Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 8

ماہین گھبرا گئی اگلے لمحے خود کے نزدیک تر کرگیا تھا وہ اسے , وہ سانس روک گئی اس کی سخت گرفت پر , وہ مکمل اس کے رحم و کرم پر تھی وہ اسے اپنے برابر لٹا گیا اور پھر وہ اس پر پوری طرح چھاتا ہی چلا گیا جابجا اپنا لمس چھوڑتا اور اپنا حق وصول کرتا اپنا فرض پورا کررہا تھا … اس کے کسی انداز میں محبت تو دور کی بات کوئی معتبر سا احساس بھی مفلوج تھا اس کے لمس میں … اس کا لمس ماہین کے اندر سوائے درد کے اور کچھ نہ جگا سکا … کتنا وقت گزرگیا ماہین کو احساس نہ ہوا وہ اندر ہی اندر درد سے جوچتی رہی اور وہ شخص بےپرواہ بنا دوسری طرف کروٹ لیئے سو رہا تھا …. ماہین گُھٹ گُھٹ کر روتی ضبط کی انتہا پر تھی ….

اپنے اوپر کمفرٹ ڈھانپے وہ منہ پر ہاتھ رکھے خود کو چیخنے سے روک رہی تھی … اس طرح تو نہیں ہوتا کسی کے ساتھ , اس رات تو شوہر اپنی بیوی کے ناز نخرے اٹھا کر حق وصول کرتا ہے … عورت خود پر نازان ہوجاتی ہے اپنے شوہر کے شدت بھرے لمس پر … پر اس کا شوہر تو اپنی وحشتین اس کے اندر منتقل کرکے پرسکون ہوکر سویا پڑا تھا دوسری طرف ماہین کے اندر درد کی ٹیسین اٹھ رہیں تھیں … کچھ وقت بعد جب روکر خود کو ہلکہ پھلکہ کرچکی تھی تو خود کو سمیٹ کر سنبھال کر اٹھی تو زمین پر پاؤں رکھتے احساس ہوا ٹانگین شل ہوچکی ہوں اور اس کا وزن اٹھانے سے انکاری ہوں جیسے … ہمت کرکے وہ واشروم گئی شاور کے نیچے کھڑی ہوگئی … اپنے اندر کا غبار نکالا کئی آنسو ٹوٹ کر آنکھون سے بہے کر پانی کا حصہ ہوگئے …

کچھ دیر بعد فریش ہوکر شلوار قمیص پہن کر باہر آئی … نماز کے اسٹائیل میں دوپٹا پہنے جائے نماز بچھاکر اس پر کھڑی ہوگئی … تہجد پڑھ کر خود کو پرسکون کیا … کتنی دیر ہاتھ اٹھائے بیٹھی رہی ایسا لگا لفظ گم ہوگئے ہوں جیسے … کتنی دیر کے بعد وہ بولی تو بس اتنا …. ” یا اللہ … میری ماں کہتی ہے شوہر تو لباس کی طرح ہوتا ہے پھر کیسے کوئی شوہر اس طرح کرسکتا ہے , یہ محبت نہیں ہوسکتی , یہ محبت بھرا لمس بھی نہیں ہوسکتا , پھر یہ کیا تھا جو آج میں نے محسوس کیا جو میرے ساتھ ہوا ہے … یہ کس سے پوچھون گی میرے رب , کون بتائے گا , یہ میرے ساتھ ہی کیون …. میرے ساتھ ہی کیون … وہ درد سے چور لہجے میں بولی تھی …

“یا اللہ میں صرف تجھ سے اپنے شوہر کی محبت عزت اور احساس مانگتی ہوں … وہ میری عزت کرے جس کی میں عزت کرسکون … یا اللہ مجھے سکون عطا کر …

وہ چہرے پر ہاتھ پھیرتی اٹھ گئی … جانتی تھی کچھ دیر میں فجر کی آذان بھی ہوجائے گی اس لیئے درود پاک پڑھنے بیٹھ گئی , یہ اس کی عادت بچپن سے تھی اگر تہجد کے بعد جاگتی رہتی تو درود پڑھتی رہتی فجر نماز تک … اس لیئے اکر صوفے پر بیٹھ گئی اور درود پڑھنے لگی …

پھر واقعی کچھ دیر میں آذان ہوئی تو اسے سن کر پھر نماز کے لیئے کھڑی ہوگئ نیت باندھ کر …نماز پڑھنے کے بعد جب دعا کے لیئے ہاتھ اٹھائے تو بے آواز آنسو بھاتی رہی شاید اپنی نسوانیت کی بےحرمتی اس کی برداش سے باہر تھی ….

“یا اللہ رحم , ایسی اذیت سے میں تیری پناھ مانگتی ہوں … یا اللہ رحم …. بے آواز روتی اپنے رب سے رحم کی التجہ کررہی تھی …

اپنا دل کافی حدتک ہلکہ کرچکی تھی وہ اپنے رب کے اگے روکر … پھر جائے نماز لپیٹ کر وہ ڈریسنگ کے سامنے گزری جس کی فینسی لائیٹ اس نے خود جلائی تھی نماز کے وقت , بےساختہ نظر پڑی تو خود کو غور سے دیکھا آئینے میں تو احساس ہوا گردن سے ہوکر اس کے نیچے تک اس کے شوہر نے اپنا ہر نشان اس کے جسم پر واضع کردیا کسی کے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں رہی تھی کل رات کیا ہوا , سب کے لیئے واضع نشانیان رکھ چھوڑیں تھیں اس کے وجود پر … بازو پر اس کی سخت گرفت کی وجہ کانچ کی چوڑیان ٹوٹی تھیں اس کے زخم بن گئے تھے … ایک ہوک اٹھی ماہین کے اندر لمبی سانس اندر کھینچ کر آرام کے لیئے لیٹ گئی تھی وہ …

@@@@@@@@@

صبح دانش کی نظر اپنے پہلو میں سوئی بیوی پر پڑی تو لمحے بھر کو افسوس جاگا کیونکہ اپنے باپ پر آیا سارا غصہ اس معصوم پر نکالا جو تھا … کل رات باپ نے جب اسے باہر لان میں بیٹھے دیکھا تو اس کے قریب آئے اور بولے … ” دانش جاؤ اپنے کمرے میں , بہت رات ہوگئی ہے …

“میرا کوئی ارادہ نہیں ہے , کمرے میں جانے کا… وہ سلگ کر بولا تھا …

” دانش یہ کیا بدتمیزی ہے جب شادی ہو گئی ہے تو عزت سے کمرے میں جاؤ اور اب تم بچے نہیں ہو کہ تمہیں سمجھانا پڑے گی کیسے نبھاتے ہیں یہ رشتے … انہون نے سخت لہجے میں کہا …

“,پلیز ڈیڈ , میں کچھ غلط کربیٹھون گا , مجھے نہ کہیں … دانش نے ضبط سے کہا …

“تمہیں دیکھ کر کون کہے سکتا ہے , اتنے بڑے عہدے پر ہو اور ساتھ ہی ساتھ اپنا بزنس بھی کر رہے ہو , جس سے ایک رشتہ نہیں چلایا جارہا , نکاح کے بعد بھی تمہاری ہزاروں کوتاہیون کو نظرانداز کرتے ارہے ہیں ہم سب , تمہاری مصروفیت کا بہانا بنا کر , اب ایسا نہیں ہونا چاہیئے , تمہارے ایک رشتے کے ساتھ ہمارے کئی رشتے جڑے ہیں , ہم کسی ایک رشتے کو بھی کھونا افورڈ نہیں کرسکتے , سمجھے تم ….

کچھ لمحون کی خاموشی کے بعد وہ دوبارہ بولے …

“ماہین اچھی لڑکی ہے تمہیں سوٹ کرے گی , اپنے خاندان کی لڑکی ہے , خاندانی لڑکی ہی خاندان کو اچھے طریقے سے چلا سکتی ہے تمہیں پتہ ہے , یہ چیز وقت کے ساتھ تم کو سمجھ آئے گی , خاندان کی لڑکی کیا ہوتی ہے … طاہر آفندی نے سمجھانے والے انداز میں کہا …

“پلیز ڈیڈ , میں واپس چلا جاتا ہوں اسلام آباد , آئی ایم ناٹ ریڈی فار دس ریلیشن شپ … دانش نے دبے لفظون میں کہا …

“تو پھر اپنی ماں کو بھی لے جاؤ , جب یہ رشتہ نبھانے کی سمجھ آجائے تو پھر اُسے بھی ساتھ لے آنا … انہون نے بھی سلگ کر کہا …

دانش تڑپ اٹھا اپنے باپ کی ایسی بات پر اور اٹھ کھڑا ہوا …

“کہاں جارہے ہو برخوردار … انہون نے تند لہجے میں پوچھا …

“اپنے کمرے میں , خاندانی رشتے نبھانے … وہ بھی تند لہجے میں بولا …

“ہممم جاؤ , ایک بات بھولنا مت , جو تمہاری بیوی ہے اس کا بھائی تمہاری بہن کا شوہر بھی ہے … طاہر آفندی کی آواز نے اس کے قدم روکے اور وہ بغیر مڑے بولا …

“یہ بات نہیں بھولا اب تک , شکریہ پھر سے یاد کروانے کے لیئے … اور وہ لمبے ڈگ بھرتا چلا گیا …

افسوس تو ہوا اسے یہ سب کرکے پر بات صرف لمحے بھر کی ہی تھی …. اگلے لمحے فون پر آتی کال نے اس کا دھیان بھٹکایا … وہ جلدی سے اپنی شرٹ پہن کر بالکونی میں گیا …

کال انے پر ماہین کی آنکھ کھلی جلدی سے وہ واشروم میں چلی گئی … جب وہ چینج کرکے آئی تو اسنے فل سلیوس قمیض جس کی کالر والی ڈیزائن تھی … اسے یہ لباس پہنا دیکھ کر دانش مطئمن بھی ہوا تھا ساتھ ہی نظر میں طنزیہ پن بھی تھا …

“ہممممم سو کالڈ خاندانی بیوی … دانش نے نفرت سے سوچا …

“کیا مصیبت ہے یہ … اتنا سوچ کر سرجھٹکتا وہ واشروم کی طرف بڑھا … ماہین اس کے رنگ بدلتے چہرے کو دیکھنے کے بجائے سر جھکا گئی , وہ خود کو اس سے نظر ملانے کے قابل بھی نہیں سمجھ رہی تھی … سادہ تیار ہوکر بیٹھ گئی صوفے پر …

دانش واشروم سے باہر نکلا باتھ گاؤن پہنے پھر اپنے کپڑے خود ہی نکالتا ڈریسنگ روم میں چینج کرنے گیا … ماہین کو امید تھی شاید اسے کہے کپڑے نکالنے کو , پر اس کا اگنور کرتا انداز ماہین کی سمجھ سے باہر تھا … وہ چینج کرکے جلدی واپس آیا پھر ڈریسنگ کے سامنے کھڑا ہوکر بال بناتا پرفیوم اسپرے کرتا روم سے باہر چلا گیا بغیر اس پر ایک بھی نظر ڈالے اور بغیر کچھ بولے … ماہین حیرت سے دیکھتی رہ گئی کل رات بیوی کا مقام دینا اور اس وقت اس کا اگنور کرنا عجیب ہی لگا اسے …

“آخر کیا جتانا چاہ رہا تھا وہ … ماہین کی سمجھ سے باہر تھا …

وہ خاموشی سے بیٹھی اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو دیکھتی رہی اسی وقت ناک ہوا اور اس کی کزنز اگئیں اندر … ماہیں سنبھل کر بیٹھ گئی …

ان کے سوالوں پر وہ چپ ہی رہی وہ آپس میں بولتی رہیں , ایک دوسرے کے سوالوں کے جواب دے رہیں تھیں … سوال پوچھے تو ماہین سے جا رہی تھیں پر اس کے بولنے سے پہلے خود جواب دے دیتیں … اس کے گلے پر بنے نشانوں کو لوو بائیٹس کا نام بھی انہوں نے دیا کسی نے ایک دفعہ بھی اس کی سرد نظروں کو نہ دیکھا سب اپنی ہنسی میں مگن تھیں ….

“اتنے رومینٹک دانش بھائی او او ہو ہو …. ایک شادی شدہ کزن بولی … ماہین سوائے اگنور کے کربھی کیا سکتی تھی … کسی نے یاد انے پر منہ دکھائی کا پوچھا اس سے تو … جس پر ماہین نے سوچا ” جس نے منہ ہی نہ دیکھا ہو اندھیرے میں ضرورت پوری کرتا رہا وہ کیا منہ دکھائی دیتا , ایک نظر بھرکے تو اس نے دیکھا نہیں منہ دکھائی کیا دے گا … وہ سوچ ہی سکتی تھی کہنے کی ہمت ہی نہ تھی اس میں …

“ماہین بتاؤ نہ منہ دکھائی کا کیا تحفہ ملا , دانش بھائی نے تو بہت پیار دیا جانتے ہیں پر گفٹ تو دکھادو … یہ سوال نور نے کیا تھا جو جتاتی نظرون سے دیکھ رہی تھی اسے …

اس سے پہلے ماہین کچھ کڑوا بول دیتی دوسری کزن نے کہا “ارے یہ رہا … واؤ کیا خوبصورت بریسلیٹ ہے لگتا ڈائیمنڈ کا ہے … واؤ سو لکی … یہ کہنے والی ان کی سیکینڈ کزن تھی جس کا گھر یہیں پاس ہی تھا …

سائیڈ ٹیبل پر رکھا تھا شاید نہیں یقینن منہ دکھائی کا تحفہ تھا کیونکہ نا یہ دھیج میں تھا نہ بری کے سامان میں …

“انہون نے دینا بھی گوارہ نہیں کیا پر کیوں , کیا غلطی ہوئی ہے مجھ سے جس کی سزا دی جارہی ہے یون … کس سے پوچھون … ماہین نے تڑپ کر سوچا …

“پاغل ہو تم ماہین بندے کو اتنا بھی پڑھاکو نہیں ہونا چاہیئے یار جو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ منہ دکھائی لازمی پہننی چاہیئے شادی کی پہلی صبح … نور نے کہا …

“ہمممم وہ صرف اتنا ہی بولی ذہن تو بسس الجھن کا شکار تھا … ایک کزن نے اس کا ہاتھ تھام کر بریسلیٹ بھی پہنا دیا … اسی لمحے پھپھو بھی اگئیں روم میں ساتھ میں ریما بھی تھی … اب اگر اتارتی بریسلیٹ تو ایک نیا محاذ کھل جاتا … وہ خاموش ہوگئی … ریما نے اپنی ماں کو آنکھ ہی آنکھ میں اشارہ کیا …

@@@@@@@@

“مجھے افسوس ہوا میرا بیٹا یہ حرکت بھی کرسکتا ہے تم نے تو مجھے شرمندہ کرکے رکھ دیا ہے …. شائستہ بیگم سلگ کر بولیں …

“شرمندہ وہ کیوں … وہ کمال بےنیازی سے بولا اور چائے کے سپ لینے لگا …

“اتنا بے پرواہ خود کو ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں … ماں تھیں چڑ کر بولیں جبکہ دانش کے چہرے کا اطمنیان ان کو پریشان کرگیا …

جبکہ کچھ دیر پہلے ریما نے ان سے کہا “امی مجھے ڈر لگ رہا ہے , اس وقت ابھی تو چپ ہے , اگر کل اس نے کسی کے سامنے دانش کی کوئی شکایت کی تو ریحان نے میری جان نکال دینی ہے , اب تک جو میں آپنے سسرال میں دندناتی ہوئی چل رہی تھی مجھے تو لگتا ہے کہ میرے پاؤں ہی اکھڑنے والے ہیں … اگر ایسا ہی رویہ دانش بھائی کا رہا ماہین کے ساتھ … پلیز امی میرا گھر بچالیں , پلیز … ریما کے ہر انداز میں بےچینی اور سو فکریں واضح تھیں …

“تم تو چپ کرجاؤ , ماہین نہیں بتائے گی کچھ بھی , ہم موقعہ ہی نہیں دیں گے فکر مت کرو , میں دانش سے بات کروں گی … شائستہ بیگم نے کہا ….

“میں نے کیا کیا …. دانش نے بےنیازی سے کہا …

“یہ سلوک کیا جاتا ہے بیوی سے پہلی رات … انہون نے غصے سے پوچھا …

“کیوں ماہیں نے کچھ کہا آپ کو … دانش نے سوال پر سوال کیا …

“نہیں وہ تو کچھ نہیں بولی پر ہم تو اندھے نہیں ہیں نا جن کو نظر نہ آتا ہو کچھ …. شائستہ نے کہا …

“تو پھر کیا مسئلا ہے … دانش نے کہا …

” یہ سب ٹھیک نہیں , ان باتوں میں احتیاط کرو …

“یہ باتیں مجھ سے کہنے کے بجائے , اپنے شوہر کے ساتھ ڈسکس کریں مام … وہ چائے کا کپ ختم کرکے واپس ٹیبل پر رکھ گیا …

“دانشششش …. وہ شدت سے بولیں ان کے لہجے میں چیخ نما گونج تھی … وہ حیران تھیں اس کی اس بات پر … وہ ماں تھیں سمجھانے کا حق رکھتیں تھیں اس لیئے دبے لفظوں سمجھانا بھی چاہ رہیں تھیں …. پر لگ رہا تھا وہ بلکل ہی ہاتھ سے نکل چکا ہے …

“مام شاید ان کو سمجھ اجائے زبردستی کے تعلق ایسے ہوتے ہیں …. مجھ سے کوئی امید مت رکھیئے گا کہ اپ کے بھائی کی لاڈلی کو سر پر بٹھا کر رکھوں گا …. یہی اوقات ہے اس کی میری نظر میں اور یہی رہے گی تاعمر …. دانش نے صاف لفظوں ماہین کی اوقات اپنے نظروں میں بتاکر واضع کرچکا تھا وہ ہکا بکا ہوکر اسے دیکھ رہیں تھیں , یہ تو ماہین کے لیئے کبھی نہیں چاہتیں تھیں وہ “یہ کیا کردیا آپ نے طاہر … شائستہ نے سوچا …

“دانش رکو میری بات سنو … وہ جلدی سے بولیں …

“کیا سنو بتائیں … وہ بیزارکن انداز میں بولا …

“اپنی بہن کا ہی سوچ لو ذرہ ایسے نہ کرو پلیز … وہ تڑپ کر بولیں …

“سوری مام … اس نے کاندھے اچکائے …

“پہلے کیوں نہیں بتایا تم نے اگر کسی اور کو پسند کرتے تھے …. شائستہ نے کہا …

یہ بات تو وہ پہلے ہی سمجھ چکی تھیں پر واضح لفظوں میں اج کہا تھا , کیونکہ جب ان کا بیٹا ہی ان کو نہیں بتا رہا تھا تو وہ کیوں اسے کرید کرید کر پوچھتیں … پر وہ اس کے ہر انداز سے سمجھ چکی تھیں کہ وہ راضی نہیں اس رشتے سے …. وہ اچھی طرح جانتیں تھیں کہ طاہر صاحب ہی اسے صرف قائل کر سکتے ہیں , اگر وہ قائل کر ہی رہے تھے تو یقینا ان کے پاس واضح ٹھوس وجہ ہوگی … تو وہ کیسے کچھ کہہ کر اپنے شوہر کو ناراض کر سکتیں تھیں …

“کیا فائدہ اپ کو بتاکر … آپ نے کیا کرنا تھا میرے لیئے , چلتی تو صرف پاپا کی ہے نہ , ان کو بسسس خاندان خاندان کی پڑی رہتی ہے …. تو بسس یہی حال ہوتا ہے ان چاہی خاندانی بیوی کا … دانش کی بات سے لے کر ہر انداز میں طنزیہ پن تھا …

“پر دانش یہ غلط ہے …. انہون نے کہا …

“کیا غلط ہے … کیا سہی ہے , عرصہ ہوا , سوچنا چھوڑدیا … میں آج شام کو ہی واپس جارہا ہوں اسلام آباد … بس خوش اب ….

“کیا بکواس کررہے ہو کل ولیمہ ہے اور تم جارہے ہو … وہ تلملا کر بولین … خاندان والوں کی باتیں , سب کے تبصرے سب سے بڑھ کر اپنے بھائی بھاونج کے اگے جوابدہی ساتھ ہی ساتھ داماد نے پوچھا تو کیا ہوگا … ساری بنی بنائی عزت خاک میں ملتی نظر ارہی تھی …

“مت روکین مام ورنہ ایک اور رات اس بے چاری پر عذاب ہی گزرے گی … آپ کا افسوس بڑھ جائے گا … وہ جو اس کا بازو تھامے ہوئے بولی تھیں اس یقین کے ساتھ اسے روک لیں گی احساس ہوا اب کوئی فائدہ نہیں روکنے کا ورنہ ماہین کا ضبط نہ ٹوٹ جائے اور بھرم نہ رہے شاید ….

@@@@@@@@

ماہین جو پرسکون ہوکر لیٹی تھی آنکھون پر بازو رکھے … ایک دم دروازہ کھلنے پر بوکھلا کر اٹھ بیٹھی اور دانش کو دیکھ کر جلدی سے ٹانگین سمیٹین … دانش نے ایک قہر بھری نظر اس پر ڈالی تو وہ اور سمٹ گئی ساتھ ہی بوکھلاہٹ سوار ہونے لگی اسے … دانش کی آنکھین لال ہورہی تھیں …

وہ کبرڈ کے نچلے خانے سے اپنی ہینڈ کیری نکال کر اپنے کپڑے رکھنے لگا … ماہین نے ہمت کرنی چاہی اس سے پوچھ لے کہ وہ کہان جارہا ہے … پر اس کی غصے سے لال آنکھیں , ضبط سے بھینچے ہونٹ , ماتھے کے بلون نے اسے کچھ بھی پوچھنے سے روک دیا …

“ماہین تم ایسی تو نہ تھی جو اس شخص کے سامنے ایسی بن رہی ہو … یاد کرو کیا ہو تم اور اب کیا بن رہی ہو … اندر کی آواز نے جھنجھوڑا اسے اور وہ اس آواز کو دبانے لگی …

“شاباش پوچھو اس سے تمہیں حق ہے , سمجھی … ایک اور آواز آئی اندر سے … “تمہیں حق ہے پوچھنے کا …

دانش لیب ٹاپ بیگ میں اپنا لیب ٹاپ رکھ رہا تھا اس وقت اپنی ہمتیں یکجا کرکے پوچھنے کے لیئے منہ کھولنے ہی والی تھی اسی وقت دروازہ ناک ہوا … ماہین نے ہونٹ سکوڑے اور دانش نے کہا “آجاؤ …

دعا نے روم میں قدم رکھا اور کہا … “بھائی آپ کو بابا بلارہے ہیں … وہ پلٹ گئی ….

“اوکے اتا ہوں … وہ بولا… اور چلا گیا … ماہین اسے جاتا دیکھتی رہ گئی …

@@@@@@@@@

وہ اپنے باپ کے روم پر ناک کرکے اندر آگیا …

“ڈیڈ آپ نے بلایا … دانش نے پوچھا …

“کہیں جانے کی تیاری ہے کیا دانش …. انہون نے دھیمے لہجے میں پوچھا شاید بیٹے کو اور باغی نہیں کرنا چاہتے تھے …

باپ کے ساتھ بیٹھی ماں کو دیکھ کر دانش کو اندازہ ہوگیا تھا ماں اپنا کام کرچکی ہیں … ایک نظر اپنی ماں پر ڈال کر بولا … “ہان اسلام آباد جارہا ہوں …

“ہمممم … تو پھر اپنی ماں کو ساتھ لے جاؤ , اس کی یہاں ضرورت نہیں مجھے … وہ بےنیازی سے بولے تھے … بیوی نے شکوہ کرتی نظرون سے دیکھا اپنے شوہر کو , اس طرح باپ بیٹے کو بلیک میل کرے گا سوچا نہ تھا انہوں نے …

“ڈیڈ … یہ کیا کہے رہے ہیں … آپ مجھے بلیک میل کررہے ہیں پھر سے … کیا اس ایک بلیک میل پر کتنے دن مجھے باندھ کر رکھین گے , کبھی سوچا ہے آپ نے … دانش نے خودسر لہجے میں کہا …

“تمہارا ولیمہ ہے کل , اور مجھے خاندان میں تم ذلیل کرو یہ ممکن نہیں اور نہ کسی کو اجازت دے گا یہ طاہر آفندی , سمجھے تم …. انہون اکڑ سے کہا آخر میں ان کا لہجہ مغرور ہوا …

وہ دانت پیس کر رہ گیا ,ماں کی التجہ کرتیں نظریں اسے خاموش رہنے پر مجبور کر گئیں …

کچھ لمحے ان کو گھورنے کے بعد وہ بھینچے جبڑوں کو ڈھیلا چھوڑ گیا اور بولا تو اس کا لہجہ نرم اور مضبوط تھا , شاید وہ فیصلہ کرچکا تھا اب ….

“ٹھیک ہے تو پھر ایسا تو ایسا سہی … ایک بات میری بھی سن لیں میں شادی کرچکا ہوں اس سے ڈیڈ , یاد رکھیئے گا دنیا کی کوئی بلیک میلنگ مجھے اس سے جدا نہیں کرسکتی کیونکہ میری محبت سے دستبردار ہونے کے بجائے اس سے تعلق مضبوط کرچکا ہوں دو بچون کا باپ بن کر …. اگے جو آپ کی مرضی کریں … اسے لگا اتنا کہنے میں میلوں کا سفر طے کر آیا ہو اپنے اندر کی تھکن اتار کر وہ باپ کے کندھے جھکا گیا …

“دانششش… وہ شدت سے بولے , وہ دنگ ہی تو رہ گئے تھے اس کی یہ بات سن کر , ان کے انداز میں بے یقینی تھی جسے محسوس کرکے دانش نے ٹھوس لہجے میں کہا …

“سوری ڈیڈ , بٹ اٹس ٹرو , آج سے بہتر کوئی دن نہیں لگا مجھے آپ کو بتانے کا یہ سب , نایاب میری بیوی ہے اور میرے دو بچون کی ماں بھی … دانش کے چہرے پر اب سکون ہی سکون تھا کیونکہ یہ بات چھپا کر کب تک رکھ سکتا تھا اور دوسری بات وہ اور بلیک میل ہونا نہیں چاہتا تھا …

“تم نے مجھے دھوکا دیا دانش …. میں کبھی اس شادی کو نہیں مانوں گا چھوڑدو اس گھٹیا لڑکی کو …. وہ غصے سے بولے ….

“بسسسس ڈیڈ , ایسا کبھی نہیں ہوسکتا , نایاب کے بارے میں مجھے ایک لفظ نہیں سننا … مبارک ہو آپ کو آپ کی خاندانی بہو … مجھے اور نایاب کو آفندیز کی پرواہ نہیں ہم اپنی زندگی میں بہت اگے بڑھ چکے ہیں …

وہ دانش کے نڈر انداز کو دیکھتے رہ گئے … وقت نکل چکا تھا ان کے ہاتھ سے اب سوائے ہاتھ ملنے کے اور اپنی عزت بچانے کے کوئی راستہ نظر میں نہیں ارہا تھا طاہر آفندی کو …

“اور ہاں , نہیں جارہا اسلام آباد میں , اپنا ولیمہ کھاکر ہی جاؤں گا … ڈونٹ وری مام ڈیڈ … وہ طنزیہ لہجے میں کہے کر مسکراتا ہوا چلا گیا … دونوں میان بیوی ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے … وہ دونوں کو لاجواب چھوڑ گیا تھا …

@@@@@@@@@

وہ روم میں آیا تو اس کے انداز میں سرشاری محسوس کی ماہین نے … حیران تھی پل میں رنگ بدلنے والا شخص اس کا ہمسفر بنا تھا …

وہ سیدھا بیڈ پر لیٹ گیا ریلیکس انداز میں …دانش نے آنکھین موند لی , ماہیں پہلو بدل کر اٹھنے لگی … جیدے ہی اس نے زمیں پر پیر رکھا دانش نے کہا … “سنو…

“جی … وہ حیرت سے بولی کیونکہ اسے امید نہ تھی وہ اس سے مخاطب بھی ہوگا …

“اچھی بیوی والی تم میں کوئی خوبی ہی نہیں , بلکل ہی پوھڑ ہو تم , دیکھ لیا میں نے , چلو کوئی بات نہیں , پیکینگ میں تم نے اپنی خدمات پیش نہ کیں نہ سہی پر کم ازکم ان پیکینگ تو کرہی سکتی ہو…

ماہین حیرت سے اسے سن رہی تھی جس نے ایک ہی دن میں اسے پھوہڑ کا بھی خطاب دے دیا , ماہین کو یقین نہیں ارہا تھا اب بھی وہ آنکھین موندے ہوئے تھا …. اب حیرت سے اسے دیکھ بھی رہی تھی …

“کیا ہوا جو آنکھین پھاڑ کر مجھے گھور رہی ہو کام میں لگو شاباش اچھی خاندانی بیوی کی طرح … وہ آنکھین موندے ہی بولا تھا لہجہ سختی لیئے ہوئے تھا …

وہ شاک ہی ہوگئی کیسا شخص تھا جو بند آنکھون سے سب محسوس کررہا تھا , “اس کے بولنے میں اتنا طنز کیوں ہے مجھے لے کر , کیا وجہ تھی , آخر کھل کے وہ کہے کیوں نہیں دیتا … ماہیں نے کلس کر سوچا پر بولی کچھ نہیں …

شاید اب بھی اسے امید تھی دانش بدل جائے گا … وہ جلدی اٹھی اور سامان رکھنا شروع کیا واپس جگہ پر , اس کے ہر انداز میں اس کے لیئے بیزاریت تھی ماہین کو تکلیف ہورہی تھی سوچ سوچ کر …

وہ جلدی جلدی کام نپٹاکر کمرے سے نکل گئی … سب کزنز کل کے فنکشن کے کپڑوں کی میچنگ کو ڈسکس کرہی تھیں وہ خاموشی سے بیٹھ گئی سب کے بیچ … دل گھبرا رہا پر کسی سے کیا کہتی سب اپنی باتون میں لگے تھے اپنے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کا کس کو بتاتی کوئی سننا ہی نہیں چاہتا تھا کیا سناتی کسی کو …

رات کا کھانا سب نے ساتھ کھایا , دانش کے ساتھ کزنز نے بٹھا دیا ورنہ اس کا کوئی ارادہ نہ تھا … وہ ہرجائی بےنیاز بنا ہوا تھا دوسری طرف ذیشان جو نظرین جھکائے بیٹھا بے ساختہ اس کی نظر اٹھی جہان پر ٹھری تو بس ٹھر ہی گئی , ماہین کا دوپٹا کب ہٹا اور اس کی نظر گردن پر بنے زخمون پر پڑی تو بےساختہ ماہین کی آنکھون میں دیکھا جہان بےپناھ درد کا جہان آباد نظر ایا شانی کو ایسا لگ رہا تھا , جیسے ان زخم کا درد وہ اپنے اندر محسوس کررہا تھا …. دل چاہا اپنے بھائی کا گریبان پکڑ لے اور پوچھے ایسا کیسے کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کرسکتا ہے …. پر جانتا تھا اپنے بڑے بھائی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا وہ …

اب کھانا حلق سے اترجائے کہاں ممکن تھا وہ خاموشی سے اٹھ کر چلا گیا … ماہین اسے جاتا دیکھتی رہی , دونوں کا انداز عجیب تھا درد کا بھی احساس کا بھی عجیب تھا .. ہوک سی اٹھی ماہین کے اندر …

دانش زیادہ تر اپنے کمرے تک محدود رہتا تھا اس لیئے کھانے کے بعد روم میں چلا گیا تھا ماہین کزنز میں بیٹھ گئی جان بوجھ کر وہ چاہتی تھی دانش سوجائے تو پھر جائے کمرے میں تاکہ کل رات جیسی اذیت سے بچ سکے … اب جب شادی شدہ کزنز نے اسے زبردستی روم کی طرف دھکیلا ورنہ وہ تو ان کے روم کی طرف بےخیالی میں جارہی تھی ….

ماہی تمہارا روم اگیا جاؤ دانش بھائی انتظار کررہے ہونگے … ایک کزنز نے آنکھ مارکر شرارتی لہجے میں کہا تو سب مسکرائیں , وہ بس پھیکی سمائل دے کر روم کے ناب پر ہاتھ رکھا اور اندر اگئی , دبے دبے قدمون سے داخل ہوئی لائیٹ آف دیکھ کر دل خوش ہوگیا …. مطئمن ہوکر وہ واشروم گئی اپنا ہینگ کیا ہوا نائیٹ ڈریس پہن کر روم میں آئی … کچھ سوچ کر کمبل کو ہاتھ لگایا نہیں کہ کہیں دانش کی آنکھ نہ کھل جائے اس کی وجہ سے , اپنا دوپٹا اوڑھ کر لیٹ گئی اور آنکھین موند لیں پرسکون ہوکر ابھی چند لمحے ہی وہ سکون محسوس کرپائی تھی کہ اگلے لمحے کمبل اس پر ڈالا کسی نے بوکھلا گئی ماہین , شاک ہوگئی یہ سوچ کر وہ جاگ رہا تھا اس کا مطلب …اس پر کمبل ڈالنے کے بعد دانش نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے قریب کرگیا ماہین سانس روک گئی اس کی پیش قدمی پر , سوچ کر ہی اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی ہوئی , اندر ہی اندر دل سوکھے پتے کی طرح کانپ اٹھا …. اس کے کان کی لو پر بائیٹ کرتا وہ بولا “آئندہ کبھی باہر مت بیٹھنا جب میں کمرے میں ہوں سمجھی ….

“جی جی وہ کپکپا کر بولی ….

“تمہارا وقت صرف میرا ہونا چاہیئے … وہ اس کے کان پر ایک اور شدت بھرا لمس چھوڑ کر بولا تھا وہ شدت رہ گئی تھی اس کے اس انداز سے …

اگلا حکم تو اس کا ماہین کی جان لبون پر لاگیا … “جاؤ چینج کرکے آؤ , آئندہ بتانا نہ پڑے مجھے کس طرح رات میں بستر پر تمہیں ہونا چاہیئے میرے پاس سمجھی … جلدی چینج کرکے آؤ … اس پر سے کمبل ہٹاگیا اس کا حکم ملتے ہی وہ اٹھی اور ایک نائیٹی جو ہاتھ لگی الماری کے لیفٹ سائیڈ سے وہ اٹھائی اسی لمحے دانش نے اس کی کلائی تھام کر روک لیا وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی وہ کمرے کی لائیٹ آن کرگیا پھر الماری کا پٹ کھول دیا , شرم سے ماہین کی نظرین جھک گئیں کیونکہ نائیٹی کلیکشن بہت رکھی ہوئی تھی پر زیادہ تر مختصر سی تھیں جس نے اسے نظر جھکانے پر مجبور کردیا …

“آئندہ یہ سب نہ ہو جو آج ہوا , مجھے تمہاری طرف سے پر بھرپور پذیرائی ملنی چاہیئے … ملے گی نا …. وہ مبہم لہجے میں کہتا اسے کانپنے پر مجبور کرگیا وہ نظرین جھکا گئی … گرے نیٹ کی نائیٹی اسے تھماکر واشروم کے دروازے کے پاس پہنچ کر اس کی کلائی چھوڑی اور وہ جلدی واشروم میں بند ہوئی وہ چینج کرکے واپس آئی تو بیڈ پر لیٹا پایا اس نے دانش کو … وہ اٹھا اور زیرو بلب آن کرتا اسے کمر سے تھام کر بیڈ پر لایا …. وہ بےبسی سے اس کو دیکھتی رہی اور وہ اس کے ہونٹون پر جھک گیا اور وہ خود کو اس کے رحم و کرم چھوڑ گئی … آج بھی کوئی محبت بھری سرگوشی اس کا مقدر نہ ٹھری , اس کا لمس نرم گرم کے بجائے سخت سے سخت تر ہوتا جارہا تھا …. ماہین نے سوچا وہ تو مذاحمت بھی نہیں کرتی اس کی کسی جسارت پر پھر بھی وہ ایسا کیون کررہا ہے , یہ سمجھ نہیں ارہا تھا ماہین کو … اس کا جسم ہی نہیں روح بھی سسک اٹھی تھی اس کے اس طرز سے …. اس کا وجود کرچی کرچی ہورہا تھا اس کی بانہون میں … کب دانش نے اس کی جان خلاصی کی ماہین کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جسم کا پور پور درد کررہا تھا اٹھنے کی ہمت نہ ہوئی تو کمفرٹ میں خود کو ڈھانپ کر وہ آنکھین موند گئی … اس کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا ماہین کے پاس … دانش کو اس سے کوئی سروکار نہ تھا اپنی طلب وہ پوری کرچکا تھا ماہین کا وجود بسسس اس کے اندر کی نفرت اور وحشتون کو اتارنے سامان بن کر رہ گیا تھا … چاہے کتنا قیمتی ہیرا ہو بےمول لوگون کے ہاتھ لگے تو بس ٹوٹنا اس کا مقدر بن جاتا ہے … دانش کے لیئے وہ ایک بےمول ہیرا تھی جسے اس کے باپ نے زبردستی دان کردیا تھا اسے , اس لیئے اس کی کوئی اہمیت نا تھی دانش کی نظر میں … کب تک ماہین کو یونہی دانش بےعزت کرے گا یہ وقت نے ثابت کرنا تھا اور کب تک ماہین یہ برداش کرے گی یہ وقت نے بتانا تھا ….

جاری ہے …