Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

ناول … میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 15

“سچ میں میم ماہین آپ نے کمال کردیا سر جنید کو یوں منہ پر کہے دیا … وہ اپنے روم میں بیٹھی تھی جب ایک جونئیر نے کہا …

“مجھے جو لگا وہی کہا اٹ واز پروفیشنل نتھنگ پرسنل … ماہین اپنی پین انگلیوں پر گھماتی ہوئی بولی یہ اس کا مخصوص انداز تھا سوچنے کا …

اس کی ٹیم اسے ہی دیکھ رہی تھی کہ وہ اور کچھ کہے گی پر وہ زیادہ کچھ نہیں بولی , بلکہ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد خاموش ہو گئی کچھ دیر خاموشی کے بعد وہ دوبارہ بولی…

“گائیز نیکسٹ پروجیکٹ کی کچھ ہیڈ لائنز ملیں ہیں … میں اس پر کام اسٹارٹ کرنا چاہتی ہوں کم آن بیک ٹو ورک …
سب الرٹ کیا اس نے جس پر سب ایکٹوو ہوئے اور پھر وہ بولی …

“سب اپنے لیب ٹاپ سیٹ کرلیں , میں ایک ایک کو اپنے سر پر کھڑا نہیں کروں گی , مجھے یہ انداز کام کا بلکل پسند نہیں … اس لیئے سب لیب ٹاپ لے کر الرٹ ہوجائیں … فرسٹ پُٹ یور موبائیل آن سائیلینٹ موڈ دین وئی اسٹارٹ ….

وہ چاروں اپنی کرسیوں پر بیٹھ کر لیب ٹاپ کھول کر سامنے رکھا اور سب نے اپنے موبائل سائلنٹ پر کیے …

پھر ماہین ان کو بتانا شروع ہوگئی … وہ اہستہ اہستہ اپنی ٹیم کو اپنے انداز میں کام کرنے کا طریقہ سکھا رہی تھی کچھ حد تک اس کی ٹیم بھی اس کے ساتھ کوپریٹ کر رہی تھی یہی بہت تھا ماہین کے لیے …

@@@@@@@@

ابھی ابھی باس آیا تھا ان لوگون کے روم سے , ماہین کے کام کرنے کا انداز بہت پسند آیا ان کو … جس طرح اپنی ٹیم کے ساتھ ساتھ اپنا موبائیل سائیلینٹ پر رکھ رہی تھی , وہ واقعی قابل تعریف تھا کیونکہ وہ ان کی ہیڈ تھی اگر چاہتی تو اپنا موبائل سائلنٹ پہ نہ کرتی اور اسے کوئی کچھ کہہ بھی نہیں سکتا پر سب سے اچھی بات تھی کہ وہ سب کے ساتھ خود کو بھی ان کے ایکول رکھ کر کام کر رہی تھی … پھر جس طرح سب سے کنیکشن کا انداز , واقعی وہ اپنے کام کو لے کر انتہائی سیریس اور پروفیشنل تھی …

اسی وقت گردیزی کا نمبر ملایا عیان نے جسے تیسری بیل پر رسیوو کرلیا عباس گردیزی نے … سلام دعا کے بعد گردیزی بولا …

“شاہ صاحب آج کیسے یاد کرلیا آپ نے ہمیں …

“بسس تھینکس کہنے کے لیئے فون کیا ہے … عیان مسکرایا تھا اس کے بولنے کے انداز پر بزنس کے علاوہ بھی ان کا اپس میں کنکشن تھا دونوں دوست بھی تھے …

“تھینکس پر کس لیئے … عباس گردیزی نے حیرت سے پوچھا …

“کیا لڑکی بھیجی ہے تم نے , جتنی تعریف کرکے تم نے بھیجا اس سے کہیں زیادہ بہتر پایا ہے .. اتنا پرفیکٹ کام اس پر اپنے کام پر اتنا کانفیڈنٹ , ایسی لڑکی میں نے نہیں دیکھی … ان کے والہانہ انداز میں کی گئی تعریف پر دوسری طرف بیٹھے عباس گردیزی مسکرائے …

“ایسے ہی نہیں ریکیمنڈ کیا … بس مجھے فکر تھی کہ کہیں شوہر کے دباؤ میں اکر اتنی ٹلینٹڈ لڑکی گھر نہ بیٹھ جائے … ٹرانسفر پر ایگری تھی اس لیئے جلدی سے کردیا … شکر ہے تم نے میری بات رکھ لی … عباس کے لہجے میں ماہین کے لیئے فکر تھی …

“دیکھتے جاؤ ہر فن مولا ہے یہ لڑکی , اس لڑکی کو کمپیوٹر کی اتنی نالیج ہے میرے آئی ٹی ڈیپارمینٹ والے بندے کو بھی سیدھا کرگئی … بہت ٹیلینٹیڈ ہے …. عباس نے اپنے دوست کے سامنے کھل کے ماہین کو سراہا ایک بار پھر سے کیونکہ عباس گردیزی اس کی کمی بہت محسوس کررہا تھا اپنے آفیس میں …

“ہاں وہ تو اندازہ ہورہا ہے … مجھے میری آفیس کے نان پروفیشنل کام کے انداز کی ڈیٹل ایسے بتارہی تھی کہ میں حیران رہ گیا … عیان نے ہنستے ہوئے بتایا …

“ویسے جو بھی بات کرے گی اس پر اپنا سارا ہوم ورک کرکے اتی ہے ادھی ادھوری بات کبھی ڈسکس نہیں کرتی … عباس گردیزی نے عیان کی کہی بات جسٹی فائے کیا کیونکہ اگر ماہین نے کچھ کہا ہے تو بہت سوچ بچار کے بعد ہی کہا ہوگا , کیونکہ ایسے ہی وہ کچھ نہیں کہتی , یہ خیال عباس گردیزی کا تھا جس کے پاس پندرہ مہینے وہ کام کرچکی تھی …

“ہمممم یہ ٹھیک کہا تم نے پر یار پھر بھی کمال کی لڑکی بھیجی ہے تم نے … عیان نے ایک بار پھر سے کہا … اس کے بعد دونوں ایک دو اور پروجیکٹس ڈسکس کرنے لگے ..

@@@@@@@

ماہین اپنے حصے کے کچن کے کام دل سے کرتی تھی … اسے اچھا نہیں لگتا تھا کہ کوئی اسے چار باتیں سنا ہے اس کی لاپرواہی کی وجہ سے …

رات کو کھانا کھانے کے بعد , کچن سمیٹ کر ماہین نے روز کی طرح قہوہ بنایا ,وہ سب کو دے چکی تھی سوائے ذیشان اور نور کے … اب صرف ٹرے میں تین کپ ہی تھے , نور ,شانی اور اس کا اپنا … یوں تو نور اسے کہہ چکی تھی کہ وہ خود آ کر لے جائے گی اسے کمرے میں ا کر دینے کی ضرورت نہیں ہے… اج جب وہ نہیں لینے ائی تو کچھ دیر انتظار کے بعد وہ نور کے دروازے پر ناک کررہی تھی تاکہ ان کو دے سکے …

دروازہ شانی نے کھولا …

“یہ قہوہ دینا تھا … شانی اس پر ایک نظر ڈال کر نظریں جھکا گیا وہ بھی اپنی نظریں ٹرے پر مرکوز کیئے ہوئے تھی … دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے سے گریز کرتے تھے …

“ہمممم دے دو … وہ جھکی نظروں سے بولا …

“نور آپی اندر ہے … ماہین نے جلدی سے پوچھا …

“نہیں … شانی کہا …

“کہاں ہے … ماہین نے پوچھا ..

“مجھے پتا نہیں … شانی دھیمے لہجے میں بولا ..

“چلیں آپ اپنا کپ لے لیں … میں آپی کو دیکھتی ہوں … ماہین نے جلدی سے کہا …

اتنا کہے کر وہ پلٹی نور کی گھورتی نظریں اس پر مرکوز تھیں …

اس کی طرف کپ بڑھایا ماہین نے اور بولی …

“آپ کو ہی ڈھونڈنے جارہی تھی قہوہ ٹھنڈا ہوجاتا … وہ جلدی جلدی بولی تھی کیونکہ نور کی نظریں اسے گھبرانے پر مجبور کر رہی تھی …

ماہین کے سمجھ سے باہر تھا اس کی سلگتی نظروں کا مفہوم … نور نے کپ اٹھایا تو وہ وہاں سے چلی گئی جلدی سے …

کچھ دیر بعد ماہین کپ اور ٹرے کچن میں رکھنے آئی تو جیسے ہی پلٹی نور کو اپنے سر پر دیکھ کر پریشان ہوئی …

“آپی آپ نے تو مجھے ڈرا دیا … ماہین نے تھوڑی سی سمائیل دیتے ہوئے کہا …

“زیادہ کاکی بننے کی ضرورت نہیں , میں تمہاری آپی نہیں ہوں , بلکہ تم بڑی ہو رشتے میں جیٹھانی ہو اور میں تمہاری دیورانی … نور تیز آواز میں جتایا اس وقت کوئی نہیں تھا تو وہ اس پر حاوی ہونے لگی …

“مجھ سے اس طرح کیوں بات کررہی ہیں نور آپ…. ماہین جملا بھی نہ مکمل کرپائی نور اس کی بات کاٹ اور اس کا بازو دبوچ کر بولی “مجھے آپی کہنے کی ضرورت نہیں , جب منع کیا تھا رات کے وقت میرے کمرے کے پاس بھی انے کی ضرورت نہیں تو کیوں آئی … قہوہ بناکر رکھ دو کچن میں , میں خود لے جاؤں گی … کیوں سب کو دکھانا چاہتی ہو بہت کام کرتی ہو … بولو جواب دو … وہ تقریبً اسے جھنجھوڑنے لگی تھی … ماہین تو بوکھلا گئی ان کے اس قدر شدید ریکشن پر , وہ بھی اتنی چھوٹی سی بات پر … ماہین کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھرنے لگین تھیں …

“نور یہ کیا طریقہ ہے اس کا بازو چھوڑو … اچانک ذیشان اگیا جس نے نور کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور بولا تھا …

“نہیں چھوڑوں گی , یہ اپنی منمانی کرتی ہے … میرے سمجھانے کے باوجود بھی …. نور نے شدت سے کہا وہ بے وقوف بھول گئی کہ اپنے شوہر کے سامنے کس طرح کی حرکت کر رہی ہے …

ماہین نے کہا نم آنکھون سے کہا ….”میں نے کچھ نہیں کیا … شانی کو لگا وہ ابھی روپڑے گی جانے کیوں یہ سب اس کی برداش سے باہر تھا …

“چپ … نور جھڑکنے والے انداز میں بولی ماہین اپنا بازو چھڑانے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی …

“تم چپ کرو نور … ذیشان نے کہا … شانی نے نور کے ہاتھ پر دباؤ دے کر ماہین کا بازو اس کی گرفت سے چھڑایا …

“سوری ماہین … تم جاؤ اپنے کمرے کی طرف , آرام کرو جاکر … شانی نے کہا … ماہین جلدی سے وہاں سے بھاگی …

“نور اپنی حد میں رہو … چلو یہاں سے … نور کو کلائی سے پکڑ کر وہاں سے لے گیا , ماہین آنسو پونچھتی اپنے روم میں چلی گئی …

وہ اپنے کمرے میں اکر روپڑی … “کیا ہوگیا ہے نور آپی کو … ایسی کیوں ہوگئیں … وہ تڑپ کر روتے ہوئے سوچتی رہی ساری رات اس کی آنکھ نم ہوتی رہی نیند میں بھی …

@@@@@@@@@

وہ حیران تھی ان کا موڈی بیٹا سر شام اسٹڈی میں بیٹھا ہے …

“کیا بات ہے جنید … لگتا ہے بہت مصروف ہے میرا بیٹا … انشاء نے کہا اپنے لاڈلے بیٹے جنید شاہ سے …

“کچھ نہیں مام بس پریزینٹیشن بنارہا ہوں … جنید نے کہا …

“اتنا موڈ کیوں خراب ہے تمہارا … انہوں نے محسوس کیا …

“کچھ نہیں مام … بس کام کا لوڈ ہے اور کچھ نہیں … وہ سنبھل کر بولا وہ اپنی مام کے سامنے اپنا غصہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا…

اوکے کچھ چاہیئے میری جان … انشاء نے پیار سے اس کے بال بگاڑتے ہوئے بولی …

“نو مام … آئی ایم بزی رائیٹ ناؤ … وہ لیب ٹاپ پر کچھ ٹائیپ کرتا ہوا بولا …

“تمہارے ڈیڈ کہے رہے تھے آج میرا بیٹا مصروف ہے اسے ڈسٹرب مت کرنا … انشاء نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ بھی مسکرا کر بولا …

“تو آپ نے ان کی بات مانی کیوں نہیں …. جنید شاہ کے لہجے میں مذاق کا عنصر تھا …

“مجھے فکر ہورہی تھی تمہاری … وہ پیار سے بولیں تھیں …

“مام تو پھر ڈنر پر ملیں گے …. جنید شاہ کا سارا دھیان اب اپنے لیب ٹاپ اسکریں پر تھا … کچھ دیر بعد وہ اس کی اسٹڈی سے چلی گئیں …

@@@@@@@@@

“اس دبی دبی ہنسی کی وجہ بخوبی سمجھ رہا ہوں میں … جنید شاہ چڑ کر بولا یہ ہنسی اس کے باپ عیان شاہ کی تھی …

“کیسا لگ رہا ہے اپنے ایڈوینچر کا سائیڈ افیکٹ … عیان کہے کر مسکرایا یہ خود جنید شاہ کا شوک تھا اپنے آفیس میں امپلائے کی طرح کام کرنا … صرف ایک دو لوگوں کے علاوہ کسی کو پتا نہ تھا عیان اور جنید شاہ باپ بیٹا ہیں …

خود کی خوشی سے امپلائے بن کر خوش تھا اب جب باپ پکا والا باس بنا ہے تو جنید کو غصہ ارہا ہے …

“پلیز ڈیڈ … جنید کا لہجہ ملتجی تھا کہ اسے تنگ نہ کیا جائے پر عیان کو مزا ارہا تھا جنید کے اس انداز پر …

“بھئی کل کوئی کمی مت چھوڑنا , آج ہی عباس گردیزی بتارہا تھا , بہت شارپ ہے لڑکی اور ہاں جو بات کہتی اس پر اپنا ہوم ورک اچھا کرکے اتی ہے …. عیان کے لہجے اور آنکھون میں اس کے لیئے ستائیش تھی …

“ڈیڈ آپ مجھے انڈرایسٹیمیٹ کررہے ہیں … اگر میرے کام میں اپنی رائے دے گی تو اگلی مرتبہ اس کے کام کی دھجیان میں بکھیروں گا … جنید شاہ نے غصے سے کہا …

“مجھے اس کے ٹیلینٹ پر بھروسہ ہے ایک بات پہلے ہی بتادیتا ہوں … کل جب تم پریزینٹیشن دوگے اس کے اینڈ پر میں کہوں گا اس سے کہ اس کی کیا رائے ہے اس پر یا کچھ اور اس میں ایڈیشن کی ضرورت تو نہیں …. پھر مائینڈ مت کرنا , ابھی سے بتارہا ہوں … مجھے ماہین کا بھی نظریہ سننا ہے … عیان نے صاف لہجے میں اسے بتادیا کہ وہ کیا کرنے والا ہے …

“ڈیڈ آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے … جنید نے تنبہی انداز میں کہا …

“مائے سن آفیس میں جو مناسب ہوگا وہی کروں گا بیکاز آئی ایم باس … بیٹا سمجھ کر فیور کررہا ہوں کہ ابھی سے بتارہا ہوں کہ کل اس سے کہوں گا کہ وہ اپنی رائے دے , وہ کوئی کمی نہ نکال سکے اس لیئے کہتا ہوں اپنا ہوم ورک اچھی طرح کرکے آنا , ورنہ پھر مجھ سے ہی خفا ہوگے …. عیان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی پر لہجہ مضبوط اور اٹل تھا …

“اوکے فائین مسٹر باس …. جنید شاہ نے کہا اور حلق سے نوالے اتارنے لگا …

“اوکے ڈیڈ میں چلتا ہوں … ابھی تھوڑا کام ہے … پھر آرام بھی کرنا ہے … جنید شاہ نے کہا …

“آپ کیوں تنگ کررہے ہیں اسے عیان … انشاء نے آنکھین دکھائیں عیان کو …

“سچ میں انشاء مزا ارہا ہے جنید کو اچھا خاصا زچ کرچکی ہے یہ لڑکی … عیان نے ہنس کر کہا …

“ویسے اتنی ذہین ہے تو خاتون ہی ہوگی … انشاء نے پرسوچ انداز میں کہا …

“ارے نہیں بلکل چھوٹی سی ہے , اتنی بڑی بھی نہیں , ہماری نازلی جتنی ہوگی … عیان نے پرسوچ انداز میں کہا …

“عیان جنید کو تنگ نہ کریں پلیز … انشاء نے ملتجی لہجے میں کہا …

“سچ بتاؤں تلملاتا ہوا دیکھ کر مزا ارہا ہے … سچ میں سب کو لاجواب کرنے والی آنکھ سے آنکھ ملاکر بات کرتی ہے … کمال کی حاضر جواب لڑکی ہے … عیان نے کہا …

“اف کتنے عرصے بعد کسی کی تعریف سن رہی ہوں آپ کے منہ سےلگتا ہے ملنا پڑے گا … انشاء نے کہا …

“ہاں پر ابھی نہیں … کچھ وقت بعد … عیان نے کہا ..

@@@@@@@@@

جنید شاہ اپنی پریزینٹیشن مکمل کرکے بیٹھ گیا …

“آئے ہوپ ایوری ون از کلیئر ناؤ … جنید شاہ نے کہا …

“مس ماہین آپ کیا کہتی ہیں …اس مارکیٹنگ اسٹریجٹی پر … عیان نے چہرے کو بے تاثر رکھتے ہوئے کہا جبکہ جنید شاہ دانت پیس کررہ گیا اپنے باپ کی اس بات پر … اسے لگ رہا تھا کہ رات جس طرح ان کے بیچ میں بات ہوئی ہے اس کے بعد اس کے پاپا کم از کم یہ اج نہیں کریں گے … پر عیان شاہ اپنا کہا پورا کرچکے تھے … جانے کیوں ان کو لگ رہا تھا ماہین کے پاس ہے کچھ ایسے آئیڈیاز مارکیٹنگ اسٹریجٹی کو لے کر جو وہ ڈائریکٹ تو نہیں بتارہی پر وہ کہنے کے لیئے راستہ بنارہی ہے … اس کی ذہانت اس کی آنکھوں سے واضع نظر آتی تھی … سب سے متاثرکن بات وہ اپنے لفظوں کا استعمال بھی اتنا سوچ سمجھ کر کرتی کہ ایک بھی لفظ ضایع نہ ہو اور سامنے والے پر اثرانداز ہو … عیان کو اندازہ ہوچکا تھا اپنے اس امپلائے کی نیچر کا ….

“سر میں کچھ کہوں مسٹر جنید سے برداش نہیں ہوگا … اگر فائینل ڈسیشن آپ کا ہے سو وائے ویسٹ مائے ورڈس اینڈ ایفرٹ … اردو میں بولتے بولتے جان بوجھ کر آخری الفاظ انگلش میں بول گئی کیونکہ اگر یہی لفظ اردو میں بولتی تو بدتمیزی کے خاتے میں چلے جاتے اپنے باس سے وہ مس بہیوو وہ افورڈ نہیں کرسکتی تھی …

ماہین بےنیازی سے بول کر چپ ہوگئی پر جنید شاہ کا خون کھولنے کو کافی تھا اس کا لہجہ اور اعتماد … اس کا انداز ایسا تھا کہ سامنے والا خودبخود خود کو کمزور سمجھنے لگے …

“مس ماہین , آئے وانٹ ٹو لسن یور پلان … عیان نے اصرار کیا …

“سر پہلی بات ہمارے کلائنٹ کا بہت سارا پیسہ برباد کیا جارہا اس مارکیٹنگ اسٹریجٹی پر … ماہین نے پر اعتماد لہجے میں کہا …

“واڈ ڈو یو میں فار دس … جنید نے کہا …

“ویٹ مسٹر جنید شاہ … لیٹ می کمپلیٹ مائے پوائینٹ آف یو … ماہین نے کہا …

وہ انگلش میں بولا تو ماہین نے بھی انگلش میں جواب دیا …

“دیکھیں سر کسی سلیبرٹی سے فلیٹس کی ایڈورٹایزنگ کروانا پھر ایک ادھ فلیٹ ان کو دینا یا کسی بڑے ادمی کو دینا , اتنا زیادہ خرچ ایڈورٹائیزنگ پر پھر سلیبرٹی کا خرچہ , یہ سب ویسٹ ہے … بہتر ہے کسی نجی چینل کے مارننگ شو میں اس کی ایڈورٹائیزنگ کریں ساتھ میں قرعہ اندازی رکھوائیں پھر جو سلیبرٹی کے لیئے رکھا ہے فلیٹ وہ کسی کو ادھے دام میں دیں ,یہ ہوگیا پہلا انعام , پھر دوسرا اور تیسرا انعام والے %25 آف دیں ایک فلیٹ پر… اس طرح بہت سے لوگ فلیٹ بک کرائیں گے … پھر انعام کی لالچ تو یونہی پاکستانیوں میں بہت ہے … کچھ پیسے بچتے ہوں تو کچھ ہوم ایسیسریز والے گفٹ کچھ کو دیں گے تو بسسس پھر دیکھئے گا کتنی بات پھیلتی ہے … دیکھیئے گا جلد ہی بہت فلیٹ بک ہوجائیں گے اس چکر میں … کلائینٹ کے پیسے بھی کم خرچ ہونگے ساتھ ہی ساتھ ان کا نام بھی بن جائے گا ….

“آئے تھنک اٹس فنٹیسٹک پلان ماہین آئی ایم امپریسڈ …. عیان نے یہ لفظ دل سے کہے تھے … جنید شاہ بھی دنگ رہ گیا ایسا دم دار مارکیٹنگ پلان اس کے ذہن میں کبھی نہیں آیا وہ لندن سے بزنس کی ڈگری لے کر آیا تھا پھر بھی اس طرز سے سوچا ہی نہیں … واقعی اس سے عوام کا بھی فائدہ ہوگا اس نے سوچا … جنید شاہ نے تعریف نہیں کی پر اس کے چہرے پر پہلے والا غصہ اور چڑ نہ تھی بلکہ وہ بھی خاموش ہوگیا چہرے پر نارمل تاثرات واضع تھے ….

“مسٹر جنید واٹ یو سے اباؤٹ اٹ…. عیان نے کہا بحثیت باس کے …

“وئی کین گو وتھ مس ماہین پلان …. جنید شاہ نے کھڑے ہوکر کہا اور اس کے لیئے تالیان بجائیں سب نے ان تالیوں کا ساتھ دیا …

“تھینک یو مسٹر جنید شاہ … اب کے ماہین بھی کھل کر مسکرائی …

عیان کو خوشی کے ساتھ ساتھ فخر محسوس ہوا اس کا بیٹا فضول کی انا اور اکڑ لے کر نہیں بیٹھا بلکہ کھلے دل سے سراہا کر ماہین کے پلان کو , ایک اچھے بزنس مین ہونے کا ثبوت دیا ….

@@@@@@@@@

وہ آفیس سے آئی تو شائستہ بیگم لاؤنج میں ہی بیٹھی تھی اس لیئے سلام کیا اس نے پہلے جس کا جواب انہوں نے پیار سے دیا … حال احوال کے بعد ماہین نے پوچھا ” اج ڈنر میں کیا بنانا ہے پھپھو …

“آج مچھلی بنانی ہے … انہون نے بتایا …

“جی پھپھو بنادوں گی .. ماہین نے کہا سوچ کر ہی دل کچا ہونا شروع ہوا , مچھلی بنانے سے اسے چڑ تھی , میکہ میں بنتی تو کمرا بند کرکے بیٹھ جاتی , سسرال میں تو یہ نکھرے کرنے سے رہی … اس لیے صرف چہرے کا رنگ ہی اڑا تھا سوچ کر کہ مچھلی بنانی ہے …

“کوئی پرابلم تو نہیں … پھپھو نے پوچھا اس کے چہرے پر تاثرات دیکھ کر ..

“نہیں پھپھو بنالوں گی … وہ سنبھل کر بولی …

ان سے اجازت لے کر کچھ دیر آرام کے لیئے روم میں چلی گئی … رات کا ڈنر بنانے میں ابھی وقت تھا …

شام کی چائے پینے کے بعد وہ مچھلی اٹھا کر دھونے لگی اس کی طبیت عجیب ہونے لگی کچھ سمجھ نہیں ارہا تھا بہت مشکل سے دھو کر فرائے کرنے لگی تو اس دل کچا ہونے لگا … اسے اپنی طبیت بوجھل محسوس ہونے لگی …

اسی وقت شائستہ بیگم آئیں تو اسے یوں دیکھ کر بولیں …

“کیا ہوا ماہین تم سے مچھلی نہیں بن رہی …

” پھپھو بنارہی ہوں … وہ ضبط سے بولی …

“میری کچھ مدد چاہیئے … جانے کیوں اس کے چہرے کی اڑی رنگت دیکھ کر پھپھو کہے بنا نہ رہ سکی …

“نہیں پھپھو میں کر لوں گی … ماہین نے کہا …

“ارے یہ کیا تم نے فرائی کرتے ہوئے گیس بند کر دیا … شائستہ بیگم حیرت سے بولیں کیونکہ اس طرح تو سہی سے فرائے نہیں ہوگی مچھلی …

“وہ بسسس ویسے ہی بس ابھی کھول رہی ہوں گیس فرائے کردیتی ہوں … ماہین گڑبڑا کر رہ گئی …

شائستہ بیگم نے دیکھا کہ ابھی تک تو اس نے صحیح سے فرائی بھی نہیں کی اور لہسن کی چٹنی بھی نہیں بنی ہوئی اس لیے وہ بولیں …

“ماہین تم کیا کرو لہسن کی چٹنی پیس لو , تب تک میں تمہیں فرائے کر دیتی ہوں مچھلی … انہیں پتہ تھا ماہین بہت خودار ہے , کہے گی نہیں چاہے کتنا بھی مسئلہ ہو اس لیے وہ خود ہی اس کی مدد کرنے کو پہنچ گئی تھیں اور اب کرنے بھی لگیں تھیں اس کی مدد …

کچھ سوچ کر ماہیں نے اثبات میں سر ہلایا … ویسے ہی طبیعت عجیب ہو رہی تھی اچھا ہے پھپھو کی مدد لے لوں یہی سوچ کر ماہیں نے ان کو فرائی کرنے دیا اور خود لہسن لے کر اسے صاف کرنے لگی تاکہ اس کی چٹنی پیس سکے …

ابھی شائستہ بیگم فش فرائے کررہی تھیں ماہین نے لہسن کی چٹنی پیس لی …

“ماہین اب اس میں چٹنی ڈالو … شائستہ بیگم نے کہا .. ماہین نے جیسے ہی چٹنی ڈالی اسے لگا بس قے نکلنے کو ہے کیونکہ خوشبو ہی ایسی نتھون میں اتری کے جی متلا اٹھا …

شکر تھا وہاں پھپھو کھڑی تھی اس لیئے وہ بغیر کچھ بولے واش روم کی طرف بھاگی اور کچھ دیر کے بعد قے کر کے واپس ائی تو شائستہ بیگم کو سامنے دیکھ کر گھبرا گئی …

جاری ہے