Rate this Novel
Episode 30
میرے درد کو جو زبان ملے
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 30
“پکا انوشے , تم سنبھال لوگی نا … یہ تیسری دفعہ ماہین نے پوچھا جس پر انوشے نے سر پیٹا …
“ہاں بابا .. ہاں بابا , بتاؤ کس کی قسم کھا کر یقین دلاؤں کہ میں سنبھال لوں گی ہماری چاہت کو … انوشے نے چڑ کر کہا اور پیاری بھانجی کا ماتھا چوم کر بولی تھی …
ماہین کے چہرے پر شدید فکر کے اثار تھے …
“سچ بتاؤ ماہین تمہیں یقین نہیں ہے کہ میں تمہاری بیٹی کو سنبھال لوں گی … انوشے نے سوالیہ انداز میں پوچھا …
” یار سچ میں اگر امی کا جانا ضروری نہ ہوتا تو تم کو کبھی نہ کہتی …. ماہین نے کہا … سعدیہ بیگم عالما کا کورس کررہیں تھیں اس لیئے آج ان کی ٹیچر نے کلاس لینی تھی سینٹر پر جس کے لیئے وہ گئی ہوئی تھیں …
“جانتی ہوں یار … تم چاہت کے معاملے میں ذرہ سا رسک نہیں لینا چاہتی … انوشے نے کہا اور ایک نظر ماہین پر ڈالی جو پچھلے تین مہینوں میں کہیں اتی جاتی نہیں سوائے اپنی بیٹی کے لیئے جس کو اب تک دو دفعہ خون کی بوتلیں لگیں تھیں , جس کے لیئے وہ ایک رات رہی بھی تھی ہسپتال , ان دونوں بار دانش اس کے ساتھ تھا … انوشے ہر دوسرے تیسرے دن اس کے پاس اجاتی تھی …
ایک بات انوشے محسوس کرچکی تھی دانش اچھا شوہر نہ سہی پر اچھا باپ ضرور تھا …
” یار اج سر عباس گردیزی اور عیان انکل دونوں ہیں آفیس میں , اس لیے میں چاہتی ہوں میں ان دونوں سے روبرو بات کر کے آؤں اور ریزائن کر کے آؤں کیونکہ مجھے لگتا ہے میں واقعی اب جاب نہیں کر پاؤں گی اور بہتر یہی ہے کہ اپنا بزنس کروں تاکہ ورک فرام ہوم بھی میں کام کر سکتی ہوں …. علی اور احد دونوں کو میری ضرورت بھی ہے … ماہین نے انوشے کو کھل کے بتایا …
“سچ میں یار یہ بھی صحیح ہے … اچھا نہیں لگتا کہ تم ڈائریکٹ ریزائن کر دو اخر ان لوگوں نے تمہیں اتنا فیور دیا ہے تو تمہارا بھی فرض ہے کہ روبرو جا کر ان سے بات کر کے اپنی مجبوری بتا کر ریزائن کرو , یہ اچھا فیصلہ ہے تمہارا … انوشے اس سے متفق تھی ساتھ ہی اس کے فیصلے کو سراہنا نہ بھولی تھی …
“تھینکس یار … انوشے بس اتنا خیال رکھنا اگر چاہت سوجائے تو …
انوشے اس کی بات کاٹ کر بولی “جانتی ہوں اگر سو جائے تو اس کو کروٹ کے بل سلانا ہے , سیدھا بالکل نہیں سلانا بس اور کچھ دودھ کا پتہ ہے ہر چیز کا پتہ ہے پھر بھی اور کچھ بتانا ہے تو بتاؤ اور دوسری بات میں ایک لمحے کے لیے بھی چاہت کو اکیلا نہیں چھوڑوں گی , اور کچھ …
انوشے نے مستی میں آنکھیں دکھائیں اور جتایا تھا …
چاہت کو ٹاپ فیڈ سے سختی سے منع تھی اس لیئے وہ فیڈ نکال کر رکھ کے جارہی تھی جو اٹھ گھنٹے تک روم ٹیمپریچر پر رکھا جاسکتا تھا , یہ بھی ایک مشکل مرحلہ تھا ایک ماں کے لیئے جس سے ماہین کو آج گزرنا پڑا تھا …
“تھینکس یار … ماہین اس کے گلے لگ کر بولی اور اپنی بیٹی کے ماتھے پر لمس چھوڑتی جلدی سے پرس اور فائیل اٹھا کر باہر نکلی اسی وقت پیچھے سے انوشے بولی …
“اوئے ماہین … گاڑی کی چابی تو لو …
وہ جلدی سے پلٹی اور چابی اٹھاکر “اللہ حافظ کہا اور چلی گئی … انوشے نے بھی اسے “اللہ حافظ کہا مسکرا کر …
انوشے نے مسکرا کر چاہت کو خود سے لگایا …
“اللہ کرے , تمہاری ماں کو ساری دنیا کی خوشیان مل جائیں چاہت , تمہاری ماں بہت اچھی ہے … وہ مسکرا کر اس سے باتیں کرنے لگی ….
@@@@@@@
“اٹس پلیزنٹ سرپرائز ٹو سی یو ماہین … اتفاق سے عیان اور عباس نے ایک ساتھ کہا ماہین کو دیکھ کر وہ مسکرا کر ان کے سامنے والی چیئر پر بیٹھی تھی …
“تھینک یو سر … ماہین نے کہا …
“خیریت میں آنا ہوا , تم نے دو منتھ وداؤٹ پے لیوو کی میل کی وہ تو میں نے ایپروو کردی تھی … عباس گردیزی نے حیرت سے پوچھا کیونکہ افس کے لا کے موجب ہر فیمیل کو تین مہینے کی چھٹی میٹرنٹی الاؤ تھی جس حساب سے ماہین نے ایک منتھ ڈلیوری سے پہلے چھٹی کی تھی اور یہ دو مہینے ڈلیوری کے بعد اور پھر اس نے جب دو مہینے مکمل ہونے لگے تو پھر دو مہینے اور کی وداؤٹ پے لیوو کے لیے اپلائے کیا تھا جس پر اسے عباس گردیزی نے اوکے کر دیا تھا تو اس لیے وہ حیران تھا کہ اج کس لیے ماہین ائی ہے …
“سر مجھے لگتا ہے , میں جاب نہیں کرسکوں گی , میری بیٹی کی کنڈیشن آپ کو پتا ہے تو فضول میں آپ کو آسرے میں رکھ کے سیٹ ریزروو رکھنا تو غلط ہوگا … آئی ایم سوری سر , مجھے تین مہینے میٹرنٹی میں بھی سیلری ملتی رہی ہے اور اب اس طرح ریزائین کررہی ہوں … ماہین کے لہجے میں شرمندگی تھی …
حقیقتًا یہ غلط تھا کہ میٹرنٹی لیو کھانے کے بعد اس طرح ریزائن کرنا غیر اخلاقی حرکت تھی کیونکہ جب میٹرنٹی کی اپ کو پے مل رہی ہے تو اپ کو کچھ مہینے کے کام کرنے کے بعد جاب چھوڑنی چاہیے یہ سارے قانون ماہین اچھی طرح جانتی تھی پر ماہین کے حالات ایسے تھے وہ چاہ کر بھی کام نہیں کر سکتی تھی اسی لیے اج ا کر ساری بات کلیئر کرنا چاہتی تھی …
اس گفتگو کے دوران عیان چپ تھا اور اسے افسوس بھی ہورہا تھا اس لڑکی کے سارے حالات جان کر اتنی سی عمر میں اس قدر برداش کررہی ہے … یہاں تو کوئی نہیں جانتا تھا پر عیان کو عمر کی وجہ سے معلوم ہوگیا تھا ماہین کے شوہر کی ایک اور شادی کی , جس کا سن کے اسے انتہا سے زیادہ دکھ ہوا کیونکہ اتنی اچھی لڑکی یہ سب ڈیزروو نہیں کرتی ….
“اٹس اوکے ماہین , میں سب سمجھ رہا ہوں … اچھی بات یہ ہے کہ تم سب سمجھ رہی ہو … پر ایک بات ضرور کہوں گا اگر ہو سکے تو ایک مہینہ اپنی جاب کر لو اس کے بعد ریزائن کرنا ورنہ کمپنی کی پالیسی کے مطابق اپ کو ٹو منتھ کی سیلری بیک کرنی پڑے گی کیونکہ یہ قانون ہے اپ میری بہت اچھی ایمپلائے رہی ہو اسی لیے میں اپ کو سمجھا رہا ہوں کہ اپ ورک فرام ہوم کر کے بھی ایک دو مہینے اگر نکال سکتی ہیں نکال لیں ورنہ اپ کو بے واپس کرنی پڑے گی …. عباس گردیزی کے لہجے میں افسوس تھا کیونکہ قانون سب کے لیئے ایک جیسا تھا جسے کسی کے لیئے بدلا نہیں جاسکتا ….
“سر مجھے پتا ہے اس لیئے میں چیک لائی ہوں , جو کمپنی کی پالیسی ہے وہی فالوو کروں گی میں … سر یہ رہا میرا ریزیگنیشن اور ای میل بھی کردیا ایچ ار اور آپ کو بھی … ماہین اتنا کہے کر اٹھ کھڑی ہوئی …
“ایک منٹ مسز ماہین …. عیان نے کہا …
“جی سر … ماہین رک گئی …
“آپ اپنی سوفٹویئیر کمپنی کا نام اور کونٹیکٹ نمبر ضرور دے کر جائیئے گا … عیان کی کہی بات پر ماہین حیران ہوئی اور پرس سے نکال کر کارڈ دیا …
“ماہیزے رچ ٹیکنولوجی کمپنی” … یہ نام بغور پڑھا عیان نے …
“مجھے لگتا ہے ہم تمہارے ساتھ کام کریں گے … عیان نے کہا …
“ضرور سر …. ماہین نے کہا …
“تھینکس کہے کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور چلی گئی آفیس سے اور ایچ آر کی طرف چلی گئی …
“ویسے ٹو منتھ کی سیلری بیک کرنا پے کچھ مناسب نہیں لگ رہا … عیان نے کہا …
“ہاں یار … پر یہ لڑکی اس سے زیادہ کمالے گی کیونکہ اتنی محنتی اور ٹیلنٹڈ لڑکی کے لیئے یہ سب معنی نہیں رکھتا … عباس گردیزی نے کہا یقین سے کیونکہ ماہین پر ان کو بھروسہ تھا …
“اوکے … ویب ڈیزائینگ جو اس پروجیکٹ کا حصہ ہے اس کا کانٹریکٹ ماہین کی کمپنی کو دے دینا … عیان نے کہا اپنے اگلے پروجیکٹ کے لیئے کہے رہا تھا …
“ٹھیک ہے … عباس نے کہا عیان سے …
@@@@@@@@@@
ماہین کو پہنچتے ہوئے پھر بھی لیٹ ہوگئی کیونکہ کراچی کا ٹریفک ہی ایسا تھا … کیونکہ وہ اج ہی سارے ڈیوز کلیئر کرنا چاہتی تھی روز روز مشکل تھا گھر سے نکلنا …
اور جیسے ہی گھر ائی لاؤنج میں انوشے کو بیٹھا دیکھ کر حیران ہوئی سعدیہ بیگم کے پاس …
“انوشے تم یہاں بیٹھی ہو اور چاہت کو اکیلا چھوڑ کر ائی ہو روم میں … امی آپ بھی یہان … وہ حیرت سے بولی …
” وہ دانش بھائی اور ریما اپی بیٹھے ہیں چاہت کے پاس اسی لیے ہم باہر بیٹھ گئے … انوشے نے کہا …
“ہمممم …. ماہین نے بسس اتنا تاثر دیا … ان کے پاس بیٹھ گئی …
“کچھ لاؤں تمہارے لیئے بیٹا … سعدیہ بیگم نے کہا …
” نہیں امی بس میں پانی پی لیتی ہوں اس نے پانی کا جگ اٹھا کر گلاس میں پانی انڈیلا اور ایک سانس میں گلاس ختم کرگئی …
“تمیز سے پانی پیو ماہین کتنی دفعہ سمجھایا ہے سنت کے موجب پانی پیو گی تو اس کے ہزار فائدے ہیں … سعدیہ بیگم نے ٹوکا ..
“سوری اللہ سوری امی …. ماہین نے کہا معصومانہ انداز میں … سعدیہ بیگم کو بے ساختہ ہنسی ائی اس کے اس انداز پر …
“بہت پیاس لگی ہے امی , چلین میں ایک اور گلاس سنت کے حساب سے اپ کو پی کر دکھاتی ہوں مجھے اچھی طرح یاد ہے …. ماہین نے واقعی دوسری بار تمیز سے پانی پی کر دکھایا سنت کے حساب سے … جس پر انوشے اور سعدیہ بیگم مسکرائین تھیں ….
” ماہین یار اب میں چلتی ہوں … انوشے نے اٹھتے ہوئے کہا ….
” ارے انوشے کھانا تو کھا کر جاؤ … ماہین نے کہا …
” جناب میں نے سب کے ساتھ کھانا کھا لیا ہے … انوشے نے مزے سے کہا …
“سب کے … وہ حیرت سے بولی …
“ہان دانش بھائی , ریما آپی کے ساتھ … انوشے نے بتایا جس پر ماہین حیران ہوئی اور بولی کہ “دانش نے یہان کھانا کھایا ….
“ہاں , ریما نے پوچھا تو میں نے کہا ٹھیک ہے لگادے کھانا , اور بھلے کہے اس سے … سعدیہ بیگم نے کہا …
” اب کیا میں اس طرح منع کروں مناسب لگتا ہے … سعدیہ نے الٹا ماہین سے پوچھا …
” میں نے اپ سے کچھ کہا جو اپ کو ٹھیک لگا ہے اپ نے کر دیا میں چاہت کو دیکھنے جا رہی ہوں … ماہین بھی اٹھ کھڑی ہوئی پہلے انوشے کو دروازے تک چھوڑنے آئی اور دوبارہ اس کا شکریہ ادا کرنا نہ بھولی جس پر انوشے اس سے بولی ” ائندہ اتنے تھینکس اور شکریہ ادا کیئے تو کوئی ہیلپ نہیں کروں گی کیونکہ تم مجھے احساس دلا رہی ہو میں کتنی غیر ہوں جیسے مجھ پر چاہت کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے بس ٹھیک ہے کر دو پر ایا مجھے بھی سب کی طرح … انوشے کے ہر اک الفاظ میں محبت ہی محبت تھی ماہین کے لیئے اور چاہت کے لیئے بھی …
“اچھا بابا معاف کرو کہو تو کان پکڑوں یا اٹھک بیٹھک کروں گی تو ہی تمہارا دل راضی ہوگا … ماہین نے شرارتی انداز میں کہا تو وہ مستی سے بولی “پہلی غلطی معاف اگلی مرتبہ سخت سزا دوں گی اس سے بھی زیادہ , سمجھ گئی دوستی میں نو سوری نو تھینک یو ….
دونوں ایک دوسرے سے گلے لگیں اور اللہ حافظ کہہ کر ماہین دروازہ بند کرتی ہوئی پلٹ گئی ….
@@@@@@@@
جیسے ہی ماہین روم میں آئی , ریما اسے دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی اور جاتے ہوئے بولی “بھائی کے لیے چائے بنانے جا رہی ہوں تم پیو گی….
“نہیں تھینک یو … ماہین نے سھولت سے انکار کیا …
ریما کمرے سے چلی گئی …
” میرا خیال ہے اپ کو اپنی بہن کے پاس بیٹھنا چاہیے یا پھر لاؤنج میں … ماہین نے چند پل کی خاموشی کے بعد کہا … اسے اس کا اس طرح بیٹھنا کھٹک رہا تھا … اس کا فری سٹائیل ماہین کو ناگوار گذرا تھا جو اس کے بیڈ پر تکیوں کے سہارے نیم دراز تھا پاس ہی چاہت ایک کروٹ پر لیٹی تھی اپنے چھوٹے سے بستر پر …
“میرا خیال ہے میری بیوی کے کمرے میں , مجھے اتنی رعایت تو ملنی چاہیئے …. دانش نے ازلی ڈھٹائی سے کہا وہ صرف دانت پیس کر رہ گئی …
“ٹھیک ہے … میں امی کے کمرے میں جارہی ہوں …. جب جانے لگیں تو بتا دیجیئے گا … ماہین نے کہا …
اس سے پہلے وہ واقعی چلی جاتی دانش نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور کہا
“ماہین تم اتنی ضدی تو کبھی نہ تھی … مان جاؤ پلیز , چاہت کو ہم دونوں کی ضرورت ہے … دانش نے نرم لہجے میں کہا … وہ جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑاگئی کیونکہ دانش کی گرفت ہلکی تھی …
“نہیں دانش تم نے شاید مجھے صحیح پہچانا ہی نہیں ہے میں واقعی میں بے انتہا ضدی ہوں … جانتے ہو پہلے مجھے ضد تھی اپنا گھر بنانے کی , جنون تھا رشتہ نبھانے کا … سب یہی سمجھتے تھے میں صرف پڑھ سکتی ہوں یا کیریئر میں ہی کچھ کر سکتی ہوں … میں نہیں اپنا گھر چلا سکتی تب مجھے ضد تھی کہ میں اپنا گھر بنا کر دکھاؤں گی اور میں بنا بھی لیتی اور مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ جس گھر کو میں اپنا گھر سمجھ رہی ہوں وہ گھر کبھی میرا تھا ہی نہیں … ماہین کے لہجے میں بیک وقت دکھ , غصہ اور درد تھا ….
“ماہین , گھر بھی تمہارا ہے , میں بھی تمہارا ہوں …. صرف ایک دفعہ اپنی ضد اور انا کو دور رکھ کے سوچو تو … دانش نے سمجھانے والے انداز میں کہا …
“ہاں میں ضدی ہوں , نہیں چاہیے مجھے بٹا ہوا شخص
.. یہ میرا حق ہے کہ اگر مجھے نہیں چاہیے بٹا ہوا شخص تو مجھے تم سے علیحدگی اختیار کرنے کا پورا حق رکھتی ہوں تو میں اپنا حق استعمال کروں گی میں نہیں رہوں گی تمہارے ساتھ …. وہ دو ٹوک اور اٹل لہجے میں بولی تھی ….
دانش کو شدیف غصہ ارہا تھا ماہین کے لفظوں سے , وہ ایک انچ بھی ہٹنے کو تیار نہ تھی اپنی کہی سے ….
“ماہین مجھے مجبور مت کرو میں ایسا کچھ کروں جو میں بلکل نہیں کرنا چاہتا تمہارے ساتھ …. مجھے کسی قسم کی زبردستی پر مجبور نہ کرو …. دانش نے وارننگ والے انداز میں کہا جانے کیوں ماہین کی خودسری اس کی برداش سے باہر ہوتی جارہی تھی ….
“زبردستی ہممم …. تم زبردستی صرف میرے جسم کو تو رکھ سکتے ہو وہی تمہارے صرف ہاتھ آ سکتا ہے کیونکہ وہ نکاح کے رشتے میں بندھا ہوا ہے باقی میرے جذبات اور احساسات تم سے الگ ہی رہیں گے دانش … اور ایسے ساتھ میں , میری نظر میں تمہاری عزت بلکل بھی نہیں ہوگی , کچھ حاصل نہیں کر سکتے تم …. پھر بھی ماہین کو رکھنے کی ضد میں تم جیت بھی سکتے ہو پر مجھے ہار کر … میں صرف تمہاری ضد ہوں اور کچھ نہیں , پلیز یہاں سے چلے جائیں , میں آپ کو اور برداش نہیں کرسکتی … ماہین نے واضع لفظوں میں ہر اک بات کہے دی اور آخر میں اسے باہر کا راستہ دکھایا غصے بھرے لہجے میں ….
وہ دانش کی اچھی خاصی بے عزتی کرچکی تھی ….
“ماہین بہت غلط کررہی ہو تم , بہت جلد سب باتوں کا جواب دوں گا … اتنا کہے کر دانش نے چاہت کو پیار کیا اور پھر اپنے سوکس پہنتا اور پھر شوز پہنتا باہر نکل گیا دانش … ریما نے چائے دی پر وہ انکار کرتا باہر چلا گیا گھر سے جبکہ ماہین اپنے روم کا دروازہ لاک کرگئی اور اپنا سر تھام کر بیٹھی رہ گئی … نیند آنکھوں سے روٹھ ہی گئی تھی …
@@@@@@@@@@@
”علی کب تک گھر آؤگے … بہت رات ہوگئی ہے , میں سونے لگی ہوں … ماہین نے فون پر علی سے کہا کیونکہ نادر آفندی سعدیہ بیگم اور ریحان لاہور چلے گئے تھے کیونکہ عمر مامون کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا جس میں ان کو کافی چوٹین آئین تھیں …
اچانک ان سب کو جانا پڑا لاہور , گھر کا واحد مرد علی تھا فی الحال اس لیئے ماہین نے اس سے کہا آنے کو , ورنہ وہ کبھی اسے کہتی نہ تھی … اس وقت گھر پر ریما اور اس کے دونوں بچے اور ماہین اور اس کی بیٹی تھے …
“سوری آپی لیٹ ہوجائے گی کیونکہ میں دوستوں کے ساتھ ہوں , میرا دوست جرمنی جارہا ہے صبح کو چھے بجے کی فلائیٹ ہے , تین بجے تک ایئرپوٹ ڈراپ کرکے آجاؤں گا ویسے احد بھائی بھی ہمارے ساتھ ہے … علی نے بتائی اپنی مجبوری …
“ریما بھابھی کیا سوچیں گی , ابھی تم پر گھر کی ذمیداری ہے اور تم ہی ایسا کر رہے ہو … ماہین نے سمجھایا …
“میں نے بھابھی سے بات کرلی ہے آپی … وہ سارے دروازے بند کرچکی ہیں … آپ بھی اپنا خیال رکھنا … گھر کی چابی میرے پاس پڑی ہے میں خود ہی ا جاؤں گا اپ بے فکر ہو کر سو جائیں … علی نے بتایا تو ماہین نے کہا …
“چلو ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا … اللہ کی امان میں … اللہ حافظ کہے کر ماہین نے کال کاٹی … علی نے بھی سامنے سے کہا اللہ حافظ اور کال کاٹ دی ….
@@@@@@@@@@
دامن خالی ہاتھ بھی خالی دستِ طلب میں گردِ طلب
عمرِ گریزاں عمرِ گریزاں! مجھ سے لپٹ اور مجھ پر رو
وہ گہری نیند میں سوئی تھی ۔۔۔ اچانک اسے اپنے قریب کسی کا وجود محسوس ہوا ۔۔۔ جہاں تک اسے یاد تھا وہ تنہا کمرے میں سوئی تھی اپنی بیٹی کے ساتھ … پھر کسی کا پاس آنا اسے چونکا گیا ۔۔۔ اس کی کمر سے تھامتا اسے اپنے قریب کرنا, وہ تڑپ اٹھی ۔۔۔
“کون ۔۔۔ وہ بے ساختہ بولی …
“میرے سوا رات کے اس پہر اور کون یوں تمہارے پاس کمرے میں آسکتا ہے ۔۔۔ بھاری لہجے میں کہتا وہ اسے اپنے قریب تر کرنے لگا ۔۔۔
“آپ ۔۔۔ وہ حیران تھی اور بےیقین بھی ۔۔۔ ایک تو اس طرح اس کا آنا اور دوسرا یوں حق جتانا ۔۔۔ وہ بسس اتنا ہی کہے سکی ۔۔۔ ذہن کچی نیند سے بیدار ہونے کی وجہ الجھا ہوا بھی تھا ۔۔۔
“ہاں تمہارا شوہر تمہارا مجازی خدا ۔۔۔۔ اس کے لہجے میں بولتا حق اور ملکیت کا احساس اور حق جتانے والے انداز ۔۔۔ وہ تڑپ ہی اٹھی تھی ۔۔۔ کتنے زخم جو ناسور بنے ہوۓ تھے ان کو ادھیڑ چکا تھا یہ شخص اس لمحے ۔۔۔
“جائیں یہاں سے اس وقت , نکلیں میرے کمرے سے … وہ غصے سے بولی تھی …
“تمہارا کمرا میرا , میری ہر چیز تمہاری , ہم الگ تھوڑی ہیں … دانش نے ڈھیٹ پن کی حد ہی کردی تھی یہ سب کہے کر … ماہین کو اچھی طرح سمجھ میں اگیا تھا اس وقت دانش کے کیا ارادے ہیں اور یہ سب کس کی وجہ سے ہو رہا ہے وہ بھی وہ اچھی طرح سمجھ گئی تھی رات کے اس پہر اونچی آواز میں چلا کر نہ اپنی بیٹی کی نیند میں خلل ڈالنا چاہتی تھی اور نہ کوئی تماشہ کرنا چاہتی تھی اسی لیئے بہتر لگا کہ وہ ہی منظر سے ہٹ جائے …
اسی لمحے وہ تڑپ کر اٹھی اور کمرے سے جانے کا فیصلہ کرگئی وہ اس ڈھیٹ شخص کے نا منہ لگنا چاہتی تھی اور نا کوئی بات بڑھانا چاہتی تھی اس وقت ۔۔۔
“کہاں جارہی ہو ۔۔۔ دانش نے پوچھا …
وہ اس کو اگنور کرتی سلیپر پاؤں میں پہنتی اپنا ارادہ اس پر ظاہر کرگئی ۔۔۔۔ اس سے پہلے وہ واقعی نکل جاتی اس کی پہنچ سے دور وہ اس کا بازو تھام گیا ۔۔۔
“کہاں جارہی ہو ۔۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے اتنا سفر کرکے آیا ہے شوہر نا چاۓ نا پانی کا پوچھا , اکڑ سے کمرا چھوڑ کر جارہی ہو ۔۔۔ وہ اس دن کی بحث کے بعد پورے دو ہفتے بعد آیا تھا …
“میں کمرے سے جارہی ہوں مجھے نیند ارہی ہے آرام کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔ وہ نروٹھے پن سے کہے کر اپنی بیزارہت اس پر ظاہر کرگئی ۔۔۔۔ اس کا انداز ناگواری لیۓ ہوۓ تھا ۔۔۔۔
“انتہائی ضدی اور بدتمیز ہو اور تاعمر رہوگی تم , پر مجھے بھی تم جیسیوں کو ۔۔۔۔
“تو جان چھوڑیں میری اگر اتنی بری لگتی ہوں ۔۔۔ وہ اس کی بات کاٹ کر بولی تھی غصے سے ۔۔۔۔ بمشکل ضبط کیۓ ہوۓ تھی ورنہ دل تو چاہ رہا تھا اپنی ساری بھڑاس نکال دے اس پر ۔۔۔ دونوں کی آواز کم ہی تھی البتہ …
“چھوڑ ہی تو نہیں سکتا ڈیئر وائف , پر سدھار تو ضرور سکتا ہوں تمہیں ۔۔۔۔ دانش کا انداز ہی الگ تھا … ماہین کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی ہوئی …
“بازو چھوڑیں میرا ۔۔۔ ماہین نے کہا غصے سے … اس کی نظریں اپنی بیٹی کی طرف تھیں جسے دانش کاٹ میں لٹا چکا تھا …
“فی الحال تو بلکل بھی نہیں ۔۔۔ اس نے کہا …
“رات بھی ہے دیکھا جاۓ تو موقع بھی ہے دستور بھی ہے تنہائی میاں بیوی کے خاص لمحوں کو امر کرتی ہے ۔۔۔ کیا خیال ہے پھر ۔۔۔ اتنا کہتا وہ اسے نظریں جھکانے پر مجبور کرگیا , لمحوں میں فیصلہ کرتے ہوۓ اس کے گلے سے دوپٹہ نکالتا اسے بیڈ پر گراکر لیمپ آف کرگیا ۔۔۔۔
وہ تڑپ اٹھی اس کے لمس پر , پر وہ جابجا اس پر اپنا حق جتارہا تھا ۔۔۔ اپنے اندر ہمت جمع کرتی وہ اس کے سینے پر دباؤ ڈال کر اسے خود سے دور کرکے بیڈ پر سے اٹھی اور غصے کی شدت سے بولی ۔۔۔۔
“پلیز یہ سب نہیں , جاکر یہ سب اپنی پہلی بیوی کے ساتھ کریں مجھے بخش دیں ۔۔۔۔ آپ سے جڑا کوئی تعلق اب میرے لیۓ معنی نہیں رکھتا ۔۔۔ میں نکل آئی ہوں اس فیز سے ۔۔۔ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش رہیں مجھے بخش دیں خدارا مجھے بخش دیں اس آذیت سے ۔۔۔
وہ ہاتھ جوڑتی بولی وہ اس کے نڈر انداز دیکھتا رہ گیا ۔۔۔۔ وہ جو کبھی اس کے سامنے یوں نہ بولی تھی ہمیشہ چپ رہتی تھی دوسروں کے لیۓ چاہے جیسی بھی تھی وہ پر اس کے لیۓ ہمیشہ خاموش بیوی کا رول پلے کرتی آئی تھی شاید اس میں زیادہ ہاتھ دونوں کے ایج ڈیفرینس کا بھی تھا وہ اس سے عمر میں اچھا خاصا بڑا جو تھا …
وہ اس کا یہ انداز دیکھتا رہ گیا ….
جاری ہے ….
