Rate this Novel
last Episode
مابین یہ زندگی تمہاری بے فیصلہ بھی تم کو کرنا ہے کیونکہ ہمارے فیصلے کا انجام ہم دیکھ چکے ہیں ….. نادر آفندی نے کہا اس کے سر پر پیار سے بوسا دیتے ہوئے …..
بابا میں نہیں کرنا چاہتی شادی …. مابین نے سکون سے کہا …..
بیٹا اگر اتنا بہترین رشتہ نہ آتا تو یقینا میں تم سے بات کرنے کی بھی زحمت نہ کرتا مجھے جدید شاہ بہت پسند آیا ہے بہت اچھے لوگ ہیں، سب کچھ جان کر بھی ان لوگون نے تم کو پسند کیا ہے … نادر آفندی نے پیار سے کہا …..
ما بین دکھ اور تکلیف سے ان کو دیکھتی رہی انہوں نے شانی کا نام بھی نہ لیا ڈائریکٹ جنید شاہ کا پرپوزل سامنے رکھا …. وہ کیا کہتی اس کا دل کسی طور راضی نا تھا ۔
نادر صاحب آپ نے ذیشان کا نام بھی نہیں لیا اس کا بھی تو پریوزل …. سعدیہ بیگم نے کہا …..
پسس اس کا نام بھی لینے کی ضرورت نہیں۔ مجھے ایسے رشتیداروں سے کوئی تعلق نہیں رکھنا …. نادر آفندی نے نفرت سے کہا اور مابین اپنے باپ کے تاثرات دیکھتی رہ گئی …
چاچو وہ نہیں سمجھتا پلیز آپ تو مابین کے مامون ہیں آپ کچھ کریں نا ان دونوں کے لیئے پلیز وہ دونوں نہیں سمجھتے كتنا غلط کررہے ہیں وہ دونوں اپنے ساتھ دنیا اور ان لوگوں کا کیا ہے ان کا تو کام ہے کچھ نہ کچھ کہنا وہ تو کچھ دن کہتے ہی رہیں گے تو کیا ان کا سوچ کر وہ اپنی خوشیاں داؤ پر لگائیں کیوں کیوں چاچو ایسا کیوں ہے … جدید شاہ پر عمر کو بے انتہا پیار آیا کل جس جگہ عمر اور علیزے کھڑے تھے انشاء اور عیان کی خوشیوں کے لیئے آج اس جگہ جنید کھڑا تھا .
ان کو فخر تھا اپنے بھتیجے پر جو اپنے دوست کی محبت میں اتنا کچھ کر رہا تھا وہ اپنے دوست کو اس کی سچی محبت دلانے کے لیئے سب کرنے کو تیار تھا
عمر کو کچھ حد تک یقین اچکا تھا جنید جو کہے رہا ہے وہ سچ ہے کیونکہ ذیشان اور مابین کا گریز کئی دفعہ محسوس کیا تھا عمر نے اور جس رات مابین کا نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا اس رات جس طرح وہ ہسپتال میں پریشان ہے حال تھا تب بھی عمر کو کچھ عجیب لگا تھا …..
چاچو آپ دیں گے نا میرا ساتھ … جنید نے اس سے پوچھا
میں تمہارا ساتھ اس صورت دوں گا جب نیشان کی بلد نیست نارمل آئی کیونکہ جو بیماری مابین کو ہے اس صورت میں کزن میرج ٹھیک نہیں … عمر نے دو ٹوک لہجے میں کہا اور باریک بینی سے یہ سب بتایا کہ اس کے نقصانات کیا ہیں …..
انچ سال بعد
لیڈیز اینڈ جینٹل مین آج کا یہ بزنس آکونک ایوارڈ کسی مرد کے بجائے ایک لیڈی کو جاتا ہے جس نے نہ صرف بزنس پڑھا ہے لکہ خود ایک بزنس ایمپائیر کھڑا کیا ہے سو پلیز ویلکم مسز مابين وته | بيوج راؤنڈ آف ایپلاز …..
مابین سادگی سے مسکراتی استیج پر آئی اور ایوارڈ وصول کیا . فيو ورد پلیز میم …. بوسٹ نے کہا …. وہ مائیک تمام کر بولی …..
السلام علیکم ایوری ون …. فرست آف آل تھینک یو اللہ فار یوری تھنگ یو بلیسڈ می وتھ ایوری تھنگ مجھے کامیابی کے راستے پر لانے والے بہت سے لوگ ہیں ان سب کا شکریہ جس میں میرے ماں باپ میرے بھائی اور میرے اپنے جنہوں نے ہر وقت میرا ساتھ دیا پر ایک ایسا شخص تھا جو ان وگوں کے بیچ نہ ہو کر بھی جو ہمیشہ جس کی دعاؤں میں میں رہی خاص کر اس کا شکریہ آج جب وہ میرے ساتھ ہم قدم ہیں تو اس بات کے لیے اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں جس نے مجھے س شخص سے نوازا میری زندگی کو مکمل کر دیا جو پچھلے انچ سال میں مجھے زندگی کی پر خوشی دے کر مجھے مکمل ہونے کا احساس دیتا رہا …. ایک اچھا ہم سفر اور ایک اچھا دوست نصیبوں سے ملتا ہے اور میں واقعی دنیا کی خوش صيب عورتوں میں سے ایک ہوں جسے ایک اچھا ہمسفر بھی ملا اور ایک اچھا دوست بھی اور میں ان دونوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں میرا بہت اچھا دوست مسٹر جنید شاہ اور میرے ہمسفر مجھے مکمل کرنے والے ذیشان افندی …. اور میری شدید خواہش ہے کہ ذیشان افندی اگر میرے ساتھ کھڑے ہو کر یہ ایوارڈ تھا میں گے تو ہی میری خوشی مکمل ہوگی پلیز کم و استيج مائی لائف مسٹر ذیشان آفندی …..
پھر واقعی دونوں نے ایک ساتھ ایوارڈ تھاما … مابین کے چہرے پر نا ختم ہونے والی مسکرایت تھی …..
دونوں ایک ساتھ استیج سے اتر آئے تھے جنید شاہ جو دونوں کے لیئے دل سے تالیاں بجا رہا تھا اس مومینت پر …. ایوارڈ سیر یمنی کے لاست مومنٹ چل رہے تھے وہ تینوں باہر نکل آئے کیونکہ پھر میڈیا بہت کوریج دینے لگتی ہے اس لیئے بہتر یہی تھا وقت سے پہلے نکل جائیں اس بھیڑ سے …..
چنید شاہ اس بھیڑ سے دور ایک ریستورینت میں لے گیا ان کو جہان لیبل یک تھی، جنید نے ان کے لیئے سیلیبریشن رکھی تھی …
ويلكم مسز مابين ذیشان آفندی کانگر جیولیشن فار سكسيس ….. ایک اور کامیابی مبارک ہو تم دونوں کو …. بکے دیتے ہوئے جنید ایک بار پھر سے دونوں کو مبارک باد دی تھی …
تھینک یو جنید ایوری تھنگ یو تر فار اس … مابین نے ہمیشہ کی طرح دل سے کے وہ لفظ جو کہنا چاہتی تھی وہ کہتی بھی تھی کیونکہ اگر یہ شخص نہ ہوتا تو شاید شانی کو اس کی مایی نہ ملتی اور نہ کبھی وہ حوالہ مکمل ہوتا جو مابین نے اپنے ساتھ لگایا تھا “مابینزی مابین ذیشان ….
ان کو ایک کرنے میں سب سے زیادہ کوشش جنید نے کی جس نے ایک دوست ہونے کا حق ادا کیا ورنہ مابین اور ذیشان کی خاموش محبت خاموشی کے ساتھ دفن ہوجاتی …..
تمہاری بیوی نہیں آئی آج … مابین نے پوچھا جوس کا سب لیتے ہوئے …
اس کی طبیت ٹھیک نہیں … جنید نے بتایا نظر چراتے ہوئے ….
کیا مطلب کیا ہوا ہے بھابھی کو …. ذیشان نے پوچھا فکر سے …..
تم چاچو بننے والے ہو …. جنید نے کہا جس پر ذیشان اور مابین بسنے لگے تھے …..
اب اس طرح تم دونوں ہنس کر مجھے شرمندہ کر رہے ہو ….. جنید جھینپتا ہوا بولا … جبکہ مابین دوسری طرف منہ کرکے بسنے لگی …
یار اچھے جارہے ہو شادی کے تیسرے سال میں تیسری خوشخبری دے کر تم نے بڑا معرکہ مارا ہے … نیشان نے تالی بجاتے ہوئے کہا … جنید کو ہنسی آئی اس کے انداز پر …
کل ہم آرہے ہیں کیک مٹھائی لے کر حرا بھابھی اور تمہیں مبارک باد دینے …. ذیشان نے اپنا پروگرام بتایا جس پر جنید نے جلدی سے کہا …..
فی الحال آنے کی ضرورت نہیں پھر اجانا … سمجھ رہے ہو .. جنید کی بات پر ذیشان کا نا رکنے والا قہقہہ بلند ہوا اور مابین بھی ساتھ میں شامل ہوئی جبکہ جنید ذیشان کو گھورنے نگا
0000000
گھر پر سب نے پھول نچھاور کرکے ان کا ویلکم کیا سب سے آگے تنویر اور حورعین کھڑے تھے .. حورعین مابین اور ذیشان کی بیٹی جو چار سال کی ہوچکی تھی …. گندمی رنگت اور بڑی انکھون والی حورعین تنویر کی ہاتھ تھامے ہوئے تھی اور دوسرے ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ انہوں نے پکڑا ہوا تھا …..
مابین نے دونوں کے ہاتھ سے لیا گلدستہ اور دونوں کو پیار کیا …. ان کے پیچھے طاہر افندی شائستہ بیگم سعدیہ بیگم اور نادر افندی کھڑے تھے … جن سے مابین گلے ملی اور دعائین وصول کی .. وہ اپنے خاندان کے لیئے فخر کا باعث تھی …. طاہر آفندی جهان بیٹھتے فخر سے ماہین کا ذکر کرتے … مابین نے ان کی سوچ بدل دی تھی عورت کیا کچھ کرسکتی ہے یہ احساس ان کو ماہین نے کرایا تھا گھر سنبھالنا بچوں کو پالنا ان کی تربیت کرنا اور اپنا بزنس کرنے کے ساتھ ساتھ شوہر کو بھی آگے بڑھنے میں مدد کرنا ایک عورت اتنا کچھ کر سکتی ہے کبھی طاہر افندی نے سوچا بھی نہ تھا
علی اور عائشہ اپنے دونوں بچون کے ساتھ آئے تھے جبکہ تیمور کی ابھی شادی ہوئی تھی پچھلے سال اس کے یہاں خوشخبری تھی … دعا اپنے شوہر اور ایک بیٹی کے ساتھ آئی تھی کیونکہ آج ذیشان نے پورے خاندان کو بلایا تھا گرینڈ پارٹی رکھی تھی وہ اپنی بیوی کی پر خوشی بولی سیلیبریٹ کرتا تھا مابين منع کرتی رہ جاتی پر وہ ان معاملون میں کمپرومائیز نہ کرتا …..
شانی بھائی ایک گانا ہوجائے مابین کے لیئے … عاطف نے کہا جس پر ذیشان مسکراتا ہوا بولا میں اب نہیں گانے گاتا کیونکہ مجھے کسی نے کہا گانا گانے والا جہنمی ہے اور مجھے مابین کے ساتھ جنت میں جانا ہے میں اسے وہاں بھی تنہا نہیں چھوڑ سکتا …. ذیشان نے نرمی سے محبت سے لبریز لہجے میں کہا تھا
سعدیہ بیگم نے حیرت سے سنا اسے انہیں یقین نہیں آتا ایک دفعہ انہوں نے ذیشان سے کہا تھا جب ابھی ان کے رشتے کی بات شروع ہوئی تھی … سعدیہ بیگم نے کہا ” ذیشان میں نہیں چاہتی میری بیٹی ایک سنگر کی بیوی بنے کیونکہ اس راہ پر چلنے والا شخص ناصرف خود گناہ کرتا ہے بلکہ دوسروں کو و اس طرف لانا کیونکر در گاز نفس کی تسکین کے ساتھ
سعدیہ بیگم نے حیرت سے سنا اسے انہیں یقین نہیں آتا ایک دفعہ انہوں نے ذیشان سے کہا تھا جب ابھی ان کے رشتے کی بات شروع ہوئی تھی … سعدیہ بیگم نے کہا ۔ ذیشان میں نہیں چاہتی میری بیٹی ایک سنگر کی بیوی بنے کیونکہ اس راہ پر چلنے والا شخص ناصرف خود گناہ کرتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اس طرف لاتا کیونکہ یہ گائے نفس کی تسکین کے ساتھ ساتھ جسم میں شعوت بڑھاتے ہیں … سعدیہ بیگم نے نرم لہجے میں سمجھایا جسے وہ سعادتمندی سے سن رہا تھا
مامی اتنی سی بات میں کبھی گانا نہیں گاؤنگا کیونکہ جو چیز مجھے اور مابین کو جدا کرے وہ میں کبھی کرنا نہیں چاہوں گا … ذیشان نے فرمانبرداری سے کہا …..
مجھے فخر ہے تم پر بیٹا کہ تم نے میری بات سنی اسے مان بھی لیا یقین کرو اس میں تم دونوں کی بھلائی ہے … سعدیہ بیگم نے اسے سر پر شفقت کے انداز میں ہاتھ رکھ کر کہا …. ان کو فخر محسوس ہوا ایسا داماد پاکر پھر وقت نے ثابت کیا کس طرح ہر معاملے میں وہ مابین کے ساتھ کھڑا رہا مابین نے جتنا جلدی کامیابی کی منزلیں طے کیں وہ سب شانی کے ساتھ کا ہی نتیجہ تھا اگر شوہر ساتھ ہو تو پھر سسرال تو ویسے بھی خود بخود ساتھ ہوجاتی ہے … سعدیہ بیگم کھل کے مابین کی بر کامیابی کا کریڈٹ ذیشان کو دیتی آئی تھیں اور ذیشان اسے کسی میڈل کی طرح وصول کرتا تھا اور مابین مسکراتی رہتی کیونکہ حقیقت بھی یہی تھی …. نیشان ما بینزی سوفتوينير کمپنی سنبھال رہا تھا علی اور احد کے ساتھ اور اب جاکر سہی معنی میں ذیشان اپنی سوفٹویئر کی ذکری استعمال میں لاریا تھا یہ بھی مابین کا مشورہ تھا جب بھی نیشان کو کوئی مسئلہ ہوتا کسی کام میں بغیر بچکچایت کے ساتھ وہ مابین سے مشورہ مانگتا اور اسے سراہتا دل سے جبکہ مابین کو حیران کردیتا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی اس قدر وہ اسے ایڈمائیر کرے گا یہ ذیشان کے یقین اور بھروسے کا ہی نتیجہ تھا کہ
کرے گا … یہ ذیشان کے یقین اور بھروسے کا ہی نتیجہ تھا کہ مابین اور جنید شاہ نے مل کے اپنی ملتی نیشنل کمپنی کھولی تھی وہ دونوں اپنی ڈگری استعمال میں لارہے تھے … آج ان کی کمپنی کو ایک دنیا جانتی تھی یہ ایوارڈ مابین کو اس کمپنی کی وجہ سے ہی ملا تھا اگر اس وقت ذیشان ساتھ نہ دیتا جب ما بین دن رات جنید کے ساتھ مل کر کام کررہی تھی, طاہر افندی نے تھوڑا اعتراض کیا پر ذیشان نے یہ کہے کہ ان کو خاموش کروایا اسے اپنی بیوی پر پورا بھروسا ہے اور اس کی کامیابی کے راستے میں کسی کو رکاوٹ ڈالنے نہیں دے گا
کئی لوگوں نے ان کے بیچ شک جیسی بیماری لانے کی کوشش کی پر ذیشان نے کبھی کسی بات پر کان نہیں دھرا تھا …. لوگ اسے زن مرید کہتے وہ فخر سے یہ ٹائیٹل لیتا اور اگر کوئی کہتا اس کی بیوی اس سے زیادہ کامیاب بھی ہے اور کمائی بھی ہے تو وہ فخر سے کہتا مابین نے ہی اتنی تیلیننڈ اور جینئیس اور مجھے بھی اسٹیبلش کیا ہوا بزنس دیا اس نے ہے یہ
سوفتوينیر ہاؤس اس کی ذہانت اور محنت کا نتیجہ ہے … اس کے لہجے میں مابین کے لیئے فخر دیکھ کر کہنے والے اپنا سا منہ لے کر بیٹھ جاتے .. لوگوں کو شٹ آپ کال دینا وہ اچھے سے جانتا تھا
…………
رات کے چار بچ رہے الارم کی پہلی رنگ پر ذیشان اٹھ بیٹھا اور سیدھا واشروم گیا اور وضو کرکے جائے نماز پر تہجد پڑھنے کے لیئے کھڑا ہوگیا
کچھ دیر میں بستر پر ذیشان کو نا پاکر مابین کی بھی آنکھ کھلی اور ہمیشہ کی طرح ذیشان کو تہجد پڑھتا دیکھ کر مسکرائی تھی …..
مابین کو اپنی شادی کی پہلی رات یاد آئی جس رات وہ پوری رات شکرانے کے نفل پڑھتا رہا اور وہ اسے دیکھتی رہی کہ اس قدر بھی کوئی اسے چاہا سکتا ہے …..
ایسے کیا دیکھ رہی اچانک نیشان نے پوچھا اسے یوں خود کو تکتا پا کر اور مسکرا کر دیکھتے ہوئے
دیکھ رہی ہوں، میں نے ایسا شخص پایا ہے جو مجھے پاکر پوری رات شکرانے کے نفل ادا کرتا رہا اور میری پوری رات اس شخص کو تکتے ہوئے گزرگنی …. مابین نے محبت سے لبریز لہجے میں کہا اور وہ سمجھ رہا تھا کس رات کا حوالہ دے رہی تھی ما بين ….
میں اس رات کیا آج تک بر رات شکرانے کا نقل ضرور پڑھنا ہوں کیونکہ اللہ مجھ پر اتنا مہربان ہوا مجھے اس بیماری سے بچایا جو میرے سب بھائی بہنوں کو ہے اور ممکن کیا ہمارا ملن …. جتنا اس رب کا شکر ادا کروں اتنا کم ہے مابین جیسے ادھورے شخص کو مکمل کردیا ….. مجھ
شانی مجھے ڈر لگتا ہے تم مجھے مغرور کردو گے اس قدر چاہا کر مجھے حیرت ہوتی ہے ایسا کیا ہے مجھ میں جو کوئی اس قدر مجھے چاہے معمولی شکل و صورت ہونے کے باوجود اس طرح مجھے دیکھتے ہو جیسے دنیا میں اور کوئی ہے ہی نہیں سوالی میری ….
یہ یقین کرلو میری دنیا میں صرف تمہارے سوا اور کوئی ہے ہی نہیں تم ہی میری زندگی ہو میرے جینے کا سہارا ہو اور میرے جینے کا مقصد بھی …. وہ اس کا ہاتھ تھام کر خود سے لگا گیا …
کچھ دیر یونہی اسے وہ خود میں بھینچ کر رکھا تھا تب جلدی
کچھ دیر یونہی اسے وہ خود میں بھینچ کر رکھا تھا تب جلدی سے مابین بولی ” باقی رومینس بعد میں کیونکہ میری تہجد چلی جائے گی اور مجھے بھی شکرانے کا نفل پڑھنا ہے …..
نیشان اس کی بات پر بے ساختہ مسکرایا اور اس کے ماتھے پر بونت رکھے اور پھر بولا جاؤ پڑھ لو …..
مسکرا کر اسے اپنی گرفت سے اسے آزاد کرگیا …. وہ جلدی سے واشروم کی طرف بڑھی کیونکہ وقت کم بچا تھا تہجد کا …..
0000000000
چلو گڑیا اتنا بارش میں نہیں نہاتے بیمار پڑ جاؤگی …. سوله سالہ تنویر نے دس سالہ حورعین سے کہا …..
آپ جائیں تنویر میں آجاؤں گی … وہ منہ بسور کر بولی …. تنویر حیران تھا اس کے تنویر کہنے پر ابھی وہ اسے ٹوکنے کے لیئے بولنے لگا گڑیا …. اور اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی میں چھوٹی بچی نہیں ہوں جو مجھے گڑیا کہہ رہے ہیں مجھے حورعين بولين …..
حورعين …. مجھے تنویر بھائی بولو آئندہ خالی نام سے مت پکارنا مجھے … آب تنویر دره سی سختی سے بولا تھا
کیوں بولوں جب مجھے پتا ہے آپ میرے بھائی نہیں ہیں …. میں تو آپ کو تنویر بولوں کی سمجھے آپ … حورعین اتنا کے کر اندر بھاگ گئی اور وہ اسے جاتا دیکھتا رہ گیا …..
ایک نیا سلسلہ نئے انداز میں شروع ہونے کو تھا جس کی بنیاد رکھ چکی تھی قسمت …. کیا ہوگا تنویر اور حورعین کی زندگی میں جاننے کے لیئے اس سلسلے کا تیسرے سیزن میں آپ کو پڑھنے کو ملے گا جس کا نام ” تیرے درد سے شناسائی ہوئی کو
کیوں بولوں جب مجھے پتا ہے آپ میرے بھائی نہیں ہیں …. میں تو آپ کو تنویر بولوں کی سمجھے آپ حورعین اتنا کے کر اندر بھاگ گئی اور وہ اسے جاتا دیکھتا رہ گیا …..
ایک نیا سلسلہ نئے انداز میں شروع ہونے کو تھا جس کی بنیاد رکھ چکی تھی قسمت …. کیا ہوگا تنویر اور حورعین کی زندگی میں جاننے کے لیئے اس سلسلے کا تیسرے سیزن میں آپ کو پڑھنے کو ملے گا جس کا نام تیرے درد سے شناسائی ہونے کو ہے ۔ ناول میں ……
THE END
<
