Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

ناول میرے درد کو جو زبان ملے

از قلم صبا مغل

قسط نمبر 34

“آپی دیکھ لیں میرا سارا کھیل مجھ پر الٹا پڑ گیا ہے , ماہین یہاں اجائے گی … میری حالت کا اندازہ ہے آپ کو … نایاب نے اپنی بہن سے کہا جو اسے فون پر مسلسل پندرہ منٹ سے رشتوں کی اونچ نیچ سمجھا رہی تھی … پر نایاب تھی جو اپنا رونا لے کر ہی بیٹھی تھی اور بین کیئے جارہی تھی …

“نایاب میری بہن , یہ سب بھی ہوسکتا ہے میں نے تمہیں سمجھایا تھا … دانش تمہارا ہے , فی الحال اپنی بہن کے لیئے یہ سب کررہا ہے … سمجھنے کی کوشش کرو یار … اس کی بہن نے غصے کو قابو کرتے ہوئے نرم لہجہ رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے سمجھایا تھا …

“مجھے اپ کی بات ہی نہیں ماننی چاہیے تھی اور نہ ہی سننی چاہیے تھی اگر میں شروع سے ہی اپنے رویئے میں نفرت رکھ دی ہوتی ماہین کے لیے تو کبھی دانش کی ہمت ہی نہیں ہوتی کہ اسے یوں میرے سر پہ بٹھانے کی کوشش کرتا … میرا کھیل مجھ پر ہی الٹ گیا ہے اور اپ بھی مجھے باتین سنارہی ہو کچھ اچھا نہیں ہوگا یہ سب اگر ہوا تو … نایاب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہی تھی …

“بسس تم کوئی بےوقوفی نا کرنا خدا کا واسطہ ہے … بہت جذباتی ہو تم نایاب , حالات بہتر ہوجائیں گے … بہن نے اسے تسلی دینا چاہی …

“آپی میرا دل ڈوب رہا ہے آپ کو سمجھ ارہا ہے … میرے احساسات کا قتل ہوا تو میں بھی کسی کو سکون سے نہیں رہنے دوں گی … نایاب نے غصے سے کہا …

“یہ سب کرکے تم اپنا گھر تباھ کروگی ,کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں … ماہین کو آنے دو اس کا کچھ نا کچھ بندوبست کرہی لیں گے … فکر مت کرو … اس نے اسے سمجھایا … پھر کافی دیر اسے سمجھانے بعد جاکر نایاب کچھ ٹھنڈی ہوئی تب جاکر اس کی بہن نے کہا …

“دیکھو نایاب جو تمہارا شوہر کہتا ہے اوپر کے پورشن کے لیئے لسٹ چیزین سیٹ کردو وہ تم کروالو ملازمہ سے , تمہیں کیا کرنا ہے صرف نظر ہی رکھنی ہے اور کیا … اس طرح کٹ آف ہوکر تم دانش کو مشکوک کرو گی کیونکہ وہ پھر یہی سوچے گا کہ تمہارے قول اور فعل میں فرق ہے … پلیز یار ایسے مت کرو کیوں ایسی بے وقوفی کر کے اپنا بنا بنایا کام خراب کر رہی ہو … اس کی بہن کو جب نایاب پر پیار اتا تو یار کہے دیتی کیونکہ وہ دونوں بہنوں کے ساتھ ساتھ سہلیان بھی تھیں …

“جی آپی … نایاب نے کہا …. یوں اسے ٹریک پہ اتا دیکھ کر اس کی بہن اسے اور بھی اچھے طریقے سے سمجھانا شروع ہو گئی ….

کوئی نہیں سوچتا یہ جو رویوں کی منافقت ہے اس سے کس کا کتنا نقصان ہوتا ہے , پھر انسان خود بھی اٹھاتا ہے اس کے نقصانات اور اس کے اپنے بھی اٹھاتے ہیں , منافقت کے نقصانات …. جن رشتوں کو بچانے کے لیے وہ منافقت کرتا ہے وہی رشتے کس طرح اس منافق کی منافقت کی وجہ سے کھوکھلے ہوتے جاتے ہیں پتہ ہی نہیں چلتا اس کا اندازہ شاید نایاب کو ابھی نہ تھا پر وقت انے پر ضرور ہونا تھا کیونکہ منافقت سے ہمارے رب نے اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع کیا ہے …

@@@@@@@@@

“ماہین پاغل ہو تم جو اس شخص کے ساتھ اسلام آباد رہوگی , وہاں وہ بھی ہوگی , کیسے برداش کروگی تم , خود پر تم ذرہ سی بھی زیادتی برداش نہیں ہوتی تم سے …. ریحان نے شدت سے کہا … جیسے ہی اس سے پتہ چلا کہ ماہین سمجھوتا کر کے جا رہی ہے یہ چیز اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی …. جس قدر ریحان مضطرب تھا اسی قدر ماہین پرسکون تھی … ایسا لگتا تھا جیسے شاید وہ کسی بڑے نتیجے پر پہنچ چکی تھی….

“نہیں بھائی , بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے میں نے … کچھ نعمت خدا ہمارے اوپر کرتا ہے پر انسان بڑا بے وقوف اور بےصبرا رہا ہے کہ وہ نعمتوں کو سمجھ ہی نہیں پاتا اب میں اس شخص کو یہ دکھانا چاہتی ہوں کہ جس چیز کو وہ اتنا ہلکا لے کر اور اتنا اسان سمجھ رہا ہے اس کے کتنے نقصانات ہوتے ہیں اور وہ خود دیکھے گا اور ہوں گے نقصانات جو وہ خود تو اٹھائے گا ہی اٹھائے گا پر اس کے ساتھ اس کے اپنے بھی اٹھائیں گے اور یہی لمحہ اس کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوگا … دانش خود کو بہت عقلمند اور سمجھدار سمجھتے ہیں اور بہت اچھے پلانر بھی اور وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ اپنے ساتھ کیا کرنے جا رہے ہیں پر بہرحال میں ان کو زندگی کا یہ رنگ بھی دکھاؤں گی …. جو پرسکون ہو کر دور پرے اپنی بیوی بچوں کے ساتھ رہ رہا ہے پھر بھی وہ ان کا سکون بھی تباہ کر کے میرا سکون بھی تباہ کرنا چاہتا ہے تو اب وہ خود اپنے اپ کو بے سکون دیکھے گا … یہ بھی اپ دیکھیئے گا … اور جہان تک میری بات ہے میں اسے سکون دینے نہیں اس بار اس کا سکون تباھ کرنے جا رہی ہوں , اور اپنے سکون کا سامان کرنے جا رہی ہوں … وہ سمجھتا ہے ہر حالات کو وہ اپنے رخ پر موڑ لے گا تو ایسا نہیں اب اسے حالات کا اصل رخ میں دکھاؤں گی …. ماہین نے یقین کے ساتھ کہا …

“سچ میں ماہین مجھے بالکل نہیں سمجھ میں ایا تم کیا کہہ رہی ہو … ریحان تو بس اس کے اٹل یقین کو دیکھتا رہ گیا پر وہ بولا تو بس اتناہی تھا کیونکہ اسے یہ مشکل لگ رہا تھا کہ ماہین یہ سب کرلے گی کیونکہ دانش کے شارپ مائینڈنیس سے وہ بخوبی واقف تھا …

“سچ میں بھائی ٹرسٹ می کچھ بھی نہیں ہو گا میں صرف دانش کو زندگی کا اصلی رخ دکھانے جا رہی ہوں پلیز اپ لوگ یہ مت سوچیں کہ میں مجبور ہو کر جا رہی ہوں میں اپنے اپ کو ہر حالات کے لیے تیار کرکے سوچ سمجھ کر جا رہی ہوں اور بھائی اپ بے فکر ہو جائیں … اب وعدہ کریں اپ اپنا گھر کبھی نہیں خراب کریں گے میرا سوچ کر … ماہین نے اپنے پیارے بھائی کو تسلی دی اور آخر میں اس سے ایک وعدہ لیا …

“ماہین تم جیسی بہن تو نصیبوں سے ملتی ہے تمہاری جگہ کوئی اور ہوتی تو اب تک پتہ نہیں کس طرح اپنے بھائی کو بھڑکا کر اس کا گھر تباھ کر چکی ہوتی ہے اور تم وہ بہن ہو جس نے مجھے ہر غلط چیز سے روکا اور میں سچ کہہ رہا ہوں میں حقیقت میں دوسری شادی کے لیے تیار تھا کہ ان کو احساس ہوجائے کہ دوسرے کی بیٹی کے لیئے جو یہ لوگ کہتے ہیں ایڈجیسٹ کرلے , ان کو بھی پتا چلے کہ اپنی بیٹی پر جب گزرتی ہے تو کیسا لگتا ہے اور یہ تم تھی جس نے مجھے روک لیا … اور پتہ نہیں کیوں , تمہارا کہا ٹال بھی نہیں سکتا اب میں … ریحان سادگی سے اصل حقیقت بولا تھا …

دروازے کے پاس سے گزرتی ہوئے ریما نے یہ جملے سنے تھے اور وہ وہین ٹھر گئی بےساختہ ان دونوں کو سننے کے لیئے , وہ دونوں بھائی بہن بالکل ہی بے خبر تھے کہ ریما کھڑی ہے کیونکہ اس وقت وہ اپنے ہی دل کی کہنے میں مصروف تھے … ریما کو یقین تھا کہ ماہین ضرور کچھ ایسا کہے گی جو اس کے خلاف ہوگا کیونکہ ریما اتنا برا جو اس کے ساتھ کر چکی تھی …

“بھائی یقین مانیں دوسری شادی کرنا بہت اسان ہے اور بہت سے مرد کر بھی لیتے ہیں پھر اس کی بھی تو کنڈیشنز ہوتی ہیں نا اگر ان میں سے کوئی کنڈیشن اپ کی زندگی کی ہو تو بالکل کریں ورنہ نہیں … اللہ نے اپ کو صحت مند اولاد دی ہے, بیٹے دیئے ہیں … بیوی اپ کی ذرا سی تیز ہے یہ تو کوئی کنڈیشن نہیں ہوئی نا دوسری شادی کی … وہ اپ کے لیے سچی ہے اپ دیکھیں کتنے مشکل حالات ہو گئے وہ گھر چھوڑنے کو تیار نہیں ہے یہ ایک چیز ہی بہت ہے ریما بھابھی اپ سے بہت محبت کرتی ہیں اس کا مطلب وہ اپ کے بغیر نہیں رہ سکتیں , ہاں ذرا سی تھوڑی سی بے وقوف ہیں وہ الگ بات ہے وہ اپ سمجھا لیجئے گا اور اپ سے بہت محبت کرتی ہے یقین کریں ہمیں ڈر لگتا ہے کہ ان کی بد دعائیں اپ کو لگ نہ جائیں اگر اپ نے دوسری شادی کر لی کیونکہ یہ ان کے ساتھ زیادتی ہوگی …

ریما سانس روکے اسے سن رہی تھی یہ لڑکی اس کے شوہر کو یقین دلا رہی ہے اس کی محبت کا … ماہین کا تھوڑا بے وقوف کہنا بھی اسے بالکل برا نہ لگا کیونکہ حقیقت میں اس نے واقعی بہت بڑی بے وقوفی کی تھی دانش کو اس طرح بلا کر ….

“,اور آپ کو پتا ہے , آپ کی دوسری شادی سے بچوں کے ذہن پر جو اثر پڑتا ہے آپ سوچ نہیں سکتے , ماں باپ کی لڑائی میں بچون کا نقصان ہوتا ہے … بچے ڈپریس رہنے لگتے ہیں اپنی ماں کی پریشانی اور تذلیل سے , پلیز میری وجہ سے اپنے بچون کے ساتھ یہ ظلم نہ کریں , اگر میری وجہ سے آپ نے یہ کیا تو نا چاہتے ہوئے بھی , اس گناھ میں میں بھی شریک ہوجاؤں گی , جو میں قطعی نہیں چاہتی , مجھے آپ سب کی دعاؤن کی ضرورت ہے …

ریما کی انکھ سے بے ساختہ آنسو بہے نکلے اس کی باتیں سن کر واقعی وہ سچ کہہ رہی تھی بچے کتنی تکلیف محسوس کرتے ہیں ماں باپ کی لڑائی سے اج اسے احساس ہو رہا تھا ماہین کتنی اچھی ہے اور وہ کتنی بری ہے … ماہین اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی اس کے لیے برا نہیں سوچتی اور وہ بغیر کسی وجہ کے اسے اپنی دشمن سمجھ بیٹھی … ریما دل ہی دل میں ماہین کے لیئے دعائیں کرنے لگی تھی …

“ماہین ہمارے دعائیں تمہارے ساتھ ہیں , باقی جو تم مجھ سے چاہتی ہو وہ میں کرنے کو تیار ہوں … ماہین بسس ایک وعدہ کر لو ذرا سی بھی دانش سے غلطی ہوئی تمہارے یا بچوں کے معاملے میں تم کوئی کمپرومائز نہیں کرو گی …. یاد رکھو تمہارے ماں باپ بھائی سب زندہ ہیں اور وہ سب تمہارے اپنے ہیں اور یاد رکھنا دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے تمہارا یہ بھائی ہر حال میں تمہارے ساتھ ہے وعدہ کرو تم مجھے فون کرو گی , میں ا جاؤں گا تمہارے پاس …. ریحان اسے اپنے ساتھ کا یقین دلاکر اسے اس کے ارادوں میں مضبوط کرنے لگا تھا …

“,بھائی اپ بھی وعدہ کریں جب بھی مجھے لینے ائیں گے , اگر میں کسی بھی تکلیف میں ہوں تو اپ ریما بھابھی کے شوہر بن کر مت ائیے گا اپ صرف اور صرف میرے بھائی بن کر ائیے گا اور مجھے کسی کا ایسا ساتھ کبھی بھی نہیں چاہیے جو کسی کو تکلیف اور اذیت دے کر میرے حصے میں پیار اور محبت دے مجھے وہ ساتھ چاہیے جو خالص میرے لیے ہو جس میں کسی کے لیے کوئی تکلیف نہ ہو … بس دکھ مجھے اس بات کا ہمیشہ رہتا ہے جہاں بھی مردوں کی لڑائیاں ہوں کچھ بھی ہو ہر جگہ پستی تو صرف عورت ہی ہے کہیں پر مجھ جیسی پستی ہے اج اپ کی بے اعنتائی بھابھی ریما کو برداشت کرنی پڑ رہی ہے جبکہ ان کا تو کوئی گناہ نہیں ہے ساری غلطی تو دانش کی ہے پر دیکھے جتنے بھی ستم کا نشانہ بنتی ہیں وہی بنتی ہیں ہاں انہوں نے ذرا سا دانش کے ساتھ دیا بے وہ بہن بن کر ہوگئی تھیں خود غرض …

ماہین کی باتون پر ریحان تو شرمندہ ہوا سو ہوا , پر باہر کھڑی ریما تڑپ ہی اٹھی ماہین کی معصوم باتوں پر … ریما کو اچھی طرح احساس ہوا کہ کتنی کھری اور سچی ہے ماہین , سب اس سے امپریس ہوتے ہیں پورا خاندان اور دنیا کے لوگ اس کی تعریفیں کرتے ہیں تو بالکل وہ ڈیزرو کرتی ہے واقعی وہ بہت اچھے لڑکی ہے اور بہت اچھے دل کی نالک بھی … ریما کو اپنی بے وجہ نفرت اور حسد کی وجہ سمجھ ہی نہیں ائی کہ کس طرح اس معصوم کے ساتھ اتنی دشمنی وہ پالتی رہی اپنے دل میں , جبکہ ماہین کے دل میں تو اس کے لیے ذرا سی بھی خلش نہیں ہے … ندامت کے آنسو بہے نکلے ریما کے ….

“ماہین تم کتنے آرام سے اس کی ساری غلطیون کو جسٹیفائے کرکے اسے بری الزام کردیا … کیسے کرلیتی ہو یہ سب …. ریحان نے حیرت سے کہا …

“آپ لوگون کے سپورٹ نے مجھے اتنا مضبوط بنایا ہے … ماہین نے سکون سے کہا …

“اللہ کرے تم خوش رہو … یہ فیصلہ تمہارے حق میں بہتر ثابت ہو … ریحان نے کہا …

“آمین … ماہین نے کہا اور ساتھ ساتھ باہر کھڑی ریما نے بھی کہے کر واپس پلٹ گئی …

@@@@@@@@@@

“بیٹا بہت وقت سے ایک بات ہے تم سے کہنا چاہتا تھا کہ کاش میں اس وقت تمہاری ماں یا تمہاری بات یا تمہاری کچھ بھی سوچ لیتا تو اج حالات یہ نہ ہوتے بیٹا ہو سکے تو معاف کر دینا ایک باپ کی اچھی ذمہ داری میں شاید نبھا نہیں پایا کہ مجھے دانش کے ساتھ تمہارا رشتہ کرتے ہوئے تمہاری رائے لینی چاہیے تھی تمہارا نظریہ سننا چاہیے تھا تم بہت سمجھدار ہو تم اپنی بات رکھ سکتی تھی بہرحال اب وہ وقت میں واپس نہیں لا سکتا اسی لیے اس وقت جتنا ہو سکا میں نے تمہارا ساتھ دیا اب تم اپنی مرضی سے اپنا گھر بسانے جا رہی ہو میری اس میں کوئی مرضی نہیں ہے کیونکہ میرے لیے تو یہ برداشت کرنا ہی مشکل ہے کہ تمہیں وہاں کیا کچھ برداشت کرنا پڑے گا … نادر آفندی نے اپنے سے ہوئی غلطیون کا کھل کے اعتراف کیا تھا کیونکہ شاید اعتراف کرنے سے ہی دل ہلکا ہوتا ہے …

“بابا چھوڑیں یہ سب سوچنا جو ہونا تھا سو ہوگیا …. بس اپ سارے وسوسے اپنے دل سے نکال لیں اپ کی ماہین بالکل کمزور نہیں ہے ایک دفعہ بیوقوفی کر چکی ہوں دوبارہ بالکل نہیں کروں گی میرا ویژن سب کچھ کلیئر ہے اور میں تھوڑی کوئی اتنا دور جا رہی ہوں کہ اپ سے میرا رابطہ نہیں ہوگا روز بات کروں گی ہر دن بات کروں گی اپ میری طرف سے بے فکر ہوجائیں گے دیکھنا … ماہین مسکرا مسکرا کر بولتی کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہی تھی … اس کی مسکراہٹ کو دیکھ کر نادر افندی بھی ذرا سا مسکرائے تھے …

“ایک اور بات بیٹا اگر تم اپنی مرضی سے سمجھوتہ کر رہی ہو تو یہ بالکل مت سوچنا کہ ہم تم سے الگ ہیں ہم پھر بھی تمہارے ساتھ رہیں گے حالات بدتر ہوئے تم ہمیں کہو گی ہم تمہیں لینے ا جائیں گے , یہ مت سمجھنا تم اکیلی ہو ہم تمہارے ساتھ نہیں ہیں … ہم ہر حال میں تمہارے ساتھ ہیں ہر وقت ہر موقعے پر سمجھی …. نادر آفندی نے کہا جس پر وہ مطٰمن ہوکر دل سے مسکرائی کیونکہ اگر وہ اس کی فیصلوں سے اعتراض کرتے تو شاید ماہین کہیں نہ کہیں اپنے دل میں خلش لے کر اسلام اباد جاتی اور اللہ کا شکر تھا کہ یہ سب اس کے ساتھ نہیں ہوا اسے اپنے باپ اور بھائی سے پورا سپورٹ ملا کہ اگر اپنے سمجھوتے میں اسے ذرا سی بھی دقت ہوئی دانش اور نایاب کی طرف سے تو بھی وہ اس کے ساتھ ہیں یہی ایک بیٹی کے لیے بہت تھا کہ وہ اپنے فیصلوں کو ازما کر اگر کوئی نقصان اٹھاتی ہے تو پھر بھی اس کے ماں باپ اور بھائی اس کا ساتھ دیں یہی ایک بیٹی چاہتی ہے اور اسی میں اس کا مان ہے …

“تھینک یو بابا … مجھے یقین تھا آپ سب میرے ساتھ ہو … وہ مسکرا کر ان کے گلے لگی تھی …

@@@@@@@@@

“یا اللہ … یہ سب میں کیسے کرتی رہی اس لڑکی کے لیئے جو میرا اور میرے بچون کو کتنا سوچتی رہی ہے اور میں کتنی کم ظرف نکلی جو اس کا برا چاہتی رہی … یا اللہ مجھے معاف کردے , مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی …. کس منہ سے جاکر معافی مانگوں ماہین سے , میں تو اس کے سامنے نظر اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہی …. یا اللہ اس کے دل میں رحم ڈال دے میرے لیئے جو مجھے معاف کرسکے ….

وہ تڑپ تڑپ کر رورہی تھی اللہ کے روبرو جائے نماز پر بیٹھے ہوئے …. دل کو ٹٹولا تو احساس ہوا یہ نفرت تب پہلی بار شروع ہوئی جب نور اور شانی کے درمیان ماہین اگئی تھی … پر حقیقت تو یہ تھی نور زبردستی گھس آئی تھی ان کے درمیان ورنہ شانی کے بچپن کے ہر کھیل کی پارٹنر ماہین تھی , شانی اور ماہین تو بچپن کے ساتھی تھے ….

آج احساس ہوا تھا ادے , کتنا غلط کیا دونوں ماں بیٹی نے شانی اور ماہین کے ساتھ ….

“یا اللہ یہ مجھ سے کیا ہوگیا … یا اللہ ماہین کی یہ اولاد نارمل ہو , دانش بھائی بہت پیار , محبت اور عزت دیں ماہین کو … یا اللہ ماہین کی سب مشکلین اور تکلیفین دور ہوں , اس کے لیئے آسانیان ہوں …

وہ دعا کرکے اٹھ کھڑی ہوئی جائے نماز سے … اج اس نے صرف ماہین کے لیے یہ اللہ سے دعائیں مانگی تھی سچے دل سے اور اسے یقین تھا کہ اللہ ضرور سنے گا اس کی دعائیں …

ریحان جو کمرے میں آیا تھا اسے یوں جائے نماز پر روتا دیکھ کر اپنے اندر تکلیف محسوس کررہا تھا … اس کے کانوں میں ماہین کے کہے لفظ گونجے تھے …

“ریما بھابھی بس تھوڑی سی بےوقوف ہیں ورنہ آپ سے پیار بہت کرتی ہیں …

دل کو تھوڑی تکلیف ہوئی اس کے یوں جائے نماز پر بیٹھے رونے سے …

“پلیز مجھے معاف کردین ریحان آج مجھے احساس ہوگیا ہے میں غلط تھی میں نے غلط سمجھا ماہین کو , ماہین بہت اچھی ہے , آج میں نے اللہ سے صرف اس کی خوشیان مانگیں اور آئندہ سے ہمیشہ اس کے لیئے دعائیں مانگتی رہوں گی … ماہین سے اپنے گناہون کی معافی ضرور مانگون گی , اللہ نے چاہا تو وہ میری ندامت سے اس کا دل صاف کردے گا جو مجھے معاف کرسکے …. ریما نے جھکے سر کے ساتھ یہ سب کہا تھا ….

“ہممممممم …. اور واشروم میں چلا گیا ریحان …

“شاید کچھ وقت لگے مجھے اپنا دل تم سے صاف کرنے میں … ریحان نے خود سے کہا تھا اس لمحے پر دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ ریما کا دل صاف ہوا ماہین کی طرف سے ….

ریما بس واشروم کے بند دروازے کو دیکھتی رہی …

@@@@@@@@

اگلی صبح وہ تیار بیٹھی تھی ان کی شام کو فلائیٹ تھی کراچی سے اسلام آباد کی ….

ریحان اسے دعائین دیتا گھر سے نکل گیا اس کے اندر اتنی برداش نہ تھی جو دانش کو دیکھ پاتا کیونکہ دل تو چاہ رہا تھا کہ اس کا گریبان پکڑ کر پوچھے “کیسے رات کی تنہائی میں اکر یہ سب کیا اس نے , اگر مرد تھا تو دن میں سب کے سامنے اکر بیوی پر حق جتاتا ….

پھر اتنا مارے اسے کہ یاد رہے کہ غیرت ہوتی کیا چیز ہے ….

اتنا تماشہ وہ کرنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ اب اس کی بہن سمجھوتہ کرکے جارہی تھی پر اپنے دل کا کیا کرتا جو کسی طور راضی نہ تھا دانش کے ساتھ اپنی بہن چھوڑنے کو … دل پر بڑا پتھر رکھ کر وہ صبر سے برداش کرپایا اور کڑے دل کے ساتھ ابھی مل کر نکلا تھا گھر سے …

کچھ دیر میں دانش اگیا اور سب سے ملا , آج ریما سرد تاثرات سے ملی جس کا کچھ نوٹس نہ لیا دانش نے کیونکہ اس وقت تک وہ یہی سوچ کر مطئمن تھا کہ اس کی بیوی اور بیٹی اس کے ساتھ رہے گی ….

سب خاموش تھے دانش خود اگے بڑھ کر سب سے ملا تھا وہ بھی سب ضبط سے ملے تھے اس سے …

“اپنا خیال رکھنا ماہین وہاں پہنچ کر لازمی فون کرنا … سعدیہ بیگم نے پیار سے بیٹی اور نواسی کا ماتھا چوما …

“جی امی … ماہین ضبط سے بولی وہ نمی بھری آنکھون کے ساتھ یہاں سے رخصت نہیں ہونا چاہتی تھی …

ریما اس کے گلے لگی جاتے ہوئے تو ماہین نے ان کے ہاتھ تھام کر کہا “ریما بھابھی اپنا , بھائی اور بچون کا بہت خیال رکھیئے گی …

“بلکل … تم اپنا اور چاہت کا بہت خیال رکھنا ماہین … ریما نے دل سے کہا تھا چاہت کو پیار کرتے ہوئے …

ریما کل رات اس سے روکر اپنے غلطیون کے اعتراف کے ساتھ معافی مانگ چکی تھی جس پر ماہین نے دل سے معاف کردیا تھا یوں پہلی دفعہ ان کا تعلق نند بھابھی سے ہٹ کر ہوا تھا … ماہین یوں بھی دل میں زہر اور زبان پر نرمی رکھنے کی قائل نہ تھی اس لیئے وہ کھلے دل سے معاف کرکے خود بھی پرسکون ہوئی اور ریما کو پرسکون رہنے کو کہا تھا …

علی اور نادر آفندی اس سے ملے اور باہر تک چھوڑنے آئے اور بولے”ایئرپوٹ تک چلیں ہم …

اس سے پہلے دانش کہتا “ضرور … ماہین پہلے بول گئی “اس کی ضرورت نہیں بابا …

یوں وہ ان کی دعاؤں میں گھر سے رخصت ہوگئی , دانش کی ہمراہی میں ….

@@@@@@@@@

رات کو دس بجے تک وہ لوگ گھر پہنچے , ڈرائیور اور گاڑی ان کو لینے آئے تھے …

“ماہین اوپر کا پورشن تمہارا ہے اور نیچے نایاب کا … اب بتاؤ اس راستے سے گھر اندر چلو گی یا اس رستے سے … ایک باہر کی طرف سے اوپر کے پورشن کا راستہ تھا اور دوسرا لاؤنج سے بھی تھا … دانش نے اس سے پوچھا تھا …

“یہ باہر والا ٹھیک رہے گا … ماہین نے کہا اور سیڑھیون کی طرف بڑھ گئی … دانش اس کے ساتھ ہی اوپر آیا …

“,ملازمہ کہاں ہے … مجھے پانی پلائے بہت پیاس لگی ہے … ماہین نے شان بےنیازی سے کہا تھا …

“رکو , تم بیٹھو میں ابھی لے کر اتا ہوں … دانش نے کہا جلدی سے … اسے اندازہ تھا اسے بھوک اور پیاس لگی کیونکہ فلائٹ میں بھی اس نے کچھ بھی کھایا نہ تھا بس انکھیں منہ دے سیٹ کے بیک سے ٹیک لگائے بیٹھی رہی …

“ہمممم ذرہ جلدی کریں حلق سوکھ گیا ہے … ماہین کے انداز ہی الگ تھے جسے دانش محسوس کرگیا پر فی الحال خاموش تھا …

وہ جلدی سے اس کے لیئے فریج سے بوتل اور گلاس لایا …

“پلیز گلاس میں ڈال کے دیں اور اس نے چاہت کو گود میں لیا ہوا تھا … دانش ضبط کرتا ہوا اسے پانی کا گلاس تھما گیا … جسے وہ سکون سے پینے لگی اس کے چہرے کی تلملاہٹ دیکھنے کے لائق تھی کیونلہ دانش کو برا لگا تھا ماہیم کا یہ انداز …

“پلیز کھانا کے کچھ کریں بھوک لگی ہے مجھے … ماہین نے پانی پینے لے لچھ دیر بعد کہا تھا …

“نایاب نے بناکر رکھ دیا ہے , ٹھیک ہے تم کھالو … کل ملازمہ اجائے گی فل ٹائیم یہیں ہوگی … دانش نے اسے بتایا …

“یہ ٹھیک ہے فی الحال میرا چیز سینڈوچ کا موڈ ہے پلیز بنوادیں مجھے … ماہین نے بےتاثر انداز میں ایک اور فرمائش کی تھی …

“میرا خیال نے اتنا کچھ بنایا ہوگا تم دیکھو تو سہی , اس میں سے کچھ کھا لو … دانش نے کہا نرمی سے جبکہ وہ دانت پیستا ضبط سے بولا اس مہارانی سے جو مہارانی کی طرح حکم چلا رہی تھی … اتنی دیر میں اسے اندازہ ہو گیا تھا یہ ماہین اس ماہین سے الگ ہے جس کے ساتھ وہ اتنا وقت رہا تھا ….

“آپ جاکر دیکھ لیں کچن میں کیا بنا ہے اگر چیز سینڈوچ نہیں ہے تو بنادیں آپ … مجھے کمرے کا بتادیں میں ذرہ کمر سیدھی کرلوں تب تک … ماہین نے دوٹوک اور بےلچک لہجے میں کہا تو دانش اس کی تھکن پھر اس کی پریگنینسی کا سوچ کر خاموش ہوگیا …

“ہمممم … آؤ تم کو لے کر چلتا ہوں … اتنا کہے کر وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا خود کے قریب تر کر گیا … ماہین ضنط سے ہونٹ بھینچ گئی … وہ اسے روم میں لے آیا جو بہت خوبصورتی سے سجا تھا جہان دانش اس کی اور چاہت کی تصویر لگی فینسی لائیٹس وغیرہ سے کمرہ سجا تھا … ویلکم ہوم لکھا تھا سامنے ہی لائیٹنگ سے لکھا تھا … کچھ پھول کی پتیان بکھریں تھیں ڈریسنگ اور بیڈ کے سائیڈ پر … ایل بکے بھی پڑا تھا شاید دانش اسے دے … اس سے پہلے واقعی دانش ایسا کچھ کرتا ماہین بولی …

“پلیز یہ پھول اور کچرا ہٹادیں … دیکھ کر ہی الجھن ہورہی ہے … ماہین کے لہجے میں بیزاریت تھی … دانش نے اس کی کمر سے ہاتھ ہٹادیا اس کی بیزاریت دیکھتے ہوئے چاہت کو اس کے پاس لٹاکر ماہین کی پینٹھ کی طرف تکیئے رکھے تاکہ وہ کمر سیدھی کرسکے …

“اوکے تم آرام کرو … دانش نے کہا … تو وہ اپنے پاؤں سینڈل سے آزاد کرتی ٹانگین سیدھی کرلے لیٹ گئی …

“پلیز پہلے کھانا چاہیئے پھر چاہت اٹھی تو ساری رات مجھے جگائے رکھے گی … اب کے وہ تھکن سے چور لہجے میں ملتجی انداز اپنایا ماہین نے …

“اوکے میں دیکھتا ہوں … دانش نے کہا …

دانش نے جاکر ڈائینگ میں دیکھا نایاب نے بریانی قورمہ اور سیخ کباب کے ساتھ روٹیان بنواکر رکھی تھیں ٹیبل پر سجی تھیں …

پر کیا کرتا ماہین کا موڈ چیز سینڈوچ کھانے کا تھا … وہ نیچے آیا تاکہ نایاب سے بنواسکے پر وہ حیران ہوگیا نایاب لائیٹس وغیرہ آف کرکے سوئی ہوئی تھی بچون کے ساتھ ان کے روم میں …

دانش کو اندازہ تھا وہ ناراض ہے اس سے کیونکہ جیسے ہی کل رات اس نے ماہین کی شرطیں بتائیں وہ نا ہی نایاب کو دیکھنا چاہتی نا ہی بچون سے کسی قسم کا رابطہ رکھنا چاہتی ہے …

نایاب تو شاک ہی رہ گئی یہ سوچ کر کہ اس قدر غرور اور اکڑ ہے اس میں …

نایاب کی نفرت میں اضافہ ہوگیا تھا ماہین کے لیئے … نایاب اسی لیئے سوگئی تاکہ دانش اج رات وہان ہوگا یہ اس سے برداش نہ ہوگا بہتر یہی تھا سوتی بن جائے ورنہ سارے اپنے بھرم اسے ٹوٹتے ہوئے نظر ارہے تھے ….

بحرحال دانش نے اسے دو آوازین دین نایاب کو حسب حال نایاب نے جواب نہ دیا جاگنے کے باوجود بھی وہ تو اس آہٹ بھی محسوس کرگئی تھی … سوتی بنی رہنا اس کی مجبوری تھی سو وہ وہی ایکٹ کررہی تھی دانش پلٹ گیا تو اندھیرے میں اس کا پاؤں سائیڈ ٹیبل سے لگا … دانش کے منہ سے “اوہ اوہ آہا … کی آواز نکلی تھی اس لمحے …

پر نایاب ضبط کرگئی اور دانش کے کچن میں جاکر برتن کی اٹھک بیٹھک سے امدازہ ہورہا تھا وہ کچھ کررہا ہے مجبورً وہ اس کے پیچھے چلی گئی …

“کیا کررہے ہیں دانش … نایاب نے پوچھا جس پر وہ پلٹا اور اس کے گلے لگا پہلا اس کا ماتھا چوم گیا وہ جو کڑے تیوروں کے ساتھ کھڑی تھی اس کے اس انداز پر نرمی سے مسکرا اٹھی اور دوبارہ اپنا سوال “کیا کیا کر رہے ہیں دانش کچن میں …

” یار ماہین کا چیز سینڈوچ کھانے کا من ہے تمہیں پتہ ہے میں بچوں کے لیے بھی کبھی بنا لیا کرتا ہوں اسی لیے اب اس کے لیے بنا رہا ہوں تم تو ارام کر رہی تھی نا اسی لیئے سوچا تم کو ڈسٹرب کیا کروں …

کچھ لمحوں کے لیے نایاب اسے شاک ہو کر دیکھتی رہی پھر ضبط کرتی ہوئی بولی “یار اتنا کھانا بنا ہوا ہے پھر یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہیں اس کھانے کا کیا ہوگا پھر …

نایاب کو بہن کی پڑھائی پٹیوں کا اثر نہ ہوتا تو شاید اب تک وہ شدید غصے میں ا جاتی پر وہ ضبط سے کام لے رہی تھی …

” یار تم یہ کھانا نوکروں کو دے دو , میں تمہارے ساتھ یہیں کھانا کھا لیتا ہوں اور پھر میں اوپر جاتا ہوں کیونکہ اج رات ماہین کا اکیلا رہنا ٹھیک نہیں ہے کچھ دن لگیں گے اسے عادت ڈالنے میں پلیز نایاب تھوڑا سا ایڈجسٹ کر لو پھر میں کوشش کروں گا کہ ایک رات یہاں رہوں ایک رات اوپر … دانش کے لہجے میں التجا تھی ….

ابھی تک تو نایاب ایک جھٹکے سے سنبھلی نہیں تھی کہ دانش ماہین کے لیے سینڈوچز بنا رہا ہے اس ماہین کے لیے جسے وہ کچھ بھی نہیں سمجھتا تھااور وہ اس قدر اہمیت حاصل کر گئی ہے ایک ایب نارمل بچی پیدا کر کے اس قدر مغرور ہوئے جارہی ہے جو شوہر اس کے لیئے کھانا بنا رہا تھا …. یہ سوچ کر ہی نایاب کو تکلیف ہو رہی تھی … دوسرا جھٹکا یہ لگا کہ اب کچھ دن اوپر ہی رہے گا دانش اس کے پاس سوئے گا نایاب نے بہت مشکل سے خود پر ضبط کیا …

“میں بنادوں … نایاب نے اسے افر دی …

“نہیں بس ہو گیا اسے دے کر اؤں تو پھر تمہارے ساتھ کھانا کھاتا ہوں ٹھیک ہے … دانش نے کہا تو نایاب نے اثبات میں سرہلایا …

“اوکے میں ویٹ کررہی ہوں … کھانا لگارہی ہوں ہمارے لیئے … نایاب نے کہا لہجے کو نرم رکھنے کی بھرپور کشش میں ہلکان تھی …

“اوکے بس دو منٹ میں آیا … دانش نے کہا اور جلدی پلیٹ میں سینڈوچ رکھ کر اوپر گیا لاؤنج کی سیڑھیون سے جو اب تک لاک نہ تھیں …

وہ جلدی سے اوپر سیڑھیاں چڑھتا ہوا چلا گیا اور اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ماہین ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی سکون سے کھانا کھا رہی تھی …

دانش دانت پستتا ہوا بولا “اگر تمہیں یہی کھانا تھا تو مجھ سے کیوں بنوایا یہ میں تمہارے لیے خود بنا کر ایا ہوں …

دانش کے تھوڑے کڑے سخت لہجے پر بھی ماہین نے کوئی ری ایکشن نہیں دیا سکون سے ایک دو نوالے کھا کر وہ بولی “پریگننسی میں تو موڈ سوئنگ ہوتے رہتے ہیں کھانا دیکھا تو بھوک بھی شدید تھی تو کھا لیا …. اب اپ کیا کریں یہ چیز سینڈوچ خود ہی کھا لیں کیونکہ اب میرا یہ کھانے کا موڈ نہیں ہے اور پلیز کل ملازمہ اجانی چاہیے اور فل وقت کی مجھے چاہیے …

” ائیں پلیز مجھے کمپنی دیں مجھ سے اکیلے نہیں کھایا جاتا کھانا اتنا کہہ کر ماہین نے اس کی پلیٹ لگا دی … تو مجبورً دانش کو اس کے ساتھ کھانا کھانا پڑا اسے یاد ہی نہیں رہا کہ نیچے اس کا نایاب انتظار کر رہی ہے اور وہ اس کے ساتھ کھانا کھانے کے بعد برتن بھی اس نے خود کچن میں رکھے کیونکہ ماہین اٹھ کر چلی گئی تھی اور دانش کی نفیس طبیعت یہ برداشت نہ کر سکی کہ یوں گندے برتن ٹیبل پر پڑے ہوں اسے اندازہ تھا کہ ماہین ایک بھی نہیں اٹھائے گی اسی لیے اس نے خود ہی اٹھانے کا فیصلہ کر لیا اور اس کے بعد وہ اسے سوٹ کیس لانے کا بولی اور اس میں سے کچھ سامان نکالنے کے لیے کہنے لگی اور اسی ہیلپ میں کافی وقت گزر گیا اور جب اسے یاد ایا وہ نیچے ایا تو دیکھا نایاب نے کھانا ٹیبل پہ ویسے ہی لگا کر چھوڑا تھا اور خود جا کر سو گئی تھی … دانش کو دل میں شدید افسوس ہوا اور پھر اگلا دن تو وہ اسے مناتا ہی رہ گیا اور نایاب کے پاس بھی کوئی اور راستہ نہ تھا سوائے ماننے کے لیے وہ مان تو گئی تھی پر اندر ہی اندر اسے ماہین سے شدید نفرت ہو گئی تھی … دانش کی باتوں سے اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ ماہین پھر سے پریگننٹ ہے اسی لیے ہی اتنے نخرے کر رہی ہے … نایاب حیران تھی جو پہلی پریگننسی پر کبھی شوہر سے نکھرے نہ اٹھوا سکی اب اپنے شوہر سے دوسری پریگننسی پر اٹھوا رہی ہے نایاب کو واقعی ماہین حیران کر گئی تھی …

” تم دانش کے بچے کا فائدہ اٹھا کر اسے یوں اپنی انگلیوں پہ نچا رہی ہو نا , ماہین اب تم خود اس کے بچے کے ساتھ کیا کرتی ہو جب یہ دانش دیکھے گا تو خود بخود تم اسمان سے زمین پر ا کرو گی دیکھ لینا …. تمہاری اکڑ تو میں توڑ کر ہی رہوں گی … نایاب نے دل میں عہد کرلیا تھا … اگے کا سوچ لیا تھا اسنے کیا کرنا ہے ….

@@@@@@@@@@

” ہائے چھوٹی ماما … میں تنویر ہوں , کیا میں اپنی چھوٹی بہن کو پیار کرسکتا ہوں پلیز , میں مل سکتا ہوں چاہت سے … دانش کا بڑا بیٹا اکر جلدی سے ماہین کی ٹانگون سے لپٹ گیا اور اس کی آنکھون میں انوکھی چمک دیکھی ماہین نے … ماہین کا دل زور سے دھڑکا تھا اس لمحے … اس کی ٹانگوں سے لپٹا ہوا معصوم سا بچہ سر اونچا کر کے اس کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر التجائی انداز میں اور بڑے آس سے پوچھ رہا تھا یہ سب … ماہین دیکھتی رہ گئی اسے ….

جاری ہے ….