Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

ناول … میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 16

“سوری پھپھو وہ مچھلی بناتے ہوئے میری طبیعت ایسی ہو جاتی ہے ائندہ ایسا نہیں ہوگا میں خیال کروں گی … سوری … وہ جلدی جلدی کہہ رہی تھی کیونکہ اس سے ڈر لگ رہا تھا وہ جس طرح اسے دیکھ رہی تھیں کہ شاید اس کی ساس کو اس کا یہ انداز پسند نہیں آیا تھا , “انہیں شاید کوئی بات بری لگ گئی ہے میری , ماہین کو یہی خیال آیا …

کچھ دیر کی خاموشی بعد وہ بولیں …

“ماہین یہ کب سے تمہاری طبیعت ہو رہی ہے … انہون نے تشویش سے پوچھا پر وہ بغور اسے دیکھ رہی تھیں …

“میری طبیعت کو کیا ہوا ہے میں تو ٹھیک ہوں … مجھے کچھ نہیں ہوا … ماہین نے بتایا , لہجے کو ہشاش بشاش ظاہر کرکے جس میں وہ بری طرح ناکام ہوگئی تھی کیونکہ کمزوری اس پر غالب ہورہی تھی …

“مطلب چکر انا , قے آنا ایسا کچھ … پھپھو نے پوچھا …

“پھپھو میں ٹھیک ہوں ایسا کچھ بھی نہیں ہے یہ صرف مچھلی کی وجہ سے شاید ہوا ہے … ماہین نے ان کے ہاتھ تھام کر کہا …

“نہیں , مجھے تو ایسا نہیں لگتا کہ یہ صرف مچھلی کی وجہ سے ہوا ہو … ماہین تمہارا چہرہ تو بہت پیلا ہو رہا ہے مجھے لگتا ہے تمہیں ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے اس بار دانش ائے تو میں تمہیں بھیجتی ہوں ڈاکٹر کے پاس … شائستہ بیگم نے کہا … وہ چاہتیں تو خود بھی لے کر جا سکتی تھیں ماہین کو ڈاکٹر کے پاس پر وہ جان بوجھ کر یہ سب دانش سے کروانا چاہتی تھیں تاکہ اسے احساس رہے ماہین کا , یہ وقت ماہین کی فکر کرنے کا ہے اگر جیسا وہ سوچ رہیں تھیں اگر ویسا ہے تو …

“میں سمجھی نہیں پھپھو , مجھے کچھ نہیں ہوا میں ٹھیک ہوں بالکل , سچ میں شاید مچھلی کی خوشبو ایسی ہوتی ہے اپ کو پتہ ہے کہ دل عجیب ہو جاتا ہے … ماہین نے وضاحت دی کیونکہ اسے ایسا کچھ نہیں لگ رہا تھا …. اتنا جلدی ایسا کچھ اس نے سوچا بھی نہ تھا … ابھی تو شادی کو دو مہینے ہی ہوئے تھے اس نے سوچا …

“ٹھیک ہے چھوڑو تم مچھلی کو میں خود ہی بنا دیتی ہوں تم جا کر ارام کرو … شائستہ بیگم نے نرمی سے کہا …

“نہیں پھپھو میں کر لوں گی , اب میں ٹھیک ہوں , قے کرنے کے بعد اب میں ہلکا محسوس کر رہی ہوں … ماہین نے کہا پر وہ اس کی سننے کے موڈ میں نہ تھیں , اس کا ہاتھ تھام کر کمرے تک لائیں اور کہا …

“ماہین جاؤ تم کمرے میں … جاکر آرام کرو … پھپھو پیار والی سختی سے کہا تو اسے جانا ہی پڑا …

@@@@@@@@

آج اتنے دنوں کے بعد دانش کی کال دیکھ کر ماہیں حیران ہوئی تھی کیونکہ ان کو نہ ملے اٹھارہ دن ہوچکے تھے … ان 18 دنوں میں ان دونوں کے بیچ کوئی بات نہیں ہوئی تھی نہ ہی کوئی رابطہ ہوا تھا نا دانش نے اس کی ضرورت محسوس سمجھی نہ ماہین کو اس کی ضرورت لگی … دونوں اپنے اپنے دائروں میں محدود ہوگئے تھے …

کال ریسوو کرکے اس نے سلام کیا … سلام دعا کے بعد دانش نے پوچھا …

“کیسی ہے طبیت اب تمہاری … اس کے لہجے میں فکر تھی وہ حیران ہوئی …

“میں ٹھیک ہوں … ماہین نے کہا … وہ تو اتنی خودار تھی اگر سچ میں بیمار ہو تب بھی فارمل انداز میں کہتی “میں ٹھیک ہوں مجھے کیا ہوا ہے … وہ کسی بھی بیماری کو خود پر سوار نہیں کرتی تھی …

“اچھا پر امی تو کہہ رہی تھی کہ تم ٹھیک نہیں ہو … دانش نے صاف گوئی سے بتایا تب ماہین سمجھی کہ وہ سب کچھ بتا چکی ہیں … جانے کیوں پھر بھی وہ اسے اپنے حصے کی صفائی دینے لگی …

“نہیں میں ٹھیک ہوں , بس وہ تھوڑا مچھلی سے مجھے الجھن ہوتی ہے اس وجہ سے طبیعت تھوڑی خراب ہو گئی تھی پر اتنی بھی زیادہ نہیں … دانش کی طرف سے خاموشی محسوس کرکے وہ چپ تھی …

“لگتا ہے میری یاد ارہی ہے اس لیے بہانے کر رہی ہو مجھے بلانے کے … وہ ہنسی ضبط کرتا ہوا بولا …

“میں جھوٹ نہیں بولتی میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا … ماہین بغیر اس کا مذاق سمجھے اپنی کہنے لگی … ماہین سمجھتی بھی کیسے اس کا مذاق والا انداز , جب ان دونوں کے بیچ ایسا کوئی تعلق ہی نہیں تھا کبھی , ماہین تو حد سے زیادہ حقیقت پسند ہو رہی تھی …

“ماہین کیا واقعی تم اتنی معصوم ہو یا صرف بنتی ہو … ماہین کے اس طرح صفائی دینے پر وہ خود کو کہنے سے روک ہی نہیں پایا اس لیے اس طرح پوچھ بیٹھا …

“مجھے کچھ سمجھ میں نہیں ارہا وہ اس کے شوخیہ لہجے پر پریشان ہو رہی تھی , اب کی اس کا لہجہ روہانسی ہو رہا تھا …

وہ موبائل کی دوسری طرف سے بھی اس کی پریشانی محسوس کر رہا تھا اس لیے سیریس ہو کر بولا “ماہین اچھا ٹھیک ہے ایک بات ذرا سوچ کر مجھے بتانا … اب کے دانش کا لہجہ بالکل ہی سیریس تھا …

“جی پوچھیں … ماہین نے اسے اجازت دی …

“مائنڈ مت کرنا , میں تمہارا شوہر ہوں , یہ پوچھنے کا میں حق رکھتا ہوں … جانے کیوں پوچھنے سے پہلے وہ اسے صفائی دے رہا تھا اور اپنا تعلق واضع لفظوں میں جتارہا تھا …

“جی اپ پوچھیں … ماہین من ہی من میں گھبرانے لگی جانے کیا ہوا ہے جو اس طرح وہ پوچھ رہے ہیں …

“ہممممم اوکے … دو لمحوں کے لیے چپ ہوا پھر بولا … “صرف اتنا بتادو … ڈڈ یو مس یور پ****ڈ … دانش کی بات پر وہ شرم سے لال ہوگئی وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ دانش اتنا بےباک ہوسکتا ہے اور اس طرح کی کوئی بات پوچھے گا بھی …

“ماہین کچھ پوچھ رہا ہوں … جلدی بتاؤ مجھے فکر ہورہی ہے … دانش کے انداز میں فکر تھی …

“جی … ائے مسڈ …. وہ گھبرا کر بولی …

“ڈیٹ کیا ہے … اب کے اس نے ایک اور سوال پوچھا … جس سے وہ کانوں تک سرخ ہوگئی تھی …

“پلیزززز … میں فون رکھنے لگی ہوں … وہ شرم سے پانی پانی ہورہی تھی … یہ بھی شکر تھا کہ وہ سب فون پہ پوچھ رہا تھا اگر روبرو پوچھتا تو شاید وہ چکرا کر ہی رہ جاتی … اس کے سوالوں پر ماہین جیسی کانفیڈنٹ لڑکی بھی کانپنے پر مجبور ہو گئی … کچھ سمجھ میں نہ آیا تو یہی بول گئی پر دانش کو اس کی بات شدید ناگوار گزری اس لیئے تنبہیہ بولا …

“ماہین یہ حرکت کبھی مت کرنا … چاہے کچھ بھی ہوجائے , مجھے سخت زہر لگتا ہے کوئی میری کال کاٹے وہ بھی میرے بولنے کے دوران , ایسا کچھ کبھی غلطی سے مت کرنا ماہین , ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا … جو پوچھا ہے اس کا جواب دو … دانش کا انداز اب تھوڑا سختی لیئے ہوئے تھا شاید اسے ماہین کی بات بہت بری لگی تھی …

“تھرڈ آف ایوری منتھ …. ماہین نے آہستہ آواز میں کہا … دانش کو یاد آیا ان دنوں وہ دونوں ساتھ تھے یہیں لاہور میں , واقعی تب ایسا کوئی سین نہ تھا …

“ہمممممم … اوکے میں کل کوشش کرتا ہوں آنے کی … ورنہ پرسون میں ارہا ہوں … اپنا خیال رکھنا کسی کام کو ہاتھ لگانے کی ضرورت نہیں , میں خود ہی امی سے بات کرتا ہوں … دانش نے واضع لفظوں میں اسے منع کیا کسی بھی کام کو کرنے سے … اس کے پاس ماننے کے سوا کوئی راستہ نہ تھا … وہ کال کٹ کرگیا پھر بھی وہ موبائیل کو گھورتی رہ گئی …

@@@@@@@@@

“کیا ہوا کچھ فکرمند دکھائی دے رہے ہیں … وہ کال رکھ کے پلٹا تو نایاب اس کے پیچھے کھڑی تھی … وہ دونوں بچون کو سلاکر آئی تھی … اب اس کا سارا وقت دانش کا تھا … نایاب نے پوچھا اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر , ماتھے کی لکیریں اور فکر کے تاثرات تو پوچھے بنا رہ نہ سکی ورنہ اس کی عادت نہ تھی ہر کال کی ڈیٹیل پوچھے …

“ہاں ہوں تو سہی … دانش نے کہا کیونکہ وہ اس سے کوئی بات چھپائی ہی نہیں سکتا تھا … وہ مسکرائی تو وہ دوبارہ بولا …

“تم سب سمجھ جاتی ہو نایاب میری فکر میری پریشانیاں سب … وہ اس کے ہاتھ تھام گیا ….

“یہی اصل محبت ہے دانش … ویسے دل کو دل سے راہ ہوتی ہے … وہ محبت سے لبریز لہجے میں بولی …

“بسسس ڈر لگتا ہے میری کسی بات سے تم کو تکلیف نہ ہو , نایاب , جن سے محبت ہو ان سے ہی ڈر لگتا ہے یار , اس کے کھونے کا ڈر , اس کی تکلیف کا ڈر , اسے لے کر بہت سے ڈر , خوف اور وسوسے رہتے ہیں … دانش کے لہجے میں نایاب کو کسی بات کے افسوس کا گمان لگا تھا ….

“آپ کو مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے .. میں ہمیشہ ہر لمحے میں اپ کا ساتھ دوں گی اور دوسری بات مجھ سے زیادہ ماہین سے ڈرنا چاہیئے آپ کو … وہ بولتے بولتے اخر میں لہجہ شرارتی سا کر گئی …

“مجھے ماہین سے کس بات کا ڈر … دانش نے لاپرواہی سے کہا …

“کیونکہ میں آپ کی محبت میں اسے برداش کرچکی ہوں … کیا وہ مجھے اور بچون کو برداش کرے گی اگر کبھی اسے ہمارا پتہ لگ گیا تو … یہ سوچا ہے آپ نے … نایاب نے جتاتے ہوئے کہا کیونکہ اس بات کا خوف تو ان کے بیچ تب تک رہنا تھا جب تک کہ ماہین کو یہ سب پتہ نہیں چل جاتا اور وہ یہ سب ایکسیپٹ نہیں کر لیتی ….

“اس کی فکر تم مت رکو یہ میرا سر درد ہے … دانش نے سکون سے کہا …

“ہمممم پر آپ کا سر درد میرا بھی ہے … نایاب نے اس کے گلے اپنی بانہیں ڈالی تھیں …

کچھ لمحے وہ ایک دوسرے میں کھوگئے دانش اس پر محبت نچھاور کررہا تھا وہ اس وقت اپنے روم کی بالکونی میں کھڑے تھے دونوں … “کچھ تو خیال کرلیں دانش کسی نے دیکھا تو … نایاب بولی تو وہ بولا “ششششش … اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ گیا …. کچھ لمحوں بعد نایاب اپنی سانسین درست کرنے لگی تو وہ بولا …

“سنو میں شاید ایک دو دن میں لاہور جاؤں … دانش نے کہا …

“یہ تو اچھی بات ہے آپ کو جانا بھی چاہیئے بہت دن ہوگئے ہیں … نایاب نے کہا سرسری لہجے میں , وہ اپنی ساس سے درست کر چکی تھی …

“یار تم کو غصہ نہیں آتا کیسی لڑکی ہو جب وہاں جانے کی بات کرتا ہوں … دانش نے کہا تو وہ نفی میں سرہلاتی بولی …

“بسس خود کو مضبوط کرچکی ہوں اب … نایاب کے لہجے میں سکون تھا جبکہ دانش کا اضطراب بڑھتا جارہا تھا …

“اتنا مضبوط کیسے .. وہ حیرت سے بولا …

“بتاتی ہوں , عورت خود کو خود کمزور بناتی ہے ورنہ خدا نے تو اسے بہت مضبوط بنایا ہے دیکھیں نا اسی پر ہی سوتن کا دکھ رکھا ہے اللہ نے کیونکہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس کے کون سے بندے میں کتنی برداشت ہے …. مرد پر ایسا کوئی دکھ نہیں رکھا شاید اللہ نے اسے کمزور ہی سمجھا ہے اس کے اعصاب اتنے مضبوط نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو کسی کے ساتھ شیئر کر سکے یہ حوصلہ تو صرف ایک عورت میں ہی ہے … پتہ ہے میری ماں کیا کہتی تھیں کہ مرد اگر ایک پہاڑ پر کھڑا ہو عورت اشارہ کرے تو وہ اس کے لیے پہاڑ سے اتر کر زمین پر ا جائے پر اگر عورت ایک پتھر پر کھڑی ہو مرد چاہے کتنے بھی اشارے کرے کچھ بھی کر لے عورت نہیں چاہے تو کبھی کوئی مرد اسے وہاں سے ہٹا نہیں سکتا اتنی مضبوط ہے ایک عورت … وہ نرم لہجے میں بول کر سب واضع کرتی چلی گئی واقعی میں بہت مضبوط لگی وہ دانش کو …

وہ کہے بنا رہ نہ سکا کہ …

“سچ میں نایاب تم بہت مضبوط ہو اور جتنا سوچتا ہوں اتنا تمہارا گرویدہ ہونے لگتا ہوں تمہارا …

“ابھی تک اپ نے بتایا نہیں کہ کون سی بات اپ کو اتنا پریشان کر رہی ہے … نایاب نے دوبارہ یاد انے پر پوچھا …

“ہمممم بتاتا ہوں … شاید ماہین … دانش کے لفظ منہ میں ہی رہ گئے وہ جملا مکمل ہی نہ کرسکا … شاید نایاب کے دکھی ہونے کا خوف تھا اس کے دل میں …

“شاید امید سے ہے … نایاب نے جملا مکمل کیا …

“تم بغیر کہے کیسے سمجھ جاتی ہو … دانش حیران ہی ہوا …

“دل کا معاملہ ہے جناب … وہ اس کے کندھے سر رکھ گئی …

“اگر ایسا ہے تو پھر آپ کو مبارککک … وہ اس کی بات کاٹ گیا اور بولا …

“بسسس کرو یار مجھے شرمندگی ہورہی ہے تمہارے اگے … تم بھی کیا سوچتی ہوگی کہ محبت کے دعوے مجھ سے اور اتنا جلدی یہ سب کچھ …. دانش نے اپنی شرمندگی کی اصل وجہ نایاب کو بتائی , جس پر وہ ہلکا سا مسکرائی ایسے جیسے کسی بچے کی چھوٹی سی بے وقوفی سی غلطی پر کوئی بڑا مسکرائے جیسے …

“اف دانش میں ایسا کچھ نہیں سوچتی اور دوسری بات رخصتی کے بعد یہی ہوتا ہے …اگر واقعی ایسا کچھ ہے تو آپ کو خوش ہونا چاہیئے کیونکہ یہ ماہین کا حق ہے … اب کے وہ اسے سرزش کرتے ہوئے بولی تھی …

“سمجھتا ہوں پر اب سوچتا ہوں مجھے کیئر کرنی چاہیئے تھی کیونکہ مجھے اب دونوں طرف فکر لگی رہے گی … کچھ حد تک وہ ریلیکس ہو گیا تھا کیونکہ اس کے نایاب کے احساسات کی فکر تھی …

“چلو اچھا ہے ماہین کو بھی میری طرح تمہاری کمی نہیں محسوس ہوگی … نایاب نے سکون سے کہا …

“مجھے تو لگتا ہے اسے کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا … دانش نے کہا بے ساختہ … کیونکہ یہ بات شدت سے وہ محسوس کر چکا تھا کہ وہ خود میں کھوئی رہتی ہے اس سے کسی قسم کا تقاضہ نہیں کرتی اس میں کوئی بھی بات عام بیویوں والی نہ تھی بلکہ اسے لگتا تھا کہ اس کی دونوں بیویوں میں کوئی عام بیویوں والی بات نہ تھی …

“کیا مطلب اس بات کا …. نایاب نے حیرت سے پوچھا …

“کچھ نہیں … اب ماہین نامہ بند ہم اپنی بات کریں گے …. دانش نے محبت سے کہا …

وہ اسے گود میں اٹھاکر روم کی طرف بڑھا … “پلیز دانش نیچے اتاریں …

“مجھے اچھا لگتا ہے یوں تمہیں اٹھانا میری جان … دانش کے لہجے میں محبت ہی محبت بول رہی تھی ….

@@@@@@@@

پھر واقعی اپنے کہے مطابق وہ تیسرے دن اگیا … یہ دو دن ماہین پر عجیب کیفیت رہی اسے سمجھ نہیں ارہا تھا کیا کرے , اسے اندازہ تھا سب کیا سوچ رہے ہیں پر اس کے ساتھ یہ مسئلا شادی کے پہلے بھی رہتا تھا … اس کے ساتھ یہ مسئلا تب ہوتا تھا جب پڑھائی کا اسٹریس ہوتا تھا , اس لیے ابھی بھی اس نے اس بات پر اتنا کوئی سیریس نہیں لیا تھا اور وہ چاہ کر بھی اپنے سسرال والوں سے یہ بات نہیں کہہ سکتی کہ شادی کے پہلے بھی اس کے ساتھ یہ ہوتا رہا ہے اور دانش کے سامنے تو بالکل بھی نہیں کیونکہ وہ تو پتہ نہیں بات کو کیا سے کیا رنگ دے دیتا اس لیے اس نے کچھ بھی نہیں کہا خاموشی اختیار کر لی , کیونکہ خاموشی ہی ہر مسئلے کا بہترین حل تھی , ماہین کی نظر میں …

شائستہ بیگم نے اسے کچن میں جانے نہ دیا اور سو نصیحتیں کرکے آفیس بھیجا کیونکہ دانش نے واضع لفظوں میں اپنی ماں سے کہا “ماہین جاب کرے گی , اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنی ہماری طرف سے ورنہ میرے اوپر پریشر آئے گا اسے اسلام آباد رکھوں اور میں کسی صورت نایاب کو یہ تکلیف نہیں دے سکتا , مجھے لگتا ہے یہ دونوں کے لیے بہتر رہے گا …

شائستہ بیگم اپنے بیٹے کا بھرپور ساتھ دے رہیں تھیں اس سب میں وہ کسی صورت نہیں چاہتی تھیں ماہین کو دانش کی شادی کی خبر ہو …

ماہین , شائستہ بیگم کی سب انسٹریکشن خاموشی سے سب کچھ سن رہی تھی سیڑھیان زیادہ مت چڑھنا یا اترنا , ہیل اب نہ پہنو , ارام سے دھیان سے چلنا کہ کہیں پاؤں نہ پھسل جائے , کوئی وزن نہیں اٹھانا وغیرہ …

وہ چاہ کر بھی خود سے پی ٹی )پریگنینسی ٹیسٹ( اسٹریپ لے کر ٹیسٹ نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ دانش کے عجیب سوالوں کا جواب دینا اس کے بس سے باہر تھا جانے وہ کیا سوچے اس کے بارے میں کہ کتنی بولڈ ہے وہ , اس لیئے وہ دانش کا انتظار کرنے لگی کہ وہ خود آئے تو اس کے ساتھ جائے ڈاکٹر کے پاس ….

پھر واقعی تیسرے دن صبح میں وہ ایا اور اسی دن شام میں کلینک لے گیا اس کا چیک اپ اور ٹیسٹ کروائے … ڈاکٹر کو بھی شک تھا پر تصدیق تو ٹیسٹ سے ہی ہونی تھی …

اور چوتھے دن جب دانش رپوٹ لایا تو ساتھ میں اس کے ہاتھ میں مٹھائی دیکھ کر پھر تو گھر میں بہار اگئی سہی معنوں میں , طاہر آفندی بےانتہا خوش ہوئے , اتنے دنوں بعد پہلی بار ماہین کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دیں … ماہین بھی کھل کے مسکرائی تھی ….

“مجھے تو فکر تھی کہ کہیں تم خوش نہیں ہو کیا … دانش نے اپنے دل کی بات کہی رات میں , وہ اسے خود سے لگائے ہوئے تھا آج وہ نرمی سے اسے چھوتا حیران کررہا تھا … وہ اسے خود سے لگائے ہوئے تھا , آج اس کے انداز الگ تھے پر ماہین کا دل خوش فہم نہیں ہونا چاہتا تھا …

“میں خوش ہوں … ماہین دھیمے لہجے میں بولی …

“اب تمہارے چہرے پر سکون ہونا چاہیے … ویسے پوچھ سکتا ہوں کیوں ڈر تھا تمہارے چہرے پر … دانش نے پوچھا …

“میری تسلی ٹیسٹ کے بعد ہوئی ہے … ماہین نے آسان لفظوں میں کہا …

“اچھا مجھے بھی لگ رہا تھا کہ تم ڈری ہوئی ہو پر اس میں ڈرنے کی کیا بات تھی ماہین … دانش اس کے بالوں میں انگلیان چلاتا ہوا بولا … آج جانے کیوں دانش کا بولنا اس کے اندر سکون بھر رہا تھا وہ اپنے لیئے سکون شوہر میں ہی سوچتی تھی … پھر بھی اگر وہ اپنے دل کو ٹٹولتی تو اندر سے اواز ارہی تھی کہ وہ اس پر بھروسہ نہیں کر سکتی وہ نہیں بھول سکتی وہ بات جو اس دن اس نے کہی تھی اس کی قربت والی بات کو لے کر , کس طرح اسے کٹگھرے میں کھڑا کر دیا تھا … اسے وہ رات کبھی نہیں بھولنے والی تھی وہ بھی ماہین جیسی حساس لڑکی کے لیئے … شاید مرتے دم تک بھولنا نا ممکن تھا پر اس نے اپنے زخم پر صبر کا پتھر رکھ لیا تھا … جتنا دانش اس سے بے وقوف سمجھتا تھا اتنی وہ تھی نہیں یہ بات اسے وقت بتائے گا …

“مجھے لگا سب کی امیدیں ٹوٹ جائیں گی اگر رپورٹ نیگٹو ائی تو … ماہین نے اپنی فکر بتائی سچائی سے …

“پر مجھے تو یقین تھا میں باپ بننے والا ہوں … اس کے لہجے میں اپنی مردانگی کی اکڑ تھی جانے کیوں ماہین کو اپنے اندر سناٹا سا اترتا ہوا محسوس ہوا … جانے کیوں آنکھون کے اگے قربت کی وہ تکلیف دہ راتین اتر آئیں جو گھٹ گھٹ کر وہ گزارچکی تھی اس کی قربت میں , وہ اسے اپنی مردانگی کے زعم میں توڑ چکا تھا …

“تھینک یو ماہین … وہ مسکرا کر اس کے گلے لگا پھر اس کا ماتھا چوم کر بولا تھا وہ بے بسی سے مسکرا بھی نہ سکی اس لمحے بس نظر جھکا گئی شاید اپنی شکوہ کرتی آنکھون کا تاثر چھپانا چاہتی تھی کیونکہ دانش کے پاس اس کے شکواؤں کا نہ جواب تھا نہ اس کے پاس اتنا ٹائم تھا کہ اس بارے میں سوچتا … ماہین کو یہی بہتر لگا کہ وہ اپنا درد اپنے دل کے بند خانوں میں چھپائے رکھے …

“ہم کل عمر مامون کے یہاں چلیں , کافی دفعہ مامون اور علیزے مامی کہے چکے ہیں … ماہین نے اس سے بڑی آس سے پوچھا دانش سے , اسے جانے کیوں یہ لگا کہ اج وہ ضرور اس کی بات مانے گا …

پر ماہین کی بات پر واضح بیزاریت دانش کے چہرے پر ائی اور وہ بولا “پلیز ماہین تمہیں جانا ہو تم چلی جاؤ میرا کوئی موڈ نہیں ہے وہان جانے کا …

ماہین کا خفگی سے چہرہ سرخ ہوا وہ آہستگی اس سے دور ہوکر لیٹ گئی … جس کا حسب عادت دانش نے نوٹس نہ لایا الٹا فون اٹھا کر بالکونی میں چلا گیا نایاب سے بات کرنے تاکہ اسے بتاسکے ماہین کی رپوٹ پوزیٹوو آئی ہے …

ماہین کچھ دیر میں سوگئی … دانش واپس آیا اس پر کمفرٹ درست کرگیا اور ساتھ ہی لیٹ گیا سونے کے لیئے …

@@@@@@@@

نور کی آنکھون میں نمی اگئی ایسا لگ رہا تھا گلاب جامن میٹھے کے بجائے اسے کڑوا لگ رہا ہو جیسے …

آج لگ رہا تھا وہ مکمل ٹوٹ چکی تھی …

وہ مکمل ہوگئی مان بن کر اور میں ادھوری ہوں اور رہون گی …. کیوں … کیوں اللہ یہ میرے ساتھ کیوں ہوا … وہ من ہی من اللہ سے شکایت کرنے لگی تھی …

کتنی دیر واشروم میں جاکر تنہا روتی رہی تھی وہ …

آج مجھے شانی سے کھل کے بات کرنی پڑے گی کہ آخر کب تک یہ سب برداش کروں میں اور کیوں … میں نہیں کروں گی برداش …

وہ اچھی طرح سوچ چکی تھی کہ اس سے بات کرے گی پر وہ ہسپتال چلا گیا کیونکہ اس کے دوست کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا , وہ رات شانی نے وہین گزاری تھی …. پھر دوسرے دن ہی اسے پتا چلا شانی کو کچھ دنوں کے لیئے کراچی جانا ہے … جو بات تھی وہ ادھوری رہ گئی … نور سلگنے لگی تھی اب , شانی اس سے بےپرواہ ہوگیا ہو نور کا یہی خیال تھا اس کے مطلق …

دونوں کے بیچ خاموشی ہی رہی … شانی چلا گیا وہ دل پر بوجھ لیئے گھر میں خاموشی سے چلتی رہی …

پر وقت کے ساتھ اس کے اندر ماہین کو لے کر کدورت بڑھ رہی تھی اور شانی کے لیئے محبت کے جذبات مانند پڑنے لگے … اس کی نفرت اور حسد کیا رنگ لانے والی تھی یہ بات کوئی نہیں جانتا تھا یہ صرف وقت نے بتانا تھا …

جاری ہے