Rate this Novel
Episode 23
ناول … میرے درد کو جو زبان ملے
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 23
“شانی ایک بار پھر سوچ لو , کیا نور کے لیئے اتنی بڑی سزا ٹھیک رہے گی … جو اسے تم دے رہے ہو … شائستہ بیگم فکر سے بولیں تھیں شانی سے …
“امی کبھی کبھی جو سزا ہمیں لگتی ہے اک وقت آتا ہے ہمیں پتا چلتا ہے کہ وہ سزا نہ ہوتی تو یہ اچھا وقت کبھی نہ آتا … شانی نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تسلی آمیز لہجے میں کہا …
“مجھے معاف کردینا میرے بیٹے , کہیں نا کہیں اس سب کی میں ذمیدار ہوں , ان حالات اور واقعات کی … شائستہ بیگم نے اعتراف کیا دل سے جو حقیقت بھی تھی ایک طرح سے ….
وہ اٹھ کھڑا ہوا اور بولا …
“ابھی خالا کی طرف بھی جانا ہے … شانی کی بات پر شائستہ بیگم حیران ہوئیں اور اسے جاتا ہوا دیکھتی رہ گئیں … ان کی ہمت نہ ہوئی یہ پوچھنے کی “کیا کروگے وہاں جاکر …
@@@@@@@@@
خالا کتنے لمحے حیرت سے اسے دیکھتی رہیں اس کا ماتھا چوم کر پیار کیا اور بولیں …
“مجھے یقین تھا تم آؤگے … نور کی بے وقوفیوں میں اس کا ساتھ نہیں دوگے … وہ یقین سے بولیں تھیں جبکہ شانی شرمندہ ہوکر نظر جھکا گیا … شانی کو دیکھتے ہی نور اندر چلی گئی بغیر سلام دعا کے …
شانی کی ہمت نہ ہوئی فی الحال ان سے کچھ کہنے کی اس لیئے ان سے اجازت لے کر نور سے ملنے کے لیئے اس کے کمرے کی طرف بڑھا اور ناک کیا دروازے پر پھر اندر اگیا … نور کھڑکی کے پاس کھڑی تھی اور اپنے گھر کے لان پر نظر جمائے ہوئے تھی …
وہ جانتا تھا وہ اسے محسوس کرسکتی ہے پر اس کی طرف دیکھنا نہیں چاہتی …
دونوں طرف سے خاموشی کتنی دیر رہتی کسی ایک نے تو پہل کرنی تھی سو اس بار پہل شانی کی طرف سے ہوئی تھی …
“جانتی ہو نور تم نے مجھے اس رات بزدل کہا لمحے بھر کے لیے مجھے تکلیف ضرور ہوئی اس رات میں تڑپتا رہا یہ سوچ کر کہ تم نے مجھے بزدل کہا پر جانتی ہو صبح تک مجھے احساس ہو گیا کہ تم صحیح تھی میں واقعی میں ایک بزدل مرد ہوں پر میں بے غیرت نہیں ہوں اور ناہی موقع پرست ہوں , بےغیرت ہوتا تو دل میں کسی کو بسا کر تمہارے ساتھ اپنے لمحے خوبصورت بناتا اور دوسری طرف یہ بھی دعویٰ کرتا کہ تم میری محبت نہیں ہو اور تمہیں ذہنی اور جسمانی اذیت دونوں سے گزارتا … تم سوچو وہ مرد کیا مرد کہلاتا جو اپنی مردانگی کے زعم میں صرف ایک عورت کو ضرورت کا سامان بنا کے رکھ دے … نور میں یہ نہیں کرپایا , سچ میں میرے لیئے ممکن نہیں تھا ایسا بننا… نور میں نے بہت سوچا کہ اُس مرد سے تو میرا بزدل ہونا ہی بہتر ہے … جانتا ہوں اس رشتے میں کچھ غلطیاں تم نے کی ہیں تو یہیں پہ بہت جگہوں پر میں بھی غلط ہوں میں اعتراف کرتا ہوں اپنی غلطیوں کا اس لیے اب بزدل بن کر یہاں سے بھاگ نہیں رہا تمہیں بتا کے جا رہا ہوں کہ میں اسٹریلیا جا رہا ہوں اور ایک بات اور واضح کر دوں شاید میں ویسے ہی چلا جاتا تمہیں بغیر بتائے سولی پہ لٹکا کے پر جانتی ہو اس رات تم نے جو نہیں کہا تھا وہ بھی میں سمجھ گیا تھا , وہ کیوں وہ مجھے نہیں پتہ اور اس رات تم نے فیصلہ کر کے ہی سکون سے سوئی تھی کہ مجھ سے الگ ہونے کا اور پھر واقعی خالہ امی نے تصدیق کر دی جو تم پچھلے کچھ دنوں سے کر رہی ہو اسی لیے بہت سوچنے کے بعد میں نے سوچا چلو یہ بزدل مرد جاتے جاتے تھوڑی تو ہمت کرے کہ تمہیں تم خلاع لے کر اپنے اوپر رسوائی کا داغ لو اس سے بہتر ہے میں ہی تمہیں طلاق دے کر یہ داغ بھی اپنے اوپر لے کر چلا جاتا ہوں … وہ آج اپنے دل کی ہر بات واضع کرنا چاہتا تھا کیونکہ شاید پھر کبھی زندگی اسے موقع نہ دے یہ سب کہنے کا جس کی آج وہ ہمت کرپایا ہے …
نور اسے حیرت سے سنتی رہی اور بولی تو بس اتنا…
“ایک بات شانی تمہاری بہت اچھی ہے تم اپنا ہر احساس اور جذبات کھل کے کہہ دیتے ہو اور اگر کہیں اپنی غلطی محسوس کرتے ہو تو اسے مان بھی لیتے ہو …
شانی اسے بغور سن رہا تھا اپنے پاؤں پر نظریں جمائے … کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ دوبارہ بولی …
“واقعی میں یہ بہت اچھا رہے گا کہ ہم دونوں الگ ہو جائیں کیونکہ اب مجھے اچھی طرح احساس ہو گیا ہے ہم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے … اور یہ بھی سچ ہے کہ اس رات میں یہی فیصلہ کر کے پرسکون ہوئی تھی اور یہاں پر پچھلے کچھ دنوں میں امی کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی پر وہ کسی طرح اس معاملے پر راضی نہیں ہو رہی تھیں اور میرے فیصلے پر مسلسل اعتراض کررہی تھیں … تم امی کا مت سوچنا ان کو سمجھانا میرا کام ہے … نور نے سکون سے کہا …
“نور یہ طلاق کے کاغذات ہیں اور ان پر اپنے سائن کرنے لگا ہوں اور یہ تمہارا حق مہر … وہ ڈریسنگ ٹیبل پر کاغذات رکھتا ہوا بولا تھا …
“یہ حق مہر میں نہیں لے سکتی کیونکہ میں نے اچھی بیوی ہونے کا کوئی حق ہی نہیں ادا کیا … میں اعتراف کرتی ہوں تم اچھے شوہر نہ بن سکے تو میں بھی کوئی اچھی بیوی نہیں تھی … تمہیں تمہاری بھابھی کے ساتھ جوڑ کر میں نے گناہ کیا تھا میں ماہین کی بھی گنہگار ہوں پر میں تمہاری طرح اعلی ظرف بھی نہیں ہوں کہ اس سے جا کر معافی مانگ لوں میں نہیں معافی مانگ سکتی اور نہ ہی اس کا سامنا کرنے کی مجھ میں ہمت ہے … نور نے ایک اور اعتراف کیا … جب رشتہ ٹوٹنا ہی تھا تو پھر ایک دوسرے کے دل میں بغض رکھنا کیا تھا اج سارے اعترافات ضروری بھی تھے …
“نور جتنا برا تم نے کیا پھر بھی ایک شوہر کی حیثیت سے پوچھ رہا ہوں تم مطئمن ہو اپنے اس فیصلے پر … شانی نے پوچھا …
“ہاں میں راضی ہوں اور یہ تمہارا آخری احسان ہوگا مجھ پر کہ طلاق دے کر مجھے اس بوجھ سے آزاد کررہے ہو … نور کا لہجہ دھیما پر مضبوط تھا …
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد شانی دوبارہ بولا …
“ایک اور بوجھ میں اپنے ضمیر پر لے کر یہ ملک نہیں چھوڑنا چاہتا کہ تم بیوی تھی جس کے جذبون کی پذیرائی نہ کرسکا میں , اس کے لیئے مجھے میرا اللہ بھی نہ معاف کرے کیونکہ تم میرے نکاح میں تھی اور میں صرف تمہارا گنہیکار ہوں اس معاملے میں .. اگر کبھی میری بےبسی سمجھ سکو تو ہوسکے ان راتوں کے لیئے مجھے معاف کردینا , جس کی سزا مجھ پر واجب ہے اگر تم مجھے معاف نہ کرسکی … شانی کے لہجے میں ندامت اور شرمندگی بھی تھی …
کتنے لمحے خاموشی کے نظر ہوگئے اور لمبی سانس خارج کرتے ہوئے نور بولی …
“تمہارے ضمیر کے بوجھ کی رہائی کے لیئے ایک بات کہنا چاہتی ہوں اچھا ہوا کسی رات تم میری طرف نہ بڑھے کیونکہ ہر رات میں صرف اس لیئے تم کو آزماتی تھی کہ شاید کسی رات تم میری طرف بڑھو اور میں بھی تمہیں ویسے دھتکاروں جس طرح تم مجھے اگنور کرتے آئے تھے … پھر بھی اگر میرے کہنے سے تمہارے دل کو بوجھ ہلکہ ہوتا ہے تو میں نے تمہیں معاف کیا …
وہ اس کے انکشاف پر شاک ہوکر دیکھتا رہ گیا کہ اسے یقین نہیں ارہا تھا نور کی یہ سوچ تھی , جانے کیوں اسے لگا وہ جھوٹ بول رہی ہے اس کا دل نہیں مانا تھا پر وہ خاموش ہوگیا تھا …
“شانی تا عمر صرف تم احسان پر احسان کرو چلو آج میں بھی تمہارے ضمیر کی تسلی کے لیئے ایک جھوٹ بول کر تمہاری رہائی ممکن کردی ہے , کچھ تو میں بھی تم کو دے سکی یہی بہت ہے میرے لیئے … میری حق تلفی کرکے جو تکلیف تم نے مجھے دی اس کے لیئے میں نے تم کو معاف کردیا …. نور نے سوچا پر کہا نہیں …
وہ طلاق کے پیپر پر سائن کررہا تھا … نور ایک آخری دفعہ اس شخص کو جی بھر کے دیکھ رہی تھی کیونکہ کہنے سننے بولنے کے سارے حق نہ رہیں گے اس کے بعد …
“اللہ حافظ , اپنا خیال رکھنا …. اتنا کہے کر وہ طلاق کے پیپرز اور حق مہر کا چیک وہان رکھ کے چلا گیا … وہ اسے جاتا دیکھتی رہ گئی … کئی آنسو ٹوٹ کر آنکھ سے بہے نکلے ….
شانی اپنی خالہ کے اگے جھکا جنہوں اس کے سرپر ہمیشہ کی طرح پیار کیا … شانی ان کے ہاتھ تھام کر بولا …
“خالا امی مجھے معاف کردینا , میں اچھا بیٹا نہ بن سکا … نا آپ کی امیدوں پر پورا اتر سکا … وہ ندامت سے بولا …
“یہ کیا کہے رہے ہو شانی , میں تمہاری بات کا مطلب نہیں سمجھی … خالا نے حیرت سے کہا …
“ذیشان آپ جاؤ … میں خود دیکھ لوں گی اپنی ماں کو …. آج پہلی بار نور نے اسے شانی کے بجائے ذیشان کہا تھا …
شانی وہاں سے چلا گیا “اللہ حافظ کہتا …
“نور کیا ہورہا ہے یہ سب … شاہدہ بیگم نے کہا تڑپ کر ان کا دل ہول رہا تھا جیسے کچھ غلط ہوا ہو جیسے …
“امی یہ دیکھیں آپ …
طلاق کے پیپر دیکھ کر دنگ رہ گئیں …
“نور یہ کیا کرگیا شانی …. وہ شاک لہجے میں بولیں …
“بس امی اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں …. جو ہوا ہماری اپنی باہمی رضامندی کا فیصلہ ہے … ہوسکے تو آپ اور خالا اپنے تعلقات ہمارے وجہ سے نہ بگاڑنا … یہی ہم دونوں کے حق میں بہتر ہے …
وہ روتی رہ گئیں جب کہ نور ضبط سے ہونٹ بھینچ گئی …. وہ روکر بین کرکے اپنی مان کی اذیت بڑھانا نہیں چاہتی تھی ….
@@@@@@@@@
طاہر آفندی نے شدید غصہ کیا کہ کس طرح اس نے بغیر پوچھے طلاق دی اور اب باہر ملک جارہا ہے … کافی لانعت ملامت کرتے رہے وہ سنتا رہا نظرین نیچی رکھ کے … اسے باہر ملک جانے سے روکنے کے لیئے جائیداد سے عاق کی دھمکی دی پھر بھی وہ نہ رکا اور ایک بات وہ ضرور بولا اپنے باپ سے ….
“کاش پاپا جتنے اچھے باپ آپ دانش بھائی کے لیئے ہیں اس کا ایک پرسنٹ بھی میرے لیئے ہوتے تو آپ سے رائے لے کر فیصلہ کرتا پر نہیں پاپا , آپ میرے لیئے کبھی اچھے باپ کا کردار نہ نبھا سکے ہمیشہ مجھے اگنور ہی کرتے رہے , جائیداد سے اب عاق کریں گے آپ , پر اپنے پیار کے حق سے عرصہ ہوا عاق کردیا ہے آپ نے , اچھا اب جائیداد سے سہی … یقین جانے کبھی کوئی ملال نہیں ہوگا مجھے …
شانی نے جس کرب سے کہا اتنا شدت سے ان کو اپنی غلطیون کا احساس ہوا … ہاں یہ سچ ہی تھا وہ دانش کو ہی سب اولاد سے اوپر رکھتے آئے تھے , شانی تو کبھی ان کے لیئے معنی نہیں رکھتا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ سے ان کو کند ذہن بچہ لگتا تھے جس کے بچپن سے ہی ایورج گریڈ اتے تھے جبکہ اس کے بنسبت دانش انتہا کا ذہین بچہ تھا ہر ٹیچر کا فیورٹ , شانی اس سے ایک کلاس ہی نیچے تھا پر اتنا بڑا فرق مارکس کا اساتذہ کے لیئے شاک ہوتا تھا … ہر استاد یہی کہتا ایک ہی ماں باپ کی اولاد اتنا بڑا فرق دونوں بھائیوں میں … طاہر آفندی سدا سے ذہانت سے متاثر ہونے والے شانی کو ہمیشہ جھڑکتے رہتے کبھی اسے اس طرح اپنے پاس نہ کیا جس طرح دانش تھا , وہ دانش کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے اس کی ہر خواہش کو پورا کرنا اپنی اولین کوشش میں رکھتے جبکہ اکثر موقعون پر ذیشان کی خواہشات کو اگنور کرجاتے کبھی دانستہ کبھی غیر دانستہ طور پر … شانی خوبخود باپ سے دور اور ماں کے نزدیک ہوتا ہوگیا اور باپ اس سے لاپرواہ تھا تو وہ بھی لاپرواہ ہوگیا اپنے باپ سے … ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی کبھی باپ نے اس کے کسی معاملے میں توجہ نہ دی , شانی چاہ کر بھی کبھی اپنے باپ کو متوجہ نہ کرسکا کیونکہ دانش کی برابری وہ کبھی نہیں کرسکتا تھا کیونکہ وہ ذہانت کے ساتھ ساتھ پیسے کمانے کا گر بھی جانتا تھا وہ لاکھون روپے ایک مہینے میں کمالیتا جبکہ شانی صرف ایک لاکھ روپے مہینہ مشکل سے کماتا جس میں سے بھی ٹیکس وغیرہ کٹ جاتا اس کی سیلری بس ہزاروں میں تھی …
بہت فرق تھا دونوں بھائیوں میں اور یہ فرق کی دیوار باپ نے ہی بڑھائی تھی …
دانش تو تھا نہیں لاہور میں پھر بھی فون پر اپنے بڑے بھائی سے اللہ حافظ کرنا نہ بھولا شانی … وہ حیران پریشان ہوا اتنا اچانک یہ سب ہونے پر , پر جس نے جانے کا ارادہ باندھ لیا ہو اسے بھلا کون روک پایا ہے … آخرکار شانی چلا گیا اور پہلی دفعہ ایسا ہوا اس نے کسی سے کوئی مدد نہ لی تھی نہ اپنے باپ سے نہ اپنے بھائی سے …
@@@@@@@@@
“مجھے اچھا نہیں لگ رہا تو اس طرح جارہا ہے یار , ابھی تو وہ پرانی یادیں تازہ کرنا شروع کیں تھیں تو پھر جارہا ہے … جنید شاہ ذیشان سے گلے لگتے ہوئے بولا …
“یار یہ دوستی یونہی برقرار رہے گی , دیکھو تمہارے لندن جانے کے باوجود ہم ایک رہے تو کیسے ممکن ہے اب ہم الگ ہوجائیں … شانی نے کہا …
ذیشان نے تیمور کو تکلیف نہ دی بجائے اس کے جنید شاہ اسے پک کرنے اگیا تاکہ اسے ائیرپوٹ ڈراپ کرسکے …
“ہان , یہ بھی ہے یار , تیری یاد بہت آئے گی … جنید اسے کس کر گلے لگا تھا …
“مجھے بھی تیری یاد آئے گی , پر دوستی کا حق ادا کردیا تم نے , جس طرح اس وقت مجھے سپورٹ کیا تم نے … اگر تم نہ کرتے تو کہان ممکن تھا اتنا جلدی یہ ملک چھوڑ سکتا … ذیشان کے لہجے میں اپنے دوست کے لیئے مان تھا …
“یار تیرے لیئے کچھ بھی … یہ اتنی بڑی بات نہیں میرے لیئے , ایک بات یاد رکھنا وہان کوئی بھی ضرورت پڑے , کال می اینی ٹائم پہنچ جاؤں گا تیرے پاس … سمجھے … جنید شاہ اس کے کندھے پر اپنا بازو پھیلاتا ہوا بولا …
“پر تو نے ابھی تک نہیں بتایا کہ وہ لڑکی کیسی ہے اب تک جس کے طلسم سے میرا یار ابھی تک نہیں نکلا … جنید شاہ نے پرسوچ انداز میں پوچھا … عرصہ ہوا وہ کبھی اس کا ذکر نہیں کرتا ذیشان اس سے اس لڑکی کا کبھی …
خموش اے دل!، بھری محفل میں چِلّانا نہیں اچھّا
ادب پہلا قرینہ ہے محبّت کے قرینوں میں
“میں پہلے اس کی عزت کرتا ہوں پھر محبت یار … اس لیئے اب اس کا ذکر زبان سے نہیں کرتا … شانی نے سکون سے کہا …
“واہ واہ … پاؤں کہاں ہیں تمہارے چھوکر دعا لوں مرشد سائیں … ایسی انوکھی محبت نا سنی نا دیکھی … جنید نے مسکرا کر سچ میں اس کے پاؤں پر ہاتھ رکھ لیئے … جنید آنکھ دبا کر مسکرا کر آخری لفظ کہے تھے …
“جا بچے جا , تجھے بھی عشق ہوجائے , میری دعا ہے … جنید نے مستی کی تو پھر شانی کہاں پیچھے رہنے والا تھا اس نے بھی شرارتی انداز میں اسے مزاق ہی مذاق میں دعا دے دی …
کسی کو کیا پتا تھا مذاق میں کہی بات کب قبولیت کا درجہ اختیار کرجائے کسی کو کیا پتا …
پھر دونوں کس کے گلے کیونکہ شانی کی بورڈنگ کا ٹائیم ہورہا تھا …
“اپنا خیال رکھنا وہاں پہنچ کر میسج کرنا … مجھے فکر رہے گی تیری … جنید نے کہا جس پر وہ اثبات میں سرہلا گیا …. اللہ حافظ دونوں نے ایک دوزرے سے کہا …
@@@@@@@
ماہین کو انتہائی دکھ تھا جو کچھ شانی اور نور کے رشتے کا انجام ہوا وہ صرف دعا ہی کرسکتی تھی دونوں کے لیے اور جو وہ بالکل کیا کرتی تھی …
ابھی گھر والے شانی اور نور کے جھٹکے سے بمشکل سنبھلے تھے کہ چند دن ہی گزرے تھے کہ آفندی خاندان کے لیئے ایک دکھ کی خبر آملی زبیر آفندی کی بیوی کا انتقال ہوگیا جو امید سے تھی … ڈلیوری کے بعد ایک گھنٹے میں انتقال کرگئی بلکل اچانک ہی … جس بات کی امید نہ تھی وہ ہوگیا …
اس گھر کو شاید عورت کا وجود راس ہی نہ تھا پہلے زبیر کی ماں اس کی کم عمری میں چلی گئی اب اس طرح زبیر کی بیوی بھی ایک بیٹا دے کر اپنے رب سے جاملی … قسمت کی اس ستم ظریفی پر باپ بیٹا ٹوٹ چکے تھے … قادر آفندی)انوشے کے والد( وہیں تھے لندن میں … اس مشکل وقت میں انہوں نے ہی سنبھال رکھا تھا بھائی اور بھتیجے کو … دانش بھی پندرہ دن بعد لندن روانہ ہوا کیونکہ اس کا پاسپورٹ بنا ہوا وہ کئی ملک جاچکا تھا اس لیئے آرام سے ویزا لگ گیا … اس مشکل وقت میں اس کے دوست کو ضرورت تھی اس لیئے وہ گیا تھا لندن …
وقت کا کام تھا گزرنا سو گزر ہی رہا تھا .. اب ماہین کا آٹھوان مہینہ شروع ہوچکا تھا اس نے سوچ لیا تھا نائین منتھ میں میٹرنٹی لیوو لے لے گی …
آج ہی دانش پہنچا تھا لندن سے سیدھا یہاں آیا تھا وہ اسلام آباد نہیں گیا تھا ….
رات سکون سے گزرگئی اگلی صبح اتوار کا دن تھا ہمیشہ کی طرح دانش جلدی اٹھ گیا جبکہ ماہین سستی سے بیڈپر لیٹی رہی … ابھی دس ہی بجے تھے وہ تھوڑی دیر اور نیند لینا چاہتی تھی پر دانش کی فون کی چنگھاڑتی آواز پر وہ ڈسٹرب ہوئی تھی … ویسے حیران بھی ہوئی تھی کیونکہ اکثر وہ فون سائیلینٹ پر رکھتا تھا سونے سے پہلے , آج جانے کیسے سائیلینٹ پر نہ تھا اور نا ہی اس کے پاس … وہ کم موبائیل کی جان چھوڑتا تھا ہر وقت اس کے پاس ہی رہتا تھا موبائیل فون …
ایک بار بج بج کر موبائل بند ہو گیا اب پھر سے بجنا شروع ہوا تو مجبورً ماہین نے اٹھ کر دیکھا افتاب کالنگ لکھا تھا … یہ نام اکثر وہ دانش کے منہ سے سنتی ائی تھی شاید اس کا بہت اچھا دوست اور جاب میں ساتھ ہی تھا … تیسری مرتبہ پھر کال آئی تو ماہین نے کال میوٹ پر کرنے کے بجائے ریسیوو کرلی … کیونکہ یون تو ماہین کی نظر میں یہ سب سے ناپسندیدہ عمل تھا کہ کسی اور کی کال ریسیو کی جائے پر ایمرجنسی کا سوچ کر ماہین نے کال اٹھائی تھی ورنہ یہ عادت اس کی کبھی نہ تھی کہ وہ دانش کی موبائل پر نظر بھی رکھے کہ کس کی کال ا رہی ہے جا رہی ہے یا کس سے بات کر رہا ہے ماہین کی یہ بالکل بھی عادت نہ تھی …
لگتا تھا سامنے والا بے انتہا جلدی میں تھا اسی لیے بغیر کچھ کہے کال ریسیو ہوتے ہی شروع ہو گیا اپنی کہنا ….
“ہیلو یار دانش , نایاب بھابھی گرگئیں ہیں , میں انہیں لے کر ہسپتال جارہا ہوں , بچے ملازمہ کے پاس چھوڑ کر جارہے ہیں , تم اسلام آباد پہنچنے کی کرو , نایاب بھابھی منع کررہی تھیں پر مجھے لگتا ہے یہاں تیرا ہونا ضروری ہے ….
“ہیلو دانش سن رہا ہے نا , میری اواز ارہی ہے نا … سامنے والے نے کہا تو ماہین جو صدمے میں تھی جس کے کان سائین سائین کررہے تھے وہ ضبط سے بولی “بےفکر رہیں آپ کا میسج دانش کو مل جائے گا …
آفتاب کو شاک لگا اس کی آواز سن کے وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا ایسا کچھ ہوجائے گا “وہ ماہین بھابھی …
وہ کچھ کہتا اس سے پہلے کال کاٹ گئی ماہین … کیونکہ جھوٹ کی کوئی گنجائش نہ رہی تھی … سارے لمحے آنکھون کے اگے گردش کرنے لگے جو جو دانش اس کے ساتھ کرتا آیا تھا … اپنے سارے خسارے یاد انے لگے جن باتوں پر کبھی اس نے توجہ نہ دی ان ساری باتوں کے مفہوم سمجھنے انے لگے سارے شکوہ شکایات کی ڈوریاں سلجھتی ہی چلیں گئیں … سارے منظر واضح ہوتے چلے گئے …
@@@@@@@@
ستم تو یہ بھی ہے کہ ظالم زخم شناس نہیں
وہ اک شخص جو مجھے کیا سے کیا بنا گیا ہے
دانش جو اپنے باپ کے ساتھ خوشگپیون میں مصروف تھا لاؤنج میں , تقریبً سب لاؤنج میں موجود تھے … ماہین سرد تاثرات لیے دانش کے روبرو ا کھڑی ہوئی اور وہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا … وہ اس کی نظروں کا مفہوم بخوبی سمجھ رہی تھی وہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ “کیا مسئلہ ہے …
وہ ہونٹ بھینچ کر بولی …
“دانش اپ کا فون مسلسل بج رہا ہے … اس کے سرد تاثرات کا ایز یویل اس نے خاص نوٹس نہ لیا اور بولا ….
“اچھا دو مجھے موبائل … وہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلا چکا تھا تاکہ اس کی ہتھیلی پر وہ موبائیل رکھے … جبکہ ماہین نے اس کے ہاتھ میں دینے کے بجائے اس پر پھینک گئی موبائل جو اس کے سینے پر ا کر لگا تھا سب حیران رہ گئے ماہین کے اس انداز پر , حیرت میں تو دانش بھی اگیا تھا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ کبھی ماہین اس طرح کی کوئی بدتمیزی کر سکتی ہے … سب حیرت سے دیکھنے لگے ماہین کو اور سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے ….
“یہ کون سا طریقہ ہے اپنے شوہر کو موبائل دینے کا … دانش نے دانت پیس کر کہا …
“یہ کیا ہے ماہین … طاہر آفندی اور شائستہ بولے تھے ایک ساتھ …
“ایسے شوہر کو ایسے ہی دیا جاتا ہے … پوچھیں ان سے کہ نایاب کون ہے … ماہین کی آنکھون میں شعلون سی لپک تھی …
اب اچھی طرح دانش کو سمجھ میں اگیا اس کے اس رویے کا مطلب اور جلدی سے اٹھ کر وہ بولا …
“کمرے میں چلو ہم وہاں چل کر بات کرتے ہیں … دانش نے بمشکل اس کی اتنی بدتمیزی کو ہضم کرتے ہوئے نرم لہجے میں کہا تھا شاید وہ اپنے گھر والوں کے سامنے اپنا تماشہ بنانا نہیں چاہتا تھا …
“اب سے ساری باتیں کمرے سے باہر ہی ہوا کریں گی … کیونکہ ہمارا تعلق اب کمرے سے باہر والا ہو گیا ہے … ماہین نے سخت اور دوٹوک لہجے میں بولی تھی … رہ رہ کے اس کو اپنی تذلیل کا ہر لمحہ یاد آنے لگا کس طرح یہ شخص اسے دبا کر رکھتا آیا تھا … اسے اچھی طرح سمجھ میں اگیا اس کے اسلام اباد جانے پر اس کے رویئے کا بدلنا ہر چیز کا مفہوم واضح ہو رہا تھا ماہین کی نظر میں …
“ماہین بدتمیزی مت کرو چلو کمرے میں , میں تمہیں سب بتاتا ہوں … دانش نے سخت لہجے میں کہا اب کے , پر ماہین سر جھٹک کر بولی …
“مجھے کچھ نہیں سننا اور نہ ہی کچھ سمجھنا ہے …. میں جانتی ہوں جو میں نے سنا ہے وہ سچ ہے صرف اپ کے منہ سے ایک بار سننا ہے نایاب اپ کی بیوی ہے اپ کے بچے بھی ہیں اور یقینا اسلام اباد میں رہتے ہوں گے اپ کے ساتھ … ماہین نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا …
“ماہین دیکھو یہ باتیں اس طرح نہیں کرنے کی ہوتیں , سکون سے کرنے کی ہوتیں ہیں … دانش اس کا سخت اور دو ٹوک انداز دیکھ کر , اسے خود نرم ہونا پڑا … مشکل سے ہی صحیح پر اپنے لہجے کو نرم رکھ کر بول رہا تھا …. اسے امید نہیں تھی کہ ماہین اتنا سخت ری ایکشن دے گی ….
“اچھا پھر کون سا موقع میل ہوتا ہے ایسی بات کرنے کا … اپ صحیح ہیں نا تو بتا دیتے , شادی کی رات اور میں اپنا فیصلہ کرتی اس وقت … وہ انتہائی سخت لہجے میں بولی تھی ….
دانش کو لگتا تھا جب بھی اسے ایسی کوئی خبر پتہ چلے گی تو وہ اپنی طبیعت خراب کر لے گی پر اج پتہ چلا وہ اس کی طبیعت کو تو کچھ نہیں ہونے والا وہ دانش کی طبیعت خراب کرنے کے ارادے رکھتی ہے … وہ اپنے نڈر انداز سے دانش کو ہی ہڑبڑانے پر مجبور کر گئی تھی …
“تم ہوتی کون ہو فیصلے کرنے والے ہاں … دانش غصے سے بولا وہ ذرہ بھی گھبرائی نہیں اس کے اس انداز پر وہ اپنے اسی کھردرے لہجے میں دوبدو بولی …
“تو پھر اپ کون ہوتے ہیں میرے فیصلے کرنے والے …
سب تماشائی بنے دیکھ رہے ایک سیر تو دوسرا سوا سیر تھا … طاہر افندی اور شائستہ بیگم تو حکا بکا ہو کر دیکھ رہے تھے کہ کس نڈر انداز میں ماہین اپنے شوہر سے بات کر رہی تھی اس کے لہجے میں ذرا سی بھی لچک نہ تھی …
“میرا خیال ہے ماما اپ اس سے سنبھالیں کیونکہ ایسا نہ ہو میرا ہاتھ اٹھ جائے … اب کے دانش ڈائریکٹ اپنی ماں سے مخاطب ہوا …
“اچھا تو اٹھا کر دکھائیں اپنا ہاتھ میں نے بھی چوڑیاں نہیں پہن کر رکھیں توڑ بھی سکتی ہوں سامنے والے کا ہاتھ … ماہین کو خود اندازہ نہ تھا کہ وہ غصے میں کیا بول رہی ہے , بس اسے اتنا پتہ تھا کہ وہ اس کے ہاتھ اٹھانے سے دبنے والی نہیں تھی…
شائستہ بیگم اس کے سامنے آگئین اور بولیں … “ماہین بیٹا تم سمجھنے کی کوشش کرو , حالات ہی کچھ ایسے … وہ ایک دم ان کی بات کاٹ کر بولی …
“تو اس کا مطلب یہ کہ سب لوگ جانتے ہیں صرف ایک بے وقوف مجھے بنایا جا رہا ہے … وہ حیرت سے بولی مجبورً شائستہ بیگم کو اپنی نظریں چرانی پڑیں … کچھ لمحوں کے بعد وہ سنبھل کر بولیں …
“نہیں بیٹا تم غلط سمجھ رہی ہو …
“نہیں اپ لوگوں کی شکلیں دیکھ کر میں خوب سمجھ گئی ہوں اور ساتھ ظاہر ہے اپ ماں باپ بھی اس میں ملے ہوئے ہو … ماہین نے دکھ اور افسوس سے کہا شاید اسے امید تھی کہ اس کی طرح سب بے خبر ہیں پر یہ اس کی بھول تھی یہ اسے اندازہ ہو گیا ….
اتنی دیر میں آفتاب کا ٹیکسٹ اگیا جس میں واضع سچوئیشن بتائی تھی اس نے … جسے پرڑھ کر وہ بولا ماہین سے …
“ماہین مجھے غصہ مت دلاؤ نایاب کی طبیعت خراب ہے فلحال میں اسلام اباد جا رہا ہوں واپس ا کر تم سے بات کروں گا … دانش لہجے لو نارمل کرتا بولا وہ جو اس کے لندھے پر ہاتھ رکھمے لگا تھا وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر بولی …
“مجھ سے بات کرنے کے لیے واپس انے کی کوئی ضرورت نہیں ہے … تین لفظ دے دیں یہی بہت ہے کیونکہ مجھے اپ جیسے گھٹیا , دوغلے اور دھوکے باز انسان کے ساتھ نہیں رہنا … صاف اور سیدھی بات کررہی ہوں اور یہ غلط فہمی لے کر بالکل مت یہاں سے جائیے گا کہ میں یہاں بیٹھ کر اپ کا انتظار کروں گی کہ واپس اکر اپ مجھ سے بات کریں گے اب ہماری کوئی بات نہیں ہوگی اس بارے میں …
وہ دوٹوک لہجے میں بولی تھی پہلی دفعہ چاہ کر بھی طاہر آفندی بھی نہ بول سکے کیونکہ اتنا اچانک سب ہوا تھا اور اتنا شدید اس کا ریکشن تھا وہ بڑے ہونے کے باوجود اسے ٹوک کر خود سے بدتمیزی نہیں کرنے دینا چاہتے تھے …
“آر یو اؤٹ اف یور مائنڈ … وقوف ہو تم کیا بکواس کر رہی ہو اپنی حالت دیکھ رہی ہو اس وقت تم ماں بننے والی ہو اور ایسی باتیں کر رہی ہو … دانش نے اس کا دھیان اس کے وجود میں پلتے اپنے بچے کی طرف کروایا ….
“تو کیا اپ نے یہ سوچ رکھا تھا کہ میں ماں بن جاؤں گی تو یہ ساری چیزیں برداشت کر لوں گی تو اپ کی بہت بڑی غلط فہمی ہے میں فون کر چکی ہوں اپنے پیرنٹس کو میں واپس جا رہی ہوں اور مجھ سے ملنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہاں کاغذ بھیج دیں گے تو بڑی مہربانی ہوگی ورنہ عدالت تک لے کر جاؤں گی …. وہ سختی سے بولی … دانش نے بچے کا بھی احساس دلایا پر وہ ذرہ نہ دبی پھر بھی کیونکہ اس کا ذہن یہ سب قبول کرنے کو تیار ہی نہیں تھا …
آج شائستہ بیگم کو احساس ہوا مردہ نہیں بولتا پر جب مردہ بولتا ہے تو کفن پھاڑ کے ہی بولتا ہے … ماہین کو چپ اور خاموشی دیکھنے والوں نے کب کہاں سوچا تھا اس کا یہ بھی انداز دیکھیں گے …
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے بیٹا تم اس طرح کیسے جذباتی ہو کر فیصلے کر سکتی ہو …. شائستہ بیگم نے نرمی سے سمجھانا چاہا …
“ہاں واقعی بہت دیر کردی ہے یہ فیصلے کرنے میں … سب چیزیں سامنے تھیں اس شخص کے سارے انداز بھی سامنے تھے پر میں بے وقوف تھی اس امید پر زندگی جی رہی تھی بس ایک ہی بات ذہن میں تھی کہ شاید عمروں کا فرق ہے اسی لیے ذہنی ملاپ نہیں ہو سکتا اور بسس وہی راستہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی جس پر ہماری ذہنی ہم آہنگنی بن سکے اور سب سے بڑی بے وقوفی کر رہی تھی اج پتہ چلا جن چیزوں کو میں نے عمروں کا فرق سمجھا وہ عمروں کا فرق نہیں تھی وہ تو رشتوں تضاد تھا … وہ ٹوٹے بلھرے لہجے میں بولی تھی اپنی پھپھو سے … اس کی پھپھو بھی ساتھ تھیں ان لوگون کے ماہین کو شدید صدمہ تھا اس بات کا …
“ماہین اس وقت تم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھوچکی ہو اس لیے اسی بے وقوفوں والی باتیں کر رہی ہو … انہون نے سمجانا چاہا …
“ہممممم بھول ہے آپ کی … ماہین سنبھل کر بولی وہ اپنا ٹوٹنا بکھرنا ان کے سامنے بالکل نہیں کرنا چاہتی تھی … کتنی شدید ذہنی اذیت سے وہ دوچار ہوئی تھی تھوڑے ہی وقت میں وہ ان لوگوں پر ظاہر قطعی نہیں کرنا چاہتی تھی … دانش وہان سا جاچکا تھا کیونکہ اسے ضروری سامان لے کر فی الحال اس کا اسلام آباد پہچنا ضروری تھا اسے نایاب کی فکر تھی …
“کہاں جا رہی ہو تم … شائستہ بیگم نے کہا …
“,اللہ کی زمین بڑی ہے کہیں نہ کہیں جگہ مل ہی جائے گی جب تک میرے ماں باپ نہیں ا جاتے پر اس گھر میں رہ کر تب تک خود کو ذلیل نہیں کروں گی … وہ خود اذیتی سے بولی تھی , دانش کا رویہ صاف بتارہا تھا اس وقت اس کا سارا دھیان نایاب پر ہے … چند پل لگے ماہین کو سمجھنے میں کہ وہ اس کی محبت ہے …
ابھی دانش گھر سے نکلنے والا تھا اسی وقت عمر اور عاطف آئے تھے “چلو ماہین … وہ بغیر کسی سے مخاطب ہوئے بولے کیونکہ نادر آفندی سے جس طرح ماہین نے سب بتایا اس سے صاف ظاہر تھا وہ کچھ غلط نہ کربیٹھے اس لیئے انہون نے ہی عمر سے کہا تھا ماہین کو وہان سے لے جائیں جب تک وہ نہیں پہنچتے لاہور ….
“جی … وہ اٹھ کھڑی ہوئی … نا اس کی آنکھ میں ایک آنسو تھا نا ہی کوئی درد … بسس ہونٹ ضبط سے بھینچے ہوئے تھے …
دانش اسے جاتا دیکھتا رہ گیا وہ واقعی میں نکل گئی گھر سے بغیر کسی سے کچھ کہے وہ لڑکی جو ایک قدم بھی کسی سے پوچھے بغیر سسرال سے نہیں نکالتی تھی وہ اس طرح جائے گی کسی نے سوچا بھی نہ تھا …
جاری ہے
