Rate this Novel
Episode 39
میرے درد کو جو زبان ملے
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 39
سیکینڈ لاسٹ ایپی
دانش کے پڑنے والے چوتھے تھپڑ پر اسے ٹیبل کا کونا پیٹ کے نچلے حصے میں گھپتا ہوا محسوس ہوا … اس کی چیخ نکلی تھی پر وہ بےپرواہ بنا ہوا تھا … وہ واقعی انسان سے جانور بن چکا تھا , وہ بغیر سوچے سمجھے اس سے گنہگار مان چکا تھا اور اپنی طرف سے سزا دے رہا تھا …
“دانش اسٹاپ اٹ … وہ اس کی پانچوین پڑنے والی تھپڑ کو روک گئی ہمت کرکے … اس کی آنکھین لال ہورہی تھیں اور چہرہ سوج چکا تھا …
“چاہت میری بیٹی ہے , میں نے نو مہینے اسے خود میں سینچ کے رکھا ہے … وہ دانش کے سینے پر ہاتھ مارتی اسے دور کرگئی خود سے اور اپنی بیٹی کی طرف لپکی …
“ہاسپیٹل چلو , میں محسوس کرسکتی ہوں اس کی سانسین یہ زندہ ہے شاید … ماہین نے روتے ہوئے کہا …
“میں خود لے جاؤں گا چھوڑو اسے , جاکر تم کماؤ , مردوں سے ٹکر لو , اپنی ذہانت کے جھنڈے جہاں چاہتی ہو وہاں جا کر گاڑتی پھرو , مجھ سے اور میری بیٹی سے دور رہو …. اس کے لہجے میں شدید نفرت محسوس کرکے ماہین کا اندر گھائل ہوا …
“میں جاؤں گی میری بیٹی ہے ,پلیز وقت نہ ضایع کرو یہ وقت قیمتی ہے … ماہین منت کرتی ہوئی بولی لڑکھڑاتی ہوئی زبان میں … اس کا لہجہ کانپ رہا تھا …
اسے اپنے اندر ٹیس سی اٹھتی محسوس ہورہی تھی اپنے درد کو اپنے اندر دباتی وہ دانش کے ساتھ گاڑی میں آبیٹھی تھی …
دونوں کے چہرے پر اضطراب تھا اس وقت …
ہسپتال میں ماہین چیختے ہوئے ایمرجنسی بولی جس پر اسٹاف الرٹ ہوا اس کی حالت دیکھ کر … اس نے اپنی بیٹی کو تھامے ہوئے کہا ایمرجنسی ہے ڈاکٹر میری بیٹی سانس لے رہی ہے … وہ پاغلون کی طرح چیخ کر بول رہی تھی …
دانش بسس اسے دیکھ رہا تھا … ڈاکٹر اسے آئی سی یو لے گئے وہ اور دانش باہر ہی کھڑے تھے … اب درد کے ساتھ اسے اپنی ٹانگون کے بیچ نمی کا احساس سا ہوا … اس سے پہلے وہ خود پر دھیان دیتی اسی وقت ڈاکٹر باہر آیا …
“سوری آپ کی بیٹی کو مرے ہوئے آدھے گھنٹے سے زیادہ ہوچکا ہے , سانس گھٹنے کی وجہ ….
ڈاکٹر کی بات مکمل ہونے سے پہلے ماہین زمین بوس ہونے لگی تھی پر بے ساختہ دانش اسے تھام گیا وہ ضبط کرتا رہا اپنے آنسو پر شدت غم سے روپڑا ساتھ ہی ماہین کے آس پاس خون کا پھیل جانا پیرون کی طرف , دانش کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر اور نرس بھی حیرت میں اگئے … اسی وقت نرس نے کہا “ڈاکٹر آئے تھنک شی از ہیونگ مسکیرج مے بی …
“کم آن ٹیک پیشنٹ ٹو او ٹی اٹس ایمرجنسی … اگلے لمحے نرس جلدی سے اسٹریچر لائی دانش نے اسے اسٹریچر پر لٹایا …
دانش زمین پر بیٹھتا چلا گیا …
@@@@@@@@@@
“ماہین چلین … ریما نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالا سہارا دینے کے لیئے … ریما کا چہرہ ضبط سے لال ہورہا تھا … وہ پانچ دن بعد ہسپتال سے ڈسچارج ہورہی تھی …. اس کا شدید بلڈ لاس ہوا تھے اس لیٹ مسکیرج میں … چار بوتلین خون کی اسے لگیں تھیں …
“میں ٹھیک ہوں چل سکتی ہوں … ماہین نے کرب سے کہا …
“شام کی فلائیٹ سے ہم کراچی جارہے ہیں ماہین … ڈرتے ہوئے ریما نے اسے بتایا …
“مجھے گھر جانا ہے … ماہین نے بھرے لہجے میں کہا …
“نہیں تم نہیں جاؤ گی وہاں … مامون ہسپتال میں ہیں , ہمیں جلد سے جلد کراچی پہچنا ہے … ریمانے پیار سے سمجھانا چاہا … اس مشکل وقت میں جب نادر آفندی کو ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہسپتال میں ایڈمٹ ہونا پڑا تو سعدیہ بیگم کو کراچی میں رہنا پڑا … ریما نے گھر کی بڑی بہو ہونے کا فریضہ انجام دیا , اس نے پورا ساتھ اپنے سسرال کا دیا … طاہر آفندی اور شائستہ بیگم بھی یہاں رہے تھے دو دن …
” بس ایک بار بھابھی وہاں پر میری بیٹی کی اخری یادیں جن کو سمیٹ کر مجھے لے جانا ہے … ماہین نے کہا …
“پلیز ماہین , اتنی اذیت خود کو مت دو تمہاری بیٹی تمہارے اندر بستی ہے اس کی یادوں کی تمہیں ضرورت کیا … ریما نے دل پر پتھر رکھ کے کہا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی اتنا جلدی ماہین کو بتائیں کہ دانش اسے طلاق دے چکا ہے …
” مجھے جانا ہے وہاں … ماہین کا لہجہ دوٹوک تھا …
“ماہین تم نہیں جانتی کہ …. ریما بولتے بولتے اپنے ہونٹ بھینچ گئی شاید اس کے اندر ہمت نہ تھی کہنے کی …
“جانتی ہوں نہیں جا سکتی کیونکہ وہ شخص مجھے طلاق دے چکا ہے … ماہین نے وہ کہا جو ریما اس سے چھپاتی پھر رہی تھی …
ریما حیرت سے دیکھتی رہی اسے …
“آپ کو کیا لگا کہ اپ مجھے مجھ سے براؤن لفافہ چھپائیں گی تو مجھے پتہ نہیں چلے گا … ماہین کا انداز سوالیہ تھا …
“مجھے نفرت ہے اس شخص سے جو کہنے کو تو میرا بھائی ہے پر وہ انسانیت کے درجے سے بھی گیا گزرا ہے جسے انسان کی پرکھ نہیں وہ انسان کیا , مجھے نفرت ہے اور اج کے بعد میرا اس شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے … ریما نے شدت کرب سے کہا اور ماہین کے گلے لگ گئی , دونوں بے اواز رو رہی تھیں …
“مجھے پھر بھی گھر جانا ہے … ماہین نے کہا …
“چلو ہم لے کر چلیں گے … اچانک ریحان نے آکر کہا …
“تھینکس بھائی … ماہین کے ضبط اور خالی ویران آنکھین ریما کو خون کے آنسو رلا رہیں تھیں … پل میں کیا ہوگا ایک ساتھ دونوں بچے اس کی زندگی سے چلے گئے , ساتھ ہی وہ رشتہ جو زبردستی کا بنا ہوا تھا وہ بھی ٹوٹ گیا …
@@@@@@@@
اس کے اتے ہی گارڈ نے مین گیٹ کھولا اور اس کے حوالے چابیان کین اوپر کے پورشن کی وہ حیران ہوئی … اس کی حیرت کو بھانپتے ہوئے گارڈ نے کہا کہ “صاحب نے کہا تھا کہ آپ اپنی چیزیں سمیٹنے کسی بھی دن یہاں آ سکتی ہیں اسی لیے چابیاں میرے پاس رکھی ہوئی تھیں …
“شکریہ … ماہین کے شکریہ کہنے سے وہ پلٹ کر چلا گیا …
“میں چلوں ماہین , ریما نے کہا …
“نہیں میں اکیلے جاؤں گی … ماہین نے کہا …
اپنی بیٹی کے کمرے میں اتے ہی اس کی یوز کی ہر چیز کو چھو کر وہ رو پڑی “اخری دفعہ بھی تمہیں دیکھنے کی مہلت نہیں دی زندگی نے … وہ شدت سے روپڑی … چاہت کی چند چیزیں سمیٹ کر اور اپنا ضروری سامان لے کر وہ لاؤنج میں ائی اس نے باہر نکلنے کے لیے باہر والے دروازے کے بجائے لاؤنج کا دروازہ کھول کر سیڑھیوں سے نیچے اترتی نایاب کے پورشن میں اگئی جہان نایاب سکون سے صوفے پر بیٹھی تھی اس کے پاس ہی اس کا بیٹا سنی سویا ہوا تھا شاید دونوں ماں بیٹے ٹی وی دیکھ رہے تھے اور سنی کی انکھ لگ گئی تھی …
” تمہاری یہاں انے کی ہمت کیسے ہوئی اپنا سامان سمیٹو اسی دروازے سے نکل جاؤ جہاں سے دانش تمہیں لایا تھا … نایاب نے نفرت سے تمسخر سے بولی تھی …
” میں چلی جاؤں گی نایاب اور جو تم نے کیا وہ کبھی نہیں جائے گا جانتی ہو کیوں … ماہین نے بھاری لہجے میں کہا تھا … وہ کسی صورت میں اس عورت کے سامنے اپنے انسو نہیں بہانا چاہتی تھی , اتنا بےمول خود کو کبھی نہیں کرنا چاہتی تھی ماہین …
نایاب نے حیرت سے دنگ ہو کر اسے دیکھا اس کے چہرے کا رنگ اڑا , ماہین بغور اسے دیکھ رہی تھی اور اچھی طرح اسے سمجھ ا رہا تھا اس کا شک یقین میں بدل رہا تھا نایاب کو کچھ لمحے لگے خود پر قابو پاتے ہوئے اس سے پہلے نایاب کچھ کہتی ماہین بولی تھی اپ کے ماہین کا لہجہ سخت اور مضبوط تھا …
“دوسروں کے ساتھ کی جانے والی زیادتیاں اور گناہ گونگے نہیں ہوتے جب بھی انہیں موقع ملتا ہے وہ مکافات عمل کی لاٹھی ہاتھ میں پکڑے ایک دم ہی سر پر آن برستے ہیں۔۔۔
“کیا بکواس کررہی ہو تم … نایاب نے غصے سے کہا …
“یہی حقیقت ہے نایاب , قیامت سنی تھی کیا ہوتی ہے , جس پر بیتتی وہی جانتا ہے اس کا درد , اس کی اذیت… ایک قیامت تم نے برپا کی تھی میرے وجود پر اور ایک قیامت میرا رب تم پر برپا کرے گا , تم بھی اسی اذیت سے گزر ہوگی جس سے میں گزری ہوں … ماہین کے لہجے میں یقین بول رہا تھا , یہ یقین اسے اپنے رب پر تھا جو اپنے بندوں سے ستر ماؤں کے برابر پیار کرتا ہے …
” جو تم بکواس کرو گی اور سب اس پہ یقین کر لیں گے ایسا سوچنا بھی مت … نایاب نے اسے کھلم کھلا وارننگ دی …
“ہمممممم …. میں نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑا ہے … وہی تمہارا انصاف کرے گا …. میری بےگناہی کا گواہ صرف میرا اللہ ہے , اس دن میں نے تمہاری قدمون کی آہٹ سنی تھی کاش تم کو پکڑا بھی ہوتا … آج بھی تم نے وہی خوشبو لگائی ہے جو تم نے اس دن لگائی تھی نایاب …. ماہین نے عاجزی سے کہا اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اس نے اوپر کی طرف دیکھا , جیسے وہ واقعی اسے دیکھ رہا ہے اس کے ساتھ ہوئے ظلم کا حساب لے گا , اس کی بےبسی کا وہی گواہ تھا …
” بتا دو دانش کو اور پھر دیکھو … نایاب نے طنزیہ کہا اور پھر لمحے بھر کو چپ ہونے کے بعد دوبارہ تن سے بھرپور لہجے میں بولی تھی “ویسے بھی اب تمہاری سنے گا کیوں وہ تو تم پہ تین حرف بیجھ کر خود پر تمہیں حرام کر چکا ہے … جاؤ دفع ہو جاؤ یہاں سے یہ نایاب کا جہان ہے صرف نایاب کا باہر دیکھ لینا اس گھر پر صرف میرا نام لکھا ہے … جب تم ائی تھی تب بھی میرا نام لکھا تھا جب تم نکالی گئی ہو تب بھی میرا ہی نام لکھا ہے … نایاب نے غرور سے آخری لفظ کہے تھے …
“کچھ بھی سدا نہیں رہتا یاد رکھنا … ماہین نے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں کہا تھا …
وہ لمبے ڈگ بھرتی چلی گئی اور اپنے شک کو یقین بنا گئی تھی … وہ نایاب ہی تھی جس نے اس کی معصوم بیٹی کی سانسین چھین لیں تھیں اس شام کو …
کچھ سوچ کر اس کے قدم تھمے دوبارہ پلٹ کر وہ نایاب کے سامنے آئی …
” نکلو اس گھر سے کیا چاہتی ہو کہ دھکے مار کر تمہیں نکالوں اپنے گھر سے … نایاب اس کے دوبارہ انے سے غصے سے چیخ کر بولی تھی …
“کچھ رہ گیا تھا … ماہین نے کہا …
“کچھ نہیں رہا تمہارے پاس نا دانش کا نام نہ اس کی اولاد اب کیا چاہتی ہو … نایاب پھر بھی طنز کرنے سے باز نہیں آئی تھی …
“کچھ اور بھی دینا رہ گیا تھا … ماہین یاسیت سے بولی تھی ماہین کے کندھے جھکے تھے پر اسی لمحے اس نے نایاب کی انکھوں میں نفرت سے دیکھا اور اور کس کے ایک تھپڑ اس کے چہرے پر ماری اور کہا ” یہ تھپڑ تمہیں اس ماں نے ماری ہے جس کی بیٹی کو مارتے ہوئے تمہیں ذرا بھی شرم نہیں ائی …
نایاب ہکا بکا ہو کر اسے دیکھنے لگی اور اپنے چہرے پہ ہاتھ رکھ گئی چند لمحے لگے اسے سنبھلنے میں … وہ غصے میں کچھ کہتی اس سے پہلے ماہین نے کہا “غلطی سے بھی دانش کو بتانا مت کہ میں نے تمہیں تھپڑ ماری ہے کہیں وہ سوچنے پہ مجبور نہ ہو جائے کہ میں نے کیوں ماری اور پھر تم کتنی صفائیاں دیتی رہو گی , تمہیں بہت مشکل ہوگی نایاب …
نایاب اسے دیکھتی رہ گئی اور وی نظروں سے اوجھل ہوگئی … ماہین چلی گئی اس گھر سے , جس طرح خالی ہاتھ ائی تھی اسی طرح خالی ہاتھ ہوئی لوٹ گئی پر ہاں اتے وقت ایک ماں تھی جاتے وقت وہ اکیلی ایک عورت تھی …
@@@@@@@@@
ایک طرف ماہین کراچی میں اپنے کمرے تک محدود ہوگئی تو دوسری طرف دانش کی زندگی سے ساری خوشیان ہی چلیں گئیں تھیں … ماہین اپنے ساتھ اس کی زندگی کا سارا سکون لے گئی تھی … دانش وہ دانش نہیں رہا تھا جس کے چلنے میں ایک اکڑ اور غرور ہوا کرتا تھا جس کی بات کرنے کے انداز پر لوگ گرویدہ ہوا کرتے تھے اب تو کندھے جھکے ہوئے ہوتے تھے دانش کے اور لہجے میں بے بسی بولتی تھی اس کے …
” کیا ہوا دانش کچھ پریشان لگ رہے ہیں … نایاب نے کہا نرمی سے , کئی مہینے گزر چکے تھے پر ایسا لگتا تھا ان کی زندگی وہیں تھم گئی تھی میری …
” پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے نایاب جن کلائنٹ کو منٹوں میں سیٹسفائی کر دیا کرتا تھا اب وہ میری سنتے ہی نہیں ہیں … میری باتوں سے تو لگتا ہے سارا چارم ہی نکل گیا ہے … میرے سارے کلائنٹس ٹوٹتے جا رہے ہیں مجھے لگتا ہے شاید اس بار مجھے ترقی کے بجائے میرا زوال اگیا ہو جیسے … کمپنی والے میری جگہ کسی اور کو کنٹری مینیجر بنا رہے ہیں شاید میری سیلری بھی آدھی ہو جائے پتہ نہیں چند مہینوں سے بہت مشکل وقت میرا چل رہا ہے , ایک بھی ٹارگٹ میں اچیو نہیں کر پایا ہوں … وہ بے بسی سے بولا تھا …
“پریشان نہ ہوں دانش سب ٹھیک ہو جائے گا اللہ سب بہتر کرے گا … نایاب نے رسلی دینے کی کوشش کی … ویسے بھی کئی ملازم وہ لوگ نکال چکے تھے کیونکہ گھر کے بجٹ کو چلانا مشکل ہو گیا تھا … صرف ایک ملازمہ اور ڈرائیور تھا اس کے پاس …
” پتہ نہیں کیوں نایاب جیسے لگتا ہے جیسے مجھ سے کوئی بہت بڑا گناہ ہو گیا ہو جس کی یہ سزا ہے … دانش اتنا کہہ کر اپنے ہونٹ بھینچ گیا …
“ایسے تو نہ کہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے بس کچھ پریشانیوں کی وجہ سے ہوا ہے اپ پلیز کوشش کریں چاہت کو بھولنے کی … ہم کوشش کر رہے ہیں نہ کہ دوبارہ بے بی ہو جائے انشاءاللہ ہماری بیٹی ہوئی تو ہم اس کا چاہت نام رکھیں گے , پھر آپ کے دل کو بھی سکون آجائے گا دانش … نایاب جانتی تھی کس قدر وہ یاد کرتا ہے اپنی بیٹی ہو جس کی وجہ سے وہ سو نہیں پاتا یہی وجہ تھی اس کے اعصاب کمزور پڑتے جا رہے تھے … یہ خیال نایاب کا تھا …
“نہیں نایاب میرا کوئی ارادہ نہیں ایک اور اولاد لانے کا … دانش کے لہجے میں کرب سے بول رہا تھا …
اتنا کہہ کر وہ اٹھ کر چلا گیا اپنے سٹڈی میں اور اس کا دروازہ لاک کر دیا کچھ دیر کے بعد نایاب چائے بنا کر سٹڈی میں ائی پر دانش نے دروازہ نہیں کھولا اسے ہنوز بند رکھا وہ دو تین دفعہ دروازہ بجا کر پلٹ گئی اور اب تو یہ اکثر ہونے لگا تھا نایاب کے ساتھ …
کتنی دیر وہ شیشے کے سامنے کھڑا ہو کر خود کو کوس رہا تھا اور خود سے بولا “دنیا کا بد نصیب ترین شخص میں ہوں جس نے اپنے ہاتھ سے اپنی اولاد کو مار دیا ماہین تمہیں گنہگار کہنے والا حقیقت میں میں خود گنہگار ہوں میں نے اپنی اولاد کو مار دیا تمہارے وجود میں پلتی اپنی اولاد کو میں نے مارا , میں قاتل ہوں اپنے بچے کا …
اس کے لہجے میں درد ہی درد تھا … وہ مرد ہوکر رورہا تھا …
“بہت دیر کردی تمہین سمجھنے میں ماہین … ہاں میں تم سے جیلس ہو گیا تھا کیونکہ جس عمدہ انداز میں تم اپنا بزنس کر رہی تھی مجھے تم سے جیلسی ہونے لگی تھی کس طرح تم گھر اور بچے کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنا بزنس کررہی تھی … جس طرح ہر وقت زبیر میرے سامنے تمہاری تعریفیں کرتا اور مجھے کہتا کہ ماہین کے ساتھ کوئی بزنس کرلو … بہت کامیابی دیکھو گے کیا رکھا ہے ان ٹکے ٹکے کی نوکریوں میں , تمارے پاس تو گھر میں اتنا بڑا ٹیلنٹ موجود ہے , اسے استعمال کرو یار … میں تو بس موقعے کی تلاش میں تھا کہ کسی طرح تمہیں بزنس کرنے سے روکوں پر ظاہر بھی نہ ہو کہ ایسا میں جان بوجھ کر کر رہا ہوں , کیا کروں مرد ہوں نا اپنی مردانہ آنا کے سکون کے لیے یہ سب کرنا چاہتا تھا … اور حقیقت میں جب اپنے بیٹی کے ساکت وجود کو دیکھا تو سارے جذبات ایک ساتھ امڈ ائے اور تم پر میں ٹوٹ پڑا جس کے نتیجے میں اپنی اولاد کو ہی کھو دیا … بہت بڑی غلطی کی میں نے اس سے بڑی غلطی تم کو طلاق دے کر کیونکہ میں جانتا تھا اب تم لمحہ نہیں لگاؤگی مجھے چھوڑنے میں کیونکہ ہمارے رشتے کی آخری کڑی میں اپنے ہاتھوں سے توڑ چکا تھا …
وہ جو صرف اپنے غرور کے ساتھ پہچانا جاتا تھا , اج اس کا غرور ٹوٹ چکا تھا …
“تمہیں چھوڑنے کی اذیت کیا کم تھی کہ اس کے اگلے دن ہی ڈاکٹر فرحت عنایت کی کال نے مجھے زندہ ہی مار دیا … وہ خود سے بولا تھا , ہر دوسرے تیسرے دن اسے یہ باتیں یاد اتی تھی اس وقت بھی وہ سارے گزرے لمحے یاد کر رہا تھا ….
” ڈاکٹر فرحت پہچانا اپ نے مسٹر دانش … ڈاکٹر کی کال پر وہ حیران ہوا …
“جی ڈاکٹر خیریت … دانش اپنی حیرت پر قابو پاتا ہوا بولا تھا …
” اپ تو لیبس لے کر میرے پاس نہیں ائے پر لیباٹری والوں نے مجھے لیبس ای میل کر دیں کیونکہ یہ ٹیسٹ صرف ڈاکٹر کے ریکیمیڈیشن پر ہی ہوتی ہیں , اس لیے لیب والے خود ہی ڈاکٹر کو بھیج دیتے ہیں… ان کے بولنے کے انداز سے محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی خاص بات دے جب بھی انہوں نے اتنی زحمت کی ہے کہ خود کال کی ہے اپنے پیشنٹ کو …
“جی وہ … اس سے پہلے دانش کچھ کہتا اس سے اس کی بات ڈاکٹر فرحت کاٹ کر بولی
“کانگریچولیشن رپورٹ بالکل ٹھیک ائی ہے , ویسے اپ دونوں کا بیٹا ہے اور بالکل نارمل ہے کوئی بڑی بیماری نہیں … ہاں کوئی چھوٹی موٹی پرابلم ہوسکتی ہے مےے بی پر کوئی ایشو نہیں اس کے بلڈ میں اور نہ کوئی ذہنی پرابلم ہے اس کی گارنٹی میں اپ کو دیتی ہوں اب اپ کیا کریں جلدی اپ اور مسز دانش اجائیں تو میں اپ کو کچھ اور میڈیسن ریکمنڈ کر دوں اس حوالے سے … اللہ نے بہت کرم کیا ہے اپ دونوں پر … وہ ہشاش بشاش خوشی سے بھرپور لہجے میں بولی تھیں وہ اسے کیا بتاتیں کہ ماہین کی بےبسی اور دکھی بھرا انداز ان کی آنکھ سے اوجھل نہیں ہوسکا تھا اس کے ذہن پر وہ چہرہ فکس ہوگیا تھا , اسی لیے جیسے ہی انہوں نے رپورٹس دیکھی تو ان سے خوشی میں راہ نہیں گیا ورنہ اتنی بڑی گانوکولوجسٹ کہاں کسی کو فون کر کے ایسی خبر دیتی ہے یہ کام تو نرس وغیرہ ہی کرتی ہیں …
دانش کو اج پتہ چلا تھا واقعی خدا کی لاٹھی بے اواز ہے … وہ ماہین کو مار رہا تھا اس بچی کے لیے جو تو نارمل ہی نہیں تھی اسے تو سوتے میں کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا تھا یہ تو پہلے ہی ڈاکٹر نے بتایا تھا کیونکہ چوکنگ ہونا اس حالت میں عام بات تھی … چاہت کے ساتھ ایسا کچھ کبھی بھی ہوسکتا تھا کیونکہ اس کی تھوک بہتی رہتی تھی … وہ تو خود اپنی صحیح سلامت اولاد کو مار گیا تھا … اتنی تھپڑیں تو اس نے کبھی ماہین کو نہیں ماری تھیں جتنی تھپڑیں اس دن کے بعد وہ اپنے چہرے پر شیشے کے سامنے کھڑا ہو کر خود کو مارتا تھا اپنی اولاد کو مارنے کی سزا خود کو دیتا تھا ….
کیا یہ سزا کافی تھی کسی بےگناھ پر ظلم کرنے کی … دانش کا غرور اکڑ سب ٹوٹ چکا تھا .. بس اپنے بکھرے وجود کو روز سنبھالتا اور پھر خود بکھر جاتا … اس کے اندر ہمت نہ تھی ماہین کو یہ سچائی بتاسکے کہ ان کے نارمل بچے کا وہ خود قاتل ہے …
اب تاعمر اسے اسی درد کے ساتھ رہنا تھا … نہ کسی کو بتا سکتا تھا نہ کسی کو سنا سکتا تھا اپنے درد کو وہ کبھی زبان نہیں دے سکتا تھا اتنا بڑا ظرف اس کا نہیں تھا کہ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر سکے کسی کے سامنے …
@@@@@@@@@@
“ماہین اٹھو باہر چلو , یہ کیا سارا وقت اندر بیٹھی رہتی ہو … طیبہ اور ریما اسے لینے آئیں تھیں …
“میرا موڈ نہیں آپی , بھابھی اپ ہی سمجھائیں اپی کو … ماہین نے ریما سے کہا …
“میں بھی طیبہ کے ساتھ ہوں , تم لندن جارہی ہو … ریما نے کہا …
” میں اب کبھی بھی کچھ بھی نہیں کروں گی اس کام کی وجہ سے میں نے اپنی بیٹی کھو دی … ماہین نے کہا دکھ سے …
“بسسس ماہین , اب اس سے زیادہ یہ الزام تم خود کو نہیں دوگی , تم حقیقت کہہ دو ہم یقین کریں گے تم پر , تم اپنا درد کہو کیوں اسے اپنے اندر دبا کر بیٹھی ہو … ریما نے اس کے ہاتھ تھام لیئے اور یقین سے بولی تھی …
“نہیں , نہیں …. بھابھی آپ یہ سب کیسے … جانتی … اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بولی تھی …
“سوری ماہین , میرے ماں باپ اور میرے گھروالوں کو میں سب بتاچکی ہوں … میں تمہارے پیچھے اوپر ائی تھی اس دن تمہیں لینے پھر تمہاری اور نایاب کی ساری باتیں میں نے سنی تھیں … تمہاری طرح مجھے بھی یقین ہے کہ دانش بھائی کبھی اس بات پر یقین نہیں کریں گے , اس لیے ان سے سارے تعلقات ختم کر چکے ہیں سب , اس دن کے بعد سے … ریما نے اسے بتایا جس پر وہ چہرے کا رخ پھیر گئی …
“اس سب سے کچھ بھی واپس نہیں آئے گا نا میری بیٹی نا میرا کھویا ہوا اعتماد … ماہین نے دکھ سے کہا …
“ماہین بسس کرو اب , تمہاری عدت ختم ہوچکی ہے اب تم اپنی زندگی میں اگے بڑھو …. سعدیہ بیگم نے اکر کہا …
“میرا سب کچھ ختم ہوگیا , سب نے ٹھیک کہا تھا مجھے اسلام آباد نہیں جانا چاہیئے تھا امی … ماہین نے اعتراف کیا اپنی غلطی کا …
“نہیں ماہین , ٹھیک تم تھی اس وقت جب تم دانش سے علیحدگی چاہتی تھی , تب ہم تمہاری بات مانتے تو اچھا ہوتا … تو اج یہ سب نہ ہوتا پر اب یہ سب کہنا بے کار ہے … تم اپنی زندگی میں اگے بڑھو بسس یہی ہماری خوشی ہے …. سعدیہ بیگم اس کے ہاتھ تھام کر بولی تھیں …
“آؤ ایک نئی زندگی تمہاری منتظر ہے , جسے اب تم شروع کروگی نئے مقصد کے ساتھ … آؤ … اسے اٹھا کر باہر لائیں تھیں … وہ حیرت سے دیکھ رہی تھی اپنی ماں کو اور ان کے کہے لفظوں کو سن رہی تھی ….
جاری ہے
