Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

ناول … میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم … صبا مغل

قسط نمبر 7

مہندی سے دو دن پہلے ماہین کو مایون بٹھانا تھا اس لیئے دو دن پہلے ہی سب اگئے تھے لاہور سے سوائے دانش اور ذیشان کے کیونکہ دونوں کو ہی آنا تھا مہندی والے دن تھا … دانش کو اسلام آباد سے اور ذیشان کو لاہور سے …

مایون گھر پر ہی ارینج کیا گیا تھا … لاؤنج کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا … شائستہ بیگم کو یہیں اکر پتا چلا یہ ارینجمینٹس ماہین کے کلیگس نے کی ہے یہ ان کی طرف سے ہے , حالانکہ وہ سب مل کے چھوٹی سی ڈھولکی رسم کسی اچھے ہوٹل میں کرنا چاہتے تھے پر جب سعدیہ بیگم کے پاس آئے تو انہون نے پیار سے ان کو سمجھایا ہمارے یہان اس طرح ہوٹل میں کچھ رسم کرنا لڑکیوں کی کچھ مناسب نہیں سمجھا جاتا… تو پھر انہون نے کہا وہ لوگ گھر میں سجاوٹ کرواکر کریں تو آپ اعتراض تو نہیں کریں گی آنٹی …

پھر سعدیہ بیگم نے نادر صاحب سے پوچھ کر ان کو اجازت دے دی .. یون آج مایون کی ڈیکوریشن ان کی طرف سے ہی تھی … نور حیران ہوتی رہی ماہین کے پروٹوکول پر , گرین میکسی اس پر یلو دوپٹہ پہنے وہ جھولے پر اکر بیٹھی رسم کے لیئے , پھولوں سے سجاوٹ کی گئی جھولے کی … تو اس کی ساس نے رسم کی اسے پیلی چوڑیان پہنا کر اور ہلدی لگا پھر مٹھائی کھلا کر … پھر باری باری سب نے رسم کی … ماہین کا کریٹوو گروپ تو پورا آیا تھا بلکہ ساتھ ہی دوسرے آفیس کے کلیگس نے اکر اسے حیران کردیا , اسے امید نہیں تھی کہ اس کے انویٹیشن دینے پر آ جائیں گے پر وہ اج بہت خوش تھی کہ سب نے اس کا مان رکھا … علی نے سب میل کلیگس کو سنبھالا ہوا تھا جبکہ فیمل کلیگس کو انوشے دیکھ رہی تھی …

کچھ دیر بعد میوزک لگا کر جو سب نے مل کر ڈانس کیا ماہین ہی حیران ہوگئی , ڈانس وغیرہ اس کی کلیگس نے مل کر کیا تھا … سب بہت انجوائے کررہے تھے ماہین کے کزنز بھی حیران ہوتے رہے , ماہین بس مسکراتی رہی , اس کی یہ معصوم سی مسکراہٹ دیکھ کر اس کی ماں اس کی دائمی خوشیون کی دعا کرتی رہیں دل ہی دل میں … دعا , تیمور اور علی نے مل کر ڈانس کرکے اسٹیج کی رونق بڑھائی … سب لڑکیون کو پیلی چوڑیان پہنائی گئیں , گجرے بھی پہنائے گئے …

بہترین ڈنر کا ارینجمینٹ کیا تھا نادر صاحب نے , سب نے تعریفین کیں یوں رات کے ایک بجے کے بعد یہ رسم پوری ہوئی …

رات میں سب مہمانوں کے جانے لے بعد بسسس خاندان کے ہی لوگ رہ گئے تھے جن کے لیئے چائے بنائی گئی , سب خوش گپیون میں مصروف تھے …

“مجھے کچھ مناسب نہیں لگ رہا تھا سعدیہ بھابھی … اچانک شائستہ بیگم نے کہا تو اس کی تصدیق شاہدہ بیگم نے بھی کی , اخر دونوں بہنیں جو تھیں …

“میں سمجھی نہیں اپ کیا کہہ رہی ہیں … سعدیہ بیگم نے شائستہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا …

“,ہم اتنے ماڈرن تو نہیں تھے کبھی کہ اس طرح ماہین کی آفیس کی لڑکیان آئیں پر مرد بھی یون آئیں گے , سوچا نہ تھا , پتا نہیں طاہر کو بھی برا لگا ہو شاید … شائستہ نے کہا کیونکہ وہ اپنے شوہر کی طبیت سے واقف تھیں اس طرح کا میل جول ان کو پسند نہ تھا …

“آپا , بچے ہیں سب , ماہین کے ساتھی ہیں , وہ سب اتنا خوش تھے اسی لیے انہوں نے خوشی میں یہ سب کچھ کیا … ہمیں اپنی سوچ بدلنی پڑے گی وقت کے ساتھ ساتھ … سعدیہ نے سھولت سے کہا …

“بحرحال خاندان میں اس طرح سب کے بیچ ان لڑکون کا یوں گھومنا مناسب نہیں لگا اور دیکھ نہیں رہیں تھیں آپ , کیسے لڑکا لڑکی ساتھ میں ناچ رہے تھے … اب کے ان کی چھوٹی نند شاہدہ بیگم نے بھی جتانا مناسب سمجھا …

سعدیہ اور کچھ کہتی اس سے پہلے علیزے نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا … علیزے ان کے اکلوتے بھائی عمر کی دوسری بیوی تھی جو خاص لاہور سے یہ شادی اٹینڈ کرنے آئیں تھیں … جس کا واضع مطلب تھا کہ وہ چپ ہوجائیں , علیزے کا مطلب وہ انکھوں ہی انکھوں میں سمجھ گئیں … اور پھر واقعی سمجھداری سے علیزے نے بات بدل دی تو شاہدہ اور شائستہ کو چپ ہونا پڑا …

کچھ دیر بعد سب اپنے گھر روانہ ہوگئے , سعدیہ کے گھر صرف علیزے کا اسٹے تھے جبکہ عمر اور بچون نے مہندی کی رات ہی آنا تھا کیونکہ بچون کے سیمسٹر تھے … یہ فنکشن خالص عورتون کا تھا اس لیئے عمر نے علیزے کو بھیج دیا خود اس نے سعدیہ اور نادر سے فون پر بات کرکے سب بتادیا اپنے اور بچون کے پروگرام کا … جہان تک طاہر آفندی کی بات تھی تو ان کا اسٹے گیسٹ ہاؤس میں تھا جو انہون نے اپنے اور مہمانوں کے لیئے بک کروایا ہوا تھا … گیسٹ ہاؤس کا دانش نے ہی کہا تھا کیونکہ اسے پسند نہیں تھا کسی رشتیدار کا احسان لیا جائے … یہ بندوبست کیا تو ریحان نے تھا پر دانش کے کہنے پر وہان پر ہر سھولت کے لیئے دانش نے ہی سارا انتظام کیا تھا …

سعدیہ علیزے کو گیسٹ روم میں چھوڑ آئی تھی پھر بھی سونے سے پہلے اس کے روم کے باہر ناک کرکے آئی یہ جانمے کے لیئے شاید کسی چیز کی اسے ضرورت ہو …

علیزے نے دروازہ کھولا اور کہا “ارے آپی آئیں بیٹھیں …

“کسی چیز کی ضرورت تو نہیں … سعدیہ نے پوچھا کیونکہ وہ آئیں ہی اس لحاظ سے تھی …

“نہیں آپی , سب کچھ تو رکھا ہے آپ نے … علیزے نے سھولت سے کہا …

“تھینکس علیزے بھابھی … سعدیہ نے نرمی سے کہا …

“کس لیئے آپی … علیزے نے حیرت سے پوچھا …

“اس وقت مجھے چپ ہونے کا کہنے لیئے … سعدیہ نے کہا …

“مجھے ڈر لگا کہیں اپ کو برا نہ لگا ہو میری اس حرکت پر … علیزے نے اپنی فکر بتائی …

“مجھے کیوں برا لگے گا میں جانتی ہوں تم نے میرے بھلے کے لیے کیا ورنہ ہم نند بھابھی کی بحث ہوجانی تھی پھر سب مجھے ہی غلط کہتے ,میں جتنا بھی کر لوں یہاں کے لوگوں کے لیے اج بھی میں الگ ہی ہوں ان سے … سعدیہ نے افسوس سے کہا …

“سعدیہ اپی ہم سب کچھ کر سکتے ہیں پر کسی کی سوچ نہیں بدل سکتے اپ ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں … ماہین کے کلیگس نے بہت اچھا پروگرام کیا , سچ میں بہت مزا آیا …

اور پھر کچھ لمحوں کی خاموشی بعد علیزے بولی …

“دیکھیں سعدیہ آپی , رشتے اسمانوں پر بنتے ہیں زمین پہ تو صرف ہم کوشش کر سکتے ہیں ان کو قائم رکھنے کی … اپ کا اور نادر بھائی کا رشتہ خدا کی طرف سے لکھا ہوا تھا تبھی ممکن ہوا ورنہ کہاں ممکن تھا کہ افندی میں کوئی افندی کے علاوہ آ سکے پر دیکھین کیسے سعدیہ ملک آج سعدیہ آفندی بن گئیں ہیں اور ان میں رچ بس گئیں ہیں …

علیزے کی بات پر مسکرائی سعدیہ کتنے وقت بعد ان کو یاد آیا کہ وہ شادی سے پہلے ملک تھی اور اب سعدیہ آفندی کہلائی جاتی ہیں …

“ہاں ٹھیک کہہ رہی ہو تم پر اج تک مجھے ہمیشہ یہ لفظ سننے پڑتے ہیں میں افندی نہیں ہوں , شاید آپ کو تو پتا ہی نہیں طاہر بھائی کے والد کو سخت اعتراض تھا پر … وہ اپنی بات روک گئیں شاید پرانے زخم ادھیڑنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا اب اس وقت جب یہ سب باتین پرانی ہوچکیں تھیں … باتیں تو پرانی ہو جاتی ہیں پر یہ جو ہوتے ہیں لفظوں کے زخم اکثر وقت بروقت تازے ہوتے رہتے ہیں …

سعدیہ نے پرانی باتون کا حوالہ دیا جبکہ وہ کہے نہ سکیں کہ کس طرح طاہر آفندی باتون باتون میں نادر آفندی کو طعنہ مارا کرتے تھے تمہاری بیوی آفندی نہیں ہے , یہ کیا ہماری روایتون کا پاس رکھے گی , یہ کیا سمجھے گی کہ خاندان میں کس طرح رہا جاتا ہے , خاندان کو کیسے جوڑے رکھے گی , خیال رکھنا کہیں کل کو یہ تمہاری بیوی تمہارے بچون کو بھی خاندان سے باہر بیاھ کر ہماری ناک نہ کٹوادے …. پہلے طاہر آفندی کے بابا پھر خود طاہر آفندی اس طرح کے جملے الگ موقعوں پر بول کر کافی دفعہ زچ کرچکے تھے پر نادر آفندی نے آج تک پلٹ کر کبھی جواب نہ دیا تھا ان کو , کبھی مسکرا کر بات ٹال دیتے کبھی خاموشی سے کیونکہ وہ ان کی آپا کے شوہر تھے ان سے بڑے تھے اور بہن کے سسر کو کیا کہتے , اس لیئے خاموشی ہی بہتر حل تھی ان باتون کی … سعدیہ بیگم نے یہ سب برداش کیا … آج بھی اللہ شکر ادا کرتی ہیں انہون نے اپنے تین بچون کی شادیان آفندیز میں کرکے اپنے شوہر کا مان بنائے رکھا … وہ ہمیشہ اپنے شوہر کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں چاہے جو حالات رہیں ہوں …

“مجھے پتا ہے ایک دفعہ یونہی باتوں باتوں میں عمر نے بتایا تھا کس طرح نادر بھائی نے آپ کو دیکھا اور دیوانہ ہوگئے اور کس طرح آپ کو حاصل کرکے ہی مانے …

“علیزے بھابھی بسس کریں آپ , کیا باتیں لے کر بیٹھ گئیں آپ …
سعدیہ بیگم نے تو جلدی سے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ بولنے سے روکا کیونکہ ان کو شرم سی ارہی تھی … جس پر علیزے مسکرائی اور کہا …

“اچھا ٹھیک ہے میں پرانی باتیں نہیں دہراتی آپا …

یون وہ کافی دیر باتیں کرتیں رہیں پرانا وقت یاد کرتی رہیں …

@@@@@@@@

مہندی کا فنکشن بینکیوٹ میں تھا … مہمانوں کا کافی رش تھا … دانش کے کچھ دوست آئے تھے اس کے ساتھ ہی … یون آج کی رسم دونوں کی کمبائین ہوئی … دونوں کی جوڑی کو سب نے سراہا … دانش کے تاثرات سرد سے تھے … اس کے چہرے کی سنجیدگی صاف ظاہر تھی رسم کے دوران تھوڑا ہنسی مذاق لڑکے لڑکیون کا چلتا ہے پر دانش کا رسم کے دوران سرد انداز محسوس کرکے سب کزنز سائیڈ ہوگئے … ذیشان نیچے ہی کرسی پر بیٹھا تھا صمد کو اٹھائے , اسے اپنی بہن کے اس بیٹے سے بہت لگاؤ تھا … طیبہ کی نظر پڑی تو اس نے کہا “شانی اوپر آؤ رسم کررہے ہیں تم نے اور نور نے اکر بھی کرنی ہے …

“جی آپی ہم ارہے ہیں … شان نے کہا … اسی وقت نور آئی اور اس کا ہاتھ تھام کر اسٹیج پر لے گئی یوں وہ بھی چلا آیا , جہان ماہین کو دانش کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر اس کے دل سے ہوک اٹھی …

“دیکھیں دانش بھائی اور ماہین کتنے اچھے لگ رہے ہیں ایک ساتھ …

“ہمممم … وہ ضبط سے بولا اور کہا جلدی رسم کرو صمد پریشان ہورہا اس رش میں … شانی نے نظریں جھکالیں وہ زیادہ دیر دیکھ ہی نہیں سکتا تھا اس کو …

“اچھا , مجھے تو لگتا ہے صمد سے زیادہ اس کا مامون پریشان لگ رہا ہے …. وہ اہستہ اواز میں بولی پر انداز میں بھرپور طنز تھا جسے شدت سے محسوس کیا شان نے …

“نورررر …. شان نے تنبہی اواز میں کہا …

نور نے مسکرا کر کہا “چلیں رسم کر لیں پھر اپ بھلے نیچے چلے جائیں … اب کے اس لے چہرے پر دبی سی ہنسی تھی اسے شان کی بےبسی پر مزا بھی ارہا تھا … اسے یقین تھا بہت جلد وہ مکمل اس کا ہوجائے گا ….

پھر واقعی نور نے رسم کی اور شان نے پیسے نکال کر دیئے تو اس نے وہ دانش اور ماہین پر گھما کر تھالی میں رکھے کئی ہزار کے نوٹ تھے جس پر نور کافی زچ ہوئی پر یہاں اتنی رش میں تماشہ کرنا وہ افورڈ نہیں کر سکتی تھی پر اسے اپنے شوہر پر شدید غصہ آرہا تھا …

وہ جلدی سے نیچے اتر آیا گرین اور اورینج کامبینیشین کے ڈریس میں ملبوس ماہین اس کو بری طرح گھائیل کررہی تھی , اتنا غور سے نا دیکھ کر بھی وہ اس کے دل و دماغ میں بیٹھ گئی تھی…

“تین سال گزرگئے پھر بھی دل تمہیں بھولتا نہیں اج بھی اسی طرح دھڑکتا ہے جس طرح پہلے بار دھڑکا تھا تمہارے لیئے … کیوں ماہی مجھے صبر نہیں آ جاتا کیوں کس سے کہوں میرے لیے صبر کی دعا کرے بتاؤ نا …

مرشد سائیں کچھ تو دعا کر ,کوئی تو دوا کر

یہ دل ٹھر جائے , اسے صبر آجائے مرشد سائیں

ماہین کی نظریں جھکین تھیں پھر بھی دل کا زورون سے دھڑکنا ,اسے احساس دلا گیا کہ اب وہ ان نظرون کی حصار میں اگئی ہے , ہاں وہی نظریں جن کا حصار بچپن سے اپنے ارگرد محسوس کیا اس نے , اس کی نظرون کی تپش اسے جھلسا رہی تھی , کیا تھا یہ تعلق , کیا تھی یہ کشش , جو سمجھ سے باہر تھی …

“تم تڑپو گے تو مجھے بھی تڑپنا پڑے گا شانی , پلیز یہ نظریں ہٹادو , تم نا محرم ہو میرے لیئے , میں نا محرم ہوں تمہارے لیئے , مجھے اور خود کو گنہگار نہ کرو خدارا مت کرو ایسے …. وہ دل ہی دل میں بولی … کون کیا کررہا تھا وہ سمجھ ہی نہیں پارہی تھی رسمین ہوتیں رہیں وہ گم صم بیٹھی رہی , دانش بھی اس محفل کا حصہ نہیں لگ رہا تھا … دونوں اپنے خول میں سمٹے رہے دونوں بیچ کسی بات کا تبادلہ نہ ہوا …

یہ فنکشن بھی دیر رات چلتا رہا … ڈانس وغیرہ بھی کزنز نے مل کے اور خوب محفل جمی , سب کو شوق تھا آج دانش کچھ سنائے پر سھولت سے انکار کر گیا , پھر سب نے فورس کیا پھر بھی منع کرگیا … آخرکار سب ہمت ہار گئے اور ماہین نے شکر ادا کیا آج وہ کچھ نہیں گایا …

@@@@@@@@@

اگلے دن , دن کو شادی تھی کیونکہ شام کی فلائیٹ سے لاہور جانا تھا … نکاح تو الریڈی ہوچکا تھا سو آج بس دعوت اور رخصتی تھی …. پھر قرآن کے سائے میں اسے رخصت کیا گیا … کچھ دیر انہیں ریسٹ ہاؤس لے جایا گا تاکہ فریش ہوکر ائیرپوٹ کے لیئے نکل سکیں … ماہین نے کپڑے چینج کرنے کا سوچا پر سب نے کہا نہیں پھر تو میک اپ بھی اتارنا پڑے اس طرح تو ساری تیاری وہان جاکر پھر کرنا مشکل ہوگی … سب اپنی رائے دے رہے تھے آخرکار شاہینہ نے کہا کچھ زیور اتاردے اور شراراہ اور ہیل چینج کرلے … پھر آخرکار ماہین کچھ زیور ہاتھ کا اتارا اور صرف ہیل چینج کرکے ایئرپوٹ اگئی , اس دوران بھی دانش اور اس کی کوئی بات نہ ہوئی … ریما , نور , شائستہ , شاہدہ اس کے ساتھ ہی تھیں , سب مہمان روانہ ہوچکے تھے پھر ایئرپوٹ گئے یہ لوگ …

ماہین کی فیملی کو پرسون آنا تھا لاہور ولیمے کے لیئے , انوشے اور اس کی فیملی نے بھی تب آنا تھا … جبکہ پڑے چاچو اور ان کے بیٹے زبیر آفندی ان کے ساتھ لاہور ہی چل رہے تھے …

دو گھنٹے کا پلین کا سفر ماہین کو تھکا گیا … ماہین سوچتی رہ گئی ساتھ بیٹھی دانش نے صرف ایک دفعہ پوچھا کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ….

ماہین نے کہا … ” نہیں , کسی چیز کی ضروت نہیں … ساتھ میں نفی میں سر ہلایا , اس کے بعد , دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی …

وہ اپنی ہتھیلیوں کو دیکھتی رہی اور اسے کل رات اپنی ماں کی کہی باتیں یاد ا رہی تھیں …

” بیٹا ازدواجی زندگی آسان نہیں ہوتی اس میں ہمیشہ مشکلیں اتی ہیں خاص کر ان دو فریق میں جن میں عمروں کا فرق ہو … دیکھو تمہارے اور دانش کی عمر اور سوچ میں شاید بہت بڑا فرق ہو پھر بھی اللہ نے تم دونوں کو ایک ایسے رشتے میں جوڑا ہے جس میں تم دونوں ایک دوسرے کا لباس ہو … سمجھ رہی ہو نا میری بات کا مطلب , “لباس” سے مراد ہے کہ تم دونوں کو ایک دوسرے کے عیب ڈھکنے ہیں کبھی ایک دوسرے کے عیبوں کی پرچہ نہیں کرنی , یہ تعلق خدا نے محبت کے لیے بنایا ہے اس میں بیوی کا بھی سکون ہے اور شوہر کا بھی , اس لیے کبھی اپنے شوہر کو بے سکون نہیں کرنا , ہمیشہ اس کے لیے سکون کا باعث بننا اور اس کی انکھوں کی ٹھنڈک بن کر رہنا … ایک ماں صرف اپنی بیٹی کو یہی سمجھا سکتی ہے اج تم اپنے کندھوں پر صرف اپنے باپ کا ہی نہیں ماں کی عزت کا بھی بوجھ لے کر جا رہی ہو … باپ کی عزت اور ماں کی تربیت دونوں تم سے منسوب ہیں , جب بھی کوئی غلطی ہوگی تم سے تو تمہاری ماں کی تربیت پہ ہی سوال اٹھایا جائے گا اور ماہیں تمہیں اس خاندان میں ہر کوئی جینیس کہتا ہے تو میری ایک خواہش ہے کہ یہ لفظ تمہارے ساتھ ہمیشہ رہے سمجھ رہی ہو نا میری بات وہان پر بھی یونہی رہنا , سب کا خیال رکھنا پیار محبت سے رہنا … میری دعا ہے اللہ تم دونوں کی جوڑی کو سلامت رکھے ….

“آمین … دونوںاں بیٹی نے ایک ساتھ کہا اور نادر صاحب بھی اکر کتنی دیر خود سے لگایا اور اسے تسلی دیتے رہے …. کچھ دیر میں ریحان اور علی بھی اس کے پاس بیٹھ اسے دیکھتے رہے … انہیں احساس ہورہا تھا اتنا دور کیوں کرگئے اپنی بیٹی کو …. ماہین کو لے کر سب حساس تھے وہ سب کی لاڈلی جو تھی …

ماہین کے مہندی لگی ہتھیلی پر چند آنسو آگرے , کل رات کا سوچ کر … اب بس سب کو یاد ہی کرنا تھا یہ یادین کل اثاثہ تھیں کیونکہ روز روز تو نہیں آسکتی کراچی , ایک صوبے سے دوسرے صوبے مہینوں بعد ہی آسکے گی …

دل یہی سوچ کر ہی اداس ہورہا تھا کل صبح وہ اپنے ماں باپ کو دیکھ نہیں پائے گی کیونکہ پرسون ولیمہ تھا اسی دن ان لوگون نے آنا تھا , افسوس تو اس بات کا بھی تھی کہ رخصتی کے وقت نا انوشے ساتھ آئی نا ہی طیبہ آپی …

@@@@@@@@@@

رات کا ایک بج رہا تھا جب کچھ رسمون کے بعد اسے کمرے میں بٹھایا تھا … اس کا میک اپ ریما نے ٹھیک کیا اور اسے کھانا کا بھی پوچھا وہ سھولت سے منع کرگئی …

ماہین کو یاد آیا رخصتی کے وقت سالیان رسم کرتی ہیں جیجو کا راستہ روک کر پر دانش نے وہ بھی کرنے دی ویسی ہی انوشے اور طیبہ کو نیگ دے کر جان چھڑالی , کسی رسم میں وہ حصہ نہیں لے رہا تھا … اسی طرح رخصتی کے بعد گھر انے کے بعد بھی بہنین بھی رسم کرتی ہیں بھائی کا راستہ روک کر پر دانش پہلے ہی ان کو نیگ دے کر اس رسم میں کسی چھیڑ چھاڑ کا حصہ نہیں بنا ….

ابھی بھی اسے انتظار کیئے کافی وقت گزر گیا تھا , ایسا لگ رہا تھا جیسے کمر ہی اس کی اکڑ گئی ہو کیونکہ اتنا سفر کر کے جو ائی تھی تھکن بے انتہا ہو رہی تھی ماہین کو …

آخرکار کافی انتظار کے بعد وہ کمرے میں آیا اور ماہین نے گھونگھٹ کی آڑ سے اسے دیکھا … وہ اپنی شیروانی کے بٹن کھولنے لگا , وہ الجھن کا شکار لگا تھا ماہین کو … ماہین کو لگا شاید شیروانی دانش کو پسند نہ تھی اس لیئے اتنی کوفت اور بیزاریت تھی اس کے چہرے پر … اس کی بیزاریت اور کوفت انتہا پر تھی چہرے کے سرد تاثرات واضع نظر ارہے تھے …

“اٹھو اور چینج کرو جاکر یہ لباس … واشروم میں ہینگ کیا ہوا ہے تمہارا لباس …. اس کا کرخت لہجہ ماہین کو حیران کرگیا ذرہ سی نرمی نہ تھی اس کے کسی انداز میں , چہرہ کا تاثر اب بھی وہی تھا بیزار اور سختی واضع تھی … اس نے ایک نظر اس پر ڈالنا گوارہ نہ کیا تھا … ماہین کے دل کو دھچکا سا لگا اس کے اس انداز سے , آج کی رات کوئی عام رات تو نہ تھی اور وہ اتنی گئی گزری بھی نہ تھی جو ایسا رویہ ڈیزروو کرتی تھی … شوہر ایک نظر دیکھے اتنا حق تو تھا اس کا , اس کے لیئے ہی اتنا سج سنور کے بیٹھی انتظار کررہی تھی , تعریف تو دور ستائش تک نہ تھی اس کی نظر میں … ایک تو اتنی لیٹ آیا دوسرا اس کا انداز ماہین کا ٹھٹھکنا واجب بھی تھا …

“کم آن اب اٹھو بھی … دانش نے بیزاریت سے کہا وہ جاکر چینج بھی کر آیا تھا بلیک ٹراؤزر شرٹ پہن کر وہ اپنے بالوں میں انگلیان چلاتے ہوئے بولا … وہ جلدی سے اٹھی اور زیور اتارنے لگی , اب بھی اس نے ایک نظر نہ دیکھا ماہین کی طرف …

ماہین کو ناگوار لگا اس کا انداز اس لیئے وہ جلدی جلدی خود کو ان زیورات اور لباس سے آزاد کرنا چاہتی تھی کیونکہ اب اچھی طرح سمجھ اگیا تھا اسے , دانش کو اس میں کوئی دلچسپی نہ تھی …

وہ ڈریسنگ کے سامنے آئی تو دانش دروازہ کھول کر بالکونی میں چلا گیا … ان کے کمرے کے منسلک چھوٹی بالکونی بھی تھی … دانش کے انداز میں فرار تھا جسے واضع محسوس کیا جاسکتا تھا … گھر کا سب سے بڑا اور خوبصورت روم بڑے بیٹے کو ہی دیا گیا تھا گھر کے ہر کمرے کے ساتھ بالکونی نہ تھی صرف یہ سھولت گھر کے دو رومس میں تھی ایک دانش کا کمرہ تھا دوسرا بہنوں کا کمرہ …

وہ جلدی واشروم گئ تاکہ اس بھاری لباس سے نجات حاصل کرسکے اور ویسے بھی جس کے لیئے اس نے جھنجھٹ اٹھائی تھی اسے ہی جب سروکار نہ تھا تو پھر کچھ بھی معنی نہیں رکھتا …

واشروم میں ٹنگے دو قسم کے لباس میں سے ایک مناسب لباس منتخب کرتی نکل آئی واشروم سے … دوپٹے کو اچھی طرح سینے پر پھیلا کر وہ باہر نکل آئی ڈریسنگ کے سامنے بیٹھ کر ہاتھوں اور پیروں پر لوشن لگانے کے بعد وہ بال سلجھانے لگی , اسی وقت بالکونی کا دروازہ کھول کر روم میں آیا دانش اور وہ سیدھا بیڈ کی طرف گیا اور جاکر لیٹ گیا اور نظریں موبائیل پر جمائے ہوئے تھا … وہ اسے مکمل نظرنداز کررہا تھا …

ماہین کے لیئے اس کا رویہ سمجھ سے باہر تھا … بحرحال تھکن سے براحال تھا اس لیئے جلدی سے ارام کے غرض سے بیڈ کے دوسرے جانب بڑھی اسی لمحے دانش کی کرخت آواز نے اس کے قدمون کو روکا …

“رکو …

ماہین نے سوالیہ نظروں سے دیکھا جس پر دانش نے غصے بھری ایک نظر ڈالی اس پر اور جب بولا تو لہجے میں سختی واضع تھی …

“جاؤ دوسرا لباس پہن کر آؤ , اتنی بھی عقل نہیں تم میں اس وقت کیا پہننا ہے …

ماہین شرمندگی کے مارے جلدی واشروم گئی , اسے امید نہ تھی دانش کی یہ ڈیمانڈ ہوگی …

“اس شخص کا رویہ دیکھ کر ہی تو یہ لباس منتخب کیا تھا میں نے , واقعی عمروں کا فرق بہت اہمیت رکھتا ہے , اسے سمجھنا بہت مشکل ہے … وہ بڑبڑائی چڑ کر … اور دوسرا لباس وہ مختصر گھٹنوں تک بلیک نائیٹی پہننا اسے تکلیف سے دوچار کرگیا جو ایک نظر دیکھنا گوارہ نہیں کررہا اس کے کہنے پر یہ پہننا ذہنی اذیت ہی تو تھا …

وہ کچھ دیر بعد واشروم سے نکلی دانش آنکھون پر بازو رکھے لیٹا تھا …

“لائیٹ آف کر دو … وہ اسی انداز میں لیٹا بولا … اس نے لائیٹ کے بورڈ کو ڈھونڈا نظر گھما کر , دوسری سائیڈ اسے بورڈ نظر آیا , لائیٹ آف کرتی بیڈ کے دوسرے طرف اکر لیٹ گئی … جیسے ہی کمفرٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا اس کا ہاتھ دانش نے تھام لیا …

جاری ہے ….