Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 35

ماہین حیرت سے اپنی ٹانگون سے لپٹے معصوم بچے کو دیکھتی رہی …

“پلیز چھوٹی ماما … تنویر نے آس سے پوچھا ایک بار پھر سے جانے کیون وہ اس کے ہاتھ نہ جھٹک سکی … وہ اپنا دل کٹھور کرنا چاہتی تھی نایاب یا اس کے بچون کے لیئے کیونکہ وہ انتہا سے زیادہ حقیقت پسند تھی وہ نہیں چاہتی تھی کسی اور کے بچے سے اپنی اٹیجمینٹ بڑھا کر اپنے لیئے مشکل نہیں بڑھا سکتی تھی … کل کو اسے کوئی مشکل ہو , وہ دوسرون کے نارمل بچے دیکھ کر اپنے اندر محرومی کو جگانا نہیں چاہتی وہ اپنے رب سے کوئی شکوہ نہیں کرنا چاہتی تھی …

“وہ سوئی ہوئی ہے …ماہین نے کہا نظرین چراتے ہوئے وہ اپنے چہرے کا رخ موڑ گئی … وہ دوبارہ اس کے سامنے آتا ہوا بولا …

“بسس ایک دفعہ دکھا دیں … اس کا ملتجی لہجہ ماہین کو بے چین کرنے لگا اتنا معصوم پیارا سا بچہ جس پر خودبخود ممتا امڈ آئے ایسا تھا تنویر …

“اوکے آجاؤ … ماہین نے منہ زور جذبات سے ہار مانتے ہوئے کہا تھا … وہ اس کے پیچھے بیڈروم میں آیا تھا …

“یہ تو بہت پیاری ہے مجھے اس کی آئیز دیکھنی ہیں … وہ اشتیاق سے بولا اس کا کیوٹ سا انداز سا انداز چاہت کے گال کو چھونا , چاہت کسمسائی اس کے چھونے سے , پر ماہین کی ہمت نہ ہوئی اسے روکنے کی کیونکہ تنویر کی خوشی دیکھنے لائق تھی …

“کیوں … وہ حیران ہوئی بچے کی اس عجیب و غریب فرمائش پر …

“مجھے دیکھنا ہے … میری بہن میری جیسی ہے نا… اس نے پوچھا … جس پر ماہین نے جلدی سے کہا …

“نہیں اس کی آئیز ہیزل ہیں … جس پر وہ ہونٹ لٹکاتا ہوا بولا …

“یہ بلکل پاپا کی طرح ہے … ماہین نے اس کے چہرے پر اداسی دیکھی شاید وہ چاہتا تھا اس کی آنکھین اور اس کی بہن کی آنکھین سیم ہونی چاہیئے تھی …

“پر میری آئیز گرین ہیں … تنویر نے کہا اداس سے لہجے میں …

“ہاں وہ تو ہے … ماہین نے کہا اس کے گال کو انگلیون سے چھوتے ہوئے پیار سے …

“آپ کو پتا ہے میری آئیز کس جیسی ہیں … اس نے ایکسائٹمنٹ سے کہا سوالیہ انداز میں …

“کس جیسی ہیں … ماہین نے پوچھا …

“میرے چاچو جیسی ہیں شانو چاچو … تنویر نے کہا جس پر وہ بےساختہ ہنسی اور بولی …

“ہاہاہا شانو نہیں شانی چاچو … ماہین نے اس کو سہی کیا …

“ہاں ہاں وہی … میں بلکل ان جیسا ہوں , پاپا کہتے ہیں … تنویر نے کہا چہک کر …

“ہمممم یہ تو ہے … ماہین نے کہا اور غور سے دیکھا تو تنویر کے نین نقوش واقعی میں شانی جیسے لگے …

“چھوٹی ماما آپ بہت اچھی ہیں میں بہن کے ساتھ کھیلوں …اس نے پوچھا …

“کس نے کہا میں آپ کی چھوٹی ماما ہوں , آپ کے پاپا نے کہا … ماہین نے پوچھا اور اس کا انداز پر سوچ لیئے ہوئے تھا …

“نہیں , ماما نے کہا میری یہان بہن ہے … تنویر نے سچائی سے بتایا …

“ہممم اوکے بہن کے ساتھ کھیل سکتے پر مجھے ماہین آنٹی کہا کرو بچے … ماہین نے کہا جس پر وہ جلدی سے بولا …

“بچے نہیں میں تنویر ہوں … وہ اپنے مطلب کی بات پر ریئکٹ کرتا ہوا بولا تھا جس پر ماہین مسکرائی تھی , کئی دنون کے بعد وہ کھل کر مسکرائی تھی …

“بولتے بہت ہو تم کیا عمر ہے تمہاری … ماہین نے پوچھا …

“فور ایئر …. میں اسکول بھی جاتا ہوں ,قرآن پڑھتا ہوں … وہ مزے بتا رہا تھا جس سے ماہین کو اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ کافی باتونی بچا تھا …

“واہ یہ تو بہت اچھی بات ہے … مائن سراہے بغیر رہ نہ سکی …

“تم مجھے ماہین آنٹی کہوگے تنویر … ماہین نے یاد کروایا اسے …

“اوکے پر مجھے اچھا لگتا ماما کہنا … تنویر نے اپنی بات رکھی جس پر ماہین نے پوچھا …

“کیوں … جس پر وہ جلدی سے بولا …

“پھر چاہت میری بہن کیسے ہوگی … وہ اپنے معصوم ہاتھون سے اس کے گال سہلا رہا تھا اس کے ہر انداز میں محبت تھی … اتنا دیکھ کر جانے کیوں ماہین سے رہا نہ گیا …

“ٹھیک ہے تم مجھے چھوٹی ماما کہے سکتے ہو ….

“یا ہو … وہ اس کے گلے لگ گیا خوشی میں , وہ کافی ایکسائٹڈ لگ رہا تھا … اس کا والہانہ انداز دیکھ کر وہ مسکرائے بغیر نا رہ سکی …

@@@@@@@@@@@

نایاب غصے سے کھولتی ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی اسے لگا اب تنویر کے رونے کی آواز آئی , اب آئے گی وہ بھاگتی اوپر جائے گی پھر ماہین کو سیدھا کرے گی اور دانش کو دکھائے گی ماہین کی اصلیت …

پر یہ کیا … ابھی وہ تنویر کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ وہ ہنستا مسکراتا ارہا تھا … وہ حیرت میں اگئی تھی اپنے بچے کا یہ انداز دیکھ کر …

“یہ کیسے ہوگیا … نایاب نے سوچا پر کہا تو بس اتنا کہ … “ننویر تم بہن سے ملے … اس کا انداز سوالیہ تھا … وہ حیرت سے اپنے بیٹے کا چہرہ دیکھ رہی تھی جو خوشی سے ٹمٹما رہا تھا …

“جی ماما وہ سوئی تھی پر اسے پیار کیا میں نے … تنویر نے بتایا …

“وہ غصہ نہیں ہوئیں چھوٹی ماما کہنے سے … نایاب نے حیرت سے پوچھا …

“نہیں پہلے ماہین آنٹی کہا … پھر کہا ماما بولو … وہ ٹوٹے جملون میں بولا پر نایاب سمجھ گئی اس کی بات کا مطلب …

“گُھنی , میسنی کہین کی فضول میں بڑے بول بول رہی تھی , بچے اس کے پورشن میں نہ آئے جبکہ اب خود میرے بیٹے کو دیوانہ کرگئی ہے … نایاب نے دل ہی دل میں سوچا پر کہا نہیں …

اب مسلسل وہ تعریفین کررہا تھا اپنی چھوٹی ماما اور بہن کی … مزے سے بتارہا ماہین نے اسے مائلو پلایا اور سینڈوچ آفر کیا پر اس نے نہیں کھایا تھا …

اب کچھ دیر خاموشی کے بعد وہ بولا ” سنی کو بھی لے جاؤں گا ہمارے بہن سے ملانے ماما … اب کے تنویر کے کہنے کی دیر تھی نایاب اس کا بازو دبوچ کر بولی “کوئی ضرورت نہیں , نہ تم اوپر جاؤ گے نہ سنی کو لے کر جاؤ گے سمجھ ائی میری بات … نایاب کا غصہ عروج پر تھا … وہ بھی نایاب کا ہی بیٹا تھا جسے بات ناگوار لگی تو چہرے کا رخ پھیر گیا ….

“سمجھ آئی میری بات … نایاب نے کہا اس کا رخ اپنے طرف کرتے ہوئے اور تنبہیہ انداز تھا نایاب کا …

“جی ماما … وہ منہ بسور کر بولا تھا …

“جاؤ جاکر ٹی وی دیکھو … اب کے نایاب ضبط کرتے ہوئے نرمی سے بولی تھی , اسے دل ہی دل میں افسوس ہو رہا تھا جس بچے پر وہ کبھی ذرا سا غصہ نہیں ہوئی تھی اج اس قدر ہو گئی تھی غصہ…

وہ مایوسی کے ساتھ چلا گیا … پر اپنے بچہ کا یہ انداز دیکھ کر جانے کیوں دل کو رنج سا ہوا….

“کیا کروں جو ماہین چلی جائے , نظر سے اوجھل تھی یہ لڑکی تب تک تو ٹھیک تھا اب کیا کروں سمجھ نہیں آرہا , اب تو سر پر اکر بیٹھ گئی ہے …

@@@@@@@@@@

شام کو جلدی سے آگیا تھا دانش اسے ٹیرس پہ کھڑا دیکھ کر حیران ہوا جو سامنے کھوئی نظرون سے دیکھ رہی تھی …

اچانک اس کے پاس ہی کھڑا ہو گیا اور دھیمے لہجے میں بولا …

“کیسا گزرا دن … وہ چونکی اس کے آواز سے اور سنبھل کر بولی …

“ٹھیک تھا گزر گیا کچھ نیا تو نہیں تھا اس دن میں … اس کا لہجہ عجیب لگا دانش کو …

“ہمممم صحیح … وہ بولا تو بس اتنا وہ ہنوز نظریں سامنے جمائے ہوئے تھی , وہ دانش سے کم ہی بولا کرتی تھی یا دل کی بات کم کیا کرتی تھی … کچھ لمحے خاموشی کی نظر ہوئے دونوں کے بیچ وہ اس کے چہرے کو بغور دیکھتا ہوا بولا …

“کچھ فکر مند دکھائی دے رہی ہو خیریت تو ہے … اس کا انداز سوالیہ تھا … جہاں تک دانش کا خیال تھا ماہین کو تو پرسکون ہونا چاہیے کہ جو اس نے کہا تھا سب کچھ وہ ویسا ہی کر چکا تھا ملازمہ اور اس کے ساتھ ہیلپر بھی دے دی تھی دانش نے … یہ ہیلپر اس لیے تاکہ وہ بچہ سنبھالنے میں اس کی ہیلپ کرے اور کل وقتی ملازمہ کھانا کپڑے ہر چیز کرنے کے لیے پابند تھی … وہ اس کے لیئے اچھی خاصی پیمینٹ کررہا تھا ملازمون کو …

جانے کیوں اس کے چہرے پر خوشی دیکھنے کا وہ خواہش مند تھا ….

“نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے … ماہین کا ضبط کرنے کا انداز صاف ظاہر کر رہا تھا کچھ تو بات ہے جو وہ اندر ہی اندر دبا رہی ہے … ایسا خیال دانش کا تھا …

“ماہین تم کھل کے کہہ سکتی ہو کیا مسئلہ ہے … دانش کا لہجہ نرم تھا پر انداز سوالیہ تھا , وہ واقعی میں جاننا چاہتا تھا اخر مسئلہ کیا ہے…

وہ اسے یقین دلانے کے لیئے دوبارہ بولا …

“ماہین , اب میں وہ دانش نہیں رہا , جس کے لیے تمہاری اہمیت نہ تھی اب تم میرے لیے باقاعدہ اہمیت رکھتی ہو کیونکہ تم میرے بچوں کی ماں ہو …

دانش کے انداز پر وہ چونکی ضرور تھی پر سنبھل کر بولی …

“دانش میں وہ نہیں کہنا چاہتی جو مجھ پر سوٹ نہیں کرتا … ماہین کا چہرہ ضبط کی گواہی دے رہا تھا سرخی مائل چہرہ لگا دانش کو … ویسے اس پریگنینسی میں وہ واقعی خوبصورت ہوگئی تھی , یہ اعتراف دل ہی دل میں دانش نے کیا …

“جو تم پر سوٹ بھی نہیں کرتا وہ بھی تم کہہ سکتی ہو میرے سامنے کیونکہ اب میں تمہیں سننا چاہتا ہوں ماہین …. کیونکہ میری نظر میں تم اپنی عزت اس قدر بڑھا چکی ہو پلیز کہو جو کہ نہ چاہتی ہو جو تمہیں اندر سے پریشان کرے … اس کا لہجہ جذبون سے بھرپور بھاری اور گھمبہیر لگا ماہین کو …

“دیکھو دانش میں نہیں جانتی کہ نایاب کیسی ہے یا اسے کیسا ہونا چاہیے کیونکہ نایاب سے میرا کوئی واسطہ نہیں ہے نہ کوئی تعلق ہے اور نہ کوئی بنانے کا میرے اندر جذبہ ہے کیونکہ میں اپنے ہر معاملے میں ہمیشہ سے صاف گو رہی ہوں … وہ کہنے کے لیئے لفظ ترتیب کرتی ہوئی بولی تھی … وہ چاہ کر بھی نایاب کے لیے ڈائریکٹ کچھ نہیں کہنا چاہتی تھی کیونکہ دانش کی وہ چہتی بیوی تھی , کو اچھی طرح اندازہ تھا دانش کو غصہ بھی ا سکتا ہے اس کی کہی کسی کڑوی بات پر …

“جانتا ہوں میں اتنا تو تمہیں بھی سمجھ سکتا ہوں … تو کیا مطلب ہے اس بات کا کیا کہنا چاہتی ہو نایاب کے متعلق کھل کے کہے دو … دانش کی کہی باتوں سے اسے حوصلہ ہوا تو وہ کھل کر بولی …

“دیکھو دانش یہ بات واضح ہے کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا نہ میں نایاب سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی ہوں نہ تمہارے بچوں سے … یہ تمہارا ڈیسیژن ہے کہ تم نے ہمیں ایک ہی گھر میں اوپر نیچے فلورز پر رکھا ہے , پر مجھے لگتا ہے زیادہ عرصہ شاید یہ اس طرح رہنا افورڈ نہ کر سکے کوئی جس طرح اج تمہارا بڑا بیٹا تنویر ایا اور جس سے نایاب نے بھیجا مجھے چھوٹی ماما کہنے کے لیے تم یہ سب باتیں میری سمجھ سے باہر ہے یقینا نایاب کو یہ سب کرنا سوٹ نہیں کرتا …

ہمیشہ کی طرح اج بھی ماہین نے اپنی بات کھل کے واضع انداز میں کہی کیونکہ نہ وہ کبھی ڈرتی تھی نہ ہی کبھی باتوں کو چھپانا بہتر سمجھتی تھی … وہ ہر بات کھل کے ڈنکے کی چوٹ پر کہتی تھی اگر وہ سچ میں اس پر ڈٹ کے کھڑی ہو جائے تو … اس سے پہلے ماہین کچھ اور کہتی وہ اس کی بات کاٹتا ہوا بولا ..

“ایک منٹ ماہین , تم بالکل غلط سمجھ رہی ہو تمہیں ایسا لگتا ہے کہ نایاب اچھی عورت نہیں پر ایک بات تمہیں بتا دوں , نایاب دنیا کی وہ واحد عورت ہے جو ہمیشہ مجھے تمہاری طرف دھکیلتی ائی ہے تمہاری طرف متوجہ کرتی ہے , وہ تمہاری فکر ہماری بیٹی کی فکر ہمیشہ ان باتوں میں وہ ہلکا رہتی ہے … اسی لیئے اس کی طرف سے بے فکر ہو جاؤ اس کا دل صاف ہے تمہارے لیے ہو سکے تو تم بھی اپنا دل اتنا صاف کر لو …

دانش کے لہجے میں نایاب کو لے کر جو مان تھا ماہین بس اس کا چہرہ تکتی رہ گئی واقعی اس کے چہرے پر صرف محبت تھی نایاب کے لیے اس کی انکھوں کی چمک بتا رہی تھی کہ وہ کس قدر اسے چاہتا ہے اور اس کی کیا ہمیت ہے اس کی نظر میں , اس کے لہجے میں مان تھا نایاب کے لیے … ماہین بس خالی نظروں سے اسے دیکھتی رہی اور اپنے دل میں ٹٹولا تو اسے ذرا سا بھی درد نہیں ہوا اور احساس ہوا کہ واقعی ماہین ان سب چیزوں سے اگے نکل چکی تھی اب یہ سب باتیں اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تھیں یا وہ یہ سب ایکسیپٹ کر چکی تھی…

“اگر تم ایسی کوئی امید لے کر اپنے دل میں مجھے یہاں لے کر ائے ہو کہ میں نایاب اور تمہارے بچوں سے تعلقات اچھے رکھوں گی اور کل کو تم اپنے بچوں کی ذمہ داری تک مجھ پر ڈالنے کا سوچو تو یہ سوچنا بھی مت اور مجھ سے ایسی فضول امیدیں کبھی رکھنا بھی مت , یاد رکھنا میں نے تمہیں ایک بات بتا دی میں سٹریٹ فارورڈ ہوں تو مجھے نہ ڈرامہ کرنا اتا ہے نہ کبھی کروں گی جو میرے دل میں ہوگا وہی زبان سے کہوں گی … میں ایسی ہی ہوں …

وہ مضبوط اور دو ٹوک لہجے میں بولی تھی اس کا انداز اس کے چہرے پر بے نیازی سا تاثر تھا جس کا مطلب واضح تھا کہ وہ ایسی کوئی امید اس سے لگانے کی غلطی سے بھی غلطی نہ کرے …

“ماہین ائی ایم سوری … دانش تو بولا تو بس اتنا , وہ اسے ہائیپر نہیں کرنا چاہتا تھا …

“اٹس اوکے نیکسٹ ٹائم اس بات کا خیال رکھیں اور ہو سکے تو یہ جو اوپر اور نیچے فلور کو جو دروازہ ملاتا ہے دونوں پورشنس کو , وہ بند ہونا چاہیے اج کے بعد میں نہیں چاہتی کوئی بھی یہ دروازہ استعمال کر کے میرے گھر میں ائے یہ میرا گھر ہے نا اس کا انداز اخری بات پر سوالیہ ہو گیا…

“ہاں ہاں بالکل یہ گھر تمہارا ہے اور جیسا تم چاہو گی ویسا ہی ہوگا کیا چائے مل سکتی ہے ہم ساتھ بیٹھ کر پییں … وہ جلدی جلدی بولا اور آخر میں ماحول کو نارمل کرتا ہوا بولا تھا چائے کا …

“میرا خیال ہے اپ کو چائے نایاب کے ساتھ ہی پینی چاہیئے کیونکہ میرا چائے کا کوئی موڈ نہیں ہے , ہاں باقی اکیلے پینا چاہتے ہیں تو ملازمہ سے کہہ دیجیے وہ اپ کو بنا دے گی … ماہین نے سکون سے مشورہ دیا … بھائی کا عجیب سا دھوپ چھاؤں سا انداز دانش کو حیران کر گیا پر وہ سنبھل کر بولا …

“تو یہ تو تم بھی کہہ سکتی ہو…

“سوری میں ذرا مصروف اپ خود ہی جا کر کہہ دیں … مایین نے کہا …

وہ باہر کا ویو کرنے لگی اس کا انداز بے نیازی لیے ہوئے تھا ایسا لگ رہا ہی نہیں تھا کہ کچھ دیر پہلے وہ اتنی ضروری بات کر رہے تھے اور اب وہ اسے مکمل نظر انداز کیئے سامنے کا منظر دیکھ رہی تھی ڈھلتے سورج کا منظر اسلام اباد میں بہت خوبصورت لگ رہا تھا اور اج وہ منظر مکمل دیکھنا چاہتی تھی … دانش چاہنے کے باوجود اسے کچھ نہ کہہ سکا اور پلٹ کر واپس چلا گیا , خود پر ضبط کرتا ہوا … ماہین بے پرواہ بنی رہی اس سب سے …

@@@@@@@@@

پھر واقعی دانش نے نایاب کے ساتھ چائے پی اور بچوں کو بھرپور وقت دیا اسے امید تھی کہ شاید وہ اسے بلائے وغیرہ رات کے کھانے پر بھی وہ اوپر نہیں ایا تو ماہین نے بلانے کی زحمت نہ کی وہ بے انتہا حیران ہوا اخر کا رات کے 11 بجے وہ اوپر ایا تو اس نے دیکھا کہ ماہین چاہت کو کاٹ میں ڈال کر کاٹ کو بیڈ کے نزدیک کر کے لیٹنے لگی …

“تم نے کھانا کھایا … اس کے لہجے میں فکر واضع تھی …

“میرا خیال ہے اپ کو پتہ ہے میں نو بجے کے بعد کھانا کھا لیتی ہوں … وہ ازلی بے پروا لہجے میں بولی تھی , دانش کو اس کے کسی بھی انداز سے پتہ نہیں چلتا تھا کہ اسے کون سی بات دانش کی اچھی لگ رہی ہے کون سی بری , چاہے وہ اس کی پرواہ کرے یا اس سے بے پرواہ ہو جائے دونوں صورتوں میں ماہین اپنا بے نیازی والا انداز برقرار رکھتی تھی… جو دانش کو شدید ناگوار بھی گزرتا تھا پر وہ فی الحال اس وقت ضبط سے کام لے رہا تھا …

“بندہ ایک کال کر کے اپنے شوہر سے بھی پوچھ لے … دانش نے کہا …

“پلیز … یہ معیارین جا کر ان عورتوں کو دیا کریں جن کے شوہر کی صرف ایک ہی بیوی ہو … مجھ پر یہ چیزیں ویلڈ نہیں ہوتیں کیونکہ اللہ کا شکر ہے میرے شوہر کی دو بیویاں ہیں اور پہلی بیوی تو بڑی محبت والی ہے اور جس سے شوہر بھی بے انتہا محبت کرتا ہے … ماہین نے کہی تو بڑی کڑوی بات تھی پر اس کا لہجہ نارمل تھا کوئی جلن حسد کے تاثرات بھی نہ تھے اس کے چہرے پر دانش کو حیرت ہوئی اس کے اس انداز پر بھی … اج کل اکثر وہ اسے چونکا کر رکھ دیتی تھی …

“مجھے لگتا ہے میں دونوں بیویوں کے معاملے میں لکی ہوں تم کیا کہتی ہو ماہین … دانش کی کہی اس بات پر وہ اچھی خاصی تپ گئی , بڑی مشکلوں سے خود پر ضبط کرتے ہوئے وہ بولی…

“میرا خیال ہے ڈھٹائی میں اپ سے کوئی جیت بھی نہیں سکتا …

وہ ماہین کے ضبط کے باوجود اچھی طرح سمجھ چکا تھا کہ وہ اسے زچ کر چکا ہے , اس لیے اپنے ہونٹوں کی ہنسی چھپا کر وہ بے نیازی سے بولا کہ …

“ہان یہ بھی ہے کیا خیال ہے اج یہاں پر سوجاؤں یا نیچے جا کر …

“آپ کے لیے تو دونوں جگہ بستر لگا کریں گے جہاں دل کرے وہاں سو جایا کریں … وہ اچھا خاصا چڑ چکی تھی اس کی باتون سے , دانش ضبط کرتا رہ گیا ماہین ان کا انداز واقعی نفرت امیز تھا اس کے انداز میں کوئی محبت اور عزت نہ تھی اس کے لیے پر ہاں وہ ضبط سے کام لے رہی تھی اتنا تو دانش اچھی طرح سمجھ رہا تھا …

“میرا خیال ہے کچھ سیٹنگ ہی کر لینی چاہیے ہمیں… دانش نے کہا جس پر وہ حیرت سے بولی …

“سیٹنگ کیسی سیٹنگ …

“مطلب میری کچھ ذمہ داریاں تم پر ہونی چاہیے کچھ نایاب پر یا ہم دن فکس کر لیں گے کس دن میں یہاں پر ہوں اور کس دن وہاں پر کیا کہتی ہو اس بارے میں … دانش کی بات پر وہ دانت پیس کر بولی …

“میری طرف سے اپ ایک بات ذہن میں بٹھا لیں میں اپ کی کوئی بھی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوں باقی اپ کی مرضی … اس کا لہجہ اس کے غصے کی عکاسی کر رہا تھا اسے شدید ناگوار گزری تھی دانش کی کہی بات …

“کوئی بھی مطلب کسی قسم کی نہیں وہ ایک دم اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر بالکل نزدیک تر کر گیا … وہ اس کے انداز پر حیران تھی جو اس کے غصے کو اگنور کر کے بات کو دوسری طرف ہی لے گیا تھا … اس کا بدلہ انداز اور بدلی نظر کو اب اچھی طرح وہ سمجھ رہی تھی … وہ کچھ کہنے کے لیے لفظ ہی تول رہی تھی کہ ایسا کچھ کہے کہ وہ خود ہی اس سے دور ہو جائے اس سے پہلے وہ کچھ بولتی وہ خود ہی بولا …

“سچ کہوں بہت بولتی ہو تم … اتنا کہہ کر اس کے ہونٹوں پر جھک گیا اور اس کے لفظوں پر قفل ڈال گیا …

وہ اس کی جان لیوا قربت میں بسسس بن پانی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی …

فجر کی نماز پڑھتے وقت ماہین نے جب ہاتھ اٹھائے تو کتنے لمحے بے اواز وہ روتی رہی …

“یا اللہ میں نہیں رہنا چاہتی اس شخص کے ساتھ پر اس شخص نے اخر کار مجھے مجبور کر ہی دیا ہے اپنے ساتھ رہنے پر , سب سے زیادہ تکلیف دہ مرحلہ اس کی قربت برداشت کرنا ہے میں اذیت میں ہوں پر جو تیرا حکم ہے اس سے تجاوز نہیں کر سکتی … اور یہ شخص سمجھتا ہے اس کی قربت میرے سارے غم اور درد کا مداوا کر دے گی تو ایسا کچھ بھی نہیں ہے اس کی قربت مجھے ایک نئی اذیت سے گزارتی ہے اور میں صرف تیری رضا کے لیے یہ سب برداشت کرتی ہوں …

ماہین اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی اس کے ساتھ کسی قسم کا سکون محسوس نہ کرتی تھی … یہ رشتہ اس رشتے سے جڑے ہر احساسات اس کے کندھوں پر سوائے بوجھ کے کچھ نہ تھا …

@@@@@@@@

صبح کے وقت وہ الماری دیکھتا ماہین سے بولا …

“میرا خیال ہے مجھے افس کے کچھ کپڑے یہاں بھی رکھنے چاہیئے …

“اور میرا یہ خیال ہے کہ اپ کو نیچے ہی سونا چاہیے … ماہین نے بےپروائی سے کہا اور اپنے لیب ٹاپ پر نظرین جماتے ہوئے بولی …

“کیوں تمہیں میری ضرورت نہیں … دانش نے لیب ٹاپ اس کے سامنے سے ہٹاتے ہوئے کہا … اب وہ اس کا لیپ ٹاپ سائیڈ پہ رکھ چکا تھا …

“مجھے اپ کی ضرورت نہیں … وہ صاف اور دو ٹوک لہجے میں بولی تھی …

“ماہین تم ایسی کیوں ہو , جب مجھے لگنے لگتا ہے کہ تم بالکل میرے زیر اثر ہو پھر پتہ چلتا ہے کہ تم مجھ سے تو انتہائی دور ہو بتاؤ نا ایسی کیوں ہو …

وہ نرمی سے پوچھ رہا تھا اپنے دل میں مچلتا ہوا سوال … اس کے نرمی سے پوچھے گئے سوال پر وہ سکون سے بولی …

“یہ سوال سوچنے لگے تو بہت سا وقت ضائع ہو جائے گا , تو ایسا ہے یہ رہنے دیتے ہیں ابھی کے لیے … فلحال اپنا کریڈٹ کارڈ دے دیں کیونکہ اپ کی ذمہ داری کا وقت اگیا ہے کچھ ضروری چیزیں مجھے لینی ہیں …

“میرا خیال ہے شام کو شاپنگ پہ چلیں … دانش نے اس سے کہا …

“سوری اس کنڈیشن میں میں اپ کے ساتھ نہیں چل سکتی اور ساتھ میں چاہت کو سنبھالنا بھی ایک مشکل مرحلہ ہے کیونکہ کسی بھی وقت اسے کسی چیز کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور شاید شاپنگ مال کا ماحول اس کے لیے بہتر نہیں … ماہین کی بات سے وہ بھی ایگری ہوا اور بولا …

“اوکے جیسا تمہیں بہتر لگے …

“میں ان لائن منگوا لون گی …

وہ اس کی طرف کریڈٹ کارڈ بڑھا گیا اور ساتھ میں پاسورڈ بتایا …

@@@@@@@

اج وہ جلدی فارغ ہو گیا تو لنچ پر نایاب کے ساتھ تھا اور وہ دونوں ایک خوشگوار ماحول میں لنچ کر رہے تھے ویسے بھی دانش کا موڈ کافی حد تک ماہین خراب کر چکی تھی اسی لیے وہ خود بھی اس کے ساتھ کھا کر اسے اور اذیت دینا نہیں چاہتا تھا

ابھی انہیں کھانا کھایا کچھ دیر ہی گزری تھی جب اس کے موبائل پر بیل ہوئی

کال اس نے ریسیو کر لی جو ایک کنفرمیشن کال تھی کہ اس نے اٹھ لاکھ کا لیپ ٹاپ ارڈر کیا ہے اگر وہ کنفرم کر دے تو یہ پیسے اس کے کارڈ سے ڈیٹیکٹ ہو جائیں گے اور ساتھ ہی ساتھ ایک کوڈ ائے گا جسے کنفرم جو کمپنی دے گی تو وہ کنفرم کنفرم ہو جائے گا

وہ اچھی طرح سمجھ رہا تھا یہ سب ماہین نے کیا ہے اور اٹھ لاکھ کا لیپ ٹاپ وہ زیر لب بولا اٹھ لاکھ کا لیپ ٹاپ اوکے ڈن کر دیں سر ار یو شیور یہ اپ نے کیا ہے …. اتنا مہنگا ارڈر تھا اس لیئے پوچھنا ضروری تھا …

“جی اف کورس او کے تھینک یو … دانش بولا …

“کیا 8 لاکھ کا لیپ ٹاپ کون سا لیپ ٹاپ اتنا مہنگا ہوتا ہے … نایاب حیرت سے بولی …

“آئی تھنک یہ ایپل کا کیا ہوگا ماہین نے دانش نے کچھ سوچ کر کہا …

نایاب جا کر قہوہ بنا کر لائی جو اکثر دن کے وقت وہ کھانے کے بعد ہی پسند کرتا تھا ابھی وہ اسے قہوا ہی دے رہی تھی کہ اسی وقت کمپنی سے ایک اور کال اگئی اور جس میں وہ 12 لاکھ کی مالیت کی لیڈیز گھڑی کے لیے کنفرم کر رہا تھا کہ یہ پیسے اس کے کارڈ سے کٹ ہونے چاہیئے یا نہیں …

وہ دانت پیستا ہوا بولا “ٹھیک ہے ڈن کر دین … کال کٹ ہونے کے بعد وہ موبائیل سائیڈ پر رکھنے لگا … اسی وقت نایاب بولی ..

“دانش یہ کیا کر رہے ہیں اپ اس طرح تو یہ چند دنوں میں اپ کو غریب کر کے رکھے رکھ دے گی …

“اس کے چند مہنگے شوق اس کو پرسکون کر سکتے ہیں تو ہونے دو یاد رکھنا تمہارے شوہر کے لیے یہ کوئی بڑی قیمت نہیں ہے … اس سے زیادہ خرچ کر سکتا ہوں میں ہر مہینے …

“برداشت اپ کو دکھائی نہیں دے رہا کہ ماہین کتنی لالچی عورت ہے ذرا سا اپنے ہاتھ کیا دیا وہ تو پورا سر پہ چڑھنا شروع ہو گئی ہے اور دیکھیں اپ بالکل غلط کر رہے ہیں اسے یوں سر پر چڑھا کر اپ محسوس کریں ایک تو وہ اپ کی عزت بھی نہیں کرتی اور اوپر سے اس طرح کے مہنگے شوق اپ ابھی نہیں روکیں گے تو بعد میں بڑا نقصان اٹھائیں گے … نایاب غصے سے بولی تھی …

“ایک منٹ نایاب شاید تم بھول گئی ہو یہ جو میں نے اس کے ساتھ کیا ہے اس کے اگے یہ پیسے کوئی معنی نہیں رکھتے وہ اپنی بڑھاس نکال رہی ہے اسے نکالنے دو ….وہ اسے ٹوکتا ہوا بولا تھا … اس کے انداز اور اس کی کہی بات پر وہ کچھ نرم پڑتے ہوئے بولی …

“دانش مجھے سمجھنے کی کوشش کریں … جتنا مجھے لگتا تھا کہ ماہین اچھی ہے , اتنی ہے نہیں … تم خود اندازہ کرو اس نے پہلے دن ا کر کیا کیا تھا کس طرح تم سے چیز سینڈوچ بنوایا اور پھر کھایا تک نہیں اور پھر میرا بنایا کھانا کھا گئی اپ کو کچھ محسوس نہیں ہوا اس دن … نایاب نے اپنے لہجے میں تجسس کا عنصر ڈالتے ہوئے بات کی تھی …

“یہ اس کی بچوں جیسی حرکتیں ہیں صرف مجھے زچ کرنے کے لیے کررہی ہے … اگر اس دن بنایا تو یہ دیکھو کہ جو میں چاہتا تھا وہ ہوا ہے تو تھوڑا بہت جو وہ کر رہی ہے اسے کرنے دو اتنا کر کے اگر اسے سکون مل رہا ہے میں اس دن بھی جانتا تھا کہ اس کا کوئی ارادہ نہیں ہے چیز سینڈوچ کھانے کا صرف مجھے زچ کرنے کے لیے کر رہی ہے اور تم جانتی ہو میں نے کیوں بنایا … دانش یہ سب سکون سے کہے رہا تھا نایاب کو اندازہ ہورہا تھا وہ اس نے سوچ سمجھ کر سب کیا تھا …

“کیوں بنایا … نایاب نے پوچھا …

“میں اسے احساس برتری میں لانا چاہتا ہوں کسی قسم کی احساس کمتری میں نہیں اور کچھ دن کی باتیں ماہین بہت زیادہ میچور ہے یہ بچپنے کچھ دن ہی وہ کر سکتی ہے کیونکہ یہ سب اس کی طبیعت کا حصہ نہیں ہے وہ بہت نفیس طبیعت کی مالک ہے اور اس کا اندازہ تو تم لگا سکتی ہو کہ کس قدر کٹھور انداز میں اس نے کہا تھا کہ وہ میرے کسی بچے سے نہیں ملنا چاہتی اور ایک بات بتاؤں اگر بچے کیا تم خود بھی اس سے ملو گی نا وہ تمہیں بھی کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچائے گی اتنا میں اچھی طرح جانتا ہوں وہ میرے خاندان کی ہے , میری کزن ہے , اس کی طبیت کا مجھے اندازہ ہے , وہ کسی کو بھی کبھی تکلیف نہیں دے سکتی …

دانش نے سب باتین جس انداز میں کہیں نایاب کو شدید تکلیف سے دوچار کرگئیں تھیں … تنویر کی باتون سے دانش اندازہ لگا چکا تھا ماہین کس قدر نرم مذاج کی ہے , تنویر کو اپنی چھوٹی ماما پسند آئی تھی … تنویر نے بڑے پیار سے اپنے باپ کو منع کر دیا تھا کہ وہ اس کی ماما کو بالکل نہ بتائے کہ اسے چھوٹی ماما پسند ائی ہے یہ بات دانش کو عجیب تو لگی پر اس نے ایک بچے کو کُریدنا مناسب نہیں سمجھا …

“دانش مجھے یقین نہیں ا رہا مجھے لگا اپ صرف مجھ پہ بھروسہ کر سکتے ہیں اور کسی پر نہیں اور اج ماہین کے لیے یہ باتیں کہہ کر مجھے حیران کر دیا اپ نے …. نایاب نے دکھ اور اذیت کی ملی جلی کیفیت میں کہا تھا ….

جاری ہے