Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 5

“بہت جلدی نہیں تم کو خیال آیا اس سوال کا , جس کے جواب کے معنی ہی نہیں رہے اب تو نور صاحبہ کل نکاح ہے , بےمعنی باتوں کا جواب ذیشان کب دیتا ہے کبھی , اتنا تو پتا ہونا چاہیئے تم کو , سو یہ فکر کا ڈرامہ تم رہنے ہی دو نور … ذیشان کے ہر اک لفظ میں زہر آمیز نفرت تھی ایک لمحے کو نور کی روح کو جھنجھوڑ دیا اس کی آواز نے ….

اسی لمحے جھٹکے سے گاڑی رکی تھی اور دانش اکر بیٹھا تو شانی اور نور نے سلام کیا اور دانش نے جواب دیا دونوں کو ….

نور اور شانی کی بات ادھوری رہ گئی اور گاڑی میں مسلسل دانش کی آواز ہی گونج رہی تھی جو موبائیل کان سے لگائے اس وقت بھی اپنے کام کررہا تھا اس کی پروفیشنلزم کا اندازہ نور کو اچھی طرح ہورہا تھا ….

@@@@@@@@@

رات کو مہندی کے فنکشن میں پہلے مگنی کی رسم ادا ہوئی دانش اور ماہین کی اور ساتھ ہی ساتھ ذیشان اور نور کی پھر کھانا لگا اور کھانے کے بعد صرف دو کپلز کی مہندی کی رسم ادا ہوئی تھی … اب نور اور ماہین ریلیکس ہوکر بیٹھی تھیں … ماہین تو مسلسل اسٹیج پر ہی تھی کیونکہ ایک طرف بہن کی رسم ہورہی تھی تو دوسری طرف بھائی کی ….

خود پر مرکوز نظریں محسوس کرتی وہ چونکی پر نظر گھما کر دیکھا تو کسی کو نا پایا اور اپنا وہم جان کر دوبارہ طیبہ کے ساتھ مصروف ہوگئی …

اسی وقت پھپھو نے اسے بلایا تو وہ ان کے پاس اکر کھڑی ہوئی … ادھر ادھر دیکھ کر پھپھو بولیں “دن کو دانش آیا تھا تمہیں پارلر جانا چاہیئے تھا اس کے ساتھ ماہیں …

“سوری پھپھو تھکی ہوئی یونیورسٹی سے آئی تھی … اوپر سے مجھے پتا نہ تھا کہ دانش آئے ہیں … ماہین نے آسان لفظوں میں واضع کی بات … اب وہ ان کو اپنی اور نور کی گفتگو بتانے سے رہی …

“ماہین اب تمہیں ان باتون کا خیال کرنا چاہیئے … پھپھو کے لہجے میں واضع تنبہی تھی … ان کی بات ناگوار لگنے کے باوجود ماہین نے جواب میں کہا تو لہجہ نرم تھا ….

“جی پھپھو … وہ خاموشی سے دیکھتی رہی اردگرد … اس کا یہ بےنیازی والا انداز پھپھو کو ناگوار گذرا , پھپھو اس کے ضبط کے انداز سے بھی خائف ہوئیں تھیں ….

پھر سب رسمون کے دوران وہ بےزار ہی رہی دوسری طرف نور خوشی سے پھولے نہیں سمارہی تھی کیونکہ کل ذیشان اسے مکمل حاصل ہونے لگا تھا اس سے زیادہ خوشی کی کیا بات ہوسکتی ہے …

کیا واقعی اس طرح خوشیان کبھی نصیب ہوئیں ہیں کسی کو , بھلا اتنا آسان ہے کسی کا پیار چھین لینا , کسی اور کا نصیب چھین لینا … یہ سب وقت نے بتانا تھا کہ حالات اب کونسا رخ اختیار کریں گے …

@@@@@@@@@

اگلے دن نکاح ہوگیا خیر خیریت سے … ہر طرف مبارک کا شور ہی شور تھا … دانش کا نکاح ماہین سے , ذیشان کا نور سے , شھباز کا طیبہ سے اور ریحان کا ریما سے …. دانش اور ذیشان تو کچھ دیر بعد اسٹیج سے اٹھ گئے جبکہ باقی دو کپل جن کی آج رخصتی بھی تھی وہ ایک ساتھ بیٹھے رہ گئے … نور کا انتظار انتظار ہی رہا ذیشان نے ایک لفظ تک نہ کہا شاید مبارک ہی کہے دیتا تو کچھ سکون ملتا بے چین دل کو …

نور کو لگا اس نکاح کے بعد وہ مطئمن ہوجائے گی پر ایسا کچھ نہ ہوا بلکہ دل اور بےچین ہوگیا تھا شاید یک طرفہ محبت یونہی بے چین کردیتی ہے …

پھر دعاؤن میں طیبہ کو شھباز کے ساتھ رخصت کیا گیا نادر اور سعدیہ نے , دوسری طرف طاہر صاحب کی آنکھون میں بھی آنسو تھے اپنی لاڈلی بیٹی کو رخصت کرکے کیونکہ اتنا دور جو ہوگئی تھی شاہینہ بھی آنسو کے ساتھ دعاؤن میں رخصت کیا ریما کو ریحان کے ساتھ …. دو دن اور ان کا یہان کراچی میں اسٹے تھا پھر دوبارہ ان کو لاہور جانا تھا …. کل ولیمہ تھا ان کی بیٹی تھا …

@@@@@@@@@

اگلے دن ریما اور طیبہ پر ٹوٹ کر روپ آیا تھا ولیمہ کی دعوت تھی سارے رشتیدار دونون کپلس کی تعریف کررہے رہے تھے … آج کا تھیم وائیٹ کلر فیمل کا اور میل کا بلیک کلر تھا …. دونوں کپلس نے شاندار طریقے سے انٹری کی انگلش میوزک وائیٹ فلاورس کی برسات کردی ہو اتنے پھول ان پر نچھاور کیئے گئے … بہت زبردست سا فوٹو شوٹ ہوا …

دانش کا سب نے پوچھا کیونکہ صبح ہی وہ واپس روانہ ہوگیا , سب کو حیرت بھی بہت تھی کیسا بھائی تھا جو بہن کے ولیمے تک نہ ٹھر سکا ایسی بھی کیا مصروفیت … لوگون کا کام تھا باتین کرنا سو وہ باتین بنا رہے تھے … ایک دو دفعہ شاہیدہ بیگم نے کہا نور اور ذیشان بھی ساتھ میں کپلس کے ساتھ فوٹو نکلوائیں پر شانی دور ہی رہا … نور کے دل میں ہوک سی اٹھی جب اپنی ماں کے پکارنے پر بھی ہاں کہتا کچھ دیر بعد انے کا بول کر پھر نہ آیا اسٹیج پر …

یہ فنکشن بھی خیر خیریت سے گزر گیا پر دانش کی غیرموجودگی کا جواب اس کے ماں باپ اور بھائی بہن دیتے رہے جبکہ ماہین سے کم ہی لوگون نے سوال کیا کیونکہ وہ کم ہی کسی سے بات کرتی ہے وہ اپنے آپ میں مگن رہنے والی لڑکی تھی ناکسی سے پرسنل سوال پوچھتی تھی نہ کسی کو جواب دینے کی خود کو پابند سمجھتی تھی … ماہین کمپوزڈ ہوکر بیٹھی رہی کافی دیر بیٹھی رہی اپنی بہن کے پاس جبکہ اس کی بنسبت نور کے چہرے کی بے چینی واضع تھی اس سے شانی کا یہ اگنور کرتا رویہ برداش سے باہر تھا پر فی الحال وہ کچھ بھی کہنے کی پوزیشن میں نہ تھی …. نور کے اندر ہزارون ارمان تھے اس کا شوہر اس کے ناز نخرے اٹھائے اس کے اگے پیچھے پھرتا رہے اس کی فکر میں ہلکان رہے , ایک دن میں اتنا وہ سمجھ گئی کہ وہ شانی کا نام تو اپنے ساتھ جوڑ گئی ہے پر اسے اپنے حساب سے چلا نہیں سکتی یہی چیز اسے بے چین کیئے ہوئے تھی , اسے زیادہ تکلیف ماہین کے پرسکون بیٹھے رویئے نے دی تھی کہ کیوں اسے دانش کا عجیب رویہ محسوس نہیں ہورہا , وہ کیون ایسی تھی , وہ خود ایسی کیوں نہیں اس بات کا دکھ ہورہا تھا …

@@@@@@@@@@

تین سال بعد

“اب رخصتی کروالینی چاہیئے … طاہر آفندی نے کہا اپنے لاڈلے بیٹے دانش سے ….

“کیوں اتنی جلدی کیا ہے ڈیڈ … اس کے چہرے پہ شدید ناگواری کے تاثرات تھے دیکھنے سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ یہ بات کرنا بھی نہیں چاہ رہا تھا اور نہ اس وقت اسے امید تھی کہ اس کا باپ یہ بات کرے گا اگر اسے پتہ ہوتا تو شاید وہ یہاں پر اس پل ہوتا ہی نہیں …

“جلدی کیا , نکاح کو ہوئے تین سال سے اوپر ہوگئے ہیں اب رخصتی ہو جانی چاہیے …. ان کی فکر دیکھنے لائق تھی ….

“تو … وہ آئے برو اچکاتا ہوا بولا …

“مجھے تمہاری سمجھ نہیں آتی کیا ضرورت تھی اسے ایم بی اے کی اجازت دینے کی … طاہر آفندی ہر دوسرے مہینے اس بات کا شکوہ ضرور کرتے دانش سے …

“ویسے ہی دے دی … اچھا ہے مصروف رہے … دانش نے بیزاریت سے کہا…

“مجھے تو نادر کی سمجھ نہیں آتی اسے بیٹی کو رخصت کرنے کی فکر نہیں … بسس اس لڑکی کی پڑھائی پر اتنا خرچا کررہا ہے … طاہر آفندی کے لہجے میں بیزاریت تھی کیونکہ وہ لڑکیوں کے اتنے زیادہ پڑھنے کے فیور میں نہیں تھے وہ ہمیشہ سے کہتے تھے کہ لڑکیوں کو اتنا پڑھنا چاہیے کہ وہ ایجوکیٹڈ صرف کہلائی جا سکیں پر اتنا نہیں کہ وہ کما کر گھر چلانے کا سوچیں …. وہ لڑکیوں کو اتنی کھلی ازادی دینے کے قائل نہ تھے انہوں نے اپنی بیٹیوں کو بھی کبھی کوایجوکیشن میں نہیں پڑھایا تھا انہوں نے بس کالج میں ہی پڑھائی کی تھی سمپل گریجیوشن کیا ہوا تھا ….

“ہمیں کیا ان کی بیٹی ہے جو مرضی کریں ماموں … دانش نے شانے اچکائے ….

“کل کو تم نے کونسی جاب کروانی ہے اس لڑکی سے … انہوں نے ایک اور بات کہی ….

“پاپا پڑھنے دیں اسے , جب مجھے پرابلم نہیں ہے تو آپ کو کیا اعتراض ہے …. وہ بے پرواہی سے بولا … طاہر افندی کو بالکل سمجھ نہیں ارہا تھا کہ دانش کے دل میں کیا ہے اتنا تو ان کو پتہ تھا کہ ان کا بیٹا اس رشتے سے خوش نہیں تھا پر ان کو امید تھی کہ اتنے وقت کے بعد اسے صبر اگیا ہوگا ….

“اور بیٹا میں جلد سے جلد چاہتا ہوں کے اب میری بھی بڑی بہو اس گھر میں رخصت ہوکر آ جائے سب یہ خوشی دیکھ رہے ہیں میں نہ دیکھوں , نادر مجھ سے چھوٹا ہے وہ دادا بن گیا اور میں ابھی تک ایسی خوش خبری سے محروم ہوں , اب میرا بھی دل چاہتا ہے کہ مجھے بھی دادو کہنے والا ہو کوئی …. طاہر افندی نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا اور اپنے آخری لفظوں پر تصور کی آنکھ سے مسکرائے بھی , جس پر بھی دانش نے کوئی خاص ری ایکٹ نہ کیا کہا تو بس اتنا کہ “اپ کی پسند سے نکاح کر تو لیا ہے کیا یہ بہت نہیں ہے کہ اپ کی خواہش کے مطابق اب اپ کی خاندانی بہو ہی ائے گی اس گھر میں… طاہر افندی کو دانش کا یہ انداز بہت ناگوار گزرا پھر بھی ضبط کرتے ہوئے وہ بولے ” جب اتنی باتیں مانتے ہو تو یہ بات بھی مان لو اب رخصتی ہو جانی چاہیے …

“دیکھتے ہیں پاپا سوچ کر بتاؤں گا فلحال کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ بہت زیادہ مصروفیات ہیں کیونکہ ابھی تو مجھے دبئی بھی جانا ہے بہت ضروری کام ہے میرا , وہاں سے واپس اکر سوچون گا … پھر دیکھتے ہیں …. اس بار بھی وہ انہیں ٹالنے میں کامیاب ہوگیا تھا ….

طاہر افندی کو اپنے بیٹے کی بڑھتی عمر کا افسوس ہو رہا تھا جبکہ دانش ان سب چیزوں سے لاپرواہ ان کو لگا ہر وقت اپنی بزنس کی فکر میں رہتا اس کا اٹھنا بیٹھنا بڑے لوگوں میں تھا … کمپنی کا وہ کنٹری مینجر تھا مارکیٹنگ میں ہی اس کا کام تھا اس لیے بولنے کا اسے ہنر آتا تھا اج تک کبھی وہ بولنے میں کسی سے ہارا نہیں ہر جگہ اس کا ڈنکا بجتا تھا وہ آج تک کبھی کوئی ڈیل کرنے گیا ہو ناکام لوٹا ہو یہ ناممکن تھا …. طاہر آفندی کو ہر کوئی یہی کہتا خاندان میں سب سے زیادہ لائق ان کا یہ بیٹا ہے …. طاہر آفندی کا فخر تھا ان کا یہ بیٹا ….

@@@@@@@@@

دانش دبئی سے آیا تو دو دن پہلے تھا پر آج ہی لاہور پہنچا تھا سب اس سے مل کر خوش تھے اور سب کے لیے وہ تحفے لایا تھا پر طاہر افندی کے ملنے کے انداز سے وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ اس سے ناراض ہیں اس وقت تو وہ کچھ نہیں کہہ رہے پر وہ جانتا تھا کچھ وقت کے بعد ضرور وہ اپنی ناراضگی کا اظہار کریں گے ضرور …

اور اخر کار یہ موقع رات کو ان کو مل ہی گیا جب دانش ان کے پاس بیٹھا تھا اکیلا … “مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی کہ مجھ سے پوچھے بغیر تم اتنا بڑا فیصلہ لو گے … ان کے لہجے سے ناراضگی صاف ظاہر تھی …

“میں سمجھا نہیں بابا کس فیصلے کی بات کر رہے ہیں … دانش نے پرسوچ انداز میں کہا …

“اچھا تو پھر تم نے کیوں ماہین کو جاب کرنے کی اجازت دی جبکہ تمہیں پتہ ہے مجھے یہ پسند نہیں ہے … طاہر آفندی کا لہجہ سخت تھے ….

“پاپا وہ ماموں کا فون ایا تھا انہوں نے پوچھا تو مجھے مناسب نہ لگا انکار کرنا تو میں نے کہے دیا مجھے کوئی اعتراض نہیں , ماہین ان کی بیٹی ہے جو مرضی کرے وہاں رہ کر … دانش نے لاپرواہی سے کہا اس کے انداز میں بیزاریت تھی جیسے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا اس کے جاب کرنے نہ کرنے سے …

“دانش میری ایک بات کان کھول کر سن لو , ماہین کے یہاں انے کے بعد جاب کا سوچنا بھی مت کیونکہ اس گھر کی یہ روایت نہیں ہے یاد رکھنا تم اور تمہاری بیوی بھی اسی روایت پر چلے گی … انہوں نے سختی سے کہا جس پر دانش نے صرف ہمممم کا تاثر دیا …

“اب رخصتی ہونی چاہیئے میں نادر سے عنقریب بات کرنے لگا ہوں تم بھی اپنا مائنڈ بنا لو … اتنا وقت نکاح کو لٹکائے نہیں رکھتے سمجھے تم … طاہر آفندی نے دو ٹوک کہا …

“تو آپ کو بھی کیا سوجھی , مگنی تک ٹھیک تھا ڈائیریکٹ نکاح , عجیب مصیبت ہے … دانش نے چڑکر کہا …

“کیا مطلب اس بات کا … انہون نے پوچھا …

“کچھ نہیں بسس ویسے ہی ….

“میں جانتا ہوں تم ٹالتے ارہے ہو رخصتی جان بوجھ کر … اس بار انہوں نے ڈائریکٹ بات کرنے کا سوچا اس لیے صاف لفظوں میں کہہ بھی دیا کہ وہ اس کے ارادوں سے واقف ہیں …

“سمجھ رہیں تو پھر کہے کیوں رہے ہیں … دانش نے بھی ڈائریکٹ کہا …

“بسس تمہاری منہ سے سننا چاہتا ہوں …

“زبانی تصدیق سے کیا فائدہ ہوگا …
دونوں دوبدو بولے …

“بسسس مجھے اندازہ ہو آخر چاہتے کیا ہو تم … انہوں نے کہا …

“جو میں چاہتا تھا وہ آپ نے کیا کب … اب کے دانش کے لہجے میں یاسیت تھی … ان کے کچھ کہنے سے پہلے دوبارہ دانش بولا ….

“کیوں ایسا کیا انوکھا کہا تھا میں نے چاند تو نہیں مانگ لیا تھا … ایک اپنی پسند ہی بتائی تھی بغیر دیکھے ملے صاف انکار کردیا آپ نے ڈیڈ … جب کوئی بات اسے ہرٹ کرتی یا وہ طاہر آفندی پر جتانا چاہتا تو ہمیشہ ڈیڈ کہتا تھا پاپا نہیں …

“ہاں تو … صاف بتایا تھا خاندان سے باہر کی اجازت نہیں دے سکتا تھا تم کو , تم میرا فخر توڑنا چاہتے تھے جو مجھے کسی صورت منظور نہیں … طاہر افندی کے لہجے میں اپنے خاندان کے لیے اکڑ تھی …

“خاندان خاندان مجھے نفرت ہے اس رٹ سے کب دیکھا ہے آپ نے مجھے ان سے گھلتے ملتے , کیا مصیبت ہے یہ خاندان اور کیسی ان کی روایات … اب کی دانش کا لہجہ تیز ہوا تو طاہر افندی نے بھی اتنے ہی شدید غصے بھرے لہجے میں کہا کہ “بس اب میں تمہاری ایک نہیں سنوں گا , میں نادر افندی سے بات کر رہا ہوں اور جلد ہی رخصتی کی تاریخ لے رہا ہوں اور یاد رکھنا میں تمہاری طرف سے کوئی بھی اعتراض نہیں سنوں گا رخصتی ہوگی اگلے مہینے ہی ہوگی اس سے زیادہ دیر نہیں کر سکتا میں …

دانش غصے سے اٹھ کر چلا گیا اور وہ اسے جاتا ہوا دیکھتا رہے ….

جاری ہے ….