Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

ناول میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 18

تین چار دن سکون سے گزر گئے … آفیس میں ابھی تک کسی کو اندازہ بھی نہ ہوا وہ امید سے ہے … وہ بھی اپنا کام پوری دلجوئی کرتی … پھر دانش کے کہے مطابق دو دن بعد کُک بھی اگیا تھا … دانش اسے فون کرتا تو ٹھیک ورنہ اس کی ہمت نہ ہوتی تھی کال کرنے کی …

دعا تو چلتے پھرتے ماہین کو تھینکس کرتی اور کہتی … “سچ میں بھابھی آپ کے قدم مبارک کیا گھر میں پڑے اس گھر کی ہوائیں بدل گئیں اب تو اور کوئی لڑکی چاہے جاب کرسکتی ہے کیونکہ یہ اعزاز آپ کو حاصل ہے … کبھی نوکروں کے ہاتھ کا کھانے کی روایت نہ تھی وہ بھی بدل دی آپ نے واہ واہ …. سچ میں اگر آپ بھی سب کے لیئے نہ کہتی تو آپ نے ریسٹ کرنا تھا پھر میری واٹ لگنی تھی کیونکہ نور بھابھی کو پوری مدد کروانی پڑتی مجھے … سکون اگیا اب بسس ارڈر کرو پسندیدہ کھانا حاضر ہے …

دعا مزے لے کر سنارہی تھی , اس کے چہرے پر خوشی تھی یہ سوچ کر کل اس کا بھائی دانش اسے بھی سپورٹ کرے گا اگر وہ جاب کرنا چاہے وہ سارے کریڈٹ ماہین کو دے رہی تھی …

“دعا اس میں میرا کوئی کمال نہیں یہ سب تمہارے بھائی نے کیا ہے … ہمیشہ کی طرح ماہین نے کسی بات کا کریڈٹ نہ لیا …

“نور بھابھی ہے نا مزے … دعا نے نور کو گھسیٹا جو دوسرے صوفے پر بیٹھی موبائل چلا رہی تھی …

“ہممممم …. سہی ہے … نور کے انداز میں بے نیازی تھی …

“ہر وقت ان کو بہانا چاہیئے ماہین کی واہ واہ کا … اب تو ویسے بھی سب کی چہیتی یہی ہوگی وارث جو دے رہی ہے … نور یہ سوچ سکی پر کہے نہ سکی ….

کل شاہدہ بیگم بھی مٹھائی لائیں تھیں اس خوشی میں , سب نے ان کا خیر مقدم کیا … کافی دیر وہ یہیں تھیں … تنہائی میں نور ان پر غصہ ہونے لگی کہ “آپ کیوں مٹھائی لے کر آئیں , میری تو اولاد نہیں ہونے والی ….

اس کے لہجے کی جلن اور حسد واضع تھی اس کے کہنے کے انداز میں …

“نور کیسی باتین کرتی ہو , ماہین اور دانش سے میرا گہرا تعلق ہے دونوں میرے بچون کی طرح ہیں … میں ان کی خوشی میں خوش ہوں … اللہ نے چاہا تو تم اور شانی بھی جلد صاحب اولاد ہوجاؤ گے … اللہ سے مایوس نہیں ہوتے نور … دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا سیکھو … انہوں نے پیار سے اپنی نادان بیٹی کو سمجھانے کی کوشش کی …

“نہیں ہوگی میری اولاد , آپ نہیں سمجھتی کچھ … نور نے کلس کر کہا اور کچھ بھی کھل کے ان کو بتا نہ سکی یہ کیا کہ…

“نور یہ کیا کہے رہی ہو … وہ حیرت سے بولیں … اس سے پہلے وہ زور دے کر اس کے غصے اور چڑچڑے پن کی اصل وجہ پوچھتیں ان کی بہن اگئی نور کے کمرے میں یوں بات آئی گئی ہوگئی , کیونکہ کچھ بھی سہی وہ اپنی بیٹی کی ساس کے سامنے وہ اس کی طبیت کو لے کر کوئی بات نہیں کہنا چاہتی تھیں … شاہدہ بیگم نے کہیں نہ کہیں محسوس کیا کہ نور ڈپریشن میں جانے لگی ہے اور وہ شاہینہ بیگم کے سامنے یہ بات نہیں کہہ سکتی تھی کیونکہ اب وہ خالہ نہیں ساس بھی تھی , اور لوگوں کا کیا ہے وہ تو ڈپریشن کو ذہنی مرض کہہ کر پاگل سمجھنے لگتے ہیں بندے کو … نور کا ڈپریشن اچھی طرح محسوس کر چکی تھی …

اس لیئے وہ چپ ہوگئیں … پھر دونوں بہنیں آپس میں باتیں کرنے لگیں … شاہدہ بیگم دل ہی دل میں اس کے لیئے فکرمند ہونے لگیں بیٹی کا درد اور اذیت وہ سمجھ رہیں تھیں …

نور جلتی کڑھتی رہ گئی یہ سوچ کر کے “دو منٹ ماں کے ساتھ بیٹھنے نہیں دیتی عذاب بنا کے رکھ دی ہے ان لوگون نے میری زندگی …

@@@@@@@@@

“کیسی ہو میری جان … سعدیہ بیگم نے محبت سے پوچھا …

“میں ٹھیک ہوں امی … ماہین نے کہا … وہ اکثر اسے آفیس کے ٹائمنگ میں لنچ بریک کے وقت یا رات میں اس کے سونے وقت بات کرتیں … اس کا حال دریافت کرتیں تھیں , اسی طرح اس کی سہولت دیکھتے ہوئے ریحان , طیبہ اور علی بات کیا کرتے تھے…

“جاب کیسی جارہی ہے , تکلیف تو نہیں ہوتی نا … سعدیہ بیگم نے پوچھا …

“نہیں امی کوئی تکلیف نہیں , جاب بھی اچھی جارہی ہے , اب تو کک بھی رکھ لیا ہے تو کچن کے کام سے بھی فارغ ہوگئے ہیں … ماہین نے سکون سے کہا … اس کے لہجے میں سکون محسوس کرکے وہ بھی پرسکون ہوئیں …

“سچ میں یقین نہیں آتا , طاہر بھائی کیسے اتنے بدلے ہیں تمہیں جاب کرنے کی اجازت دے دی اور اب خانسماں بھی رکھ لیا , بڑی بات ہے , وہ تو نوکروں کے ہاتھ کی بنی روٹی تک نہیں کھاتے تھے …… سعدیہ بیگم حیرت سے کہے رہیں تھیں کیونکہ یہ باتیں چونکانے والی ہی تھیں …

“امی … دعا تو کہتی ہے یہ میرے قدم مبارک ہیں جس کا یہ کمال ہے , ویسے طاہر انکل کو روٹی اب بھی ہم بناکر دیتے ہیں , بسس روٹی ہی بنانی پڑتی ہے , کسی وقت پھپھو تو کسی وقت نور ان کو بناکر دے دیتی ہے , مجھے تو منع کردیا ہے دانش نے کچن میں جانے سے … وہ مزے لے کر ساری باتیں اپنی ماں کو سنا رہی تھی … کتنے وقت کے بعد اس طرح وہ اسے باتیں کرتا سن رہیں تھیں روح میں ٹھنڈک سی اترنے لگی , ماں کا دل پرسکون ہونے لگا …

“ہاں تو ٹھیک کہتی ہے , میری بیٹی نصیبون والی ہے جو خیر سے سب کچھ اتنا اچھا ہورہا ہے … بحرحال طاہر بھائی نے اپنی جگہ خود کو بہت بدلا ہے یہ بات قابل تعریف ہے …

“جی امی آپ ٹھیک کہے رہی ہیں … ماہین نے کہا ….

“سچ میں مجھے بڑی فکر رہتی تھی تم اپنے کیرئیر کو لے کر اتنی باتیں کرتی ہو پتا نہیں اس گھر جاکر کیسے ایڈجسٹ کروگی پر شکر ہے اللہ کا جو تم وہان سیٹ ہوگئی ہو …

“جی امی , یہاں ایڈجسٹ ہوگئی ہوں … ماہین نے کہا …

“ویسے یہ تم نے اچھا کیا عمر کے گھر چکر لگا آئی … بہت تعریفیں کررہی تھی علیزے بھابھی تم دونوں کی … وہاں جاتی رہا کرو وہ بھی تمہارا میکہ ہے … سعدیہ بیگم نے کہا …

“جی امی , یہاں کوئی مجھے نہیں روکتا … ماہین نے دل سے یہ بات کہی تھی کیونکہ حقیقت بھی یہی تھی …

“کراچی بھی چکر لگاؤ اب تم … سعدیہ بیگم نے کہا …

“نہیں امی مشکل ہے جاب بھی ہے پھر دانش کو کہوں گی جب وہ لے کر آئیں … ایسا کریں امی اپ سب آ جائیں نا یہاں پر…. ماہین نے کہا …

” میری جان دل تو بہت چاہتا ہے انے کا پر بیٹیوں کے گھر ایا نہیں جاتا … انہیں انا چاہیے اپنے میکے … سعدیہ بیگم نے سھولت سے انکار کیا …

“پر امی یہ کیا بات ہوئی … ماہین نے کہا …

” میری جان اب تب اؤں گی جب خیر سے تمہاری گود میں اپنی اولاد ہوگی تب تمہارے پاس رہنے اؤں گی , اب تم رہنے اؤ کچھ دن کے لیے بہت یاد ارہی ہے تمہاری , تمہارے بابا بھی کہہ رہے تھے… سعدیہ بیگم نے کہا …

“جی امی … دانش سے کہوں گی اب کے بار آئیں تو … ماہین نے کہا ….

یوں وہ دونوں ماں بیٹی اپنی باتیں کرنے لگی …

@@@@@@@@@@

اگلے دن ماہین نے جب آفیس ختم ہونے کے بعد باہر اکر دیکھا تو نا گاڑی کھڑی تھی نہ ڈرائیور کا نام ونشان تھا … جلدی سے اس نے ڈرائیور کو کال لگائی پر ڈرائیور نے کال نہیں اٹھائی اس کا نمبر بند جا رہا تھا … اب اسے پریشانی ہونے لگی تھی … اج کا تو دن ہی عجیب تھا اس کے لیے کیونکہ پہلے ہی اس کے ساس سسر اور دعا ایک شادی اٹینڈ کرنے کے لیے گوجرانوالہ گئے تھے … ان کی واپسی رات کو دیر سے تھی , ماہین نے خود انکار کردیا جانے سے کیونکہ اسے آفیس کی ضروری میٹنگ اٹینڈ کرنی تھی , دوسری طرف نور نے سر درد کا کہے کر جانے سے انکار کر دیا …

کچھ دیر سوچنے کے بعد ماہین نے دانش کو کال ملائی اور سلام دعا کے بعد دانش نے پوچھا “کیا ہوا …. کیونکہ اس کے لہجے سے وہ اس کی پریشانی کا اندازہ لگا رہا تھا …

“گاڑی اور ڈرائیور نہیں ہے آفیس کے باہر … اب ڈرائیور کا نمبر بھی نہیں لگ رہا … ماہین کے لہجے میں فکر تھی …

“اوہ سوری یاد آیا , اس نے مجھے بتایا کہ اس کے پاپا کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور وہ چلاگیا ہے گاڑی گھر پر کھڑی کرکے … میں نے ذیشان سے کہا وہ آئے گا تم کو لینے … دانش نے جلدی سے اسے بتایا کہ وہ اس کا مسئلہ پہلے حل کرچکا تھا اس لیے اس کے ذہن سے نکل گیا ماہین کو بتانا …

“اوہ اللہ خیر کرے … ماہین نے کہا کیونکہ اسے ڈرائیور کے باپ کا سن کر بہت دکھ ہوا …

“ٹھیک ہے پھر رکھتا ہوں , آفیس میں بزی ہوں ,ذیشان کو کال کرلو وہ آجائے گا لینے … دانش واقعی میں مصروف تھا میٹنگ پر صرف ماہین کا نمبر دیکھ کر کال اٹھالی تھی …

“شانی وہ زیر لب بولی …

“اوکے اللہ حافظ … دانش نے کہا …

“اللہ حافظ …. ماہین نے کہا وہ کال کاٹ گیا …

تیمور ہوتا وہ اسے بلالیتی پر وہ تو دو دن کے لیئے کوہ مری گیا ہوا ٹرپ پر دوستوں کے ساتھ …
ابھی وہ شانی کو کال ملانے کا سوچ رہی تھی کہ اس کی کال اگئی …

اس کے موبائیل پر ذیشان کی کال ارہی تھی جسے وہ ریسوو کرگئی … سلام کے بعد وہ بولا …

“میں بائیک پر ہوں آج , گاڑی خراب ہو گئی ہے میری … اگر پرابلم نہ ہو تو بائیک پر چل سکتی ہو … ورنہ گھر جاکر مجھے گاڑی لانی پڑے گی تمہاری … ذیشان نے وضاحت دی اور ساتھ ہی ساتھ پوچھا …

“نہیں پھر اور لیٹ ہوجائے گی … اوکے بائیک پر ہی چلتی ہوں … ماہین کو گھر جانے کی جلدی تھی کیونکہ آج وہ بہت زیادہ تھکی ہوئی تھی بیک ٹو بیک دو میٹنگز تھیں … اس لیے بائیک پر جانے کے لیے بھی حامی بھر لی … طاہر افندی کی سخت انسٹرکشن تھی کہ کوئی بھی لڑکی شام کے وقت اکیلی رکشہ یا کسی کیب وغیرہ میں سوار نہ ہو … ورنہ ماہین میں اتنا اعتماد تھا کہ وہ اکیلی کیب میں ا سکتی تھی گھر یا رکشہ میں ہی ا جاتی پر اسے اپنے سسرال کے قانون پر ہی چلنا تھا اسی لیے دانش سے پوچھے بغیر اس نے اپنا کوئی فیصلہ نہیں لیا اور اب بھی دانش کی ہی بات مان رہی تھی … ورنہ اپنی مرضی سے وہ کبھی بھی ذیشان کے ساتھ سفر کرنا نہیں چاہتی تھی خاص کر بائیک پر تو بالکل بھی نہیں …

بس کھنڈر ہی ملے ، مکیں نہ ملے

وقت کو ہم سے ، ہم نشیں نہ ملے

جس نے ملنا کبھی نہیں ہو

ایسا کوئی کبھی کہیں نہ ملے

تیرا ملنا جہاں جہاں ممکن

ہم کو رستہ وہیں وہیں نہ ملے

پھر واقعی وہ بیس منٹ میں پہنچ گیا … وہ خاموشی سے اس کے پیچھے بیٹھ گئی … خاموشی سے راستہ کٹنے لگا نا شانی نے ایک لفظ کہا نہ ماہین نے …

ذہن کے بند دریچون میں یادوں کے در کھلنے لگے … کتنا کچھ ماہین کو یاد آیا …

“پلیز شانی آہستہ چلائیں , میں گرجاؤں گی …. ماہین اسے کراچی کے رستوں پر تیز بائیک چلانے پر ٹوکتی ہوئی بولی …

“ماہی میں تمہیں کبھی گرنے نہیں دوں گا … پتا ہے نہ تمہیں … شانی ہنس کر کہتا …

“آپ کا کیا ہے گروں گی تو میں ہی ہڈیاں تو میری ٹوٹیں گی نا … پلیز آہستہ … وہ پھر سے بولی پر حسب سابق کوئی اثر نہ ہوا اس پر …. وہ تیز سے تیز چلا رہا تھا پر اس کی روڈ پر گرپ بہت زبردستی تھی بائک کی …

“ماہی مجھے مزا نہیں آتا آہستہ چلانے میں … اس نے بتایا …

ذیشان کو ہمیشہ گاڑی سے زیادہ بائیک زیادہ پسند تھی … کراچی میں وہ جب ہوتا ماہین اکثر اس کے ساتھ بیٹھتی اور وہ یونہی اسے ستاتا رہتا , کیونکہ ماہی کے سارے کامون کے لیئے وہ ہر وقت ریڈی ہوتا تھا , دونوں کا ان کہی کا ایک خوبصورت رشتہ بندھا تھا… وہ بھی کیا دن تھے … ماہین کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر پھسلا … دوسری طرف وہ ہمیشہ کی طرح بےخبر رہی کہ شانی کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں اسی لمحے کو سوچ کر جو وہ سوچ رہی تھی … عجیب بات تھی دونوں کو بیک وقت ایک جیسی باتیں یاد ایا کرتی تھیں , بیک وقت دل بھی دھڑکا کرتے تھے … یادوں سے بھلا کون پیچھا چھڑا سکا ہے آج تک …

آج وہ تیز نہیں چلا رہا تھا کیونکہ اسے پتا تھا ماہین کی کنڈیشن کا اس لیئے الٹا وہ ڈرا ہوا تھا کہیں اس کا کوئی نقصان نہ ہوجائے ….

بیس منٹ کا فاصلہ پینتیس منٹ میں طے کیا شانی نے کیونکہ ماہین کے معاملے میں رسک لینا وہ افورڈ نہیں کرسکتے تھے کیونکہ اس کے اندر ایک اور ننھی جان پل رہی تھی , اس خاندان کا وارث …

@@@@@@@@@

وہ دونوں اندر کی طرف بڑھے تو شانی خود کو روک نہ پایا پوچھنے سے …

“تم ٹھیک ہونا … اس کے لہجے میں فکر تھی پر نظریں ہنوز جھکی ہوئی تھیں …

“ہممم ٹھیک ہوں … وہ اپنے روم کی طرف مڑنے لگی اسی وقت نور اکر اس کے سامنے کھڑی ہوئی اور بولی …

“ٹھیک تو ہوگی تم آخر شانی کے ساتھ جو آئی ہو … نور کی چنگارتی ہوئی اواز پر ذیشان اس طرف مڑا جو کچن کی طرف جارہا تھا پانی کے لیئے …

“نور اپنی بکواس بند کرو , تم کمرے میں چلو میں بتاتا ہوں سب … ذیشان نے جلدی سے کہا … ماہین ہکا بکا ہوکر نور کایہ انداز دیکھ رہی تھی …

“مجھے کچھ نہیں سننا , اور اپنی بکواس بھی بلکل نہیں بند کروں گی … وہ دو ٹوک لیجے میں بولی …

” نور اپی اپ کا دماغ خراب ہو گیا ہے میں جا رہی ہوں … ماہین بھی تند لہجے میں بولی تھی … اور جانے لگی تو اس کا بازو دبوچ گئی اور غُراتے ہوئے بولی “ایسے تم نہیں جا سکتی ,اتنی آسانی سے …

“نور میں کہے رہا ہوں … اس کا بازو چھوڑو … تماشہ مت بناؤ اپنا اور میرا بھی … ذیشان دانت پیستا ہوا بولا اور اس کے ہاتھ سے ماہین کا بازو چھڑانے لگا جس کی گرفت مضبوط تھی ….

“تماشہ تو میرا تم لوگوں نے مل کے بنایا ہے یہ لڑکی اس گھر کے دو مردوں کو اپنی انگلیوں پر گھمارہی ہے اور میں کچھ کہوں بھی نہ … نور کا لہجہ تیز سے تیز ہورہا تھا … نور کا اعتماد بڑھانے کو یہ بات ہی کافی تھی کہ گھر میں کوئی نہیں تھا سوائے ان تینوں کے اس لیے اس کا غصہ سوا نیزے پر پہنچا ہوا تھا … اتنی بدزن ہو چکی تھی اپنے شوہر سے کہ اس کے روکنے پر بھی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی … شاید وہ اپنے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی کھو چکی تھی تبھی اس قدر بے وقوفی کا مظاہرہ کر رہی تھی …

“نور آپی یہ کیا کہے رہیں ہے آپ … ماہین کے لہجے میں شدید حیرت کی آمیزش تھی … اتنا گھٹیا الزام اس کی برداشت سے باہر تھا …

“وہی جو تم سن رہی ہو … وہ دانت پیس کر بولی غصے سے … اخر کار ذیشان نے اس کی گرفت سے ماہین کا بازو چھڑا کر بولا …

“ماہین تم جاؤ اپنے کمرے میں یہ یونہی بکواس کرتی رہے گی …

ماہین جانے لگی وہ اس کا بازو دوبارہ دبوچ گئی …

“سنو میری بات , اپنے اس عاشق کے کارنامے سنتی جاؤ تم جو تمہارا روگ لے کر بیٹھا ہے … وہ دوسرے ہاتھ سے شانی کی طرف اشارہ کرکے بولی … چٹاخ شانی نے ہاتھ اٹھایا شاید چپ کرجائے پر وہ آپا کھوچکی تھی جو شانی نے اس کی کلائی دبوچی تھی اس وقت تاکہ اسے یہاں سے لے جائے کمرے میں اور ماہین کو بھی چھڑا سکے اس کے شکنجے سے … اس لیئے شانی سے خود کو چھڑانے لگی … ماہین کو لگا اس کے پیروں کے نیچے سے کسی نے زمین کھینچ لی ہو جیسے …

“نور چپ کرجاؤ … شانی بھی اب کے چیخا …

“آج تو سارا وقت اس کا سکون میں گزرے گا تم جو اس کے بائیک پر بیٹھی ہو … جان بستی ہے اس کی تمہارے میں , تمہاری وجہ سے تو یہ مجھے اپنانے میں ہچکچا رہا ہے … تو جاؤ تم دونوں اپس میں جو کرنا ہے کرو … وہ اسے شانی کی طرف دکھیل کر بولی اور ماہین بے جان گڑیا کی طرح اس پر آگرتی اس سے پہلے وہ اس کے دونوں بازو تھام گیا ورنہ وہ یقین اس کے سینے لگ جاتی جس طرح نور نے اسے دھکا دیا تھا … نور نے نفرت سے منہ پھیرا … ماہین کو کھڑا کرکے وہ اس کی طرف پلٹا “چٹاخ … شانی کا ہاتھ اٹھا پھر بھی اس کی آواز بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی اس قدر اسے تکلیف ہوئی ماہین کو اس کی بائیک اتر کر کہ وہ آج اپنا سارا غبار نکال دینا چاہتی تھی … وہ شاک سی کھڑی تھی اسی جگہ … اب کے نور چیخ کر بولی …

“مرکیوں نہیں جاتی تم .. ہاں … یا تمہارا بچہ مرجائے , خدا کرے تم دونوں مرجاؤ … شانی نے ایک بار پھر ہاتھ اٹھایا پر نور کی آواز بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی …جبکہ ماہین کان پر ہاتھ رکھے سسک اٹھی , اسے یقین نہیں ارہا تھا جو نور نے کہا …

ماہین شکستہ قدمون سے اپنے روم کی طرف بڑھی یہ سننا ہی اس کے لیئے جان لیوا تھا کہ شانی بھی اس سے محبت کرتا ہے , کتنی مشکلوں سے وہ سب بھلا کر اگے بڑھی تھی , نور نے سب تباھ کردیا , نور نے اس کا سکون چھین لیا , آج اس کا خود پے کیا ضبط ٹوٹ گیا ایک عرصے بعد وہ ٹوٹ کر روئی تھی اس محبت پر جو محبت اسے شانی تھی جسے دیکھ کر وہ سانس لیتی تھی …

باہر نور کا رونا سنائی دے رہا پر اندر بند کمرے میں اسے لگ رہا تھا اسے کسی نے سرعام پھانسی پر لٹکا دیا ہو جیسے … اس طرح سب اشکار ہوگا سوچا نہ تھا …

“میری زندگی تباھ ہوگئی ایسے شخص سے محبت کرکے میں برباد ہوگئی … میں برباد ہوگئی … وہ اپنا سر پیٹتے ہوئے رورہی تھی … نور کا مچایا تماشہ دیکھ کر شانی نے اس کا بازو دبوچا اور بولا …

“برباد تم نہیں , میں ہوا ہوں … نور … سنا تم نے مکار عورت … یوں بین کرکے روکر تم خود کو سہی اور مجھے غلط نہیں کہے سکتی …

جاری ہے …..