Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 9

اگلی صبح وہ جلدی اٹھ گئی … آج اس نے دانش کے اٹھنے کا انتظار تک نہ کیا … فریش ہوکر روم سے باہر اگئی , کمرے میں اسے گھٹن کا احساس ہورہا تھا …

وہ خاموشی سے اکر لان میں بیٹھ گئی … صبح کی ہوا ذہن کو سکون بخش رہی تھی … آج اس کے گھروالون نے آنا تھا یہی سوچ کر وہ خوش تھی … واٹس اپ پر سب نے الگ الگ میسیج کر کے بتایا کہ گیارہ بجے تک ہم تمہارے پاس ہونگے … سب کی بےچینی اور بیقراری وہ خوب سمجھ رہی تھی … یہی ایک لمحہ تھا جس نے اسے کل سے آج تک میں خوش کیا …

اسی لمحے اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے ہی شانی بلیک ٹراؤزر شرٹ میں جاگنگ کرتا نظر آیا … ماہین اٹھ کر اندر چلی گئی جاکر لاؤنج میں بیٹھ گئی … گھڑیال میں ابھی سات ہی بج رہے تھے … وہ شدت سے گیارہ بجنے کا انتظار کرنے لگی … شادی کے بعد ہی اسے احساس ہورہا تھا کہ ماں , باپ , بھائی اور بہن خدا کی نعمت ہیں یہ سارے رشتے , اس سب کے لیئےجتنا شکر ادا کریں اللہ کا وہ کم ہے , کتنے قیمتی رشتے ہیں سارے , زندگی کی خوبصورت اور سکون انہی رشتوں میں ہے … ماہین کو شدت سے سب کی یاد ارہی تھی …

“ماہین تم یہان اس وقت … شائستہ بیگم نے پوچھا …

“پھپھو فجر کی نماز کے بعد نیند نہیں ارہی تھی اس لیئے باہر اگئی تازی ہوا کھانے … ماہین نے سھولت سے کہا …

“تو لان میں بیٹھتی بیٹا … انہون نے پیار سے کہا …

“پہلے وہی بیٹھی تھی ابھی ائی ہوں اندر … ماہین نے بتایا …

“ناشتہ کھانا ہو تو بتادو … ابھی بنادوں … پھپھو کے ہر انداز میں اس کے لیئے پیار تھا …

“نہیں پھپھو , بھوک نہیں , امی والوں کے ساتھ کھاؤں گی … ماہین نے کہا …

“چلو جیسے تمہاری مرضی … وہ پلٹ کر جانے لگیں تو ماہیں کی آواز نے اس کے قدم روکے …

“پھپھو ایک بات کہوں … ماہین نے اپنے دونوں ہاتھ آپس میں پیوست کیئے ہوئے جیسے اپنی گھبراہٹ پر قابو پانا چاہا ہو اس نے …

“ہمممم کہو … وہ دل ہی دل میں گھبراگئیں کہ کہیں دانش کی کوئی شکایت نہ کردے کیونکہ اس کے انداز انہیں پریشان ہونے پر مجبور کررہے تھے …

“میں کراچی جاؤں امی والوں کے ساتھ کچھ دن کے لیئے … ماہین کے پاس فرار کا کوئی اور راستہ نہ تھا اس لیئے سب سے آسان راستہ اس نے چنا … یہیں اس سے سب سے بڑی غلطی ہو گئی کہ اسے اپنی ساس سے ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی , یہ بات اسے اپنے ماں باپ کی موجودگی میں کہنی چاہیے تھی …

“ماہین , ابھی یہ دن میان بیوی کے ایک دوسرے کو سمجھنے کے ہیں بعد میں جاتی رہنا … یہ بات اب مت کہنا ورنہ تمہارے انکل مجھ سے خفا ہوں گے کہ تمہاری بھتیجی چند دن سسرال میں رہ نہ سکی اور میکے جانے کی باتیں کررہی ہے ابھی سے , تمہارے پھوپھا کو ایسی باتیں بلکل پسند نہیں , یاد ہو تمہیں کہ وہ ریما کو ہی کتنے وقت کے بعد لاہور لائے تھے , اس کی شادی بعد , وہ اپنے اصولوں کے بہت پکے ہیں … پھپھو پیار سے اسے سرزش کرتیں سب باتیں اسے سمجھاتی گئیں …

“جی پھپو … ماہین نے کہا , پپو اچھا خاصا اسے لاجواب کر گئی تھیں …

“تم تو سمجھدار ہو , تمہارے ماں باپ کہیں تب بھی جانے کی ضرورت نہیں فی الحال , دیکھو یہ مناسب نہیں لگتا … پھر میں خود ہی تمہیں بھیجون گی میکے بعد میں … اب تو ان کے لہجے سے چاشنی ٹپک رہی تھی ماہین سے بات کرتے ہوئے کیونکہ وہ کسی طرح اس کا دل میلا نہیں کرنا چاہتی تھی نہ اپنی طرف سے نہ گھر والوں کی طرف سے …

“جی پھپھو … وہ سوائے جی کے کہے بھی کیا سکتی تھی …

کچھ لمحے خاموشی کی نظر ہو گئے اور اس خاموشی کو شائستہ بیگم نے ہی توڑا اور کہا …

“ماہین ایک بات کہوں …

“جی کہیں پھپھو …

“دیکھو یہ گھر اب تمہارا ہے یہاں پر ہم سب تمہارے اپنے ہیں کوئی بھی مسئلا ہو مجھے کہنا , اس گھر کی باتیں اپنے اس گھر میں کرکے کبھی ہمیں شرمندہ مت کرنا … تم تو ہماری بیٹی ہونا اب , مجھے تم پر بہت بھروسہ ہے , تم تو اس خاندان کی سب ہوشیار اور سمجھدار لڑکی ہو , تم ہمیشہ دونوں گھروں کا مان بناکر رکھو گی , مجھے یقین ہے تم پر … وہ اس کے چہرے پر ہاتھ پھیر کر پھر اس کا ماتھا چوم کر آخری جملے کہے تھے , ان کا قائل کرنے والا انداز ماہین کو اپنی لپیٹ میں اچھا خاصا لے چکا تھا …

ماہین کا دل بھر آیا , ساتھ ہی ساتھ کندھون پر ان دیکھا بوجھ محسوس کیا اس نے … ایسا لگ رہا تھا جیسے اس لمحے اس وقت پھپھو نے اس کے ہونٹوں پر قفل لگادیا ہو جیسے …

وہ گم صم اور اداس ہوگئی تھی اس لمحے …. ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے اسے گہرے کنوئیں میں پھینک دیا ہو رسیوں سے باندھ کر , پھر بھی کہے رہے ہوں تم تو بلکل آزاد ہو ….

ماہین کے چہرے کا رنگ لگ بھگ اڑ چکا تھا , اس کا گم صم انداز پھپھو نے شدت سے محسوس کیا اسی لیے اب بات بدلتے ہوئے وہ بولیں …

“ماہین ولیمے کا جوڑا اور زیور سب رکھ دیا ہے نا … دن میں پارلر جانا ہے تم نے نور کے ساتھ …
ان کی بات پر وہ سنبھل کر بولی ….

“جی پھپھو وہ کل رات ہی رکھ دیا تھا سب سامان … پھپھو نے اسے مسکرا کر دیکھا پر وہ تو پھیکی سی مسکراہٹ بھی اپنے لبوں پر نہ لا سکی … خاموشی کا جمود طاری ہوتا ہے اس سے پہلے شائستہ بیگم نے کہا …

“آؤ باہر بیٹھتے ہیں , میں تمہارے اور شانی کے لیئے چائے بناتی ہوں , وہ بھی جاگا ہوا ہے …

“ٹھیک ہے پھپھو … دل تو چاہا انکار کردے پر مناسب نہ لگا اس لیئے ان کی بات مان لی …

“میں بنادوں چائے پھپھو … ماہین نے کہا …

“ارے نہیں , ابھی کام کو ہاتھ لگانے کی ضرورت نہیں , نئی دلہن ہو , میں تو تمہارے ابھی لاڈ اٹھاؤں گی …

ان کے انداز پر ماہین کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اگئی , انہون نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے ڈھیر ساری دعائیں دیں …

پھر وہ ان کے ساتھ کچن میں کھڑی ہوگئی اور دونوں ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگیں … ماہین کا من فی الحال کچھ حد تک ہلکہ پھلکہ ہوچکا تھا اس وقت ….

@@@@@@@

گیارہ بجے کے بعد سب اگئے تھے … ماہین سج سنور کر بیٹھی تھی … آج اس کا میک اپ ریما نے کیا تھا تاکہ نشان واضع نظر نہ آئیں کسی کو … ریما شرمندگی کے مارے نظر نہیں ملا پارہی تھی … جبکہ ماہین نے اپنے کسی طرز عمل سے کسی کو شرمندہ نہیں کررہی تھی نہ کرنا چاہ رہی تھی … تیار کرنے کے بعد ریما مطئمن ہوئی تھی …

وہ اپنوں کے بیچ بیٹھی تھی یہ سکون ہی بہت تھا ,اس کے اپنے ساتھ ہیں …سب کے ساتھ اس نے ناشتہ کیا کچھ دیر بعد فریش سا دانش آیا اور سب سے گرم جوشی سے ملا … ماہین حیران ہوئی اس کا ہشاش بشاش انداز دیکھ کر … جبکہ طاہر آفندی نے جتا کر دیکھا وہ اچھی طرح سمجھ رہے تھے وہ اپنی کرچکا ہے اور بتا بھی چکا ہے , وہ اپنے سارے ڈر ,خوف اور وسوسے نکال چکا تھا اس لیئے اس کا ہر انداز قابل اطمینان بخش تھا ڈھونڈنے سے بھی اس کے چہرے پر ملال نِظر نہ آیا ان کو …

“اپنی ساری مصیبتیں ہمارے سر ڈال کر اب خود کتنا خوش اور مطمئن بیٹھا ہے, پتہ ہے اسے , ہم نہیں اس کے سسرال کو بتا سکتے ہیں جو وہ کر چکا ہے … طاہر آفندی کو شدید غصہ آرہا تھا دانش پر جو اتنی بڑی حماقت کرچکا تھا , جس کا احساس تک نہیں تھا اسے …

وہ سکون سے نادر صاحب اور ریحان سے باتین کرنے لگا کچھ دیر بعد وہ پاس گزرتی نور سے بولا …

“نور ناشتہ لگاؤ ہمارا جلدی سے ڈائینگ پر …

دانش کی بات پر وہ بولی … “ہمارا …. جی بھائی پر سب ناشتہ تو کرچکے ہیں … ہمارا لفظ پر اس نے زور دیا تھا کیونکہ وہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ لفظ ہمارا سے کیا مراد تھی دانش کی اور کس کے لیئے یہ لفظ استعمال کیا تھا انہون نے ….

“ماہین تم نے ناشتہ کرلیا میرے بغیر … دانش نے نرمی سے کہا پر نور کو اس کا لہجہ چاشنی بھرا لگا … ماہین کے ساتھ ساتھ نور , ریما , دعا سب کو تقریبا جھٹکا ہی لگا تھا کیونکہ دانش نے کبھی اس طرح کسی سے بات نہیں کی تھی , نہ کبھی کسی نے اسے دیکھا تھا کسی کی اتنی کیئر کرتے , اس لیے شاک لگنا تو بنتا تھا …

اس سے پہلے وہ کچھ کہتی وہ خود ہی بولا “چلو کوئی بات نہیں کمپنی تو دے سکتی ہو نور تم ناشتہ لگاؤ … ماہیں کے بولنے کا انتظار کیے بغیر وہ اپنی کہے گیا …

ماہیں تو شدید کشمکش کا شکار ہوئی تھی اس لمحے اس کے اس انداز پر , اس طرح تو پچھلے دو دنوں میں اس نے اسے کبھی مخاطب ہی نہیں کیا , اس کے چہرے پر سکون دیکھ کر وہ بھی حیران ہو رہی تھی کیونکہ ایسا سکون اسے کبھی ان تین سالوں میں اس کے چہرے پر نظر نہیں ایا تھا …

نور کو غصہ تو شدید آ رہا تھا پر اتنے لوگوں کے بیچ کوئی تماشہ بھی نہیں کر سکتی تھی اسی لیے خاموشی سے جا کر ناشتہ لگانے لگی ساتھ ہی ساتھ اس نے چائے بھی تیار کر لی کیونکہ اسے پتہ تھا کہ دانش بھائی چائے ضرور پیتے ہیں , ناشتے کے بعد …

کچھ دیر بعد نور نے ان کو بلایا تو دانش نے ماہین کی طرف ہاتھ بڑھایا اور کہا ” آؤ , صرف بیٹھ جاؤ کمپنی کے لیے کیونکہ اکیلے ناشتہ مجھ سے کھایا نہیں جائے گا … اور وہ حیرت سے اس کے ہاتھ کو دیکھتی رہی اور وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ لے گیا …

وہ تو بسس دیکھتی ہی رہ گئی دونوں ڈائینگ پر اکر بیٹھ گئے … سعدیہ بیگم کے دل کو بہت سکون ملا یہ سب دیکھ کر دل ہی دل میں دونوں کی بلائیں بہت ساری لے لیں انہون نے , “اللہ دونوں کو نظر بد سے بچائے , آمین … دل ہی دل میں کہا انہون نے … سکون تو شائستہ بیگم کے اندر بھی اترا ان کے بیٹے نے کم ازکم آج ان کی عزت رکھ لی , اگر پہلے کی طرح منہ بنا کر , موڈ بگاڑ کر رکھتا تو یقینا ان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا خاندان میں … اب ان کے اندر بھی راحت اتری تھی …

ماہین خاموشی سے سرجھکائے بیٹھی تھی اس کے پاس جبکہ وہ سکون سے ناشتہ کررہا تھا کبھی ایک آدھ بات کرلیتا …

“اللہ … ایسا کیوں ہے , میرا دل اس شخص کو دیکھ کر کانپتا کیوں رہتا ہے , کچھ بولا نہیں جاتا مجھ سے , ایسا کیوں ہے … میں کیوں اتنا الجھ رہی ہوں … ماہین سوچ رہی تھی جبکہ اسی وقت دانش نے کہا “کیا ہوا کیا سوچ رہی ہو …

“کچھ نہیں .. اس نے کہنے کے ساتھ نفی میں سرہلایا …

“تو اٹھو , اؤ چل کرسب کے ساتھ بیٹھتے ہیں .. اور وہ اسے اپنے ساتھ لے کر صوفے پر بیٹھ گئے دونوں , اس کے پہلو میں بیٹھ کر ماہین پر گھبراہٹ سوار ہونے لگی تھی , پر وہ خود پر ضبط کیے بیٹھی رہی , وہ جو اتنا کانفیڈنٹ ہو کر ہر ٹاپک پر بات کرنا جانتی تھی اج جانے کیوں وہ اتنی خاموش تھی اور اس میں بولنے کی اتنی سکت بھی نہیں تھی …

دوسری طرف نور افسوس اور تاسف سے اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھی , شانی اس کا جتاتا انداز بخوبی سمجھ رہا تھا … “کاش اپنے بھائی سے ہی شانی کچھ سیکھ لے … واقعی ماہین کے نصیب کا کوئی مقابلہ نہیں , ایسے سخت بندے کو بھی اپنے اگے پیچھے چلا لے گی یہ لڑکی , سوچا نہ تھا … پتہ نہیں اللہ نے ہمیں تو ایسا کوئی ہنر ہی نہیں دیا میں تو ایک سال سے کوشش کر رہی ہوں , شانی کے تو بدلنے کے کوئی آثار ہی نہیں نظر اتے … لگتا ہے میری تو ساری زندگی دوسروں کو دیکھ کر آہیں بھرتے ہوئے اس دنیا سے گزر جاؤں گی …. وہ کلس کر سوچ رہی تھی اندر ہی اندر کڑھ بھی رہی تھی … جانے کیون ماہین سے اس نے بیر باندھ لیا تھا جبکہ دونوں میں تین سال کا فرق تھا , ماہین اس سے تین سال چھوٹی تھی , وہ تو ہمیشہ ہی اس سے خود سے چھوٹی ہی سمجھتی ائی تھی پر جب سے اسے یہ پتہ چلا ہے کہ شانی کا رجحان اس کی طرف تھا تب سے وہ ہمیشہ اسے دشمن کی طرح ہی سمجھتی آ رہی تھی …. اپنے دل سے وہ ماہین کے لیے نفرت اور کدورت چاہ کر بھی نکال نہیں پا رہی تھی …

سب خوش گپیون میں مصروف ہوگئے تھے ….

” تو پھر ماہین کو کب اسلام آباد لے جاؤ گے …. اچانک ریحان نے دانش سے پوچھا … جس پر ماہین چونک کر بھائی کو دیکھنے لگی کیونکہ اتنا جلدی مناسب نہیں لگ رہا تھا یہ سب پوچھنا , اب کیا ہوسکتا تھا اس کا بھائی پوچھ چکا تھا …

“مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے , جب ماہین چلنا چاہے … یہ گھر بھی اس کا ہے وہ بھی گھر اس کا اپنا ہے جہاں رہے … باقی خود ہی کہہ رہی تھی کہ وہ ابھی یہاں رہنا چاہتی ہے سب کے ساتھ … کیوں ماہین … دانش نے اتنا صفائی سے جھوٹ بولا تھا کہ ماہین حیرت میں اس کا چہرہ تکنے لگی … اتنی دیر میں تو وہ اتنا سب پر ثابت کر چکا تھا کہ کتنی انڈرسٹینڈنگ ہے اس کی ماہین کے ساتھ , اس رشتے میں پیار عزت اعتبار سب ہے … “واقعی یہ شخص باتوں کا ماہر کھلاڑی ہے , تم مارکیٹنگ کے ماہر کھلاڑی ہو یہی تمہارا ڈیپارٹمینٹ ہوسکتا ہے …. ماہین نے سوچا پر کہے نہ سکی … جو اس نے سوچا وہ حقیقت بھی تھی کیونکہ دانش بزنس کے اس شعبے سے ہی منسلک تھا …

“ماہین بتاؤ … دانش نے نرم لہجے میں کہا جس پر اسے بولنا ہی پڑا …

“جی بھائی میں نے ہی کہا تھا … ایسا کہنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ ہی نہیں رہا کیونکہ اتنی صفائی سے دانش نے باتوں میں سب کو بہلا لیا … وہ انکار کس منہ سے کرتی …

ریحان اگے سے کیا کہتا اس کے پاس کچھ تھا ہی نہیں کہنے کو کیونکہ جب اس کی خود کی بہن یہاں رہنے میں خوش ہے تو وہ کس حیثیت سے سوال جواب کرے دانش سے… پھر ٹاپک ہی بدل گیا اور دوسری باتوں میں سب مصروف ہوگئے …

@@@@@@

ماہین کو چار بجے پارلر جانا تھا اس لیئے وہ کچھ دیر اپنے کمرے میں اگئی تھی … سعدیہ اور طیبہ اس کے پاس ہی بیٹھی تھیں …

وہ اپنی ماں کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی جب اس کی ماں نے اس کے بالون میں انگلیان چلاتی ہوئی بولیں …

“اگر تمہارے شوہر کو پسند ہو تو تمہیں اس کے ساتھ ہی کھانا کھانا چاہیئے , تھوڑا انتظار کرلیتی … انہوں نے پیار سے سمجھانے والے انداز میں سمجھایا اپنی لاڈلی سمجھدار بیٹی کو …

“امی وہ دانش نے کہا نہیں تھا , تو مجھے کیسے پتا چلتا … ماہین نے ان کو واضح کیا …

“ایک تو ماہین ہر بات کہہ کر تم سے منوانی پڑتی ہے کچھ باتیں سمجھنے کی بھی ہوتیں ہیں … اب ہر وقت میں سمجھا نہیں سکتی تمہیں تھوڑی خود کی بھی عقل استعمال کیا کرو کہ تمہارا شوہر کیا چاہتا ہے تم سے ….

“امی … ماہین نے کہا تو طیبہ نے بھی آنکھین دکھائیں اپنی بہن کو , ماہین دونوں کے بیچ پسس کر رہ گئی …

“چپ کرو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے , میرا خیال ہے تمہیں میری بات سمجھ اگئی ہے … ائندہ ان باتوں کی بارک بینیوں کا خود خیال رکھنا ہے تمہیں , اپنے شوہر کو سمجھنے کی کوشش کرو میری جان , یہی اس رشتے کا تقاضا ہے … سعدیہ بیگم نے اسے سمجھایا …

“اوکے امی اور اس نے اپنا نچلا ہونٹ لٹکایا جس پر طیبہ کو ہنسی آئی …

“امی دیکھیں اپی مجھ پہ ہنس رہی ہیں , میری کلاس جو لگا رہی ہیں آپ … ماہین نے طیبہ کی شکایت جس پر سعدیہ بیگم کو ہنسی اگئی اور طیبہ اس کے بالوں کو بگاڑتی ہوئی بولی …

“ماہین تم بلکل ہی بچی بن جاتی ہو کبھی کبھی …

“اب اپ بھی شروع ہو جائیں گے اپی … ماہین نے مصنوعی افسوس سے کہا …

جب کہ طیبہ کا ابھی چپ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اس لیے وہ بولی …

“ویسے تمہاری عقل کو 21 توپوں کی سلامی دینے کا میرا دل چاہ رہا ہے تمہیں کیا ضرورت تھی دانش بھائی کو منع کرنے کی … چلو ٹھیک ہے کر ہی لیا تھا پر جب بات کھلی تھی تو کم از کم وہیں سب کے سامنے کہہ دیتی نا اسلام اباد جانے کے لیے …

ماہین ان کی کہی بات پر بس چھت کو گھورتی رہی …

اب ماہین انہیں کیا بتاتی اس سے تو یہ شخص یہاں برداشت نہیں ہورہا اور وہاں جا کر کیسے برداشت کر پاتی اس لیے کہیں نہ کہیں وہ مطمئن تھی کہ وہ یہاں پر ہوگی کبھی کبھی دانش اتا جاتا رہے گا یہی بہت تھا اس کے لیے … ماہین کو اچھی طرح اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ اس رشتے کو لے کر ابھی شاید تیار نہیں اس لیے دانش کا رویہ اسے سمجھ نہیں آ رہا یا دانش کے لیے جس طرح اس نے اپنے دل کے دروازے بند کر لیے تھے اس وجہ سے اس کا ہر انداز شاید اسے غلط لگ رہا تھا … پچھلے دو دنوں سے وہ خود کو ہی سمجھا رہی تھی , بہلا رہی تھی , پر سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کہاں وہ غلط ہے , کہاں صحیح ہے , اور کیا کر سکتی ہے وہ اگر غلط کو صحیح کرنے کے لیے چاہے تو …. دانش اس کا کزن ہونے کے باوجود کبھی اس کی کوئی فرینکنس نہیں رہی نہ کبھی زیادہ بات ہوئی سوائے سلام دعا کے اور اتنے زیادہ عمر کے فرق نے اس کے اندر ایک قسم کا حجاب ڈال دیا تھا کہ وہ اس کے سامنے کچھ کہے ہی نہیں پا رہی تھی اسے اس رشتے نے الجھا کر رکھ دیا تھا … تین سال اتنا لمبا عرصہ ہو چکا تھا ان کے نکاح کو , پھر بھی دل راضی اب تک نہ تھا , اخر کیوں , ایسے کئی کیوں اس کے من میں دو دنوں میں ا رہے تھے جارہے تھے , بس الجھن تھی کہ بڑھتی ہی جارہی تھی ….

“ماہیں ہوش کرو , کیا سوچنے بیٹھ گئی , کہیں سو تو نہیں گئی , کیا بیٹھے بیٹھے , اتنی تھک گئی ہو کیا …. طیبہ نے ایک ساتھ کئی سوال کرلیئے …

“سوری اپی کچھ نہیں ایسے ہی بس کچھ سوچ رہی تھی …. ماہی نے ہڑبڑا کر کہا کیونکہ واقعی وہ اپنی سوچوں میں بہت گہرائی تک چلی گئی تھی …

“کیا سوچ رہی تھی مجھے بتاؤ … طیبہ نے انسسٹ کیا اور مائن کو احساس تھا کہ یہ سب باتیں وہ کہہ نہیں سکتی کسی سے کیونکہ شاید کوئی بھی شادی شدہ لڑکی ایسی باتیں کسی اپنے سے کر بھی نہیں سکتی … ایسی باتیں کرنے کے لیے ہمت کی ضرورت پڑتی ہے جو فی الحال ابھی ماہین کے اندر نہ تھی …

“کچھ نہیں اپی … ماہین بس اتنا ہی کہے پائی …

اس سے پہلے طیبہ یا سعدیہ انسسٹ کرتے , اسی وقت دروازہ کھولا اور ریما ا گئی اندر اور بولی … “ماہین دانش تمہارا انتظار کر رہا ہے پارلر پہ تمہیں جانا ہے نا… طیبہ تم جانا چاہو تو ماہی کے ساتھ جا سکتی ہو…

“نہیں یار بچے بہت تنگ کرتے ہیں پارلر پر اور تمہیں پتہ ہے ابھی حمزہ چھوٹا ہے میں نہیں جا سکتی … طیبہ اپنے چھوٹے بیٹے کا نام لیا … طیبہ کے بھی دوبچے تھے بڑی بیٹی اور چھوٹا بیٹا …

“واقعی ہمارے بچے چھوٹے ہیں , میں بھی نہیں جارہی پارلر … ریما نے اپنا بتایا …

“ویسے طیبہ یہاں پر ہے نا یہ اپنا کراچی والا سسٹم نہیں ہے کہ پوری پوری رات فنکشن چلتے رہیں ,تمہیں پتہ ہے , یہاں پہ جلدی ختم ہو جاتے ہیں فنکشن اتنی دیر تک حال نہیں کھلے رہتے , اس لیے پارلر بھی جلدی بند ہو جاتے ہیں … اس لیے دعا جا رہی ہے ابھی اس کے ساتھ اور ساتھ میں نور بھی جارہی ہے …. ریما نے طیبہ کو تفصیل سے بتایا , ویسے بھی وہ دونوں بھابھی نند کے علاوہ اچھی سہلیان بھی تھیں …

“اچھا … سہی ہے … طیبہ نے بھی تائید کی …

ماہین نے بال بنائے پھر اس نے ہینڈ کاری نکالی اور ساتھ میں جوڑا نکالا , جانے کے لیئے اٹھ کھڑی ہوئی …

“,لاؤ میں اٹھادوں … ریما نے آفرر دی …

“نہیں بھابھی میں کرلون گی …. ماہین نے سھولت سے کہا …

“ارے دلہن والا پروٹوکول ہے … مزے لو سمجھی اور اس کے ہاتھ سے چیزین لے کر ریما نے اٹھا لیں تو ماہین اپنی ماں اور بہن سے مل کر باہر نکلی … ریما کی بات پر سعدیہ بیگم خوش ہوئیں کیونکہ یہ پہلی دفعہ تھا ریما نے ماہین سے اچھے طریقے بات کی تھی … یہ بات کبھی سعدیہ اور طیبہ کو سمجھ ہی نہیں آتی تھی کہ آخر ریما کیوں اتنا خفا رہتی تھی ماہین سے جبکہ ماہین کسی سے کم ہی بات کرتی یا گھلتی ملتی تھی …

@@@@@@@@@

“تمہارے بھائی کے بیٹے نے تو حد ہی کردی آج … طاہر آفندی نے اپنی اہلیہ سے کہا کمرے میں انے کے بعد …

“کیا مطلب … شائستہ بیگم نے کہا …

“دانش سے اس طرح سوال کرکے ریحان نے مجھے حیران کردیا …. کیسے لوگ ہیں یہ تمہارے میکے والے …دو دن بھی اپنی بیٹی کو سسرال میں رہنے دینا نہیں چاہتے کہ بس وہ شوہر کے ساتھ اکیلی رہنا شروع کر دے سچ میں افسوس ہوتا ہے تمہارے بھائی کی سوچ پر … طاہر آفندی کے لہجے میں حقارت تھی نادر آفندی کو لے کر , یہ آج کی تو بات نہیں تھی وہ تو ایک عرصے سے پسند نہہں کرتے تھے نادر آفندی کو نا ان کی اہلیہ کو …

“پر میرے بھائی نے تو اپ سے کچھ نہیں کہا نا یہ بات تو ریحان نے دانش سے کہی تھی وہ ہم عمر ہیں ایک دوسرے سے ایسی باتیں کر سکتے ہیں …. شائستہ نے ان کو احساس دلانے کی کوشش کی …

“تمہیں کیا لگتا ہے اتنا بے وقوف ہوں میں … ہاں … اتنا نہیں سمجھتا یہ سب کچھ نادر نے ہی کہا ہوگا تبھی ریحان نے پوچھا ورنہ مجھے پتہ ہے ریحان کو تو ایسی چیزوں کا خیال ہوتا ہی نہیں ہے …. طاہر آفندی نے کہا …

“سب سمجھتا ہوں میں … طاہر آفندی کا انداز ناگوار گزرا ان کی اہلیہ کے دل پر , پر خود کو کچھ سخت کہنے سے روک کر , سخت کہنے کے بجائے نرمی سے بولیں …

“آپ بھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گئے ہیں پہلے دن ہی اپنا دل خراب کر رہے ہیں بہو کی طرف سے , اس کے گھروالوں کی طرف سے …. ان کا انداز سمجھانے والا تھا …

“بس رہنے دو اج تو تمہارے بھائی کی وجہ سے مجھے شدید افسوس ہو رہا ہے , یاد کرو , اس طرح کی تو کوئی بات ہم نے کبھی نہیں کی ریما کو لے کر … طاہر آفندی جتانا نہ بھولے …

“پلیز طاہر صاحب … شائستہ بیگم نے کہا …

اسی وقت ان کے دروازے پر ناک ہوا اور سامنے ماہین کو دیکھ کر حیران رہ گئے وہ دونوں ….

جاری ہے