Rate this Novel
Episode 42
میرے درد کو جو زبان ملے
ازقلم صبا مغل
قسط نمبر 42
یہ صرف ذیشان ہی جانتا تھا کس طرح اس نے ادھے گھنٹے میں سب کو لے کر نکلا تھا اسلام آباد بائے کار کیونکہ اس کا دل گواہی دے رہا تھا وہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں … اس میں اتنی ہمت نہ تھی گاڑی چلا پاتا اس لیئے ڈرائیور کو لے کر نکلا تھا …
وہ لوگ جیسے ہی دانش کے گھر پہنچے ایک قیامت ان کی منتظر تھی دو جنازے فرش پر پڑے تھے ایک معصوم بچے کا اور دوسرا دانش کا … طاہر آفندی جو تاعمر مغرور اکڑ کر چلتے تھے وہ زمین بوس ہوجاتے اگر بروقت ذیشان نہ تھامتا … پھر نا ختم ہونے والے رونے کا سلسلہ شروع ہوگیا … دانش کے پڑوسیوں نے انسانیت ناطے بہت اچھا ساتھ دیا اس وقت ان کا …
@@@@@@@@@@
جیسے ہی ریحان کو فون پر ذیشان نے بتایا جو کچھ ہوا ہے وہاں اسی وقت پہلے اس نے ماں باپ کو بتایا جس پر وہ بےانتہا رنجیدہ ہوئے کیونکہ جیسے بھی ہوں اپنوں کا درد محسوس ہوتا ہے اپنوں کو …
نادر آفندی نے فیصلہ کیا کہ ان کو اور سعدیہ بیگم کو ضرور جانا چاہیئے ریحان اور ریما کے ساتھ … ماہین کی آنکھین نم ہوئیں معصوم سنی کا سوچ کر ساتھ ہی ساتھ دانش کے موت کا بھی دکھ ہوا …
ریما کی حالت خراب ہوئی اپنے بھائی کی موت کا سن کر جسے ریحان اور ماہین نے سنبھالا اس وقت … ماہین نے جیسے تیسے ریما اور بچون کا سامان پیک کیا تاکہ وہ لاہور پہنچ سکے … فلائیٹ بھی ان کو مل گئی دو گھنٹے کے اندر روانہ ہوئے …
لاہور میں ان کی میت لاکر دفنائی گئی … کڑے ضبط سے یہ سارے انتظام ذیشان کو سنبھالنے پڑے ریحان بھی بڑے بھائی کی طرح اس کے شانا بشانا کھڑا رہا ہر وقت … اسے مشکل وقت میں ریحان نصاری پرانی قدورتوں کو ایک سائیڈ پر رکھ کر ان کے ساتھ اپنوں والا رویہ رکھا , ریحان نے ثابت کر دیا کہ وہ کتنے اچھے ماں باپ کی تربیت کا نتیجہ ہے … طاہر آفندی کو شدت سے احساس ہوا ان سے دانش کی تربیت میں بہت سی خامیاں رہ گئیں تھیں اسی وجہ سے اتنا کچھ ہوگیا اس کے ساتھ …
ایسے مشکل وقت میں شاہدہ بیگم بھی اگئی بہن کے پاس ان سے رہا نہ گیا … شائستہ بیگم کو بھائی اور بہن نے سنبھالا تھا … طاہر آفندی کو چپ سی لگ گئی تھی …
@@@@@@@@@@
ماہین آج آفیس نہیں گئی تھی کیونکہ پورے چار دن بعد نادر آفندی سعدیہ بیگم اور ریحان واپس آئے تھے … جبکہ ریما کو وہ ایک مہینے کے لیئے چھوڑ آئے کیونکہ اس وقت اس گھر کو ان کی بڑی بیٹی کی ضرورت تھی … ماہین کے دل میں سکون اترا یہ سوچ کر اس کے بھائی نے اس کڑے وقت میں اپنی بیوی کو سمجھا اور اس کا ساتھ دیا بجائے پرانے جھگڑوں کو ہوا دینے کے کیونکہ ماہین نے اپنے نصیب سے سمجھوتہ کر لیا تھا وہ اس کا ذمہ دار قطعی کسی کو نہیں مانتی سوائے دانش اور نایاب کے … اب جو کچھ ان کے ساتھ ہوا اس کے بعد تو اس نے یہ بھی سوچنا چھوڑ دیا …
ریحان نے ہی بتایا کہ نایاب کو مجبورً پاغل خانے بھیجنا پڑا کیونکہ چیخنے چلانے کے ساتھ وہ خود کو بھی نقصان پہنچارہی تھی اور دوسروں کو بھی … یہ ڈاکٹر کا ہی فیصلہ تھا اسائیلم میں رکھا جائے اسے …
ماہین کے چہرے پر بے چینی دیکھنے لائق تھی جب وہ اپنے ماں باپ کے پاس بیٹھی تھی لنچ کے بعد ایسا لگ رہا تھا وہ کچھ پوچھنا بھی چاہ رہی ہے اور نہیں بھی پوچھنا چاہ رہی اور ایسا ہی کچھ حال سعدیہ بیگم کا بھی تھا …
آخرکار نادر آفندی اس کی ہچکچاہٹ محسوس کرگئے اور کہا “ماہین کچھ کہنا چاہتی ہو یا کچھ پوچھنا چاہتی ہو تو بیٹا ارام سے پوچھ لو یا کہو … ان کے انداز میں پیار اور نرمی تھی …
“جی بابا وہ …. پہلی دفعہ ایسا ہوا تھا کہ وہ تمہید باندھ رہی تھی کچھ کہنے کے لیے … وہ لوگ بھی حیران تھے کیونکہ ماہ ان کو جو بھی کہنا ہوتا وہ بغیر ہچکچاہٹ کے کہے دیا کرتی تھی…
” بابا امی مجھے یہ پوچھنا تھا کہ تنویر کیسا ہے اس سے ملے اپ لوگ… اس کے لہجے میں محسوس کی جانے والی ہچکچاہٹ واضع تھی , ایسا لگ رہا تھا جسے وہ پوچھنا بھی نہیں چاہ رہی اور بنا پوچھے اس سے رہا بھی نہیں جا رہا تھا … وہ اپنے دل کا کیا کرتی جسے اس معصوم کی یاد ا رہی تھی جس کے ایک دم ہی سارے اپنے اس سے دور ہو گئے تھے ماں رہی تھی تو وہ بھی نہ ہونے کے برابر اور باقی سارے رشتے اس سے چھن گئے تھے … پچھلی تین راتوں سے وہ ہر رات سونے لگتی تو اس کا چہرہ انکھوں میں اتر اتا تھا پھر پوری رات اس کی کروٹ بدلتے ہی گزرتے گزر جاتی …
“ماہین میں ابھی تم سے اسی بارے میں بات کرنا چاہتی تھی پر میری ہمت نہیں ہو رہی تھی … ہمیں لگا تم ان سب کو بھول کر اگے نکل چکی ہو تو میں دوبارہ تمہیں اس طرف نہیں لانا چاہتی تھی پر اب لگ رہا ہے کہ رشتے ہمیشہ دو طرفہ ہی ہوتے ہیں کبھی ایک طرفہ نہیں ہوتے … سعدیہ بیگم نے کہا یقین سے … اب وہ خود کو کچھ حد تک پرسکون سمجھ رہی تھیں …
“میں سمجھی نہیں امی اپ کی اس بات کا مطلب … ماہین نے حیرت امیز لہجے میں پوچھا …
“جانتی ہو ماہین جیسے ہی تنویر کی مجھ پر نظر پڑی تو اس نے کیا کہا وہ بھاگ کر میرے گلے لگا اور مجھ سے کہا کہ نانو میری مما کہاں ہے میں حیران ہو گئی جب میں نے نا سمجھی سے دیکھا تو وہ واضع کرتا ہوا بولا نانو میری چھوٹی مما کہاں ہے اور چاہت کہاں ہے وہ لوگ کیوں نہیں ائے یہاں … مجھے میری چھوٹی ماما کے پاس جانا ہے کیونکہ میری مما ٹھیک نہیں ہے اسے ڈاکٹر انکل لے گئے , میرے پاپا اور بھائی بھی چلے گئے اللہ کے گھر … ماہین میرا دل دہل گیا اس معصوم کی بات پر … ان کے لہجے میں دکھ اور درد تھا کیونکہ ان لوگوں نے کبھی بھی دانش یا اس کی بیوی کو بد دعائیں نہیں دی تھیں , ایسا تو وہ لوگ کبھی نہیں چاہتے تھے کہ کوئی معصوم یتیم ہو جائے …
“تو امی آپ اسے لے آتی نا … ماہین نے بے ساختہ کہا , سعدیہ بیگم اسے دیکھتی رہ گئیں … جبکہ نادر آفندی اپنی بیٹی کے بہتے آنسو سے اس کا درد محسوس کرگئے وہ ماہین کی حساس طبیت سے اچھی طرح واقف تھے …
@@@@@@@@@@
پھر ریما کے ذریعے اس نے بات کی تنویر سے وہ روتے ہوئے اسے انے کے لیئے کہتا تو دوسری طرف ماہین بھی بہتی آنکھون سے اسے تسلی دیتی …
فون کی وڈیو کالس کا آخر یہ نتیجہ ہوا کہ ریما نے ماہین سے اجازت مانگی کہ وہ لے آئے اسے کراچی اگر اسے اعتراض نہ ہو کیونکہ یہاں وہ سوائے شانی کے کسی سے اتنا اٹیج نہیں ہورہا جبکہ دعا اور تیمور پوری کوشش کرتے اسے سنبھالنے کی پر تنویر کو جیسے تیسے ریما بہیلا لیتی کیونکہ وہ دانش کے گھر پر اس سے مل چکا تھا باقی رشتوں سے وہ ملا نہیں تھا اس لیئے گھلتا ملتا کیسے , طاہر آفندی بیمار رہنے لگے تھے ایسا ہی کچھ حال شائستہ کا بھی تھا … نادر آفندی اور سعدیہ بیگم کو بھلا ایک معصوم یتیم بچے سے کیا دشمنی ہوسکتی تھی ان کو کوئی اعتراض نہ تھا اگر تنویر کراچی ا جائے جبکہ ریحان کو اعتراض ہوا پر ماہین نے سھولت سے اس کا اعتراض دور کیا یہ کہے کر “بھائی اگر ہم غیروں کے لیئے ہمدرد ہوسکتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے رشتیدار کے لیئے ہمدرد ہونا چاہیئے وہ تکلیف میں ہے اسے میری ضرورت ہے پلیز بھائی …. اس کے لہجے میں درد کی امیزش کو شدت سے ریحان نے محسوس کیا …
“ماہین میری بہن کل کو یہ بچہ تمہارے لیئے تکلیف کا باعث بنے گا وہ جن کا خون ہے ان کو سنبھالنے دو , ایسا نہ ہو یہ ہمدردی تمہارے گلے پڑ جائے تم ابھی کے حالات اور وقت دیکھ رہی ہو میں انے والے وقت اور حالات کی بات کر رہا ہوں … ریحان نے سمجھانے کی کوشش کی …
“بھائی پلیز وہ التجا بھرے لہجے میں بولی …
جانے کیوں وہ سے ٹال نہ سکا اسی لیے اثبات میں سر ہلا کر اسے اجازت دے دی …
“سچ بھائی خوشی سے کہے رہے ہے نا … دل میں ناراض تو نہیں … ماہین نے سے بولتی ہوئی اسے بے انتہا معصوم سی لگے اور ریحان مسکرا پڑا اور بولا “مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے تمہاری خوشی میں ہی ہم خوش ہیں … ماہین کے چہرے پر الوہی چمک دیکھ کر وہ مطئمن ہوا …
@@@@@@@@@@
پھر واقعی تنویر کے انے سے وہ خوش رہنے لگی … پہلے جو ریما ڈر رہی تھی کہیں اس کا شوہر نہ ناراض ہو پر ماہین کی خوشی نے کسی کو کچھ نہ کہنے نہ دیا ریما کو …
جس والہانہ انداز میں تنویر لپٹا تھا پہلی دفعہ ماہین سے کراچی انے پر … اس کو دیکھ کر سب کی آنکھین نم ہوئیں …
“ماما میری بہن کہاں ہے … وہ ڈھونڈنے لگا …
“تنویر … اسے اللہ نے اپنے پاس بلا لیا وہ بھی اللہ کے گھر گئی ہے … ماہین نے کڑے ضبط سے اسے بتایا … جس پر وہ اس سے لپٹ کر رویا … ماہین کو دکھ ہورہا تھا اس چھوٹے بچے کو اتنا کچھ برداش کرنا پڑ رہا ہے …
تنویر سب کی آنکھیں نم کرگیا … پیار کا کوئی رنگ روپ یا خون سے تعلق نہیں ہوتا یہ تو دل سے دل کا تعلق ہوتا ہے جیسے تنویر اور ماہین کا تعلق …. نایاب نے جو تعلق ایک جلن اور حسد کی نیت سے بنایا تھا اسے پتہ ہی نہیں تھا کب یہ تعلق حقیقت کا روپ دھار کر ایک زندہ حقیقت بن جائے گا …
پھر ماہین نے واقعی ماں ہونے کے سارے فرض پورے کیئے ذیشان دو تین دفعہ آیا تھا تنویر سے ملنے , آج بھی وہ نظر نہیں اٹھا پاتا تھا اس کے سامنے اور ماہین کی زبان سے ایک لفظ نہیں نکلتا تھا , دونوں کے بیچ احترام کا تعلق برقرار تھا آج تک جسے شاید کوئی بھی پار کرنے کی ہمت نہ رکھتا تھا …
وہ بچون کو گھمانے لے جارہا تھا تو تنویر کے ضد کرنے پر ماہیب کو جانا پڑا دونوں کے بیچ خاموشی ہنوز برقرار تھی …
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد ہمت کر کے بولا “ماہین تمہارا بہت شکریہ واقعی تم بہت اچھی ہو اور یہ تمہارا احسان ہے کہ تم نے تنویر کو اتنا پیار دیا اور دے رہی ہو … شانی نے ایک ایک لفظ ٹھر کر ادا کیا وہ واقعی میں اس کا مشکور تھا …
“شکریہ کی ضرورت نہیں … وہ آہستہ سے بولی تھی … وہ جاکر بچوں کے ساتھ کھڑی ہوگئی شانی اسے دیکھتا رہ گیا … یہ فاصلہ ہمیشہ رہنا تھا شاید دونوں کے بیچ …
@@@@@@@@
“مجھے لگتا ہے تو نے ہمیشہ کے لیے کراچی رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے … شانی نے جنید سے کہا تھا … وہ کراچی آیا تھا تو کیسے نا ملتا جنید سے … جنید اور اس کے بیچ تھوڑے فاصلے رہتے پھر جب دوبارہ ملتے وہی بن جاتے … جیسے جنید کو لیٹ پتا چلا اس کے بھائی کے گزرنے کا پر جیسے پتا چلا اگلے دن وہ لاہور پہنچا اس کے گھر تعزیت کرنے پہنچا تب اس کے بھائی کو گزرے پانچوان دن تھا … جنید کو شدید افسوس ہوا سن کر …
کراچی سے کل ذیشان کی واپسی تھی اس لیئے جانے سے پہلے وہ جنید سے مل لینا چاہتا تھا …
“یار بسس کچھ وقت کی بات , پھر مجھے واپس لاہور ہی انا ہے … جنید نے کہا …
“کوئی خاص وجہ یہاں رکنے کی … شانی نے پوچھا …
“ہاں ہیں کئی وجوہات کچھ پروفیشنل اور کچھ پرسنل ہیں … جنید شاہ نے مزے سے کہا …
“بیسٹ فرینڈ کو بتانا پسند کروگے … شانی نے پوچھا …
“ہاں بتادوں گا , پہلے تم بتاؤ اس کے بارے میں جس کا ذکر سن کر میرے کان پک گئے تھے پر ذیشان صاحب کی زبان نہیں تھکتی تھی اس کے ذکر سے … جنید شاہ نے کہا مزے لے کر …
“اب اس بارے میں , میں بات نہیں کرتا … ذیشان نے سھولت سے کہا …
“تم نے عرصہ ہوا اس کا نام بھی نہیں لیا کبھی … جنید نے کہا …
“ہممم شاید تم کو یاد بھی نہیں … شانی نے پوچھا …
“ہاں واقعی عرصہ ہوا , تم نے ذکر نہیں کیا تو مجھے بھی یاد نہیں رہا , ذرہ پھر سے بتانا اس پری کا نام … جنید نے پوچھا یاد کرنے کی کوشش کی پر ذہن پر زور دینے کے باوجود یاد نہ آیا اس کا نام … اتفاق کی بات تھی وہ اس کے بھائی کی شادی میں آ نہ سکا … جبکہ ذیشان نے خود آناً فانً شادی کر لی تھی تب بھی جنید آ نہ سکا کیونکہ ان دنوں وہ لندن تھا …
“تم اپنی بات کرو جنید , میرا رہنے دو , میں نے عرصہ ہوا اس بارے میں سوچنا چھوڑ دیا … میں نے اسے نصیب کا لکھا مان لیا ہے یہ ہم کبھی مل ہی نہیں سکتے اور جن سے مل نہیں سکتے ان کا ذکر کیا کروں … شانی نے کہا اس کا انداز ٹالنے والا تھا …
“ہمممم یہ بھی ہے , تم اتنے احتیاط پسند ہو , سچ بتاؤ وہ لڑکی دنیا کی خوش نصیب ہوگی جسے تم جیسا شخص چاہتا ہوگا … جنید نے فخر سے کہا جبکہ شانی نظریں چراگیا …
پھر کھانا سروو کیا ملازم نے تو دونوں کو خاموش ہونا پڑا اور پھر کھانا کھانے کے بعد جب وہ دونوں روبرو بیٹھے تو اچانک جنید نے کہا …
” ویسے یار تمہاری چپ تو نہیں ٹوٹے گی پر میرا دل چاہتا ہے میں اپنے دل کی بات تم سے کروں … جنید کے انداز میں شوخی تھی …
” لگتا ہے کھانا کھا کر میرے یار کی بیٹری چارج ہو گئی ہے … ذیشان نے مزے سے کہا …
“ہمممم … میں نے ایک لڑکی پسند کی ہے … ویسے میں نے نہیں امی کو پسند ائی تھی تو پھر میں نے سوچا تو مجھے بھی اچھی لگنے لگی اب تم اپنی رائے دو … جنید نے کہا تو ذیشان مسکرایا اور بولا “ابھی تک تم نے مجھے اس کی کون سی ڈیٹیل بتائی ہے کہ میں تمہیں رائے دوں …
” وہ میرے چاچو عمر ملک جانتے ہو نا ان کی بھانجی ہے ماہین جس کا میں نے تمہیں بتایا تھا اور اب وہ ماما کا اشیانہ فاؤنڈیشن کو ہیڈ کر رہی ہے … اس دوران ماما کے ساتھ اس کی بہت اٹیجمنٹ ہو گئی ہے ماما کو پسند اگئی تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں پرابلم یہ ہے کہ اس کا ایک ڈائیورس بھی ہو چکا ہے ایک بیٹی تھی وہ بھی گزر گئی ہے , وہ بلکل تنہا ہے اب , سچ میں ذیشان وہ بہت اسٹرونج اور ڈیفرینٹ سی ہے ماہین نام ہے اس کا … جنید شاہ اپنی کہے رہا جبکہ ذیشان کے کان سائین سائین کرنے لگے , وہ اچھی طرح سمجھ رہا تھا جنید شاہ کس کی بات کررہا ہے …
” کیا ہوا یار تمہارے چہرے پہ 12 کیوں بج رہے ہیں کیا تمہارے سمجھ میں نہیں ائی وہ لڑکی شاید ڈائورس کو لے کے تم … جنید نے کہا …
“ارے نہیں , اتنی چھوٹی ذہنیت میں نہیں رکھتا … ذیشان نے سنبھل کر کہا …
“تو پھر بتاؤ کیا خیال ہے تمہارا اس بارے میں .. جنید نے پوچھا …
“خیال اچھا ہے تم کو سوچنا چاہیئے … چلتا ہوں دیر ہورہی ہے پھر ایئرپوٹ جانا ہے … ذیشان نے کہا جلدی سے سنبھل کر …
“پر یار ابھی تو ٹائیم ہے … جنید نے کہا …
“نہیں یار ابھی کسی سے ملنا ہے پھر نکل جاؤں گا … ذیشان نے کہا پر وہ اپنے جان سے پیارے دوست سے نظریں چرانے لگا تھا …
“میں چلتا ہوں تم کو چھوڑنے … جنید نے آفر دی …
“نہیں یار … میں مینج کرلوں گا بس کیب بک کردی ہے … ذیشان موبائیل دیکھتا ہوا بولا … پھر واقعی جنید نے زیادہ انسسٹ نہ کیا … کچھ دیر میں ذیشان نکل گیا پر سارا راستہ خود پر ضبط کرتا رہا نا چاہتے ہوئے آنکھ چھلکتی رہی جسے پونچھتا اور دوسرے طرف منہ کردیتا تاکہ کیب والا ڈرائیور دیکھ نہ سکے ….
” واقعی ان سے شدید محبت ہوتی ہے جن سے ملنا نصیب میں نہیں ہوتا … شانی نے خود سے کہا … کس طرح وہ ایئرپوٹ پہنچا یہ صرف وہی جانتا تھا … اپنی تڑپ وہ کس کو بتاتا بسس ضبط کرتا رہا ….
@@@@@@@@
ماہین اپنی کرسی پر بیٹھی آشیانہ فاؤنڈیشن میں جبکہ دوسری کرسی پر جنید بیٹھا تھا دونوں کے سامنے اپنا اپنا لیب ٹاپ تھا … اس وقت دونوں کی ڈسکشن وہی پروجیکٹ تھا جو ماہین اور احد سنبھال رہے تھے جبکہ علی اور باسط دوسرے پروجیکٹ پر کام کررہے تھے … باسط ان کی سوفٹویئر کمپنی کا ایک اور خاص میمبر تھا …. باقی تین جونئیرس بھی تھے ان کے ساتھ …
“ویب ڈیزائینگ ہوجائے گی پھر کل تک … جنید نے کہا کرسی کی بیک سے ٹیک لگاتے ہوئے کیونکہ وہ اپنا کام کرچکا تھا …
“نہیں کل احد ڈیمو اکر دے گا آپ کو اور سر عباس گردیزی کو کمپنی میں پھر فائینل پرسوں …ڈن …ماہین نے لیب ٹاپ پر نظریں مرکوز کرتے ہوئے کہا کیونکہ وہ اس کے سب پوائیٹس نوٹ کررہی تھی , اس کی ٹائپنگ کی سپیڈ دیکھ کر جنید ہمیشہ کی طرح حیران تھا … اس کی نظریں اسکرین پر تھیں ایک دفعہ بھی کی بورڈ پر نظر نہ کرتی تھی وہ اور بس لکھتی جاتی ایسا لگتا اس کی انگلیاں ہی یوز کی انکھیں ہیں جو کی بورڈ پر جمی ہوئی ہیں …
ماہین جلدی سے ڈیٹا یو ایس بی میں سیوو کرکے پھر ریلیکس ہوئی تھی … جنید کو اس کا یہ انداز ہمیشہ پسند اتا تھا کیونکہ وہ ہر کام کر کے اپنا ڈیٹا سیو کر لیتی تھی تاکہ کبھی بھی اس کا ڈیٹا کہیں گم نہ ہو جائے یا کوئی مس ہیپ نہ ہو جائے …
“ویسے ماہین یہ خیال اکثر میرے ذہن میں آتا ہے تم سے پوچھوں پر پھر بھول جاتا ہوں … جنید نے پرسوچ انداز میں کہا …
“ہممم پوچھین آپ … ماہین نے اسے اجازت دی …
” ویسے تمہاری سافٹ وئر ہاؤس کا نام ماہینزے ہے… اس کا مطلب کیا ہے زے یا زی ہے یہ کس کا ریفرنس ہے … میں اکثر سوچ میں پڑ جاتا ہوں … جنید نے پوچھا پر ماہین اسے حیرت سے دیکھنے لگی , اسے امید نہ تھی یہ سوال وہ اس سے پوچھے گا … ایسے سوال تو کالیج اور یونی کے زمانے میں ہی لڑکیاں اس سے پوچھتی تھیں جب اس کے کالم “ماہینزے” کے نام سے چھپا کرتے تھے … یونی کے میگزین میں ہوں یا پھر بزنس ورلڈ نیوز پیپر کے کالم میں چھپتے ہوں تب بھی وہ یہی نام لکھتی تھی … پھر جب سوفٹویئر ہاؤس اس نے رجسٹرڈ کروایا تو پھر اسی نام سے کروایا تھا … یہ سوال بہت پہلے زبیر نے بھی کیا تھا تب بھی وہ ٹال گئی تھی اور آج جنید کا پوچھنا اسے حیران کرگیا …
جاری ہے
