Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 11

“دانش اتنا پیار کرتے ہیں مجھ سے … نایاب اس کے سینے سے لگی پوچھ رہی تھی , وہ اس کو اس بات سے ہٹانے کے لیئے بولی , وہ اس کے سب انداز سے واقفیت رکھتی تھی …

“خود سے بھی زیادہ میری جان … دانش کے لہجے میں چاشنی سی مٹھاس تھی …

“کتنا زیادہ … وہ اس کی ناک سے اپنی ناک رگڑتی ہوئی دھیمے لہجے میں پوچھ رہی تھی … وہ یونہی اس سے ناز نکھرے کرتی تھی اور دانش بھی اس کی ناک سے اپنی ناک رگڑتا ہوا بولا …

“بہت زیادہ , تم تھک جاؤ گی میرے پیار سے , میں نہیں تھکون گا تمہیں پیار کرنے سے , اتنی محبت ہے تم سے …

“میرے لیئے اتنا پیار اور ماہین کے لیئے … نایاب نے بے ساختہ پوچھا , شاید کہیں نا کہیں ماہین اس کے حواسون پر سوار ضرور تھی کیونکہ شوہر کی محبت بٹ جانے کا خطرہ ہو تو بے اعتباری آہی جاتی ہے …

“نفرت … بےساختہ دانش کی زبان سے نکلا جس پر نایاب بھی چونکی تھی …

“کیا کہا آپ نے وہ اس کا جملہ اچک کر بولی…

“کچھ نہیں ہے میرے پاس اسے دینے کے لیئے … ائندہ ہمارے پیار کے بیچ میں اس کا ذکر کرنے کی تمہیں ضرورت نہیں ہے نایاب ورنہ میں تم سے ناراض ہو جاؤں گا اب … اب کے تھوڑے سخت لہجے میں سرزش کی دانش نے …

“دانش سوری احتیاط کروں گی …. پر وہ اس کے لفظوں کو سوچنے لگی …

“ہممممم … دانش نے بس اتنا ہی تاثر دیا … اسے اندازہ ہوچکا تھا اب وقتً بوقتً ماہین نامہ اس گھر میں بھی چلنا ہے …

” میں کھانا لگاتی ہوں اپ فریش ہو جائیں , کپڑے ہینگ کردیئے ہیں … نایاب نے کہا …

“ٹھیک ہے … دانش نے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا فریش ہونے کے لیئے …

@@@@@

شائستہ بیگم اور دعا , ماہین کا بہت خیال کرنے لگیں تھیں … ماہین کو تنہائی نا محسوس ہو اسی لیے روز دعا اس کے پاس سونے اتی تھی , اس سے باتیں کرتی ہر وقت اسے کمپنی دینے کی کوشش کرتی … ماہین کو اپنی معصوم سی یہ کزن بہت پیاری تھی …

دعا نے ویسے ہی اس سے ایک ٹاپک کے ریلیٹڈ پوچھا تو ماہین اسے کنسیپٹ بتانے لگی تو دعا حیران رہ گئی … پڑھائی میں اس کی ہیلپ مانگی تو ماہین نے اسے پڑھانا شروع کیا , دعا سوفٹ ویئر انجنیئرنگ کے فرسٹ ایئر میں تھی … جب کہ ماہین اسے سمجھارہی تھی تو وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی …

“دعا تم اس طرح کیوں میری طرف دیکھ رہی ہو… ماہین نے حیرت سے پوچھا ….

“بھابھی میرے سمجھ میں نہیں ا رہا اپ تو بزنس پڑھی ہوئی ہے نا پھر کمپیوٹر کی اتنی نالج اپ کو کیسے ہے … اس کی حیرت پر ماہیں مسکرائی اور بولی …

“ڈیئر تم لوگوں نے کمپیوٹر کو سبجیکٹ سمجھا ہے جب کہ میرے لیے کمپیوٹر تو ایک ہابی ہے اور میں نے اسی وجہ سے سب کچھ سیکھا ہے , میرا انٹریسٹ تھا تو فارغ اوقات میں اپنی پڑھائی کے علاوہ کچھ وقت اسے بھی دے دیتی تھی , کمپیوٹر میرا شوق ہے …

دعا کی آنکھون میں اس کے لیئے ستائش ہی ستائش تھی … دعا کے چہرے پر معصومیت اور لہجے میں ایکسائیٹمینٹ بھر کر بولی …

“واؤ بھابھی …. مجھے یقین نہیں آرہا , رئیلی آئی ایم امپریسیڈ , یہ آپ ہیں , سچ میں اس بار دانش بھائی آئیں ان کو بتاؤں گی , کیا جینئیس بیوی ملی ہے ان کو ….

“دعا یہ حرکت مت کرنا , مجھے اچھا نہیں لگتا یہ سب … ماہین نے جلدی سے کہا … پتا نہیں کیوں وہ نہیں چاہتی تھی دانش کو یہ پتا چلے …

“ارے بھابھی آپ اتنی جینئیس ہو , پتا تو چلنا چاہیئے نا … سچ میں بھائی امپریس ہوں گے … دعا کے یقین سے کہا پر اب کے ماہین سختی سے ٹوکتی ہوئی بولی …

“مجھے اچھا نہیں لگتا , بسس وعدہ کرو تم ایسی کوئی بات ان سے نہیں کروگی , ورنہ میں نہیں پڑھانے والی تم کو … ماہین نے اخری لفظ شرارتی انداز میں کہے …

“ایز یور وش بھابھی … میں اتنا اچھا موقع نہیں گنوا سکتی پلیز مجھے پڑھا دیا کریں … دعا نے کاندھے اچکائے اوف بولی تھی …

“اوکے ڈیئر جتنا ہو سکا بالکل پڑھاؤں گی … ماہین نے اسے یقین دہائی کروائی …

“یا ہو لو یو بھابھی … وہ اس کے گلے لگ گئی … یوں دونوں مسکرائیں …. ان کے روم کے پاس سے گزرتے ہوئے نور نے ان دونوں کی گفتگو سنی تو حیرت میں اگئی …

“کیسی بےوقوف لڑکی ہے , جو خود کی قابلیت اپنے شوہر کو بتانا نہیں چاہتی , یونہی کوئی اسے جینئیس نہیں کہتا پکا کتابی کیڑا ہے … نور نے کلس کر سوچا …

“اب ہسنا بند کرو دعا چلو شاباش ٹاپک پر اؤ … دعا کے ہر انداز میں خوشی کا عنصر تھا ….

“اوکے مائے جینئیس بھابھی … دعا نے آنکھین بڑی کرتے ہوئے کہا وہ اپنے ہر انداز سے ظاہر کررہی تھی کہ وہ کتنا امپریس ہوئی ہے ماہین سے …

“دعا چپ کرو , مجھے ایسے مخاطب نہ کرو … ورنہ سچ میں تم کو پڑھا نہیں پاؤں گی …. اب کے سہی سے ماہین نے سرزش کی …

“ارے ارے سوری سوری …. کم ٹو دہ ٹاپک … وہ لیب ٹاپ ان کے سامنے کرگئی … ماہین پھر پڑھانا شروع ہوگئی , نور سر جھٹک کر اگے بڑھ گئی ….

ماہین کے دل میں سکون سا اترا کم از کم ایک طرح سے اس کا ٹائیم پاس ہونے لگا تھا دعا کی وجہ سے ورنہ وہ بیزار ہونے لگی تھی اکیلی تنہا دو دن بیٹھ کر …. ابھی تو وہ فارغ تھی اور پتا نہیں کب تک فارغ رہنا تھا … طاہر صاحب گھر کی عورتوں کی جاب کے خلاف تھے جبکہ دانش کیا سوچتا ہے اس بارے میں ماہین کو موقع ہی نہیں ملا تھا اس سے بات کرے اور اس کی رائے جان سکے … پر ماہین نے سوچ لیا تھا اگر جاب الاؤ نہ کیا تو وہ آنلائن کرے گی پر فارغ گھر بیٹھ کر ضایع نہیں کرے گی خود کو …. پر سب سے ضروری تھا دانش سے بات کرنا جس کے لیئے وہ خود کو ذہنی طور تیار کرچکی تھی ….

@@@@@@

“کل شام کی فلائیٹ سے لاہور جانا ہے …

رات کے اگلے پہر نایاب , دانش کے سینے پر سر رکھے ہوئے تھی جب وہ اس کے بالوں میں انگلیان چلاتے ہوئے بتانے لگا … دانش کی عادت تھی وہ اسے ہر بات بتایا کرتا تاکہ نایاب کا اعتماد اس پر سے کبھی نہ ٹوٹے …

“اچھا … پھر واپسی کب کی ہے …. نایاب نے پوچھا …

“یار فی الحال کچھ کہے نہیں سکتا … کراچی بھی جانا ہے … دانش نے بتایا …

“ماہین کو لے کر جائیں گے …. نایاب کا لہجہ سرسری تھا …

“ہممم مجبوری ہے یار …. دانش نے لہا بہزارکن لہجے میں …

“سمجھتی ہوں , ایسے نہ کہیں ماہین کے لیئے …. نایاب نے نرمی سے کہا وہ ہنوز اس کے سینے پر سر رکھے ہوئے تھی …

“شادی کی دعوت پر سب انسسٹ کررہے ہیں پھر زبیر نے بھی چلے جانا ہے لندن واپس , اس سے ملنا بھی ضروری ہے … دانش نے تفصیل بتائی اس کی بات کو اگنور کر گیا ….

“ہمممم سہی ہے … پھر بھی کچھ اندازہ ہے کب تک واپسی ہوگی …. نایاب نے پوچھا کچھ لمحوں کی خاموشی بعد ….

“کیوں خیریت , کہیں جیلسی تو نہیں ہونے لگی ابھی سے … دانش نے پوچھا آنکھون میں شرارت واضع تھی …

“ایسا کچھ نہیں ہے , سنی کی ویکسین کی ڈیٹ ہے ساتھ چلنا ہے آپ کو …. نایاب نے جتایا …

“کب ویکسین کی ڈیٹ ہے … دانش نے پوچھا …

“وینز ڈے کو …

“تب تک آجاؤں گا … ڈونٹ وری میری جان , بچوں کے ہر معاملے میں مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہے , یاد ہے مجھے تمہاری یہ ڈیمانڈ … دانش اب اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے چھوتا ہوا بولا تھا … ان دونوں کا یہی انداز تھا باتین کرنے کا …

“ہمممم تھینک یو دانش … مجھے سمجھنے کے لیئے … نایاب کے لہجے میں محبت ہی محبت تھی …

“میں تو ہمیشہ تمہاری سنتا بھی ہوں اور سمجھتا بھی ہوں , پر تم اپنے لیئے کم ڈیمانڈ کرتی ہو , تم بچون کو لے کر زیادہ پوزیسوو ہو … دانش نے پیار سے شکوہ کیا …

“یہ تو ہے , بچون کے کسی معاملے میں ذرہ سی کوتاہی برداش نہیں کروں گی … اس نے کہا اس کے لہجے میں دھونس کی آمیزش تھی …

“پکی پوزیسوو مدر ہو , کاش تھوڑی سی پوزیسوو بیوی بھی ہوتی تو کم ازکم میرا کچھ فائدہ ہی ہوجاتا …. وہ اس کا اشارہ اچھی طرح سمجھ رہی تھی … دانش کی پہلی شادی دل سے ایکسیپٹ کرکے ہی اس کی زندگی میں شامل ہوئی تھی نایاب , اس لیئے خود سے کیا عہد وہ آج تک نبھارہی تھی …

نایاب کو وہ وقت نہیں بھولی تھی جب وہ اس کی محبت سے دستبردار ہونے کو تیار تھا کیونکہ وہ اپنے ماں باپ کے دباؤ میں اکر ماہین کے لیئے ہاں کرچکا تھا اور اپنے نکاح کا بتاکر نایاب سے معذرت کرچکا تھا کہ محبت نہیں نباھ سکتا …. وہ دور بھی ایک اذیت بھرا دور تھا جو نایاب بھول نہیں سکتی کبھی … ماہین اور دانش کا نکاح ہوچکا تھا , جس کے ایک مہینے کے بعد , پھر اچانک نایاب کے ماں باپ کا ایکسیڈنٹ ہونا اور اس میں ان کا گزرجانا … نایاب کی زندگی کا سب سے مشکل وقت تھا جب وہ بلکل تنہا ہوگئی تھی کیونکہ اس کی صرف ایک ہی بڑی بہن تھی جو دبئی میں رہتی تھی شادی کے بعد … رشتیداروں میں ایسا کوئی نا تھا جو نایاب کو اپنی سرپرستی میں لے لیتا , چچا تھے نہیں ایک پھپھو تھی جس کے اپنے مسئلے , ایک مامون تھا تو وہ بھی نہ تین میں نہ تیرہ میں , مڈل کلاس فیملی تھی , اضافی وہ بھی لڑکی کی ذمیداری کون لے , کل کو شادی کے خرچے کون کرے اس مہنگائی کے دور میں … اس لیئے ایسے وقت میں دانش خود کو روک نہ پایا دوبارہ ملنے لگا نایاب سے … پھر نایاب کی بڑی بہن نے خود ہی سارے معاملات طے کرلیئے دانش سے اور دبئی جانے سے پہلے اپنے چند رشتیداروں کی موجودگی میں سادگی سے نکاح پڑھا کر بہن کو رخصت کیا , دانش نے کچھ بھی لینے سے انکار کردیا تھا … پھر بھی نایاب کی بڑی بہن نتاشہ نے پانچ لاکھ بطور گفٹ دیئے , ساتھ ہی ساتھ ایک چھوٹا سا فلیٹ تھا جو کل پراپرٹی تھی ان بہنوں کی , وہ کرائے پر دے دیا جس کا رینٹ آج بھی نایاب کو ملتا تھا … نتاشہ نے اپنا حصہ نہ لیا …

اسی وقت دانش کے موبائیل پر بپ کی آواز کے ساتھ کئی میسج ایک ساتھ آئے تو نایاب اپنے خیالوں سے واپس آئی … دانش فون اٹھا کر چیک کیا تو تیمور نے واٹس اپ پر اسے کئی پکس بھیجی ہوئی تھیں … شادی کی تصاویر تھیں لاسٹ میں وائیس نوٹ تھا …

نایاب کا سر اس کے سینے پر تھا وہ مکمل سیدھی ہوکر اس پر لیٹ گئی تھی کچھ دیر پہلے ہی … اس لیئے جلدی سے دانش نے اسکرین بند کرنے لگا … اسے تیمور کی ان حرکتوں پر غصہ آتا تھا پر بلا کا ڈھیٹ تھا پھر بھی دونوں بڑے بھائیوں سے شرارت کرنے سے باز نہ آتا تھا …

“دانش دکھائیں نہ پلیز مجھے دیکھنا ہے سچ میں یہ کام تیمور نے زبردست کیا ہے مجھے دیکھنی تھی آپ کی دلہن … نایاب نے اشتیاق سے کہا …

“پاغل ہو , تکلیف ہوگی تمہیں … دانش کے لہجے میں اس کے لیئے فکر تھی …

“مجھے دیکھنی ہے … وہ ضدی ہوئی …

“چھوڑو پلیز … وہ بولا …

“دانش مجھے دیکھنی ہے بسسسس … اب کے وہ ضدی انداز میں بولی …

پھر واقعی زبردستی موبائیل لے کر دیکھنے لگی … “ماشاء اللہ آپ بہت اچھے لگ رہے ہیں اور ماہین بھی بہت پیاری لگ رہی ہے آ پ کے ساتھ … دیکھیں تو سہی …

“چھوڑو , مجھے کوئی دلچسپی نہیں … وہ پکس دیکھتی رہے اور وہ نایاب کے وجود کا احساس محسوس کررہا تھا کبھی گردن پر اپنے لمس چھوڑ کر پر کبھی اس کی کمر پر گرفت مضبوط کرکے … بالوں پر اپنے ہونٹ رکھ گیا …

نایاب نے وائیس نوٹ پلے کیا …

“ہیلو السلام علیکم بھائی کیسی لگی اپ کو پکچرز میں نے سوچا اسلام اباد کی تنہائی میں اپ کو بھابھی کی یاد ا رہی ہوگی اب اپ تو کہیں گے نہیں , کسی سے , تو میں ہی اپ کا خیال کر کے پکچرز بھیج رہا ہوں , امید کرتا ہوں کہ اپ کو میری یہ کاروائی بہت پسند ائے گی اب جلدی سے مجھے بتائیں کہ ان میں سے کون سی پکچر انلارج کروانی ہے کیونکہ اس سے بہترین تحفہ میں اپ کو نہیں دے سکتا اب جلدی سے سلیکٹ کر دیں کوئی پکچر اپ کے روم کے لیے …. ماہین بھابھی بھی خوش ہوجائیں گی ان کو بھی بھیجی ہیں ساری پکچرز … پلیز بھائی جلدی سے سلیکٹ کر کے بتائیں اوکے ٹیک کیئر اللہ حافظ …

نایاب مسکرائے بنا رہ نہ سکی تیمور کے اس انداز پر …

“ویسے دانش پلیز اب سلیکٹ کریں پکچر , تیمور کا ائیڈیا بہت اچھا ہے … نایاب نے جوش سے کہا جس پر وہ اسے دیکھتا رہا پھر گھورنے لگا , نایاب بیت بنی تصویریں سلیکٹ کرتی رہی …

“چھوڑو یہ فضول کے چونچلے ہیں … وہ چڑکر بولا …

“دانش اتنے پیار سے بھائی کہہ رہا ہے چلیں نا سلیکٹ کرتے ہیں تصویریں … نایاب نے انسسٹ کیا …

“نایاب خدا کا واسطہ ہے بخش دو میری جان …. دانش نے چڑ کر کہا نایاب ہنوز بےنیار ہوکر اپنی کاروائی میں مشغول تھی …

“اچھا ٹھیک ہے اپ سے کچھ نہیں کہتی میں سلیکٹ کر کے بھیج رہی ہوں …

“جو دل میں ائے تمہارے وہ کرو دانش … چڑ کر بولا …

پھر وہ اس کے سینے پہ سر رکھے ہوئے ہی تصویریں سلیکٹ کرتی رہی ساتھ ہی ساتھ اسے بتا رہی تھی جس پر دانش اسے کوئی رسپانس نہیں کر رہا تھا … پھر بھی وہ بولی …

“چلیں دانش ایک وائس کر دیں تیمور کو کہ جو تصویر پہ رائٹ لگایا ہے وہ تصویر سینٹر میں انلارج کرکے لگائے اور پھر سائیڈ پہ یہ چھوٹے چھوٹے تصویریں لگا دیں باقی جو میں نے سلیکٹ کر کے بھیجی ہیں …. جانتے ہیں اج کل کا لیٹسٹ ٹرینڈ یہی چل رہا ہے … نایاب نے ایکسائیٹمینٹ میں کہا …

“میں کوئی وائس نہیں کر رہا تم خود ہی سمجھاؤ لکھو ٹائپ کر کے لکھو … دانش کے لہجے میں بیزاریت تھی … اب کے وہ اسے انسسٹ کرتی ہوئی بولی …

“پلیز دانش تکلیف ہوگی نا مجھے اتنا سارا ٹائپ کرنے میں اور سمجھانے میں شاید اسے صحیح سمجھ میں نہیں آئے اب میں تو وائس کرنے سے رہی بہتر ہے تم وائس کر دو نا پلیز …

“اوکے کردوں گا …. دانش نے کہا … پھر واقعی نایاب اپنی منواکر ہی مانی اور پھر جاکر موبائیل سائیڈ پر رکھ دی … اور کچھ دیر کے بعد بولی

“دانش , ماہین تو بہت کم عمر ہے نا … نایاب نے کچھ سوچ کر کہا …

“نایاب تم بہت نایاب ہو میرے لیئے تاعمر رہوگی , ایسے سوال کرکے کیوں کو تکلیف دیتی ہو خود کو بھی مجھے بھی … دانش اس کا چہرہ اپنی طرف موڑا اب بھی وہ اس پر ہی تھی اب انداز بدل گیا تھا ….

“دانش مجھے کوئی تکلیف نہیں , مجھے لگتا ہے ماہین کے ساتھ میں نے زیادتی کی ہے … نایاب نے اپنے دل کی کیفیت واضع کی …

“تم نے کچھ نہیں کیا … یہ سب ہمارے پیرینٹس کے غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے … اس کی ذمیدار کم از کم تم نہیں ہوسکتی … الٹا مجھے گلٹ رہتا ہے کہ تمہیں تکلیف دے رہا ہوں , کس تکلیف سے تم برداش کررہی ہوگی تم یہ سب … اس کے ہر انداز میں نایاب کے لیے محبت ہی محبت تھی … جس پر نایاب سرشار رہتی تھی …

“تھینکس دانش , مجھے سمجھنے کے لیئے … جانتے ہیں آپ سے جڑا ہر رشتہ میرے دل کے قریب تر ہے … اپ کو کیوں ایسا لگتا ہے کہ مجھے جلن ہوگی ماہین سے …

نایاب کے ایسا کہنے پر دانش کو شرارت سوجھی وہ بولا …

“اچھا تو پھر کیا خیال ہے میں ماہین کو بھی یہاں اسلام اباد لے کر ا جاتا ہوں پھر کیسا لگے گا تمہیں , اچھی بات ہے گھر نہیں اکاڑا بن جائے گا یہ …

“دانششش … نایاب نے کہا

“کیا دانش ایسی باتیں کرو گی تو ایسے ہی جواب پاؤ گی تم …

“مجھے ماہین سے کوئی پرابلم نہیں … اسے مجھ سے ہو ایسا ہو سکتا ہے … نایاب کے لہجے میں اداسی تھی …

“ہاں سب تمہاری طرح معصوم بھی نہیں ہوتے , ماہین کو ہلکہ مت لینا وہ انتہا کی ضدی اور خودسر ہے … جس دن اسے ہماری شادی کا پتہ چلا اس دن اصل ہنگامہ ہوگا پورا گھر سر پر اٹھا لے گی وہ … دانش نے یقین سے کہا …

“ایسا کیوں کہے رہے ہیں …. نایاب نے فکر سے کہا …

“میں جانتا ہوں پورا خاندان اسے سپورٹ کرے گا , ڈرو اس وقت سے … آخری لفظوں پر اس کا انداز شرارتی تھا …

“اپ کو اتنا یقین ہے کہ ایسا ہوگا … نایاب نے پوچھا …

“نایاب ایسا ہی ہوگا کیونکہ میرے ماں باپ کو میں بتا چکا ہوں سب تمہارے اور بچوں کے بارے میں اور جانتی ہو ان کو تمہاری تو پرواہ نہیں بلکہ انہیں میرے بچوں میں بھی کوئی دلچسپی نہیں انہیں اگر پرواہ ہے تو صرف ماہین کی اور اپنی بیٹی کی اس لیے اب مجھے ان سے کوئی بھی امید نہیں ہے کہ وہ کبھی ایکسیپٹ کریں گے اس شادی کو , اس لیے اگر ان کا سپورٹ ماہین کی طرف ہے تو یاد رکھنا دانش صرف تمہارا ہے اور تمہارا سپورٹ سسٹم میں ہوں , صرف تمہارا دانش …. وہ اس کے ہونٹوں پر اپنا لمس چھوڑتا ہوا بولا …. اس کا والہانہ پن نایاب کو سرشار اور مطئمن رکھتا تھا ….

“بس ایک وعدہ کریں اپ کبھی بھی کسی کے دباؤ میں ا کر مجھے چھوڑنے کا سوچیں گے بھی نہیں … نایاب نے اس کا ہاتھ تھام کر بولی …

“پاگل ہو تم اگر تمہیں چھوڑنا ہوتا تو کیا اتنا اگے اس رشتے میں تمہارے ساتھ بڑھتا یہ وہم اور وسوسے اپنے دل سے نکال دو جب تک میری زندگی ہے اخری سانس تک میں اس رشتے کو نبھاتا رہوں گا اور تمہیں کبھی کہیں پر بھی تنہا نہیں چھوڑوں گا ہر وقت ہر معاملے میں تمہارے ساتھ رہوں گا …

اتنا کہے کر دانش اسے اپنے آغوش میں محبت کی وادی میں اتر گیا … جہاں صرف وہ دونوں تھے اور ان کی محبت …

@@@@@@@@@@

اگلے دن رات کو وہ لاہور میں تھا … ڈائینگ پر بیٹھا سب کے ساتھ ڈنر کررہا تھا … سربراہی کرسی پر طاہر صاحب بیٹھے تھے …

“ڈیڈ کل کراچی جارہے ہیں میں اور ماہین … دانش کا لہجہ سرسری تھا …

“اچھا ٹھیک ہے … انہوں نے کہا …

“شانی تم اور نور بھی جاؤ … آخر تم دونوں کی بھی دعوت سب کرنا چاہتے ہیں … طاہر آفندی نے کہا …

“پاپا میرے آفیس والوں نے سنڈے کو دعوت رکھی ہے , میں نہیں جاسکتا کراچی فی الحال , ہاں پہلے اگر کوئی ایسا اظہار کرتے سب تو پھر بھی سوچتے , اب اچانک کہ ان کو خیال آیا ہے تو میں کیا کروں , میرے اپنے کچھ پلانسس ہیں … ذیشان نے سادہ الفاظ میں اپنی بات کہی …

نور کو افسوس ہوا , ان کی شادی اس طرح فضول ہوکر رہ جائے گی تو کبھی ایمرجنسی رخصتی نہ ہونے دیتی … کاش گیا وقت واپس آسکتا اس نے دکھ اور تاسف سے سوچا …. کسی سے شکوہ بھی نہیں کرسکتی ان سب باتوں کا کیونکہ سب اس کے بابا کی مرضی سے ہوا تھا ….

@@@@@@@@@@

دانش ماہین کو چینج کرنے کا کہے کر خود بالکونی میں اگیا … اس وقت اسے کچھ دیر نایاب سے بات کرنی تھی …

تقریباً بیس منٹ بعد وہ واپس آیا تو ماہین اسی حال میں بیٹھی جیسے وہ چھوڑ گیا تھا …

“کیا ہوا تم نے چینج کیوں نہیں کیا … وہ ماہین کی طرف دیکھتا ہوا بولا …

“وہ مجھے کچھ کہنا تھا آپ سے … اپنی ہچکچاٹ پر قابو پاتے ہوئے ماہین بولی تھی …

“ہمممم کہو … دانش کے چہرے پر فکرمندی کے آثار تھے …

“مجھ سے برداش نہیں ہوتی آپ کی قربت … ماہین نے اتنا ہی کہے کر لمحے بھر کو چپ ہوئی شاید حیا آڑے آئی اس سے پہلے وہ کچھ کہتی , دانش نے تیز آواز میں پوچھا ….

“کیا مطلب تمہاری اس بات کا …

“کوئی شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتا جس طرح کا آپ کرتے ہیں …میں لباس ہوں آپ کا , اپ کی قربت مجھے معتبر نہیں کرتی بلکہ میرے اندر درد بڑھا دیتی ہے , مجھے درد ہوتا ہے , ایسا کوئی شوہر اپنی بیوی سے سلوک نہیں کرتا…مجھے ان نشانوں سے وحشت ہوتی ہے جو آپ …. وہ جملا مکمل ہی نہیں کرپاہی تھی کیونکہ وہ قہر بھری نظروں سے اسے گھور رہا تھا , اس کی انکھوں سے نکلتے شعلے لگ رہا تھا اسے بھسم کر دیں گے اور اچانک اس کا بازو دبوچ کر وہ غُراتا ہوا بولا ….

“اور تم کتنے شوہروں کی بیوی رہ چکی ہو جو یہ بات کررہی ہو , اتنے یقین سے کہے رہی ہو … کس کی قربت نے تمہیں , معتبر کیا ہے جو میری قربت تم سے برداش نہیں ہورہی , اور کیسے یہ کہا تم نے کہ میرے انداز میں کچھ غلط ہے ….

دانش کے لفظ نہیں اگ کی برسات تھی جس نے اسے حیران کردیا …

“دانشششش …. وہ چیخ کر بولی … ماہین کا انداز شدت لیئے ہوئے تھا …. سمجھ ہی نہیں ایا کہ لمحوں میں یہ سب کیا ہو گیا وہ کیا کہہ رہی تھی اور وہ کیا سمجھ کر , کیا الزام لگا رہا تھا اور اس کا شوہر ایسا کرے گا یہ تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا وہ کوئی غیر تو نہیں تھی اس کی اپنی کزن تھی , سگا رشتہ تھا پھر بھی اتنا ذلیل کر گیا , کیسے … ماہین کو امید ہی نہیں تھی کہ دانش اتنی گھٹیا بات کہے گا اس سے …

“کیا دانش … میں تو سوال کروں گا ہی کیونکہ تم نے مجھے خود شک میں ڈالا ہے , میری بےعزتی کی ہے …. تمہارے لیئے تو شوہر کی محبت کا انداز وہی ہونا چاہیئے جو میں تمہارے ساتھ رویہ رکھوں کیونکہ میرے حساب سے میں ہی پہلا مرد ہوں تمہاری زندگی میں آنے والا … دانش کا لہجہ طنزیہ تھا جبکہ ماہین کی آنکھین بےبسی سے بھر آئیں تھیں پر وہ بےپرواہ بنا کھڑا تھا ….

“شٹ اپ شٹ اپ , چپ کرجائیں خدا کے لیئے … وہ زور دے کر بولی … کانوں پر ہاتھ رکھ گئی , اس کے الفاظ اسے ذبح کررہے تھے , تلوار سے تیز دھار تھی اس کے لفظوں کی , ماہین کے حواسون نے کام کرنا بند کردیا تھا … وہ جو بولنے پر اتی کسی کو بھی چپ کروادیتی تھی , آج ایسا لگ رہا تھا اس کے لفظ اپنی موت آپ مرنے لگے ہیں … اسے اپنا اعتماد ریزہ ریزہ ہوتا نظر آیا ….

“اتنا غصہ کیوں ہورہی ہو , سچ ہی کہے رہا ہوں … دانش پھر بھی باز نہ آیا کہنے سے ….

“میرا کردار اتنا بےاعتبار ہے جو اتنی گھٹیا بات کی ہے آپ نے … وہ ہمت جمع کرتی صرف اتنا ہی کہے سکی …

“تم نے مجھے مجبور کیا ہے یہ سب پوچھنے پر … دانش کا اب بھی وہی انداز تھا نڈر اور بےرحم سا ….

ماہین کو سمجھ ہی نہین آرہا تھا ,کیا سے کیا ہوگیا اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا اس کا شوہر یہ الزام لگائے گا , اتنی گھٹیا بات کہے گا بھی … وہ سسک اٹھی آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے … اسے تو لگا وہ نرمی سے اپنا نظریہ سمجھائے گی تو دانش کے سمجھ میں ا جائے گا پر وہ تو پتہ نہیں کہاں کی بات کہاں لے کر چلا گیا تھا اور اس مقام پر اسے کھڑا کر دیا تھا جہاں سے وہ کچھ کہنے کے قابل ہی نہیں رہی تھی صرف اپنا درد انسوؤں کی صورت میں کہہ پا رہی تھی , نڈھال سی ہوکر زمین پر بیٹھ چکی تھی …

“رونے کی بات نہیں ماہین , پر سچ میں مجھے افسوس ہے تمہاری کہی بات پر , اس کا مطلب صاف ہے تم شادی شدہ بہن بھابھیوں سہیلیوں سے ان کے روم کی باتیں سننا اور کرنا پسند کرتی ہو , تبھی اس طرح کے سوال کرنے کی ہمت کی تم نے اپنے شوہر سے … شاید کسی نے تم کو بتایا نہیں پر ہر شوہر کا اپنا انداز ہوتا ہے … دانش کا یہ وار ماہین کو مکمل توڑ گیا وہ تڑپ تڑپ کر روپڑی اور روتے ہوئے بولی …

“پلیز دانش , آپ کو خدا کا واسطہ ہے چپ کرجائیں … یوں میری تذلیل نہ کریں خدارا یوں نہ کریں پلیز …

زمین پر بیٹھی وہ رورہی تھی …. دانش اٹھا اسے زمین سے اٹھایا , وہ اس کا ہاتھ نہ جھٹک سکی بلکہ وہ بے حس بنی رہی , بلکل بے جان گڑیا کی طرح … اپنے قریب بیٹھیا دانش نے اسے اور اس کے آنسو پونچھنے لگا جانے کیا ہوا وہ اسے اپنے سینے سے لگا گیا وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی اس کے سینے سے ہی لگی رہی , دانش اسے خود میں بھینچ گیا … جس نے درد دیا اسی کے گلے لگ کر روتے ہوئے ماہین پشیمانی محسوس کررہی تھی پر اس کے ہاتھ جھٹک کر , اس سے دور ہوکر تنہا رونے پر , ایک اور گناھ کی مرکتب ہونا نہیں چاہتی تھی , ایک اور الزام خود کے دامن پر نہیں لینا چاہتی تھی ….

کچھ دیر روکر وہ اپنا من ہلکہ کرچکی تھی تو اس سے الگ ہونا چاہا , تو دانش اسے خود سے الگ کرتا ہوا بولا …

“تو جاؤ فریش ہوکر آؤ … تمہیں پتا ہے , چند دن ہی یہاں آتا ہوں , وہ وقت بھی بیوی کو نہ دوں تو پھر یہ تو زیادتی ہوگی تمہارے ساتھ …

وہ دیکھتی رہ گئی اس کے اس انداز پر ….

پھر یوں ہوا کہ__مجھ سے بولا نہیں گیا

اُس شخص کے لہجے نے میرے ہونٹ سی دیئے

سارے لفظ سارے احساس گم ہوگئے تھے , چند پل پہلے ایک قیامت گزری اس پر اور اب دوسری قیامت بھی اس پر گزارنا چاہتا ہے وہ شخص جو اس کا کہنے کو شوہر , ہمسفر تھا , اور اب اتنا سب ہونے کے بعد , اسے روک کر , منع کرکے , کوئی الزام اپنے اوپر لینا گوارہ نہ تھا … اس لیئے خاموشی سے اٹھی اور ایک نائیٹی اٹھا کر واشروم کی طرف بڑھ گئی …

دانش مسکراتا ہوا موبائیل کی طرف متوجہ ہوگیا …

“تمہیں بہت غرور ہے خود پر ہر کسی کو لاجواب کرسکتی ہو , بہت کانفیڈٹ سے ہر بات کرسکتی ہو کسی سے بھی … پر ماہین آفندی تمہارا پالا کبھی دانش آفندی جیسے مرد سے پڑا ہی نہیں , تمہیں تمہاری حدود میں رہنا میں سکھاؤں گا اور تمہاری حدود کا تعین بھی میں کروں گا … تمہیں ایسا بنادوں گا کہ کبھی میرے ساتھ اسلام آباد جانے کا سوچ کر بھی تمہاری روح کانپے گی اور کبھی وہاں جانے کا تصور بھی نہیں کروگی تم … تم خود یہاں رہو گی اپنی خوشی سے اور دعائیں مانگو گی میرے یہاں نا آنے کی … تم چاہ کر بھی کسی سے کچھ نہیں کہے پاؤ گی , درد بھی ہوگا , سچ میں ہوگا , لفظ بھی ہوں گے , پر ان لفظوں کو زبان سے ادا کرنے کی ہمت کبھی نہیں کر پاؤ گی … تمہارے لفظون کو کبھی زبان نہیں ملے گی … یہ میرا تم سے وعدہ ہے … ایسا بنادوں گا تمہیں ….

جاری ہے ….