Rate this Novel
Episode 43
میرے درد جو جو زبان ملے
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 43
“بس کالیج اور یونیورسٹی کے زمانے سے جب لکھنا شروع کیا ہی یہ نام ہی رکھا ہے تو بس جب کمپنی رجسٹرڈ کروائی یہی لکھا نام … ماہین نے جلدی سے کہا سنبھل کر …
“اچھا پر مجھے لگا شاید کسی خاص نام کو یہ ریفرنس کرتا ہے … جنید شاہ نے کہا …
“ناٹ سو … وہ بے نیازی سے بولی پر جنید شاہ کی جانچتی نظریں مرکوز تھیں ماہین کے چہرے پر , ماہین اگنور کرتے ہوئے بولی “مجھے لگتا لیٹس فوکس آن ورک …
“ہممممم … اوکے , تم کام کرو … مجھے کام ہے چلتا ہوں پھر … جنید اتنا کہے کر کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا … وہ اسے جاتا دیکھتی رہ گئی …
کیا یہ کافی نہیں جینے کو صبا
فقط تیرا نام خود سے جوڑے رکھا ہے
ماہین کی آنکھ سے ایک آنسو اگرا جسے وہ صاف کرگئی پر دل کا کیا کرتی جو اکثر بین کرتا رہتا اس کو یاد کرکے جس کی یاد سے بس بھاگتی رہتی تھی وہ …
@@@@@@@@@
“کیا خیال ہے .. پھر کل ہی رشتہ مانگنے جاؤں … انشاء نے کہا عیان اور جنید سے جو ڈنر کے بعد جب قہوہ پی رہے تھے اس وقت …
“ہمممم … سہی ہے میرا خیال ہے علیزے کے ساتھ جانا چاہیئے تمہیں … عیان نے مشورہ دیا …
” ائی تھنک ڈیڈ از رائٹ مام … جنید قہوہ کی سپ لیتا ہوا بولا …
“میرا خیال ہے تو پھر ہم دونوں کے ساتھ علیزے اور عمر دونوں کو جلنا چاہیے کیا خیال ہے … انشاء نے کہا …
“تمہیں لگتا ہے مجھے چلنا چاہیے تم لیڈیز نہیں ہو کر ا سکتی … عیان نے کہا پر سوچ انداز میں …
“عیان میرا خیال ہے کہ جو میں نے کہا ہے وہی بہتر ہے علیزے اور عمر کے ساتھ ہی ہم دونوں جائیں گے اور پھر بات کریں گے … انشاء نے کہا جس پر جنید نے بھی ساتھ دیا تو آخر عیان کو ماننی پڑی انشاء کی بات …
@@@@@@@@
علیزے بے انتہا خوش تھی یہ جان کر کہ انشاء اور عیان سب جاننے کے باوجود اپنے اکلوتے بیٹے کے لیئے ماہین کا ہاتھ مانگ رہے ہیں … عمر کے اندر سکون سا اترا تھا اس لمحے …
دو دن میں کراچی اگئے وہ دونوں تاکہ عیان اور انشاء کے ساتھ جاکر ماہین کا رشتہ مانگ سکیں … ان لوگون کے انے پر سعدیہ بیگم اور نادر آفندی بے انتہا خوش ہوئے ان کو آئے گھنٹہ بمشکل ہوا تھا جب طاہر آفندی اور شائستہ بھی اگئے تھے … سب کے ساتھ ساتھ ریما بھی شاک تھی کیونکہ وہ خود انجان تھی کہ آج ہی اس کے ماں باپ آجائیں گے … سچوئیشن کچھ عجیب ہی رخ اختیار کرگئی جب ان لوگون نے ذیشان کے لیئے ماہین کا ہاتھ مانگا جس پر سھولت سے نادر آفندی نے بتایا ماہین کے لیئے جنید شاہ کا رشتہ آیا ہے اور وہ اس پر غور کررہے ہیں …
بحرحال باہر سے کھانا منگایا گیا سب نے مل کے کھایا خوشگوار ماحول میں …
نادر آفندی اور سعدیہ کا واضع رجحان عیان اور انشاء کی طرف تھا جس کو اچھے طریقے سے شائستہ بیگم نے محسوس کیا …
@@@@@@@@@
“امی آپ کو کس نے کہا بغیر مجھ سے پوچھے اس طرح رشتہ لے جانے کو … مجھ سے پوچھا تو ہوتا .. ذیشان نے غصے سے کہا …
“مجھے لگا یہی ٹھیک ہوگا تم دونوں کے لیئے … شائستہ بیگم نے کہا نرمی سے … جس پر وہ ضبط کرتا ہوا بولا ” آپ کو کیوں نہیں سمجھ آتا جو دانش بھائی نے کیا اس کے بعد وہ دوبارہ کبھی اپنی بیٹی اس گھر میں نہیں بھیجیں گے … سمجھ کیوں نہیں آتا آپ کو … وہ شدت سے بولا …
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ دوبارہ بولا …
“جس شخص کا رشتہ آیا ہے ماہین کے لیئے وہ بہتریں شخص ہے آپ کا بیٹا اس کے اگے کچھ نہیں , جانتیں ہیں یہ وہ شخص ہے جس کے پاس بھاگ بھاگ کر آپ کا بیٹا جاتا رہا کیونکہ آپ کے بیٹے کو اپنے گھر میں تیسرے فرد کا درجہ ملا کرتا تھا پر اس شخص نے اس کی دوستی نے مجھے ہمیشہ اسپیشل فیل کروایا جس نے بھائیوں کی طرح مجھے پیار کیا مجھے باپ کی طرح گائیڈ کرتا رہا کیونکہ میرے باپ کو تو اپنے ایک بیٹے سے فرصت کہاں تھی جو دوسرے کو دیکھتے , میں تڑپتا رہتا اپنے باپ کی ایک نظر کو … مجھ جیسا ادھورا شخص ماہین کو دے ہی کیا سکتا ہے سوائے محرومیوں کے … خاص لوگوں کو ہی خاص لوگ میسر ہوا کرتے ہیں اور مجھ جیسے تو بس خالی دامن رہا کرتے ہیں …
وہ دیکھتی رہ گئیں اپنے بیٹے کے چہرے پر کرب کے تاثرات ایک ماں کے دل سے کوئی پوچھتا کہ اس پر کیا گزر رہی تھی اس کے اندر کا ندامت تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا…
“ذیشان میری جان … مجھے معاف کردے بہت غلط کیا میں نے تمہارے ساتھ … میں اپنے بھائی کے پاؤں پکڑ لوں گی تیری خوشی کے لیئے , ماہین کو ….
وہ ان کی بات کاٹتا ہوا بولا …
“بسس امی آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے , میرا دل مطئمن ہے یہ سوچ کر کہ ماہین کے لیئے بہتریں انتخاب جنید ہی ہے … اب آپ لوگ ایسا کچھ نہیں کریں گے …
وہ قطعی لہجے میں بولا تھا …
طاہر آفندی جو یونہی وہاں سے گذر رہے تھے ذیشان کی باتیں سن کر افسردہ سے ہوگئے تھے کیونکہ آج ان کو شدت سے اپنے بیٹے کی محرومیوں کا احساس ہوا اور ساتھ ہی افسوس جاگا کہ وہ کبھی اچھے باپ نہ بن سکے یہ درد ان کو تاعمر رہنا تھا جس بیٹے کو انہوں نے اپنا سب کچھ سمجھا تھا اسی بیٹے نے ان کو کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ چھوڑا تھا اور جس بیٹے کو وہ کسی قابل نہ سمجھتے تھے اس نے ہی ان کا سر فخر سے اونچا کیا تھا اور بروقت سمجھداری سے جام لیتے ہوئے سب کچھ سنبھال لیا اس نے , وہ نایاب کا بھی حال احوال اور خبر رکھتا ایسا نہ تھا کہ اسے پاغل خانے میں ڈال کر بھول جاتا … احساس ندامت بڑھنے لگا تھا ان کا …
ان کو لگا کے وقت کبھی کسی کے لیے ٹھہرتا نہیں ہے ابھی موقع ہے چاہے جو بھی ذیشان کرے پر وہ اپنے دل کی بات ضرور کہیں گے اسی لیے وہ دروازہ کھول کر سامنے ائے اور ذیشان ان کو حیرت سے دیکھنے لگا اور اپنی انکھوں کی نمی پھوچھنے لگا اور چہرے کا رخ پھیر گیا کیونکہ وہ اپنا درد ہمیشہ ہی اپنے باپ سے چھپاتا آیا ہے …
“مجھے معاف کردو میرے بیٹے بہت برا باپ ہوں میں … ہوسکے تو مجھے معاف کردینا … میرے غلط فیصلے نے تمہاری زندگی کی ساری خوشیاں چھین لیں ہو سکے تو اپنے باپ کو معاف کر دینا بہت خود غرض ہوں میں , بہت بری طرح ناکام ہوا ہوں ایک اچھے باپ کا فرض کبھی نبھا ہی نہیں پایا نا دانش کے لیے اچھا باپ بن پایا نہ تمہارے لیے … حقیقت یہی ہے کہ تمہاری خوشیوں کا گنہگار میں ہوں اگر مجھے ذرا بھی علم ہوتا تمہارا ماہین …. وہ جو ہاتھ جوڑے اپنی کہے رہے تھے ذیشان ماہین کا نام سنتے ہی ان کی بات کاٹ گیا اور ان کے ہاتھ تھامتا بولا …
“پلیز پاپا اس کا نام بھی نہ لیں اس طرح … پلیز میں واقعی نہیں چاہتا اس سے شادی کرنا نا ہی کبھی کسی سے شادی کروں گا … ذیشان کا درد شدت سے محسوس کیا ایک باپ نے … اج نہ صرف ذیشان رویا تھا بلکہ باپ بھی اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے رو رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ ایک ماں بھی اپنی کوتاہیوں پر شدت سے رو رہی تھی … ماں باپ کے غلطیوں کی سزا ان کے بیٹے کو مل رہی تھی اس بات کا افسوس تو ان کو تا عمر رہنا تھا …
“مجھے معاف کردو … مجھے اپنا باپ بننے کا موقع دو … جانتا ہوں اب تمہیں میری ضرورت نہیں رہی پھر بھی مجھ بوڑھے کو معاف کر دو مجھے اپنی زندگی کا تھوڑا سا وقت دو … طاہر آفندی درد سے چور لہجے میں بولے تو بےساختہ ذیشان ان کو گلے لگا گیا اور دونوں باپ بیٹے کی آنکھین نم تھیں …
” پاپا اج بھی مجھے اپ کی ضرورت ہے میں نے اپ کو معاف کیا میرا سارا وقت اپ لوگوں کا ہے … ذیشان کی کہی بات پر طاہر آفندی کے اندر سکون سا اترا تھا …
@@@@@@@@@
“کیسا رہا آج کا دن مام , سب ٹھیک رہا … جنید شاہ نے پوچھا ان کے روبرو بیٹھتے ہوئے … کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ بولیں …
“جنید , آج ماہین کے لیئے ایک اور رشتہ آیا تھا … انشاء نے ٹھر کر کہا …
“کس کا مام … جنید نے کہا …
“تمہارے دوست کا تم کو پتا تو ہوگا ماہین ذیشان کے بڑے بھائی کی بیوی رہ چکی ہے اب وہ لوگ ذیشان کے لیئے مانگنے آئے تھے رشتہ … کافی عجیب سچوئیشن ہوچکی تھی , مجھے لگتا ہے ان کا رجحان ہماری طرف ہی ہوگا … باقی جو اللہ کو منظور ہو … انشاء نے کہا سکون سے …
“ہممممم … وہ بس ہنکار کر اور گم صم ہوکر اٹھ کھڑا ہوا …کتنا کچھ اسے یاد آیا وہ جو جانے انجانے میں بھول چکا تھا کیونکہ ذیشان چاہتا تھا وہ بھول جائے سب کیونکہ اس کا پیار اس کے بھائی کی عزت جو بننے جارہے تھا … وہ بھول بھی گیا کیونکہ وہ اپنے دوست کا بھلا چاہتا تھا اس کی اذیت کم کرنا چاہتا تھا نہ کہ بڑھانا چاہتا تھا اس کی باتیں روز روز کر کے شاید یہی وجہ تھی اتنے سالوں میں وہ مکمل طور پر بھول چکا تھا ماہین کو … جنید کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ذیشان کی ماہین کبھی اس کی افس میں آ سکتی ہے کیونکہ اگر وہ اتی تو ضرور ذیشان اسے بتاتا اور اس کے خیال رکھنے کا کہتا اسی لیے اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا یہ وہی ماہین ہے …
کتنے راز تھے جو خودبخود بیان ہوتے چلے گئے جنید شاہ پر , ماہین کی آنکھون میں درد بھرا تاثر ہونٹوں پر مسکراہٹ کے ساتھ , ماہین کی کمپنی کا نام , ذیشان کا ضبط , ذیشان کا خاموش درد بھرا انداز … وہ تو سب سمجھ گیا جو وہ دونوں خود بھی نہیں جانتے تھے ایک دوسرے کے بارے میں …
@@@@@@@
“واؤ واٹ آ پلیزنٹ سرپرائیز جنید شاہ ہمارے گھر آئے … ذیشان اس کے لیئے بانہیں کھولے کھڑا تھا …. یہ ان دونوں کا مخصوص انداز ہوتا تھا جب بھی وہ کئی دنوں کے بعد ملتے تھے یوں تو اکثر ذیشان ہی اس کے پاس ملنے جاتا تھا جنید کم ہی اس کے گھر اتا تھا … ذیشان ہمیشہ خود کو بھرے پورے گھر میں بھی اکیلا اور تنہا محسوس کرتا تھا کیونکہ اس کا باپ ہمیشہ ہی دانش کو اس کے اوپر رکھتا تھا …
ذیشان کے چہرے پر سکون تھا جبکہ جنید شاہ غصے کو ضبط کرتا اس کے قریب آیا اور ایک زناٹے دار تھپڑ ماری ذیشان کے گال پر …. وہ گال پر ہاتھ رکھے اپنے بہترین دوست کو دیکھتا رہ گیا … کچھ لمحوں کے بعد وہ سنبھل کر بولا …
“واٹ … اتنا برا میرا پوز لگا کہ یہ تھپڑ ماری ہے تم نے میرے منہ پر جنید شاہ … بندہ زبان سے بھی کہہ سکتا ہے تھپڑ مار کر کہنے کی کیا ضرورت تھی … ذیشان گال سہلاتا ہوا بول رہا تھا …
“اور واقعی تمہیں لگتا ہے یہ تھپڑ میں نے تمہیں اس لیے ماری ہے کہ مجھے تمہارا یہ پوز پسند نہیں ایا … جنید شاہ نے آنکھین دکھاتے ہوئے کہا …
“آف کورس اسی وجہ سے ماری ہے اور میں نے کیا کیا ہے … ذیشان ابھی بھی گال سہلا رہا تھا کیونکہ واقعی اس کی تھپڑ کافی زور آور تھی …
” بہت بھاری ہاتھ ہے تمہارا … جبڑا توڑ دیا کمینے , یہ کالج کا زمانہ نہیں ہے کہ درد نہیں ہوتا تھا سب برداشت کر جاتے تھے جب دوستوں کے ایسے مذاق پر , قسم سے بہت درد ہو رہا ہے جنید … ذیشان نے کہا جنید اب بھی اسے شدت سے گھور رہا تھا جیسے بہت ضبط سے کام لے رہا ہو …
جب جنید کچھ نہیں بولا تو دوبارہ ذیشان بولا … “چلو اتنا ہی لحاظ کر لیتے ہیں سلیبرٹی کا چہرہ ہے نشان برے لگیں گے … قسم سے یار بہت درد ہورہا ہے …
” چپ ایک لفظ بھی مت کہنا ذیشان آفندی , میرے درد کا تمہیں احساس ہے جو میرے اندر اٹھ رہا ہے … میرا سوچا تم نے ایک بھی دفعہ … جنید غصے سے بولا …
“کیا ہوا … ذیشان اب کے سیریس ہوکر بولا …
” شرم کرو تم کہ تمہیں اتنا نہیں پتہ کہ تم نے کیا کیا ہے یہ دوستی تم نے نبھائی ہے اور اتنے ارام سے تم نے سوچ کیسے لیا کہ میں تمہاری ماہین سے شادی کرنا چاہوں گا … تمہیں کیا لگا کہ میرے ذہن سے اس کا نام نکل گیا ہے تو مطلب میں سب کچھ بھول چکا ہوں تو اپنی غلط فہمی دور کر لو مجھے سب یاد اگیا ہے , میری یاداش نہیں گئی تھی سمجھے … جنید کے لہجے میں غصہ تھا …
“جنید … ذیشان نے کچھ کہنا چاہا تو وہ کاٹ کر بولا …
“چپ کر جاؤ تم ذیشان آفندی … تم دوستی کا مان نہیں رکھ سکے ہو اور مجھے لگتا ہے تم اپنی محبت کا بھی مان نہیں رکھنا چاہتے … تمہیں شرم نہیں ائی مجھے میری نظروں میں گراتے ہوئے … ہاں مجھے نہیں پتہ تھا تمہارا اور ماہین کا کیا تعلق ہے اور تمہیں تو پتہ تھا نا کہ ماہین میری افس میں کام کررہی ہے … تم جھوٹ مت بولنا تمہیں پتہ تھا نا … وہ تنبہی کرتے ہوئے انداز میں پوچھ رہا تھا اخری بات …
“ہاں پتہ تھا پہلے دن سے پتا تھا … ذیشان نے اعتراف کیا …
“تو تمہارا کام تھا نا کہ مجھے بتاتے اور کہتے اس کا خیال کرتا … کہا کیوں نہیں … جنید لڑاکا عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ رکھے پوچھ رہا تھا …
“اور ماہین یہ سب پسند نہیں کرتی اس لیے نہیں کہا تھا پھر حالات ایسے ہوتے چلے گئے کہ تمہیں بتانے کا موقع ہی نہیں ملا … ذیشان نے بتائی اصل وجہ …
“تو کیوں چھپایا مجھ سے ہاں بولو … اف خدایا تم نے بتاتے تو کبھی میرا رشتہ وہاں نہ جاتا سمجھے … خدانخواستہ بات اگے بڑھ جاتی تم سوچ سکتے ہو میرا کیا حال ہوتا تمہیں واقعی میرا احساس نہیں اگر میرا احساس ہوتا تو کبھی میرے ساتھ یہ دھوکہ نہیں کرتے … یہ دوستی سب سے اوپر ہے میرے لیئے سمجھے … جنید کے اس انداز پر ذیشان کو بے انتہا اس پر پیار ا رہا تھا واقعی وہ دنیا کا خوش نصیب شخص تھا جسے اتنا محبت کرنے والا دوست ملا تھا …
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ سنبھل کر بولا…
“جنید کول ڈاؤن پلیز … میری ایک بات غور سے سنو یار …
“کیا سنو بولو … چنید چیر پھاڑ لہجے میں بولا …
“تم بہت اچھے ہو پلیز سمجھنے کی کوشش کرو اب میرا اس سے ملنا ممکن نہیں ہے اور نہ میں چاہتا ہوں ایسا کچھ ہو اور مجھے یقین ہے ماہین نہیں چاہے گی ایسا کچھ … بہتر یہی ہے تم دونوں ہی … ذیشان ٹھہرے ٹھہرے لہجے میں اپنی بات مکمل کرنے ہی لگا تھا کہ جنید اس کی بات کاٹ گیا …
“بسسس ایک لفظ نہ کہنا ورنہ گلا دبا دوں گا سمجھے … جنید نے غصے سے کھولتے ہوئے کہا …
“جنید سمجھنے کی کوشش کرو , یہ مناسب نہیں بھول جاؤ پرانی باتیں , میں بہت اگے نکل ایا ہوں اس سب سے , ماہین بھی نکل آئی ہے … ہمارا ملنا ممکن نہیں ہے اب … ذیشان نے نرمی سے سمجھاتے ہوئے کہا اس کے چہرے کے پرسکون تاثرات پر جنید کو غصہ انے لگا …
“پاغل ہو تم دونوں , اور اسی بےوقوفی میں مرجانا دونوں سمجھے … جنید نے غصے سے دانت پیستے ہوئے کہا …
ذیشان اس کو دیکھتا رہ گیا , اسے بہت مشکل لگ رہا تھا جنید شاہ کو قائل کرنا …
جاری ہے ….
