Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

ناول میرے درد کو جو زباں ملے

ازقلم صبا مغل

قسط2

“انوشی اب اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوگی ہمارے بیچ … ایک بات واضع کروں اگر وہ نہیں تو کوئی نہیں , پھر اگر کوئی بھی ہو تو پھر کوئی بھی ہو … کیا فرق پڑتا میرے دل کی دنیا آباد نہیں ہونی تو پھر نہیں ہوگی … ماہین کے لہجے میں دکھ تھا …

“یار جو تم کر رہی ہو بالکل غلط ہے , تمہارا فیصلہ بھی بالکل غلط ہے .. ایک تو وہ شخص اس قابل نہیں ہے جس کے ساتھ تم جیسی نازک مزاج لڑکی رہ سکے … چھوٹی چھوٹی باتیں ہوں چاہے بڑی تم ہر بات کو محسوس کرتی ہو تم نازک سی ہو وہ جس طرح تمہارے باپ بھائی تم کو ٹریٹ کرتے ہیں ویسے ان کے خاندان میں لڑکیوں کو ٹریٹ نہیں کیا جاتا …. سمجھنے کی کوشش کرو مجھے نہیں لگتا اس سے تمہاری ذہنی ہم آہنگی بن سکے گی کبھی … وہ کس طرح ہم سب کو ٹریٹ کرتا رہا ہے بھول گئی ہو … انوشے نے اسے دانش کے رویئے کا احساس دلایا جو ہمیشہ خاندان کی لڑکیوں سے روڈ سا رہتا ہے … اس کا سڑا سا انداز دیکھ کر اکثر انوشے بولتی کہ “مجھے لگتا ہے دانش بھائی کو سب سے شاید بدبو اتی ہو اس لیئے ایسا سڑا ہوا منہ بناکر سب کے بیچ بیٹھتے ہیں , قسم سے دل چاہتا ہے بندہ لات مار کر کزن محفل سے نکال باہر کرے ایسے شخص کو ….

“پلیز نوشی یار ایسے نہ کرو چھوڑو میں نے اپنا فیصلہ اپنے ماں باپ پر چھوڑ دیا ہے … میں مطمئن ہوں اس بات سے کہ میرے ماں باپ میرے لئے کبھی برا نہیں سوچ سکتے ضرور اچھا سوچا ہوگا اور جب تم جانتی ہو کہ جو میں چاہتی ہوں وہ نہیں ہو سکتا پھر چاہے کچھ بھی ہو کیا فرق پڑتا ہے ہاں کیا فرق پڑے گا , کوئی فرق نہیں پڑے گا پھر اور اگر پھر وہ نہیں تو بھی کوئی ہے تو پھر کوئی بھی ہو کوئی معنی نہیں رکھتا ….

“اف ٹھیک ہے مان لیتی ہوں ہر بات تمہاری ٹھیک ہے سب کچھ مان لیتی ہوں صرف ایک بات بتاؤں مجھے کیا تم واقعی اس شخص کے ساتھ رہ سکتی ہو بیوی بن کر جس کے چھوٹے بھائی سے تم جنون کی حد تک محبت کرتی ہو جس کے بغیر تمہاری زندگی ادھوری ہے …. یقیں کرو یہ زندہ خودکشی ہے پاغل روز مروگی تم ایسے … نوشی دکھ سے بولی تھی وہ اپنی بیسٹ فرینڈ کا درد بخوبی سمجھ رہی تھی …

“تم بہت حساس ہورہی ہو مجھے لے کے … سچ کہوں تونے آج مجھے بڑا خوش کیا لوو یو میری سہیلی …. کم آن ہگ می …. یقین کرو ایسی کوئی بات نہیں ہے جیسا تم سمجھ رہی ہو مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا … وہاں کسی کے بھی ہونے سے … آخری دفعہ یہ بات ڈسکس کی ہے پھر نہ کرنا … چاہے جو بھی حالات ہوں کبھی کوئی ذکر نہ کرنا ہم دونوں کا نام لے کر … وہ اس کے گلے لگ کر بولی تھی … آنسو ضبط کرنے کے باوجود نم آنکھون کو ماہین نے پونچے جلدی سے …

آج ماہین کو اس بات کی خوشی تھی کہ اسے اللہ نے اتنی بہتریں سہیلی دی ہے جو اتنا سوچتی ہے اسے لے کر …

بحرحال ایک بار پھر انوشہ نے کوشش کی اسے سمجھانے کی پر ماہین کو کچھ نہ سمجھنا تھا سو کچھ بھی سمجھ نہیں رہی تھی تو مجبورً اسے چپ ہونا پڑا اور پھر کچھ دیر کے بعد وہ آپس کی باتیں کرنے لگے … آنوشے کو اس کا کمپوزڈ ہونا حیران کرگیا واقعی کتنا سیلف کنٹرول تھا اس میں … آنوشے حیران ہوتی رہی اس کے رویئے پر ….

@@@@@@@@

عیان کا دیا حوصلہ نہ ہوتا تو شاید وہ علیزے کو کبھی رخصت بھی نہ کرواتا کیونکہ اب تک اس کا دل نہیں چاہ رہا تھا نازیہ کی جگہ کسی کو دیکھنے کا , ابھی تک تو کسی کو دیکھنے کا ارادہ نہ تھا اور عیان رخصتی پر بضد تھا کیونکہ اس کے گھر کو عورت کے وجود کی اشد ضرورت تھی … بچے بوکھلا کر رہ گئے تھے اور عیان جانتا تھا عمر اس کے سوا کسی کی نہیں سنے گا … عیان کو شدت سے اپنا ہنستہ مسکراتا دوست شدت سے یاد ارہا تھا , واقعی زندگی ایک سی نہیں رکھتی نہ وقت نا حالات کچھ بھی ایک سا نہیں رہتا …

کچھ دیر بعد عمر اور اس کے کچھ رشتیدار آفندی ہاؤس سے آئے ہوئے تھے ساتھ عیان کے بارات لے کر جارہے تھے علیزے کو رخصت کروانے کے لیئے … بارات میں شرکت کرنے سعدیہ بیگم بھی آئیں تھیں اپنے شوہر نادر آفندی کے ساتھ , سعدیہ بیگم نے عاطف اور عائشہ کو سنبھالا ہوا تھا … سعدیہ بیگم اور عمر دو ہی بھائی بہن تھے جن کے مان باپ گزر چکے تھے … سعدیہ بیگم کراچی میں رہتی تھیں اپنے بھرے پورے سسرال کے ساتھ جبکہ عمر لاہور میں رہائش پذیر تھا … سعدیہ خود مجبور تھیں وہ بھائی کے لیئے کچھ نہیں کرسکتی تھیں , سعدیہ مطئمن تھیں کہ نازیہ نے اپنی حیاتی میں شوہر کی شادی کرواکر ان کو اس مشکل سے بچالیا تھا … شاید نازیہ سمجھ رہیں تھیں کہ سعدیہ اپنے بھائی کو اتنا ٹائم نہ دے پائے مشکل سے نکالنے کے لیئے اس لیئے نازیہ جاتے جاتے بھی اپنی آخری ذمیداری نبھاکر گئی تھی اس گھر کو ادھورا چھوڑنے کے بجائے مکمل کرگئی تھی … سعدیہ کو تاعمر یہ دکھ رہنا تھا کہ وہ اپنے بھائی کو زیادہ وقت نہیں دے پارہی تھیں …

لنچ کے بعد دعاؤں کے حصار میں رخصت کیا گِل صاحب نے اپنی اکلوتی بیٹی علیزے کو … علیزے اور عمر دونوں نے ہونٹ بھینچے ہوئے تھے …

گھر پہنچ کر لاؤنج میں علیزے کو بٹھایا اور سعدیہ بچون کو ان کے کمرے سلا کر آئی تھی جبکہ انشاء علیزے کے ساتھ تھی اور عمر اور عیان باہر لان میں بیٹھے تھے …

“عمر تم مجھ سے زیادہ سمجھدار ہو , کیا سمجھاؤن تمہیں , بسس اتنا کہنا چاہتا ہوں علیزے کو بھی ایک اچھے ہمسفر کی ضرورت ہوگی پلیز اسے اپنا وقت دینا جب تم اپنا وقت دوگے تو وہ بچون کو دل سے اپنا وقت دے گی … رشتے دونوں طرف سے نبھائے جاتے ہیں یک طرفہ رشتے نبھانے کی جستجو ہوتو انسان تھک جاتا ہے … سمجھ رہے ہو نا …. عیان نے دقت سے کہا تھا یہ سب کیونکہ اسے زیادہ بولنے کا ہنر نہ آتا تھا وہ کم لفظوں میں سب سمجھا رہا تھا …

“ہمممم کوشش کروں گا … عمر نے کم لفظوں میں بات ہی ختم کردی تھی …

اسی وقت انشاء بلانے آئی دونوں کو پھر کچھ عورتوں کی موجودگی میں سعدیہ نے بھائی بھابھی کی رسمین کیں … پھر علیزے کو روم میں بٹھایا انشاء اور سعدیہ نے … سعدیہ کچھ کہنا چارہی تھی انشاء نے محسوس کیا تو علیزے کو اللہ حافظ کہے کر گال پر بوسہ لیا اور سعدیہ سے مل کر روم سے نکل گئی … اس گھر میں ایک ایک موڑ پر انشاء کو نازیہ شدت سے یاد ارہی تھی وہ شوخ چنچل سی عورت بھولنے والی نہ تھی اب تک ان در دیواروں میں اس کے قہقہے گونجتے تھے … انشاء کی بھی کیفیت عجیب ہورہی تھی …

سعدیہ انشاء کے جانے کے بعد علیزے کے ہاتھ تھام کر بولی … “علیزے یہ گھر عمر اور بچے سب تمہارا ہے , میں اپنے بھائی کو تمہارے حوالے کررہی ہوں , ہم دونوں بھائی بہن کا کوئی اپنا نہیں کیونکہ ہمارے مان باپ اکلوتے تھے اپنے والدین کے اس لیئے بہت سے رشتون سے محروم رہے ہیں ہم دونوں , میں خود اپنی شادی شدہ زندگی میں مصروف رہتی ہوں نہیں آپاتی میکے زیادہ , سال میں ایک دفعہ مشکل سے چند دن آپاتی ہوں , پلیز عمر اور بچون کو کسی چیز کی کمی نہ ہونے دینا , پلیز بہت پیار دینا میرے بھائی کو , اسے کسی کی کمی محسوس نہ ہو … بچون کا خیال کرنا بہت معصوم ہیں وہ … سعدیہ نم آنکھون سے یہ سب بولی تھی … علیزے اچھی طرح سمجھ رہی تھی ان کی مجبوریان اس لیئے ان کے ہاتھ تھام کر تسلی دیتے ہوئے بولی … “بے فکر ہوجائیں آپا , میں کوشش کروں گی یہ سب کرسکون…

“شکریہ علیزے بھابھی … سعدیہ نے کہا … یوں وہ انہیں دعائیں دے کر کمرے سے نکل آئیں …

سعدیہ آپی کے اتے ہی عیان اور انشاء نے خدا حافظ کہا اور گھر کے لیئے روانہ ہوئے …

عمر اور سعدیہ بس رہ گئے تھے اب …

“عمر میرا خیال ہے تم کمرے میں جاؤ اب … سعدیہ نے کہا …

“نادر بھائی اور آپ کے بچے کہاں ہیں … عمر نے پوچھا …

“نادر اپنی بہن شائستہ آپا کے گھر لے گئے ہیں بچون کو وہیں ٹھریں گے کل کی ہماری فلائیٹ ہے کراچی کی … سعدیہ نے کہا …

“آپا اتنا جلدی چلی جائیں گی … عمر نے فکر سے کہا …

“عمر مجھے معاف کردو اس سے زیادہ ٹھرنا مشکل ہے کیونکہ میری ساس کی طبیت ٹھیک نہیں پھر بچون کی پڑھائی بھی ڈسٹرب ہورہی ہے … اعدیہ مضطرب سی بولیں تھیں …

“ٹھیک ہے آپا , آپ پریشان نہ ہوں , آپ اپنے گھر جائیں , بہت کیا آپنے اپنے بھائی کے لیئے … عمر نے بہن کے ہاتھون پر عقیدت سے بوسہ لیا کیونکہ واحد بہن کا رشتہ تھا دنیا میں اس کا , ان کی مجبوریان وہ بخوبی سمجھ رہا تھا … سعدیہ نے سکون اترتا اپنے اندر محسوس کیا تھا اس لمحے اور شکر ادا کیا اللہ کا اب اس کے بھائی کے ساتھ اس کی شریکِ حیات ہے اس کی دکھ سکھ کی ساتھی … عمر کی بھی مشکور تھیں سعدیہ کہ ان کا بھائی ان کی مجبوری سمجھتا ہے کوئی گلہ شکوہ نہیں کرتا ان سے …

@@@@@@@@

ذیشان پوری رات سوچتا رہا کہ کیا کرے بات کرے یا نہیں … یہ بات تو اسے پتا تھی ماہین نے اپنی زندگی کو لے کر سب اختیارات اپنے ماں باپ کو سونپ دیئے ہیں …

ذیشان کی کچھ حد تک فرینکنیس بھی تھی پر دونوں نے کبھی حدیں پار نہیں کی … جانے کیوں چاہ کر بھی ذیشان کی ہمت نہ پڑتی تھی اس سے کچھ کہنے کی شاید ماہین کا محتاط رویہ دیکھ کر خود میں حوصلہ نہیں کرپاتا تھا کچھ کہنے کا ذیشان اپنے اندر … ماہین نے بھی کبھی ایسا کوئی اشارہ نہ دیا تھا وہ عام لڑکیوں کی طرح کبھی شرماتی نہ تھی اس کا ہر انداز دبنگ ہوتا تھا لڑکوں کو لے کر کہ کسی کو اندازہ نہ ہوپاتا کہ آخر اس کے من میں کیا ہے … جس طرح نور ہر وقت ذیشان پر فدا ہوتی نظر آتی تھی اس کا ہر کام کرنے کی کوشش کرتی تو صاف ظاہر ہورہا تھا کہ اس لڑکی کے دل میں کیا فیلینگ ہیں ذیشان کو لے کے پر ذیشان کی پوری کوشش ہوتی کہ سرد رویہ رکھ کے نور کے ساتھ تاکہ اس کی حوصلہ شکنی کرے اور وہ راستہ بدل لے پر وہ بھی انتہا کی ڈھیٹ تھی اس کے ناگوار انداز کو اگنور کرکے دوبارہ ویسے بہیوو کرتی تھی جیسے پچھلے بار کی کی ہوئی ذیشان کی بےعزتی سے اسے کوئی فرق نہ پڑا ہو …. ذیشان کو زچ کردیتی تھی نور …

جبکہ نور کی بنسبت ماہین ریزروو رہتی تھی ذیشان کا فدا ہوتا رویئہ دیکھ کر بھی , وہ اس طرح بہیوو کرتی جیسے وہ سب فیمل کزنز کی طرح ٹریٹ کررہا ہو جیسے اسے … کسی کی ہمت نہ ہوتی ذیشان کے رویئے کو لے کر کوئی ماہین کو ٹونٹ کرپائے کیونکہ ماہیں کے سرد تاثرات کسی بھی فضول گوئی کو لے کر , سب کو خاموش کردیتے تھے …

ذیشان کے اندر بےانتہا بے چینی اور درد جاگا سمجھ نہیں ارہا تھا اس سے کیسے بات کرے …

آج اسے یاد ارہا تھا وہ دن جب وہ یونی میں تھا اور ماہین نے میٹرک پاس کرلیا تھا وہ لوگ کراچی آئے ہوئے تھے … ان دنوں ذیشان نے اس سے وہی شرارت کی جو ہمیشہ کرتا تھا … ماہین کو گدگدی بہت ہوتی تھی اس لیئے وہ اکثر اسے گدگدی کرکے تنگ کرتا تھا … یہ بھی ذیشان کا انداز تھا اسے چھیڑنے کا , کزنس میں بچپن کی فرینکنیس ہو تو اتنا مذاق چلتا ہے … جانے کیوں اسے اچھا لگتا تھا اس کے ارگرد رہنا اسے اپنے ساتھ لگائے رکھنا , اس کا دھیان اپنی طرف کرنا … اس دن بھی وہ اسے چھیڑنے لگا گدگدی کرکے …

“پلیز شان نہ کریں میں کہے رہی ہوں نا مجھے ایسا مذاق پسند نہیں … وہ جتنا کہتی اسے اور مزا آنے لگا تھا ذیشان کو… وہ اسے اور گدگدانے لگا … وہ پھر اسے وارن کرنے لگی “پلیز نہ کرو پلیز دیکھو مجھے غصہ ارہا ہے … پر ذیشان کے اندر بھی مستی اگئی تھی جو رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا اور یہیں تک ماہیں کا ضبط تھا اور وہ ہوا جو کوئی سوچ نہیں سکتا تھا ماہیں نے اس کے گال پر تھپڑ مارا اور دھکا دیا اس کے بعد …

“سنائی نہیں دیتا سمجھ نہیں آتا … حد ہے ڈھٹائی کی … وہ تھی ہی ایسی نڈر سی …

اور وہ دیکھتا رہ گیا اس کے اعتماد کو پھر دوسال دونوں میں ناراضگی رہی ذیشان نے بولنا چھوڑا تو ماہین بھی چپ رہی کیونکہ ماہین کو لگا وہ سہی ہے تو پھر کیوں منائے اسے تاکہ اسے دوبارہ موقع ملے اس فرینکنیس کا …

دو سال لگے ذیشان کو سمجھنے میں وہ لڑکی کتنی خودار ہے اسے نہیں پسند آیا اس کا مذاق تو کھل کے احتجاج کرگئی … سب نے ماہین کو کہا “معافی مانگ لے پر وہ چپ رہ کر چکنا گھڑا ثابت ہوئی … سب کو اپنی صفائی بھی نہ دی کہ اس نے کیا سوچ کر تھپڑ مارا …

تب ماہیں کا ایک الگ امیج بن گیا سب کی نظروں میں … کزنز کا مزا کرکرا ہوگیا وہ دو سال جس میں ان دونوں کا چپ کا روزہ تھا کیونکہ ہر موقعے پر ذیشان کا رویہ سرد ہی رہا کرتا تھا یوں کزنس سے دور نہ ہوا تھا پر ساتھ ہوکر بھی ساتھ نہ رہا تھا ان دنوں …

پھر انٹر کے اگزامز میں ماہین نے بورڈ میں پوزیشن لی تب پھپھو کے ساتھ ذیشان اور ریما آئے تھے اس کی سیلیبریشن اٹینڈ کرنے تب ذیشان نے اسے ڈائری اور پین گفٹ کیا اس کی کامیابی کی خوشی کو لے کر … یوں یہ ناراضگی ختم ہوئی … نا ذیشان نے وہ لمحہ دوہرایا نا ماہین نے … پر اس واقعی کا ایک نتیجہ ضرور نکلا ذیشان کے جذبون پر ایک بند باندھ دیا ماہین نے …. اب وہ لمٹ میں رہ کر بات کرنے لگا تھا … پر ایک طرح سے دونوں ریزروو بھی رہنے لگے تھے … یہی وجہ تھی وہ کبھی کھل کے اظہار کرنے کی ہمت نہ اپنے اندر جٹا پایا … آج افسوس ہوا ذیشان کو شدت سے کہ کاش وہ اسے کوئی امید کا سرا دیتی یا وہ ہی اسے کوئی اشارہ دیتا اور معلوم کرلیتا وہ کیا سوچتی ہے اسے لے کر …

ایسا حَسین شخص ہے ! گوشہ نشین شخص ہے !

سوچوں اُسے تو رو پڑوں ! دیکھوں، خدا خدا کروں !

وہ بھی نژادِ رنج ہے ! میں بھی اسیرِ شام ہوں !

وہ بھی کرے تو کیا کرے ! میں بھی کروں تو کیا کروں !

ذیشان کو تو ماہین کا پتا نہیں تھا پر خود کو زندہ زمین میں دفن ہوتا محسوس کرنے لگا تھا یہ سوچ کر اگر واقعی وہ اس کے بھائی کی بیوی بن کر اگئی تو کیسے جیئے گا کچھ سمجھ نہیں ارہا تھا … دل میں عجیب سا درد محسوس کرنے لگا تھا … گھٹن تھی کہ بڑھنے لگی تھی …. ایسا بھی ہوتا ہے بھلا , ایسا بھی قسمت کبھی کسی کے ساتھ کرتی ہے سوچا نہ تھا ذیشان نے….

@@@@@@@@@

“جنید یار میں مرجاؤں گا … میں نہیں رہ پاؤں گا … کیا کروں کچھ کرو یار … وہ سینے کو مسلتا ہوا بولا … اندر کا درد شدت سے جاگا …. وہ جنید شاہ کے گھر اس کے بیڈروم میں بیٹھا تھا … جنید شاہ کی چھوٹی فیملی تھی اس لیئے زیادہ تر ذیشان خود آجاتا تھا جبکہ جنید شاہ اس کے گھر کم ہی آتا تھا …

“پلیز سنبھال خود کو یار … اس کا کوئی حل ہی نہیں … سوائے اس کے کہ تم خود جاکر اپنے ماں باپ اور بھائی کو کہو … کتنا چاہتے ہو ماہین کو … سمپل از دیٹ …

“پھر ماہین کیا سوچے گی …. ذیشان نے کہا …

“یار تم بھی نہ … ماہین جی جو سوچے ہمیں کیا …. تم اپنی محبت سے دستبردار ہونے کی ضرورت نہیں … آئی سمجھ میری بات … تم اپنا سوچو کیونکہ مشکل تمہارے لیئے ہے اس کے بغیر رہنا … ویسے حد ہے کیسے گھر والے ہیں تمہارے , جن کو نظر نہیں آتا تیرا یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار وجود … جنید چڑ کر بولا تھا …

“ہممممم وہ کچھ کہے ہی نہ سکا تھا اس لمحے ذیشان ….

“سنو … جمید شاہ نے کہا …

“ہمممم آج گھر جاکر بتاؤ سب کو … جو ہوگا دیکھا جائے گا سمجھے … جنید نے حکمیہ لہجے میں کہا …

“ٹھیک ہے … ذیشان نے کہا …

“چل باہر چل کر کچھ کھاکر اتے ہیں … جنید شاہ نے کہا …

“ٹھیک ہے … اب مجھے بھی بھوک لگ رہی ہے … ذیشان کو کچھ تسلی ہوئی تو بھوک بھی چمک اٹھی تھی …

یوں دونوں ریسٹورنٹ میں گئے وہاں آج سیر ہوکے کھانا کھایا دونوں نے … اب ذیشان کچھ ریلیکس ہوا تھا …

@@@@@@@@@

رات کو مطئمن ہوکر گھر ایا کہ سب سے بات کرے گا پر گھر اکر پتا چلا اس کی خالہ شاہدہ کے شوہر کو ہارٹ اٹیک ایا ہے سب وہاں گئے ہوئے ہیں …

اسے بھی فکر ہوئی وہ وہاں پہنچا تو سب کو فکرمند دیکھ کر اسے بھی پریشانی ہوئی … خالہ سے مل کر ان کو تسلی دی پھر ارمان اس کے گلے لگا … پھر ذیشان نے اپنے کزن کو تسلی دی …

رجب آفندی شاہدہ کے شوہر کی بائے پاس سرجری ہوئی تھی … کراچی سے نادر آفندی اور ان کی اہلیہ سعدیہ بیگم بھی آگئی تھیں ملنے کے لیئے …

ان دنوں ان کے ہسپتال کے چکر بڑھ گئے تھے … نور کے لیئے ریما ان کے گھر ٹھرگئی تھی … شاہدہ کے لیئے شائستہ ہر وقت ساتھ تھی … رجب آفندی اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے اپنی بیوی شاہدہ کے بہن بھائیوں کو اپنا بھائی بہن سمجھتا تھا ….

ان کی سرجری کے بعد تین دن ان کو ہسپتال رہنا پڑا … سرجری کے دوسرے دن ان کی کنڈیشن کچھ بہتر تھی طاہر آفندی اور نادر آفندی ان کے پاس بیٹھے تھے …

وہ طاہر آفندی کا ہاتھ تھام کر بولے “مجھے میری نور کی فکر ہے یار , یہ فکر مجھے سکون سے مرنے بھی نہیں دے گی …

“اللہ نہ کرے , مرے تمہارے دشمن یار … نور میری بیٹی ہے اس کی فکر نہ کرو میرے ذیشان کی امانت ہے تم بےفکر ہوجاؤ اس کی ذمیداری سے … طاہر صاحب نے کہا …

“شکریہ میرے دوست … رجب صاحب مشکور ہوئے تھے …

“اب پریشانی ختم کرو سب کی جلدی ٹھیک ہوجاؤ رجب پھر ہمیں اپنے بچوں کی شادی بھی کرنی انشاء اللہ ساتھ ہی کریں گے … نادر آفندی نے کہا رجب کے پاس اکر اس کو تسلی دیتے ہوئے …

“انشاء اللہ تینوں نے ساتھ کہا …

“سچ میں میرے اندر سکون سا اترا ہے … رجب صاحب نے کہا …

پر باہر کھڑے ذیشان کو لگا وہ تو جھٹکوں کی زد میں اگیا ہو جیسے … ایسا لگ رہا تھا کندھے پر بے انتہا بوجھ بڑھ گیا ہو جیسے اسی لمحے اس کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا وہ چونکا تھا …

جاری ہے …