Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40

میرے درد کو جو زبان ملے

ازقلم صبا مغل

قسط نمبر 40

سعدیہ بیگم کی بات پر ماہین پریشان ہوئی کیونکہ “نئی زندگی” کا جو مطلب اس نے سمجھا وہ تکلیف دہ تھا …

“امی وہ بس اتنا ہی بول پائی تھی …

“جاؤ چینج کرآؤ … وہ اس کے ہاتھ میں گلابی نفیس سا ڈریس دیتے ہوئے بولیں تھیں … وہ حیرت سے ڈریس تھام گئی … طیبہ زبردستی اسے واشروم میں دھکیلا … “جاؤ دیر ہورہی ہے …

مجبورً ماہین کو چینج کرنا پڑا … ریما مسکرا کر وہاں سے نکل گئی کیونکہ اب اس کا یہاں ٹھرنا مناسب نہ تھا … طیبہ بھی اس کے پیچھے نکل آئی …

ریما بہت بدل گئی تھی پہلے جیسی نہ رہی تھی پہلے وہ صرف خود کو ریحان کی بیوی سمجھتی تھی اب اس نے بڑی بہو ہونے کے بھی سارے فرض نبھانا شروع کر دیے تھے اب وہ بڑی بھابی کے عہدے پر بھی بہت اچھی طرح اپنے فرائض نبھا رہی تھی … ریحان کا رویہ پہلے جیسا اس کے ساتھ ہوگیا تھا کیونکہ اب وہ دانش کی بہن ہونے کے بجائے اس گھر کے فرد ہونے کا حق ادا کردیا … ریحان دل سے اس کو سراہتا اور محبت سے پیش آتا تھا … گھر میں سب کی نظروں میں اس نے اپنا مقام بنا لیا تھا … وہ ان سب کے ساتھ خوش اور مطمئن تھی بس دل میں ایک خلش تھی کہ وہ اپنے ماں باپ سے مل نہیں پاتی تھی اور یہ پابندی اس نے خود پر خود لگائی تھی جبکہ اس گھر سے کسی نے بھی ایسی کوئی ڈیمانڈ نہ کی تھی جانے کیوں اس کی ہمت نہ ہوتی تھی اپنے میکے کے بارے میں بات کرنے کی یا ان سے ملنے کا کہنے کے ہاں سب کو پتہ تھا کہ وہ فون پر ضرور اپنے ماں باپ سے بات کر تی ہے کوئی لڑکی کبھی اپنے ماں باپ کو نہیں چھوڑ سکتی اور ایسی کوئی ڈیمانڈ کرنا بھی غلط ہے … وہ خود سے کچھ نہیں کہتے تھے پر اگر ریما ایسی کوئی بات کرتی تو وہ ضرور اس کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے پر ریما نے فلحال خود پر ضبط کے کڑے پہرے بٹھا رکھے تھے …

چاہت کی اس طرح اچانک موت ساتھ ہی ماہین کے ابارشن کا سن کر نادر افندی کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا جس کے کارن سعدیہ بیگم ماہین کے پاس جا نہ سکی پر ریحان اور ریما نے اس وقت بڑے ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے ماہین کا خیال رکھا … ان کو پانچ دن اسلام اباد میں رہنا پڑا چھٹے دن وہ کراچی لوٹ آئے تھے … ان پانچ دنوں میں ریما نے دن رات ماہین کا خیال رکھ کے ریحان کے دل سے ساری کدورت اور نفرت نکال کے رکھ دی وہ چاہ کر بھی اسے کچھ نہ کہہ سکا … ایک دن بھی اسے دانش کی بہن ہونے کا طعنہ نہ مارا ریحان نے …

@@@@@@@@@

ماہین کچھ دیر بعد فریش ہوکر اگئی اور پھر ہلکہ پھلکہ تیار ہوچکی تھی … سعدیہ بیگم اس کا ہاتھ تھام کر باہر لے آئیں …

“امی ہم کہاں جارہے ہیں … ماہین حیران ہوئی جب وہ اسے باہر لے آئیں جہان نادر صاحب بھی کھڑے تھے گاڑی کے پاس … وہ سہی معنی میں حیرت کا شکار تھی …

“چلیں ماہین … نادر صاحب نے کہا …

“پر کہاں پاپا … وہ حیران تھی … وہ ہنوز خاموش تھے تو وہ بھی چپ ہوگئی تھی …

گاڑی میں وہ سعدیہ بیگم کے ساتھ پیچھے بیٹھی تھی وہ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے تھیں … علی گاڑی چلا رہا تھا جبکہ نادر صاحب اگے بیٹھے تھے …

کچھ راستہ خاموشی سے گزرا اس کے بعد سعدیہ بیگم بولیں تھیں …

“ًماہین جب اپنے اندر درد بہت زیادہ بڑھ جائے تو دوسروں کا درد بانٹ لینا چاہیئے , اپنا درد خود بخود کم ہوجائے گا … یہی تمہاری نئی زندگی کا مقصد ہے ماہین … سعدیہ بیگم نرمی سے بولتیں اس کی ساری الجھنین دور کررہی تھیں …

“نئی زندگی” کا مقصد وہ شدت سے بولی “پر میں سمجھی …

“جو تم سمجھی تھی میری جان , وہ تمہارا فیصلہ ہوگا جب زندگی میں تم کرنا چاہو , اب ہم میں سے کوئی بھی کبھی بھی تم سے شادی کا نہیں کہے گا … جب اس درد کی کیفیت سے تم نکل آؤگی تب کی یہ بات ہوگی , فی الحال تم وہ کام کرو جو تم سے بہتر کوئی نہیں کرسکتا … سعدیہ بیگم مسکرا کر بولیں جس سے اس کی حیرت کے تاثرات کم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے …

“امی کیا کہے رہی ہیں آپ … وہ الجھن سے بولی …

“تھوڑا صبر میری جان … وہ پیار سے اس کے ماتھے پر پیار کرتی ہوئی بولیں …

کچھ دیر بعد گاڑی ایک بڑے گھر کے سامنے آرکی جہان پر لکھا تھا “آشیانہ فاؤنڈیشن ” ….

“یہ کیا ہے امی , پاپا … وہ سعدیہ بیگم کے باہر نکل کر بولی تھی …

اسی وقت نادر صاحب اس کے دوسری طرف آکھڑے ہوئے …

“یہ ہے وہ مقصد جو تمہاری نئی زندگی کا ہے … ماہین یہ آشیانہ ان عورتوں کے لیئے بنایا گیا ہے جو سسرال کی زیادتی کا شکار ہوکر نکالی جائیں یا شوہر نکال دیں یا پھر بیوہ عورتیں یا طلاق یافتہ عورتیں جو اپنوں کے لیئے بوجھ بن کر بےسہارا ہوجائیں … ان سب کو ان کے درد سے نکال کر ان کو ان کی زندگی کا نیا مقصد دینا ہی تمہارا کام ہے … نادر صاحب ایک عزم سے بول رہے تھے جیسے ان کو یقین تھا ماہین سے بہتر یہ کام کوئی نہیں کرسکتا تھا …

ماہین حیرت سے یہ سب سن رہی تھی …

“ماہین اس سے بہتر زندگی کا کوئی خوبصورت مقصد ہو سکتا ہے تو تم بتاؤ … نادر آفندی نے پوچھا ماہین سے …

“نہیں پاپا … اس سے زیادہ خوبصورت مقصد کبھی بھی کوئی بھی نہیں ہو سکتا … ماہین نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا …

” تو پھر میں یقین رکھوں نا میری بہادر بیٹی یہ بہادری والا کام کر سکتی ہے … نادر صاحب کے لہجے میں مان تھا اپنی بیٹی کے لیئے …

“پاپا یہ کس نے بنایا ہے … ماہین نے پوچھا اپنے دل میں مچلتا ہوا سوال …

“یہ …

اسی وقت عیان جنید شاہ اور اس کے ساتھ ایک اور عورت دیکھ کر حیران ہوئی ان کے پیچھے عمر مامون اور علیزے کھڑے تھے …

“اس کی فاؤنڈر جنید شاہ کی ماں مسز انشاء عیان ہیں … تمہیں اس فاؤنڈیشن کو ہیڈ کرنا ہے ماہین … علیزے نے کہا اور وہ انشاء سے ملی تھی پہلی دفعہ , اسے یہ گریس فل عورت بہت پسند آئی تھی … باقی سب سے مل کر وہ اس آشیانہ میں داخل ہوگئی …

اسے پتا ہی نہیں چلا کتنا وقت گزرا تھا ان عورتوں میں بیٹھے … بیس عورتیں تھیں جس میں سے ایک ایسڈ کا شکار لڑکی تھی جسے اس کے اپنے گھر نے ڈس آن کردیا تھا … ماہین کو لگتا تھا اس سے بڑا کسی کا غم نہیں پر آج احساس ہوا اس سے بھی زیادہ تکلیف اور اذیت میں تھیں بہت سی عورتیں جن کو اس کی ضرورت تھی …

اسے مصروف دیکھ کر سب جاچکے تھے … اس وقت صرف علیزے , انشاء اور ماہین رہ گئیں تھیں آفیس میں …

“ماہین یہ کرلوگی نا تم … بہت وقت دینے والا کام ہے یہ … انشاء نے اپنی کرسی پر بیٹھے ہوئے کہا …

“جی آنٹی میں کرلوں گی … میرے ذہن میں تو بہت سے آئیڈیاز آگئے ہیں , میں بھی فنڈنگ کرسکتی ہوں … ماہین پرسکون سی بولی …

“گڈ ماہین … کل سے تم باقاعدہ آؤگی یا کبھی کبھی … انشاء نے پوچھا …

“آنٹی میں باقاعدہ آؤنگی , جو سکون مجھے یہاں ملا ہے ان چند گھنٹوں میں وہ پچھلے چھے مہینوں میں کبھی ملا ہی نہیں … ماہین نے یہ لفظ دل سے کہے تھے ورنہ پچھلے چھے مہینے سے چاہت کو دن رات یاد کرنے میں گزارے یا اس بچے کو جس کا وجود بسس محسوس کیا تھا دیکھ نہ سکی تھی … یا پھر اس رشتے میں دی گئی اپنی قربانیان یاد کیں اور جس کے آخری نتیجے میں اسے تھپڑوں سے نوازا گیا اور اس رشتے کو توڑ گیا وہ ظالم شخص , وہ اسے اپنی نظروں میں گراکر چلا گیا تھا … جس کے لیئے وہ دانش کو کبھی معاف نہ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی …

@@@@@@@@@

“کیسا گزرا دن میری بیٹی کا … نادر آفندی نے پوچھا …

“بہت اچھا گزرا دن … بہت سکون ملا ہے مجھے آج … تھینک یو بابا … ماہین نے مسکرا کر کہا …

“ماہین اللہ تمہارے لیئے آسانیان کرے تم خوش رہو یہی ہماری دعا ہے … آمین … ایک باپ نے اپنی بیٹی کے ماتھے پر پیار سے ہاتھ رکھتے کہا …

“آمین … ماہین نے کہا …

کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد نادر افندی بولے …

“اگر ہوسکے تو مجھے معاف کردینا میری بیٹی … میرے ایک غلط فیصلے نے تمہیں بہت دکھ اور اذیت دی , تمہیں یہ شکایات تو ہوگی مجھ سے میں نے اپنی بہن کو کچھ کہا کیوں نہیں …

“نہیں پاپا مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں , مجھ سے معافی مت مانگا کریں مجھے تکلیف ہوتی ہے… جانتی ہوں کہے کر بھی کیا فائدہ ہوتا پھپھو کونسا یہ مان لیتیں کہ وہ بے خبر تھیں , جب بھی ان کو پتہ چلا وہ چاہتی تو بتا سکتی تھیں پر انہوں نے بتانا ضروری نہیں سمجھا وہ میرے ساتھ ہوئی ذیادتیاں دیکھتی رہیں اور چپ رہیں … ماہین نے اپنے باپ کی ندامت کرنا چاہی کیونکہ اب ان باتوں کا کوئی فائدہ ہی نہیں تھا …

“جانتی ہو بیٹا جب اپنا ظلم کرنے پر آئے تو اس سے زیادہ سفاک کوئی نہیں ہوتا … میری بہن نے میرا مان توڑ دیا یہ دکھ تاعمر میرے ساتھ رہے گا … نادر افندی کرب سے بولے تھے …

“بسسس پاپا آپ بھول جائیں جو ہوا … میں نے اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرکے مطئمن ہوں … کیا اس بات پر اپنے رب کے شکر نہ ادا کروں جس نے کم از کم مجھے ایسے تو اپنے دیئے ہیں جو اس تکلیف دہ وقت میں مجھے الزام دے کر اکیلا کرنے کے بجائے میرے ساتھ کھڑے ہیں اج جن عورتوں کو میں دیکھ کر ائی ہوں ان کو اپنے اپنوں نے ہی دھتکار دیا تو میں اپنے رب کا شکر کیوں نہ ادا کروں جس نے میرے اپنوں کا ساتھ مجھے ہمیشہ دیا پاپا مجھے مضبوط کرنے والے اپ سب ہیں شاید میں اکیلی اتنی مضبوط نہ ہوتی … ہمیشہ ہر بات سے اچھا پہلو نکال ہی لیتی تھی … نادر افندی کو اپنی بیٹی کی یہی ادا پسند تھی …

” ماہین ہم رہے نہ رہیں تمہیں اتنا ہی مضبوط رہنا ہے کبھی کمزور نہیں پڑنا … یاد رکھنا میری بات … ایک باپ نے اپنی بیٹی سے کہا …

” اللہ نہ کرے جو اپ لوگ میرے ساتھ نہ ہوں .. اللہ میرے سر پر میرے ماں باپ کا سایہ سلامت رکھے .. آمین … ماہین نے کہا …

“انشاء اللہ جتنی حیاتی ہے تمہارے ساتھ ہی رہیں گے ہم … وہ ان کے کندھے پر سر رکھ گئی وہ اسے پیار سے سمجھاتے رہے اور وہ ان کو سنتی رہی …

ایک چیز کا احساس ماہین نے کیا کہ اس کے پاپا جو ہمیشہ خاندان خاندان کرتے رہتے تھے اپنی بیوی کے ساتھ زیادتی کرجاتے تھے کئی معاملات میں … اب ہر معاملے میں بھائی بہن کے بجائے اپنی بیوی کی رائے کو اولین ترجیع دیتے اور اس کی بات کو اہمیت دیتے تھے …

ماہین کو یقین تھا اس کے بھائی بھی اب یہ کریں گے ….

@@@@@@@@@

“جانتی ہو ماہین , ہر انشاء کو عیان نہیں ملتا جو اس کا درد بانٹ سکے کچھ تو ماہین بھی بنتی ہیں جو دوسروں کے درد بانٹ کرہی مضبوط سے مضبوط تر بنتی ہیں … ماہین تمہاری جیسا بنانا ہے یہاں کی ہر عورت کو … کچھ دنوں میں , میں نے محسوس کیا ہے جتنی تعریف تمہاری عیان کرتے ہیں , وہ سچ ہی ہے , تم میں واقعی کچھ ہے … انشاء نے یہ تعریف دل سے کی تھی … ماہین کو بھی بہت اچھا لگتا تھا ان سے بات کرنا ان کے ساتھ بیٹھنا …

ماہین کو علیزے مامی سے پتا چلا تھا کہ انشاء نے اپنے پہلے شوہر ایمان شاہ کی ساری پراپرٹی اس فلاحی کام میں لگا کر یہ ادارہ کھولا ہے … یہ خواب بہت وقت سے تھا ان کا جو اب جاکر تعبیر ہوا تھا … ماہین حیران ہوئی تھی یہ سب سن کر … ماہین کئی دفعہ انشاء کے منہ سے ہر دوسری بات میں صرف عیان انکل کا نام سنتی آرہی تھی …

پچھلے کچھ وقت سے انشاء کراچی کے ڈیفینس ایریا میں رہائیش پذیر تھیں عیان کے ساتھ جبکہ جنید شاہ لاہور میں تھا … آشیانہ فاؤنڈیشن لاہور میں آلریڈی تھا جس کے لیئے فلاحی کام علیزے اور انشاء کررہی تھیں بس اسے بنایا کسی اور نے تھا پر انشاء اور علیزے کو اچھا لگتا تھا وہاں جاکر …

علیزے اپنے باپ کے گزرنے کے بعد گِل خاندان کے بزنس کو سنبھال رہی تھی عمر کے ساتھ .. اس سے ہونے والے منافعے کا زیادہ حصہ آشیانہ فاؤنڈیشن لاہور کو جاتا تھا …

ماہین کے چہرے پر سکون اور طمانیت لوٹ آئی تھی … اس نے عورتوں کو سلائی ,آرٹ کے علاوہ کمپیوٹر اور لائیبریری کا انتظام بھی کر رکھا تھا … وہ عورتوں کو شعور کی منزل طے کرنا سکھارہی تھی …

جس نے کہا تھا سہی کہا تھا ” جب اپنے پاؤں میں کانٹا چبھے تو دوسروں کے پاؤں کا کانٹا نکال کر دیکھو اپنے پاؤں کا درد خود بخود نکل جائے گا”

ماہین اندر سے بہت اچھا محسوس کرنے لگی تھی اب … اس کے درد کو زبان ملی تو سارے دکھ درد کم ہونے لگے تھے …

@@@@@@@

دانش جیسے گھر میں داخل ہوا سامنے کا منظر اسے شاک کرگیا جہان اس کا بیٹا تنویر سنی کے منہ پر کشن رکھے اسے دبارہا تھا …

وہ جلدی سے اگے بڑھا “کیا کر رہے ہو تنویر … کشن سنی کے منہ سے ہٹایا وہ لمبے سانس لینے لگا … یہ سوچ کر ہی دانش کی روح فنا ہونے لگی کہ اگر واقعی اسے تھوڑی اور دیر ہو جاتی تو کیا ہو جاتا کیسی قیامت اس گھر میں ا جاتی …

“تنویر یہ کیا کر رہے تھے تم … ان کا اشارہ کشن کی طرف تھا … دانش کے لہجے میں گھبراہٹ تھی …

“میں تو کھیل رہا تھا پاپا سنی کے ساتھ … تنویر نے منہ بسورا تھا …

ماہین کے جانے کے بعد سے وہ بچون سے دور ہوگیا تھا … سنی تو پھر بھی اس کے آس پاس رہتا پر جب بھی دانش گھر آتا تنویر سویا ملتا تھا جس پر وہ اکثر کہتا بھی تھا نایاب سے “یہ اتنا سونے کیوں لگا ہے … جس پر وہ کبھی اسکول کی تھکان اور کبھی اس کے کھانسی زکام کا بتاتی تھی … اور وہ مطئمن ہوجاتا تھا …

“ماما کہاں ہے … دانش نے پوچھا …

“وہ باہر گئیں ہیں … تنویر نے بتایا منہ بسورتے ہوئے …

“اور نجمہ کہاں ہے … دانش نے کل وقتی ملازمہ کا پوچھا …

“وہ آلو چپس بنارہی ہیں … تنویر نے بتایا … وہ اب کشن سے ماررہا تھا چھوٹے بھائی کو تو دانش نے تنویر کو روکا اور کہا …

“یہ کھیل کس نے سکھایا تمہیں … اس کا اشارہ کشن سنی کے منہ پر رکھ کر پوچھا ہلکہ دبا کر دکھایا دانش نے …

“ماما نے … تنویر بے فکری سے بولا …

“کیا مطلب … دانش حیران ہوا وہ اچھی طرح سمجھ رہا تھا تنویر نایاب کی بات کررہا ہے …

“یہ کھیل ماما نے بھی کھیلا تھا میری بہن کے ساتھ تو میں بھی اپنے بھائی کے ساتھ کھیل رہا تھا … تنویر اپنی شارپ طبیعت کے ساتھ صاف گوئی سے بتا رہا تھا اور یہ بات سن کر دانش دنگ رہ گیا …

“کب تمہاری ماما نے کھیلا یہ کھیل …. دانش کو اپنی اواز کھائی سے سنائی دے رہی تھی اس کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا …

” پاپا بتائیں نا چھوٹی ماما کب ائیں گی اور میری بہن بھی … مجھے وہ بہت یاد اتے ہیں … تنویر نے پھر سے وہی کہا جو کہے کر اکثر نایاب کو زچ رکھتا تھا …

“تنویر مجھے بتاؤ تمہاری ماما نے چاہت کے ساتھ کیا کیا … دانش اب کے پھر سے پوچھ رہا تھا …

وہ اپنی معصومیت میں جو ٹوٹے پھوٹے جملوں میں بتارہا تھا وہ دانش کے سمجھ میں آچکا تھا … کوئی شک نہیں رہا تھا نایاب نے ہی اس کی زندگی کا سکون تباھ کیا تھا …

تنویر اور سنی دوباری کھیلنے لگے پر دانش کے اردگرد دھماکے سے ہونے لگے …

“پاپا چھوٹی ماما بہت اچھی ہیں … یہ بات اکثر تنویر اس سے کہتا تھا …

“پاپا … ماما کیوں منع کرتیں ہیں مجھے اوپر جانے سے , مجھے اپنی بہن کے ساتھ کھیلنا ہے … کبھی تنویر اسے نایاب سے چھپ کے کہتا تھا …

اسے ماہین کا معصوم چہرہ یاد ارہا تھا … دل خون کے آنسو رونے لگا اس لمحے اس وقت …

جاری ہے ….