طور پر آیت کو ہی مل رہی تھی۔ یہی تو قدرت کا نظام ہے۔
جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ جو دوسروں کے لئے مشکلات بناتا ہے اس کا اپنا دامن بھی کانٹوں سے بھر جاتا ہے۔ برائی پلٹ کر ضرور آتی ہے۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں مگر انسان آنکھیں بند کر کے بیٹھا ہوتا ہے۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
دن باسی ہوچکا تھا۔ موسم گرما کی تپتی دھوپ اپنے تاب سے چمک رہی تھی جب بٹ ہاوس کا بیل بجا۔ راعنہ نے دور سے ہی ننھی ایلزینا کی روتی بلکتی آواز سن کر پورچ کے جانب قدم بڑھائے۔
“زینی۔۔۔۔۔ میری بچی۔۔۔۔” جھٹ سے اسے سنبل بیگم کے بازووں سے لے کر خود سے لگایا اور دیوانہ وار چومنے لگی۔
ان کے پیچھے وارث صاحب اور نوریز اندر داخل ہوئے۔ آیت نے مما اور پاپا اور لاؤنج میں داخل ہوتے دیکھا تو ان کے سینے سے آن لگی۔
لاؤنج کے صوفوں پر سب بڑھے آمنے سامنے تشریف فرما ہوگئے۔ صدیف اور نوریز بھی کرسیوں پر بیٹھے ان کی بات چیت بغور سن رہیں تھے۔ راعنہ ماحول سے یکسر جدا زینی کو خود سے لگائے کھڑی تھی۔
“شعیب صاحب۔۔۔۔ میں بہت شرمندہ ہوں۔۔۔۔ سمجھ نہیں آرہا کہاں سے شروعات کروں۔۔۔۔ جو کچھ ہوا ایک غلط فہمی کے تحت ہوا۔۔۔۔ نوریز اپنے کئے پر بہت پشیمان ہیں اور آپ سب سے معافی مانگنا چاہتا ہے۔۔۔۔” وارث صاحب ہاتھ باہم ملائیں کنکارے۔
آخری جملے پر نوریز نے سرعت سے سر اٹھا کر انہیں دیکھا تھا۔ اس بات پر راعنہ پھیکا مسکرائی کیونکہ نوریز کے حرکات سے وہ بالکل پشیمان نہیں لگ رہا تھا۔
“ہاں۔۔۔۔ میاں بیوی میں تھوڑے بہت جھگڑے تو ہوتے ہی ہیں۔۔۔۔۔ یہ تو عام طات ہے نا۔۔۔۔۔ اس طرح گھر سے چلے جانا۔۔۔۔۔” سنبل بیگم نے اپنی مکاری سے بات راعنہ پر لادنا چاہی مگر وارث صاحب نے گلا صاف کرتے انہیں گھورا جس پر وہ خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہوگئی۔
شعیب صاحب نے ان سب سے دور زینی کو مضبوطی سے اپنے حصار میں لیئے راعنہ کے جانب دیکھا اور پھر وارث صاحب کی طرف متوجہ ہوئے۔
“وارث صاحب۔۔۔۔ میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔۔۔۔ ہماری دوستی۔۔۔۔ رشتہ داری۔۔۔۔ برسوں سے قائم ہیں۔۔۔۔ ہماری بچیاں ایک دوسرے کے اتنے قریب تھیں۔۔۔۔ پر اب حالات اور معاملات مختلف ہے۔۔۔۔ میں ایک مرتبہ اپنی بیٹی کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کر چکا ہوں۔۔۔۔ اب کی بار فیصلہ وہ خود کرے گی۔۔۔۔” شعیب صاحب نے کہتے ہوئے راعنہ کو اپنے پاس بلایا۔
راعنہ جھجکتے ہوئے ان کے پاس جا بیٹھی تھی۔
🅟🅐🅛🅦🅐🅢🅗🅐 🅢🅐🅕🅘
جاری ہے۔۔۔
NOTE: